سر ورق / افسانہ / دیوی ۔۔۔سدرہ افضل   

دیوی ۔۔۔سدرہ افضل   

۔۔۔ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔ کسی شور کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی، اس نے ادھراُدھر دیکھا۔ ہر چیز اپنی جگہ پر پڑتھی۔ وہ آرام کرسی پر بیٹھا تھا۔ ٹھک ٹھک، ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔۔۔ آواز شدید ہوگئی وہ ڈر گیا۔ مگر غور کرنے پر اسے احساس ہوا کہ آواز دروازے سے آرہی ہے۔ وہ کرسی سے اٹھااور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چند چیخوں کی آواز کے بعد کی کنڈی کھل گئی۔

آداب!

ایک بہ غور جائزہ لیتا اور مسکراتا اجنبی چہرہ اس کے سامنے تھا۔

ہم زاد! یہ کہہ کر اس نے ہاتھ آگے بڑھا دیا جیسے کہ مصافحہ کرنا چاہتا ہو۔ اس نے حیران و پریشان تاثرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا

جی۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

اجی خاکسار ہم زاد، آپ کا گائیڈ ، اسسٹنٹ ، منیجر ، باورچی جو آ پ کہنا چاہیں حاضر ہے۔

اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے چہرے پر اطمینان کے سائے ابھرے ۔

تو۔۔۔۔۔۔۔ آپ ہم زاد ہیں!

اجی کوئی شک؟

کمرے کے تحقیقی مشاہدے میں مشغول ہم زاد نے مڑ کر اسے بہ غو ر دیکھا جیسے بُرا منایا ہو۔

جسد خاکی ! اس نے بات پلٹتے ہو کہا۔

جی ہاں میں جا نتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

مشہور مُسخرِ جسد ِ خاکی آپ ہی ہیں تعارف کی ضرورت نہیں۔

ہم زاد نے تیزی سے کہا ، تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاکی:      تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ؟

ہم زاد:  تو آپ بچ گئے۔

خاکی:  بچ گئے، مطلب؟

ہم زاد:  کتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاکی:  جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ہم زاد:  کتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس علاقے کے۔

خاکی:  اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں (مسکراتے ہوئے)

ہم زاد:  کافی خون خوار ہیں۔ نہیں ؟

خاکی:  ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم زاد :  آ پ کے بھی پیچھے دوڑتے ہوں گے؟

خاکی :  جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس۔

ہم زاد:  کوئی بات نہیں۔ ہر نووارد کے ساتھ پہلا حادثہ یہی پیش آتا ہے، معمول ہے۔

چائے! ( چائے کا کپ آگے بڑ ھاتے ہوئے)

خاکی:      جی( حیرانگی کے عالم میں) چائے کا کپ پکڑتے ہوئے۔

ہم زاد:     کتے آپ کے پیچھے آپ کتوں کے آگے سہمے ، ہانپتے ، کانپتے کیا منظر ہوگا۔ ہا ہا ہا (چائے کی چسکی لیتے ہوئے وہ مسکرانے لگا)

خاکی:      بخشومیاں کا کہ جب آپ سانس پھول جانے کے سبب زمین پر آ رہے تو راستے سے گزرتے ہوئے بخشو میاں نے دیکھا، سنبھالا، اٹھایا۔یہاں تک پہنچانا کہ آپ تو بے ہوش تھے۔ پھر ٹھک ٹھک کی    آ واز سے آپ کی آنکھ کھلی۔ ادھر اُدھر دیکھا، بخشو میاں نہیںتھے۔ بخشو میاں جو میرے منہ بولے باپ ہیںکسی کام سے دو سرے شہر گئے ہیں پرسوں تک لوٹ آئیں گے۔ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں آنکھ کھلی بخشو میاں نہیں تھے۔ آپ نے اپنا نام بتانے کی کوشش کی جو میں پہلے جانتا تھا۔ پھر میں اندر داخل ہوا، چائے بنائی بیس منٹ گزرے گئے، چائے ختم ، اب کہیے!

خاکی:      اجی میں کیا کہو ں سب کچھ تو آپ نے کہہ دیا۔

ہم زاد:     ارے آپ تو برا مان گئے۔ چلیے چھوڑیے! میرا مطلب ہے کہیے علاقے کی تسخیر کا کیا پر وگرام ہے۔ مشہور و معروف مسخر محترم جناب جسد ِ خاکی صاحب چلیں؟

خاکی:      جی بالکل ، After you، ویسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی خوش مزاج ہیں آپ۔

ہم زاد:     اجی نوازش مگر وہ کیا ہے کہ:

جن کے چہرے پہ مسکراہٹ ہو

آنکھیں ان کی اداس ہوتی ہیں

محترم جناب جسد ِ خاکی صاحب!

خاکی:      خاکی! آپ مجھے © ©”خاکی“ کہہ سکتے ہیں۔

ہم زاد:     Ok خاکی!تو۔۔۔۔۔۔۔ کہاں سے شروع کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اس سے پہلے کہ ہم زاد کی باتوں کی ٹریں شروع ہوتی خاکی نے بات کاٹتے ہوئے کہا)

خاکی:      آب و ہوا، I mean موسم!

ہم زاد:     سارے موسم دل کے موسم۔

بہار ہو یا خزاں کا موسم

خاکی:      یہاں کا موسم۔

ہم زاد:     اوہ ہاں یہاں کا موسم (ایک طنزیہ او رحسرت بھرے احساس نے اسے آلیا)

اور پھر وہ اپنی دُھن میں بولنے لگا۔

موسم تو یہاں ہمیشہ ایک سا رہتا ہے۔ سرد ، جمود کا شکار۔ یہاں سورج اپنی صورت دکھانابھول جاتاہے۔ کبھی کبھی نمودارہوتا ہے اور صرف غروب آفتاب کا منظر ہی دکھائی دیتاہے۔۔۔۔۔

ہم زاد خاموش کھڑا بر فیلی چوٹیوں کو حسرت سے دیکھا رہا تھا۔

خاکی نے ادھر اُدھر دیکھا۔ بہت دور کچھ سر سبز حصہ نظر آیا۔ ارے وہ دیکھو! خاکی نے ہم زاد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، یہ سر سبز حصہ یہ کوئی میدان سے کیا؟

ہم زاد:     نہیں صاحب یہ برفیلی چٹانوں کے درمیاں ایک چھوٹی سی وادی ہے۔ ” قلب الناس“ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں امیدوں کے چھوٹے چھوٹے پہاڑ نما ٹیلے ہیں جن پر سر سبز اشجار ہیں مگر ان اشجار پر پھل نہیں لگتے، لمبی لمبی ٹہنیوں پر صرف پتے او ر کا نٹے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ان درختوں کی تو لکڑی بھی گیلی ہے جلنے کے کام بھی نہیں آتی ۔

خاکی:      ارے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

(خاکی نے اس ڈھلوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں چند زہریلی خورد وبوٹیاں اور کچھ چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں بوسیدہ پانی جمع تھا)

ہم زاد:     (پیچھے مڑتے ہوئے) جی؟یہ ! یہاں کچھ عرصہ قبل تک ندی ہوا کرتی تھی۔ احسا س کی ندی!

خاکی:      ہو ا کرتی تھی مطلب؟

ہم زاد:     دور جدید میںنل ہر گھر میں موجود ہے۔ اس ندی کی ضرورت نہیںتھی اس لیے آثار قدیمہ والے کے گئے۔

خاکی نے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر علاقے کا بہ غور جائزہ لیتے ہوے چوراہے سے بائیں جانب مڑا۔

ہم زاد:     ارے ادھر! ہم زاد نے خاکی کا ہاتھ پکڑکر اپنی جانب ایک جھٹکے سے کھینچا۔

اسے احساس ہوا شاید وہ غلط راستے پر مڑنے کو تھا۔

ایک لمحے کی ہلچل کے بعد وہ سنبھل گئے۔

خاکی:      ہم زاد! ادھر نہ جانے کی کوئی خاص وجہ؟

ہم زاد:     کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چوراہے کے موڑ پر کلیاں بیچنے والے کا اندھا ہم نو ا ٓواز دیتا ہے۔ وہ جادو گر ہے، کانچ کے پرَ بیچتا ہے۔ دیکھنے میں یہ پر بہت خوبصورت لگتے ہیں۔ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی ان کی چمک سب سے جدا ہے مگر ہاتھ میں آتے ہی کوئلہ بن جاتے ہیں۔ کو ئلہ اور جانتے ہیں پر وں کو خریدنے والے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ وہ کیا بن جا تا ہے؟

خاکی:      کیا؟

ہم زاد:     سیاہ روح پکاﺅہیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاکی نے نہ غور ہم زاد کو دیکھا جو اپنی یہ دھن میں آ گے بڑھتا جا رہا تھا ۔ اچانک ہم زاد ایک جگہ رُک گیا ، پہلے مسکرایا اور پھر اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں ۔ اس کے چہرے پر غم و غصے کی پر چھائیاں

صا ف نظر آ رہی تھیں۔ خاکی نے ادھر ادھر دیکھا:

اب وہ دونوں ایک میدانی علاقے میں تھے۔

ارے یہ زمین تو کافی زرخیز ہے مگر بنجر کیو ں ہے؟

خاکی نے ہم زاد کر طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

ہم زاد زمین کی طرف جھکا اسے پیا ر سے دیکھا اور بولا:

یہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضمیر بھیا کی زمین ہے۔

ہم زاد نے ضمیر بھیا کا نام بہت احترام سے لیا تھا۔

خاکی:      ضمیر بھیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

ہم زاد:     ہمارے مالک، سب کے دوست ، سب کی آواز ، سب کے ہم زاد۔ یہ زمین انہی کی ہے۔ کچھ سال قبل کافی ہر ی بھری تھی۔ کبھی سنہری تو کبھی گلابی مگر پھر خواہشات کی دیوی کے ساتھ جنگ میں ضمیر                 بھیا مارے گئے اور یہ زمین بنجر ہو گئی۔

خاکی :     پر یہ سب ہوا کیسے؟ بستی کے اردگرد تو شعور کی لمبی چوڑی فصلیں ہیں نا!؟

ہم زاد:     ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاکی:      توپھر

ہم زاد:     وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی سریک کار، ان کی قوت باصرہ بی بی جی۔ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک غلطی ہوئی ان سے ادراک کا کاجل لگا نا بھول گئیں اور ظاہر پر یقین کر بیٹھیں ۔ ضمیر نے    بہت سمجھایا مگر وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُ س خوش شکل کج رو دیوی کے جادو کا شکار ہو گئیں اور اس کی دوستی میں اتنی اندھی ہوگئیں کہ اسے بستی کے چوردروازے سے داخل ہونے کی اجازت دے دی اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب ختم ہوگیا۔

اچانک دونوں کے سر پر کوئی چیز پھڑ پھڑائی۔ خاکی نے اوپر دیکھا:

ارے کبوتر۔

ہم زاد :    اوپر دیکھتے ہوئے :

ارے صاحب یہ تو کبوتر نہیں کوئے ہیں۔

خاکی :     سفید کوئے ؟

ہم زاد :   جی ہاں یہ سب دیوی کی کرپا ہے ان پر۔

خاکی:      دیوی کی کرپا ؟

ہم زاد:     اجی لالچی کوے تھے۔ چھیچھڑوں پر پلنے والے ، جو ٹھن کھا کر گزرے کرنے والے۔ گوشت خوری کی ہوس میں دیوی کے پجاری ہو گئے۔ دیوی نے انھیں کبوتر کے پردے دیے۔ اب یہ کوے کچھ    بھی کریں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ دیوی نہیں ڈائن ہے ڈائن ، جا دوگرنی ، نوواردوں کی آنکھیں اور دل نکالنا تو اس کا محبوب مشغلہ ہے۔

اس کی با ت پر خاکی چونکا۔

جی وہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم زاد کچھ کہہ رہا تھا۔

بھﺅں بھﺅں او ¾ ا و ¾ او ¾ بھﺅں بھﺅں ۔۔۔۔۔۔۔۔

خون خوار کتوں کی آوازیں خاکی کے کانوں میں گانجنے لگیں۔ در اصل وہ شکاری کتے اس کے ماتحت ہیں۔ اس کے لیے شکار تلاش کرتے ہیں۔ خاکی کی سانس پھولنے لگی اور جب اس کا شکار تھک کر پیاس سے ہانپنے لگتا ہے تو وہ اسے پانی کی جگہ سیا ل پلاتی ہے۔

کتوں کی آوازیں تیز ہو رہی تھیں۔ بھاگتے بھاگتے وہ ہاپننے لگا تھا۔ کسی شے سے ٹکرا کر جب وہ گرا تو کسی نے اسے گرتے گرتے تھام لیا تھا۔ پانی پیو گے جانی ؟ مسحور کن آواز اس کے کانوں میں رس گھول گئی ۔ ہاں کہتے کہتے اس کی آواز کہیں گم ہو گئی تھی۔ چناں چہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے پیا س کا اقرار کیا تھا۔

وہ خوب صورت عورت زور زور سے ہنسنے لگی ۔ خاکی کا سر چکرانے لگا۔ ہم زاد دیوی کی کہانی بیان کرتا چلا جا رہا تھا۔ خاکی کے کونوں میں اُس حسینہ کے قہقہے گونج رہے تھے ۔ اس کی آواز بند ہوگئی تھی اور ہونٹ خشک تھے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ خاکی نے آنسو بھری آنکھوں سے ہم زاد کو دیکھا ۔ اس کا غم و غصے سے بھر پور سُرخ تھا اور وہ چلا چلا کر دیوی کے بارے میں بتا رہا تھا۔ وہ اپنے                 احساسات میں اتنا شدید تھا کہ کوئی بہرہ بھی اس کے ہونٹ پڑھ کر بات سمجھ سکتا تھا۔ وہ دیوی نہیںخوب صورت کج رو ڈائن ہے جو سیال پلاتی ہے۔ اسے نے وہ گلا ب شربت ہاتھ میں رکھا اورپر یشانی کے عالم میں سینے کی طرف دیکھا ۔ وہ پاگل ہو گیا۔اسے اپنے آپ سے گھن آنے لگی۔ اس کے سینے میں دل کی جگہ پتھر تھا۔ اور وہ جو پیمانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے آگے وہ سوچ نہیں پا رہا تھا ۔وہ سیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضمیر کا خون نہیں ۔ اسے ابکائی آنے لگی۔ اس نے ہم زاد کی طر ف سہارے کے لیے ہا تھ بڑھا یا۔ ہم زاد ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا ، مجھے تاریکی سے پہلے ضمیر بھیا کے مزار پر دیا جلانا ہے۔ وہ مسلسل خاکی کے سینے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ تم بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

وہ تیزی سے پیچھے ہٹنے لگا ۔ خاکی نے اسے آواز دینے کی کوشش کی مگر اس کے حلق میں کانٹے چھبنے لگے۔ ہم زاد ضمیر کے مزار کی طرف تیزی سے بھاگنے لگا اور آہستہ آہستہ خاکی کی اشک آلونگاہوں سے دُور بہت ہی دُور چلا گیا۔ زور دار جھٹکے سے خاکی زمین پر اوندھا گرنے ہی والا تھا کہ کسی زبردست گرفت سے اس کی کلائی تھام لی۔

اصل میں و ہ خون ہے ضمیر بھیا کا خون (اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکے) جسے پلا کر وہ شکار کو مد ہوش کر دیتی ہے اور اس کا دل نکال کر پتھر رکھ دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ خاکی نے جیسے ہی سنے اسے سب یاد آگیا۔

ہانپتا کانپتا جیسے ہی وہ زمین پر آ رہا ۔ کسی نے اسے تھام لیا۔ پانی پیو گے ؟

(وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیوی ہی تھی خواہشات کی دیوی )ہاں ! خاکی نے اثبات میں سر ہلایا۔ پاس پڑے سیال کو آگے بڑھا کر اس نے اچانک پیچھے کر لیا ۔ خاکی نے گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک ہاتھ سے پیمانہ پکڑنے کی کوشش کی تھی ۔ دیوی نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی تھام لی اور آہستہ آہستہ اس کے کانوں      کے قریب آکربولی : ارے صاحب بیو پاروں کی بستی ہے کچھ لو، کچھ دو۔اس نے دل کی طرف ہا تھ بڑھا دیا۔

خاکی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔

پیاسے ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانی پیو گے؟

تو صاحب یہ تو بیوپاروں کی بستی ہے!

دیوی نے اپنے لمبے غلیظ ناخنوں والے ہاتھ خاکی کی آ نکھوں کی طرف بڑھا دیے۔

جسد ِ خاکی اس بار اثبات میں سر نہیں ہلانا چاہتا تھا مگر اب وہ اس کا ما تحت تھا۔ سیال کا لالچی کبوتر کے بھیس میں سفید کوا، کانچ کے پرخریدنے والا سیاہ روح بکا ﺅ ہیرا نا مراد۔۔۔۔۔۔۔ اندھا، پتھر دل درندہ صفت جانور ، نہ کرنے سے قاصر ، ہاں کرنے پر مامور ہم زاد نے سچ کہا تھا۔

اسے غروب آفتاب کا منظر واضح نظر آرہا تھا۔

وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ خواہشات کی دیوی نے اسے اندھا کر دیا اور اس کی پجارن نے وہ پیمانہ جس سے گلاب شربت بھر ا ہوا تھا ۔ اس کے منہ سے لگا دیا۔ دھیرے دھیرے میں کتوں کے          بھونکنے کی آوازیں تیز سے تیز تر ہونے لگیں۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے