سر ورق / افسانہ / بن بھاڑے کا ٹٹو ۔۔۔محمدزبیرمظہرپنوار 

بن بھاڑے کا ٹٹو ۔۔۔محمدزبیرمظہرپنوار 

 

 

”کیوں مجھ سے اسقدر محبت کرتی ہو مسرت؟“

”کیا محبت کرنے کی کوئی وجہ ہوتی ہے زبیر” مسرت نے زبیر کے سوال کا جواب سوال سے دیا۔۔۔

”ہاہاہا ۔۔۔میں جانتا تھا تمہارا جواب یہی ہوگا۔۔ جانتی ہو مسرت تم جیسے لوگوں کا مسئلہ کیا ہے ؟۔۔۔۔تم لوگ سطحی سوچ کے حامل لکیر کے فقیر ہو۔۔۔ خیر دفع کرو محبت وحبت اور چلی جاو ¿ یہاں سے۔ ایسے واہیات کاموں کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔ سوائے اسکے اگر مجھے بھاڑا دے سکو،اسی صورت میں تم سے محبت کر سکتا ہوں۔۔۔ تمہارے جسم کے ہر عضوکو تسکین پہچا کر لذتیں فراہم کر سکتا ہوں۔“

اور کیا بھاڑا ہو گا تمہارا” مسرت نے زبیر سے پوچھا۔۔

بھاڑا ” تمہارے بس کی بات نہیں۔

”بتاو ¿ بھی تو ؟ “

” کہا نہ کہ تمہارے بس کی بات نہیں۔۔۔ جاتی ہو کہ گندی گندی گالیاں دوں تم کو۔ سالی مفت خوری۔ آ جاتی ہے محبت کے نام پہ عیاشی کرنے۔ چل دفع ہو !تیرا حسن مجھے پابند نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ تیرا وجود کسی قید خانہ کی حیثیت رکھتا ہے میرے لیے کہ میں کوئی شاعر ادیب بن کر تمہاری آنکھوں ،زلفوں، ہونٹوں اور گردن کے قصیدے پڑھتا رہوں۔ تمہارے ہجر اور وصال میں صفحات سیاہ کروں۔۔“

”اتنی نفرت کیسے ہو گئی مجھ سے زبیر؟اور پھر جب تک میں لاحاصل رہی تب تک تم میرے لیے جیتے مرتے تھے۔ تمہارا ذکر، تمہاری فکر، تمہارے محسوسات اور جذبات میں اک میں ہی ہوا کرتی۔۔۔ اب جبکہ میں تم پہ سب کچھ نچھاور کر چکی ہوں تو طنز وطعنہ اور نفرت و تہمت کے تیر چلاتے ہو، مجھ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہو ۔ ۔ ۔ میں نے تو تم کو اپنے جسم کا ماس تک کھلایا ہے۔۔ شاید ہی میرے جسم کا ایک حصہ ہو گا جہاں پہ تمہارا کوئی نشان نہ ہو۔۔ تمہیں احساس نہیں۔ تم ہرگز نہیں جانتے اس وقت مجھے کتنی تکلیف ہوتی تھی۔ میں اپنا درد اذیت اور چیخیں دبائے جاتی تمہاری خاطر تمہاری خوشیوں کی خاطر۔۔ وہ سب محبت کا بھاڑا ہی تو تھا۔۔“

”تم سے نفرت نہیں۔ خود سے نفرت ہے۔۔ بیکار میں سب کچھ کیا۔۔بن بھاڑے کے۔۔۔ اور سنو ہم میں جو تعلقات تھے وہ خواہشات کی ایجاد اور مرہون منت تھے۔۔ اب خدا کے واسطے چلی جاو ¿ اور واپس کبھی میرے پاس لوٹ کر مت آنا۔۔۔“

”جا رہی ہوں پھر کبھی واپس نہیں آو ¿ں گی۔۔۔۔“

”سنو مسرت رکو ”

چلی گئی وہ۔۔ نہیں رکی۔۔واپس پلٹ کر دیکھا تک نہیں اس نے۔۔۔ ہاں بہت درد ہوا تھا اس وقت لیکن میں مجبور تھا کیونکہ میں اپنی مجبوری جان چکا تھا۔۔۔۔

پھر وہ وقت ہی ایسا تھا میں رکنے والا نہ تھا۔۔ میں چاہتا تو اسے خوشیاں دے سکتا تھا شادی کر کے بچے پیدا کرتا۔۔ محبت کے نام پہ خود کی اور اسکی جسمانی خواہشوں کو اطمیان و آسودگی کی فراوانی بخش سکتا تھا۔۔ چاہتا تو بہت کچھ کرسکتا تھا۔۔۔۔کیوں کہ میں اپنی مجبوری جان چکا تھا۔۔۔۔۔تو کیا وہ کافی ہوتا ؟

پنوار تم سمجھ رہے ہو نا میری بات ؟

ہاں سمجھ رہا ہوں۔ سمجھ رہا ہوں؟

ہاہاہا۔۔ جھوٹ بولتا ہے سالا۔۔ مجھے بہلا مت۔۔ میں جانتا ہوں تم بھی نہیں سمجھتے۔۔ لیکن کچھ دنوں میں سمجھ جاو ¿ گے۔۔۔

خیر دوسری کہانی سنو۔۔۔

زبیر صاحب ! اگر آپ وقت پہ نہیں آ سکتے تو ہمیں بتا دیں ہم کسی اور بندے کا انتظام کر لیں گے۔۔ آپ بہت زیادہ لاپروا انسان ہیں۔۔ آپکو اپنی ذمہ داریوں کا بالکل احساس نہیں۔۔ مانا کہ ہماری بہت بڑی مجبوری ہیں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہماری ڈھیل کا غلط فائدہ اٹھاتے رہیں۔۔

اب کیا ہوا۔۔ میمن صاحب۔۔

اففف ” ایک تو لاپروائی اوپر سے ابلیسی مسکراہٹ۔۔۔ وہ تمہاری قطر والی پارٹی چلی گئی ہے آ کر۔۔ اور انہوں نے ڈیل بھی رد کر دی ہے۔۔ جبکہ کمپنی نے جو بورڈ بنایا تھا اسکی سربراہی تمہیں سونپی تھی۔ ۔ ۔ اور جناب سارا دن سوئے رہے۔ ایک سو بیس کالز کیں تمہارے نمبر پہ۔۔ نتیجہ وہی معمول کے مطابق۔۔ دی نمبر از ناٹ آنسرنگ۔۔ اور کروڑوں کا نقصان۔۔

”بس اتنی سی بات پہ آپ پریشان ہو گئے کوئی حال نہیں آپ کامیمن صاحب۔۔“

’بابر صاحب فون ملائیے قطر والی پارٹی کو۔۔‘

نہیں رہنے دو بابر !اب کوئی فائدہ نہیں۔۔ انکے طنز ہم سن چکے۔ مزید کیا سننا باقی رہ گیا ہے۔۔ میمن صاحب” کم آن۔۔۔ بابر کال ملاو یار۔۔۔ جی مل گئی ہے۔۔

بہتر! سو ڈن۔۔۔ لیجیئے میمن صاحب ! شام تک کمپنی کے بینک اکاو ¿نٹ میں کروڑوں کا نقصان منافع سمیت پہنچ جائے گا۔۔۔۔ اب خوش۔

یار کمال ہو تم !کیسے کر لیتے ہو ؟کونسی گیدڑ سینگھی ہے تمہارے پاس۔ ہماری سمجھ سے تم باہر ہو۔۔۔۔“

”میمن صاحب آپکو سمجھ نہیں آئے گی۔۔ اور ہاں اب تعریف کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں میں جینیئس ہوں۔۔ اچھا یار وہ یاد آیا ایم ڈی صاحب تم کو یاد کر رہے تھے۔۔ جا کر مل لو۔۔ اور سنو۔۔ منہ دھو لو۔ ٹائی اور کوٹ حسب معمول تمہارے کیبن میں موجود ہیں۔ کیونکہ جناب نے اس بلڈنگ کو دفتر کم اور گھر کا بیڈ روم زیادہ سمجھ رکھا ہے۔۔ افسوس ہوتا ہے تم کو دیکھ کر۔ باصلاحیت ہو، خوبرو نوجوان ہو، لیکن اپنا خیال نہیں رکھتے۔۔ اپنی حالت کیا بنا رکھی ہے تم نے۔۔ دیکھو میں تمہارا بڑے بھائی جیسا ہوں۔۔ مجھے بتاو ¿ کیا دکھ پال رکھا ہے۔ کوئی عشق وشق کا چکر ہے۔ فنانشل پروبلم ہے؟ گھریلو ٹینشن ہے۔ کوئی تو وجہ ہو گی آخر ؟“

نہیں میمن صاحب ایسا کوئی بھی مسئلہ نہیں۔۔ بس کچھ کھو گیا ہے۔ ڈھونڈ رہا ہوں۔۔

”انٹرسٹنگ۔ کیا کھویا بتاو ¿ مجھ کو۔ ساتھ مل کر ڈھونڈتے ہیں۔ یقین کرو تم سے بہت محبت ہے مجھے اور تم انتہائی عزیز ہو۔۔۔“

”میمن صاحب آپ نہیں ڈھونڈ سکتے۔۔ وہ چیز مجھے نہیں ملی تو آپکو کیا ملے گی۔۔۔ اور مجھ سے محبت مت کیا کریں۔۔ نہ ہی مجھے عزیز رکھیں۔۔ میں کسی کا نہیں۔ یہ نہ ہو کہ کسی دن آپ کو بہت رونا پڑے۔۔ اسلام علیکم چلتا ہوں۔ ایم ڈی صاحب سے مل لوں ذرا۔۔“

”آئیے آئیے زبیر صاحب تشریف رکھیئ“۔

جی سر !کیسے یاد کیا حقیر کو؟

” زبیر صاحب کمال جادوگر ہو آپ۔۔ ماشاءاللہ، ماشاءاللہ ،خدا آپکی حفاظت فرمائے “

” جی جی بالکل کیوں نہیں۔۔ اور ایک دن زندگی کو موت میں بدل دے۔۔۔“

”سوری زبیر صاحب میں سمجھا نہیں ”

”جی کچھ نہیں۔۔ آپ کچھ کہنے والے تھے “

” ہاں کمپنی کی طرف سے آپکو پچاس لاکھ کا فلیٹ، بیس لاکھ کی گاڑی مع ڈرائیور و پیٹرول خرچ گفٹ کی جاتی ہے “

’ جی بہت شکریہ۔۔ ‘

”کیا بات ہے زبیر آپ خوش نہیں جبکہ دوسرے ملازمین تو ایسے موقع پراپنی خوشی پہ قابو نہیں رکھ پاتے۔ کچھ کی خوشی سے بانچھیں کھلی رہ جاتی ہیں اور کچھ خوشی کے مارے رو دیتے ہیں۔ مگر آپ کہ چہرے پہ میں ناگواری کے تاثرات دیکھ رہا ہوں۔۔۔“

” آہ ہ ہ۔۔۔ ایم ڈی صاحب کیا بتاو ¿ں آپ کو۔۔۔ خیر یہ میرا ریزیگنیشن لیٹر ہے۔۔ مہربانی فرما کر قبول فرمائیے اور مجھے چھٹی دیجیے۔۔“

”کوئی وجہ ؟معاوضہ کم ہے کیا زبیر صاحب ؟“

”جی بہت کم ہے، اتنا کم کہ چند دنوں ماہ یا سالوں میں بیکار پڑنے والا ہے۔۔“

”بولیے کیا چاہیے آپکو۔۔ ہم منہ مانگا مناسب معاوضہ دینے کو تیار ہیں“

” سچ میں ایم ڈی صاحب ؟“

” جی۔۔ آپ حکم کیجیئے۔“

”معاوضہ۔۔ بھاڑا۔۔ بھاڑا۔۔۔ہاں ایسا معاوضہ جو کبھی ختم نہ ہو پائے۔۔۔

میں سمجھا نہیں زبیر صاحب۔۔

”کچھ نہیں آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی یہ بات ” خیر مجھے اجازت دیں۔۔ آج کے بعد زبیر آپکی کمپنی کا ملازم نہیں۔۔۔ جا رہا ہوں۔۔۔“

”بات تو سنیئے زبیر صاحب۔۔۔“

پنوار

” ایم ڈی صاحب اور میمن صاحب مجھے روکتے رہ گئے اور میں نہیں رکا۔۔ اس دن کے بعد ناجانے کتنی کالز اور میسج موصول ہوئے انکے۔۔ اکثر میں جواب نہ دیتا اور جو کبھی اگر دیتا تو انکار ہی کر دیتا۔۔۔ وہ گھر بھی آئے سفارشیں بھی لائے اور منت سماجت الگ سے کرتے رہے۔۔ مگر میرا جواب ہمیشہ نہیں رہا۔۔۔تم سمجھ رہے ہو نا پنوار ”

”ہاہاہا۔۔۔۔میں بھی بھول جاتا ہوں۔۔ جبکہ میں جانتا بھی ہوں کہ تم سمجھو گے۔۔۔ کیا کروں یہ جملہ میرا تکیہ کلام ہے اور عادت بھی۔“

”پنوار ایک کام کرو گے۔“

” ہاں بولو“

”سٹور روم سے دس لاکھ روپے تو اٹھا لاو ¿ “

ارے یار سٹور روم سے؟ مگر سٹور روم ہی کیوں ؟

”تو اس میں حیرت والی بات کیا ہے۔۔۔ زیادہ سے زیادہ چوری ہو جائیں گے۔۔ کتنے دن چلیں گے۔۔ چوری کیے گئے پیسے۔۔ چند دن ماہ اور سال۔۔“

”ہممم۔۔۔ لے آیا ہوں پیسے اب کیا کرنا ہے۔۔ گاڑی نکالو۔۔ کہیں چلتے ہیں۔۔“

”بس بس یہیں روک دو۔۔۔ بابا جی یہ لیجئے پیسے اور گھر جائیے ویسے بھی اس عمر میں گھر بیٹھا جاتا ہے موت کے انتظار میں۔ بھیک نہیں مانگا کرتے۔۔۔“

” بیٹا کیوں مذاق کرتے ہو۔ جو خیرات دینی ہے دو۔۔۔“

” بابا جی یہ ساری رقم رکھ لیں اور اٹھیں یہاں سے۔۔ آپکو آپکے گھر چھوڑ دیں گے“

بھکاری کار میں بیٹھ گیا اور دعائیں دینے لگا ”خوش رہو۔۔ جیتے رہو۔۔۔“

” پنوار گاڑی روکو ابھی۔۔ “

”کیا ہوا ؟“

” یار تم گاڑی روکو۔۔۔“

”چل بے بڈھے اتر اور خود گھر جا۔ پکڑ پیسے۔۔“

”یار زبیر تم بہت عجیب ہو۔ ایک دعا ہی تو دی تھی اس نے۔۔ کچھ بھی تو غلط نہیں کہا تھا اس نے۔۔۔“

”پنوار مجھے دعا کی بھیک یا خیرات نہیں چاہیے“

” یار زبیر تم اتنے منتشر کیوں ہو ؟“

”تم نہیں سمجھ سکتے۔ کہا تو ہوا ہے تم سے۔۔ ویسے بھی ایسے الفاط سےنوازنے کا کیا فائدہ جسکا پورا ہونا ممکن ہو۔۔۔ گاڑی کی رفتار بڑھاو ¿ تاکہ جلدی گھر پہنچ جائیں۔۔۔“

”سگریٹ ہے کیا پنوار ؟“۔۔۔۔

” ہاں ہے “۔۔۔

”سلگاو ¿ اور دو مجھے “۔

”پنوار ایک اور کہانی سناو ¿ں سنو گے “۔

” کیا مجھے انکار کا حق حاصل ہے ؟۔۔۔۔ ”نہیں بالکل نہیں“۔۔۔” انکار کسی کی جرت نہیں“۔۔۔۔” ویسے بھی انکار کرتے کرتے بھی حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا“۔۔۔ ”یار زبیر کیا کہہ رہے ہو“۔۔۔” بات کچھ ہوتی ہے اور بات کچھ کرتے ہو۔۔۔“

اچھا بحث نہیں کہانی سنو۔۔۔۔۔

دو رکعت نماز فرض منہ قبلہ طرف بندگی خدا کی” اللہ اکبر۔۔۔ اسلام علیکم ورحمتہ۔ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔

”کیا بات ہے زبیر صاحب ! آج بہت دنوں بعد مسجد کا رخ کا کیا یا خدا کو بھولے بیٹھے رہے۔۔۔“

”نہیں مولانہ صاحب ایسا نہیں خدا کو کبھی دل سے جدا نہ کر پایا۔۔۔ اور نہ بھلا پایا۔۔۔“

”خیریت ؟ایک پانچ وقت کا نمازی پرہیزی اچانک دو سال سے غیر حاضر ”

”بس کچھ خاص نہیں مولانہ صاحب۔۔ بھارت اور چین گیا ہوا تھا “

”کیسے جانا ہوا بھارت اور چین ؟“

”تیرتھ یاترا اور گیان کی خاطر “۔۔۔ ”لاحول ولا قوت الا باللہ ،کیسی گمراہی پال لی من میں کہ مشرک ہو گئے “۔۔۔

”مولانا صاحب آپ کے بس کی بات نہیں جو آپ سمجھ سکیں۔ ابھی مسجد سے نکل کر میں اس بڑے چرچ جانے والا ہوں “۔۔۔

”دیکھیے زبیر صاحب میں نہیں جانتا کہ آپ کے دل میں کیا چل رہا ہے لیکن آپ بظاہر گمراہ ضرور ہو چکے ہیں۔ آخر بتائیں تو سہی کہ معاملہ کیا پیش آیا۔مسئلہ کیا ہے جو نا خداو ¿ں کے در کی ضرورت پیش آن پڑی۔۔۔“

” مولانہ صاحب اگلا جہان ڈھونڈ رہا تھا۔۔ بھاڑا ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔“

”کیسا بھاڑا اور کونسا اگلا جہان ؟“

۔۔۔ وہی اگلا جہان اور بھاڑا جو کبھی ختم نہ ہو۔۔۔۔

۔۔۔دنیا میں؟۔۔۔ جی دنیا میں۔۔۔ مگر یہاں تو تیاری ہے پھر انعام ہے۔۔۔ جانتا ہوں پھربھی ڈھونڈنے میں حرج کیا ،ہو سکتا ہے یہیں ممکن ہو جائے، سلسلہ نہ ٹوٹے۔۔

”لاحول ولا قوت الاباللہ۔۔۔ کافر ہو چکے تم۔۔۔ خدا و رسول کے منکر ہو چکے۔۔۔“

”اجازت چاہتا ہوں مولانا صاحب۔۔ شائد پھر کبھی مسجد دوبارہ حاضری نہ ہو۔۔ اور ہاں میں نے خدا و رسول کا انکار نہیں کیا۔۔۔میں بس بن بھاڑے کا ٹٹو نہیں رہنا چاہتا۔۔۔“

”زبیر تمہارا معاملہ کیا ہے کچھ بھی نہیں۔۔ صرف اتنا کہ میں اس بھاڑے کی تلاش میں ہوں جو کبھی ختم نہ ہو۔۔ جب سے پیدا ہوا ہوں بن بھاڑے کے، بنا رشتوں کے، بنا پانی کے بنا شجر و سائے کے جی رہا ہوں۔۔ کچھ بھی تو یہاں مستقل نہیں۔ یہ جہان عجیب ہے۔۔ روپے پیسے ،مکان، محلات، کھیت، کھلیان، نیکی گناہ ثواب کو بھاڑا سمجھ لیا گیا ہے۔۔ اور یہ سب تب تک ہیں جب تک میں ہوں، میرے بعد کچھ نہیں۔۔۔ مانتا ہوں یہ نعمتیں ہیں۔۔ جس پہ یکساں حق سب کا ہے۔۔ لیکن یہ بھاڑا نہیں ہے۔۔۔۔۔ جو ختم ہو وقتی ہو عارضی ہو وہ کیسا بھاڑا۔۔۔۔ کیسے کسی کو اپناو ¿ں۔ کیسے سب کو ساتھ لے کر چلوں کون کب چلا جائے۔۔ میں چلا جاو ¿ں تم چلے جاو ¿ کیا معلوم۔۔۔

کاش مجھ کو بھاڑا ملتا اسی جہان میں اور میں بن بھاڑے کا ٹٹو نہ ہوتا۔۔۔۔

۔۔۔حضرات ایک ضروری اعلان سنیں۔۔۔

 

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے