سر ورق / مکالمہ / ملاقات۔۔ یاسین صدیق۔صبا عیشل

ملاقات۔۔ یاسین صدیق۔صبا عیشل

پاکستان کے معروف اور اپنی طرز تحریر اور اسلوب کے واحد ناول نگار،مترجم، افسانہ نگار ،صوفی دانشور،ڈرامہ نگار ،کالم نگار، شاعر،نقاد ، دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف جناب امجد جاویدصاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ان کا خاص موضوع عشق اور تصوف ہے ۔ان کے خیال میں عشق مجازی ہو یا حقیقی اس میں احترام ،عقیدت ،پاکیزگی اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت اس کا مقصد ہو۔

میں نے ان کا ناول ”عشق کا قاف“ پڑھا تو غائبانہ طور پر ان کا عاشق ہو گیا ۔اس ناول نے بڑی پذیرائی حاصل کی۔ ان سے دوسرا تعارف جناب سید سعید بدر(فیملی میگزین) نے کروایا ۔ایک دن مجھے کہا آپ کہانیاں لکھیں ۔میں نے عرض کی ”میں اس قابل کہاں “بولے”آپ لکھ سکتے ہیں “ پھر مجھے امجد جاوید صاحب کا نمبر دیا اور کہا، کہانی لکھ کر ان کو بھیج دیں، وہ رہنمائی فرمادیں گے ۔میں نے ایسا ہی کیا ۔پھر وہ دن زندگی میں آئے جب روز شام کو امجد جاوید صاحب مجھے کال کرتے اور ایک گھنٹا ادھر ادھر کی باتوں کے ساتھ کہانی لکھنے میں رہنمائی فرماتے ۔انہوں نے مجھے بہت سی کتابیں بھی بھیجیں ۔ان سے ملا تو میں ملا، ایک انسانیت سے محبت کرنے والے انسان سے ۔ وہ اپنی ذات کے دائرے سے نکل کر دوسروں کے لیے روتا ہے ،ان کے لیے ہنستا ہے ،سوچتا ہے ۔ ان کا لہجہ ہمدردانہ ہے۔ وہ مسائل کے ساتھ مسائل سے نکلنے کے راستے بھی بتاتے ہیں ۔ان کا اپنے ہم عصروںمیں ایک منفرد لب و لہجہ ہے ۔وہ اسلاف کی تاریخ سے واقف ہیں ،زمانے کی بصیرت رکھتے ہیںاور مسقتبل پر ان کی نظریں ہیں ۔ بامقصد لکھتے ہیں ادب برائے زندگی کے قائل ہیں ۔مطالعہ انسان اورمطالعہ کائنات ان کا شوق ہے ۔وہ اس پر بہت شاکی ہیں کہ آج مسلمان تن آسان ،عیش پسند ہو گئے ہیں ۔

ہم نے ان سے ایک بھر پور انٹرویو کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول فرما کر ہمارا مان بڑھایا ۔ سوالات کرنے میںمیرا ساتھ جن دوستوںنے دیا ان میںسرفراز احمد ،ظفر علی ،عدیل عادی ،قاری ابو بکر ،شہباز الفت ،عاصم سعید ،نعمان عظیمی کے علاوہ محترمہ زریں قمر صاحبہ اوررومیصہ ملک شامل ہیں ۔اس انٹریوز میں بہت کچھ خاصے کا ہے ۔یہ تو آپ پڑھیں گے تو بتائیں گے ۔تو آئیے ملتے ہیں امجد جاوید صاحب سے ۔

 (س)ویسے تو آپ کسی تعاف کے محتاج نہیں لیکن نئے قارئین کے لیے اپنا مختصر تعارف کروا دیں مثلاپیدائشی نام؟،قلمی نام؟،تاریخ پیدائش؟،جائے پیدائش؟تعلیم؟ وغیرہ

 (ج)میرا نام امجد جاوید ہے ۔میرا پہلا نام ہماری دائی مائی نے رکھا تھا ، فہیم الحق ۔جسے وہ رجسٹر بھی کروا آئی تھی ۔ لیکن میری والدہ نے یہ نام قبول نہیں کیا۔انہوںنے میرا نام امجد عزیز رکھا۔یہ چلتا رہاپھر نجانے کب کاغذات میں امجد جاوید ہو گیا۔یہی قلمی نام ہے ۔

میری اصل تاریخ پیدائش ستائیس ستمبر 1965ہے ۔ یہ وہ رات تھی جب جنگ ستمبر کے بعد بلیک آﺅٹ ختم ہوا تھا۔ 12بجے کے بعد روشنیاں جگمگا اٹھیں اور ایک بجے کے قریب میں پیدا ہوا۔ یہ واقعہ میرے بڑوں کو اسی حوالے سے یاد ہے ۔ میںحاصل پور ہی میں پیدا ہوا ۔ میری پہلی درس گاہ میری والدہ کی گود ہی ہے ۔آپ پڑھی لکھی نہیںتھیں لیکن حرف شناس تھیں ۔ انہوںنے مجھے حروف تہجی سیکھائے۔ لکھنا بتایا ، گنتی سکھائی اسی بنیاد پر مجھے گورنمنٹ ہائی سکول حاصل پور میں دوسری کلاس میںداخلہ مل گیا ۔جہاں میری تاریخ پیدائش کا اندراج 22اپریل1966ء کر دیا گیا ۔کاغذات میں یہی ہے ۔ میٹرک تک اسی اسکول میں پڑھا اور دسویں کلاس میں فیل ہو گیا ۔

 (س)میٹرک میں فیل ہونے کی کیا وجوہات تھیں؟

 (ج)1978ء میںہماری والدہ جب نہ رہیں تو ہماری دیکھ بھال کا وہ معیار نہیں رہا ۔ میں آوارہ گرد ہو گیا ۔یہ اسی کا حاصل تھا۔پھر پرائیویٹ امتحان دیا اور پاس ہو گیا ۔ انٹر تک یہیں تعلیم حاصل کی ، پھر بہاول پور ایس ای کالج میں داخلہ لیا۔ ایم اے ابلاغیات اسلامیہ یونیورسٹی سے کیا ۔ پھر کافی عرصہ بعد یہیں سے ایم اے اُردو و اقبالیات کیا ۔

(س)اکثر بچوںکا نام گھر والے پیار سے بگاڑ دیتے ہیں کیا آپ کا الٹا نام رکھا تھا کسی نے ، اگر رکھا تھا تو کیا نام تھا؟“

 (ج)نہیں امجد ہی کہتے تھے ۔ ہاں میرے ماموں مجھے پیار سے ” دھمّی“ کہتے تھے ۔اس کی وجہ مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آئی حالانکہ وہ سرائیکی نہیں تھے لیکن دھمی سرائیکی میں صبح صادق کو کہتے ہیں۔

(س)آپ کتنے بہن بھائی ہیں اور آپکا نمبر کونسا ہے؟

 (ج)ہم پانچ بہن بھائی ہیں ، میرا نمبر پہلا ہے ۔

 (س)بچپن کے دن بہت سہانے ہوتے ہیں ۔کیا بچپن میں آپ شرارتی تھے یا….بچپن کا کوئی ایسا واقعہ جو آپ بھول نہ پائے ہوں؟

 (ج)بہت زیادہ شرارتی تھا ۔بہت مار کھائی اساتذہ سے صرف شرارت کی وجہ سے ۔ ایک بار میں نے کاغذ کا جہاز بنایا ۔ میرے ساتھ بیٹھے دوست نے اُڑا دیا ۔ کلاس میں شور اٹھ گیا۔ ہر کوئی جہاز پکڑنا اور اُسے اُڑانا چاہتا تھا ۔ اسی اثنا میں وہ کاغذ کا جہاز ایک لڑکے کی آنکھ میں لگ گیا ۔شکایت لگی اور میری پٹائی ہوئی۔ استاد محترم نے کہا موجد تم ہو ۔ اسی لئے تمہاری پٹائی ہونی ہے۔

(س)بچپن میں آپ سے بھی سوال کیا جاتا ہو گا کہ”.بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں “آپ کیا جواب دیا کرتے تھے ۔پھر بن کیا گئے؟۔

 (ج)مجھے بچپن میں فوجی بہت اچھے لگتے تھے ۔ میں فوج میں جانا چاہتا تھا لیکن تعلیم مکمل ہو نے کے بعد ایک استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ایک چھوٹا سا پرائمری اسکول تھا جو اب بھی ہے ، میں وہاں انگریزی پڑھایا کرتا تھا، ہماری تعیناتی ہی انگریزی پڑھانے کے لئے ہوئی تھی۔

 (س)اسلامیہ یونیورسٹی کے آپ پڑھے ہوئے ہیں جاوید چوہدری آپ کے کلاس فیلو تھے ۔آپ اس طرف کیوں نہیں گئے ؟

 (ج)جاوید چوہدری میرے کلاس فیلو تھے لیکن اب بھائیوں کی طرح ہیں ۔انہی کے ساتھ خالد وکیل بھی ایک کامیاب انسان ہیں ۔ انہوںنے دراصل محنت بہت کی ۔ میں بھی صحافی بننا چاہتا تھا لیکن حالات کہیں کے کہیں لے گئے ۔جاوید چوہدری ایک اچھے کہانی کار بن سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی کالم نویسی میںمحنت کی اورکامیاب ہیںمجھے شاید ابھی وقت نہیں ملا یا میرا ابھی وقت نہیں ہے ۔

(س)شادی کب ہوئی ؟اپنوں یا غیروں میں ؟کیا شادی سے پہلے بیگم کو دیکھا تھا ؟

(ج)شادی 4 دسمبر 2004 ءکو ہوئی ۔ اپنی ہی برادری میں ہوئی لیکن خاندان سے باہر ۔نہیں شادی سے قبل بیگم کو نہیں دیکھا تھا ۔ صرف تصویر ہی دیکھی تھی ۔

(س)آپ ایک ادیب ہیں ۔گھر میں کتابیں ہی کتابیں ہوتی ہوں گئی ۔بیگم کتابوں کو سوکن تو سمجھتی ہوں گی؟

(ج)نہیں صورت حال مختلف ہے ۔میں اگر لکھنے والا ہوں تو میری بیگم اچھا پڑھنے والی ہے۔ خواتین کے کم از کم چار پانچ رسالے تو معمول ہے ۔ اس کے علاوہ ناول بھی ۔میری کتابیں ،میں نہیں میری بیگم سنبھالتی ہے ۔میں اکثر اوقات بیگم سے کہانی بھی ڈسکس کر لیتا ہوں ۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیں اور ہاںمیری ساری کتابیں میری شادی کے بعد ہی آئی ہیں۔میری کامیابی میں بلاشبہ میری بیگم کا بہت ہاتھ ہے۔

(س)تم سے پیار دوبارہ کرتے ،کیسے کرتے ….کوئی ایسی حسرت دل میں

(ج)ایک ہی پیار میں تسلسل ہے …. وقت نہیںکہ دوبارہ کرتے ۔

(س)کیا کبھی کسی سے اظہار محبت کا موقع ملا؟ کیا ماحول تھا، کیا جذبات تھے اور کن الفاظ کا سہارا لیا؟ اگر دوسری شادی کی اجازت مل جاے توآپ کا انتخاب کون ہو گا؟۔(سرجی ادب دا تڑکا نیںلانا سچی سچی دَسّو )

(ج)کیا یاد کرا دیا ظالمو۔!سچی بات یہ ہے کہ آج تک اظہار محبت نہیں کر سکا ۔ یوں تو بہت بار ملے مگر ہر طرح کا ماحول ملا ۔بس لفظ ہی نہ کہہ پائے ۔آج بھی من مچلتا ہے لیکن کہہ نہیں پاتااور یقین جانیں یہ سیاسی بیان نہ ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ میری بیگم کے بعد مجھے کسی دوسری شادی کی طلب رہی ہو ۔مجھے انتہا درجے کا سکون اور محبت ملی ہے ۔

(س)ہم نے دیکھا ہے پڑھا ہے ۔ہر لکھاری کے انداز بیاں ،انداز تحریر میں کسی دوسرے مصنف کی جھلک پائی جاتی ہے خاص طور پر اس کی، جسے وہ زیادہ پڑھتا رہا ہے ۔جبکہ آپ کا ایک اپنا ہی انداز تحریر ہے جس میں کسی بھی دوسرے رائٹر کی جھلک نہیں ملتی۔میرے خیال میں یہ آپ کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔اسی طرح آپ نے اپنے لیے عشق وتصوف کا میدان چنا یہ بھی منفرد ترین ہے ۔اس بارے کیا کہیں گے ؟

(ج) میں نے بچپن سے پڑھا بہت ہے ۔یوں جانیں کہ اخبار ، رسالے ڈائجسٹ ۔پھر جب لکھنے لگا تو کسی کو کاپی کرنے کا خیال نہیںآیا۔یہ سب آپ ہی آپ ہو گیا ۔جب مقصد سامنے رکھ کر لکھا تو اس کے لیے ایک خاص طرز تحریر کی ضرورت تھی جو اللہ کے کرم سے خود ہی عطا ہوا ۔مشق سے پختہ ہوتا چلا گیا ۔

(س)آپ کی تمام کہانیوں کا بنیادی موضوع تقریباایک ہی ہے عشق محبت اور تصوف اس موضوع کو چننے کی کوئی خاص وجہ ؟

(ج)یوں تو ہر کہانی ایک ہی ہے۔ پہلی کہانی دنیا میں ہابیل اور قابیل کی تھی ،واقعات تبدیل ہوتے ہیں ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ، انسان کے اندر کی وہ تمام جہتیں بھی سامنے آتی چلی جا رہی ہیں، جو رب تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھی ہیں۔ صرف ایک موضوع کی جہاں تک بات ہے تو میرا موضوع انسان ہے ۔ کس عمل پر وہ کیسا ردعمل کرتا ہے ۔ صرف انسان کے بارے میں لکھتے رہنا ہی نہ ختم ہونے والا موضوع ہے ۔ چونکہ محبت ایک بنیادی رویہ ہے ۔رب تعالیٰ اور بندے کے درمیان تو یہ زیادہ سامنے آتا ہے ۔ایک خاص سمت میں لکھنا ۔ وہ یہی ہے کہ” انسان “نہ ختم ہونے والا موضوع ہے ۔ اتنی جہتیں ، اتنی پرتیں کہ انسان گم ہو جاتا ہے پھر وہی کیفیت ہاتھ لگتی ہے کہ میں، میں نہیں رہتا، تم ہو جاتا ہوں۔

(س)آپ نے عشق مجازی سے عشق حقیقی تک بہت خوب لکھا۔آپ سے بہتر شاید ہی کوئی ان پیچ و خم کو سمجھ سکے ۔تو سوال یہ ہے کہ محبت اور عقیدت میں کیا فرق ہے .کیا عقیدت محبت سے بھی اوپر کی چیز ہے ؟

(ج) پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تو عشق اور تصوف کے بارے میں ابھی تک کچھ بھی نہیںجانتا۔ میں نے اس موضوع پر جو بھی لکھا ہے وہ انہی بزرگوں کی مرہون منت ہے ، جنہوںنے اس موضوع پر لکھا اور ان درویشوںکا احسان مند ہوں جو بات کرتے ہوئے بہت کچھ سمجھا دیتے ہیں۔ مجھے تو ابھی طفل مکتب ہونے کا بھی سلیقہ نہیں آیا۔عقیدت اور محبت لازم و ملزوم ہیں ۔ محبت کے بغیر عقیدت ہو نہیں سکتی اور محبت ہی عقیدت کی بنیاد ہے ۔ بنا محبت کے عقیدت ہو نہیں سکتی بلا شبہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔مگر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ عقیدت محبت سے بھی اوپر کی چیز ہے ۔محبت میں آپ شک کر سکتے ہیں۔شایدجھوٹ بول سکتے ہیں مگر عقیدت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔اگر ایسا ہے تو پھر عقیدت خام ہے ۔آپ محبت پر حتمی رائے کبھی نہیں دے سکتے کیونکہ محبت کے ہزاروں رنگ ہےں اور ہر شخص اپنے رنگ سے محبت کرتا ہے ۔

(س)محبت کسی بھی رنگ روپ اور انداز میں ہو سکتی ہے مگر ہمارے ہاں بہت سے لکھاری خاص کر آپ محبت کو پاکیزگی سے مشروط کر دیتے ہیں۔ جسم کی ہوس سے پاک محبت ہی سچی محبت ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ.انسانی فطرت میں جنس بھی شامل ہے اور محبت ہوتی بھی خوب سے خوب تر کے ساتھ ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رائٹر پر معاشرتی دباﺅ ہوتا ہے جس کے زیراثر وہ صرف محبت کو پاک صاف دکھاتا ہے۔محبت کے باقی رنگوں اور انداز پر قلم کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟

(ج)پہلے تو ہوس اور محبت کو سمجھنا ہوگا ۔ بلا شبہ انسانی زندگی میں جنس بہت بڑا پہلو ہے ۔ لیکن محبت کسی کو ننگا کرنے کا نام نہیں ، محبت میں پردہ داری ہوتی ہے ۔ ناول صرف تفریح کے لئے نہیں لکھا جاتا اور تفریح صرف جنسی لذت کا نام بھی نہیں ہے ۔لکھاری پر کوئی معاشرتی دباو نہیںہوتا ، مارکیٹ میں بہت سے ناول موجود ہیں جن پر آپ کہہ رہے، اس موضوع پر ،اس رنگ پر لکھنے والے بھی بہت ہیں ۔میں نے اپنی پسند کا رنگ چنا۔اس رنگ میں بھی بے شمار رنگ ہیں کیونکہ محبت کے بے شمار رنگ ہیں وہ تبھی نگاہ میں آتے ہیں جب ہم محبت کو سمجھ سکیں ۔ہوس سے محبت کو الگ کر لیں۔شادی کے بعد بیوی سے جسمانی تعلق اس کی مثال ہے ۔کہنے کو تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جنس جو وہ محبت کی کثافتی صورت ہے لیکن اسے لکھنا اور سمجھنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔

(س)بلاشبہ ہوس اور محبت کو یکجا نہیں کیا جا سکتا مگر جنس اور ہوس میں کچھ فرق ضرورہے ۔محبت کے جذبہ میں کہیں نہ کہیں جنس بھی کارفرما ہوتی ہی ہے ۔جنس کو ہوس سے جوڑ کر یک جنبش قلم مسترد کرنا معاشرتی دباﺅ کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے؟

آپ محبت کو بہت ہی محدود معنوں میں لے رہے ہیں، کیا ماں سے محبت نہیں ہوسکتی؟ کیا باپ کی بیٹے ، بیٹی سے محبت نہیں ہوسکتی ۔ اس میں ہوس کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ لوگ جو عورت کو خاص طور پر جنس مخالف کو صرف جنس کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔جیسے سگمڈ فرائیڈ جیسے دانش ور ۔ حقیقت میں عورت کا مقام بہت بلند ہے ۔ رب تعالی نے اسے تخلیق جیسے وصف سے نوازا ہے ۔جب ہم اپنی بیوی کو محبت دے رہے ہیں یا بیوی شوہر کو محبت دے رہی ہے تو صرف جنس کی وجہ سے نہیں، وہاں ہوس بھی نہیں ۔ عزت احترام اور بہت ساری چیزیں ہیں۔

 (س)تصوف کی طرف کیسے رحجان ہوا؟

(ج)جب انسان حقیقت کی تلاش میں نکلتا ہے تو اسے بہت سارے انسان بہت سارا پیغام لئے ملتے ہیں۔مجھے اولیاءاللہ کا پیغام زیادہ اچھا لگا۔ ہر صوفی اولیاء اللہ کا ایک پیغام ہے ۔ جتنا جس ہستی کے بارے میں جان سکا ، اب بھی پڑھنے اور جاننے کی کوشش کرتا ہوں ۔ان کا موضوع انسان ہے۔انسان کا اخلاق سنوارنے کا پیغام جسے ہم اسے نظر انداز کرکے ، دوسرا بہت کچھ کرتے چلے جا رہے ہیں ۔تصوف کوئی نئی شے تو نہیں ، دین اسلام کی شریعت کے تابع رہتے ہوئے اپنے اخلاق کو سنوارنے کی کوشش ہی تو ہے ۔شاید یہ رجحان شروع ہی سے تھا ۔

(س)ماشاءاللہ تصوف کو آپ نے بڑے قریب سے سمجھا اور دیکھا,آج مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف ہی دست و گریباں ہیں, فرقہ واریت دن بدن بڑھ رہی ہے , لوگ گلی محلوں میں اکٹھے نہیں ہیں, حالات خراب سمت میں جا رہے ہیں۔میرا سوال ہے علم تصوف ہے کیا ؟

(ج)خود پر دوسروں کو ترجیح دینا ہی اہل تصوف کا شیوہ رہا ہے ۔ اہل کردار ہیں وہ لوگ ۔ جب تک اہل کردار نہیںہوںگے ، اس وقت تک انتشار ہی ہوگا ۔ کیا منافقت امن پیدا کر سکتی ہے ؟ یہ فرقہ واریت ہماری ہی پیدا کردہ ہے ۔ منبر کے علاوہ ہم نے بھی تو اندھی تقلید کا وتیرہ اپنایا ہوا ہے ۔ ہر وہ بندہ اہل تصوف ہے جو خود پر دوسروں کو ترجیح دیتا ہے ۔ اس کے امن سکون کا خیال کرتا ہے ۔

(س)خود سے عشق کرنا چاہیے ؟یاد رہے جناب یہاں بات عشق کی ہو رہی ہے نہ کہ محبت اور پیار کی۔لائف میں آگے بڑھنے کے لیے خود سے عشق کیسے ضروری ہے ؟

 (ج)میرے خیال میں خود سے عشق کا مطلب خود کو پانے سے ہے ۔ کہا تو جاتا ہے کہ خود کو پائیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ کیسے ؟ اس کا حل سادہ سا ہے ، اپنی خوبیوں اور خامیوں کو تلاش کریں ۔ یہاں ایک مزید سوال جنم لے گا کہ کس معیار پر خوبی اور خامی کو پرکھا جائے ؟ جب آپ نے بہترین معیار تلاش کر لیا تو ساری خوبیاں اور خامیاں نظر آ جائیں گی۔ اس کے بعد اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں ۔ عمل دیکھیں ۔کوشش کریں یوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ۔ یہاں معیار صادق ،امین اوربے مثال والا ہو تو سارے مسئلے ہی حل ہو جاتے ہیں۔خود سے عشق کا مطلب خود کی پہچان ہے ۔خودی ہے۔جو لوگ خود سے عشق نہیں کرتے وہ کسی دوسرے سے کیا کرسکتے ہیں ۔

(س)آپ کی اکثر کہانیوں میں عورت کا کردار بولڈ ہوتا ہے جیسے ”امرت کور“ میں امرت اور زویا۔” عشق فنا عشق بقا میں“ راحیلہ اور صفیہ ”عورت زاد“ میں نینا وغیرہ۔آپ کی اکثرکہانیوں میں عورت محبت میں پہل کرتی ہے (سب میں نہیں )جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے ؟

(ج)میرا مشاہدہ ہے کہ جب عورت کسی کو چاہتی ہے تو ٹوٹ کر چاہتی ہے اور جہاں انکار ہو اسے تسخیر کرتی ہے ۔ دوسرا میری خواہش ہے کہ عورت دلیر ہو ، تبھی وہ اپنی محبت کا پوری طرح اظہار کر پاتی ہے ۔میری اس سوچ کے پیچھے دراصل عورت کا مقام اس کا گھر ہے ۔ مگر ہمارے معاشرتی سیٹ اپ میں اسے باہر آنا پڑتا ہے ۔ باہر آنا کوئی بری بات نہیں لیکن اس کی جڑیں اس کے گھر کے ساتھ ہوں ۔ کیونکہ عورت کا اصل کام ایک نسل کی تخلیق و تربیت ہے ۔ وہ جتنی مضبوط ، دلیر ، بولڈ ہوگی ، اتنی ہی بااعتماد ہوگی ۔

(س)عشق آپ کی کہانیوں کا موضوع خاص ہوتا ہے ۔حقیقی زندگی میں یہ اس سے کتنا واسطہ رہا؟

کسی بزرگ کا قول ہے کہ ”عشق کی سمجھ عشق ہی عطا کرتا ہے ۔“ باقی بات آپ سمجھ جائیں۔

(س) اپنی کہانیوں کاشاعرانہ نام آپ خود رکھتے ہیں ناولوں کے یا کسی سے مشاورت ہوتی ہے ۔آپ کی کہانیوں کے ناموں میں لفظ عشق مشترک ہے ۔جیسے ”جب عشق سمندر اوڑھ لیا“”عشق بقا عشق فنا“،”عشق سیڑھی کانچ کی“وغیرہ

 (ج)ناولوں کے نام کبھی خود بہ خود ہی سامنے آجاتے ہیں اور کبھی کوئی شعر سامنے آجاتا ہے ۔میں نے لکھا ہی زیادہ عشق پر ہے تو نام بھی اسی مناسبت سے ہو گا نا ۔

(س)آپ کی کون سی کہانی کا کردار آپ کو پرسنلی پسند ہے ۔آپ اپنی کہانی میں خود کس حد تک شامل ہیں؟

(ج)میرے ہر ناول کا ہر کردار مجھے پسند ہے ۔ اور میں اپنے ہر ناول میں موجود ہوں ، جب تک کوئی لکھنے والا اپنی لکھت میں نہیں ہوگا ، وہ بے روح ہوگی ۔ تو کس میں کس حد تک ہوں ، اب اس کا کوئی پیمانہ تو نہیں ہے نا۔

 (س)ادب کا موضوع کیا ہے؟ انسانی نفسیات اور انسانی سوچ کو اس کی گہرائی میں جا کر سمجھنے اور پھر دوسروں کو سمجھانے میں ایک ادیب کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی؟

 (ج)رب تعالی نے انسان کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اسے بہترین تقویم پر پیدا کیا ۔ اب انسان کیا کرتا ہے ۔انسان اور اس کا رویہ ہی ادب ہے اور اس ”ادب “ کو انسان ہی سمجھتا ہے ۔ جو اسے بہتر انداز میں بیان کر دیتا ہے وہ لکھاری کامیاب ہے ۔انسان کے عمل اور ردعمل کے اظہار کا نام ادب ہے ۔ ہم اگر کسی جانور یا بے جان شے پر بھی لکھ رہے ہیں تو اسے لکھ تو انسان ہی رہا ہے ناجی ۔ہر بات ہر بندے کے لئے نہیں ہوتی اور ہر بندہ اسے سمجھتا اپنے حساب سے ہے ۔

(س)ادب میں آپ تقسیم کے قائل ہیں یا نہیں،جیسے اکثر ادبا ڈائجسٹ کو ادب نہیں مانتے ؟

(ج)ڈائجسٹ کے ادب کو ادب نہ ماننا ادبی غنڈہ گردی ہے ۔ ہمارے جتنے بڑے لیجنڈ ہیں ، سب ماہناموں میں شائع ہوتے تھے ۔اب بھی ہوتے ہیں ۔وہ جو خود کو ادیب کہتے ہیں وہ کہاں شائع ہوتے ہیں جو ادیب کہلاتے ہیں ۔ کو ئی مانے تو نہ مانے لیکن وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس وقت یہ پاپولر ادب ہی کامیاب ہے ۔

 (س)کیا آپ کو ستائش پسند ہے ؟ کوئی ایسا ستائشی خط، مضمون یا ای میل یا بالمشافہ ملاقات جس نے آپ کو نہ صرف تازہ دم کیا بلکہ اس کے الفاظ ہمیشہ کے لئے آپ کے دل، دماغ اور روح میں اتر گئے ؟

(ج)بہت دفعہ ۔میں تھوڑا بہت ستائش پسند تو ہوں ۔ اب کوئی ایسا ستائشی خط، مضمون یا ای میل یا بالمشافہ ملاقات جس نے تازہ دم کیا ریکارڈ کے طور تو ہے نہیں میرے پاس۔ بس بہت محبت ملی ۔بہت محبت ملی مجھے ۔ خط کے حوالے سے ایک بات یاد ہے کہ ایک دن ( دور طالب علمی میں) میری جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیںتھی ۔کھانا تو مل گیا لیکن سگریٹ خریدنا تھے۔میںمعمول کے مطابق ڈاک خانے آیا ۔ اپنا پوسٹ بکس کھولا ، اس میں ایک ہی خط پڑا تھا سعودیہ سے آیا ہوا ۔ وہ کھولا تو اس میں خط کے ساتھ دس روپے پڑے ہوئے تھے۔ کسی صاحب نے مجھ سے یہ فرمائش کی تھی کہ میں انہیںخط لکھوں۔ دس روپے ڈاک ٹکٹ کے لئے تھے۔ وہ خط آج تک یاد ہے۔ دوسرا، ایک بار راول پنڈی جاتے ہوئے ایک خاتون ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی میرا ناول پڑھ رہی تھی ۔ میرا بہت دل کیا کہ اس سے ناول بارے بات کروں ۔ لیکن نہ کر پایا ۔دینہ سے آگے جا کر کچھ بے تکلفی ہوئی ۔اس کے خاوند کے ساتھ ۔ اس نے بہرحال کافی اچھا تاثر دیا تو میں یہ کہہ ہی نہیں پایا کہ میں ہی ہوں۔ لیکن مجھے فیڈ بیک مل گیا۔

(س)۔آپ کے اندر وہ کون سا جذبہ تھا جو یہ سب کرواتا گیا ۔وہ کون سی وجہ تھی ۔وہ کیا تھا محرک جس کی وجہ سے آپ نے پہلی دفعہ قلم اٹھایا؟

(ج)ہوا یوں تھا کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔مگر لکھنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا ۔ ایک دن یونہی خیال آیا کہ کیا میں بھی لکھ سکتا ہوں ، میں نے ایک کہانی لکھی اور وہ شائع ہو گئی ۔ دوسر ی لکھی اس نے پہلا انعام لے لیا۔ شاید میں اس کے بعد نہ لکھتا، لیکن ہمارے ہی شہر میں چند حاسدین نے اس رسالہ کو فرضی نام سے خط لکھ دیا۔ اس خط کا متن آج تک یاد ہے کہ” کوئٹہ سے کیپٹن نور بانو رقمطراز ہیں کہ امجد جاوید کی کہانی ایک بھارتی رسالے سے چوری شدہ ہے ۔“ بس پھر کیا تھا ، میں نے رسالے کے مدیر جناب شمیم نوید صاحب (اللہ سائیں انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے )کو خط لکھا کہ اگر ثبوت ہے تو میں آئندہ نہیںلکھوں گا ، انہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور مزید لکھنے کو کہا ۔ بس پھر ، میں لکھتا گیا۔ یہاں تک کہ 2000ء میں سوچا کہ کیا کر رہا ہوں ۔ کوئی مقصد نہیں بس یونہی لکھتا چلا جا رہا ہوں ۔ پھر۔! ایک مقصد مل گیا اور مقصد کے تحت لکھنا شروع کیا ۔آج آپ کے سامنے ہوں ۔

(س)دو قومی نظریہ یا پھر نظریہ پاکستان کو پاکستان کی اساس سمجھا جاتا ہے آپ کی تحریروں میں بھی اس حوالے سے بہت کچھ موجود ہے مگر آج کے لبرل سوچ رکھنے والوں نے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اس کے خلاف پراپیگنڈہ مہم چلا رکھی ہے؟

دیکھیں جب دو قومی نظریہ کی وجہ سے ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا ، تب بھی مسلمان مخالف تھے اور آج بھی ہیں ۔ ان میں بہت سارے لوگ دو قومی نظریہ کو قبول کر گئے کچھ ابھی باقی ہیں ۔ نظریہ اپنی جگہ قائم ہے اور اس کے طفیل پاکستان کا وجود بھی۔ہمارا ملک ایک نظریاتی ملک ہے اور ان شاہ اللہ یہ قائم و دائم رہنے والا ہے۔

(س) ادب کا مستقبل پاکستان میں آپ کو کیا لگتا ہے ؟

(ج)پاکستان میں اردو ادب کا مستقبل بہت روشن ہے اس کی بنیادی وجہ تعلیم کا پھیلاﺅہے ۔

(س)آج اس مادہ پرستی کے دور میں کسی سے سچی محبت ہوسکتی ہے یا یہ صرف کہانیوںکی حد تک ہے ؟

(ج)محبت کہیں باہر نہیںپڑی ہوتی ، یہ آپ کے اندر ہوتی ہے ۔ کسی وجود کو دیکھ کر جو آپ کے اندر سے اٹھتا ہے وہ آپ ہی کی ملکیت ہے ۔وہ آپ کے اندر کی شے ہے ۔ اب یہ کس قدر خالص ہے ۔ کیسی محبت لئے پھرتے ہیں آپ ؟ یہ آپ پر منحصر ہے ۔اگر محبت مادہ پرستی میں لتھڑی ہوئی ہے تو ویسی محبت کا اظہار ہوگا ۔دوستی اور خلوص بھی تبھی پائیدار ہوگا جب آپ کی محبت خالص ہے۔

(س)کیا لکھنے سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہی انحصار ہے یا مالی آسودگی کے لئے کوئی ملازمت، کسی کاروبار میں بھی شراکت داری کر رکھی ہے ؟ کیا پبلشر آپ کو ہر ناول کے ہر ایڈیشن کی اشاعت پر رائلٹی دیتے ہیں؟ آپ کا اب تک کا بیسٹ سیلر ناول کون سا ہے ؟

(ج)میری سرکاری ملازمت ہے ۔الحمد للہ میرا بہت اچھاروزگار ہے ۔میں ایڈیشن کا حساب نہیں رکھتا ۔ علم عرفان پبلشرز کے مالک جناب گل فراز احمد میرے ساتھ چھوٹے بھائیوں جیسا سلوک کرتے ہیں ۔ میں جب چاہوں جتنا چاہوں لے لیتا ہوں ۔ عشق کا قاف اور اب قلندر ذات بیسٹ سیلرز ہیں۔

(س)کیا پاکستان میں یہ ممکن ہے کہ ایک ادیب لکھنے لکھانے کو اپنا ذریعہ معاش بنا سکے ۔کمرشل ادیب بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟

(ج)پہلے سوال کا جواب ہے، ممکن ہے۔ بہت سارے ادیب کل وقتی یہی کام کر رہے ہیں ۔ کمرشل لکھاری بننے کے لئے محنت ضروری ہے۔

(س)کیا آپ پاکستان کے موجودہ نظام سے مطمئن ہیں؟

(ج)میں پاکستان کے موجودہ نظام سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ کیونکہ یہاں جاگیر داری نظام نے آکٹوپس کی طرح تمام وسائل کو جکڑا ہوا ہے ۔یہاں چہرے بدلتے ہیں نظام نہیں۔ وہ نظام جو انسانی فلاح کے لئے ہو ۔ وہ نظام جو نبیﷺ نے مدینہ میں قائم کیا تھا۔

(س)کہانی کو لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

جہاں تک کہانی کی بات ہے تو وہ اگر کسی بھی مقصد کے بغیر ہوگی تو پھیکی ہو گی۔ جیسے اکیاسی بیاسی تراسی چوارسی …. پچاسی چھیاسی ستاسی اٹھاسی ۔ یہ علم عروض کے مطابق شعر ہے ۔ لیکن اس میں بات کیا ہے ؟ اسی طرح کہانی ہے ۔

(س)اردو ادب میں سرقہ پرانی روایت ہے ۔لوگ پہلے غزل کی زمین چرا لیتے تھے، خیال چرا لیتے تھے۔ آج کل پوری کی پوری غزل اُڑا لیتے ہیں۔اسی طرح نثر میں بھی پہلے مرکزی خیال چرایا جاتا تھا آج کل بہت کچھ چرا لیا جاتا ہے ۔عموما ترجمہ کہانیوں کے حوالے سے یہ شکایات زیادہ ہیں۔آپ نے اپنے اس انٹرویو میں بھی ابتدائی کہانی کے حوالے سے بتایا تھا کہ آپ پر بھی یہ الزام لگ چکا ہے .اس ادبی سرقہ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟

(ج)ادبی سرقہ اسی وقت ہوتا ہے جب لکھنے والا اپنے آپ میں کوئی کمزوری پا رہا ہو۔اصل میں صورت حال یہ ہوتی ہے کہ نئے لکھنے والے جب کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو منوانے کی کوشش میں ہوں تو ایسا ہو جاتا ہے لیکن جلد ہی یا تو خود انہیں احساس ہو جاتا ہے یا دوسرے احساس دلا دیتے ہیں ۔یا جنہوں نے ادبی سرقہ نہیں کیا ہوتا تو خود کو منوا لیتے ہیں ۔ اس پر زیادہ غصہ ہونے کی ضرورت نہیں سرقہ کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے یا پھر وہ سرقہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر نو آموز لکھاریوں کی طرف ہی سے ہوتا ہے۔

(س)زندگی کا مقصد کیا ہے ؟بڑا آسان سوال ہے بڑا مشکل سوال ہے.اس کا جواب اس سے بھی زیادہ کنفوز کر دینے والا ہے .آپ کیا کہتے ہیں ؟

(ج)زندگی کا مقصد بھی ہمیں وہیں سے سمجھ آئے گا جہاں سے ہم ہدایت لیتے ہیں ۔ نبی صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ۔ زندگی کا مقصد اس کائنات کی تسخیر ہے ۔یہ کائنات من کی ہو یا باہر پھیلی ہوئی ہو ۔مقصد تب سمجھ میں آتا ہے جب انسان کے اس دنیا میں ظہور کی وجہ سمجھ میں آئے ۔رب تعالی فرماتا ہے کہ ہم نے جن و انس کو عبادت کے لئے پیدا کیا ، اب عبادت کیا ہے ؟ یہ زندگی کامقصد ہے ۔

(س)آپ سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو ہیں ۔اس کے چند مثبت اور منفی پہلو بیان کریں ؟

(ج)دیکھیں ہر شے نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری ۔یہ اس کے استعمال پر ہے ۔میں بری نیت لے کر بیٹھوں گا تو برائیاں ہی ہوں گی اور اچھی نیت لیکر بیٹھا ہوں تو اچھائی ہی دکھائی دے گی ۔ صرف ایک بات عرض کروں گا کہ وقت کا ضیاع نہیں ہونا چاہئے۔

(س)ہماری نئی نسل کا سوشل میڈیا کے حوالے سے اردو رسم الخط کی بجاے رومن اردو کا بے تحاشا استعمال, کیا اردو ادب کے خاتمے کے لئے کافی نہیں ہوگا؟

(ج)نہیں ، اردو ختم نہیں ہو سکتی چاہے جو ہو جائے ۔ کیونکہ اس میں بہت ساری زبانوں کی قوت ہے ، رومن رسم الخط مجبوری کے تحت تھا۔اب ختم ہو رہا ہے وہ اس لئے تھا کہ اردو لکھنے کی سہولت نہیں تھی اب ہے تو یہ آہستہ آہستہ رومن ختم ہو جائے گئی۔

(س)موویزیا سونگ وغیرہ میں سے کس حد تک دلچسپی ہے کس طرح کی فلمیں پسند ہیں ۔پسندیدہ گلوکار ؟ آل ٹائم فیورٹ مووی، آل ٹائم فیورٹ سونگ، آل ٹائم فیورٹ رائٹر؟

(ج)میں گیت سنتا ہوں ، غزلیں سنتا ہوں وہ جس کی موسیقی بہت نرم سی ہو ۔جیسے روبن گھوش کی موسیقی ہے ۔فلمیںبہت دیکھا کرتا تھا ، اب بھی دیکھوں اگر وقت ملے تو ، جس مووی کے بارے میں بہت سنتاہوں، وہ ضرور دیکھتا ہوں ۔مجھے آج کل مزاحیہ فلمیں اچھی لگتی ہیں۔ فلم تفریحی نظریہ سے دیکھتا ہوں۔ مجھے کوئی ایک خاص سنگر کبھی پسند نہیں رہا۔ لیکن جن کے زیادہ گیت اچھے لگتے ہیں ، ان میں نیرہ نور ،نور جہان، لتا ، رفیع مسعود رانا۔ ایک فلم ہے کمپنی جسے میں نے بہت دفعہ دیکھا ۔ اور گیت ہے ۔ سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جان من ۔(بندش ۔ اخلاق احمد)

(س)آپ ادب کی طرف کس طرح آئے؟ کیا آپ کے خاندان میں ادب سے کوئی وابستہ تھا؟ اس طرف لانے میں کسی ادیب دوست کا ہاتھ ہے ؟

(ج)ایسے ہی آگیا ۔خاندان میں دور دور تک کوئی لکھنے والا نہیں ۔نہیںکوئی نہیں جو اس طرف لایا ، یہ میرا اپنا فیصلہ اور اقدام تھا۔

(س)آپ کا پسندیدہ ناول نگار،افسانہ نگار اور شاعر؟

(ج)انتظار حسین ، سعادت حسن منٹو ،بیدم وارثی، حضرت اقبال کے بعدکئی سارے ادیب ہیں۔ آغا اشرف ، انتظار حسین، عنایت اللہ، ابن صفی، شمیم نوید ، محی الدین نواب ،سلمی کنول ،عمیرہ احمد ۔

(س)سب سے پہلے آپ نے کون سا ناول یا کہانی پڑھی تھی جس نے بے حد متاثر کیا ۔

(ج) داستان ایمان فروشوں کی …. حالانکہ اس سے پہلے میںنے بہت پڑھا تھا ۔ دیوتا نے متاثر کیا ہوا تھا لیکن جو بات داستان ایمان فروشوں کی ہے وہ شاید کسی میں نہیں ۔ یہ سوچ بدلتی ہے۔

(س)قلندرذات میں آپ نے استحکام پاکستان کے ساتھ ساتھ تحریک خالصتان پر بھی بہت زور دیا ہے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے کہانی کے دو ہیرو تخلیق کئے ہیں ”جمال اور جسپال“۔قلندر ذات آپ نے کیا سوچ کر لکھنا شروع کی اس میں اتنا تھرل اور ایکشن شامل کرنے کی کیا وجہ تھا، اسے رسالے سے کیوں ختم کیا گیا؟

(ج)قلندر ذات کا موضوع ہی کچھ ایسا تھا کہ اسے دو ٹریک میں لکھنا تھا۔اصل میں بات کرنی تھی کردار کی ۔ وہ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ ،” ہم کسی قوم سے ہوں ، قائل کردار تو ہیں“۔ انسان اور انسانیت کیا ہے۔ جہاں تک خالصتان کی بات ہے ۔ تو یہ سکھوں کی تحریک ہے ۔انہیں ان کا الگ وطن دیا جانا چاہئے ۔ یہ تحریک پاکستان کے لئے بہت اہم ہے ۔ اس کہانی میں جومنفی روپ ہیں ان کی بات جہاںتک ہے تو کیا یہاں کے وڈیرے ، جاگیر دار ، دہشت گرد ، خاص طور پر مذہب کی آڑ لے کر خود کو متقی ثابت کرنے والے مسلک کو بڑھاوا دینے والے وہ منفی نہیں ہیں؟ میں سکھوں کو صرف اس لئے پسند کرتا ہوں کہ وہ توحید پرست ہیں۔ موحد ہیں ۔ وہ لا الہ کا اقرار کر چکے ہیں، الا اللہ اب ہم نے انہیںبتانا ہے ۔قلندر ذات باقاعدہ سوچ سمجھ کر لکھا گیا اور لکھ رہا ہوں۔ قلندر ذات ابھی مکمل کہاںہوئی ہے ۔ ابھی تو لکھ رہا ہوں ۔۔ ان شاہ اللہ اس کا پانچواں حصہ مارکیٹ میں آئے گا ۔ اگر زندگی نے وفا کی ۔ کیا سوچ تھی یہ تفصیل آپ قلندر ذات پڑھ کر ہی معلوم کر پائیں گے ۔

(س)عشق کا شین “ لکھنے کا کیا باعث بنا ؟

 (ج) محترم علیم الحق حقی صاحب نے یہ کنفرم کر دیاتھا کہ وہ عشق کا شین مزید نہیںلکھیں گے تو پبلیشر نے لوگوں کی ڈیمانڈ پر اسے مکمل کرنے کی کوشش کرنے کی پیش کش کی۔ میں نے وہ کوشش کی ۔ الحمد للہ قارئین نے اسے نہ صرف پسند کیا بلکہ اگلے حصے کا مطالبہ کر دیا ، میں نے عشق کا شین 3 لکھا تو چوتھے حصے کا مطالبہ ہوا۔ میرے لکھنے کے دوران ہی حقی صاحب نے عشق کا شین 2 پیش کر دیا تو میں نے مزید نہیں لکھا ، کیونکہ یہ میرا کام نہیں تھا ۔میں اعزاز سمجھ کر ان کا کام آگے لے جا رہا تھا ۔اللہ سائیں انہیںجنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔

 (س)”امرت کور“ کا پس منظر تقسیم ہند ہے .اور اس ٹاپک پر جو معیاری ادب لکھا گیا اس کی مثال نہیں ملتی.اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معیاری ادب کسی المیہ (قحط بنگال دوسری جنگ عظیم تقسیم ہند وغیرہ )کا محتاج ہے ؟ کیاجب تک کوئی المیہ جنم نہ لے گا اس پائے کا ادب تخلیق نہ ہوپائے گا؟

(ج)المیہ ہو یا طربیہ یہ ساری انسانی رنگ ہیں ، کہانیاں انہی سے جنم لیتی ہیں اور یہ ضروری نہیںہے المیہ ہی سے کہانیاں اٹھتی ہیں کسی فٹ بال میچ سے بھی کوئی کہانی نکل سکتی ہے ۔

(س)آپ کی بے مثال تحریر”عشق کسی کی ذات نہیں“کا مطالعہ کرکے اکثر قارئین جذبات کے دھارے میں بہتے رہے اس کو تخلیق کرتے وقت آپ کے اپنے جذبات کیا تھے ؟

(ج)سرگودھا سے ایک خاتون ڈاکٹر تھیں ۔ وہ اپنی کتھارسس کرتی رہتی تھیں ۔ میری کم سنتی تھیں اور اپنی زیادہ سناتی تھی۔ انتہائی کنفیوژ تھیں۔ انہوں نے حجاب کے ساتھ پڑھابھی اور پریکٹس بھی کر رہی تھیں ۔ ان کے ساتھ بہت ساری باتیں ہوتی تھیں ، ہوئیں کیا ان کی زیادہ سنیں۔ تاریخ تک رسائی لی گئی ، دوسرا انہیں دنوں شہید حجاب الشربینی کو شہید کر دیا گیا۔ یورپ اور ترکی میں بھی حجاب کا معاملہ چل رہا تھا ۔ ان سب نے مجھے یہ ناول لکھنے پر مجبور کیا ۔ اگر عورت حجاب لینا چاہے تو یہ اس کا حق ہے اور حجاب عورت کی ترقی میں حائل نہیں۔ کسی دوسرے کو اس پر تنقید کا حق بھی نہیں۔

(س)آپ کا ناول” تاج محل“ جس میں آپ نے شاہجہان اور ملکہ کی محبت دکھائی مگر ملکہ کی وفات کے بعد شاہ کی دیگر شادیوں کا کہیں ذکر نہیں کیا ۔شاہ کی ملکہ بننے سے پہلے ملکہ کسی اور کی بیگم تھی جسے شاہ نے سازش سے مروا دیا اس کا بھی ذکر نہیں ۔ یہ کیسی محبت تھی کہ شایدملکہ گیارویں بچے کی ولادت کے بعد کمزوری کی بنا پر وفات پا گئی۔ یہ کیسی محبت ہے کہ ملکہ کے مرنے کے بعد شاہ صاحب ملکہ کی بہن سے شادی کر لیتے ہیں؟

(ج)آپ نے تاج محل ناول پورا پڑھا ہو تو میں نے اس میں تاج محل کیسے بنا ؟ کے سوال کو اہمیت دی ۔ اس کے پس منظر میں کہانی بھی بیان کرنے کی کوشش کی ۔میرا موضوع نہ شاہ جہاں تھا نہ ملکہ ۔ تاج محل تھا۔

(س)”فیض عشق “میں آپ نے عورت کو گھر میںمحبوس رکھنے کی روایت کا ذکر کیا ہے کیا آپ اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں؟

(ج)یہ ایک بہت طویل موضوع ہے جو آپ نے چھیڑ دیا۔ سب سے پہلے ہمیں عورت کو دوسری مخلوق نہیں ،ایک انسان سمجھنا ہے اور دوسری بات ہم نے ترقی کس چڑیا کا نام رکھا ہوا ہے ۔ میں صرف دو باتیں کہتا ہوں آپ اس سے اپنا جواب تلاش کر سکتے ہیں ۔ ایک بس ہوسٹس لڑکی ہے ہم اسے بیٹی بہن کہنا کس حد تک پسند کرتے ہیں؟ وہ کس مجبوری میں یہ کام کر رہی ہے۔ ہمارا معاشرہ اسے وہ کام کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر روزگار پا سکے ؟ ہم اسے گندی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں ،لیکن اسے بیٹی یا بہن نہیں کہہ سکتے تو ہمارا معاشرہ منافق ہے ۔اگر ہم اسے روزگار نہیں دے سکتے تو اسے گندی نگاہوں سے دیکھنے کا حق بھی نہیںرکھتے ۔ اگر ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں تو اپنے من کا حساب آپ خود کر لیں،کیا ترقی یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو گھروںمیں نہیں رکھ سکتے ۔ دوسری بات آج ملک کی ہر خاتون کو زندگی گزارنے کے لئے ایک معقول رقم ماہانہ ملنا شروع ہو جائے تو میرا خیال ہے وہ شادی بھی نہ کریں۔ تب پتہ چلے کہ مرد کیا ہے اور مردانگی کیا ہے ۔ مردانگی یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اپنے گھر تک محدود رکھ کر زندگی کی تمام سہولتیں دیں اور انہیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ کسی جبر میں ہیں ان کا کام ایک قوم کی تشکیل ہو، اُمت کی تربیت ہو ۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی اور تربیت یافتہ ہو یہ ہے ترقی ۔ گھر کی چار دیواری کے تحفظ میں، اعلی تعلیم یافتہ عورت کی گود میں پلنے والا بچہ اور ایک جبر کی ماری محبوس عورت کی گود میں پلنے والا بچہ کیسا ہوگا؟میں اس حق میں نہیں ہوں کہ عورتوں کی گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا جائے۔ گھر کی چاردیواری اس کا تحفظ ہو ۔ وہ چاہے تو کاروبار بھی کر سکتی ہے اور ملازمت بھی۔معاشرہ اسے تحفظ اور احترام دے۔

(س)”عشق کا ق “ایسی کہانی تھی جس کے لیے میں اسپیشل رسالہ خریدتا رہا۔ یہ کہانی لکھنے پر آپ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔اس کہانی کے لکھنے کا سبب کیا تھا؟

(ج)میری روہی ،میرا چولستان ،میں چولستان کا باسی ہوں اور اس میں یہ ایک سچی کہانی تھی ۔ جس نے مجھے متاثر کیا تھا ۔ اسی پر” سکھاں“ ڈرامہ بنا تھا۔

(س) عورت زاد لکھنے کا خیال کیسے آیا؟ عورت زاد میں عورت کے کردار کو کس رنگ میں پیش کیا ہے ؟یہ رنگ آپ کے دیگر ناولز کے رنگ سے ہٹ کر ہے؟

(ج)میری ایک دوست ہے، یہ اس کی کہانی ہے ۔ بہت حد تک سچی اور بہت حد تک اس کی خواہشات پر مبنی ہے ۔بہت عرصے سے مجھے وہ یہ کہانی سنا رہی ہیں ۔ کہانی سنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح میںلکھ رہا ہوں ۔ بلکہ وہ اپنے کام بتاتی ہے ، کتھارسس کرتی ہے اور بہت کچھ کہتی رہتی ہے ۔یہ تین برس پہلے کی کہانی ہے جسے اب لکھ رہاہوں۔ قلندر ذات اور دوسرے ناول میںمیرا بنیادی موضوع عشق اور تصوف ہے ۔ لیکن عورت زاد میں یہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عورت بھی انسان ہے ، اس میںبھی سارے جذبے موجود ہیں وہ اگر کچھ کرنے کی ٹھان لے تو کر گذرتی ہے ۔ انسان ہونے کے ناتے اس میں انسانیت اور حیوانیت پوری طرح موجود ہے۔وہ کون سے محرکات ہیں، جن سے وہ کیا سے کیا ہوتی ہے۔

(س)آپ کی کتاب” کامیابی 30 دنوں “میں کس موضوع پر لکھی گئی ہے ؟

(ج)یہ ایک بھارتی عیسائی پادری کی کتاب ہے ۔یعنی ترجمہ ہے ۔ انہوں نے زندگی بدلنے کی بہت چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کی ہیں جو مجھے اچھی لگیں ۔میں نے ترجمہ کر دیا ۔

(س)”منٹو کے نسوانی کردار“ ایک تحقیقی کتاب ہے اس کے لکھنے کا خیال کیسے آیاآپ کو؟

(ج)منٹو انسان کی نفسیات میں اتر جانے والا افسانہ نگار ہے ۔ اس نے مردو عورت کی نفسیات کا تجزیہ بہت اچھا کیا ۔ جب میں منٹو پڑھ رہا تھا تو خیال آیا کہ انہوں نے جو نسوانی کردار نگاری کی ہے اسے الگ سے دیکھوں ۔ وہ منتشر سا مواد میرے پاس پڑا تھا وہی کتابی صورت میں ڈھل گیا۔

(س)کوئی ایسا شعر سنائیں جو ہر دور میں آپ کو پسند رہا ہو ؟اپنے پسندیدہ اقبال وغالب کے علاوہ شاعر کا نام ؟

مابین جبر و قدر کھڑاا سوچتا ہوں میں

 اپنا گلہ کروں کہ تمہارا گلہ کروں

 شاعر نامعلوم

” میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے“

(ساغر صدیقی )میں آج تک اس ایک مصرعے سے باہر نہیں نکل سکا ۔۔

(س)آپ نے پہلا شعر کب اور کس سے متاثر ہوکر کہا

(ج)پہلا شعر ایک لڑکی کے لئے کہا تھا جو مجھے بہت اچھی لگتی تھی ۔ اب تک اسے پتہ نہیں کہ میںنے اس کے لئے کوئی شعربھی کہا تھا ۔یہ لڑکپن کا زمانہ تھا۔ غالبا 1981ءکی گرمیوں میں۔

(س)آپ کا مجموعہ کلام ”تمھیں چاہوں گا شدت سے “ہے کیا اس کے بعد شاعری نہیں کی یا اور مجموعہ کلام چھپوایا نہیں۔

(ج)شاعری تو یونہی ایک شوق تھا ، اور یہ شو ق صرف اس لئے تھا کہ اگر میں کسی رسالے کا مدیر بن جاﺅں تو مجھے شاعری کے لئے کسی کے پاس نہ جانا پڑے ۔ دوسرا میری شاعری ،بلکہ یوں کہوں کہ شاعری کسی دل جلے شاعر کی بد دعا تھی تو غلط نہ ہوگا ۔ پھر کچھ اندر بھی ٹوٹ پھوٹ ہوئی تو ٹوٹی پھوٹی شاعری ہو گئی ۔

(س) آپ کا ناول چہرہ کیسا ہے ؟ اس میں کون سا مقصد چھپا ہے ۔میں نے پڑھا نہیں اسے ؟

(ج)’ چہرہ“ ایک ایسا ناول ہے ۔ جس میں نفسیاتی الجھنوں اورفلسفہ کا امتزاج ہے ۔ہر انسان اپنے اندر قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں سے مالا مال ہے ۔ اگر انسان کا من شفاف ہے تو اسے دنیا کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے ۔ماحول اور حالات چاہے جتنا مرضی اس کی ذات کو آلودہ کریں، اس کے اندر کا اچھا انسان بیدار ہو کر ہی رہتا ہے ۔یہ ہی موضوع ہے ۔

(س) یوں تو آپ کے سبھی ناولز میں وطن کی محبت ہے لیکن خاص اس مقصد کو سامنے رکھ کر کون سا ناول لکھا؟

(ج)” دھوپ کے پگھلنے تک “ اس ناول کا موضوع یہ پیغام ہے کہ بنا تشدد کے بھی انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔عوام اگر اپنے حقوق کا ادراک کر لے تو کوئی سامراج ان پر حکومت نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں رائج غلط سیاسی اقدار اور چند خانوادوں کی اجارہ داریوں کو موضوع سخن بنایا ہے ۔ بنیادی طور اس ناول کا موضوع وطن سے محبت ہے ۔اسی طرح ”روشن اندھیرے“ بھی میرا ایسا ہی ناول ہے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ان لوگوں کی داستان ہے جو محب وطن ہیں اور وطن دشمن عناصر کی سرگرمیوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

(س)آپ کا رسائل کے مدیر کے ساتھ اور رسائل کے مدیر کا آپ کے ساتھ کیسا رویہ رہتا ہے ۔چند مدیر خود کو بہت اعلی خیال کرتے ہیں ۔اپنی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں ۔نئے لکھاریوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔ان کا حق مارتے رہتے ہیں ،کسی حد تک حاسد بھی ہوتے ہیں۔کسی کو مشورہ دینا ،رہنمائی کرنا ان کی شان کے خلاف ہوتا ہے ۔کچھ مدیر اس کے الٹ بھی ہوتے ہیں ۔انسان دوست ادب دوست ۔اس بارے آپ کا مجموعی تجربہ کیا ہے ؟

(ج)میں اپنے موڈ سے لکھتا ہوں اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے جہاں جہاں بھی لکھا مجھے عزت اور مان دیا گیا۔ شروعات سچی کہانیاں سے کی تو شمیم نوید صاحب ملے ، بہت پیار دیا ۔ سہام مرزا صاحب سے دانش دیروی صاحب سے ۔آداب عرض کے مدیر خالد بن حامد صاحب سے بہت پیارا تعلق تھا، میں ان سے معاوضہ نہیں لیتا تھا، بس تعلق تھا ۔ پھر حکایت کے عارف محمود ۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں ،لیکن ایک بے بس مدیر،وہ اپنے مالک سے لکھاری کےلئے اعزازیہ تک نہیں دلوا سکتے لیکن ان کے لیے میںنے لکھا کہ وہ اچھے انسان ہیں اور نئے افق کے عمران قریشی ان کا بات کرنے کا انداز اور دوستانہ رویہ مجھے بہت بھایا۔ یقین جانیں دل خوش ہوتا ہے ان سے بات کر کے ۔پھر اقبال بھٹی صاحب وہ تو درویش بندے ہیں ، عاجز اور انتہائی مٹے ہوئے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مجھ جیسے گنہ گار کو درویش سمجھتے ہیں ۔ اس کے بعد طاہر قریشی ان کارویہ بھی بھائیوں جیسا ہے ، انہوںنے کبھی مدیر والی بات ہی نہیں کی ۔کچھ مدیر ایسے ہیں جن سے میںخودرابطہ نہیںکرتا ۔ شرم سار ہوتا ہوں ۔ مثلا انوار علیگی صاحب ، میں فون کروں تو کہانی لکھنے کا حکم ۔ میں لکھ نہیں پاتا ۔ اقلیم علیم صاحب انہوں نے بہت عزت دی لیکن معاملہ وہی ۔ اللہ ان سب کو جزا دے ۔ مجھے ہر جگہ سے عزت اور مان ملا ہے کیونکہ وہ سب اچھے انسان ہیں۔ بہت اچھا رویہ ملا ہے۔

(س)سر مستقبل کے بارے میں بشرط زندگی کیا پروگرام ہے خاص کر ادب کے حوالے سے ؟

(ج)مستقبل قریب تک تو بشرط زندگی بہت کچھ لکھنے کا ارادہ ہے ۔ موضوع تو وہی ہیں لیکن خیال بہت سے ہیں ۔ ایک لمبی قطار ہے۔ سوشل میڈیا پر میں اپنی ایک آفیشل ویب سائٹ لے کر آ رہاہوں ۔ دیکھیں یہ پراجیکٹ کہاں تک پہنچتا ہے ۔

(س) نئے لکھاریوںکو آپ کیا مشورہ دیں گے؟

(ج )نئے لکھاری کوئی اجنبی نہیں ہیں ، وہ ہماری ہی برادری ہیں ۔ جہاںتک ممکن ہو سکے ان کے ساتھ تعاون کرنا فرض بنتا ہے ۔ اصل میں پرانے لکھاری کہاں آ کر نئے لکھاری سے زچ ہوتے ہیں ۔ جب نئے لکھاری خود کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ انہیںکہاجاتا ہے کہ یوں نہیں یوں ہوتا ہے تو بحث ….پرانا لکھاری اپنا وقت ضائع نہیںکرتا۔ تب نئے لکھنے والے شکایت کرتے ہیں ۔ دوسرا چند کہانیاں لکھنے کے بعد نئے لکھاری خود کو بڑا ادیب ماننے لگتے ہیں، ایسا ہوتا ہے ، ہم بھی اسی فیز سے گذرے ہیں ۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جہاں پر آ کر احساس ہوتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں۔تاہم نئے لکھاریوں کو یہی مشورہ ہے کہ اگر انہوں نے سیکھنا ہے تو ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں ۔میں تو کہتا ہوں کہ انہیںتجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے ۔اسی طرح پرانے لکھاریوں کا فرض بنتا ہے ہم جیسے نوآموز کے لئے اپنا وقت دیں، ہمیں سکھائیں اور حوصلہ افزائی فرمائیں اور میرے جیسے نوآموز کو چاہئے کہ جو دے رہے ہیں انہیں لے لیں،بحث کرکے وقت ضائع نہ کریں۔ اگر میرے جیسے نوآموز اتنے ہی قابل ہیں تو رہنمائی کیوں لینا چاہتے ہیں؟

(س)کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو مقصد سوچ کر آپ نے لکھنا شروع کیا تھا۔کیا اپنا مقصد حاصل کر لیا؟

(ج)جی بالکل حاصل ہو رہا ہے ۔ اور ان شاہ اللہ ہوتا چلا جائے گا۔

(س)سر آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے اتنا وقت دیا اور ہر سوال کا بھر پور جواب دیا۔ سچی بات ہے ہم آپ کے انداز تحریر سے تو واقف تھے ہی مگر یہاں آپ کی بے تکلفانہ اور سادہ انداز میں گفتگو بہت اچھی لگی۔بہت کم لوگ دیکھے ہیں جو کسی مقام پر پہنچ جانے کے بعد نرم مزاج رہتے ہیں۔بلاشبہ! یہ ایک یادگار انٹرویو ہے۔اس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔آپ کا ایک بار پھر شکریہ۔

(ج)آپ کا بھی بہت شکریہ جو میرے جیسے کم علم سے اتنے علمی سوال کیے ۔ آپ سب دوستوںنے مجھے اس قابل سمجھا ۔ میں نے کوشش کی آپ جیسے صاحبان علم کے سوالوں کے جواب دے سکوں ۔کہیں کوئی بھول ہو گئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

امجد جاوید سے قارئین کے سوالات

مرتب: صبا عیشل

صباءعیشل: آپ کے دور کے وہ کون سے رائٹر ہیں جن کی تحریریں آپ کو پسند ہیں؟

امجد جاوید: صبا…. میں کوئی پرانے دور کا تو نہیں، میرا یہی دور ہے…. محی الدین نواب ، ایم اے راحت ، ابن آس، اختر حسین شیخ ، عمیرہ احمد اور بہت سارے ہیں جو اٹریکٹ کرتے ہیں۔

صبا ءعیشل: اگر امجد جاوید سے انکی اپنی تصانیف میں سے کسی ایک کو چننے کا کہا جائے تو جواب کیا ہوگا؟

امجد جاوید: قلندر ذات جس کے چار حصے مارکیٹ میں ہیں ، اس موضوع پر پہلے کسی نے نہیں لکھا۔

صبا ءعیشل: آپ نے اخبار کیلئے بھی کام کیا۔۔ آجکل جو نئے لوگ اخبار کیلئے لکھ رہے ہیں انکے کام سے مطمئن ہیں؟

امجد جاوید: جی بالکل مطمئن ہوں ، دراصل ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، اب ورائٹی ہے ، لکھنے والے بہت ہیں خیالات نئے ہیں ، زیادہ موضوع ہیں۔ جہاں تک اچھے برے کی ہے تو ہر دور میں ہوتا ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ ایک چیز مجھے نا پسند ہے لیکن وہ دوسروں کو بہت پسند ہے۔

حنین ملک: آپ لکھنے کی طرف مائل کیسے ہوئے؟کس سے متاثر ہو کر لکھا؟ آج کل کی تحریروں سے مطمئن ہیں؟

امجد جاوید:بس اچانک ایک دن خیال آیا کہ کیا میں کہانی لکھ سکتا ہوں ،، میں نے لکھی اور ایک دائجسٹ کو بھیج دی ، بس پھر میں متاثر کسی سے نہیں ہوا ، لیکن پڑھتا رہا تھا سب کو۔ سبھی اچھا لکھ رہے ہیں۔

راو ¿ رفاقت علی: سر جی آپ نے سب سے پہلے اسٹوری لکھی یا کالم اور وہ معاشرے کی کی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا؟

امجد جاوید:میں نے پہلے کہانی لکھی ظاہر ہے موضوع اسی معاشرے ہی سے لیا۔

راو ¿ رفاقت علی: آج کے ادب کے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے سر جی؟

امجد جاوید:اچھا ہے اور مزید اچھا ہو سکتا ہے اگر دو چیزیں نہ ہوں ایک…. میں میں…. اور دوسرا حسد ہم لکھاری ہی نئے لوگوں کی آمد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

حنین ملک:آپ کو گھر والوں نے کتنا سپورٹ کیا؟

امجد جاوید: نہ سپورٹ کیا نہ منع کیا لیکن سیکھنے کے لئے مجھے بہت محنت کرنا پڑی ، دراصل جہاں میں رہتا ہوں ، وہاں ایسا ماحول تھا ہی نہیں ، ایک خط کا ذریعہ ہوتا تھا یا پھر لینڈ لائن فون۔ ملاقات تو بہت دیر بعد ہو تی تھی کسی بھی بڑے لکھاری سے ، بہر حال یہ میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے بہت سارے مہان لوگوں سے سیکھنے کا موقعہ ملا۔

حنین ملک: زندگی میں کبھی پچھتاوا ہوا آپ کو؟

امجد جاوید:کئی بار ، کئی بار تو کسی رت جگے کے بعد قلم رکھتاہوں تو پچھتاوا ہوتا ہے کہ یار کہاں پھنس گیا۔

افشاں شاہد: میرا سوال ہے ایک اچھی تحریر میں کیا چیز ایسی ہوتی ہے جو پڑھنے والے کو اپناگرویدہ بنا لیتی ہے.؟

امجد جاوید:لکھاری کی اپنے قاری تک اپروچ کا ویژن دوسرے لفظوں میں اسے ابلاغ کے فن سے واقفیت کا نام دیں گے کیسے قاری ہیں اور ان تک کیا بات پہنچائی جا رہی ہے اور پھر جب موضوع انسانیت سے متعلق ہو تو زیادہ لوگون تک رسائی ہوتی ہے۔ ایسی ہی باتیں۔ بہر حال ابلاغ کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔

افشاں شاہد: آپ کا پسندیدہ رائیٹر کون ہے؟

امجد جاوید:صرف ایک نہیں ہے۔

ام ایمن: میرا سوال یہ ہے سر جی کہ ناول لکھنا آسان ہے یا کہانی؟ اور ناول اور ناولٹ میں فرق ہے؟

امجد جاوید: دیکھیں ہر خیال اپنے لفظ خود ساتھ لے کر آتا ہے۔ اب خیال کی کیا ڈیماند ہے۔ اس نے کیاپہناوا لینا ہے ، کہانی کسی بھی صورت میں ہو وہ اپنا ایک منظقی انجام رکھتی ہے۔ خیال سے کہانی کا روپ اور اس کا پہناوا یہ سب خیال ہی طے کرتا ہے۔ اگر لکھاری اسے سمجھتا ہے تو….

سنبل بٹ: ہماری آج کی سیاست کے بارے میں کیا کہنا ہے آپ کا؟

(ج)کیا ہم سچ میں آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟آگے مطلب کامیابی کی طرف؟

عصر خان: جب انسان کچھ لکھنے بیٹھتا ہے تو ذہن میں جو الفاظ ترتیب دیئے ہوتے ہیں بعض اوقات وہ ویسا نہیں لکھ پاتا یا شاید الفاظوں کو جملوں کی شکل دینا مشکل سا ہوجاتا ہے کہ جو انسان چاہ رہا ہو وہ لکھ نہیں پاتا۔ ایسا کبھی آپ کے ساتھ ہوا؟

امجد جاوید:خیال اپنے لفظ لے کر آتا ہے…. لیکن رکاوٹ تب آتی ہے جب الفاظ کی کمی ہو۔ غیر اردو کے لفظ در آتے ہیں۔ روانی الفاظ کی بنا پر بنتی ہے۔ سو اس پر قابو پانے کے لئے اساتذہ پڑھنا ہی تجویز کرتے ہیں جس سے الفاظ کا ذخیرہ بڑھتا ہے۔

مسکان احمد: میرا سوال ہے کہ عشق کا ش اور عشق کا ق…. کیا عشق کی کسی خاص کیفیت کا مظہر ہیں؟

امجد جاوید: رب تعالی نے کتاب مقدس میں فرمایا شدید محبت شدید محبت کی کیفیت کو عشق کی کیفیت کہتے ہیں۔

صبا ءعیشل: آپ کیا سمجھتے ہیں اچھا مصنف بننے کیلئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

امجد جاوید: حسد کوچھوڑنا ہوگا دوسروں کو خاص طور پر بڑوں کا کہنا ماننا ہوگا پورے دل سے ، اگر سیکھنا ہے کیونکہ کوئی کچھ بھی کر لے میں آپ یا آپ میں نہیں بن سکتا۔میری اپنی جگہ آپ کی اپنی جگہ جب یہ مان لیا جائَ گا تو ہم یہ دیکھ لیتے ہیںکہ ہم کس مقام پر ہیں۔ پھر محنت ہے۔

صبا ءعیشل: آپ کی پسندیدہ شخصیت کونسی ہے؟

امجد جاوید:خاتم الرسل حضرت محمد صل اللہ علیہ واسلم۔۔۔ جو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں۔

صبا ءعیشل: بچوں کے ادب میں معیار کے بڑھتے ہوئے فقدان اور یکسانیت پر آپ کی کیا رائے ہے؟

امجد جاوید: دراصل بچوں کے ادب پر سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ یہ بات نہیں کہ اچھا ادیب نہیں ملتا۔ بہت بڑے اور کہنہ مشق لکھاری موجود ہیں۔لیکن کب تک۔

صبا ءعیشل: اگر آپ کے ناولز میں سے آپ کو کوئی ایک کردار منتخب کرنے کو کہا جائے تو وہ کونسا کردار ہوگا؟

امجد جاوید: یہ مشکل ہے کوئی ایک نام امرت کور، پی اون…. مہرو۔

صباءعیشل: نوجوانوں میں مطالعہ کی عادت کم ہوتی جارہی ہے آپ اس کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں؟

امجد جاوید: خود نوجوان نسل کو اگر انہیں کچھ بننا ہے تو مطالعہ لازمی ہے۔

افشاں شاہد: جب انسان کچھ بن جاتا ہے تو وہ غرور کیوں کرنے لگتا ہے ؟

امجد جاوید: کبھی ہم سمجھتے ہیںکہ وہ مغرور ہے کبھی وہ ایسا ہوتا ہے۔ ہمارے اور کامیاب انسان کے ماحول میں فرق ہوتا ہے۔

افشاں شاہد: اگر کسی کی تحریر آپ کے معیار پر پوری نہیں اترتی تو آپ کیا کرتے ہیں۔ سر اس کاحوصلہ بڑھاتے ہیں۔ یا اسے جھڑک دیتے ہیں۔؟

امجد جاوید: میں تو ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتا ہوں کیونکہ میں اس کرب سے گزرا ہوں۔ ہوتا دراصل یہ ہے کہ آج کا نیا لکھاری سیکھنا ہی نہیں چاہتا ، ایک کہانی اگر لکھ لی وہ شائع ہو گئی تو معاملہ کچھ دوسرا بن جاتا ہے۔ جب ہم کسی کو کوئی شے دکھاتے ہیں تو کس لئے۔ مشورہ یا مدد۔ جب کوئی مشورہ نہیں مناتا ی امشورے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو لازمی بات ہے کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ فضول خرچ کرے۔ میرے ساتھ خود ایسا تجربہ چند دن پہلے ہو چکا ہے ، ایک خاتون جو ناول نگار بھی ہیں، انہیں یہ مشورہ دیا کہ یوں نہیں یوں وہ خاتون بجائے شکریہ کہنے کے بولیں کہ آپ مجھے انڈر اسٹیمیٹ مت کریں۔ اب بتائیں آج کا لکھاری محنت نہیں کرنا چاہتا ، جو کرتا ہے وہ کامیاب ہے۔

سمیعہ علی: آج کل جیسا ادب سامنے آریا آپ اس سے مطمئن ہیں؟

کافی کو پڑھا…. یکسانیت ہے اور کاپی کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاہم عمیرہ احمد نے بہت اچھا لکھا ہے۔ اس کے علاوہ کئی نام ہیں

سباس گل(رائٹر): آپ نے بہت عمدہ ناولز لکھے ہیں یہ بتائیں آپ کو خود اپنی کونسی تحریر پسند ہے۔؟

(ج)ایک چھوٹی سی کہانی تھی یہی ڈائجسٹ کے 20 صفحات نام تھا کوکھ پر مصلوب بیٹا لکھتے ہوئے خود روتا رہا ایک سچی کہانی تھی۔

سباس گل: زندگی نے آپ کو کیا سکھایا؟

(ج)ہمیشہ مثبت رہنے کی کوشش کریں اس سے بہت ساری غلط چیزوں سے بچا جا سکتا ہے۔

شہباز اکبرالفت(رائٹر): بچوں کے ادب سے ناتہ کس حد تک برقرار ہے؟

(ج)بالکل ہے جناب لیکن کہانی نہیں لکھ پارہا اکا دکا کہانی چلتی رہتی تھی لیکن اب مسلسل لکھنے لگا ہوں جلد ہی آپ تسلسل دیکھیں گے۔

شہباز اکبر الفت: سر کیا سکھاں سیریل لگ چکا ہے ٹی وی پہ؟ کس چینل سے اور کیاوہ آن لائن دستیاب ہے اگر دیکھنا چاہوں تو کیسے دیکھوں؟

امجد جاوید:آن لائن مل جائے گا…. 2008 میں بنا تھا ….ATV سے۔

ام ایمن: اگر قلم ہاتھ میں ہو الفاظ ذہن میں ہوں مگر قرطاس میں لکھے نا جارہے ہوں تو وجہ کیا ہوگی؟

امجد جاوید: اپنی ذات پر اعتماد کی کمی ہوگی۔

ام ایمن: ایسا کون سا موضوع ہے آپ کے خیال میں جس پر بہت کم لکھا گیا؟

امجد جاوید:کبھی ہوتا تھا کم یا زیادہ …. لیکن اب تو ہر موضوع پر بے باک .بلا جھجک اور بولڈ لکھا جا رہا ہے۔

اشفاق احمد (رائٹر): محترم امجد جاوید بھائی، بہت خوشی ہو رہی ہے آپ کو اس فورم پر دیکھ کر۔اس فورم کے اراکین میں کافی نئے لکھنے والے ہیں، ان کے سوالات دیکھ کر ،ان کی تشنگی کا احساس ہو رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ خوشگوار چیز یہ ہے کہ آپ نے کہیں بھی کنجوسی نہیں دکھائی، رہنمائی کے جام بھر بھر کر لٹائے ہیں۔ دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی آپ سے کچھ پوچھ لوں : آپ کے لکھنے کا مقام، اوقات( آپ کی اوقات نہیں، وقت )، اور اندازِ کار کیا ہے۔ اور اس دورانیے میں کوئی چھیڑنے کی حماقت کر بیٹھے تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے ( یاد رہے اس بات کا ہماری بھابھی سے کوئی تعلق نہیں، انھیں فطری استثنا حاصل ہے)۔

امجد جاوید: بہت مزے کا سوال: پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کو چھیڑنے کا پورا پورا حق ہے اور مجھے چھڑنے میں بھی مزہ آئے گا میں دونوں اوقاتوں کے بارے میں بتائَے دیتا ہوں جواب یہ ہے کہ کوئی نہیں میرا خیال ہی مجھ سے لکھواتا ہے۔ مقام ایک کمرہ ہے ، اس میں ایک بیڈ ہے، بیڈ کا ایک کونا ہے ، میں ہوں اور میرا لیپ ٹاپ ہے ، آپ کبھی تشریف لائیں۔ اس جواب میں انداز کار بھی شامل ہے۔ میرے پاس بچے کھیلتے ہیں ، گاہے بگاہے بیگم بھی کوئی نا کوئی بات پوچھ لیتی ہے ، میں عادی ہو گیا ہوں ، گھر کے ماحول میں لکھنے کا۔

ندیم اختر(رائٹر): امجد بھائی آپ نے لکھنے کا آغاز بچوں کے ادب سے کیا۔ موجودہ دور میں بچوں کا ادب کس جگہ دیکھ رہے ہیں؟ اور مستقبل میں کہاں دیکھتے ہیں؟

امجد جاوید: میں اسے پر سکون ندی کی مانند دیکھ رہاہوں جو بہہ رہی ہے۔ کاروان ادب نے اگر کر کافی ہلچل پیدا کی ہے۔ بات وہی ہے بچوں کے ادب میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ، مطلب اس پر اینی میشن فلمیں بنیں۔۔ اور دوسرے بہت سے کام۔۔۔۔ لیکن اس سے بھی پہلے ہم بچوں کو ایک اچھا انسان بنانے کے لئے ادب تخلیق کرین تو زیادہ بہتر ہے۔

ناہید اختر بلوچ: محترم امجد جاوید صاحب پہلا سوال ”قلندر ذات“ کے حوالے سے ہے کہ اس ناول میں آپ نے جادو کو سرے سے ماننے سے ہی انکار کیا کہ جادو محض ڈر ہے حالانکہ جادو کی حقیقت تو احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے تو آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟ اب پی ٹی وی کے لیے کام نہ کرنے کی وجہ؟ موجودہ اردو ادب کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کوئی انوکھی خواہش؟

امجد جاوید: سکھاں ڈرامہ اے ٹی وی سے 2008 میں چلا تھا۔ ہاں پی ٹی وی پر ایک ڈرامہ چلا تھا جس میں ایک کردار سکھاں کا تھا ، عبدالقادر جونیجو نے لکھا تھا بہت زبردست اور جاندار کردار تھا۔ جادو کی حقیقت اس لئے نہیں ہے کہ جب روشنی آتی ہے تو اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔ اتنی حقیقت نہیں جتنی کاروبار کرنے والوں نے بنا ڈالی ہے۔اور خاص طور پر مسلمان کے لئے تو کچھ بھی حیثیت نہیںرکھتا۔پاکیزہ بندے پر یہ اثر ہی نہیں کرتا۔ ایک حدیث سنائی جاتی ہے ، اسے غلط کوڈ کیا جاتا ہے۔احادیث مبارکہ کو جب ہم سمجھ سمجھا کر دیکھیں تو میری بات کی تائید ہوگی۔ موجودہ اردو ادب ماشا اللہ ترقی کر رہا ہے۔ لکھنے والوں کی اتنی تعداد پہلے کبھی نہیںتھی ظاہرہے پڑھنے والے ہیں تو یہ تعداد ہے۔ انوکھی خواہش تو ایک بار چاند کو چھو کر دیکھا تھا ، پھر وہ ہمارا ہی ہوگیا سورج بن کر۔

صبا ءعیشل: نئے لکھاریوں کیلئے کوئی پیغام؟

امجد جاوید: محنت

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

طاہر جاوید مغل سے مکالمہ ۔۔ سیف خان

      ایک شام طاہر جاوید مغل کے ساتھ (انٹرویو و تعارف) سیف خان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے