سر ورق / یاداشتیں / علیم الحق حقی۔۔۔ سید انور فراز

علیم الحق حقی۔۔۔ سید انور فراز

علیم الحق حقی ہمارے بھائی ہی نہیں ، ملک کے نامور ادیب اور شاعر بھی تھے، انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز اگرچہ شاعری سے کیا تھا لیکن غم روزگار انہیں ایک کہانی کار بنانے پر بضد رہا،انہوں نے مختلف ڈائجسٹوں میں غیر معمولی طبع داد کہانیاں اور ناول لکھے، اس کے علاوہ غیر ملکی کہانیوں اور ناولوں کا ترجمہ بھی نہایت خوش اسلوبی سے اور بکثرت کیا‘اس حوالے سے ان کا زیادہ کام سسپنس، جاسوسی ڈائجسٹ اور ماہنامہ سرگزشت میں شائع ہوا، ڈائجسٹوں کی روایات کے مطابق ان کا کیا ہوا بہت سا کام خود ان کے نام سے شائع نہیں ہو سکا‘ اس کی وجہ آلام روز گار کے بہت سے جبر تھے۔

آخر وقت میں وہ روزنامہ امت سے وابستہ ہوگئے تھے اور ایک غیر معمولی کہانی ”عشق کاشین“ تحریر کر رہے تھے جو قسط وار شائع ہورہی تھی،اس سے پہلے ”عشق کا عین“ وہ سسپنس ڈائجسٹ میں لکھ چکے تھے جس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور بعد ازاں اس کی ڈرامائی تشکیل بھی کی گئی۔

حقی ایک پیدائشی شاعر تھا لیکن حالات کی ستم ظریفیوں نے جب اسے کہانی لکھنے پر مجبور کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ وہ ایک عظیم اور بے مثل کہانی کار بھی ہے‘ کہانی کی بُنَت کا فن شاید اس سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا‘ ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ ہم تقریباً اکیس بائیس سال جاسوسی ڈائجسٹ کے نائب مدیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ہیں اور حقی کی بے شمار کہانیاں ہماری ادارت میں شائع ہوتی رہی ہےں‘ دیگر لکھنے والوں سے بھی ہم اچھی طرح واقف ہیں اور بقول مولانا حالی ہم نے سب کا کلام دیکھا ہے لیکن کہانی بُننے کا جو فن علیم الحق حقی کو آتا تھا ‘ وہ اسی پر ختم ہوگیا۔

علیم الحق حقی بے شمار کہانیوں کے خالق اور لا تعداد شاہکار ناولوں کے مصنف رہے اور جیسا کہ ہم نے ابتداءمیں عرض کیا کہ ان کا بہت سا کام (خصوصاً تراجم) ان کے اپنے نام سے شائع نہیں ہو سکا‘جب انہوں نے فکشن کی دنیا میں قدم رکھا تو مرحوم اظہر کلیم (ایڈیٹر ماہنامہ نئے افق اور بعد ازاں اشارہ) نے ان کی رہنمائی کی اور انگریزی کہانیوں کے ترجمے کا کام ان کے سپرد کردیا ‘ یہ کام اظہر کلیم کی ”کہانی سپلائی فیکٹری“ کے ذریعے بہت سے مشہور فکشن پرچوں میں شائع ہوتا رہا اور ایک آدھ کہانی کے علاوہ باقی کہانیوں پر فرضی نام دیے جاتے رہے البتہ اپنی طبع زاد کہانیوں کے سلسلے میں حقی بہت حساس تھے اس پر کسی دوسرے کا نام برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

شاید 1987ءکی بات ہے‘ معراج رسول صاحب نے ہمیں ایک خط دیا جو علیم الحق حقی نے انہیں لکھا تھا اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں اظہر کلیم کو چھوڑ کر آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں‘ معراج صاحب نے کہا کہ خاموشی سے معلوم کرو کہ اس بندے کا معاملہ کیا ہے اور یہ کیوں اظہر کلیم کو چھوڑنا چاہتا ہے‘ دراصل اظہر کلیم مرحوم ان لوگوں میں سے تھے جن سے معراج صاحب کے بہت اچھے تعلقات بھی تھے اور وہ انگریزی کہانیاں اور ناول ترجمہ شدہ انہیں فراہم بھی کرتے تھے‘ اس طرح ایک کاروباری تعلق بھی دونوں کے درمیان حساس نوعیت کا تھا ۔

 اظہر کلیم مرحوم ان دنوں ادارہ نئے افق سے الگ ہوکر اپنا ایک ڈائجسٹ نکال رہے تھے جس کا نام ”اشارہ“ تھا اور اس کا دفترلیاقت آباد میں ایک سینما کے برابر میں تھا (سینما کا نام ہمیںیاد نہیں آ رہا) اور ہمارا وہاں آنا جانا رہتا تھا کیوں کہ اظہر کلیم سے بھی ذاتی مراسم تھے‘ ہم نے حقی سے رابطہ کیا اور بالآخر انہوں نے معراج صاحب سے ملاقات کی‘ اس طرح وہ سپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ کے لیے مخصوص ہو گئے ‘اظہر کلیم بڑے دل کے انسان تھے ‘آخری دنوں میں بہت زیادہ مذہب کی طرف راغب ہو گئے تھے اسی لیے اپنا ذاتی پرچا بھی کامیاب نہ کراسکے ‘ انہوں نے اس تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کرلیا اور معراج صاحب سے ان کے مراسم میں کوئی فرق نہ آیا لیکن حقی سے تعلقات کشیدہ ہوگئے اور پھر کبھی دونوں ایک دوسرے سے نہیں ملے۔

اسی موڑ سے ہماری حقی سے قربت کا آغاز ہوا اور پھر یہ تعلق کبھی ختم نہیں ہوا‘ معراج صاحب سے بعد میں ان کی تمام معرکہ آرائیاں بھی ہمارے سامنے ہوئیں اور مکمل علیحدگی بھی ہمارے سامنے کا واقعہ ہے، یہ تمام تفصیلات بشرط زندگی اگر کبھی موقعہ ملا تو ضرور تحریر کی جائیںگی۔

 فی الحال صرف اس شکوے کی اجازت دیجئے کہ ہماری مردہ پرست قوم زندگی میں بڑے بڑے شاعروں ‘ ادیبوں‘ فنکاروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں ترین افراد کو سکون سے جینے کا حق بھی نہیں دیتی اور مرنے کے بعد بھی بعض لوگوں کو بُری طرح نظر انداز کرتی ہے‘ اتنے عظیم مصنف کے انتقال کی خبر شاید کسی ایک آدھ اخبار میں مختصر سی شائع ہوئی ‘ سپنس جاسوسی وغیرہ میں شاہد حسین کے بارے میں بھی ایک چھوٹی سی خبر نظر سے گزری اور حقی کے بارے میں تو اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا کیوں کہ وہ بہت پہلے اس ادارے سے الگ ہو گئے تھے ‘ شاہد حسین‘علیم الحق حقی یا اور دیگر تخلیق کار کسی اشاعتی ادارے کا دماغ ہوتے ہیں اور وہ اس ادارے کے لیے صرف مالی مفادات کا باعث ہی نہیں ہوتے اس کے قد و قامت میں اضافہ کا سبب بھی بنتے ہیں ‘ زندگی میں یا بعد از مرگ انہیں فراموش کرنا ہمارے نزدیک انسانیت کی توہین ہے کیوں کہ یہی تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں انسانیت سے روشناس کراتے ہیں بہر حال یہ مختصر سی تحریر ہم پر واجب حقی کا قرض ادا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ‘ انشاءاللہ حقی کے حوالے سے آئندہ بھی لکھا جائے گا۔

یہ اتفاق ہے کہ علیم الحق حقی اور ہمارے ایک دوسرے دوست جمال احسانی ایک ہی دن پیدا ہوئے تھے دونوں کی تاریخ پیدائش20اپریل 1950ءہے۔ دونوں شاعر تھے‘جمال نے ایک شاعرکی حیثیت سے ہی اپنا مقام بنایا لیکن حقی حادثاتی طور پر فکشن کی طرف چلے گئے‘ اس موقع پر جمال احسانی کا بے مثال شعر یاد آ رہا ہے

چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار

 میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے

پیدا کہاں ہےں ایسے پراگندہ طبع لوگ

قسمت کی ستم ظریفیاں بھی عجیب عجیب رنگ دکھاتی ہیں ، کیسے کیسے لوگ ہماری آنکھوں کے سامنے گمنامی اور بے چارگی کا شکار ہوکر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، حالاں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے ان کی زندگی کا طم طراق اور شان و شوکت دیکھی ہوتی ہے اور کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ ان پر ایسا بھی کوئی برا وقت آسکتا ہے۔

فروری میں ادبی سانحات‘ دنیا کی طویل ترین داستان کے خالق بھی رخصت

ملکی حالات پر تو گفتگو ہوتی ہی رہتی ہے، اس بار کچھ ذاتی باتیں ہوجائیں تو کیا حرج ہے،ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ اہل علم و ادب احباب کی رفاقت میں گزرا ہے اور گزر رہا ہے،بہت سے دوست احباب اب اس دنیا میں نہیں رہے،ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، یقیناً ایک روز ہم بھی دوسری دنیا میں ان سے جاملیں گے مگر اس دنیا میں ان کی رفاقت ، محبت اور ان کے علم و ہنر کی یادیں ہمارے ساتھ ساتھ رہتی ہیں،بعض احباب سے نہایت گہرے اور قریبی تعلقات رہے اور بعض سے سرسری نوعیت کے یا واجبی سے مراسم تھے، اکثر یہ خیال آتا ہے کہ ماضی کے حوالے سے اپنی یاد داشتیں رقم کی جائیں تاکہ اپنے وقت کے نام ور اہل علم و ادب افراد کی وہ باتیں بھی ان کے چاہنے والوں تک پہنچ سکیں جو صرف ہماری ذات تک محدود ہیں لیکن اس کا موقع نہیں ملتا، ہاں کبھی کبھی جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو رسم دنیا کے طور پر تھوڑے بہت ذکر خیرکا موقع پیدا ہوجاتا ہے،سو اس بار بھی ہمیں یہ رسم ادا کرنے کی اجازت دیجیے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

2 تبصرے

  1. Avatar

    انور فراز صاحب سے مسلسل لکھوایا جائے

  2. Avatar

    انور فراز سے مسلسل لکھوائیں اور امجد صاحب خود بھی لکھیں

وسیم بن اشرف کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے