سر ورق / کہانی / شیلف میں رکھی کتاب… امجد جاوید 

شیلف میں رکھی کتاب… امجد جاوید 

وہ کسی اجنبی کی طرح میرے قریب آ کر بیٹھ گئی اور کتاب پر نظر رکھے ۔لیکچر سننے لگی۔میں محسوس ہی نہ کر سکا کہ وہ کب تک مجھے سب سے منفرد  اور اچھی لگنے لگی تھی۔وہ نہ تو بلا کی حسین تھی اور نہ ہی ایسی کہ جیسے دیکھتے ہی دل دھڑکنا بھول جائیں۔۔۔بعض لوگوں میں ایک خاص کشش وہ ہزار لوگوں کے اجتماع میں بھی منفرد دکھائی دیتے ہیں۔چالیس پینتالیس کی کلاس میں فقط سات لڑکیاں تھیں اور وہ ان میں سے ایک تھی۔شروع دن سے ہی ہوتی ہے،

وہ عام لڑکیوں کی مانند سہمی سہمی اور ڈری ہوئی نہیں تھی۔ چند لڑکے اس کی جانب بڑھے بھی لیکن وہ کسی کے ساتھ بھی نہ کُھل سکی اور پھر کسی نے اس کی جانب توجہ ہی نہ دی، اس کی حیثیت شیلف میں رکھی کتاب کی مانند ہو گئی جس کے سرورق کو تو ہر کوئی دیکھتا لیکن کوئی نہیں چاہتا تھا کہ پڑھے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود پر اک خول تان لیتے ہیں ،یہ خول وہ خود اپنے آپ بنا لیتے ہیں یا ماحول ان پر بُن جاتاہے۔و ہ اس خول کے عادی ہو جاتے ہیں کہ باہر نکلنا پسند ہی نہیں کرتے۔شاید اس خول کی وجہ اس کے اپنے اندر ہی کاخوف یا کوئی کمزوری ہوتی ہے۔جس کو چھپانے کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں۔مگر اس لڑکی پر کوئی خول نہیں تھا،اسے کوئی خوف نہیں تھا۔اس کی یہ خوبی اس طرح عیاں ہوئی کہ دوسری لڑکیاں تو اک دفاعی انداز اختیار کئے ہوئے تھیں ،انہیں خوف کھائے جا رہا تھا کہ لڑکے انہیں نیچا دکھانے کی فکرمیں ہیں۔مگر اس نے کبھی ایسی بات نہیں کی تھی۔کسی موضوع پر اگر بات کرتی تو پھر کرتی ہی چلی جاتی۔لفظ ایک شفاف ندی کی مانند بہتے ،لیکن جب خاموش ہوتی تو جھیل کی مانند لگتی، جس کی گہرائی کا اندازہ مشکل معلوم ہوتا۔اسے اگر دور سے پہچاننا ہو تو اپنی چال سے پہچانی جا سکتی تھی، جسے میں کبھی کوئی نام نہیں دے سکا۔وہ کبھی ہرنی کی مانند لگتی اور کبھی سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی دکھائی دیتی۔اس کی بھاری ،موٹی او ر لانبی چوٹی پنڈولم کی طرح جھول کر اپنے ہونے کا احساس دلاتی ۔

پھر تھوڑا وقت گزرا،ایک دوسرے کے بارے میں جان پہچان ہوئی تو تعلق کے سلسلے بننے لگے۔۔یوں ہوتا ہے نا!کہ بہت سارے لوگ جب ایک جگہ اکھٹے ہو جائیں تو ہم انہی کے ساتھ زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں جن میں کچھ قدریں مشترک ہوں۔یہ چاہے عادات ہوں،گفتگو ہو یا پسند و نا پسند۔۔۔۔یوں ایک بڑا گروہ چھوٹے چھوٹے ذیلی گروہوں میں بٹتا چلا جاتاہے۔اگر قدریں ایک جیسی ہوں تو سب ایک ہی خیال میں پروئے جاتے ہیں۔لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو بکھری مالا کے موتیوں کی طرح چار دانے وہاں اور دو دانے وہاں اپنی الگ حیثیت میں دکھائی دیتے ہیں ۔اسی طرح مشترک قدروں کے باعث دوستیاں اور تعلق بننے لگتے ہیں۔لڑکے اپنے ہاسٹل کی بنیاد پر یا سیاسی خیالات کی بدولت بکھر کر رہ گئے او ر لڑکیاں بھی مخصوص گروہوں میں سمٹ گئیں۔ایک میں چار ،دوسرے میں ایک اور تیسرے میں فقط دو اور یہ دو لڑکیوں والا گروپ اسی کا تھا۔ایک وہ خود تھی اور دوسری نعمانہ تھی۔

٭٭٭

قریبی پارک میں کلاس ٹور جانے کی باتیں ہو رہی تھیں ۔ ہر کوئی مشورہ دے رہا تھا اور کوئی مشورہ لے رہا تھا۔لڑکیاں اپنے ذمے کام لے رہی تھیں اور لڑکے اپنے ذمے،ایک جوش تھا او ر خوشی تھی۔ پروگرام تقریبا طے تھا اور میرے ذمے کام لگ چکا تو میں وہاں سے اٹھ آیا،اب وہاں سوائے گپ شپ کے اور کچھ نہیں تھا۔میں اپنی جائے عافیت کی طرف بڑھا۔کینٹین ہی اک ایسی جگہ تھی جہاں بیٹھ کر میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتاتھا۔وہاں چائے،سگریٹ کے ساتھ بیٹھنے کو بہترین جگہ تھی۔کمروں کے گھٹے ہوئے ماحول سے باہر کھلے میں جہاں جی چاہے بیٹھ جاﺅ،وہاں اپنی مرضی کے خیالوں کی دنیا سجا کر آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھ کر یا پھر اچھے اچھے لوگوں سے باتیں کرتے وقت گزار لیا جاتا تھا۔میں کینٹین تک گیا۔وہاں چائے کا کہہ کر سگریٹ لیئے اور کونے کو طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ مجھے وہ ڈیپارٹمنٹ کے سامنے والے لان کے ایک کونے میں بیٹھی نظر آئی۔اس کے ساتھ نعمانہ تھی۔وہ دونوں باتیں کر رہی تھیں۔اسی لمحہ اک احساس،اک خیال در کھول کر ہوا کی طرح ذہن میں آیا کہ کیا انہیں ٹور سے کوئی دلچسپی نہیں، یہ سب کے درمیان کیوں نہیں بیٹھیں؟۔۔۔مجھے معلوم کرنا چاہیے۔۔۔مگر کیا ضرورت ہے؟۔۔۔خود ہی سوچ کر پھر اپنے خیال کی تردید کر کے انہیں ذہن سے نکال کر باہر لان میں اک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔

٭٭٭

ایک دن بور ترین لیکچر ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا، میں چپکے سے اٹھا اور کلاس روم سے باہر آ گیا۔استا د جو باتیں بتا رہے تھے وہ میں عملی طور پر کر چکا تھا۔ادھر ادھر جانے کی بجائے میں جائے عافیت کی جانب سیدھا گیا،چائے کا کہہ کر مڑا تو سامنے وہ دونوں آتی دکھائی دیں۔قریب آنے پر تقریباً ایک ساتھ ہی دونوں نے سلام کیا۔میں نے جواب دیا تو نعمانہ مسکراتے ہوئے بولی۔

”ہم چائے نہیں پیتیں۔۔بس پیسٹری کے ساتھ بوتل پی لیں گی۔“مجھے اس کا یہ بے تکلفانہ انداز بہت اچھا لگا۔

”تشریف رکھیں۔“میں نے آم کے پیڑ کے نیچے بچھی کرسیوں کی جانب اشارہ کیا تو وہ ادھر چلی گئیں۔میں آرڈر دے کر ان کے پاس جا بیٹھا تو نعمانہ بولی۔

”آپ بیشتر وقت یہیں گزارتے ہیں۔۔آپ کو پڑھائی سے دلچسپی نہیں؟“

”دلچسپی ہے مگر کلاس میں دل نہیں لگتا۔۔۔یہاں وقت اچھا گزر جاتا ہے۔“میںنے مسکراتے ہوئے کہا۔

”پاس نہیں ہونا؟ “پہلی مرتبہ بجائے نعمانہ کے سلمیٰ مجھ سے یوں ہمکلام ہوئی تھی۔

”پتہ نہیں۔۔۔۔“میں نے جواباً کہا تو وہ ہنس دی اور بولی۔

”یہ کیا بات ہوئی ؟یہاں یا تو لوگ پڑھنے آ تے ہیں یا فقط انجوائے کرنے۔۔۔آپ کا شمار کن لوگوں میں ہوتاہے؟“

”یہ بھی پتہ نہیں۔۔۔یا یوں کہہ لیں دونوں ہی یا دونو ں ہی سے نہیں۔۔۔“

”بڑی مہمل گفتگو کرتے ہیں آپ۔“نعمانہ کہنے لگی۔

”ہو سکتا ہے ایسے ہی ہو۔۔۔مگر جب اور کرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو پھر جو کام کیا جائے ،میرا خیال ہے اس کی افادیت بندے کی نظر میںکم ہی ہو جاتی ہے۔ڈگری کا حصول میرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے، علم حاصل کرنا ہو تو وہ مل جاتاہے بس پیاس ہونی چاہیے۔“

”اب بھی آپ کی بات سمجھ میںنہیںآئی۔“سلمیٰ بولی تو میںنے جواباً کہا۔

”اگر یہ بات میں آپ سے کروں کہ آپ کلاس میں اتنی دلچسپی کیوں نہیں لیتی تو۔۔۔؟“

”جب حد سے زیادہ حبس بڑھ جائے تو کھلی فضائیں اچھی لگتیں ہیں،یہی بات ہے۔۔۔جو چیز پڑھنے کی ہوتی ہے ،ضرور پڑھتی ہوں۔“وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی اور پھر کہتی چلی گئی۔”اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں یا نعمانہ زیادہ لوگوں میں گھل مل کر نہیں رہتیں تو یہ کوئی اہم بات نہیںہے ،جو چیز اچھی لگتی ہے،اس کے حصول کی خواہش کرنی چاہیے ،نہ کہ بے فائدہ اور نقصان دہ چیزوں کی۔۔۔میر امطلب ہے کہ جب چغلیاں کی جائیں،دوسروں کو برا بھلا کہہ کر اپنے اندر کی غلاظت کو چھپایا جائے تو ان لفظوں سے بد بو آنا شروع ہو جاتی ہے۔گفتگو آلودہ ہو جاتی ہے۔پھر ایسا پسند کرنے والا ہی وہاں بیٹھنا پسند کرے گا،دوسرا نہیں۔۔۔“

”مگر بعض دفعہ حالات اور ماحول سے مفاہمت کرنا پڑتی ہے ،تب پھر ہم کیا کریں؟“ میں نے کہا۔

”وہ وقت تو تب آتاہے جب مجبوری ہوتی ہے اور مجھے کوئی مجبوری نہیں۔۔یہ ایک عام سی بات ہے کہ انسان نے جس چیز کا نیا نیا تجربہ کیا ہو یا پھر اس چیز کے حصول کے خواہش شدت سے ہو تب ہی اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ گفتگو کرے گا۔فیشن،کپڑے،دوسروں کی خامیوں پر نظر ،اپنی حیثیت سے زیادہ خود کو پیش کرنا،یہ باتیں میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اور میں اس پر گفتگو بھی نہیں کرتی سو بور ترین مانی جاتی ہوںلہذا ایسے لوگوں میں بیٹھنے کا فائدہ۔۔۔۔۔“سلمیٰ مزید کچھ کہتی لیکن نعمانہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔

”او خدا کی پناہ!۔۔۔یہ کیا فلسفہ زدہ باتیں لے بیٹھے ہیں آپ۔۔۔۔اور ساجد ! ابھی تک وہ بوتلیں۔۔“میں اٹھا اور پھر یاد دہانی کروانے چلا۔وہیںمجھے ایک پہچان کا لڑکا مل گیا۔اور میں اس سے باتیں کرنے لگا۔بیرا وہ چیزیں میز تک پہچا چکا تھا۔اس لڑکے کی بات لمبی ہو رہی تھی مگر وہ میرے انتظار میں میری طرف دیکھ رہی تھیں۔نعمانہ تو باقاعدہ ہاتھ یوں ہلا رہی تھی جیسے مکھیاں اڑا رہی ہو،بہر حال اس سے رخصت ہو کر میں جیسے ہی ان کے پاس پہنچا تب کھانے پینے کی ابتدا ہوئی۔

”یہ پیسٹری اچھی بنی ہے،خاصی مزیدار ہے۔“وہ نعمانہ کی طرف دیکھ کر بولی۔

”یہ اس لیے اچھی لگ رہی ہے کہ آپ لوگ پہلے بالکل ہی پھیکی گفتگو کر چکے ہیں۔“نعمانہ کے کہنے کا انداز اور لہجہ ایسا تھا کہ خواہ مخواہ ہی ہنسی آ گئی اور سلمیٰ کا یہ پہلا قہقہ تھا جو میں نے سنا۔ پھر یوں ہلکی پھلکی باتوں میں نجانے کتنا وقت بیت گیا۔میں نے اوپر راہداری میں دیکھا تو سب دوبارہ نئے پیریڈ کے لیے جا چکے تھی،کوئی بھی رہداری میں نہیں تھا اور کلاس روم کا دروازہ بند تھا۔۔۔جب ایک مزاج کے لوگ مل جائیں اور گفتگو میں کوئی اختلافی بات بھی زیر بحث نہ ہو تو پھر باتیں پھیل جاتی ہیں،سمٹائے نہیں سمٹتیں۔بہت ساری ان کہی باتیں نئے سوال چھوڑ جاتی ہیں اور اک تشنگی کا احساس رہ جا تا ہے۔اس وقت کچھ ایسے ہی محسوسات تھے جب دور سے میرے دوستوں نے اشارے سے گھڑی دکھائی او رمجھے احساس ہوا کہ اب ہاسٹل جانے والی بس آنے ہی والی ہے۔میں نے اس طرف توجہ دلائی تو وہ دونوں بھی چونک گئیں تب اگلے دن تک کے لیے ہم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔

٭٭٭

ٹور سے واپسی پر میں نے نعمانہ سے پوچھا کہ سلمٰی کیوں نہیں آئی تھی؟

”ہو سکتا ہے وہ ایسے ہنگامے پسند نہ کرتی ہو…. مجھے تو کہتی رہی تھی کہ وہ آئے گی۔“نعمانہ نے اپنی رائے دی۔ہم نے بھی اتنی اہمیت نہ دی اور نہ ہی کمی محسوس کی تھی،بڑا ہنگامہ خیز دن گزرا تھا۔

پھر ایک دن کوئی تقریب تھی،کوئی انتظام میں لگا تھا اور کوئی اپنے اپنے تعلق کے دوستوں میں بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔آج ڈیپارٹمنٹ میں اک ہلچل سی تھی۔میں ایک میگزین اٹھا کر راہداری میں آبیٹھا تا کہ جب تک تقریب کا آغاز نہیں ہو جاتا وہیں بیٹھ کر ذرا اس میگزین کو سرسری نظر سے دیکھ لوں۔وہ میگزین تو کیا دیکھنا تھا،اردگرد دوست احباب جمع ہونا شروع ہو گئے اور پھر باتیں چلتی گئیں۔کوئی دوست بڑی اہم بات کر رہا تھا کہ یکدم سلمٰی کی آواز میرے کان پڑی۔

”ساجد!اگر آپ کے پاس وقت ہو تو پلیز ،میری بات سنئے گا۔“میں اس کی بات سننا چاہتا تھا مگر میں دوستوں کو یوں چھوڑ کر بھی نہیں جا سکتا تھا لہذا یہ کہہ کر دوست کی جانب متوجہ ہو گیا کہ میں آتا ہوں لیکن اب وہاں ماحول ہی نہ رہا تھا۔ہر چہرہ سوالیہ نشان بن گیا۔اس اعتماد سے اس نے بلایا تھا اور غالباً یہ پہلی دفعہ اس طرح بڑھ کر اس نے کسی کو پکارا تھا۔

”جاﺅ۔۔۔۔سن لو،کیا کہتی ہے؟“ایک دوست نے کہا تو میں اٹھ گیا۔وہ ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اتر کر سامنے لان کے پاس کھڑی تھی۔

”جی فرمائےے۔۔۔؟“

”یہ نعمانہ کی فائل اور کتابیں ہیں پلیز ،اسے دے دیجئے گا۔۔میں گھر جا رہی ہوں۔“اس نے فائل اور کتابیں میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو میں نے پوچھا۔

”وہ کہاں چلی گئی اور آپ ابھی سے کیوں گھر جا رہی ہیں؟“وہ میری طرف دیکھنے لگی پھر لمحہ بھر بعد بولی۔

”اسے ہاسٹل گئے کافی دیر ہو گئی ہے،ابھی تک واپس نہیں آئی۔۔۔گھر اس لیے جا رہی ہوں کہ پڑھائی تو ہو نہیں رہی،اکیلی بور ہو رہی ہوں۔“

”بھئی یہ تقریب بھی تو پڑھائی کا ایک حصہ ہے اور آپ اس میں ضرور شریک ہوں گی۔۔جب تک نعمانہ نہیں آتی میںآپ کے پاس بیٹھتا ہوں۔“پھر میں اس کے پاس بیٹھا بہت دیر تک باتیں کرتا رہا۔تقریب شروع ہو گئی تھی،نعمانہ تب بھی نہ آئی تو میں نے کیا۔

”آئیں ،تقریب میں چلتے ہیں۔۔ہو سکتا ہے نعمانہ سیدھی وہیں چلی گئی ہو۔“

ہم دونوں ہال تک گئے ،جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے بہت ساری نظریں ہماری جانب اٹھ گئیں۔۔۔نعمانہ وہیں تھی،وہ اس کے پاس جا بیٹھی اور مجھے سب سے پیچھے سیٹ ملی۔اس دن میںنے ارادہ کر لیا کہ شیلف میں رکھی اس کتاب کو اب پڑھ لینا چاہیے۔

٭٭٭

معمول کے مطابق میس سے باہر آ کر میرے روم میٹ اور ہاسٹل کے دوستوں نے گھیر لیا۔سب لوگوں کا اجتماعی سوال یہ تھا کہ وہ تو کسی سے بات نہیںکرتی ،تمہارے ساتھ اتنا تعلق کس طرح بن گیا؟۔۔۔اس سوال کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں تھا،میں کیا کہتا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ ہمارے درمیان جو تعلق تھا اس کا کوئی نام بھی نہیں تھا۔میں نے بس یہی کہہ دیا کہ وہ میری بہت اچھی کلاس فیلو ہے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

شام ڈھلے میں اپنے کمرے پڑا”راجہ گدھ“پڑھ رہا تھاکہ میرا ایک کلاس فیلو جس سے میرا بڑا اچھا تعلق تھا،آگیا ۔بہت دیر ادھر ادھر کی گپ شپ کے بعد بولا۔

”آج کل سلمٰی کے ساتھ لمبی ملاقاتیں ہیں۔۔کیسی ہے وہ لڑکی۔۔۔“

”میں نے تو اسے اچھا پایا ہے۔۔آپ مل کر دیکھ لیں۔“

”یہی تو بات ہے یار! میں اس سے مل نہیں سکتا۔“

”وہ کیوں؟“ میں نے حیرت سے کہا۔

”یہ میں بعد میں بتاﺅں گا،پہلے تم یہ بتاﺅ کہ تم اس سے کیسا تعلق محسوس کرتے ہو؟“ اس نے پوچھا۔میں نے وضاحت کی تو اس کے چہرے پر اطمینان سا پھیل گیا اور کہنے لگا۔

”پتہ نہیں کیوں وہ ہمارے پاس بیٹھنا تو کجا،ہم سے بات بھی نہیں کرتی۔“

اتنا کہہ کر اس نے موضوع بدل لیا اور میں سوچنے لگا کہ ضروری نہیں آدمی کا ملنے جلنے یا تعلق ہو جانے کے بعد پتہ چلے بلکہ اس سے بھی پہلے دیکھنے کے انداز میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے یہ پتہ لگ جاتاہے کہ یہ انسان کیا چاہتا ہے۔اور وہ نظریں مثبت انداز کی ہیں یا منفی سوچ کی غماز ہیں،پھر اسی تاثر کی بنیاد پر ہی تعلق کی عمارت استوار ہوتی ہے۔

٭٭٭

میں کلاس روم سے باہر راہداری میں کھڑا نیچے لڑکے لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا،مقصد صرف وقت گزاری تھا۔تب ہی وہ میرے قریب آ گئی۔میں نے اس کی آمد محسوس تو کر لی لیکن بولا کچھ نہیں۔وہ شاید اس خاص چہرے کی تلاش میں تھی جیسے میں دیکھ رہا تھا،مایوس ہو کر اس نے مجھ سے پوچھا۔

”کیا دیکھ رہے ہیں آپ؟“

”چہرے۔۔۔“میں نے آہستہ سے کہا۔

”چہروں میں کیا ہوتاہے؟“ اس نے بات بڑھائی۔

”بہت کچھ۔۔۔۔چہرے سے کوئی بھی انسان عاری نہیں،چہرہ اس کا اپنا ہوتا ہے اور اجتماعی بھی۔۔۔ناک،آنکھیں،ہونٹ،چہرے کی بناوٹ میں وہ عام انسانوں کی مانند ہوتاہے لیکن دنیا بھر میں وہ ایک ہی ہوتا ہے اور وضع کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے،اس سے ہی پتہ چلتاہے کہ وہ خود کو کس قسم کا بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے۔۔چہرہ انسان کاتعارف ہے۔خاص علاقے کی نمائندگی کرتاہے۔“ میں نے کہا۔

”میں بہت سارے ایسے چہرے بتا سکتی ہوںجو دیکھنے میں بڑھے معصوم او ر پیارے لگتے ہیں مگر ایسا چہرہ رکھنے والے لوگ اور ہی طرح کے ہوتے ہیں۔۔خیر چھوڑیں ان باتوں کو،یہ بتائیں کہ گرم گرم چائے کے ساتھ پکوڑے کھانا کیسا لگے گا؟“

”اس وقت جب کہ آپ کا ساتھ ہو،بہت اچھا۔۔۔“

”تو پھر میرا خیال ہے کینٹین تک چلا جائے۔“اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

٭٭٭

دو تین دن ہو گئے ،نعمانہ نہ آئی۔میںنے سلمٰی سے پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آ رہی تو اس نے لا علمی کا اظہار کیا۔ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد وہ آئی تو خاصی بدلی ہوئی تھی۔ہلکے ہلکے میک اپ کے ساتھ خاصا زیور پہنا ہوا تھا۔وہ اس وقت بس کے انتظار میں پختہ روش پر بیٹھی ہوئیں تھیں کہ میں قریب سے گزرا اور نعمانہ نے پکارا تو میں ان کے پاس چلا گیا۔

”پہلے تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ اتنے دنوں کہاں غائب رہیں؟“ میںنے جاتے ہی سوال کیا۔

”آپ ٹھہرے غافل۔۔اردگرد کی خبر آپ نے لینی نہ ہوتی۔آپ کو کیسے پتہ چلے کہ میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ارے بھئی میری منگنی ہو گئی ہے۔۔کمال ہے صبح سے یہ سونے کی چوڑیاں کھنکھنا رہی ہوں اور آپ نے پوچھنا کیا ،سنا تک نہیں۔۔“ اس نے خوشگوار لہجے میں جواب دیا۔

”منگنی مبارک ! ۔۔کیا محسوس کر رہی ہیں آپ؟“

”بہت اچھا۔۔۔اک تحفظ کا احساس ہے۔مزید اعتماد آ گیا ہے۔“اس نے دھیرے سے کہا تو سلمٰی بولی۔

”ہمیں کون سا تحفظ نہیں ہے یا ہم میں اعتماد نہیں ہے؟“

”سلمٰی ! آپ کی منگنی ہو گئی؟“میں نے اچانک پوچھا۔

”نہیں۔۔“

”ہو جائے گی،یوں منہ بسورنے سے فائدہ۔۔؟“میں نے کہا تو ایک دم قہقہ لگا اور قریب کھڑے لوگ ہماری طرف متوجہ ہو گئے تب سلمٰی نے کہا۔

”جب تک بس نہیں آتی آپ ہمارے پاس بیٹھیں۔۔“

”میں کھڑا ہوں آپ کے پاس۔۔۔۔“

”نہیں۔۔ادھر آ کر ہمارے پاس بیٹھیں۔“میں نے انکار کیا تو وہ ضد پر اتر آئی۔

”بھئی اتنے سارے لوگ کیا کہیں گے کہ میں آپ لوگوں کے پاس بیٹھا ہوں۔۔۔“

”دیکھتے رہیں لوگ ہمیں ان کا ڈر ہے ۔“تب اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔

بس وہی دن غضب کا تھا۔بہت سارے لوگوں کو ہمارا یوں بیٹھنا اچھا نہ لگا۔میں تین اطراف سے گھر گیا۔ان میں میرے ہاسٹل کے دوست تھے۔انہی دوستوں میں ایک میراروم میٹ عابد تھا۔اسے بڑا تجسس تھا کہ میں سلمٰی سے کیا باتیں کرتا ہوں،میرا اس سے کیسا تعلق ہے ؟ دوسرا اسرار تھا جو ہاسٹل کا نہیں بلکہ اسی شہر کار ہنے والا تھا،وہ اکثر مجھ سے سلمٰی کے بارے میں باتیں کرتا رہتا تھا۔وہ مجھے کریدتا رہتا کہ آخر میراسلمٰی سے کیا تعلق ہے؟پھر ایک دن وہ بھی کھل گیا کہ وہ اس سے محبت کرتاہے جبکہ مجھے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ بھنورا قسم کا لڑکا ہے۔تیسرا کاظمی تھا اسی شہر کا ایک اور لڑکا جواتنا امیر نہیں تھا لیکن وہ جو کچھ تھا اس سے بڑھ کے خود کو پیش کرتا تھا۔روزانہ گاڑی پر آنا اس کا معمول تھا۔اسے بھی سلمٰی کی آنکھیں بہت اچھی لگتی تھیں۔یہ سب اس کے قرب کے خواہاں تھے۔پھر بہت سارے ایسے واقعات ہوئے جس سے کلاس میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں، وہ دوسروں کی خامیوں کی ٹوہ میں رہنے والے لوگوں کو اک نئے موضوع پر بات کرنے کا موقعہ مل گیا۔میں نے اندازہ لگا یا کہ جیسے میں ان لوگوں کے درمیان حائل ایک رکاوٹ ہوں۔اس بات کا انہوں نے کئی بار مجھے احساس بھی دلایا تو میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ مجھے ان کے درمیان دیوار نہیں بننا چاہئے۔سلمٰی بذات خود سمجھدار ہے۔وہ اچھا برا اپنا خود سمجھتی ہے اور پھر میرا اس پر کیا حق ہے جو میں جتاﺅں یا اس پر کوئی پابندی لگاﺅں؟سلمٰی اگر قدم آگے نہیں بڑھائے گی تو وہ مایوس ہو جائیں گے لیکن اگر وہ قدم آگے بڑھاتی ہے تو پھر یہ سلمٰی پر منحصر ہے۔یہ اس کا حق ہے کہ وہ جس سے چاہے تعلق رکھے۔لوگوں نے تو یہی سمجھنا تھا کہ شاید میرا اس سے کوئی خاص تعلق ہے اس لیے پابندیاں لگائی ہوئیں ہیں۔سو میں یہی سوچ کر اس سے اپنا تعلق کم کرنے لگا۔۔۔شاید میں بہت بزدل تھا کیونکہ میں لوگوں کی نفرت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔کسی آنکھ میں میرے لیے حقارت یا طنز ہو اس سے بڑا اور سانحہ میرے لیے کوئی نہیں ہے۔اب اگر سلمٰی سے ملتا بھی تو عابد میرے ہمراہ ہوتا، میں اسے بٹھا کر خود غائب ہو جاتا۔وہ کیا باتیں کرتا ہے یا سلمٰی اس سے کیا کہتی ہے،میں نے کبھی یہ پوچھاہی نہیں تھا اور مجھے اب ضرورت بھی نہیں تھی۔وہ مجھے اس کے بارے میں بہت ساری باتیں کہتا رہتاجنہیں میں سن کر بھی ٹال جایا کرتا ۔یوں میں اس سے دور ہوتا چلا گیا اور جو لوگ اس میں دلچسپی رکھتے تھے اب اس کے نزدیک ہونے لگے لیکن وہ میرا اب احترام کرنے لگی تھی۔جب کبھی موقع ملتا اور میں اکیلا ہوتا تو سیدھی میرے پاس آ جاتی اور وہ باتیں بتانے لگتی جو دوسرے لوگ میرے بارے اسے کہتے رہتے تھے۔پھر نعمانہ نے بھی آنا کم کر دیا، اس کی کوئی گھریلومجبوریاں تھیں۔ وہ اکیلی ہوگئی لیکن اس کی طرف بڑھنے والے قدم میں دیکھ رہا تھا،وہ اگرا سے صرف اپنے لیے ملتے تو ٹھیک تھا،میں بھی اتنی اہمیت نہیں دے رہا تھالیکن وہ لوگ میری خامیاں اور میرے بارے میں عجیب و غیرب قسم کی باتیں کرنے لگے،جس کا مجھے بہت دکھ ہوا۔یہ بندے کا اپنا ظرف ہوتا ہے ،یہ سوچ کر میںنے اہمیت ہی نہ دی۔اس معاملے میں عابد ذرا بھی پیچھے نہیں تھا۔وہ اسے میرا دوست سمجھتی اور اس کا یہ سمجھنا بھی ٹھیک ہی تھا کیونکہ میرے ساتھ رہتا تھا۔

٭٭٭

دن گزرتے گئے اور وہ دن آ گیا جب پہلا سال گزر گیا اور اگلے دن ہم نے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جانا تھا۔دوستوں نے اس آخری ملاقات کو یادگار بنانے کے لیے شہر کے ہوٹل میں ایک پارٹی کا اہتمام کر ڈالا۔۔۔جیسے کسی نے کہا ہے کہ دس بندوں میں سے نوماننے والوں کی اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنا ایک نہ ماننے والے کا دکھ ہوتاہے۔بالکل اسی طرح اور لوگ میرے بارے اپنے ظرف کے مطابق باتیں کرتے رہتے لیکن دو دن قبل سلمٰی نے ایک ایسی بات مجھ سے منسوب کر دی جس کا مجھے بہت دکھ ہوا۔اس پارٹی میں سلمٰی بھی آئی۔میں اکیلا کھڑا سارے انتظامات کو دیکھ رہا تھا کہ وہ میرے قریب آگئی۔

”بڑے مصروف ہیں آپ۔۔۔“میںنے کوئی جواب نہ دیا جیسے سنا ہی نہ ہو۔

”میں آپ سے مخاطب ہوں۔“لہجے میں خاصا غصہ بھرا ہوا تھا۔

”مجھ سے کچھ کہا؟“ میں نے انجان بنتے ہوئے کہا۔

”شکر ہے آپ نے سن لیا۔۔کہاں رہتے ہیں آج کل آپ؟“

”یہیں۔۔۔“میں نے انتہائی مختصر جواب دیا تووہ گلہ کرنے لگی کہ میں اس سے بات کیوں نہیں کرتا؟ اب میں اس سے عشق تو فرما نہیں رہا تھا کی اس سے گلے شکوے کرتا یا اپنی صفائیاں پیش کرتا،بس ادھر ادھر کی باتوں میں ٹال دیا وہ مطمئن نہ ہوئی۔

”ضرور کوئی بات ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں۔“

”بھئی مجھے بات چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔آپ میری بہت اچھی کلاس فیلو ہیں،اچھی دوست ہیں اگر آپ سمجھیں ۔ میں آپ کی عزت کرتا ہوںاورکرتا رہوں گا ۔اس سے زیادہ آپ کے کسی سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔۔ہاں،اگر آپ کا کوئی مسئلہ ہو تو میں حاضر ہوں۔“یہ کہہ کر میں چنلمحے اس کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ خاموش رہی جیسے سوچ رہی ہو۔ کوئی جواب نہ پا کر میں یونہی ایک طرف بڑھ گیا۔

اگلے دن ہم اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔میری حالت یہی تھی کہ کتابیں خرید کر رکھ دیں اور انہیں پڑھنا کسی اور وقت پر اٹھا رکھا،بس صبح ہوتے ہی گھر سے نکلتا اور پھر دوست ہوتے اور شہرکے حالات۔۔ انہیں دنوں سلمٰی کا خط آ گیاجس میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کن کتابوں سے امتحان کی تیاری کرے؟ اب میں اسے کیا بتاتا ،بس جو کتابیں خرید لی تھیں ان کے بارے لکھ دیا۔تب ہی مجھے بھی احساس ہوا کہ اب پڑھنا چاہے۔ لہذا میں نے پڑھائی شروع کر دی۔اس سے خط کتابت جاری رہی سوائے پڑھائی کے اور کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔پھر جس دن میں نے یونیورسٹی جانا تھا۔ اس رات گھر سے سلمٰی کو فون کیا کہ میں صبح پہنچ رہا ہوں۔مجھ سے ہاسٹل میں رابطہ کر لیں۔

٭٭٭

جب بندہ انتہائی بوریت محسوس کر رہاہو تو پھر بے وقوفیاں بھی اچھی لگتی ہیں،ایسی حماقت زندگی کا احساس دیتی ہے جس میں تھوڑی خوشی کے ساتھ وقت گزاری ہو۔اس دن بھی ایسا ہی ہواتھا،میں کوئی شرط ہار گیا جس پر مجھے مٹھائی کھلانا پڑی۔میں اپنے دوست تنویر کے ساتھ مٹھائی لے کر آ رہا تھا کہ کاظمی نے پیچھے سے آ کر کار ہمارے پاس روک دی۔ہم بیٹھے اورہاسٹل آ گئے۔وہ گاڑی لاک کرنے لگا۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تنویر نے کہا۔

“آج کاظمی سے تھوڑا مذاق کرتے ہیں۔تم چپ رہنا۔“مجھے احساس نہیں تھا کہ وہ کیسا مذاق کرے گا۔مٹھائی کھانے کے دواران کاظمی نے پوچھ لیا کہ یہ کس خوشی میں ہے؟تنویر فوراً بولا۔

”بس کسی کا کسی کو فون آیا ہے۔۔۔“

”کس کا ، کس کو۔۔۔۔؟“کاظمی نے پوچھا تو تنویر نے میری طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا۔

”اسے کیا گیا ہے۔۔باقی رہی بات کہ کس کا؟ تو میں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ آج کل آپ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے چکر میں ہیں ۔“اس نے بات اگرچہ اشارتاً کہی تھی اس طرح کہ فوراً وہ سمجھ جائے۔میں نے دیکھا،کاظمی کو یکدم ہی پسینہ آ گیا اس شدت سے کہ میں حیران رہ گیا۔وہ اٹھا اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔وہاں بیٹھے سارے دوست اس کی اس حالت پر دم بخود رہ گئے۔اسی رات کا پچھلا پہر تھا کہ تنویر نے آ کر مجھے جگا دیا۔

”منہ ہاتھ دھو کر ذرا لان میں آﺅ،میں نے تم سے بات کرنی ہے۔“میں لان میں پہنچا تو وہ سگریٹ پھونک رہا تھا۔

”بتاﺅ،کیا بات ہے؟“میری آواز نیند سے بوجھل تھی۔

”یار !آج جو کچھ ہوا میں اس پر بہت پریشان ہوں۔۔کاظمی تمہارا مخالف ہو جائے گا۔“

”پھر کون سی قیامت آ جائے گی؟“

”میرے بھونڈے مذاق سے ہو سکتا ہے کہ سلمٰی بھی تم سے متنفر ہو جائے۔۔۔“وہ واقعی پریشان تھا۔

”ہوتی ہے تو ہو جائے۔۔تمہیں پریشان نہیں ہونا چاہئے۔“

”تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے تمہارا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔۔۔“وہ جھنجھلا ساگیا۔

”ایک اچھی کلاس فیلو سے زیادہ وہ میرے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔۔۔“میں نے جواب دیا۔

”یار!مجھ سے تو جھوٹ مت بولو،کیا کچھ نہیں کرتے تم اس کے لیے؟۔۔۔کوئی بندہ اس کے خلاف بات نہیں کر سکتا،دوسری لڑکیوں کی طرح وہ محفلوں کا موضوع نہیں ہے،دور رہ کر اس کے تعلیمی مسائل حل کرتے ہو اور وہ تمہارے بارے میں معلومات لیتی پھر رہی ہے۔۔یہ سب کیا ہے؟“

”ہاں تنویر! یہی تعلق ہو سکتا ہے جب کوئی کسی اٹوٹ بندھن میں بندھ جائے لیکن میر اکوئی ایسا ارادہ نہیں ہے۔اور میرا خیال ہے اس کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔میں تو بس اس کتاب کے حوالے سے انسانی فطرت کا مطالعہ کر رہا ہوں۔نفرت ،منافقت ،محبت ،اعتماد اور خود غرضی جیسے جذبے کی گہرائیاں معلوم کر رہا ہوںاور پھر کوئی تعلق نہ بھی ہو تو کسی کے لیے کچھ کیا جائے ،اس سے بڑھ کر میرے خیال میں اور کوئی خوشی نہیں ہے۔۔تمہارا کیا خیال ہے؟“ہم بہت دیر تک باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ صبح کے آثار نمو دار ہو گئے۔

اسی دوپہر میں اپنے کمرے میں پڑا نوٹس دیکھ رہا تھا کہ ہوسٹل کے ایک لڑکے نے مجھے بتایا کہ آپ کا فون ہے۔

”ہیلو ۔۔۔میں سلمٰی بات کر رہی ہوں۔“اس کی آواز کی شوخی اور لہجہ انتہائی نرم تھا جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ غصے کے آثار کہیں نہیں ہیں۔

”فرمائیں ،کیسے یاد کیا ہمیں؟“

”یونہی بس ایک بات کنفرم کرنا تھی۔۔“اس نے کہا تو مجھے یقین ہو گیا کہ لازمی اب یہ مجھ سے کل کے واقعہ کے بارے میں پوچھے گی۔میں ذہنی طور پر تیار ہو گیا۔

”پوچھیں۔۔۔“میں نے کہا تو وہ نصابی باتیں کرنے لگی اور میں نے اطمینان کا سانس لیا۔مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ اسے کوئی بات نہیں پہنچی تب میں نے اپنی طرف سے کوئی بات کرنا مناسب نہ سمجھی۔پھر یونہی اوٹ پٹانگ باتیں کرتی رہی ۔صرف اس کی وجہ سے کہ میرالہجہ خوشگوار اور موڈ اچھا تھا کافی دیر بعد ہو کہنے لگی۔

”اچھا۔۔جلدی بات ختم کریں،میں نے ہنڈیا چولہے پر رکھی ہوئی ہے اور کچن سے بول رہی ہوں۔۔“

”بات میں نے شروع نہیں کی بلکہ آپ نے فون کیا ہے،آپ فون بند کر دیں۔۔ویسے کیا پکا رہی ہیں آپ؟“

”چنے پکار ہی ہوں۔۔۔“اس نے بتایا۔

”ارے ۔۔۔یہ تو ایک خاص جانور کی خوراک ہے آپ کا کہیں ریس لگانے کا ارادہ تو نہیں ہے؟“تبھی ایک بھر پور قہقہ سنائی دیا پھر وہ ہنستے ہوئے بولی۔

”کل آپ پیپر کے بعد مجھے ملیں۔“

”آپ تک پہنچنے میں مجھے کم از کم آدھا گھنٹہ لگے گا۔۔۔انتظار کر لیں گی آپ؟“

”یہی تو مصیبت ہے ،آپ لڑکے اور ہم لڑکیاں علیحدہ علیحدہ امتحان دے رہے ہیں۔۔۔خیر،میںمہرین وغیرہ کے پاس ہاسٹل میں انتظار کر لوں گی۔“

پھر اگلے دن باوجود کوشش کے میں نہ جا سکا۔لاہور سے میرا انتہائی قریبی دوست آ گیا جیسے میں چھوڑ نہیں سکتا تھا۔میں نے فون کر کے بتانا چاہا تو وہ وہاں سے جا چکی تھی۔

٭٭٭

اس روز شام کے وقت ہم سب دوست بیٹھے چائے پی رہے تھی کہ عابد نے اچانک کہا۔

”بھئی ،ساجد کے لیے اہم پیغام!۔۔۔توجہ فرمائیں۔۔۔ان کا یہ پیغام ہے کہ ساجد مجھ سے بچ کر رہے ورنہ گولی مار دی جائے گی۔“میں دھیرے سے مسکرادیا اور یہی سمجھا کہ میں نہیں گیا اس لئے ناراض ہے مگر تنویر کے پوچھنے پر اس نے کہا۔

”آج میں گرلز ہوسٹل گیا تھا،وہاں مجھے مہرین نے سلمٰی کا پیغام دیاہے کہ ساجد نے جو باتیں کی ہیں وہ انتہائی گھٹیا اور کمینی حرکت ہے ۔میں اسے گولی مار دوں گی اب اگر اس نے ملنے کی کوشش کی۔۔۔“اس نے تو اپنی بات کہہ دی مگر دوست میرا مذاق اڑانے لگے،اک شور سا مچ گیا۔ایک تو لہک لہک کے گانے لگا ۔

”’ٹٹ گئی تڑک کر کے۔۔۔“

میں یہ چاہتا تھا کہ اپنی طرف سے کوئی بات نہ کروں تا وقتیکہ سلمٰی مجھ سے خود بات نہ کرے لیکن تنویر بضد تھا کہ مجھے اس سے بات کر لینی چاہیے، اور اگر میں نے بات نہ کی تو وہ خود کر لے گا ،ہو سکتا تھا کہ تنویر کے بات کر لینے پر بات ہاتھ سے نکل جاتی اور میں کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتا تھا کہ میرے دوست اسے ڈیپارٹمنٹ میں مذاق بنا کر رکھ دیں۔جس طرح ایک اور لڑکی نے بد تمیزی کی تھی اور وہ مذاق کا نشانہ بن گئی تھی ۔ وہ مہرین ہی تھی اور آج اس نے بدلہ لے لیا تھا۔میں اس وقت کال آفس گیا۔عابد خواہ مخواہ ہی میرے ساتھ نتھی ہو گیا۔میں نے بھی اسے نہ روکا۔رابطہ ملتے ہی اس کی آواز آئی۔

”ہیلو۔۔۔“

”میں ساجد بات کر رہا ہوں۔“

”کیوں فون کیا آپ نے؟۔۔۔۔میں آپ سے بات نہیں کروں گی۔آ ج میری کلاس فیلوز نے صرف آپ کی وجہ سے بہت ذلیل کیا۔“ اس کی آواز میں کرب تھا۔

”کیوں؟“ میں نے دھیرے سے کہا۔

”انہیں آج ہی تو موقعہ ملا تھا اور پھر آپ کے نہ آنے سے مجھے یقین ہو گیا۔۔“

”سوری۔۔“

”آپ صرف سوری کہہ کر بات ختم کر نا چاہتے ہیں ؟۔۔۔میں نہیں سمجھتی تھی کہ آپ اندر سے اتنے گندے ہوں گے۔“وہ بہت زیادہ جذباتی ہو گئی اور وہاں میں جتنی مرضی چاہے صفائیاں دیتا رہتا ۔اس نے کسی پر کان نہیں دھرنا تھا۔پبلک کال آفس میں کچھ لوگ کھڑے تھے اور پھر عابد کی موجودگی نے بھی مجھے انتہائی ڈسٹرب کر دیا تھا۔۔۔۔میں نے جو سوچا تھا وہ نہیں ہوا تھا۔سلمٰی کو مجھ پر اعتماد کرنا چاہیے تھا اسے مجھ سے اصل بات پوچھنا چاہئے تھی تب میں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔

”سوری۔۔۔رانگ نمبر۔“

”آئندہ کبھی مجھ سے بات مت کیجئے گا۔“سلمٰی نے انتہائی غصے سے کہا تو میں نے فون رکھ دیا۔پیسے دے کر میں باہر نکلا تو عابد نے پوچھا۔

”کس نے اٹھایا تھا فون؟“

”اس کا باپ تھا۔۔۔سلمٰی نہیں ملی۔“میں نے اس سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔اب مجھے اس پر اعتماد نہیں رہا تھا۔

تعلق کی بنیاد ہمیشہ اعتماد رہا ہے۔کہیں پر بھی دراڑپڑ جائے تو محبت ،پیار اور خلوص کی عمارت کھڑی کرنا بے وقوفی ہے۔مجھے یقین تھا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی اور سلمٰی کے لیے پر خلوص ہوں اور اگر حالات نے اور اردگر کے لوگوں نے اسے مجھ سے متنفر کردیا ہے تواس میں میرا کیا قصور؟۔۔اس کا اعتماد تو اس وقت ہی نہ رہا تھا جب اس نے بات سنی تھی اور مجھ سے کنفرم کئے بغیر یقین کر لیا۔رات تک مجھے معلوم ہو گیا کہ کاظمی نے سلمٰی کو فون کرکے ساری بات کہہ دی تھی اوریقینی بات ہے کہ اس نے یہ سارا واقعہ اپنے انداز میں کہا ہو گا اور عابد نے گرلز ہاسٹل میں سب لڑکیوں کے سامنے اپنے انداز میں بات کہہ دی۔اس کا غصہ ٹھیک تھا،کوئی اور اس کے بارے میں غلط بات کہتا تو اسے اتنا دکھ نہ ہوتا،اس کے دکھ کی انتہا اس لیے تھی کہ اس معاملے میں اس کے تئیں میرانام آتا تھا۔میں بہرحال ساری رات سوچتا رہا ،ایک پل آنکھ نہ لگی۔ میرے اوراس کے درمیان تعلق کی بنیاد کیا تھی اور میں اس کے بارے کس انداز میں سوچتا رہا ہون مگرکیا ہوا کہ وہ ناراض ہو گئی۔۔۔دکھ کی اک لہر تھی جو بے چین کئے دے رہی تھی۔بہت سارے لوگوں کی محبت ہونے کے باوجود ایک شخص اگر ناراض ہو جائے تو ہونے والا دکھ پیمانہ بن جاتاہے۔ جس قدر دکھ زیادہ ہو گا،اتنا ہی وہ شخص اس کے نزدیک معتبر ہوتاہے۔

اگلے دن میں نوٹس پھیلائے بظاہر پڑھ رہا تھا لیکن خیالات کہیں اورتھے۔چپڑاسی نے آ کر بتایا کہ وارڈن آفس میں آپ کا فون ہے۔میں گیا تو سلمٰی کا فون تھا۔

”آپ کل کیا کہنا چاہتے تھے۔“اس کے لہجے میں شرمندگی میں نے واضح طور پر محسوس کی۔

”بس یہی کہ موسم کیسا ہے۔۔۔؟“ میں نے بے تکی سی بات کہی۔

”نہیں پلیز!مجھے بتائیں۔۔لیکن اگر آپ ناراض ہیں ۔نہیں بتانا چاہتے تو میرا کوئی زور نہیں۔“

”کوئی بھی ایسی بات نہیں تھی۔“

”ساجد!اگر آپ نے کوئی ایسی ویسی بات کی بھی ہے تو میں آپ کو معاف کرتی ہوں۔“تو گویا اس کو یقین تھا کہ میں نے غلط بات کہی ہے بجائے اس نے وہ اب بھی کنفرم کرے کہ میں نے یہ بات کی ہے کہ نہیں ؟وہ مجھے معاف کر رہی تھی۔۔اچانک غصے کا دھواں دماغ میں بھر گیا۔میں نے زور سے ”شٹ اپ“ کہہ کر فون رکھ دیا اور سلگتے دماغ کے ساتھ اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔شام تک میں نارمل ہو گیا۔میںنے سوچ لیا تھا کہ اب یہ بات ماضی کی ہے کہ میرا سلمٰی سے کوئی تعلق تھا۔

٭٭٭

امتحان ختم ہوئے اور ہم اپنے گھروں کو لوٹ آئے تب سلمٰی کا ایک طویل ترین خط مجھے ملا جس میں اس نے معذرت کی اور نہ ہی تجدید تعلق کیا بلکہ اس خط میں لکھی گئی باتوں سے یہ عیاں ہوتا تھا کہ جیسے درمیانی عہدگم گشتہ باب ہو،جیسے کسی کتاب کی جلد بندی کرتے وقت کسی اور کتاب کا اضافی باب غلطی سے لگ گیا ہو اورجس کا کتاب سے کوئی تعلق نہ ہو۔میں نے اس خط کا جواب نہیں دیا تو کچھ عرصہ بعد پھر خط آ گیا۔ اس کا بھی جواب نہیں دیا۔یوں چھٹیاں بھی گزر گئیں۔انہی دنوں بڑے بھائی نے کہا کہ کام مزید پھیل گیا ہے ،تھوڑا عرصہ ان کے کام کی دیکھ بھال کروں۔میں روزانہ سائٹ پر جانے لگا۔تین ماہ مزید گزر گئے۔ اس دوران میں دو تین مرتبہ یونیورسٹی کا چکر لگا آیا تھا۔ایک دن میں سائٹ سے واپس آیا تو گھر والوں نے کسی لڑکی کے فون آنے کا بتایا۔ پھر رات گئے سلمٰی کا فون آ گیا۔

”آپ اب تک ناراض ہیں؟“وہ پوچھ رہی تھی۔

”نہیں تو۔۔“

”آپ نے میرے خطوں کا جواب نہیں دیا اور یہاں آتے بھی ہیں تو مجھ سے بات نہیں کرتے۔“

”میں آپ سے کیا بات کروں؟۔۔وہ موسم اب بیت گیا ہے۔۔“میں نے کہا۔

”موسم پھر بھی آسکتا ہے۔یہ تبدیلی فطری ہوتی ہے۔“اس نے جواباً کہا تو میں نے بات کو اور طرف موڑ دیا۔

”کوئی کام تھا آپ کو مجھ سے۔۔۔۔؟“

”نہیں تو۔۔۔بس آپ۔۔۔“اس نے اتنا ہی کہا تو میں نے بات کاٹ کر فوراً کہا ”خدا حافظ“ اور ریسور کریڈل پر رکھ دیا۔

٭٭٭

ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جب نام خارج ہونے کا نوٹس آیا تو میں نے یونیورسٹی کا رخ کیا۔ سو دوبارہ کلاسیں لینے لگا۔میں نے کبھی نہیں چاہا کہ سلمٰی سے بات ہو جائے بلکہ یہ کوشش کرتا تھا کہ وہ جہاں ہو اس طرف نہ ہی جاﺅں۔چند دن اسی طرح گذر گئے ،قریبی لوگوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ اب واقعتا ان کے درمیان گہری ناراضگی ہے تب کاظمی نے پر نکال لیے۔اسرار جو عشق سے دستبردار ہو چکا تھا پھر سے اس کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔لوگ اس کے متعلق یونہی فضول قسم کی باتیں کرنے لگے، اس کی بے باکی کو بے حیائی سے تعبیر کرنے لگے اور اس دن میں حیران رہ گیا جب عابد نے بھی اپنے عشق کا اظہار کر دیا۔

کچھ عرصہ بعد تنویر کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے ساری بات جا کر سلمٰی کو بتا دی تو وہ بہت شرمندہ ہوئی۔پھر اسی دن راہداری میں جاتے ہوئے سلمٰی نے مجھے روک لیا۔۔۔پھریوں ہو ا کہ میرا اس سے تعلق تو رہا لیکن لوگوں کے سامنے نہیں،ٹیلی فون اور خط کے ذریعے سلسلہ رہا۔میں نے جیسا کہا اس نے ویسا کیا۔اسرار کو ساری کلاس کے سامنے جھاڑ دیا،کاظمی نے صورت حال سمجھی اور وہ پیچھے ہٹ گیا اور عابد کو اس نے بھائی بنا لیا۔اس نے عابد کو ایک نوکر کی حیثیت دے دی،ایک معمولی پنسل بھی اگر لانی ہو تو وہ ”عابد بھائی“ لا کر دے رہا ہے۔میں اور سلمٰی بیٹھے ہیں تو چائے کا آرڈر”عابد بھائی“ دینے جا رہے ہیں۔تب کلاس فیلوز نے بھی اس کو ذلیل کرنا شروع کر دیا،اسے اس طرح کے فقروں سے نوازتے کہ یار! آج تیری بہن بن ٹھن ہو جانے کی کسر باقی نہ رہ گئی تھی۔کیوں بھئی عابد!تمہاری بہن سے باتیں کر لیں؟۔۔عابد!تمہاری بہن آج فلاں کے ساتھ لان میں ہنس رہی تھی۔۔یار!کسی عالم سے پوچھا جائے کہ منہ بولی بہن سے نکاح جائز ہے؟کم ظرف لوگ محفلوں میں جس انداز سے باتیں کرتے تو یوں لگتا جیسے ضمیر نام کی کوئی چیزان کے پاس نہیں ہے۔سلمٰی کا مزاج بھی اب تبدیل ہو تا جا رہا تھا۔وہ لڑکوں میں زیادہ بیٹھنے لگی تھی،پھر لڑکے بھی خواہ مخواہ کی جھوٹی باتیں منسوب کر کے مجھے سناتے ۔مجھے ذہنی اذیت تو ہوتی لیکن کبھی ظاہر نہ ہونے دیا۔میں نے فیصلہ کر لیا کہ کم از کم ایک دفعہ اسے خبر دار کر دوں تا کہ وہ سمجھ کر ،دیکھ بھال کر قدم رکھے۔ میں نے نعمانہ سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا،اسی دن مجھے موقع مل گیا اور وہ اکیلی دفتر میں کسی کام سے گئی تھی۔

”نعمانہ !ایک منٹ ذرا بات سنئے گا۔“

وہ واضح طور پر میری بات سنی ان سنی اور نظر انداز کر کے چل دی،اس قدر نفرت۔۔۔میں پاگل سا ہو گیا۔پھر دل نے کہا کہ تم اپنی طرف سے فریضہ نبھادو ،آگے ان کی قسمت۔۔میں سلمٰی کے پا س گیا۔اس نے بھی انتہائی نفرت سے کہا کہ میرے پاس کوئی وقت نہیں ہے۔میں دل گرفتہ نہیںہوا بلکہ پر سکون ہو گیا کہ میرے ضمیر پر بوجھ نہیں رہا۔

٭٭٭

ہمارے لیے وہ رات یونیورسٹی میں آخری رات تھی۔میں تنویر کے ساتھ بیٹھا پرانی باتیں دہرا رہا تھا کہ اچانک اس نے کہا۔

”یار!سلمٰی سے تمہارا عشق خوب چلتا اگر عابد درمیان میں نہ آ جاتا۔“

”نہیں کس بے وقوف نے کہا ہے کہ میں اس سے عشق کرتا تھا؟“

”وہ تمہارا اس سے تعلق ،قد م قدم پر تحفظ ،کسی کا اس کے بارے میں غلط سوچنے والے پر غصہ آ جانا،کلاس الیکشن میں اپنی نشست اس کو دے دینا۔۔خط،ٹیلی فون،آخر یہ کیا تھا؟“

”نہیں ،یہ بات نہیں،،جہاں تک میرا ذہن کام کرتا ہے اور میں نے جو حالات دیکھے ہیں ان کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ اس سے شادی نہیں ہو سکتی تھی ۔اس نے کہا ہو گا کہ والدین کو بھیجو تو۔۔۔“

”تم غلط سمجھ رہے ہو۔۔میں اس سے شادی کر سکتا تھا،والدین کی طرف سے اجازت ہے کہ میں جس کو پسند کر لوں اس سے شادی ہو جائے گی۔ذات برادری کا ،دولت کا یا کوئی اور مسئلہ نہیں تھا۔“

”تو پھر یہ اسی کے لیے کیوں؟۔۔اور بھی کلاس فیلوز تھیں اور پھر اتنا کچھ وہ بھی درو رہ کر ،آخر کس لیے؟“

”ضروری نہیں کہ ہر لڑکی عشق کے قابل ہو اور میرے جذبات اتنے سستے نہیں ہیں۔۔۔میرے بھائی !میں اس سے عشق نہیں کرتا تھا بلکہ دل کی گہرائیوں سے عزت کرتا تھا۔میں نے اسے اپنا مان لیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ تعلق نہ رہا تو پھر کیا ہوا؟۔۔بتاﺅ،آج تک میں نے یہ کہا کہ مجھے سلمٰی سے عشق ہے یا اس سے محبت کرتا ہوں؟۔۔یہ عمل میرے لیے تجربہ ثابت ہوا ہے۔یوں سمجھ لو کہ وہ شیلف میں رکھی ہوئی کتاب کی مانند تھی۔میںنے اسے پڑھا اور ہر اچھا پڑھنے والا کتاب کی نہ صرف عزت کرتا ہے بلکہ اس کو سنبھال کر پڑھتاہے۔اس پر اپنا نام نہیں لکھتا ،لکیریں نہیں ڈالتا،اس کو خراب نہیں کرتا اور نہ ہی اسے اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔۔۔باقی رہی بات کہ کتاب کیسی ہے؟ تو یہ ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے ۔چاہے جتنی بور کتاب ہو ،اس میںچند اچھی باتیں ضرور معلوم ہو جاتی ہیں اور تنویر! اس کتاب کے توسط سے میں نے منافقت اور خلوص کی پہچان کرنا سیکھ لی ہے۔۔۔وہ کتاب میری ملکیت نہیں تھی اور تم گواہ ہو کہ میں نے آج تک ملکیت کا حق نہیں جتایا،اس پرکوئی نہیںلکیر نہیں کھینچی بلکہ گردوغبار سے بچایا ہے اور اب احتیاط سے اسے دوبارہ شیلف میں رکھ دیا ہے۔“

ززز

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے