سر ورق / یاداشتیں / دیوتا کوچ کر گئے۔۔۔ سید انور فراز

دیوتا کوچ کر گئے۔۔۔ سید انور فراز

دیوتا کوچ کرگئے

جو بادہ کشت تھے پُرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

فروری کا آغاز اردو ادب کے لیے ایک سے زیادہ سانحات کا باعث رہا، جناب انتظار حسین، محی الدین نواب، ندا فاضلی،معروف نعت گو عارف منصور اور ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اور اپنی بے شمار یادیں ہمارے لیے چھوڑ گئے۔

ندا فاضلی انڈیا میں تھے، ایک بار پاکستان بھی آئے مگر ہم نے انہیں کبھی نہیں دیکھا، ان کی شاعری نظر سے گزرتی رہی، انتظار حسین سے بھی واجبی سی دو تین ملاقاتیں رہیں مگر محی الدین نواب کے ساتھ ایک طویل عرصے کا ساتھ رہا،تقریباً 21 سال ہم ایک ہی ادارے سے وابستہ ہونے کے سبب ایک دوسرے سے بہت قریب رہے، نواب صاحب سے پہلی ملاقات غالباً 1983 ءمیں ہوئی تھی، جب ہم نے ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں کام شروع کیا لیکن غائبانہ تعارف ان کی شہرہ آفاق اور دنیا کی طویل ترین کہانی ”دیوتا“ کے ذریعے ہوا تھا گویا ہم بھی ان کے قارئین میں شامل تھے، بعد ازاں نواب صاحب سے نہایت گہرے دوستانہ مراسم رہے اور تقریباً 5 سال تک ہم نواب صاحب کے پڑوسی بھی رہے،ان کی تیسری بیگم ہمارے قریب ہی رہتی تھیں اور وہ اپنا زیادہ وقت ان ہی کے پاس گزارتے تھے،اس طرح نواب صاحب کو بہت قریب سے جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا، وہ بلاشبہ ایک حیرت انگیز کرشماتی شخصیت کے مالک تھے، اپنی سنجیدگی اور بردباری کے باوجود نہایت شگفتہ مزاج انسان تھے۔

نواب صاحب کی تاریخ پیدائش 3 ستمبر 1930 ءبتائی جارہی ہے لیکن ہمیں انہوں نے 1928 ءبتائی تھی تاکہ ان کا زائچہ ءپیدائش بنایا جاسکے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہی درست سالِ پیدائش تھا، اپنے ایک انٹرویو میں نواب صاحب نے کہا کہ وہ بنگال کے شہر کھڑک پور میں پیدا ہوئے اور بنگالی ہیں لیکن ہمیں ایک بار بتایا تھاکہ ان کے والدین کا تعلق مدراس سے تھا، بہر حال ان باتوں کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی،اس میں کوئی شک نہیں کہ نواب صاحب ایک خلاّق ذہن کے مالک قلم پیشہ مزدور تھے ، وہ ماہانہ بے تحاشا لکھتے تھے اور اپنی ضرورت کے پیش نظر انہوں نے لکھنے کے بجائے بولنے کی روایت کو اپنایا، یعنی وہ اپنی کہانیاں مائیک میں بولتے ہوئے ریکارڈ کیا کرتے تھے،بعد میں ریکارڈ شدہ کیسٹ کو کاغذ پر منتقل کرلیا جاتا تھا، ان سے پہلے مشہور مصنف ایم اے راحت بھی اسی طریق کار پر کاربند رہے۔

اگرچہ وہ بے شمار چھوٹی بڑی کہانیوں کے خالق رہے جو بلاشبہ مقبولیت حاصل کرتی رہیں لیکن انہیں سب سے زیادہ شہرت ”دیوتا“ سے ملی جو غالباً 1977 ءمیں شروع ہوئی اور ایک طویل عرصہ جاری رہی، اس کہانی نے طویل کہانی کا ورلڈ ریکارڈ بریک کیا، نواب صاحب کا ایک پرستار جو نواب شاہ میں تھا، اب ہمیں اس کا نام یاد نہیں رہا ہے،برسوں اس کوشش میں مصروف رہا کہ اس حوالے سے نواب صاحب اور دیوتا کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوجائے لیکن خدا معلوم وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوا یا نہیں؟ اور اب کہاں ہے اور کس حال میں ہے؟

دیوتا ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتی رہی جس کے پبلشر جناب معراج رسول تھے اور ایڈیٹر اقبال پاریکھ، لیکن بعد میں اقبال پاریکھ نے ادارہ چھوڑ دیا اور اپنا ذاتی پرچا نکال لیا تھا۔

جاسوسی ڈائجسٹ کے بعد جب معراج صاحب نے سسپنس ڈائجسٹ کا اجراءکیا تو یہ پرچا زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوا اور ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب معراج صاحب اسے بند کرنے کے بارے میں سوچنے لگے، اسی دوران میں محی الدین نواب ان کی نظر میں آگئے، معراج صاحب کی ایک بڑی خوبی فن اور فنکار شناسی تھی،وہ اکثر گُدڑی میں لعل ڈھونڈ لیا کرتے تھے،بہت زیادہ ”پڑھاکو“ آدمی تھے، ان کی نظر سے نواب صاحب کے لکھے ہوئے چند ناول گزرے جو انہوں نے دیبا خانم کے نام سے تحریر کیے تھے،اس کے بعد وہ کہاں رکنے والے تھے! نواب صاحب کو لاہور سے کراچی لے آئے ، یہاں ان کی رہائش کا بندوبست کیا گیا اور اس طرح نواب صاحب ہمیشہ کے لیے ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکیشنز کے لیے مخصوص ہوگئے، ان کی کہانیاں سسپنس اور جاسوسی میں شائع ہونے لگیں اور بالآخر سسپنس میں دیوتا کا آغاز ہوا جس نے سسپنس کی اشاعت کو بام عروج تک پہنچادیا۔

دیوتا کی مقبولیت ماضی کی تمام سلسلے وار کہانیوں کو پیچھے چھوڑ گئی اور اس طرح سسپنس کی اشاعت بھی بڑھتی چلی گئی،اس نے ایک لاکھ کی اشاعت کا ہدف عبور کرلیا، گویا اپنے پیش رو جاسوسی ڈائجسٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

جب کوئی مصنف مقبولیت کی انتہا کو چھولیتا ہے تو حریف پبشلرز اسے توڑنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، اس حوالے سے بہت سے مصنفین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں لیکن محی الدین نواب شاید وہ واحد مصنف تھے جنہوں نے کبھی معراج صاحب کو اور سسپنس ڈائجسٹ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کیا اور ایسا بھی نہیں تھا کہ انہیں بھاری معاوضوں کی پیش کش نہ ہوئی ہو مگر نواب صاحب اپنی زندگی کے آخری لمحے تک ، حد یہ کہ معراج صاحب کی ادارے سے علیحدگی کے بعد بھی ادارے سے جڑے رہے،ہمیں نہیں معلوم کہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ ان کی طویل خدمات کا اعتراف کس طرح کرے گا؟اس حوالے سے ادارے کا اب تک کا ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں ہے،اگر معراج صاحب اپنے ہوش و حواس میں ہوتے اور ادارے کی سربراہی کر رہے ہوتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی،نواب صاحب سے ان کے ذاتی مراسم بڑے گہرے اور برادرانہ تھے،وہ ان کے ناز، نخرے اٹھانے میں کبھی کمی نہیں کرتے تھے، کراچی آنے کے بعد نواب صاحب نے دوسری شادی کی اور پھر تیسری شادی کی اور یہ سب کچھ معراج صاحب کے دم قدم سے ہوا،وہ انہیں ہر طرح سپورٹ کرتے رہے،اس کی وجہ ان کی معراج صاحب اور ادارے سے گہری وابستگی اور پرخلوص خدمات تھیں۔

انشاءاللہ کسی اور موقع پر نواب صاحب کے حوالے سے اپنی ذاتی یاد داشتیں پیش کریں گے، اس وقت صرف ایک واقعہ پیش خدمت ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نواب صاحب جو بظاہر ایک غیر مذہبی شخصیت نظر آتے تھے ، اندر سے کتنے مذہبی تھے۔

ایک بار کسی کہانی پر ان کا نام ”نواب محی الدین“ شائع ہوگیا، دوسرے ہی دن نواب صاحب دفتر آگئے اور سخت احتجاج کیا کہ میر انام محی الدین نواب ہے ، نواب محی الدین نہیں ہے،اس پر ہمارے دوست اور کلیگ جناب وصی بدایونی جو ان دنوں سسپنس ڈائجسٹ کے نائب مدیر تھے، کہنے لگے ” نواب صاحب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ”نواب“ پہلے آئے یا بعد میں؟“

نواب صاحب نے کہا کہ ممکن ہے آپ کو فرق نہ پڑتا ہو، مجھے تو پڑتا ہے،میرا نام والدین نے حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ کے نام پر تبرکاً رکھا تھا، نواب میری عرفیت ہے کیوں کہ میری والدہ محبت میں مجھے نواب کہتی تھیں،میں نے اس عرفیت کو نام کے آگے لگالیا یعنی محی الدین کے بعد، میری نظر میں نواب کا اس نام سے پہلے آنا ، اس نام کی توہین ہے،یہ کہتے ہوئے نواب صاحب کمرے سے باہر نکل گئے اور وصی صاحب اور ہم ان کی اس بات پر حیران رہ گئے کیوں کہ ہم ان کی تمام رندانہ سرمستیوں سے واقف تھے۔اللہ بس، باقی ہوس۔

اسی مہینے میں ہمارے یار طرح دار جمال احسانی کی برسی ہے،انتقال سے ایک روز پہلے یعنی ہفتے کے روز ہم جمال کے گھر گئے تو ان کی طبیعت بہت بہتر تھی، اپنی عادت کے مطابق خوب چہک رہے تھے اور بضد تھے کہ اپنا مجموعہ کلام اسی مہینے میں کاپی پیسٹنگ کے مرحلے میں داخل کیا جائے، ہم سے کہنے لگے ”فراز! اگلے ہفتے تم بیوی کے ساتھ آجاو ¿ اور رات یہیں رہو، میں چاہتا ہوں کہ پیسٹنگ تمہاری نگرانی میں ہو“ ۔

ہم نے کہا کہ بھائی ابھی آپ کی طبیعت مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئی ہے، ذرا صبر سے کام لو مگر وہ بضد رہے اور آخر ہم نے آئندہ ہفتے آنے کا وعدہ کرلیا، دوسرے روز اتوار تھا اور جمال کے بچپن کے دوست مشہور شاعر و ادیب ساجد امجد (سرگزشت فیم مصنف) ملاقات کے لیے پہنچے تو ان پر ایک نئی دھن سوارتھی ، بقول ساجد امجد وہ بیٹی کی شادی کے لیے ایک بڑا صندوق خریدنے کے لیے بضد تھے، حالاں کہ اس وقت تک دور دور تک بیٹی کی شادی کا کوئی امکان نہیں تھا، آخر کو ساجد نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے ہمراہ جاکر ایک بڑا سا جست کا صندوق لے آئے، عام طور پر ایسے بڑے بڑے صندوق جہیز کے سامان میں شامل ہوتے ہیں،اسی روز گھر میں مچھلی پکوائی گئی اور خوب کھائی گئی،واضح رہے کہ جمال ”کھانے پینے“ کے بہت شوقین تھے اور کھانا بھی بہت عمدہ ہونا چاہیے، جمال کو اعلیٰ درجے کے کھانوں کا بڑا شعور تھا، وہ پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کے مریض تھے ، ابھی خطرے سے باہر آئے تھے کہ بہت زیادہ مچھلی کھانے کی بدپرہیزی سرزد ہوگئی اور رات ہی میں طبیعت دوبارہ ایسی بگڑی کہ پیر کی صبح ان کے انتقال کی خبر ہم نے اپنے دفتر میں سنی، آج جمال احسانی کا یہ تاریخی شعر ایک بار پھر شدت سے یاد آرہا ہے۔

چراغ بجھتے چلے جارہے ہیں سلسلہ وار

میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے