سر ورق / افسانہ / حاصل ، لاحاصل ۔۔۔غزالہ پرویز

حاصل ، لاحاصل ۔۔۔غزالہ پرویز

 

ہم دونوں نے بغاوت کی۔۔۔

اور ذات پات کی پست تفریق پر تین پتھر پھینکے۔۔۔

اور سماج کی بے رحم فصیلوں کو روندا اور جھوٹی عظمتوں کو اپنے پائے حقارت سے ٹھوکر ماری۔

ہم دونوں اپنے اپنے قبیلوں کے خون آشام انتقام سے بچ کر بھاگے اورصبح کی نمود سے پہلے اس اجنبی مقام پر پہنچے جہاں ہمیں نئی روایت کو جنم دینا تھا۔ نئے سماج کی تعمیر کرنا تھی۔۔۔ اور یہ ہونا ناگزیر تھا ورنہ ہمارا شمار منافقین میں ہوتا۔ اس بے آب وگیاہ مقام پر ہم نے ایک قبر کھودی اور اس میں اپنے اندھے ماضی کو دفن کیا۔۔۔ اور مٹی کی ڈھیری پر اپنی مشترکہ فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔

وہ ایک بڑی چٹان پر بیٹھ گئی اور اپنا پسینہ پونچھنے لگی۔ میں اس کے قریب کھڑا رہا اور اپنا پسینہ پونچھتا رہا۔

اس کی نظر مجھ پر اور میری نظر حد افق پر ٹھہری تھی۔

اب نئے خوابوں کی آبیاری کو جن اسباب کی حاجت ہوتی ہے ان کے حصول کے لیے میں نے کمر ہمت باندھی۔۔۔ تادیر قائم رہنے والی سانسوں کا زاد سفر لیا اور روانہ ہونے سے قبل اس کے نازک کاندھوں پر اپنی وفا سے پیوستہ رہنے کی امید اوڑھا دی۔ اس کے لب کپکپانے لگے۔پھر میں چلا اور ایک بار بھی پلٹ کر اسے نہ دیکھا مبادا میں حوصلہ ہار جاو ¿ں۔

میں گردش دوراں اور غم روزگار میں یوں پھنسا کہ زندگی اپنے سارے ادھورے کام لے کر میرے قدموں سے لپٹ گئی اور تفکرات کے بھوسے کے ڈھیر میں میری ذات سوئی کی مانند کھو گئی۔

وقت کے ہاتھوں نے میری پیشانی پر ان گنت عبارتیں لکھ دیں۔ لمحے مٹھی میں دبی ریت کی طرح سرکتے رہے۔

اصحاب کہف کی سی نیند سے جاگا تو یاد آیا کہ میں تو ایک ہانڈی جلتے چولہے پر چھوڑ آیا تھا۔ بس۔۔۔ اس خیال کا آنا تھا کہ جیسے میرے پَر نکل آئے ہوں۔ برہنہ پا بھاگا۔

جب وہاں پہنچا تو دیکھا۔۔۔ نہ وہ تھی اور نہ ہی پتھر کی سل۔ وہاں ایک مزار تھا۔ اور مزار کے اندر ایک قبر جس پر رنگ برنگے کپڑوں اور پھولوں کی چادریں۔۔۔ اور ان چادروں پر نذر کے سنہری اور قرمزی زیورات اور رائج الوقت سکے پڑے تھے۔ اگربتیوں کی خوشبودار لپٹیں تھیں۔ مزار کی مجاور عورتیں بڑی لگن اور عقیدت کے ساتھ جھاڑ پونچھ میں مگن تھیں۔میری نظر اٹھی اور در مزار کی محراب پر نصب پتھر کی ایک سل پر کندہ اس شعر پر ٹھہر گئی :

گلِ مراد سرِ دشتِ نامرادی کِھل

رخِ نگارِ وفا محملوں سے پیدا ہو

مزار سے باہر میں نے ایک بوڑھی مجاور سے پوچھا : "بہن ! یہ مزار کس محترم ہستی کا ہے ؟”

جواب ملا : "یہ مائی بھاگی کا مزار ہے۔۔۔ سوئے بھاگ جگانے والی۔۔۔ بڑی پہنچ والی اور بہت بابرکت ہستی ہے۔۔۔ مدتوں ایک ہی جگہ بیٹھی رہیں۔۔۔ بڑی سخت چلہ کشی کی۔ بڑا کشٹ سہا۔ نہ کبھی کچھ کھایا نہ پیا۔ دھوپ ، بارش ، برفباری اور تند ہواو ¿ں کے ستم سہے ۔۔۔ سب کچھ جھیلا۔۔۔ اور اسی حالت میں اس دار فنا سے دار بقا کو سدھار گئیں۔ جہاں عمر بھر قرار پکڑا وہیں مزار بھی بن گیا۔ یہ بڑے کرم کے فیصلے اور بڑے نصیب کی بات ہے۔ ان بھید بھاو ¿ کو اللہ والے ہی جانے ہیں۔ ہم تم جیسے گناہگاروں کی سمجھ سے باہر کے معاملے ہیں بھیا۔! یہاں اب بد نصیبوں کے نصیب جاگتے ہیں۔”

اتنا سننا تھا کہ میں بے تابانہ آگے بڑھا اور اس سے پہلے کہ مزار کی دہلیز سے اندر قدم رکھتا ، وہی بوڑھی مجاور زور سے چلائی : "کہاں چلے ہو بھیا ؟”

دفعتاً بہت سے آنسوو ¿ں سے میری نظر دھندلا گئی اور میری آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔۔۔ کچھ ثانیے بعد میں رک رک کر بولا : ” اندر۔۔۔ معافی مانگنے۔۔۔ ”

"مگر اندر تم نہیں جا سکتے۔۔۔ ”

متواتر بہتے ہوئے آنسوو ¿ں سے میری سفید داڑھی تر ہو گئی اور میں نے حیرت سے پوچھا : ” کیوں۔۔۔ ؟”

بوڑھی مجاوراس بار قدرے نرم لہجے میں بولی : ” اس لیے کہ مائی صاحبہ کی وصیت کے مطابق مزار میں مردوں کا داخلہ منع ہے۔ ”

یہ سن کر میرے پاو ¿ں تلے زمیں رہی اور نہ سر پر آسمان۔

*********

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے