سر ورق / افسانہ / دھواں اور ریل کی پٹڑی ۔۔۔ امجد جاوید۔ 

دھواں اور ریل کی پٹڑی ۔۔۔ امجد جاوید۔ 

 

 

وہ ریلوے لائن کی ایک پٹڑی پر بیٹھا خیالوں میں گم تھا اس کت ہاتھ میں دو ،اَن جلے سگریٹ اور ماچس تھی۔ اسے اپنے دوست ماجھو کا انتظار تھا، جو ابھی کچھ دیر میں ہی وہیں پہنچنے والا تھا۔ ریلوے لائین ان کی بستی سے چند میٹر کے فاصلے پر تھی۔ بغیر دروازوں والا پھاٹک ان کی بستی سے ذرا ہٹ کر تھا۔ وہیں سے پکی سڑک گھوم کر ان کی بستی تک جاتی تھی۔ جہاں وہ بیٹھا ہوا تھا، یہ جگہ گذر گاہ نہ ہونے کے سبب ویران سی تھی ۔ یہاں وہ کسی کی نظروں میںآئے بغیر سگریٹ پی سکتا تھا۔ یہ توایک دن اچانک ماجھو آن پہنچا۔ اسے پتہ اس وقت چلا جب وہ عین سر پر پہنچ گیاتھا۔اس نے جلدی سے سگریٹ مسل دی ۔جس پر ماجھو ہنس دیا اور سگریٹ ضائع کر دینے پر افسوس کرتے ہوئے اطلاعاً اسے بتایا کہ وہ بھی اسی چکر میں یہاں آیاہے تاکہ چوری چھپے سگریٹ پی سکے۔اگرچہ ان دونوں نے اسی بستی میں جنم لیاتھا ایک دوسرے کے بارے میںجانتے بھی تھے مگر ان میں فقط شناسائی ہی رہی ، دوستی جیسا جذبہ ان میںپروان نہیںچڑھا تھا۔ ان کی دوستی کی وجہ سگریٹ بن گئی ۔ اس دن ان کی دوستی کی ابتدا ہوئی اور باری باری کش لگاتے ہوئے سگریٹ ختم کی جو ماجھو لے کر آیا تھا۔پھر یہ ان کا معمول بنتا گیا۔ جیسے ہی رات کی ٹرین گذر جاتی۔ وہ دونوں ہی اپنے گھروں سے نکل پڑتے۔جس کی باری ہوتی وہ بستی کی دوکان سے سگریٹ لیتا ہوا پٹڑی پر پہنچ جاتا۔ وہاں وہ آمنے سامنے بیٹھ جاتے۔ سگریٹ پی لینے کے بعد کافی دیر تک یونہی گپیں لگاتے رہتے جو سارے دن کی روداد ہوتی۔

ماجھو اس بستی کے سب سے بڑے چودھری کے ایک مزارعے کا بیٹا تھا۔ جو صبح سویرے اٹھتا اور باپ سے پہلے کھیتوں میںکام کرنے کے لئے جا پہنچتا۔ پھر وہیں سارا دن گذار دیتا۔ پورے دن میںان کی ملاقات نہ ہو پاتی۔ کیونکہ اسے بھی صبح سویرے اٹھنا پڑتا تھا تاکہ وقت پر کالج پہنچ سکے۔جو نزدیکی شہر میںواقع تھا اسی ریلولے لائین سے ذرا پرے سڑک بھی گذرتی تھی ۔ جس پر سارا دن ٹریفک گذرتی۔ اس لئے شہر آنے جانے کا کوئی مسئلہ نہیںتھا۔صبح جب وہ بس کے انتظار میںسٹاپ پر ہوتا تو بستی سے اور بہت سے لڑکے اور لڑکیاں کتابیں سنبھالے سکول جانے کے لئے وہاں پہنچے ہوتے اور مختلف بسوں میںسوار ہوتے رہتے اور اسی طرح وہ عصر کے قریب واپس بستی آ جاتے۔

وہ بستی کا واحد لڑکا تھا جو کالج میںپڑھتا تھا۔ یوں تو شہر میں اور اس کئی بستی میں بھی سارے شناسا تھے لیکن دوستی کسی سے نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ہاں دوستی کا مفہوم ہی الگ تھا۔وہ دوست اسے سمجھتا تھا،جس کے پاس بیٹھ کر وقتی پریشانی دور ہوجائے اورجو میّسر لمحے ہیں وہ خوشگوارترین ہو جائیں۔دل کی باتیںجو خالصتاً اپنی ہوتی ہیں انہیںکہہ دیاجائے۔ جب سے اسے ماجھو ملا تھا اسے عجیب سی خوشگواریت محسوس ہوئی تھی اس کی باتیں محدود ہوتی ہیں۔ جس پر وہ خیال کیا کرتا کہ اس کی خوشیاں بھی چھوٹی ہیں اور غم بھی۔ اس وقت اسے فخر سا محسوس ہوتا جب ماجھو ان دنوں کو یاد کر کے حسرت سے آہ بھردیتا جب وہ بستی کے پرائمری سکول میںپڑھتا تھا۔ لیکن غربت کے عفریت نے اسے سکول سے دور کردیاتھا۔ اسے وہ لوگ بہت اچھے لگتے تھے جو پڑھتے تھے۔ وہ عام سی باتیں کرتا لیکن ماجھو اس کی باتوں سے بہت متاثر ہوتا اکثروہ اس کی باتیں نہیں سمجھ پاتا تھا۔ پھر بیتے دنوں کے ساتھ ان کے پاس بات کرنے کے لئے موضوع ختم ہو گئے۔ کتنی دیر تک چپ بیٹھے رہتے ۔ جیسے خاموشی کی زبان سمجھنا چاہتے ہوں۔

ایسے ہی ایک دن ماجھو نے اس سے پوچھ لیا۔ تم نے کبھی عشق کیا ہے؟ یہ بڑا ٹیڑھا سوال تھا۔ پتہ نہیں ماجھو کے دل میں کیا آئی تھی جو اس نے اچانک پوچھ لیا۔اب وہ اسے کیا بتاتا کہ عشق کرنا کسے کہتے ہیں۔ماجھو کے نزدیک تو ایک لڑکی سے بھرپور محبت کرلینا ہی عشق ہے۔وہ اسے سمجھا نہیںسکتا تھا کہ عشق کیا ہوتا ہے۔ یہ تو وہ خود نہیں سمجھ سکا تھا لیکن یہ ضرور جانتا تھا کہ عشق کے جو معنی ماجھو بتاتا ہے ،وہ بہرحال نہیں۔سو اس نے انکار کر دیا۔ماجھو اسے اپنے عشق کا قصہ پچھلے ہفتے سے مسلسل ٹکروں میں سنا رہاتھا۔

وہ بستی کی ہی ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا۔اس کی محبت میںجو شدت تھی وہ اس نے ماجھو کے لہجے سے پہچان لی تھی جیسے خوشبو اپنا آپ منوا لیتی ہے چاہے نظر نہیںآتی۔یوں انہیںبات کرنے کا نیا موضوع مل گیاتھا۔ماجھو روز ایک نئی بات سناتا اور یہ اس لڑکی کی قسمت پر رشک کرتا جسے اس قدر چاہنے والا مل گیا ہو۔ان دونوں میں ایک خاموش مفاہمت تھی۔ماجھو نے کبھی بھولے سے بھی ایسا حوالہ نہیںدیاتھا جس سے اس لڑکی کو پہچانا جا سکے۔جبکہ وہ پوچھنا نہیںچاہتا تھا کہ وہ خود ہی اگر مناسب سمجھے گا تو بتا دے گا۔ اب وہ اس کی باتوںمیںبرا مزہ لیتا تھا۔اس کے اپنے اندر یہ خواہش آنکھیں کھول رہی تھی کہ وہ بھی ماجھو کی طرح کسی پر دل و جاں سے فدا ہو جائے۔مگر کون ہو؟ یہی بات اسے سمجھ نہیں آتی تھی۔ جب سے ماجھو اپنے عشق کی داستان سنانے لگا تھا۔ اسے بھی لڑکیا اچھی لگنا شروع ہو گئی تھیں۔ مگر جو شبیہہ اس کے ذہن میںابھر ی تھی، اس جیسی کوئی اسے مل نہیں رہی تھی۔ بستی میںتو کوئی ایسی لڑکی نہیںتھی۔ جو اس کے بنائے ہوئے معیار پر پوری اترے۔ شہر میںبھی وہ بہت سی لڑکیاں دیکھتا رہتا تھا۔ مگر وہ اسے اپنی پہنچ سے اس قدر دور نظر آتیں کہ وہ ان تک پہنچنے کے لئے سیم و و زر کی سیڑھی استعمال کرنا پڑتی یا ایسی ہوتیں جن سے بات کرنے کے لئے جھکنا پڑتا۔ سو اس کی نظر کسی بھی ایسی لڑکی پر نہ ٹک سکی جس کے لئے وہ اپنے اندر دیوانگی محسوس کرتا ۔ اُسے اب ماجھو کی باتیں عجیب لگنا شروع ہو گئیںتھیں۔ وہ یہ بھی اس کہتا اس کی پسندیدہ لڑکی کو اس سے بات تک کرنا گوارا نہیں پھر بھی اس سے عشق کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ کیسا جذبہ ہے؟ جو بھاگتے ہوئے بے قابو گھوڑے کی مانند ہے جس کی جتنی باگیںکھینچو وہ اتنا ہی سرپٹ دوڑتا چلا جاتا ہے۔

آج وہ ماجھو کا انتظار بڑی شدت سے کر رہا تھا۔ آج وہ کچھ ہو گیاتھا، جس کا اس نے تصور بھی نہیںکیا تھا۔ وہ اسے جلد از جلد ساری بات سنا دینا چاہتاتھا۔صبح وہ معمول کے مطابق کالج جانے کے لئے بس میںسوار ہوا تھا۔اس کے ساتھ اور بھی لڑکے لڑکیاں وار ہوئے تھے۔ایک لڑکی اس کے بالکل قریب کی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔ شہر آ جانے پر جب وہ اترنے لگی تو اسی لڑکی نے ایک بند لفافہ اسے تھما دیا۔وہ گھبرا گیا، سوچیںیک دم ہی مفلوج ہوگئیں۔ کسی نے ٹہوکا دیا تو وہ ہوش میںآیا۔ بس سے اترا تو وہ لڑکی دوسری لڑکیوں کے ساتھ سر جھکائے تیزتیز قدموں سے جا رہی تھی۔ اس نے لفافہ اور مضبوطی سے تھام لیا۔کالج ایک سنسان گوشے میںجاکر بند لفافہ کھولا۔ لفافہ چا ک ہوتے ہی سستی سی خوشبو کا احساس ہواجو اس پرچے پر لگی ہوئی تھی۔جس پر جذبے لفظوںکا روپ دھارے ثبت تھے۔ان لفظوں میں کچی عمر کے اس ناپختہ جذبوں کا اظہار تھا جو جوانی کی اٹھتی لہر کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ شاید یہ جذبے لفظوں کا روپ نہ دھارتے مگر سپنوں، ارمانوں اور خواہشوں کی مجبوری نے ایسا کرنے پر اُکسا دیا۔ اس نے لکھاتھا۔ اب کے امتحان ہو جانے کے بعد وہ سکول سے ہٹا لی جائے گی۔ تب وہ اسے نہیںدیکھ سکے گی۔ وہ بغیر کسی غرض کے اسے چاہتی ہے۔ اس نے یہ خط صرف اس لئے لکھا تھا کہ وہ کوئی ایسی راہ نکالے،کوئی ایسی جگہ منتخب کرے جہاں وہ اپنے دل کا حال خود بیان کر سکے۔ نہیںتو وہ رسموں کی آگ میںجھونک دی جائے گی۔ خط پڑھ چکا تووہ اسی نشے میںمدہوش ہو گیا کہ کوئی اسے چاہتاہے۔ تبھی ماجھو نے زور سے اسلام علیکم کہا تو وہ ایک جھٹکے سے خیالوں سے باہر آ گیا تھا اس نے سلام کا جواب دے کر فوراً دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو ماجھو نے نے حیرت سے کہا،” یار میں تو اپنے صحیح وقت پر آیا ہوں۔“

” خیر چھوڑو۔!“ اس نے بات کرنے کے لئے سرا ڈھونڈنا چاہا،”مگر لو پہلے یہ سگریٹ پیﺅ“ اس نے ایک سگریٹ ماجھو کی طرف بڑھایا تو اس نے بھی دو سگریٹ نکال لئے تو وہ حیرت سے بولا،

” ماجھو۔!آج تو سگریٹ لانے کی میری باری تھی، تم کیوں لے آئے؟

”بات ہی کچھ ایسی ہوگئی ہے۔ دوکان والے کے پاس اچھی مٹھائی نہیںتھی ورنہ وہ بھی لے آتا۔“ وہ چپ رہا اور ایک بھرپور کش لے کر دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے سوچا کہ پہلے ماجھو کی سن لے پھر سنائے گا۔ وہ کہہ رہا تھا۔،” تمہیںتو پتہ ہی ہے نا کہ میں جسے چاہتاہوں، وہ ہماری ذات برادری کی ہے۔آج ہمار بڑوں میں یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ لڑکی مجھی سے بیاہی جائے گی۔ پر مجھے اس پر بڑا ترس آ رہاہے۔“

” یہ کیابات ہے ماجھو؟“

” تم شاید یوں نہیںسمجھو گے میںتمہیںدوسری طرح سمجھاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جسے میں چاہتا ہوں نا وہ کسی اور کو چارہی ہے جس کی مجھے پوری طرح خبر ہے۔ لیکن اس بات کی خبر نہیں کہ وہ بھی اسے چاہتا ہے یاکہ نہیں۔مگر مجھے اس سے مطلب نہیں۔ میںتو یہ سوچتاہوں کہ وہ مجھے نہیں چاہتی لیکن میرے ساتھ بیاہ دی جائے گی۔ اور ہم زندگی اس طرح گذاریں گے جیسے یہ دونوں پٹڑیاں اور ان سلگتی ہوئی سگرٹوں کی طرح جلتے رہیںگے۔“

میںتمہاری بات سے اتفاق نہیںکروں گا۔ وہ اس لئے کہ جب اسے یہ احساس ہوگا تم اُسے کتنا چاہتے ہو تو وہ ضرور تمہارے لئے اپنے دل میں درد محسوس کرے گی۔“

” آگہی کا دکھ اتنا شدید نہیںہوتاجتنا یہ احساس جان لیوا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں وہ مجھے چاہتا ہے یا نہیں“

” کیا مطلب؟“

” مطلب یہ کہ کوئی تم سے یہ پوچھے کہ تم اُسے چاہتے ہو یا نہیںاور تم اسے جواب نہ دو تو اس پر کیا گذرے گی۔“

” تم کہنا کیاچاہتے ہو ، کھل کر کہو….“ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ جیسے ماجھو براہ راست اس سے مخاطب ہو کر کوئی بات کہہ دینا چاہتا ہے۔

”اس میں کوئی پیچیدگی نہیں سیدھی بات ہے۔“ اس نے پھر اپنی بات دھراتے ہوئے کہا،” اب اگر وہ جواب نہیںدیتا تو وہ ہاں اور ناں کی صلیب پر لٹک جائے گا۔ لیکن اگر کہہ دے تب اسے اپنی کم مائیگی کااحساس ہوگا اور اگر ہاں کہہ دے تو دوسرا کھو دینے کے احساس میںجاں سے گذر جائے گا۔“

” تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ کسی اور کو چاہتی ہے؟“

” اس کی ایک سہیلی جو دراصل اس کے ساتھ پڑھتی ہے اور اس کی خیرخواہ ہے، مجھے سب کچھ بتا دیتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ وہ صرف اپنی خواہش کے مطابق جیون ساتھی نہ ملنے پر اپنے اندر کے انسان کو مطمئن کرنا چاہتی ہے اورمجھے بھی احساس دلا سکے کہ میں اس کے معیار پر نہیںہوں۔“

پھر ماجھو پتہ نہیںکیا کہتا رہا۔اس نے اچانک فیصلہ کر لیا کہ وہ اس سے ملنے کی راہ ضرور نکالے گا اور اسے بتائے گا کہ انسان لوہے کی پٹڑیوں کی مانند نہیںہوتے جو ساتھ تو چلتے چلے جائیںلیکن ایک دورے سے دور رہیں۔انسان تو جذبوں سے گندھا ہوا ہوتا ہے۔ جس میںخود غرضی کا خمیربھی شامل ہے وہ اپنے مطلب کی خاطر ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مفاہمت کے موڑ پر مل بھی جاتے ہیں اورخود غرضی پر اُتر آئیں تو ساتھ چلتے چلتے اچانک نفرت کی ایک بڑی خلیج خود ہی حائل کر لیتے ہیں۔ چاہے جلتی ہوئی سگریٹ کی طرح سلگتے چلے جائیں۔

انسانی زندگی لوہے کی بے جان پٹڑیوں کی مانند نہیںہوتیں جو اپنی مرضی سے ایک سینٹی میٹر بھی ادھر اُدھر نہیں ہو سکتیں یہ تو سگریٹ کے دھویں کی مانند ہیں جو حالات کی ہواﺅں پر سوار ہو کر کئی سمتوں میںپھیل جاتا ہے اپنی مرضی سے۔

اُن دونوں نے سگریٹ ختم ہو گئے تھے ۔ وہ خاموشی سے اٹھے اور بستی کی جانب چل دیئے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے