سر ورق / ناول / درندہ۔۔ خورشید پیرزادہ ۔۔ قسط نمبر1

درندہ۔۔ خورشید پیرزادہ ۔۔ قسط نمبر1

قسط نمبر 1

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

”میم صاحب- رات بہت ہوچکی ہے- آپ کب تک رہیں گی یہاں-“ عزیز چاچا نے پوچھا-

”بس چاچا- جا رہی ہوں-“ وردا نے میز پر بکھرے کاغذات کو ایک فائل کور میں سمیٹتے ہوئے کہا-

وردا آفس کے چوکیدار کو چاچا کہہ کر ہی بلاتی تھی- جیسے ہی وردا اپنے آفس کیبن سے باہر نکلی آفس کے سناٹے کو دیکھ اس کا ڈر کے مارے گلا سوکھ گیا-

”اوہ – کتنی دیر ہوگئی- پتہ ہی نہیں چلا- مگر یہ اسائنمنٹ بھی پوری کرنا ضروری تھی ورنہ کل وہ کمینہ زبیرالدین میری جان کھا لیتا- خدا ایسا باس کسی کو بھی نہ دے-“ وردا پارکنگ کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی-

کار میں بیٹھتے ہی اس نے اپنے پاپا کو فون لگایا-”پاپا- میں آرہی ہوں- بیس منٹ میں گھر پہنچ جاﺅں گی-“

وردا شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی پچھلے پانچ مہینے سے اپنے میکے میں رہ رہی تھی- وجہ وہی پرانا رونا تھا‘ اس کا شوہر سلیم بہت کچھ لانے کے باوجود اسے کم جہیز لانے کا طعنہ دیتا رہتا تھا- ہر نئے دن وہ نیا مطالبہ لئے وردا کے سامنے کھڑا ہوتا تھا- اس کے مطالبے پورے کرتے کرتے وردا کے گھر والے تھک چکے تھے- جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو وردا اپنی سسرال یعنی حیدرآباد سے واپس کراچی چلی آئی تھی-

”اُف- آج ٹھنڈ بھی بہت ہے- سڑک بھی کتنی سنسان لگ رہی ہے- مجھے اتنی دیر تک آفس میں نہیں رکنا چاہئے تھا-“

رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے- جنوری کی ٹھٹھرا دینے والی سردی میں اس وقت سبھی لوگ اپنے اپنے گھروں میں رضائی میں دبکے پڑے تھے-

وردا پہلی بار گھر سے اتنی دیر تک باہر رہی تھی- کار چلاتے ہوئے بھی اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا- اور دل ہی دل میں خیر خیریت سے گھر پہنچ جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی- دن کے وقت جو راستے جانے پہچانے سے لگتے تھے – رات کے اس پہر کسی خوفناک کھنڈر کا منظر پیش کر رہے تھے-

وردا کے ہاتھ اسٹیرنگ پر کانپ رہے تھے اور وہ خود کو تسلی دیتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے- ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے-

اچانک اسے سڑک پر ایک سایہ دکھائی دیا-

وردا نے پہلے تو سکون کی سانس لی کہ چلو سنسان سڑک پر اسے کوئی تو دکھائی دیا- پھر اچانک اس کا سکون گھبراہٹ میں بدل گیا- وہ سایہ سڑک کے بالکل بیچ میں آگیا تھا اور ہاتھ ہلا کر گاڑی روکنے کا اشارہ کر رہا تھا-

وردا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے- جب وہ کچھ قریب پہنچی تو اس نے دیکھا کہ کوئی پینتیس چھتیس سال کا صحت مند آدمی اسے کار روکنے کا اشارہ کر رہا ہے-

وردا ابھی بھی گومگوں کی کیفیت میں تھی- مگر وہ آدمی اس کی کار کے بالکل سامنے آچکا تھا- نہ چاہتے ہوئے بھی وردا کو بریک لگانے پڑے-

جیسے ہی کار رکی وہ آدمی کار کو زور زور سے تھپتھپانے لگا‘ وہ بہت گھبرایا ہوا لگ رہا تھا- وردا کو بھی اس کے چہرے پر ڈر کی شکنیں دکھائی دے رہی تھیں- وردا نے اپنی طرف کا شیشہ تھوڑا نیچے سرکایا اور پوچھا-” کیا بات ہے- تم پاگل ہو کیا؟-“

”محترمہ – پلیز مجھے لفٹ دے دیجئے – میری جان کو خطرہ ہے- کوئی مجھے مارنا چاہتا ہے-“

”میرے پاس یہ فالتو بکواس سننے کا ٹائم نہیں ہے-“

وردا کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ اس آدمی کی چیخ چاروں طرف گونجنے لگی-

ایک نقاب پوش سایہ اس آدمی پر پیچھے کی جانب سے لگاتار خنجر کے وار کئے جا رہا تھا-

”اوہ میرے خدا-“ یہ منظر دیکھ کر وردا کا پورا بدن تھر تھر کانپنے لگا- وہ فوراً یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی- مگر گھبراہٹ کے مارے ایکسیلیٹر کی بجائے بریک کو ہی بار بار دباتی رہی- اسے لگا جیسے کار میں کوئی خرابی ہوگئی ہے- حالانکہ خرابی اس کے دماغ میں تھی- جو اس صورتحال میں کام کرنا چھوڑ چکا تھا- وہ کار سے اتر کر فوراً اس سائے کی مخالف سمت میں بھاگنے لگی-

جو سایہ اس آدمی کو خنجر گھونپ رہا تھا‘ پھرتی سے آگے بڑھا اور وردا کو دبوچ لیا-

”چھ چھوڑو مجھے—- میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے-“

”بگاڑا تو اس آدمی نے بھی میرا کچھ نہیں تھا-“

”پھر- پھر تم نے اسے کیوں مارا؟-“

”مجھے دوسروں کا خون بہانے میں مزا آتا ہے- دل کو ایک عجیب سا سکون ملتا ہے-“

”اوہ مائی گاڈ- کیا تم ہی وہ درندے سیریل کلر ہو-“

”بالکل میں ہی ہوں- پہچاننے کا شکریہ- آﺅ تمہیں جنگل میں لے جا کر آرام سے کاٹتا ہوں- تم جیسی حسین پری کو مارنے میں تو مجھے اور زیادہ مزا اور سرور ملے گا-“

”بچاﺅ-“ اس سے زیادہ وردا چیخ نہیں سکی- کیونکہ اس سائے نے اس کا منہ دبوچ لیا تھا-

”یا خدا- میں کس مصیبت میں پھنس گئی- میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس درندے کا اگلا شکار میں بنوں گی- کاش میں اس درندے کا چہرہ ہی دیکھ پاتی-“

پچھلے دو مہینوں میں چار قتل ہو چکے تھے- ان میں سے تین مرد تھے اور ایک کسی کالج کی طالبہ- ان واقعات کے بعد شہر میں ایک خوف کی فضا چھائی ہوئی تھی- میڈیا حسبِ عادت پولیس کے پیچھے پڑا ہوا تھا اور پولیس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس قاتل کا سراغ لگانے میں ناکام رہی تھی- اب کیا کہا جائے کہ یہ پولیس کی نااہلی تھی یا اس قاتل کی ہوشیاری-

وردا کے پاپا نے اسے کئی بار سمجھایا تھا کہ کبھی شام چھ بجے کے بعد گھر سے باہر نہ رہا کرے-کیونکہ ان کا نیا گھر شہر کے ایک مضافاتی علاقے میں تھا جہاں شام کے بعد ٹریفک کی روانی ویسے بھی کم ہوجاتی تھی-

 ان وارداتوں سے وردا بھی گھبرائی ہوئی تھی- مگر کام کی مصروفیت کی وجہ سے اسے وقت کا دھیان ہی نہیں رہا تھا-

وہ سایہ زبردستی دھکیلتا ہوا وردا کو جھاڑیوں کے جنگل میں اندر لے آیا اور اس کے منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا- ”چلو یہ تم ہی بتاﺅ کہ پہلے کہاں گھساﺅں یہ تیز دھار خنجر- کم از کم تمہاری اتنی خواہش تو پوری کر ہی سکتا ہوں میں-“

”پلیز مجھے جانے دو- میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے- میرے پرس میں جتنے پیسے ہیں لے لو- میری کار بھی رکھ لو- مگر مجھے مت مارو پلیز-“

”وہ سب تم رکھو- مجھے وہ سب نہیں چاہئے- مجھے تو بس تمہیں مار کر روحانی تسکین ملے گی- ویسے تمہارے پاس کچھ اور ہے دینے کو تو بتاﺅ-“

وردا سمجھ گئی تھی کہ کچھ اور ہے سے اس کا مطلب کیا ہے- ”میرے پاس اس وقت کچھ اور نہیں ہے- پلیز مجھے جانے دو- میرے گھر والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے-“

اب تو یہاں سے تمہاری لاش ہی جائے گی-“ یہ کہتے ہوئے اس نے خنجر وردا کے گلے پر رکھ دیا-

”رکو— رکو پلیز—- تمہیں جو چاہئے میں دینے کو تیار ہوں-“

”کیا دے سکتی ہو؟-“

”جو بھی- تم چاہو-“

”وہی تو میں پوچھ رہا ہوں-“ وہ چڑ کر بولا- ”تمہارے پاس اور ہے ہی کیا مجھے دینے کے لئے-مجھے سمجھاﺅ- اگر تمہارا پروپوزل میری سمجھ میں آگیا تو بات آگے بڑھ سکتی ہے- ورنہ میں تمہارے اس حسین بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے مرا جا رہا ہوں- سوچ سوچ کر ایک عجیب سا احساس ہو رہا ہے کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر تمہارا یہ بدن کیسا لگے گا-اب جلدی سے بتاﺅ اور میرا مزا کرکرا مت کرو-“

وردا کچھ کہہ نہیں پا رہی تھی- اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس درندے سے کیسے جان چھڑائے- وہ ہر قیمت پر زندہ رہنا چاہتی تھی اور اس کے لئے وہ ہر قسم کی قیمت ادا کرنے کے لئے ذہنی طور پر خود کو تیار کر چکی تھی- لیکن اس کے دل میں یہ وسوسہ بھی تھا کہ ”کیا ضمانت ہے کہ یہ درندہ اس کی قیمت وصول کرنے کے بعد بھی اسے زندہ واپس جانے دے گا- اسے تو لوگوں کو تڑپا تڑپا کر مارنے میں مزا آتا ہے-“

”کیا سوچ رہی ہو- کچھ بولو گی بھی یا کاٹ ڈالوں ابھی کے ابھی-“ وہ غرایا-

”دیکھو میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیسے کہوں-“

تم بولو تو سہی- میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تمہاری دی ہوئی قیمت مجھے پسند آگئی تو میں تمہیں زندہ جانے دوں گا-“

”تم جھوٹ بول رہے ہو- تمہاری دلچسپی صرف اور صرف لوگوں کا خون بہانے میں ہے- تم بس مجھ سے کھیل رہے ہو- مجھے سب پتہ ہے کہ کالج کی اس طالبہ کو تم نے بنا کچھ کئے مارا تھا-“

”کون سی کالج کی لڑکی-“

”اچھا تو تم لوگوں کو مار کر بھول بھی جاتے ہو- وہی جس کو مار کر تم نے سرجانی ٹاﺅن کی جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا-“

”اچھا وہ- اس نے قیمت ادا کرنے کے لئے کوئی پروپوزل رکھا ہوتا تو ہوسکتا ہے آج وہ زندہ ہوتی-“

”اچھا کون سے کپڑے پہنے ہوئے تھے اس لڑکی نے اس دن جس دن تم نے اسے مارا تھا-“ وردا کو شک ہو رہا تھا کہ یہ نقاب پوش وہی درندہ ہے بھی یا نہیں-

”دیکھو میں تمہیں یہاں مارنے کے لئے لایا ہوں- تمہارے ساتھ کوئی کوئز شو کھیلنے نہیں- بہت ہوچکا- لگتا ہے مجھے اب تمہیں ختم کرنا ہی ہوگا-“ اس نے یہ کہتے ہی خنجر وردا کے گلے پر رکھ دیا-

”ٹھہرو-“

”اب کیا ہے- کیوں میرا مزا خراب کر رہی ہو- مجھے کچھ نہیں سننا- اگر تم اپنی صحیح قیمت لگاتی ہو تو رک جاتا ہوں ورنہ تم گئیں کام سے-“

”یہ خنجر تو میرے گلے سے ہٹاﺅ-“ وردا نے ڈری ہوئی آواز میں کہا-

”ہاں یہ لو- — اب بولو-“

”تم جانتے ہو کہ میری بات کا کیا مطلب ہے؟-“

”میں کچھ نہیں جانتا کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو- اب جلدی سے بو ل دو- میں ساری رات یہاں تمہاری بات سننے کا انتظار نہیں کر سکتا-“

وردا اب بھی کشمکش میں تھی کہ اگر سب کچھ لٹانے کے بعد بھی یہ درندہ اسے مارنے پر تلا رہا تو یہ قیمت رائیگاں ہی جائے گی-

وردا کی ہچکچاہٹ دیکھ کر اس نقاب پوش کی غراہٹ تیز ہوگئی-”بس – اب بہت ہوگیا- مرنے کے لئے تیار ہوجاﺅ-“ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک بار پھر خنجر وردا کے گلے سے لگا دیا- وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی- اس نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کرلیں- مگر موت اسے بند آنکھوں کے پیچھے بھی نظر آرہی تھی- اس کے دماغ میں اپنے گھر والوں کے چہرے گھوم رہے تھے- کیا اب وہ کبھی انہیں یا وہ کبھی اسے نہیں دیکھ پائیں گے-

نقاب پوش نے وردا کے گلے پر خنجر کا دباﺅ بڑھا دیا اور اس سے پہلے کہ اس کا ہاتھ چل پڑتافضا میں ایک درد بھری چیخ گونج اٹھی-

نقاب پوش رک گیا- ”مجھے دیکھنا ہوگا کہ یہ کون چیخا ہے-“ اس نے وردا کے گلے سے خنجر ہٹاتے ہوئے کہا-

وردا سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ آخر ہو کیا رہا ہے-

”چلو میرے ساتھ- اور دیکھو ذرا بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا-“ نقاب پوش نے خنجر دوبارہ وردا کے گلے پر رکھتے ہوئے دھمکی دی- وردا کے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا‘ وہ چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑی-

وہ نقاب پوش وردا کو ساتھ لے کر سڑک کے قریب آگیا- مگر وہ دونوں ابھی بھی گھنی جھاڑیوں کے پیچھے تھے اور ان کو سڑک پرسے دیکھا نہیں جا سکتا تھا- وہاں پہنچ کر وردا نے دیکھا کہ اس کی کار کے قریب کوئی کھڑا ہے- وہ فوراً نقاب پوش کو زور کا دھکا دے کر اپنی کار کی طرف بھاگی-

”پلیز میری مدد کرو – وہ درندہ مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے- اسی نے اس آدمی کو بھی مارا ہے جو میری کار کے پاس پڑا ہے-“

”اوہ- تو یہ بات ہے- بتاﺅ- کہاں ہے وہ-“ وہ آدمی بولا-

”وہ – وہاں جھاڑیوں کے پیچھے ہے-“ وردا نے جھاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

اس آدمی نے ٹارچ نکالی اور جھاڑیوں پر روشنی ڈالی- ”وہاں تو کوئی نہیں ہے- آپ کو ضرور کوئی وہم ہوا ہے-“

”میرا یقین کرو وہ یہیں کہیں ہوگا- اس آدمی کو بھی اسی نے مارا ہے- کیا یہ لاش آپ کو دکھائی نہیں دے رہی-“

”ہاں – دکھائی تو دے رہی ہے- مگر ہو سکتا ہے اسے آپ نے ہی مارا ہو-“

”یہ کیا بکواس کر رہے ہیں آپ-“ وردا چیخ پڑی- ”میں کیا آپ کو قاتل نظر آرہی ہوں-“

”کسی کے کچھ نظر آنے یا نہ آنے سے کچھ نہیں ہوتا- مگر یہ ہوسکتا ہے کہ یہ سب آپ نے ہی کیا ہو- اور اب کہانی بنانے کی کوشش کر رہی ہو- چلو میرے ساتھ پولیس اسٹیشن-“

”دیکھیئے میرا یقین کیجئے- میں نے کسی کا خون نہیں کیا- میں آپ کو کیسے سمجھاﺅں-“

”مجھے کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے- یہ خون تم نے ہی کیا ہے- بس-“ اس آدمی نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا-

اسی وقت ایک موٹر سائیکل سوار وہاں سے گزرتے ہوئے یہ سب دیکھ کر رک گیا-

”ٹھیک ہے جو بھی ہوگا صبح ہوگا- ابھی مجھے گھر جانا ہے- میرے گھر والے میرے نہ پہنچنے پر پریشان ہو رہے ہیں ہوں گے-“ وردا نے اس آدمی سے کہا-

”تم کہیں نہیں جا ﺅ گی-“ وہ آدمی زور سے گرجا-

”کیا ہوا مس— کوئی مسئلہ ہے کیا-“ موٹرسائیکل سوار نے ان کے پاس آکر وردا سے پوچھا-

اور اس سے پہلے کہ وردا کچھ بول پاتی- اس آدمی نے پستول نکال کر موٹرسائیکل سوار کے سینے میں دو گولیاں داغ دیں-

یہ دیکھ کر وردا تھر تھر کانپنے لگی-”اوہ میرے خدا—- تت تم نے اسے مار دیا– کک کون ہو تم؟-“

”کوئی مسئلہ ہے کیا-“ اس آدمی نے مقتول کے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے کہا-” کیا اسے کسی نے سکھایا نہیں تھا کہ دوسروں کے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑاتے-“ وہ آدمی پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے بولا-

”وہ— وہ تو بس مجھ سے پوچھ رہا تھا-“

”چپ کرو— اب تمہاری باری ہے- مجھے پاگل سمجھتی ہو کیا- بتاﺅ کیا ناٹک چل رہا ہے یہاں-“

”میں سچ کہہ رہی ہوں- اس آدمی کو ایک نقاب پوش نے مارا ہے- وہ مجھے بھی گھسیٹ کر جھاڑیوں میں لے گیا تھا-“

”پھر کہاں گیا وہ نقاب پوش ؟-“

”مم مجھے نہیں پتہ-“

”تم سراسر جھوٹ بول رہی ہو-“

”آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں-“

”کیونکہ اس آدمی کو جو تمہاری کار کے پاس پڑا ہے- اسے— اسے میں نے مارا ہے- وہ بھی اس چاقو سے- اور اب اسی چاقو سے میں تمہاری کھال ادھیڑوں گا-“

وردا کا ڈر کے مارے ویسے ہی برا حال تھا- آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گئی تھی- ایک قاتل سے جان چھڑا کر دوسرے قاتل کے شکنجے میں آ پھنسی تھی-اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا- اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسی صورت میں کیا کرے- وہ جو کچھ بھی دیکھ اور سن رہی تھی وہ سب اس کے یقین کی سرحدوں سے دور کی بات تھی- ایک بار اس کے دماغ میں یہ سوچ بھی آئی کہ کہیں یہ بھی کوئی برا خواب تو نہیں- مگر افسوس یہ کوئی خواب نہیں سب حقیقی تھا-

اس آدمی نے چاقو کو ہوا میں لہرایا اور بولا- ”مرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ- آج تو قسم سے مزا آگیا- ایک ہی رات میں تیسرا خون کرنے جا رہا ہوں- اوہ- آج تو مجھے بہت سکون کی نیند آئے گی-“

اسی وقت پیچھے سے اس کے سر پر ڈنڈے کا وار ہوا اور وہ چکرا کر نیچے گر پڑا‘ عین وردا کے قدموں کے پاس-وردا نے دیکھا کہ اس آدمی کو گرانے والا کوئی اور نہیں وہی نقاب پوش تھاجس کے چنگل سے نکل کر وہ بھاگی تھی-اس سے پہلے کہ وردا کچھ سوچ اور کر پاتی‘ اس آدمی نے پھرتی کے ساتھ پستول نکال کر نقاب پوش کی طرف فائرکیا‘ لیکن سر میں چوٹ کی وجہ سے وہ صحیح نشانہ نہیں لگا پایا اور نقاب پوش بچ گیا-

نقاب پوش نے وردا کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتا ہوا تیزی سے جھاڑیوں کی طرف بھاگا-

”بھاگتے کہاں ہو- تم بچو گے نہیں-“ وہ آدمی کھڑا ہوکر چلایا-

”یہ – یہ سب کیا ہو رہا ہے- کون ہو تم؟-“

”چپ رہو- سب بتا دوں گا- ابھی وہ ہمیں ڈھونڈ رہا ہے- اور اس کے پاس پستول بھی ہے- ہمیں ذرا بھی آواز نہیں کرنی ہے اوکے-“

”تم بھاگ تو سکتے ہو- لیکن چھپ نہیں سکتے- تم مجھ سے زیادہ دیر تک نہیں بچو گے-“ اس آدمی نے وردا کی کار کا دروازہ کھول کر چابی نکال لی-”تم لوگ یہاں سے بچ کر نہیں جا سکتے- ڈرامہ کر رہے ہو میرے ساتھ- ہونہہ-“

جب وہ انہیں ڈھونڈتا ہوا تھوڑی دور نکل گیا تو وردا نے کہا- ”کیا اب تم مجھے بتاﺅ گے کہ یہاں ہو کیا رہا ہے- یہ سب کچھ ڈرامہ ہے حقیقت؟-“

”جو کچھ میں تمہارے ساتھ کر رہا تھا- وہ سب ڈرامہ تھا- مگر اب جو ہو رہا ہے وہ حقیقت ہے-“

”کیا—- تمہارا مطلب ہے کہ تم اس سیریل کلر کی نقل کر رہے تھے- مگر کیوں؟-“

”تمہیں پریشان کرنے کے لئے -“ نقاب پوش نے کہا-

”مگر میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے- میں تو تمہیں جانتی تک نہیں-“

”تم مجھے جانتی ہو-“

”کیا—- کون ہو تم— صاف صاف بتاﺅ – میرا ویسے ہی سر گھوم رہا ہے-“

”تم نے مجھے نوکری سے نکلوایا تھا- یاد کرو-“

”کیا تم وہ ہو— ایک تو تم کام ٹھیک سے نہیں کرتے تھے- میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو تمہیں نوکری سے نکلوا ہی دیتا-“

”شش- آواز ہلکی رکھو- کہیں وہ سن نہ لے-“

ِِ”ہم م م —- کیا نام ہے تمہارا؟-“

”مراد-“ نقاب پوش نے کہا-

”ہاں یاد آیا- مراد- اس بات کو لے کر تم نے میرے ساتھ اتنی گھناﺅنی حرکت کی- اور — – اور تم تو میرا ریپ بھی کرنے والے تھے-“یہ کہتے ہوئے وردا کے دل میں یہ بھی خیال تھا کہ اسے ریپ پر وہ خود ہی اکسا رہی تھی تاکہ کسی بہانے اس کی جان بچ جائے-

”ایسی بات نہیں ہے میڈم- میں تو بس-“

”کیا میں تو بس— تم نے مجھے مجبور کرکے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ہے-“

” میں مانتا ہوں- مگر خود کو سپرد کرنے کا خیال تو آپ کا اپنا ہی تھا نا-میرا مقصد تو صرف آپ کو ڈرانا تھا- بس-تھوڑی دیر بعد میں خود ہی آپ کو جانے دیتا- مگر سپردگی کا آئیڈیا تو آپ نے پیش کیا تھا-“

”چپ رہو- ایسا کچھ نہیں ہے- میں بس اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی تھی- تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی اپنی جان بچانے کے لئے کچھ بھی کرتے-“

”میں آپ کی جگہ ہوتا تو خوشی خوشی مرجاتا مگر خود کو کسی کے سپرد ہرگز نہ کرتا-“

”بس اب چپ رہو-“

”شش- کسی کے قدموں کی آواز آرہی ہے-“ مراد نے وردا کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا-

”مجھے پتہ ہے تم دونوں یہیں کہیں ہو- چپ چاپ باہر آجاﺅ- میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم دونوں کو دھیرے دھیرے آرام آرام سے ماروں گا-“ درندے نے چلا کر کہا-

”یہی وہ درندہ ہے-“ وردا نے آہستگی سے کہا-

”اس میں تو اب کوئی شک ہی نہیں بچا- تھوڑی دیر چپ رہو-“

”تم نے مجھے اس مصیبت میں پھنسایا ہے-“

”اب چپ بھی کریں میڈم- ورنہ ہم دونوں مارے جائیں گے- اس کے پاس پستول بھی ہے- مجھے لگتا ہے یہاں رکنا ٹھیک نہیں ہے- پاس ہی میرا گھر ہے وہاں چلتے ہیں-“

”تمہارے پاس فون تو ہوگا نا- ابھی پولیس کو فون لگاﺅ-“

”فون میرے دوست کے پاس تھا-“

”کون دوست؟-“

”وہی -جس کی لاش تمہاری کار کے پاس پڑی ہے-“

”تم نے اسے مارنے کا ناٹک کیا تھا نا؟-“

”ہاں- ہمارا پلان صرف تمہیں ڈرانے کا تھا- مگر جب تم کار سے نکل کر بھاگیں تو میں نے سوچا چلو تھوڑا کھیل کھیلا جائے-“

”تمہارا دوست سچ میں مارا گیا- واہ- کیا کھیل کھیلا ہے- جو دوسروں کے لئے گڑھا کھودتے ہیں وہ خود ہی اس میں گرتے ہیں- تمہیں بھی اپنے دوست کے ساتھ مر جانا چاہئے تھا-“

”میں نے تمہاری جان بچائی ہے اور تم ایسی بات کر رہی ہو-“

”تمہاری وجہ سے ہی میں اس مصیبت میں پھنسی ہوں سمجھے- اوپر سے اتنی ٹھنڈ ہو رہی ہے-“

مراد کچھ نہیں بولا-

”ایک بار یہاں سے نکل جاﺅں- پھر تمہیں بتاتی ہوں-“ وردا نے دل ہی دل میں کہا-

”ویسے کیا اس وقت تم دل سے وہ سب چاہ رہی تھیں؟-“

”شٹ اپ- مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی- ایک تو میرے ساتھ زبردستی کرتے ہو پھر ایسی باتیں کرتے ہو- شیم آن یو-“

” میں نے تم کو خودسپردگی کے لئے مجبور نہیں کیا تھا- شاید اس وقت تم خود بھی وہ سب چاہتی تھی-“

”تمہیں شرم نہیں آتی ایک لڑکی سے ایسی باتیں کرتے ہوئے-“

”مگر تم نے خود ہی تو-“

”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں نے کن حالات میں خود کو سونپنے کا فیصلہ کیا تھا- اتنے بھولے مت بنو- صبح ہوتے ہی تم بھی سلاخوں کے پیچھے نظر آﺅ گے- میں پولیس کو سب کچھ بتا دوں گی- تم نے میرا ریپ کرنے کی کوشش کی تھی-“

ِ”تمہاری جان بچانے کا یہ صلہ دو گی تم مجھے-اگر میں وقت پر آکر اس درندے کے سر پر ڈنڈے کا وار نہ کرتا تو اب تک تمہاری لاش بھی وہیں پڑی ہوتی-“

”اور اگر تم اتنی گھناﺅنی حرکت نہ کرتے تو میں اتنی رات کو اس مصیبت میں نہ پھنستی-“

”اور اگر تم خواہ مخواہ مجھے نوکری سے نہ نکلواتیں تو میں یہ سب تمہارے ساتھ کبھی نہ کرتا-“

”اس کا مطلب ہے کہ تمہیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے—-“

ِ”پچھتاوا ہے— میرے دوست کی جان چلی گئی اس کھیل میں-“

”اور میرے ساتھ تم نے جو کیا اس کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے تمہیں-“

” تمہیں تمہارے کئے کی سزا ملی ہے- تم بھول گئیں کہ میں نے کتنی ریکوئیسٹ کی تھی نوکری سے نہ نکالنے کی- پھر بھی تم نے مجھے آفس سے نکلوا کر ہی چھوڑا-“

”دیکھو وہ میرے اکیلے کا فیصلہ نہیں تھا- آخری فیصلہ تو باس نے کیا تھا-“

”ہاں- مگر سارا کیا دھرا تو تمہارا ہی تھا نہ-“

”مجھے تمہارا کام پسند نہیں تھا- پرائیویٹ سیکٹر میں یہ ہر جگہ ہوتا ہے- اگر ہر کوئی تمہاری طرح بدلہ لینے پر اتر آئے تو کیا بنے گا-اور بدلہ بھی ایسا گھناﺅنا- چھی- تم تو معافی کے لائق بھی نہیں ہو- یہ سب کرنے کی بجائے تم کسی مثبت کام میں دل لگاتے تو تمہارا کچھ نہ کچھ بھلا ہو ہی جاتا-“

”ٹھیک ہے مجھ سے غلطی ہوگئی- بس خوش-“

”مگر اب یہاں سے کیسے نکلیں- وہ میری کار کی چابی بھی لے گیا ہے-“

”میرے گھر چلو گی- تھوڑی ہی دو ر ہے-“

”نہیں- میں صرف اپنے گھر جاﺅں گی-“

”مگر کیسے- تمہاری کار کی چابی تو درندہ لے گیا ہے- اور شاید تمہارا سیل فون بھی کار میں ہی تھا- ہیں نا-“

ِ”ہاں- بیگ میں تھا اور بیگ کار میں-“

”میری بات مانو- میرے گھر چلو- وہ قاتل پاگلوں کی طرح ہمیں ڈھونڈ رہا ہے- ہمیں جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہئے-“

”کیا تمہارے گھر پہ فون ہے؟-“

”فون تو نہیں ہے-“

”حیرت ہے- آج کے دور میں جبکہ بچہ بچہ موبائل ہاتھ میں لئے گھوم رہا ہے- تمہارے پاس فون نہیں ہے-“

”تھا- مگر اتفاق سے کل ہی مزدا میں آتے ہوئے تین لڑکوں کے ہاتھوں موبائل لٹوا چکا ہوں— لیکن میرے گھر پر ہم کم از کم محفوظ تو رہیں گے ہی-“

”کتنی دور ہے تمہارا گھر-“ وردا نے ہچکچاتے ہوئے اس پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا-

”نزدیک ہی ہے- آﺅ چلیں-“

”اگر وہ درندہ یہیں کہیں نزدیک ہی ہوا تو وہ ہمارے قدموں کی آہٹ سن سکتا ہے-“

”دبے پاﺅں چلیں گے- میرا گھر زیادہ دور نہیں ہے- اور جھاڑیوں کا یہ جنگل بھی زیادہ بڑا نہیں ہے- ہم پانچ منٹ میں اس کے باہر نکل جائیں گے-اور مزید پانچ منٹوں کے بعد میرے گھر پہنچ جائیں گے-“

”تمہارے گھر میں کون کون ہے؟-“ وردا نے پوچھا-

”میں اکیلا ہی ہوں-“

”کیوں- تمہاری بیوی کہاں گئی؟-“

”طلاق لے لی اس نے- یا یوں کہو کہ میری غریبی سے تنگ آکر اس نے مجھے چھوڑ دیا- برا وقت آتا ہے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے- نوکری چھوٹنے کے بعد بیوی نے بھی مجھے چھوڑ دیا-“

”کیا یہ سب میری وجہ سے ہوا؟-“

”جی ہاں بالکل- چلو چھوڑو یہ باتیں- پہلے یہاں سے نکلنے کی کرتے ہیں-“

وہ دونوں دبے پاﺅں احتیاط کے ساتھ چلتے ہوئے جھاڑیوں کے جنگل سے باہر آگئے-

”کتنا اندھیرا ہے یہاں- کیا تمہارے گھر کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے؟-“

”راستہ تو دوسرا بھی ہے- مگر اس وقت یہی راستہ سب سے محفوظ ہے- اندھیرے میں ہم آسانی سے اس قاتل کو چکمہ دے کر نکل جائیں گے-“

”میں نے اس قاتل کی شکل دیکھ لی ہے- میں کل پولیس کو سب بتا دوں گی-“

”مجھے تو نہیں پھنساﺅ گی نا تم-“

”وہ کل دیکھیں گے-“

”ویسے اس کم بخت نے بے وقت آکر سرا مزا خراب کر دیا-“ مراد نے مذاق کے انداز میں کہا-

”تم شادی شدہ رہ چکے ہو – پھر بھی ایسی بات کر رہے ہو-“ وردا نے بھی مذاق میں جواب دیا-

”میری بیوی تو ایک دم ٹھنڈے گوشت کی طرح تھی- اس کے صر ف دو ہی شوق تھے- پیسہ اور کھانا-“ مراد نے منہ بنا کر کہا-

”اور کتنی دور ہے تمہارا گھر-“ وردا نے باتوں کا رخ موڑنے کے لئے کہا-

”بس اب پہنچنے ہی والے ہیں-“

وہ دونوں چپ چاپ آگے بڑھتے رہے-

”یہ لو- آگیا میرا گھر-“ مراد نے ایک چھوٹے سے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

”یہ گھر ہے تمہارا-“ وردا نے حیرت سے کہا-”یہ تو بس ایک کمرہ ہے- اور آس پاس زیادہ گھر بھی نہیں ہیں-“

”ہاں بس ایک چھوٹے سے کمرے پر مشتمل ہے میرا گھر- مگر یہی میرا گھر ہے- یہی میرا سائبان ہے- اور یہ ابھی نوآباد کالونی ہے اس لئے ابھی یہاں گھر تعمیر ہونے شروع ہوئے ہیں- مگر یہ جیسا بھی ہے اس جنگل میں رہنے سے تو اچھا ہی ہے نا-“

مراد نے دروازہ کھولا اور وردا کو اندر آنے کا کہا-”آجاﺅ- ڈرو مت- یہاں تم محفوظ ہو-“

وردا کو کمرے میں جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا- مگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں تھا-

”ارے میڈم سوچ کیا رہی ہو- آجاﺅ یہاں ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے-“

”جو کچھ میرے ساتھ ہوچکا ہے اس کے بعد تو کوئی بھی ڈرے گا ہی-“

”میں سمجھ رہا ہوں-“ مراد نے گہری سانس لے کر کہا- اور وردا کمرے کے اندر آگئی-

”سوری میڈم- میرے پاس ایک ہی چارپائی ہے اور ایک ہی رضائی-“ مراد نے شرمندہ سے لہجے میں کہا-

”مجھے یہاں نیند نہیں آئے گی- تم سو جاﺅ – میں اس کرسی پر بیٹھ کر رات گزار لوں گی-“ وردا بولی-

”اس طرح تو آپ پوری رات بے آرام رہیں گی- ایسا ہے کہ آپ چارپائی پر سو جائیں- میں کمبل لے کر نیچے لیٹ جاتا ہوں-“

”میں نے کہا نا مجھے نیند نہیں آئے گی-“

”ہاں مگر ٹھنڈ بہت ہے- تم رضائی میں آرام سے بیٹھ جاﺅ- سونے کا دل کرے تو سو جانا ورنہ رضائی میں بیٹھی رہنا-“

”ٹھیک ہے- مجھے یاد رکھو کوئی بھی ایسی ویسی حرکت کی تو-“ وردا نے اپنے دل میں آئے وسوسے کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”فکر نہ کریں- میں ایسا کچھ نہیں کروں گا- جھاڑیوں میں بھی میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا- وہ تو تم نے خود ہی آفر کی تھی- اس لئے میں بھی بہک گیا تھا- ورنہ کسی کے ساتھ زبردستی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا-“

مراد کی اس بات پر وردا کے کان کی لوئیں تپنے لگی تھیں- وہ خود کو زمین میں گڑھتا ہوا محسوس کر رہی تھی-

”تو تم مانتے ہو کہ وہ سب زبردستی کر رہے تھے تم میرے ساتھ-“

”ہاں- مگر تمہاری رضامندی سے ہی ہی ہی- ویسے میں تو اب بھی تیار ہوں-“ مراد نے شرارت سے کہا-

”اس کے لئے تمہیں میری گردن پر چاقو رکھنا ہوگا- مجھے ڈرانا ہوگا– میں اپنی خوشی سے کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتی-“ وردا گھمبیر لہجے میں بولی-

”پھر رہنے ہی دیں- کیا فائدہ ایسی زبردستی کا-“

وردا رضائی اوڑھ کر بیٹھ گئی اور مراد کمبل لے کر زمین پر چٹائی بچھا کر لیٹ گیا-

”لائٹ بند کردوں یا جلتی رہنے دوں-“ مراد نے پوچھا-

”جلنے دو- مجھے اندھیرے سے خوف آتا ہے-“ وردا بولی-

”ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی-“

ابھی پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ کوئی زور زور سے دروازہ کھڑکانے لگا- وردا گھبرا گئی کہ کہیں یہ وہی قاتل تو نہیں جو‘ ان کا پیچھا کرتا ہوا یہاں تک آگیا ہو-

”کون ہے؟-“ وردا نے دھیرے سے پوچھا-

”شاید کوئی پڑوسی ہوگا- تم فکر مت کرو- میں دروازہ کھولتا ہوں مگر پہلے یہ لائٹ بند کر دیتا ہوں تاکہ جو کوئی بھی ہو تمہیں نہ دیکھ سکے-“

”ٹھیک ہے-“ وردا نے اس کے مشورے کی تائید کرتے ہوئے کہا-

مراد نے دروازہ کھولا اور ایک لڑکا تیزی سے اندر آگیا-

”ارے استاد کہاں چلے گئے تھے تم- میں کب سے تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں-“ اس لڑکے نے کہا-

ِ”ایک کام سے گیا تھا-“ مراد نے جواب دیا-

”ہاں بہت ضروی کام تھا اسے آج-“ وردا دل ہی دل میں بولی-

”ارے استاد تم بھی نا- جب بھی میں کوئی جگاڑ لگاتا ہوں تم غائب ہو جاتے ہو- اور یہ اندھیرا کیوں کر رکھا ہے- لائٹ تو جلا دو-“

”راجو – مجھے ابھی بہت نیند آرہی ہے- کل بات کریں گے- ٹھیک ہے نا-“ مراد نے جان چھڑانے کے لئے کہا-

”ارے استاد میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ نیند آرہی ہے-“

”ہاں یار- بہت تھک گیا ہوں آج- تم ابھی جاﺅ- کل بات کرتے ہیں نا-“

”استاد-“ راجو رازدارانہ لہجے میں بولا- ”نغمہ میرے ساتھ ہے-“

”نغمہ— کون نغمہ؟-“ مراد نے حیرت سے پوچھا-

”وہی موٹو پان والے کی لڑکی- جس کے ساتھ تم وقت گزار چکے ہو- ہی ہی ہی- کچھ یاد آیا؟-“ راجو شوخ لہجے میں بولا-

اور پھر جو اس لڑکی نغمہ کے حوالے سے راجو اور مراد میں باتیں ہوئیں انہیں سن سن کر وردا شرم سے پانی پانی ہوئے جا رہی تھی- اسے مراد پر بھی سخت غصہ آرہا تھا کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے بھی ایسی باتیں کر رہا تھا- اور وہ راجو— وہ تو اسے کوئی بہت ہی نیچ قسم کا لڑکا لگا تھا- مگر وہ برداشت کرکے چپ چاپ بیٹھی رہی- ورنہ کہانی کوئی اور رخ بھی اختیار کر سکتی تھی- اور اس راجو کا کیا بھروسہ-

”مان گئے استاد- تم واقعی میں استاد ہو-“

”اچھا اچھا اب جاﺅ- مجھے نیند آرہی ہے- جاﺅ موج کرو نغمہ کے ساتھ – آج یہ نغمہ تم اکیلے ہی سنو-“ مراد نے اسے ٹہلاتے ہوئے کہا-

راجو کے جانے کے بعد وردا غصے سے تلملا کر بولی- ”تمہیں شرم نہیں آئی میرے سامنے ایسی گندی باتیں کرتے ہوئے-“

”اس میں شرم کی کیا بات ہے- تم کوئی بچی تو نہیں ہو- شادی شدہ عورت ہو-“ مراد نے لاپرواہی سے کہا-

”مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا- تم مجھ سے ابھی بھی کوئی بدلہ لے رہے ہو- ہے نا-“

”ایسا کچھ نہیں ہے- دیکھو وہ اچانک آگیا تھا- میں تو بس نارمل انداز سے بات کررہا تھا اس کے ساتھ تاکہ اسے شک نہ ہو کہ کوئی گڑبڑ ہے-“

”گڑبڑ— کیسی گڑبڑ؟-“ وردا کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولی-

”یہی کہ اگراسے پتہ چل جاتاکہ تم بھی یہاں ہو تو -“ اتنا کہہ کر مراد خاموش ہوگیا-

”تو؟— بات تو پوری کیا کرو-“ وردا نے چڑ کر کہا-

”تو ظاہر ہے وہ بھی اپنا حصہ مانگتا-“ مراد نے بات پوری کی-

”حصہ— کیسا حصہ—- کس بات میں حصہ؟-“ وردا اب بھی کچھ نہیں سمجھی تھی-

”وہ بھی تمہارا حصیدار بن جاتا نا— اور ہم تو روز ہی ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں- ہماری لائف میں ایسی باتیں عام زندگی کا حصہ ہیں-“

”اسے تم عام زندگی کا حصہ کہتے ہو- شرم کرو-“

”یہاں ایسے ہی چلتا ہے میڈم-“

”چھی- شرم آنی چاہئے تم لوگوں کو ایسی گندی باتیں کرتے ہوئے- اور وہ لڑکی— کیا نام تھا- ہاں نغمہ— تم دونوں تو اس کے بارے میں ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے وہ صرف دل بہلانے کا کوئی کھلونا ہو-“

”اور اگر تم نہ ہوتیں آج میں پھر اس کھلونے سے کھیل رہا ہوتا-“

”ہاں تو مجھ سے بدلہ لینے کا پلان تو تمہارا ہی تھا نا- بھگتو اب- ویسے تم اس کے پاس جانا چاہتے ہو تو جا سکتے ہو- میں نہیں روکوں گی تمہیں-“

”نہیں -جب ساتھ میں تمہاری جیسی حسینہ ہو تو اس کے پاس جانے کا کس کا من کرے گا-“ مراد نے دھیمے لہجے میں کہا-

”کیا کہا تم نے؟-“ وردا نے سن تو سب لیا تھا – پھر بھی اس نے یونہی پوچھ لیا-

”کچھ نہیں- تم سوجاﺅ-“ مراد نے جواب دیا-

”کمینہ کہیں کا – اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے- مجھے ہوشیار رہنا ہوگا- پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے آج میرے ساتھ-“ وردا نے اپنا سر ہاتھوں میں جکڑتے ہوئے خود سے کہا-

”ویسے ایک بات کہوں؟-“ مراد بولا-

”کیا ہے اب-“

”جھاڑیوں میں تمہارا خودسپردگی والا انداز بہت بھلا لگا تھا مجھے-“

”وہ خود سپردگی نہیں- میرا ڈر تھا-اور اب تم بکواس بند کرو اور چپ چاپ سو جاﺅ-“ وردا نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا-

”مجھے تمہارا ساتھ بہت اچھا لگ رہا ہے-“

”باسٹرڈ-“ وردا دانت بھینچتے ہوئے بولی-

وردا رضائی میں دبکی بیٹھی تھی- ایسی صورتحال میں اسے نیند آنا ناممکن تھا- اسے بس جلدی سے صبح ہونے کا انتظار تھا-

”خدا کرے باقی رات خیریت سے گزر جائے- نہ جانے صبح صبح کس کا منہ دیکھا تھا-“

”ویسے میڈم نیند تو مجھے بھی نہیں آرہی ہے-“

”کیوں تمہیں کیا ہوا ہے- تمہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ آج تم نے اپنا بدلہ لے لیا ہے-“

”فرید میرا بہت اچھا دوست تھا-“

”کون فرید؟-“

”وہی جس نے تمہاری کار رکوائی تھی-“ مراد بولا-

”اس کے خاندان میں کون کون ہے-“ وردا نے یونہی وقت گزارنے کے لئے پوچھ لیا-

”اس کا چھوٹا بھائی اور ماں ہیں- اس کے باپ کا تو بہت پہلے انتقال ہو چکا ہے- شادی ابھی تک ہوئی نہیں تھی- بڑی مشکل سے مانا تھا میرا ساتھ دینے کے لئے- آخر تک مجھے سمجھاتا رہا کہ سوچ لومجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے-“

”مگر تم پر تو مجھ سے بدلہ لینے کا بھوت سوار تھا- ہے نا-“ وردا نے طنز کرتے ہوئے کہا-

پتہ نہیں پولیس وہاں پہنچی یا نہیں — پتہ نہیں اس کی لاش وہاں سے اٹھائی گئی یا نہیں-ٹھیک ہے جو ہوا سو ہوا- مگر مجھے فرید کے مرنے کا بہت دکھ ہے- “

”اور مجھے بس صبح ہونے کا انتظار ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے ڈھائی بج رہے تھے اور وردا ابھی بھی جاگ رہی تھی- دوسری طرف مراد کے خراٹے پورے کمرے میں گونج رہے تھے-

”کم بخت مجھے مصیبت میں پھنسا کر خود چین سے سو رہا ہے-“ وردا نے اسے کوستے ہوئے کہا- جیسے جیسے رات بیت رہی تھی وردا کے دل کا اطمینان بھی بڑھتا جا رہا تھا— انہی سوچوں میں چار بج چکے تھے- مراد ابھی بھی خراٹوں بھری نیند کے مزے لے رہا تھا-جبکہ وردا نے ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں گزار دی تھی- اس نے بھولے سے بھی آنکھ نہ جھپکی تھی- یہ اس کے اندر کا خوف تھا‘ شاید کچھ خوف اس قاتل کا اور کچھ خوف اس بات کا کہ کہیں مراد اس کی نیند کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرلے-

جیسے ہر برا خواب آخر ختم ہوجاتا ہے ویسے ہی آہستہ آہستہ یہ رات بھی ختم ہو رہی تھی اور اب وردا کی کلائی میں بندھی ہوئی گھڑی پانچ بجا رہی تھی-

”کیا کروں— گھر کے لئے نکل پڑوں-“ وردا نے سوچا- پھر خود ہی اس خیال کی نفی کرنے لگی- ”سردیوں کا موسم ہے- اور اس وقت بھی سڑکیں بالکل سنسان ہوں گی- مجھے چھ بجے تک انتظار کرنا چاہئے- اس وقت شاید کوئی رکشہ ٹیکسی مل جائے- جہاں اتنی رات گزاردی ہے وہاں تھوڑا انتظار اور سہی-“ یہ سوچ کر وہ مطمئن ہوگئی-

اچانک ایک بار پھر کمرے کا دروازہ زور زور سے بجنے لگا- مراد گہری نیند میں تھا اور اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا –

”کون ہو سکتا ہے—- مجھے کیا لینا- — ہوگا کوئی مراد کا جان پہچان والا- مگر یہ مراد اٹھ کیوں نہیں رہا-“ وردا نے سوچا-

دروازہ لگاتار کھڑکتا رہا- جب مراد پھر بھی نہیں اٹھا تو وردا نے اٹھ کر اسے ہلایا-

”اٹھو- باہر کوئی ہے- دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی ہے- تمہیں سنائی نہیں دیتا کیا؟-“ وردا نے مراد کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا-

”کک کون ہے بھائی؟-“ مراد اٹھتے ہی ہڑبڑاہٹ میں بولا-

”میں ہوں- کوئی کب سے دروازہ بجا رہا ہے-“ وردا نے کہا-

”ٹائم کیا ہوا ہے؟-“

”پانچ بج کر پانچ منٹ ہو رہے ہیں-“

”اتنی صبح صبح کون آگیا ؟-“

مراد نے پہلے کی طرح لائٹ بند کرکے دروازہ کھولا- وردا اٹھ کر ایک طرف پڑے پردے کے پیچھے چلی گئی تھی جہاں ٹوائلٹ تھا-

”راجو تم— اتنی صبح صبح کیا کر رہے ہو- رات کو بتایا تھا نا میں نے کہ میں آج بہت تھکا ہوا ہوں-“ مراد نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”سوری استاد- مگر بات ہی کچھ ایسی ہے کہ مجھے آنا پڑا-“

”کیوں کیا ہوا—- نغمہ نے تجھے لات مار دی کیا؟-“ مراد نے ہنستے ہوئے کہا-

”استاد یہ مذاق کی بات نہیں ہے- بہت سیرئیس معاملہ ہے- مجھے اندر تو آنے دو-“ راجو کی آواز میں ہلکا سا خوف تھا-

”کیا بات ہے یار- تُو اتنا ڈرا ہوا کیوں ہے؟-“ مراد نے اس کے خوف کو محسوس کرتے ہوئے کہا-

”جب تمہیں پتہ چلے گا تو تمہاری بھی میری جیسی حالت ہوجائے گی-“

”یار پہیلیاں کیوں بجھوا رہے ہو- صاف صاف بتا کیا بات ہے-“ مراد نے کہا-

ٹوائلٹ میں کھڑی وردا بھی دھیان سے ان کی باتیں سن رہی تھی- اسے لگ رہا تھا کہ کوئی انہونی بات ہوگئی ہے- پہلے تو اس نے سوچا کہ مجھے کیا لینا ان کی باتوں سے – لیکن پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کی باتیں سننے لگی-

”یار ابھی تھوڑی دیر پہلے جب میں نغمہ کواس کے گھر چھوڑ کر واپس آیا تو میں نے یونہی ٹی وی آن کرکے دیکھا-“

”اور ٹی وی میں ایسا کیا دیکھ لیا تم نے کہ تمہارے چہرے پر اتنی صبح بھی بارہ بج رہے ہیں-“

”یار وہ تیرا دوست ہے نا فرید-“

مراد سمجھ گیا کہ ٹی وی پر فرید کے قتل کی خبر آرہی ہوگی- مگر وہ ایسے انجان بن گیا جیسے اسے کچھ پتہ ہی نہ ہو-

” کیا ہوا فرید کو— اور وہ کب سے اتنا اہم ہوگیا کہ صبح صبح ٹی وی پر اس کی خبر چلنے لگی-“

”استاد وہ اسی درندے کے ہاتھوں مارا گیا-“

”کیا—-“ مراد نے ایک جھٹکا لیتے ہوئے کہا-”نہیں- ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟-“

”سچ کہہ رہا ہوں استاد- تم خود ٹی وی چلا کر دیکھ لو- — مگر وہ کمینی بچے گی نہیں-“

”کیا مطلب؟-“ مراد نے چونکتے ہوئے کہا- دوسری طرف وردا بھی یہ سن کر چونک گئی تھی- ”یہ کمینی کون ہے؟-“

”اور کون- وہی جس نے فرید کو مارا ہے- یہ سیریل کلر جس نے پورے شہر میں دہشت مچا رکھی ہے کوئی آدمی نہیں بلکہ ایک عورت ہے-“ راجو نے اپنی طرف سے انکشاف کرتے ہوئے کہا- ”اور وہ بھی ایک خوبصورت عورت- یقین نہیں آتا تو خود ٹی وی پر دیکھ لو- شاید کسی چینل پر ابھی بھی یہ خبر چل رہی ہو-“

یہ سب سن کر وردا کے ہوش اڑ گئے- اسے پورا یقین ہو رہا تھا کہ راجو ٹی وی پر جس عورت کی خبر کی بات کر رہا ہے وہ یقینا خود اس کے یعنی وردا کے بارے میں تھی-

مراد بھی اس بات سے اتنا ہی حیرت زدہ ہو رہا تھا- اس نے فوراً ٹی وی آن کر دیا-”کس چینل پر آرہی ہے یہ خبر-“ اس نے راجو سے پوچھا-

”میں نے کہا نا کوئی بھی نیوز چینل لگا لو- کسی نہ کسی پر تو آہی رہی ہوگی- مراد چینل گھمانے لگا اور ایک چینل پر واقعی میں وہی خبر چل رہی تھی-

”غور سے دیکھیں اس چہرے کو- یہی ہے وہ جس نے پورے شہر میں خوف اور دہشت کی فضا قائم کر رکھی ہے-“ نیوز کاسٹر سنسنی خیز انداز میں خبر سنا رہی تھی- اور اسکرین پر دکھایا جانے والا چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ وردا کا ہی تھا-

”راجو تم جاﺅ- ہم بعد میں بات کرتے ہیں -“ مراد نے اسے ٹہلانے کی غرض سے کہا-

”کیا ہوااستاد-“ راجو نے حیرت سے پوچھا

”کچھ نہیں- فرید کی موت کی خبر سن کر میرا دل خراب ہو رہا ہے- غم کے مارے مجھے کچھ اچھا نہیںلگ رہا – ابھی تم جاﺅ میں سنبھل جاﺅں تو پھر بات کرتے ہیں-“

”ٹھیک ہے استاد- میں تمہارا دکھ سمجھ سکتا ہوں- مجھے بھی بہت دکھ ہوا ہے یہ نیوز دیکھ کر- پتہ نہیں فرید کے گھر والوں کا کیا حال ہوا ہوگا- خدا اسے جنت میں جگہ دے اور اس قاتل حسینہ کو پھانسی کا پھندا-“

”ٹھیک ہے – ٹھیک ہے- اب جاﺅ بھی-“ مراد نے تقریباً اسے دروازے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا- اس کے دل و دماغ میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی-

جیسے ہی مراد نے دروازہ بند کیا وردا فوراً پردے کے پیچھے سے نکل آئی- ٹی وی اسکرین پر اپنی تصویر دیکھ کر اس کی اوپر کی سانس اوپراور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی-

”مراد—یہ— یہ سب کیا ہے؟-“ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے-

”پتہ نہیں یہ ٹی وی چینل کیا بکواس دکھا رہے ہیں- مجھے خود کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے-“ مراد نے کہا-

”میں ابھی پولیس اسٹیشن جا کر پولیس کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتی ہوں- وردا حزیانی کیفیت میں بولی-

”رکو- پہلے پوری خبر تو سن لیں کہ ماجرا کیا ہے-“ مراد نے اسے روکتے ہوئے کہا-

ٹی وی پر ابھی بھی اسی واقعے کے بارے میں خبر چل رہی تھی-

”ہمارے ساتھ رہئے گا- آگے ہم بتائیں گے کہ کیسے ہوا اس قاتل حسینہ کا پردہ فاش- ہم ابھی حاضر ہوتے ہیں ایک چھوٹے سے بریک کے بعد-“نیوز اینکر اپنے مخصوص انداز میں بولے جا رہی تھی-

وردا کو یہ سب ایک برے سپنے کی طرح لگ رہا تھا- ایک ایسا برا سپنا جس سے وہ چاہ کر بھی جاگ نہیں پا رہی تھی-اور جاگتی بھی کیسے- یہ سب حیققت جو تھا-

”تمہاری بے وقوفانہ حرکت کی وجہ سے میں اس مصیبت میں پھنسی ہوں-“ وردا نے روہانسے لہجے میں کہا-

”اطمینان رکھو- سب ٹھیک ہو جائے گا – پہلے دیکھ تو لیں کہ ماجرا ہے کیا آخر-“ مراد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

ٹی وی پر خبریں دوبارہ شروع ہوئیں تو وہ دونوں ایک دم خاموشی کے ساتھ دیکھنے لگے-

”یہ حسینہ اس بار بھی خون کرکے نکل جاتی لیکن اس بار کسی نے اسے خون کرتے ہوئے دیکھ لیا- کون ہے وہ شخص؟ — جس نے دو خون ہوتے ہوئے دیکھے اور پولیس کو انفارم کر دیا- ہم ابھی آپ کو اس کی تصویر دکھاتے ہیں- وہ عینی شاہد اس وقت تھانے میں موجود ہے اور اپنا بیان ریکارڈ کروا رہا ہے-“ نیوزاینکر بول رہی تھی-

اسکرین پر کچھ فوٹیج دکھائی جانے لگیں- اس میں ایک آدمی کو دکھایا جا رہا تھا- اس کے چہرے پر کپڑا لپٹا ہوا تھا-

”یہ ہے وہ عینی شاہد اور خوفزدہ ہونے کی وجہ سے اپنا چہرہ دکھانا نہیں چاہتا- اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ قاتل حسینہ اسے بھی نہ مارے دے- لیکن اس نے پھر بھی اس حسین قاتلہ کا پردہ فاش تو کر ہی دیا ہے- اس کا کہنا ہے کہ اس نے خود اپنی آنکھوں کے سامنے دو قتل ہوتے ہوئے دیکھے ہیں- ہم اس کی حالت سمجھ سکتے ہیں- اس کے بیان کے مطابق وہ قاتل حسینہ اکیلے شکار نہیں کرتی بلکہ اس کا ایک مرد مددگار بھی ہے جو اپنے چہرے پر نقاب پہنے رہتا ہے-“ نیوز اینکر سنسنی پھیلا رہی تھی-

”کیا بکواس ہے یہ—- ”مراد نے جھلا کر کہا- ”یعنی اب میں بھی مشکوک افراد کی فہرست میں شامل ہوچکا ہوں-“

”ٹی وی والے اس آدمی کا چہرہ نہیں دکھا رہے – لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ یہ وہی سیریل کلر ہے-‘ ‘ وردا تیقن سے بولی-

”ٹھیک کہہ رہی ہو- کل جب ہم اس کے چنگل سے بچ کر نکل آئے تو بوکھلاہٹ میں وہ یہ سب کر رہا ہے-“ مراد نے کہا-

”بہت چالاک ہے یہ درندہ- سب کو بے وقوف بنا رہا ہے- ہمارے پولیس کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی اس نے پولیس تک پہنچ کر اپنی جھوٹی کہانی بنا ڈالی- میں ابھی پولیس اسٹیشن جاﺅں گی-“ وردا کے انداز میں غصہ اور جھنجھلاہٹ واضح تھی-

”نہیں – رک جاﺅ ابھی – جلدبازی میں کوئی قدم مت اٹھاﺅ- ہمیں سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا-“

”ہمیں سے تمہارا کیا مطلب ہے؟-“ وردا نے اسے طرف گھورتے ہوئے کہا-

”میرا ذکر بھی تو ہو رہا ہے ان نیوز میں-“ مراد نے وضاحت کی-

”مگر میری تو شکل دکھائی جا رہی ہے ٹی وی اسکرین پر- پتہ نہیں انہیں وہ تصویر کہاں سے مل گئی- یہ میڈیا والے بھی نا— بنا کسی تفتیش کے اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں کہ میں ہی قاتل ہوں— ہو سکتا ہے میرے گھر والوں نے بھی یہ نیوز دیکھی ہو- پتہ نہیں ان کا کیا ردعمل ہوگا-اور میرا ایک سوشل سرکل ہے- وہ سب کیا سوچ رہے ہوں گے میرے بارے میں-“

”میڈیا کا تو یہی کام ہے—- وہ سب چھوڑو— مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ درندہ یہ سب کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت کر رہا ہے— میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں سوچ سمجھ کر قدم آگے بڑھانا چاہئے-“ مراد بولا-

”میں فی الحال گھر جا رہی ہوں-“ وردا نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا-

اسی وقت ٹی وی پر نیوز اینکر کی آواز کہہ رہی تھی- ”پولیس نے چاروں طرف سے شہر کی ناکہ بندی کر دی ہے- ہر آنے جانے والی گاڑی کو اچھی طرح سے چیک کیا جا رہا ہے- پولیس کو شک ہے کہ یہ قاتل حسینہ جس کا نام وردا شمسی بتایا جاتا ہے- اس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ شہر سے باہر فرار ہونے کی کوشش کر سکتی ہے- اس دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پولیس وردا کے گھر والوں سے بھی پوچھ تاچھ کر رہی ہے- لیکن کوئی بھی اس کے خفیہ ٹھکانے کے بارے میں بتانے کے لئے تیار نہیں ہے- وردا کے گھر والوں کا خیال ہے کہ وردا بے گناہ ہے اور اسے کسی سازش کے تحت اس کیس میں پھنسایا جا رہا ہے- ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ چشم دید گواہ کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا- ایک نہ ایک دن وردا کے گھر والوں کو بھی ماننا ہی ہوگا کہ وہ ایک سیریل کلر ہے اور اسے اس کے گھناﺅنے جرائم کی سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے-“

”کیا اس کے بعد بھی تم گھر جانے کی ضد کرو گی- میرا مشورہ ہے کہ تمہارا گھر جانا بالکل بھی مناسب نہیں ہے- تم بھی پھنسو گی اور اپنے گھر والوں کو بھی مصیبت میں ڈال دو گی- ہماری پولیس کو تو تم جانتی ہی ہو- وہ ہاتھ پاﺅں دھو کر بلکہ پورا نہا دھو کر تمہارے خاندان والوں کے پیچھے پڑ جائے گی-“

”مگر میں یہاں ہاتھ پر ہاتھ رک تو نہیں بیٹھ سکتی- اس سے تو یہ بات اور سچی ثابت ہوجائے گی کہ میں ہی قاتلہ ہوں-“ وردا بے بسی سے بولی- ”میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے لئے میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی-“ آخر میں وردا نے اپنا غصہ مراد پر نکالتے ہوئے کہا-

”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی-“ مراد کمزور سے لہجے میں بولا-

”تمہاری بے وقوفی کی سزا مجھے مل رہی ہے-“

”شاید قسمت ہمیں ساتھ رکھنا چاہتی ہے اس لئے یہ سب کھیل ہو رہا ہے—- تمہارے آنے سے اس گھر میں رونق سی آگئی ہے- مجھے تمہارے ساتھ رہنا بہت اچھا لگ رہا ہے-“ مراد نے اپنے دل کی بات کہہ دی-

”یہاں میری جان پر بنی ہوئی ہے اور تمہیں یہ بیہودہ فلرٹ سوجھ رہا ہے- شرم نہیں آتی تمہیں ایسی بات کرتے ہوئے-“

”تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو- میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں مل کر اس مصیبت کا سامنا کرنا ہوگا-“

وردا نے اسے غصے سے گھورا- ” میں جب تک تمہارے ساتھ رہوں گی کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسی رہوں گی- مجھے جلد سے جلد یہاں سے نکلنا ہوگا-“ وردا دھیرے سے بڑبڑائی-

”کچھ کہا تم نے؟-“

”ہاں- یہی کہ میں جا رہی ہوں-“

”پاگل ہوگئی ہو کیا- تم نے سنا نہیں نیوز میں کہ پولیس چاروں طرف تمہیں ڈھونڈ رہی ہے- ایسے میں کیسے باہر نکلو گی-“

”کچھ بھی ہو مجھے جانا ہی ہوگا-“

تبھی پھر سے دروازے پر دستک ہوئی-

”راجو ہی ہوگا- چائے لایا ہوگا میرے لئے-“ مراد نے کہا-

”ٹھیک ہے- اسے جلدی رفع دفع کرنا – مجھے گھر کے لئے نکلنا ہے-“ وردا یہ کہتے ہوئے پردے کے پیچھے چلی گئی-

مراد نے دروازہ کھولا- باہر حسبِ توقع راجو ہی تھا- اس کے ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے-

”استاد آج تو میں نے بڑی مست چائے بنائی ہے-“

”اچھا ایسا کیا کر دیا- کیا ناچ ناچ کر بنائی ہے-“ مراد ہنستے ہوئے بولا-

”الائچی والی چائے بنائی ہے- وہ میں نے نغمہ سے منگوائی تھیں نا-“

”ٹھیک ہے تُو جا میں چائے پی لوں گا-“ مراد نے اسے ٹالتے ہوئے کہا-

”استاد آخر بات کیا ہے- رات سے جب بھی آرہا ہوں تم مجھے فوراً بھگانے کی فکر میں لگ جاتے ہو-“

”کوئی بات نہیں ہے یار- بس تُو نہیں سمجھے گا-“ مراد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کی بات کا کیا جواب دے-

”تمہارا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کچھ کرارے لطیفے سناﺅں— رات کو ہی نغمہ نے سنائے تھے مجھے- کیا لش لطیفے ہیں استاد-“ راجو نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا-

”بعد میں سنانا نغمہ کے لطیفے- ابھی نہیں-“ مراد نے کن اکھیوں سے پردے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

” مگر میں تو کچھ اور ہی کہنے آیا تھا- — ہاں نغمہ کی بات سے یاد آیا- استاد تمہارے مشورے پر عمل کرتے ہوئے میں نے قلعہ فتح کر ہی لیا-“ راجو نے رات کا سر ور یاد کرتے ہوئے کہا-

پردے کے پیچھے وردا ان کی باتیں سن رہی تھی- ”ان کمینوں کو اور کوئی کام نہیں ہے- ہر وقت بس عورت ہی چھائی رہتی ہے ان کے حواسوں پر-“ وہ دل ہی دل میں بولی-

”تم کچھ اور کہنے والے تھے- وہ کیا بات تھی؟-“ مراد نے اس کا دھیان اصل بات کی طر ف لاتے ہوئے کہا-

”وہ ہاں– استاد تم نے خبریں دیکھیں؟-“

”ہاں دیکھ لیں-“

”یقین نہیں ہوتا کہ اتنی حسین لڑکی قاتل ہو سکتی ہے- اور اسے قتل کرنے کے لئے خنجر یا پستول کی کیا ضرورت ہے- ہم جیسے تو اس کی آنکھ کے ایک اشارے سے ہی مرنے کو تیار ہوجائیں- کیوں استاد-“

”ہاں یار- یقین مجھے بھی نہیں ہو رہا – لیکن ٹی وی پر یہ سب دکھا رہے ہیں- پتہ نہیں کتنا سچ ہے کتنا جھوٹ-“ مراد نے گول مول جواب دیا- اسے پتہ تھا کہ پردے کے پیچھے وردا ان کی باتیں سن رہی ہے- یہ کہتے ہوئے اس نے چائے کی ایک چسکی لی-

”استاد میرا تو دل آگیا ہے اس قاتل حسینہ پر- کاش مجھے مل جائے تو—-“

راجو کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی مراد نے اسے ٹوک دیا- ”چپ کر دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں-“

”سنو تو سہی استاد- پہلے تو میں اس واقعے سے ڈر گیا تھا- لیکن جب بار بار ٹی وی پر اس کی تصویر دیکھی تو سمجھو میرے حواسوں پر چھانے لگی- کاش وہ مجھے ایک بار مل جائے-“

”ابے چپ کر- مروائے گا کیا-“ مراد نے اسے ڈانٹا-

دوسری جانب وردا کا چہرہ غصے سے سرخ ہونے لگا تھا-

”سچ کہہ رہا ہوں استاد- اگر وہ ایک بار مجھے مل جائے نا تو سمجھ کر پھر میری ہی بن کر رہے گی- اور یہ راتوں کو خون کرنا بھی بند کر دے گی-“ راجو اپنی ہی کہے جا رہا تھا-

”بہت ہوگیا- اب تُو جا-“ مراد نے جان چھڑانے کی غرض سے کہا-

”استاد—- کیا بتاﺅں— حالانکہ میں نغمہ کے ساتھ وقت گزار چکا تھا لیکن پھر بھی ٹی وی پر اس کا چہرہ دیکھ کر دل میں وہ ہلچل مچ رہی ہے کہ بتا نہیں سکتا-“

”ابے پاگل ہوگیا ہے کیا- چل نکل یہاں سے-“

”کیا ہوا استاد- غصہ کیوں ہو رہے ہو- میں تو بس یونہی-“

راجو کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اندر سے وردا چلائی- ”اسے کہیں جانے مت دینا- ابھی بتاتی ہوں میں اسے-“

”یہ کون بولی استاد-“ راجو نے حیرت سے مراد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”میں نے کہا تھا نا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں-“ مراد جھلا کر بولا-

” ہاں ہوتے ہیں- مگر دیواروں کے پاس منہ کب سے آگیا چلانے کے لئے-“ راجو اب بھی حیرت میں تھا-

تبھی پردہ ہٹا کر وردا باہر نکل آئی- وردا کو دیکھتے ہی راجو کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی- وہ تو شکر ہے کہ اس نے فرش گیلا نہیں کیا- اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا اور اس کی ٹانگیں تھرتھر کانپنے لگیں-

”پھر سے کہو- تم میرے بارے میں کیا کہہ رہے تھے؟-“ وردا غصے سے پھٹ پڑی-

”اس— استاد—“ راجو سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا-

”ابے کیا ہورہا ہے— تیرا تو لگتا ہے پیشاب نکل گیا-“

چلیں جی اب تک جس بات سے راجو صاحب بچے ہوئے تھے وہ بھی پوری ہوگئی- او راس کے نیچے کی زمین واقعی میں تر ہوچلی تھی-

وردا بہت غصے میں تھی- لیکن پھر بھی راجو کی ایسی حالت دیکھ کر ہنسے بنا نہ رہ سکی-

”بس نکل گئی ساری ہیکڑی- بہت باتیں کر رہے تھے نا- اب بولو-“ وہ ہنسی کو روکتے ہوئے بولی-

اور راجو بیچارہ سر جھکا کر رہ گیا- مراد کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس صورتحال کو کیسے کنٹرول میں کرے-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

ناول کا اگلا حصہ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    خورشید پیرزادہ

    بہترین کاوش۔ وقت کی اہم ضرورت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے