سر ورق / افسانہ / سگریٹ۔۔۔۔محمد وقاص چوہدری

سگریٹ۔۔۔۔محمد وقاص چوہدری

افسانہ: سگریٹ
مصنف: محمد وقاص چوہدری

اکثر جب کالج میں کوئی فری لیکچر ہوتا تھا تو میں چائے پینے کیلئے کالج سے کوئی فرلانگ کے فاصلے پر فیقے کے ڈھابے چلا جاتا تھا۔ جانے کیوں اس کی بنائی ہوئی چائے ایسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسے گھر میں ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہو۔پردیس میں اپنوں کی خوشبو بھی کبھی کبھی بینائی لوٹا نے کا سبب بن جاتی ہے بس جو چیز بھی اپنی سی لگے دل اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ فیقے کا ڈھابہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ بیٹھنے کے لیے اس نے چار پانچ چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں جن کی پائینتیوں پر بڑے سلیقے سے کھیس ڈال رکھے تھے۔
راہ چلتے مسافروں ، مل مزدوروں اور طلبہ کی اکثریت یہاں رش جمائے رکھتی تھی۔مزدوروں اور ڈرائیوروں کو خوش کرنے کیلئے اس نے ایک حقہ بھی رکھا ہوا تھا جو آٹھوں پہر تازہ رہتا اور ایک ہجوم ہر وقت اس کے گرد مختلف موضوعات پر تبصرے کرتا ہوا ملتا۔ ان میں سے بہتوں کے پاس اگرچہ علم و دانش اور اصولوں سے واقفیت کا فقدان تھا مگر وہ سب موجود تھا جو اس ٹیکنالوجی کے دور میں ختم ہوتا جا رہا ہے۔ان کے پاس ایک دوسرے کو سننے کا وقت تھا۔ کچھ باتوں کو بغیر سوچے سمجھے بس مان لینے کی معصومیت تھی۔ گنجلک افکار سے پر دماغ اطمینان کی اس رمق کو پانے کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اکثر نظر آ جایا کرتے تھے۔ انہی میں ایک شخص نور محمد بھی تھا۔عمر کوئی پچاس پچپن سال کے قریب ہو گی۔ سفید ریش، ملنسار اور ہر وقت مسکراتا ہوا ایک مطئین چہرہ۔
فیقے نے باتوں باتوں میں ایک دن بتایا تھا کہ نور محمد شہر کا بہت بڑا وکیل ہے۔ اس وقت سے مجھے اس شخص کے متعلق مزید جاننے میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ نتیجتا میں بھی اسی جگہ بیٹھنے لگا جہاں نور محمد بیٹھا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کی سلام دعا کے بعد جب شناسائی مزید بڑھی تو مجھے معلوم پڑا کہ یہ شخص نہ صرف ایک قابل وکیل ہے بلکہ دیگر علوم میں بھی گراں قدر مہارت رکھتا ہے۔ میں اس سے قانون کے بارے میں ڈھیروں سوال کیا کرتا تھا۔۔۔کبھی کبھی وہ مقدموں کی رودادیں بھی سنا دیا کرتا تھا۔
یہ برکھارت کی ایک دوپہر تھی۔۔۔فضا میں نمی کا احساس تھا اور سورج کے چہرے پر بادلوں نے اپنا پردہ ڈال رکھا تھا۔۔۔میں فیقے کے ڈھابے پر اسی جگہ بیٹھا تھا۔۔۔نور محمد کے سامنے۔۔۔معاشرتی اغلاط پر باتیں کرتے کرتے میرے چہرے پر مایوسی کا تاثر دیکھ کر وہ مسکرایا اور کہنے لگا
آج میں تمہیں ایک بہت پرانی کہانی سناتا ہوں جو اب بھی مجھے حرف بہ حرف، منظر بہ منظر یاد ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب سڑکوں پر کاروں اور بسوں کی تعداد بہت کم اور نانگوں کی تعداد کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی۔ عام سڑکوں پر برقی قمقمے نہیں ہوا کرتے تھے۔ جاڑے کا موسم تھا، دھند اتنی تھی کہ چند قدم آگے دیکھنا محال تھا۔ایسے میں ایک بڑھیا لڑکھراتے قدموں اور تیز سانسوں کے ساتھ اپنی لاٹھی کے سہارے سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تانگوں اور موٹروں نے اس شاہراہ کو مکمل مصروف کر رکھا تھا۔لاٹھی سے بڑا سہارا اس کے ساتھ چلتا دس بارہ سال کا لڑکا تھا جو اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا۔ اگرچہ کم عمر تھا مگر اتنا مضبوط تنکا ضرور تھا کہ اس ڈوبتی بڑھیا کو کنارے تک پہنچا دے۔ وہ سہما ہوا تھا مگر حواس پر اس کا قابو تھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی خوف تھا جو اس سڑک پر چلتی لاریوں کا ہرگز نہیں تھا۔ ان دونوں کو سڑک کے پار بنے پان اور سگریٹ کے کھوکھے تک جانا تھا۔ آخر خدا خدا کر کے انہیوں نے سڑک پار کی اور اس تک پہنچ گئے۔یہ ایک عام سا کھوکھا تھا جیسے سڑک کنارے ہوا کرتے ہیں۔۔۔ٹین اور لکڑی کا ملا جلا سا ایک مکعب۔۔۔کھوکھے کا مالک سامنے کا پٹ آدھا نیچے گرا کر
بیٹھا تھا تاکہ وہ سردی سے محفوظ بھی رہے اور گاہکوں کو بھی اس کی موجودگی کا معلوم پڑ سکے۔ بڑھیا نے اپنی لاٹھی سے ٹین کے پٹ کو کھٹکھٹایا۔
"بیٹا سگریٹ کی ڈبی دے دو ” اس نے اپنی کانپتی آواز میں دکاندار سے کہا۔
"اچھا دیتا ہوں اماں” دکاندار نے اپنے پاس کھڑے لڑکے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اس طرف متوجہ کیا اور دونوں مسکرانے لگے۔
بڑھیا اور بچہ سگریٹ لے کر ابھی چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ ایک قہقہہ بلند ہوا، جو دکاندار اور اس کے دوست کا تھا۔
"دیکھو یار اماں کو اس عمر میں بھی چین نہیں۔۔۔ٹانگیں قبر میں اور کام دیکھو۔۔۔توبہ توبہ”
بڑھیا تو شاید سماعت کی کمزوری کے باعث نہ سن سکی ہو مگر ساتھ موجود بچے نے سن کر نظر انداز کر دیا تھا۔۔۔چند منٹ کی مسافت کے بعد وہ دونوں وہاں پہنچ گئے جہاں انہیں جانا تھا یعنی شیر کا بڑا تھانہ۔۔۔
اندر داخل ہو کر بڑھیا نے کرسی پر بیٹھے ایک شخص کو سگریٹ کی وہ ڈبیا تھما دی۔۔۔اس کا سفید، جھڑیوں سے بھرا چہرہ اب ایک دم سے زرد پڑ گیا۔۔۔ملتجی لہجے میں کہنے لگی۔
"بابو اب میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔۔۔تم نے کہا تھا نا کہ پہلے سگریٹ لے کر آو¿۔۔۔بابو میرا بچہ بے قصور ہے وہ تو صرف روٹی لینے کو گھر سے نکلا تھا”
"اماں۔۔۔چوری کا کیس ہے اس پہ۔۔۔چوری کا۔۔۔وہ بھی ہوٹل کے مالک کی چوری جو سیاسی کارکن بھی ہے۔۔۔ایسے نہیں چھوٹے گا۔۔۔اب چھوڑنے کا فیصلہ یا تو بڑے صاحب کریں گے یا عدالت۔۔۔لیکن تجھے تیرے لڑکے سے ملوا دیتا ہوں” اس شخص نے اپنی مونچھوں کو تاو¿ دیا جیسے کوئی بہت بڑا احسان کر رہا ہو۔
بڑھیا اپنے لڑکے سے ملی۔ مار کی وجہ سے اس کی حالت قابل رحم حد تک خراب ہو چکی تھی۔
"اماں تو جانتی ہے نا۔۔۔میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔۔۔میں نے کوئی چوری نہیں کی۔۔۔لازمی تو نہیں کہ میرے پرانے کپڑے میرے چور ہونے کی طرف اشارہ کریں۔۔۔اور چوری تو میرے ہوٹل پر پہنچنے سے پہلے ہو چکی تھی” وہ گر گرا رہا تھا
"ہاں جمیلے پتر میں جانتی ہوں تو بے قصور ہے۔۔۔میں بڑے صاحب سے کہوں گی کہ تیرے اس دس سالہ بچے کا سوچ کر ہی تجھے رہا کر دیں جس کی ماں برسوں پہلے گزر چکی ہے اور اب تو ہی اس کا سب کچھ ہے۔۔۔میری کمزور ہڈیوں میں اتنی جان کہاں کہ اسے پڑھانے کیلئے کام کر سکوں”
لیکن اس سے کچھ بھی نہ ہو سکا۔۔۔بڑھیا کبھی بڑے صاحب تک پہنچ ہی نہیں سکی تھی۔۔۔نہ کوئی وکیل کر سکی۔۔۔ایسے لاوارث مجرم پر دو تین کیس مفت میں ہے ڈال دیے جاتے ہیں۔۔۔اب بڑھیا کے لڑکے کو حوالات سے جیل منتقل کر دیا گیا۔۔۔بڑھیا کے پاس جو تھوڑا بہت پیسہ تھا وہ چند دنوں میں ہی ختم ہو گیا۔۔۔گھر میں نوبت فاقوں کی آئی تو اس دس سالہ لڑکے کو گھر کا کماو¿ پوت بننا پڑا۔ کبھی پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا۔۔۔کبھی کسی بڑے صاحب کے بچوں کے سکول کے بستے اٹھانے کی نوکری کرتا۔ وہ اب چند ماہ پہلے والا معصوم بچہ نہیں رہا تھا۔۔۔جسے کھلونوں کیلئے زد کرنی تھی۔۔۔گلی میں دوستوں کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلنا تھا۔۔۔سکول سے چھٹی کرنے کیلئے رونا تھا۔۔۔زندگی نے اس کے سامنے اپنی تلخ حقیقت کو کھول دیا تھا۔۔۔زندگی عجیب ہے نوید بابو۔۔۔یہ کچھ لوگوں کی جھولی میں رعنائیاں ڈالتی ہے اور کچھ کی جھولی میں اپنی تلخ حقیقتیں۔۔۔
اسے پھولوں کی سیج سے اسے یک دم اٹھا کر خار دار جاڑیوں کے درمیان پٹخ دیا گیا تھا۔اسے اب مالک کی مار بھی کھانی تھی، کام بھی کرنا تھا اور بھی بہت کچھ سہنا تھا۔۔۔دو سال بعد خبر آئی کہ چند قیدی جیل سے بھاگنے کی ناکام کوشش میں پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ انہی میں ایک بڑھیا کا بیٹا بھی تھا۔۔۔وہ بہت روئی تھی۔۔۔امید پہ امید ٹوٹے تو زندگی مایوس سی ہو جاتی ہے۔۔۔اب بڑھیا شائد مزید کچھ سہنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی اس لیے خبر سننے کے چند ہفتوں بعد ہی اپنے بیٹے کے پاس جا پہنچی۔
"اس لڑکے کیا بنا؟”
میں اب مکمل توجہ سے اسے سن رہا تھا۔۔۔کھلے منہ کے ساتھ۔۔۔جیسے کوئی بچہ نانی کی کہانیاں سنتے سنتے اپنے تخیل میں شہزادوں اور پریوں کے دیس پہنچ جاتا ہے۔ مجھے بھی وہ کہانی اور اس کے کردار تخیل کے کسی خانے میں اپنے سامنے دکھائی د ے رہے تھے۔
” اس نے کام کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی جاری رکھی۔۔۔مزدوری بھی کرتا تھا اور اپنی پڑھائی بھی۔۔۔ اب وہ اس شہر کا بہت بڑا وکیل ہے اور اپنے باپ کی طرح کے بے قصور لوگوں کے مقدمے بغیر فیس کے لڑتا ہے۔۔۔پچاس سال کا ہو گیا ہے اور تمہارے سامنے بیٹھا ہے” وہ مسکرایا اور میرے دل میں اس کی عزت کا خانہ مزید وسیع ہو گیا۔

- محمد وقاص چوہدری

محمد وقاص چوہدری
نوجوان لکھاری محمد وقاص چوہدری اردو ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے کوشاں ہیں۔ ان کی کہانیاں، افسانے اور مضمون مختلف جریدوں اورڈایجسٹوں میں چھپ چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائینسز، لاہور سے مائیکروبیالوجی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بہت سی سائینسی اور تعلیمی ویب سائیٹس کے بانی ہیں۔ پاکستان میں ای کامرس انڈسٹری اور آن لائن تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے متعلق مزید جاننے کیلئے ان کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔ (waqasch.com)

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے