سر ورق / کہانی / چونچلے باز …  نوشاد عادل

چونچلے باز …  نوشاد عادل

          وہ اکیلا تھا اور اس کے سامنے پچاس ساٹھ مسلح دشمن کھڑے تھے۔ان کے ہاتھوں میں آتشیں ہتھیار آگ اگلنے کے لئے بے چین تھے۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک کلاشنکوف تھی، جس کی گولیاں حلق تک بھری ہوئی تھیں۔ اگلے ہی لمحے دشمنوں نے اس پر گولیاں برسانا شروع کردیں۔ اس نے ہوا میں قلابازی کھائی اور لاتعداد گولیاں اس کی شلوار میں سوراخ کرتی ہوئی گزرتی چلی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے جوابی فائرنگ شروع کردی۔ اس کی کلاشنکوف نے موت اگلنا شروع کردی۔ دشمن ڈانس کے انداز میں مٹک مٹک کر گرنے لگے۔ گولیوں کی گھن گرج سے چوہدری بشیر کا کمرا گونج رہا تھا۔ دل دوز چیخوں سے درودیوار لرز اُٹھے تھے، لیکن چوہدری بشیر نہایت اطمینان کے ساتھ گھٹنوں تک لمبی نیکر اور پلٹا ہوا بنیان پہنے پیٹ پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ اُن کی گول مٹول اُبھری ہوئی توند کو دیکھ کر مکلی کے تاریخی قبرستان کے کسی کہنہ سال مقبرے کا منظر ذہن میں آرہا تھا۔

           اس وقت چوہدری صاحب اپنی پسندیدہ فلم بشیرا دیکھ رہے تھے۔ سامنے ہی ڈی وی ڈی اور ٹی وی رکھا ہوا تھا۔ اس وقت فلم کے اختتامی مناظر چل رہے تھے،حالاں کہ چوہدری بشیر کو باتھ روم ایک” ضروری کام“ سے بھی جانا تھا، مگر فلم کی اسٹوری اتنی زبردست اور سنسنی خیز تھی کہ انہوں نے ضروری کام فلم کے اختتام تک موخر کردیا تھا۔ یہ ان کے حق میں بہتر تھا کہ فلم ڈراﺅنی نہیں تھی ورنہ باتھ روم جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ عین اسی وقت ان کا بے ڈول قسم کا بچہ آنکھیں ملتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور آتے ہی چوہدری صاحب کی خمیری توند پر ہاتھ مارنے لگا۔

          ”پاپا…. پاپا…. “بچہ پیٹ میں اس طرح ہاتھ کو دھنسا رہا تھا جیسے آٹا گوندھ رہا ہو۔

          چوہدری صاحب اس بے جا مداخلت پر سخت برہم ہوئے ۔”کیا ہے ….چین نہیں ہے تجھے…. سونہیں سکتاآرام کے ساتھ ….کیا مصیبت آگئی ہے اس وقت….؟“

          ”پاپا …. شو شو آئی…. “بچے نے منہ بسورے ہوئے مژدہ جاں فزا سنایا۔

          یہ سن کر چوہدری صاحب کے سر میں لگی اور نیچے جاکر بھڑک اٹھی، جس سے ان کی بے قراری میں اضافہ ہوگیا۔

          ”تو اس کمرے میں کیوں آیا ہے…. یہ کوئی شوشو کی جگہ ہے؟“

          ”مجھے ڈر لگ رہا ہے۔“

          ”ابھی کہہ رہا تھا شوشوآئی اور اب ڈر بھی لگ گیا…. چل اب ہٹ جا فلم دیکھنے دے مجھے ‘ خود جاکر شوشو کر آ۔“ چوہدری صاحب نے اسے ہاتھ سے پرے دھکیلا۔

          ”پاپا آپ بھی چلو۔ “بچہ ضد پر اڑ گیا۔

          ’پھر صبر کر ذرا دیر‘ پھر دونوں مل کر چلیں گے۔ “چوہدری صاحب نے دانت پیستے ہوئے اسے پچکارا۔

          اچانک باہر ایک کھٹکا سنائی دیا۔ چوہدری صاحب چونک گئے۔ ابھی وہ ٹھیک سے کچھ سمجھ نہیں پائے تھے کہ کمرے کے کھلنے دروازے سے کوئی اندر آکر گرا۔ چوہدری بشیر نے حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ کوئی لمبا اور سوکھا سا اجنبی آدمی تھا۔ چینی مرغی جیسی شکل پر دو کلو پھٹکار برس رہی تھی۔ اجنبی کمرے کے وسط میں” ٹیاﺅں “کرکے گرا تھا اور پھر وہ بیٹھ کرکراہنے لگا۔

          ”آئے…. آئے…. ابے ….میر اہاتھ…. “وہ اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی سے سہلا رہا تھا۔

           چوہدری بشیر نے سخت حیرانی سے دریافت کیا۔” اوئے …. ابے …. او بھائی کون ہو تم؟ یہ اچانک کہاں سے ٹپک پڑے میرے گھر میں ‘ کسی پرندے کے بچے ہو یا مکڑی کے انڈے سے برآمد ہوئے ہو؟“

          ”میں …. میں لمبو ہوں۔ “گرنے والا اجنبی شخص اب کھڑا ہوگیا تھا۔

          اس اثناءمیں وہاں دو آدمی مزید اندر آگئے۔ ایک تو بالکل بونا سا تھا۔ اتنا مختصر کہ اس سے والی بال کھیلی جاسکتی تھی ۔دوسرا خرانٹ چہرے والا آدمی صفا چٹ گنجا تھا۔ چوہدری صاحب غصے میں ان لوگوں کو پیاری پیاری باتیںسنانے والے تھے کہ یک لخت اُن کی نظر گنجے آدمی کے ایک ہاتھ پر پڑی۔ چوہدری صاحب کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے خوف و دہشت کے سائے ڈسکو ڈانس کرنے لگے۔ گنجے آدمی کے ہاتھوں میں چوہدری بشیر صاحب کے سسر جیسی کالی رنگت کا پستول تھا۔ چوہدری صاحب کا بچہ بھی تعجب خیز نظروں سے آنے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ خاص طور پر بچے کی تمام تر توجہ گنجے آدمی کی مرکری کھوپڑی پر مرکوز ہوکر رہ گئی تھی۔ اس نے اتنی چمک دار انسانی کھوپڑی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی تھی یا پھر کارٹون نیٹ ورک پر دیکھی تھی۔

          گنجے آدمی نے چوہدری بشیر کی حالت کے پیش نظر جلدی سے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دھیمی آواز میں بولا۔” اے خاموش‘ شش…. بالکل خاموش…. آواز نہ نکلے …. شش۔“

          چوہدری بشیر نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔” آواز نہیں نکلے گی تم یہ کوشش مت کرو ۔ ورنہ منے کی شوشو نکل جائے گی۔“

          ”بکواس بند کرو۔“ گنجے نے انہیں ڈانٹا۔” چپ چاپ اپنی جگہ پڑے رہو۔“

          ”گگ…. گنجے بھائی…. تم ہو کون ؟ “چوہدری بشیر نے لرزیدہ آواز میں پوچھا۔

          ”ہم…. ہم ڈاکو ہیں۔ “گنجے کے لہجے میں احساس تفاخر امڈ آیا تھا۔

          چوہدری بشیر کے منے نے حیرانی سے اسے دیکھا۔” تم جھوٹ بول رہے ہو…. تمہارے سر پرکوا چونچ مارے گا…. تم ڈاکو نہیں ہو…. تم تو گنجے ہو…. وہ کہتے ہیںنا ….جھوٹ بولے بوا بیٹ کرے۔“

          گنجے ڈاکو کی اس کے ساتھیوں کے سامنے عزت افزائی ہوئی تو مارے غصے کے اس کی ناک کے نتھنے ٹوڈمینڈک کے سینے کی مانند پھولنے پچکنے لگے۔ اس نے غراہٹ آمیز آواز میں چوہدری بشیر سے کہا۔

          ”خاموش ….جہنم کے دنبے….۔“

          اس کی آواز سن کر بچہ رونے لگا۔

          گنجے ڈاکونے جھنجلا کر کہا۔”اوئے موٹے پیٹ کے گینڈے ….اسے چپ کرا لے۔“

          ”وہ تو میں چپ کرالوں گا‘ مگر تم لوگ کیسے بدتمیز ڈاکو ہو…. تمہیں تمہارے ماں باپ نے تمیز نہیں سکھائی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو دروازہ بجاکر اندر جاتے ہیں۔تم نے تو بس ایسے ہی اپنی گنجی کھوپڑی اُٹھائی اور اندر گھستے چلے آئے۔ یہ کہاں کی شرافت ہے….؟“

          ’پھر تم نے بکواس کی۔ “گنجے نے دانت کچکچائے ۔” اب بولے تو میں گولی مارکر تمہاری توند پھاڑ دوں گا۔“

          ”پاپا کی توند مت پھاڑنا۔ “بچے نے گنجے سے کہا۔” پاپا نے آج باجرے کی کھچڑی کھائی ہے ۔ وہ سب باہر نکل جائے گی۔“

          ”بچے اگر تیرے پاپا نے ہماری بات نہیں مانی تو ہم توند پھاڑے بغیر ساری کی ساری کھچڑی باہر نکل دیں گے۔ چل او موٹے آدمی…. بتا مال کہاں کہاں رکھا ہے ۔ بتا جلدی سے؟ “گنجے نے پستول کی نال سے اپنا گال کھجایا۔ اس کے دونوں آدمی چوہدری صاحب کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔ بونے آدمی نے ٹی وی اورڈی وی ڈی بند کردیا تھا۔

          ”مال…. کیسا مال بھائی ؟ “چوہدری بشیر گھبرا گئے۔” تمہیں کسی نے غلط اطلاع دی ہے …. میرے پاس کوئی مال وال نہیں ہے۔“

          “ابے میں پیسوں ‘ زیورات اور دوسری چیزوں کا پوچھ رہا ہوں احمق انسان….“ گنجے آدمی کا چہرہ جلے ہوئے پکوڑے جیسا ہوگیا ….” تو ہمیں باتوں میں اُلجھاکر ہمارا فالتو ٹائم برباد کررہا ہے۔“

          ”مم…. میرے پاس کچھ نہیں ہے‘ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔“ چوہدری بشیر نے اپنا تکیہ غیر محسوس طور پر اونچے صوفے کے نیچے کھسکاتے ہوئے کہا۔

          ”اوہ بتادو جی۔“ لمبو نے چوہدری بشیر کو سمجھایا۔” بتا دو ….ورنہ تم نہیں جانتے ہمارے استاد پاپڑی کو‘ ایک نمبر کے ڈھیٹ‘ ذلیل اور کمینے ہیں‘ اپنی ہٹ پر اڑجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو ضد سے ہٹا نہیں سکتی ہے۔ میرا مشورہ ہے تم ان کی بات مان لو ‘ورنہ پھوکٹ میں مارے جاﺅگے۔“

          ”پاپا کے تکیے میں پیسے ہیں۔ پاپا تکیے میں ہی پیسے چھپا کررکھتے ہیں۔“چوہدری بشیرکے منے نے اچانک گنجے استاد پاپڑی کو بتاڈالا۔

          تب چوہدری بشیر کو احساس ہوا کہ اپنے بچے سے بہتر وہ کسی کتے کے بچے کو پال پوس لیتے۔ کم از کم اس نازک موقع پر وفاداری کا ثبوت تو دیتا۔منے نے تو لٹیا ہی ڈبوڈالی تھی۔

          گنجے استاد پاپڑی نے اپنے بونے ساتھی سے مخاطب ہوکر کہا۔ ”اوئے …. گنگو‘ وہ تکیہ اٹھالے۔“

          گنگو لپک کر آگے بڑھا اور صوفے کے نیچے سے تکیہ نکال لیا۔ چوہدری بشیر حسر ت بھری نظروں سے دیکھتے ہی رہ گئے۔ گنجے استاد نے تکیے کے غلاف میں ہاتھ ڈال کر جائزہ لیا اور جیب اس نے ہاتھ باہر نکالا تو لمبو اور ٹنگو اچھل پڑے۔ استاد کے ہاتھوں میں بڑے بڑے نوٹ تھے۔

          ”وہ مارا استاد یہ تو پیسے ہیں۔ “لمبو نے خوشی کے مارے اپنا نچلا دھڑ لہرایا۔

          ”ہاہاہاہا….“ استاد نے دھیمی آواز میں قہقہہ لگایا۔” اس کا مطلب ہے کہ ہماری اطلاع درست ہی تھی۔“

          ”او بھائی گنجے ڈاکو یہ پیسے لے کر مت جا‘ یہ ایک یتیم کے پیسے ہیں۔ اس کی بددعا لگ جائے گی تجھے ‘ چھوڑ جا یہ پیسے۔“ چوہدری بشیر گڑگڑانے لگے تھے۔

          ”کس یتیم کے پیسے ہیں؟“

          ’میں ہی ہوںوہ یتیم…. میرا باپ پتنگ اُڑاتے ہوئے چھت سے گر کر فوت ہوچکا ہے۔“ چوہدری بشیر رونے لگے۔

          ”پاپا مجھے شوشو آرہی ہے۔“ منے نے دوبارہ اطلاع دی۔

          ”ابے مجھ سے کیا کہہ رہا ہے ‘ اس گنجے ڈاکو سے بول۔“ چوہدری بشیر روتے ہوئے سراُٹھاکر بولے۔

          ”کیا ہوا ۔“ گنجے استاد نے تمام پیسے جیب میں ٹھونسنے کے بعد پوچھا۔

          ”مجھے شوشو آرہی ہے۔ “منے نے بڑی سادگی سے خوف ناک خبر سنائی۔

          ”بعد میں جانا ابھی اپنے پاپا کے پاس کھڑے رہو چپ چاپ۔“

          ”اوں ں ں….“ منے نے رونا شرع کردیا۔

          ”ابے ابے ‘ اس کو کیا ہوگیا؟ “گنجا استاد پاپڑی گھبرا گیا۔ ”اوئے لمبو اسے گود میں اٹھاکر چپ کرا۔“

          لمبو نے لپک کر منے کو گود میں اٹھالیا اور لوری دینے کے انداز میں جھولا جھلانے لگا۔

          چوہدری بشیر نے آواز لگائی۔”ذراآرام سے جھلاﺅ…. کہیں تمہارے کپڑے خراب نہ ہوجائیں۔“

          ”چلو چلو اٹھو اور بتا ﺅ کہا ںکہاں مال چھپا کر رکھا ہوا ہے؟ جلدی کرو ہمارے پاس ذرا بھی ٹائم نہیں ہے۔“ استاد پاپڑی نے پستول کی نال سے اپنی چندیا کھجائی۔”ورنہ یہ دیکھ رہے ہو نا؟“

          ”ہاں دیکھ رہا ہوں‘ بڑی چمک دار کھوپڑی ہے۔“

          ”ابے میں کھوپڑی کی نہیں ‘ پستول کی بات کررہا ہوں۔“ گنجا طیش میں آگیا۔

          ”تم بھی تو اپنی کھوپڑی کی طرف اشارہ کررہے تھے۔“ چوہدری بشیر نے صفائی پیش کی۔” پستول کو اپنی ٹنڈ سے دور ہی رکھو ۔ کہیں غلطی سے گولی نہ چل جائے۔ بے فضول میں ٹنڈ کے اندر آر پار سوراخ ہوجائے گا۔ ایسی بے داغ کھوپڑی پر ذرا سا بھی نشان پڑگیا تو ساری ویلیو ڈاﺅن ہوجائے گی۔“

          ”تم باز نہیں آﺅگے۔“ استاد نے آگے بڑھ کر چوہدری بشیر سے کہا۔”بتاﺅ تمہارا قیمتی سازو و سامان کدھر رکھا ہے؟“

          ”ادھر ‘ اسٹور میں۔“ چوہدری بشیر نے آخر کار تھوک نگلتے ہوئے بتادیا۔

          ”ویری گڈ….اوئے لمبو بچے گود سے اُتاردے اور تم دونوں اس کے ساتھ جاکر سامان لے آﺅ اور جاکر سوزوکی میں رکھ دو ‘آخر میں یہ ٹی وی اور ڈی وی ڈی بھی رکھ دینا۔“

          ”جو حکم سردار۔ “لمبو نے بچے کو گود سے اُتارا اور وہ دونوں چوہدری بشیر کے ساتھ کمرے سے نکل گئے۔ اب کمرے میں استاد پاپڑی اور چوہدری بشیر صاحب کا منا رہ گئے۔

          منے نے بڑی تمیز سے سوال کیا۔” انکل انکل ایک بات پوچھوں؟“

          ”ہاں ہاں پوچھو‘ ضرور پوچھو۔“ استاد پاپڑی ترنگ میں آگئے تھے۔

          ”آپ بالکل صحےح بتائیں گے؟“

          ”ہاں صحیح بتائیں گے۔ تم پوچھو….؟“

          ”انکل آپ کے سر میں دانے ہوگئے تھے کیا؟ دانے وہ جو انار دانے جیسے ہوتے ہیں، اسی لئے آپ نے بال کٹوالےے ہیں۔ انکل آپ نے بال کہاں سے کٹوائے تھے؟ “منے میاں رہ رہ کر باتوں کی چپتیں لگارہے تھے۔

          ” لگتا ہے تم صرف نام کے منے ہو،ورنہ تم اپنے باپ سے دس ہاتھ آگے ہو ۔“ گنجے استاد نے زہر خند کیا۔

          تھوڑی ہی دیر میں استاد پاپڑی کے ساتھیوں نے چوہدری بشیر کے گھر سے بہت سا سامان اٹھاکر گلی میں کھڑی اپنی سوزوکی کے عقبی حصے میں رکھ دیا تھا۔

           لمبو نے آخری چکر لگانے کے بعد استاد پاپڑی سے کہا۔ ”ہاں استاد گاڑی لوڈ ہوگئی ہے۔ اب کیا حکم ہے؟ “وہ غریب ہانپ رہا تھا۔

          ”بس اب یہ ڈی وی ڈی اور ٹی وی بھی رکھ دو جلدی سے ۔“ استاد نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

          ”نائیں نائیں ایسامت کرو میرے اچھے سے گنجے بھائی ۔“ چوہدری بشیرالتجا پر اُتر آئے۔” ڈی وی ڈی اور ٹی وی مت لے جاﺅ۔ ابھی میںنے بشیر ا کا اینڈ بھی دیکھنا ہے۔ تھوڑی سی فلم رہ گئی ہے۔ یہ دونوں چیزیں کل صبح آکر لے جانا۔“

          مگر ڈاکوﺅں نے ان کی ایک نہ سنی اور وہ دونوں چیزیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

                             ٭٭٭

          یہ قصبہ دڑبہ کالونی تھا۔

           ویسے آپ نے کالونیاں تو بہت دیکھی ہوں گی اور بے شمار کالونیوں کے نام سے سنے ہوں گے۔ اُن میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں کہ سنتے ہی ہنسی آجاتی ہے۔ دڑبہ کالونی بھی ایک ایسی ہی کالونی ہے جس کا نام ہی مضحکہ خیز نہیں ہے ،بلکہ یہاں کے لوگ بھی اپنی نوعیت کے عجیب وغریب اور حماقت آمیز کردار ہیں۔ ہر کردار ایک دوسرے سے جداگانہ اورانتہائی بے وقوفانہ خصوصیات اپنے اندر سموئے پھر رہا تھا۔ ایسے لوگ عام زندگی میں اکثر و بیش تر ہمیں ٹکراتے رہتے ہیں ،مگر اس کالونی میں اس قسم کے کرداروں کی بھرمار ہے۔ چوہدری بشیربھی دڑبہ کالونی میں ہی رہتے تھے۔

           ہم آپ کو دڑبہ کالونی کے بارے میں مختصر بتادیتے ہیں ،بلکہ وہاں آپ کو لےے چلتے ہیں۔ یہ جو آپ نالے کے پار کچرے اور غلاظت کے ٹیلے دیکھ رہے ہیں بس یوں سمجھیں اِدھر سے ہی مملکت دڑبہ کالونی اسٹارٹ ہوجاتی ہے۔ یہ نالہ شہر اور دڑبہ کالونی کے درمیان بارڈر کا کام انجام دیتا ہے۔ اب ہم نالہ کراس کرکے کالونی میں قدم رکھ چکے ہیں۔ آگے آپ کو گلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ ادھر گلیوں سے زیادہ گندگی گلیاں ہیں۔ یہ جو آپ چھوٹی چھوٹی ننگ دھڑنگ مخلوقات دیکھ رہے ہیں،یہ دڑبہ کالونی کے باشندوں کے شہزادے اور دل کے ٹکڑے ہیں۔یہ بچپن میں اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوں گے ان میں انسانی خدوخال نمایاں ہوتے چلے جائیں گے۔ ان تمام بچوں میں ایک حیرت انگیز صلاحیت یہ ہے کہ یہ گالیاں بکنے کے ماہر ہیں۔ ایک منٹ میں اَن گنت گالیاں سناسکتے تھے۔ گالیاں بکنے کی رفتارماسٹر کمپیوٹر سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر ان بچوں کو پینٹیم ففٹی کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔

           آگے آپ کو جو چوراہا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ” ماموں چوک“ کہلاتا ہے۔ اس میں دڑبہ کالونی کے نامی گرامی کردار پائے جاتے ہیں۔ یہ جو آپ آمنے سامنے دو ہوٹل دیکھ رہے تھے۔ اُن میں ایک طوفان ہوٹل اوردوسرا بجلی ہوٹل کے نام سے مشہور ہے۔ طوفان ہوٹل کے مالک خالو خلیفہ اور بجلی ہوٹل کے مالک انگریز انکل ہیں۔ ان دونوں کے اصل نام کچھ اور ہی ہیں یہ تو ان کے القاب ہیں، جو حسن کارکردگی کی مناسبت سے کالونی والوںنے انہیں مرحمت فرمائے ہیں۔ ان دونوں کا شمار کالونی کے معززین میں ہوتا ہے۔ کالونی کے ہر شخص کو اس کے حلیے یا حرکتوں کی مناسبت سے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ خالو خلیفہ اور انگریز انکل کے صاحب زادوں کو بچپن ہی سے للو اور پنجو کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ دونوں ایک سے بڑ ھ کر ایک کند ذہن اور کوڑھ مغز ہیں۔

          دڑبہ کالونی کے” کونسلر“ شرفو صاحب ہیں۔ کونسلر بن جانے کے باوجود انہوں نے اپنا آبائی پیشہ ترک نہیں کیا ہے۔ وہ اب بھی اپنی پھٹ پھٹی پر دودھ تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔

          اب ہم آپ کو کالونی کی اہم ترین شخصیت سے ملاتے ہیں۔ یہ آپ چھوٹے سے کیبن میں بیٹھے خرانٹ صورت بزرگ کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ” چاچا چراندی “ہیں۔ کالونی کی ہر دل خبیث شخصیت۔ اول درجے کے جھگڑالو۔ چراند باز اور حاضر جواب۔ یہاں کے اچھے اچھے بدمعاش بھی چاچا کی چراند سے خوف کھاتے ہیں ۔

          آگے نائی کی دکان ہے۔”ڈسکو ہیئر ڈریسر“ ۔ نائی کو اس کے سیاہ سخت اور عظےم الشان بالوں کے ڈھیر کی وجہ سے” دنبہ نائی“ کہا جاتا ہے اور یہاں آپ کو عجیب وغریب رُلادیںے والی موسیقی سنائی دے رہی ہوگی۔ یہ اجمیری بینڈ ماسٹر کی دکان سے اُبھررہی ہے۔ یہاں صبح سے شام تک اس اُمید پریکٹس ہوتی رہتی ہے کہ شاید کسی تقریب میں انہیں بلوالیا جائے اور وہ لوگ وہاں اپنے فن کا مظاہرہ کرسکیں، مگر شاذو نادر ہی ان کی قسمت کے تالے کھلتے ہیں ۔ بینڈ ماسٹر دلارے کے دو نافرمان اور ناخلف شاگرد بھی تھے۔ اچھے خاصے بے روزگار گھوم رہے تھے۔ مقدر کی خرابیاں اور ماں کی بددعائیں استاد دلارے کی شاگردی میں گھیر لائیں۔ ان میں ایک بابو باﺅلا اور دوسرا چپٹے کے نام سے مشہور تھا۔

          ان کے علاوہ یہاں اور بھی بہت سے کردار ہیں۔ کالونی میں ایک بھنگی مائیکل بھی ہے۔ مجو قصائی‘ نجموسبزی فروش‘ یامین بھوسی ٹکڑے والا‘ بربادی بیگم وغیرہ بھی دڑبہ کالونی کے خاص کردار ہیں ۔ شرفو کونسلر کونسلر کا دفتر بھی کالونی میں تھا ،جہاں للو اور پنجو بےٹھتے تھے۔ ایک چپراسی بھی انہوں نے رکھ چھوڑا تھا۔ وہ سیاہ فام چپراسی گلابی کہلاتا تھا۔ گلابی بے چارہ توتلا تھا۔

          للو اور پنجو دفتر میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ گلابی ٹیبل پر اخبار پھیلائے بڑی باریک بینی سے اس کو دیکھ رہا ہے ۔ دونوں اسے اخبار کا مطالعہ کرتے دیکھ کر حیرت کے ہیضے میں مبتلا ہوگئے ۔ یعنی گلابی اور اخبار؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ دونوں آگے آئے ۔ للو نے گلا کھنکار کر پوچھا۔”گلابی بچے‘ یہ کیا ہورہا ہے؟“

          گلابی نے سراٹھائے بغیر بڑی نخوت سے کہا۔”نجل نئی آلا اے کا؟ “(نظر نہیں آرہا ہے کیا؟)

          ”حیرت ہے گلابی کو بھی اخبار پڑھنا آگیا۔ شاباش گلابی شاباش۔“پنجو خوش ہوگیا۔

          “آخر ہماری صحبت میں گلابی کو بھی پڑھنا آگیا۔“

          یہ سن کر گلابی نے سراٹھایا اور توتلا یا۔” میں اکھبال تھولی پل لا اوں‘ میں تو اپنے سل میں سے جو ئےں نتال تل مال لا اوں۔ ایت جوں اکھبال پل گل تے بھادوئی اے‘ اتھے دھوندلالوں۔“

          ”تھو تیری شکل پر۔ “للو نے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں اس کی کالی بلٹ شکل پر جمادیں۔ ”ابے تو جو میں نکال رہا ہوں ہم سمجھے تو اخبار پڑھ رہا ہے۔ لا ادھر دےااخبار‘ میں سناتا ہوں کیا لکھا ہے۔“ للو نے اس سے اخبار لیا اور پڑھنا شروع کردیا۔ مشکل یہ تھی کہ اردو وہ بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتا تھا، لہٰذا بے عزتی سے بچنے کے لئے اپنی جانب سے خبریں سنانے لگا۔

          ”لالو کھیت میں ڈکیتی او ہوڈکیتی ‘ وہ بھی دن دہاڑے ‘خبر ہے کہ لالو کھیت کے سب سے پررونق نکڑ پر چار ڈاکو ایک سائیکل پر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ تھا۔ وہاں بھگڈر مچ گئی۔ لوگ دکانیں بند کرکے بھاگنے لگے۔ ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔اُن ڈاکوﺅں نے ایک معصوم بچے سے زیرے کے بسکٹ چھینے اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔“

          ”ابے یہ کیسی بے تکی خبرتھی؟ “پنجو نے منہ بنایا۔

          ”آج کل ایسی ہی خبریں آرہی تھیں اخباروں میں۔“

          ”یہ کیسے ندیدے ڈاکو تھے ‘ بچے سے بسکٹ چھین کر کھا گئے۔“

          ”ابے شکر کر۔ انہوں نے صرف بسکٹ ہی چھین کر کھائے ہیں۔ لوگ تو جائیدادیں ہضم کرجاتے ہیں‘ یتیموں اور بیواﺅں کا حق پی جاتے ہیں چینی ملاکر‘ جانے کس کس کے نام پر فنڈ لے کر ڈکار جاتے ہیں۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے بچے۔“ للو نے باقاعدہ تقریر جھاڑ دی اور پھر دوبارہ اخبار دیکھ کر چونکا۔” اوئے ہوئے۔ یہ خبر تو کسی مقابلے کی خبر ہے۔ مقابلہ عالمی بدصورتی‘ لے بھئی گلابی خوش ہو جا اور غور سے سن‘ تیرے مطلب کی خبر مل گئی ہے۔ لکھا ہے پوری دنیا کے بدصورت مردوں کے درمیان آلو مہار شریف مےں ایک بین الاقوامی مقابلہ بدصورتی ہورہا ہے، جہاں دنیا بھر کے بدصورت اور مکروہ صورت انسان جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اول ‘دوئم اور سوئم آنے والوں کے لئے انعامات بھی ہیں ۔ پہلے نمبر پر آنے والے خوش قسمت کے ملے گا ایک بغیر پیندے کا مٹکا۔ دوسرے نمبر پر آنے والے کو ازار بند اور سرمے دانی ملے گی۔ تیسری پوزیشن پر آنے والے بدصورت کو سو واٹ فیوز بلب دیا جائے گا۔ گلابی…. اس موقع سے فائدہ اٹھالے ۔تجھے پہلی پوزیشن پر آنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔تو نمبرون کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔“

          گلابی رضا مندہوگیا۔” تھیت اے مدد تم دونوں بی تلو۔ تم بی دو سلے اول تیسلے نمبل پل آداﺅدے۔“ گلابی نے حق سچ کہا تھا۔

          معاً انہیں گلی میں بہت سے لوگوں کی تیز تیز آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ انہوں نے نکل کر دیکھا، گلی میں بہت سے لوگ کھڑے تھے اور ان کے درمیان چوہدری بشیر نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کوئی جلسہ کررہے ہیں مگر بات کچھ اور ہی لگ رہی تھی ۔ یہ تینوں بھی وہاں پہنچ گئے ۔ لوگ چوہدری صاحب کے گرد اس طرح کھڑے تھے جیسے گوبر پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ چوہدری صاحب نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا۔ شکل ایسی ہورہی تھی جیسے ابھی کسی میت کو قبرستان میں دفناکر آرہے ہوں ۔ ناک سے” شوں شوں “کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ آنکھیں سرخ اور متورم ہورہی تھیں ۔

          للو نے ان سے اَزراہ ہمدردی پوچھ لیا۔”خیریت تو ہے چوہدری صاحب‘ یہ آپ کی روتی صورت پر پھٹکار کیوں برس رہی ہے۔ایسی خبیث صورت کیوں بنا رکھی ہے آپ نے…. کچھ ہمیں بھی تو پتا چلے ۔“

          ہمدردی کے دو کڑوے بول سن کر چوہدری صاحب کے ضبط کا ناڑا ٹوٹ گیا۔ وہ” ہائے ہائے میں لٹ گیا برباد ہوگیا“کہہ کر للو کی طرف بڑھے، تاکہ اس کے کندھے پر اپنا ریچھ جیسا سررکھ کر ٹسوے بہاسکیں۔ للو ان کا ناپاک ارادہ جان کر فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ چوہدری صاحب کے منہ کا وار خالی گیا۔ اب ان کی نگاہ انتخاب گلابی پر پڑی ‘انہوں نے لپک کر گلابی کو پکڑلیا اور زبردستی اس کے ناتواں کندھے پر اپنا توانا سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ روتے روتے وہ ایسے بے سرے منہ بنارہے تھے کہ لوگوں کی ہنسی نکل رہی تھی۔ گلابی ان کے رونے کے ساتھ ساتھ لڑکھڑا رہا تھا۔ چوہدری صاحب پاکستانی فلم کے ہیرو کی طرح اس کے کندھے پر اپنا ماتھا ماررہے تھے۔

          ”میں لٹ گیا لے گئے کم بخت‘ ساری جمع پونجی لے گئے۔ اللہ کرے ان ڈاکوﺅں کو بدہضمی ہوجائے۔ انہیں گردن توڑ بخار ہوجائے۔ میرا ہاضمے کا چورن بھی نہیں چھوڑا۔ وہ ساری کی ساری پڑیاں لے گئے۔“

          للو اور پنجو نے گلابی کی دگرگوں حالت کے پیش نظر اسے چوہدری صاحب کی گرفت سے آزاد کرایا۔

          پنجو نے رائے دی۔” یہاں کھڑا ہونا مناسب نہیں ہے۔ بے کار میں رش بڑھے گا۔ کونسلر صاحب کے دفتر میں آجاﺅ۔ وہاں ہم آپ کے معاملے پر غور کریں گے، تاکہ کوئی مناسب حل تلاش کیاجاسکے۔“

          اس طرح وہ لوگ دفتر میں ٹھس ٹھنسا کر جمع ہوگئے۔

          للو نے بلند آواز میں پوچھا۔” ہاں تو چوہدری صاحب اب آپ تفصیل سے بتائیں۔ آپ کو اپنے گناہوں کی سزا کیسے ملی ہے تاکہ لوگ آپ کی داستان سن کر عبرت حاصل کرسکیں۔“

          سب لوگ بڑی دل چسپی سے چوہدری بشیر کو دیکھ رہے تھے، جیسے بندر کا تماشا دیکھ رہے ہوں۔ چوہدری بشیر آگے بڑھ کر میز پر بےٹھ گئے اور باقی لوگوں کو فرش پر بےٹھنے کا اشارہ کیا۔

          ”بےٹھو‘ بیٹھو‘ میرے بھائیوں ‘ میرے سجنو‘ اپنی اوقات سے زمین پر بیٹھ جاﺅ۔“

          سب بےٹھ گئے تو چوہدری بشیر نے رات کا واقعہ سنانا شروع کردیا۔”یہ کل رات بارہ بج کر دو گھنٹے کا قصہ ہے۔ میں ڈی وی ڈی پر اپنی پسندیدہ فلم بشیر ا دیکھ رہا تھا۔ باقی لوگ اپنے کمروں میں سورہے تھے۔ ایسی زبردست فلم چل رہی تھی کہ مجھے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہا تھا‘ اسٹوری ایسی شان دار تھی کہ جواب نہیں اور ڈائیلاگ ان کا تو پوچھو ہی نہیں ۔“

          ”اچھا نہیں پوچھ رہے ۔“ دنبے نائی نے حسبِ عادت سر ہلایا۔

          ”اوئے بیچ میں مت بول…. سارا ٹیمپو ٹوٹ جاتا ہے۔“ مجو قصائی نے اسے ڈانٹ دیا۔” آپ سناﺅ چوہدری صاحب فلم کی اسٹوری سناﺅ۔“

          ”گاﺅں کی کہانی تھی۔ بشیرے کا باپ جاگیر دار کی حویلی میں نوکر ہوتا ہے ۔ جاگیردار کو بڑا ظالم دکھایا ہے۔ وہ بڑا ظلم کرتا تھا۔ گاﺅں والوں پر ‘ بشیر پینتالیس سال کا ایک سیدھا سادا نوجوان ہوتاہے۔ وہ میٹرک کلاس میں پڑ ھ رہا تھا۔ اسکول سے آنے کے بعد وہ کھیتوں پر کام کرنے چلا جاتا تھا ۔“

          چوہدری صاحب سمیت باقی لوگ بھی کھیتوں میں کھوسے گئے تھے۔

          ”چوہدری صاحب یہ کیا شروع کردی آپ نے؟“ للو نے بھنا کر کہا۔” ہم آپ کا دکھڑا سننے کے لئے بےٹھے ہیں اور آپ نے فلم کی اسٹوری شروع کردی۔“

          ”ابے ہاں‘ میں تو بھول ہی گیا تھا۔“چوہدری صاحب کھیتوں سے لوٹ آئے۔ ”معاف کرنا میں تو کسی اور طرف نکل گیا تھا۔ بس بھئی ہوا یوں کہ اچانک میرے گھر میں تین ڈاکو گھس آئے۔ ان کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ ایک ڈاکو نے تو ٹینک اٹھا رکھی تھی اور اس کی نال کا رخ میرے سینے کی طرف تھا۔اگر میں ذرا بھی حرکت کرتا تو وہ گولیاں برسادیتا۔“

          ”ناممکن ایسا ہوہی نہیں سکتا۔“ دنبے نائی نے دخل درمعقولات کیا۔” میں یہاں ابجیکشن کرتا ہوں ۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔“

          ”ابجیکشن ؟ “چوہدری نے حیرت سے اسے دیکھا۔” ابے آبجیکشن کہتے ہیں گھامڑکی اولاد۔“

          ”ہاں ہاں وہی ‘ مگر میں یہ بات ہرگز نہیں مانوں گا۔ ٹینک میں سے گولیاں کیسے نکل سکتی ہیں ؟“ دنبے نائی نے باریک سا پوائنٹ پکڑلیا تھا۔” اس میں سے گولے نکلتے ہیں ۔ ہم لوگوں کو اتنا احمق سمجھا ہے آپ نے؟“

          “ابے وہ فرانس کی بنی ہوئی ٹینک تھی جاہل انسان ‘ اس ڈاکو نے خود مجھے بتایا تھا۔ ہم لوگ بھی دڑبہ کالونی سے باہر ہی نہیں نکلے ‘تمہیں کیا پتا فرانس والے کیا کیا چیزیں بنارہے ہیں۔ “چوہدری بشیر نے اپنی علمیت کا سکہ بٹھاتے ہوئے حقارت سے کہا۔

          “مجھے پتا ہے۔ ”چپٹا نامی نوجوان کھڑا ہوکر بولا۔” فرانس کی صراحیاں اور پشاوری چپلیں بڑی مشہور ہیں۔ میرے نانا فرانس سے پشاوری چپلیں لائے تھے میرے لئے۔“

          ”ابے تیرے نانا پشاور والے فرانس چلے گئے ہوں گے۔ اوئے بٹھاﺅ اس چپٹی ناک والے کو۔“ مجو قصائی نے چلاکر کہا اور کئی ہاتھوں سے چپٹے کو کھینچ کر گرادیا۔

          ”چوہدری صاحب آگے بتائیں پھر کیا ہوا تھا؟ “ایک آواز ابھری۔

          ”ہاں تو میرے وطن کے سجیلے جوانو‘ میں بتارہا تھا کہ ایک ڈاکو نے ٹینک اٹھارکھی تھی۔ دوسرے ڈاکو نے راکٹ لانچر اٹھا رکھا تھا۔ تیسرا ڈاکو خالی ہاتھ تھا ،مگر وہ کم بخت جوشیلے نغمے سناسنا کر ان کا جذبہ حب الڈکیتی اُبھار رہا تھااور اس سے پہلے کہ وہ مجھے گولیاں مارتے، میںنے حملے میں پہل کرتے ہوئے ایک ڈاکو کو گولی ماردی جواس کے ماتھے پر پڑی۔“

          ”ہائیں ماتھے پر؟ “لوگ حیران رہ گئے۔” پھر تو وہ ضرور مرگیا ہوگا؟“

          ”ابے کہاں یار۔ “چوہدری صاحب نے افسردہ آہ بھری۔ ”وہ تو ایسا کا ایسا کھڑ رہا کیوں کہ میںنے سر درد کی گولی ماری تھی۔ پھر انہو ں نے مجھے بے بس کرکے رکھ دیا اور میرا سارا قیمتی سامان لے گئے۔“ چوہدری بشیر کی آنکھیں ڈبڈباگئیں۔

          ”کیا کیا لے گئے…. آخر پتا تو چلے….؟“

          ”ہائے ہائے مت پوچھو یار مت پوچھو….میں بالکل کنگال ہوگیا ہوں۔

          ”مگر یہ معلوم ہونا تو ضروری ہے کہ کیا کیا سامان لے گئے وہ ڈاکو کے بچے۔“

          ”وہ بچے نہیں پورے ڈاکو تھے ۔کسی جیل سے ٹریننگ یافتہ لگتے تھے۔ایک شے بھی نہےں چھوڑی انہوں نے ….میری ساری حرام کی کمائی لے گئے۔ “چوہدری صاحب اپنی رانیں پیٹنے لگے۔

          ”چوہدری صاحب آپ نے پولیس میں رپٹ لکھوائی یا نہیں ؟“

          ”نائیں پولیس میںنہیں ۔“چوہدری بشیر چلا اُٹھے۔” ایک بار لٹ گیا ہوں۔ دوبارہ لٹنے کی طاقت نہیںہے مجھ میں۔ ہائے ہائے وہ ڈاکو اسٹور میں رکھی دوبوریاں بھی لے گئے۔ اتنی مشکلوں سے میںنے بھوسی ٹکڑے اور ٹین ڈبے جمع کےے تھے۔ وہ سب لے گئے او روہ میری پجیرو بھی لے گئے۔“

          ”پجیرو ابے پجیر و کہاں تھی تمہارے پاس؟“مجو قصائی جھوٹ سن کر تم پر اُتر آیا۔

          ”تھی بھائی تھی۔ “چوہدری بشیر نے زور سے ناک سنکتے ہوئے بتایا۔” جمعہ بازار سے ایک ہینڈل خرید کر لایا تھا۔ سوچا تھاکہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر باقی سامان بھی ہینڈل میں فٹ کرلوں گا، مگر وہ بدبخت ہینڈل ہی لے گئے۔اب کیا رہ گیا تھا اس میں ہینڈل تو آگیا تھا۔ بس تھوڑی سی پجیرو اور رہ گئی تھی۔ رپورٹ میں پجیرو بھی لکھتا۔“

          ”تھوڑی چوہدری صاحب اسے آپ تھوڑی سی کہہ رہے ہیں۔“ یامین بھوسی ٹکڑے والا بڑی دیر بعد بولا تھا۔

          ”ابے تو او رکیا۔ سب سے قیمتی اور ضروری ہینڈل ہی ہوتا ہے۔ تم ہینڈل کے بغیر گاڑی چلالوگے؟“ چوہدری بشیر نے اسے گھورا۔

          ”نا…. نہیں ۔“ یامین لاجواب ہوگیا۔

          ”بس تو ثابت ہوگیامیری پجیرو بھی چوری ہوئی ہے۔ “

          وہاں دڑبہ کالونی کا قدیم باشندہ اور ناکام شاعر و ادیب سخن اکبر آبادی بھی بیٹھا تھا۔ وہ بڑی خاموشی کے ساتھ چوہدری بشیر کی باتیں سن رہا تھا۔ سخن اکبر آبادی شاعری کرتا تھا، اس لئے اس نے اپنا نام سخن اکبر آبادی رکھ لیا تھا۔ جب شاعری میں ناکام ہو گیا اور کسی نے اسے لوسن نہ ڈالی تو سخن نے ایک نئے ولولے کے ساتھ کہانیاں لکھنا شروع کردیں او ردھڑا دھڑ سیکڑوں بے مغز کہانیاں لکھ ڈالیں، لیکن اس جگہ بھی اسے ناکامی کی ناک دیکھنا پڑی۔ جاسوسی کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا شوق اسے ماں کے پیٹ سے ہی تھا۔ چوہدری بشیر کا قصہ سن کر اس کے دماغ میں ایکشن اور تھرل سے بھرپور میوزک گونج رہا تھا۔ اس وقت وہ چوہدری بشیر کے چرنوں میں بیٹھا تھا۔

           چوہدری بشیر نے میز سے اُتر کر سخن سے درخواست کی ۔ ”میاں سخن…. ذرا کھڑے تو ہونا۔ چپ چپ بیٹھے ہو ‘ضرور کوئی بات ہے۔“انہوں نے نتھنے سیکڑتے ہوئے خدشے کا برملا اور کھلم کھلا اظہار کیا۔

          سخن اکبر آبادی ایک جھٹکے سے کھڑا ہوگیا۔ اگلے ہی لمحے چوہدری صاحب نے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیااور پھر زور زور سے رونے لگے۔ اصل میں انہیں رونے کے لئے کسی کندھے کی اشد ضرور ت تھی۔

          سخن کی ممتا اُبھر آئی اور وہ چوہدری بشیر کی کمر پر تسلی آمیز گھونسے مارنے لگا۔”بس بس…. صبر …. صبر کرو….صبر بڑی چیز ہے …. آج چاند رات اور کل صبح عید ہے۔ اب جو ہونا تھا ہوگیا۔ دفع کریں۔ اللہ آپ کو اور بھوسی ٹکڑے دے گا ۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ہم سب اپنے گھروں سے بھوسی ٹکڑے اور ٹین ڈبے لا کر آپ کو دے دیں گے۔ بس آپ ہیجڑوں کی طرح رونا چھوڑیں ۔“

          اچانک چوہدری صاحب کے جسم کو ایک زور دار جھٹکا لگا ۔انہوں نے سخن کو پرے دھکیلا اور اپنے اصل منہ سے تھوڑا کم برا منہ بناکر بولے۔” ابے تو کب سے نہیں نہایا ہے ؟ کیسی جھاﺅ چوہے جیسی غلیظ بدبو آرہی ہے تیرے بدن سے ‘ اُف توبہ …. میرا تو دماغ ہی فیوز ہوگیا ہے۔“

          سخن کا چہرہ دیکھنے کے لائق ہوگیا ۔” بدبو…. یہ آپ …. آپ کیا کہہ رہے ہیں چوہدری صاحب ….ہر وقت فکر لگی رہتی ہے مجھے نہانے کی اور یہ بدبو نہیں ہے …. یہ تو میںنے سینٹ لگایا ہوا ہے۔

          ’توبہ استغفار۔ “چوہدری صاحب حیرت سے ڈگمگا گئے۔ ”ابے یہ تو نے سینٹ لگایا ہے….یہ کیسا سینٹ ہے؟ کسی مردہ بلی سے کشید کرکے لگایا تھا اسے….؟“

          ”چوہدری صاحب بات کیا ہورہی تھی اور آپ کیا لے کر بےٹھ گئے ‘ بلی کتوں کی باتیں۔ ہم اپنے اصل موضوع سے دو کلو میٹر دور نکل آئے ہیں۔“ پنجو نے بڑی دیر بعد مداخلت کا ڈنڈا اَڑایا۔ ”ہم ایسا کرتے ہیں آپ کی شکایت لکھ کر شرفو کونسلر صاحب کے حوالے کردیتے ہیں پھر وہ خود ہی تھانے جاکر رپورٹ لکھوالیں گے۔“ للو نے بھی جلدی سے کہا۔

          ”مجھے بھی ایک شکایت ہے۔ “عین اسی لمحے استاد دلارے کا شاگرد دبابو باﺅلا اندر گھسا چلا آیا۔

          ”پتا ہے سب کو۔ “مجو قصائی نے باآواز بلند کہا۔” تجھے اسہال کی شکایت ہے۔ جاکر اوآر ایس پی کم بخت مارے پندرہ سال سے تجھے بس یہی شکایت ہے۔“

          ”ارے وہ ہیں نا اپنے چاچا چراندی‘ وہ لاپتا ہوگئے ہیں۔“ بابو باﺅلے نے دھماکا خیز خبر سنائی ۔

          سب کے سب اپنی اپنی جگہوں سے اچھل پڑے۔

          ”کیا ‘کیا کہہ رہا ہے بے ؟“

          ”ہاں میں درست کہہ رہا ہوں۔“ بابو باﺅلے نے جلدی جلدی بتایا۔” رات کو وہ اچھے خاصے اپنے گھر کے صحن میں چارپائی پر سوئے تھے۔ صبح گھر والوں نے دیکھا تو چارپائی خالی تھی اور چاچا کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔“

          چاچا چراندی دڑبہ کالونی کی سب سے زیادہ مشہور و معروف شخصیت تھے ۔ ان کی پراسرار گمشدگی پر سب لوگ حیران و پریشان تھے۔

          ”پھر چاچا کو باہر ڈھونڈا ؟“ یامین نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔

          ”باہر چاچا کہاں جائیں گے۔ باہر جاتے ہیں تو صرف اپنے کیبن پر ہوتے ہیں ۔ گھر میں ان کا زیادہ وقت باتھ روم میں گزرتا ہے ،مگر وہ دونوں جگہ نہیں ہیں ۔ایسا لگتا ہے ان کو اغواءکرایا گیا ہے۔ یہ دیکھو ….مجھے چاچا نے گھر کے آگے سے ان کی یہ ایک چپل ملی ہے۔“ بابو باﺅلے نے انٹی میں سے ایک غلیظ سی ٹوٹی ہوئی چپل نکال کر شمشیر کی طرح لہرائی۔

          اگر چاچا کو واقعی کسی نے اغوا کیا ہے تو اس کا مطلب ہے ۔ اغواکرنے والوں کے برے دن شروع ہوگئے ہیں۔“ دنبے نائی نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔

          سخن نے آگے بڑھ کر بابو باﺅلے کے ہاتھ سے چاچا کی چپل لے لی اور اسے سونگھتا ہوا بولا۔”آپ سب لوگ اب بے فکر ہوجاﺅ۔ میں اس چپل کی مدد سے چاچا کوڈھونڈ نکالوں گا۔ کسی بھی اچھے جاسوس کے لئے ایک سراغ ہی کافی ہوتا ہے اور آپ سب لوگ مجھے جانتے ہیں۔ “سخن نے چاچا کی چپل نظروں کے سامنے نچائی۔

          ”ابے یہ سراغ نہیں ….چپل ہے۔“ للو نے منہ بناکر بتایا۔

          ”ہاں مجھے معلوم ہے اور تم لوگ دیکھنا، اسی چپل کی مدد سے میں دشمنوں تک پہنچ جاﺅں گا۔“ سخن نے سوچتے ہوئے پرخیال انداز میں اپنی پشت کھجائی۔” ویسے حالات و واقعات کی کڑیاں آپس میں مل رہی ہیں۔ کل رات کے وقت چوہدری بشیر صاحب کے گھر ڈاکوﺅں نے ڈکیتی کی ہے اور رات کو چاچا پراسرار طور پر غائب ہوگئے۔ ہوسکتا ہے چاچا چراندی کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلے ہوں ور انہوں نے ڈاکوﺅں کو چوہدری بشیر صاحب کے گھر سے نکلتے دیکھ لیا ہو۔ کیا معلوم چاچا اپنی چراندی طبیعت کی وجہ سے انہیں للکار بےٹھے ہو۔ ڈاکو پھر ڈاکو ہوتے ہیں ،چوں کہ چاچا انہیں دیکھ چکے ہوں گے، اس لئے وہ شناخت کے ڈر سے چاچا کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہوں گے ….کیا خےال ہے آپ لوگوں کا؟“

          ”ہمیں ان دونوں واقعات کی اطلاع ابھی اور اسی وقت شرفو صاحب کو دینی چاہےے۔“ پنجو نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور تمام لوگ تائید ی انداز میں سرہلاتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔

          پھر یہ جم غفیر’ قدم اٹھاﺅ دوستو بڑھے چلو بڑھے چلو“کہتا ہوا شرفو کونسلر صاحب کے گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔ شرفو صاحب اس وقت اپنے کھچڑی جیسے بالوں کو مشرف بہ خضاب کررہے تھے۔ سامنے والے مکان کی چھت پر ایک کالا بھیل بچہ پلیٹ میں کھچڑی کھا رہا تھا ۔اس کے دونوں ہاتھ،کالی کالی ٹڈے جیسی ٹانگیں،میلی نیکر اور بدبو دار ٹی شرٹ بھی کھچڑی سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

 شرفو صاحب کھچڑی کی طرف ندیدے پن سے دیکھ رہے تھے۔بچے نے اُنھےں اپنی کھچڑی پر نیت لگاتے دیکھا تو پلیٹ ٹانگوں کے نیچے چھپاتے ہوئے زور سے بولا ۔

          ”چل بھاگ….نیتّے….“

          شرفو صاحب تلملا کر رہ گئے۔ اتنے میں انہیں شور سنائی دیا۔ وہ سمجھے کہ دڑبہ کالونی والے ان کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں ۔ ڈر کے مارے اُن کا ہاتھ ایسا بہکا کہ کانپتے ہوئے برش نے سارا منہ کالا کرکے رکھ دیا۔ وہ اُٹھے اور برابر والے مکان کی چھت پر کود گئے۔ چھت کیا تھی، صحن پر تناہوا چھپر تھا۔ شرفو صاحب چھپر پھاڑ کر صحن میں جا گرے۔

           یہ دڑبہ کالونی کی سب سے خطرناک اور گوریلی بڑھیا بربادی بیگم کا مکان تھا۔ اس وقت بربادی بیگم نلکے کے پاس بیٹھی برتن مانجھ رہی تھیں۔ انہوں نے دھماکاسنا تو سمجھیں کہ دشمن ملک نے ان کے گھر پر بم مارا ہے، مگر جب انہوں نے صحن میں ایک انسانی جسامت کا کالا بم دیکھا تو ایک زوردار چیخ ماری۔ جونیل کے ساحل سے لے کر کرتابہ خاک کا شغر گونج اٹھی۔ شرفو صاحب اٹھتے ہی ایک دروازے کی جانب بھاگے۔ چیتے کی سی پھرتی سے انہوں نے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھ دیا۔ اگلے ہی لمحے ان کا دماغ سگریٹ کی راکھ کی مانند جھڑ گیا۔

          یہ گلی کا دراوزہ نہیں تھا ،بلکہ انہوں نے غلطی سے ٹوائلٹ کا دروازہ کھول لیا تھا۔ اتنے میں بربادی بیگم فل کمانڈو ایکشن میں آچکی تھیں۔ انہوںنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کپڑا کوٹنی شرفو صاحب کی کھوپڑی پر ”دھائیں“ سے دے ماری۔ شرفو صاحب چلائے تو ان کی چیخ کا شغر سے بھی آگے نکل گئی، مگر انہوںنے ہمت کا پائنچا ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس مرتبہ وہ درست دروازے سے باہر نکل گئے۔

           گلی میں للو اور پنجو کی قیادت میں جلوس نعرے بازی کرتا ہوا بڑھا چلا آرہا تھا۔ جلوس کے شرکاءنے ایک نہایت کالے بھجنگ بھوت کو اپنے روبرو دیکھا تو اُن میں مضحکہ خیز بھگدڑ مچ گئی۔ جس کا جہاں منہ اُٹھا …. بھاگ نکلا۔ سخن تو ایسا گھبرایا کہ وہ بربادی بیگم کے گھر میں ہی گھس گیا اور بربادی بیگم سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔

          ”اے…. اے…. کم بخت…. کہاں گھسا چلا آرہا ہے ، ہٹ موئے….تیرا ناس جائے …. ہٹ…. دفع ہواِدھر سے۔“

          مگر سخن پر تو ایک جنون اور بھوت کا خوف طاری تھا۔” ہٹ جا میرے راستے سے….جانے دے مجھے اندر ‘ ورنہ بے موت ماری جائے گی منحوس بڈھی….ہاٹ۔“

          بربادی بیگم یہ سن کر ایک لمحے کے لئے ہکا بکا رہ گئیں۔ ان کے تن بدن میں انتقام کے کوئلے دہک اٹھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر سخن کو ایک تنگڑی ماری اور سخن عملاً خاک چاٹنے لگا۔ بس پھر کیا تھا ، بربادی بیگم کے ڈنڈے نے سخن بونڈ کو برباد کرکے رکھ دیا۔ وہ صحن مےں ناگن کا ڈانس کررہا تھا۔ اس کی دل دوز چیخیں سن کر کئی افراد اندر گھسے چلے آئے۔

           سخن کی آنکھوں کے ڈیلے ابھی تک گھوم رہے تھے۔ بڑی مشکلوں سے بربادی بیگم کا روکا گیا،رنہ وہ تو مار مار کر سخن کو جہنم کا ٹکٹ دینے پر تلی ہوئی تھیں۔

          ”بس کرو خالہ‘ بس کرو ‘ اب اس غریب کو جان سے ہی مار ڈالو گی کیا؟ “مجو قصائی نے آگے بڑھ کر ان کو روکا۔

          ”اے مرے موا….مٹی ملا….مجھے منحوس بڑھی کہہ رہا تھا۔“

          دنبہ نائی بولا۔” اچھا کیا خالہ ….جو تم نے اسے مارا۔ ایسے بدتمیز جاہلوں کو تو بٹا مار کرجان سے ہی مار ڈالنا چاہےے۔ اسے بڑے بڈھوں کا ذرا بھی خیال نہیں ہے۔ دلیری تو دیکھو اس کی….خالہ کے منہ پر ہی ان کو منحوس بڈھی کہہ رہا ہے۔ کم از کم اتنا احترام تو کر لیتا کہ ہماری طرح پیٹھ پیچھے خبیث بڑھیا بول دیتا۔بھئی ہم تو منہ پر نہیں بولتے۔“

          ”اوئے دنبے یہ کیا بکواس کررہا ہے۔“ یامین نے دنبے کی پیٹھ پر ایک دھپ ماری۔ ”یہ تو احترام کررہا ہے۔ ابے یہ تیری ماں کے برابر ہے ۔ تو پےٹھ پیچھے ان کو خبیث بڑھیا کہتا ہے۔ جب ایک نام رکھ دیا ہے کالونی والوںنے اچھا خاصا ،پرانی بدروح۔ پھر کچھ بولنے کی ضرورت ہی کیا ہے“۔

          بربادی بیگم کا تو غصے کے مارے برا حال ہوگیا۔ وہ عالم اشتعال میں” تاتا تھیا“ کررہی تھیں۔ للو نے اس نازک موقع پر مداخلت کرنا ضروری خیال کیا، ورنہ لمبا ہی پھڈا ہوسکتا تھا۔ وہ مصالحانہ انداز میں دونوں ہاتھ اٹھاکر چلایا۔

          ”بس بس‘ بہت ہوگیا۔ بہت مذاق اُڑالیا ہے اس بے چاری بزرگ خاتون کا۔ کوئی بڈھی کھوسٹ چڑیل کہہ رہا ہے۔ کوئی بھیانک بڑھیا بول رہا ہے ۔ شرم آنی چاہےے تم لوگوں کو۔آخر بدتمیزی کی کوئی انتہا ہوتی ہے۔جب کالونی کے بچے اِن کو بل بتوڑی کے نام سے پکارتے ہیں تو یہ اُلٹے سیدھے نام رکھنے سے تمہیں کیا فیض حاصل ہوگا۔“

          اوربربادی بیگم کا ڈنڈا متحرک ہوگیا۔

                             ٭٭٭

          چاچاچراندی کو نیند میں چلنے کی بیماری تھی۔ گذشتہ رات بھی یہی ہوا تھا۔ وہ نیند میں اُٹھے اور گھر سے باہر نکل آئے۔ چوہدری بشیر کے گھر کے آگے ڈاکوﺅں کی بند سوزوکی کھڑی ہوئی تھی۔ چاچا نیند میں بڑے بے ڈھنگے انداز میں” سپڑ سپڑ“ کرتے ہوئے چل رہے تھے، اس لئے ان کے پیر سے ایک چپل نکل گئی، جس کا انھےں احساس تک نہیں ہوا تھا۔ چاچا یونہی چلتے ہوئے سوزوکی کے عقبی حصے میں گھستے چلے گئے اور اندر جاکر لیٹ گئے۔ ڈاکو سوزوکی میں بہت سا سامان رکھ بھی چکے تھے، اس لئے چاچا کا فوراً دکھائی دینا ناممکن ہی تھا اور پھر اندھیرا بھی بہت ہورہا تھا۔ اس طرح ڈاکو چاچا کو اپنے ٹھکانے پر لے آئے ۔ ٹھکانے پر آکر جب ڈاکوﺅں نے سامان اُتارا تب چاچا پر نظرپڑی۔ وہ لوگ حیرت سے گنگ رہ گئے۔

          ”ابے یہ کیا چیز ہے ؟“ استاد پاپڑی کا منہ بغیر ڈھکن کے مین ہول کی طرح کھلا رہ گیا تھا۔

          ”استاد یہ تو مجھے پولیس کا آدمی لگتا ہے۔“ گنگو نے خدشہ ظاہر کیا۔

          ”ابے پولیس کے بچے اگر یہ پولیس کا آدمی ہوتا تو اس وقت یہاں سورہا ہوتا۔“ استاد پاپڑی جھنجلا اُٹھے۔

          ”استاد اس کو اندر لے چلتے ہیں۔ اندر ہی چل کر پوچھ گچھ کریں گے۔ “لمبو نے تجویز دی۔

          پھر ان لوگوں نے مل کر چاند چراندی کو شکار کےے ہوئے ہرن کی طرح اٹھایا اور اندر لا کر بستر پر لٹادیا۔ بہت کوششوں کے باوجود بوڑھا ان سے نہیں اٹھا تو انہوں نے اپنی کوششیں صبح تک کے لئے ملتوی کردیں۔

           آخر کار صبح ہوتے ہی بوڑھے کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی۔ ڈاکو ہوشیار ہوگئے۔ بوڑھے نے اژدھے کی طرح بل کھانا شرع کردیئے۔ غالباً یہ انگڑائیاں تھیں۔ پھر وہ ایک جھٹکے سے ڈبل بیڈ سے نیچے اُتر آیا۔ پہلے اس نے ٹارزن کی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر آوازیں نکالیں اور پھر کتھک ڈانس شروع کردیا۔ معلوم ہوا یہ ایکسر سائز کی جارہی تھی۔ اس قسم کی بے ہودہ ایکسر سائز انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔

           اچانک چاچا چراندی کی نظریں ان تینوں پر پڑیں۔ وہ بری طرح چونک اٹھے۔”ابے کون ہو تم تینوں ‘ کارٹونوں کی شکل والے ‘ میرے گھر پر کیا کررہے ہوفالتو فنڈ میں۔ دیکھتے نہیں میں دوسوسائز کررہا ہوں۔“

          ”ہائیں یہ کیا ہوتی ہے دوسوسائز؟“ استاد پاپڑی حیران رہ گیا۔

          ”یہ ایکسر سائز سے بڑی ہوتی ہے اور یہ …. ہائیں …. ابے …. مگر یہ میں کون سی جگہ پر ہوں ۔ یہ میرا گھر تو نہیں ہے۔“ پہلی مرتبہ چاچا نے ماحول کا جائزہ لیاتھا۔

          ”یہ ہمارا گھر ہے بڑے میاں اور تم اس وقت ہمارے قبضے میں ہو۔“لمبو نے اکڑ کر کہا۔

                   ”اچھا میں تمہارے قبضے میں ہوں۔ “چاچا آگے آئے اور بڑی محبت سے استاد پاپڑی کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

          ”یہ کیا ہے ؟“

          ”میرا سر۔ “استاد پاپڑی سلگ اٹھا۔

          ”اچھا ہے‘ ویری گڈ‘ ذرا سنبھال کے رکھیو‘ خراش نہ پڑ جائے اس پر‘ فالتو فنڈ میں۔“

          ”او بڑے میاں‘ اپنے حواسوں میں رہو‘ ورنہ گولی مارنے میں ذرا بھی آسرا نہیں کروں گا۔ میں جو کچھ پوچھوں اس کا صحےح صحےح جواب دینا۔“ استاد کے تیور بگڑ گئے۔

          ”پھر مجھے انعام میں موبائل ملے گا؟“ چاچا نے اشتیاق بھرے لہجے میں دریافت کیا۔

          ”تم نے پھر اوندھی بات کی ۔میں نے کہا ناکہ یہ بکواس نہیں چلے گی۔ “استاد غرایا۔

          ”توپھر کیا چائے چلے گی؟“

          ”ابے تم کیسے آدمی ہو؟ “استاد بھنا اٹھا۔

          ”یاد کروگے میاں ‘ایسا آدمی ہوں‘ فالتو فنڈ میں۔“

          ”تم خفیہ ایجنسی کے بندے ہو؟ “استاد نے غصہ ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔

          ”نہیں میں گل محمد اسٹیٹ ایجنسی کا بندہ ہوں۔“

          ”ابے یہ کیا فلم گلے پڑگئی ہے۔“ استاد پاپڑی ناچ کر رہ گیا۔

          ”ابے او ہنو مان کی شکل والے گنجے ‘ آرام سے نچلا بیٹھ جا۔ تجھے تکلیف کاہے کی ہورہی ہے اتنی دیر سے‘ کیوں ادھر سے اُدھر پھدک رہا ہے۔ کیوں تیرے پیٹ میں بلبلے اٹھ رہے ہیں۔ ادھر چارپائی پر رکھ لے اپنی تشریف….فالتو فنڈ میں اچھلے جارہا ہے۔“

          ”کیا ؟“ استاد پاپڑی پھر اچھلا۔ ”میری شکل ہنومان جیسی ہے؟“

          ”نہیں بلکہ بنومان کی شکل تیری جیسی ہے۔“

          ”بڑے میاں ایک بات تو بتاﺅ‘ تم پاگل تو نہیں ہو؟ لمبو نے اچانک سوال کیا۔

          یہ سنتے ہی چاچا نے چارپائی کے نیچے رکھی ہوئی اپنی ہوائی چپل اُٹھائی اور ہوگئے شروع۔مکھی ایک سیکنڈ میں اتنی مرتبہ اپنے پر نہیں لہراتی جتنا چاچا نے ایک سیکنڈ میں اپنی چپل کو لہرا ڈالا تھا۔چپل کی ضربوں نے لمبو کے جسم پر نہایت ہی خوشگوار اور فرحت بخش اثرات مرتب کےے تھے۔ اس کے بدن میں ایک نئی توانائی بھرگئی تھی ۔ استاد پاپڑی اور گنگو نے لمبو کی جان بچائی۔ اس بیچ بچاﺅ کے چکر میں استاد پاپڑی کی گنجی کھوپڑی پر نئی کراری چپلیں پٹ پٹ کرکے لگ ہوگئیں۔ استاد کا مغزفرائی ہوگیا اور وہ” امی جی، امی جی“ کرتے ہوئے ایک جانب بیٹھ کر اپنی ٹانٹ پر ریگ مال کی طرح ہتھیلی پھیرنے لگے۔ پستول وہ چلا نہیں سکتے تھے، کیوں کہ وہ اپنے محلے میں بظاہر شریف بن کر رہتے تھے۔ عزت کا معاملہ تھا او راب وہ تینوں حقیقت میں چاچا چراندی سے خوف زدہ نظر آنے لگے تھے۔ اب وہ سمجھ گئے کہ اس انسانی گوند سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ثابت ہوگا ۔

           چاچا نے اپنے ہاتھ کو روک لیا اور پھولی ہوئی سانس کے درمیان لمبو سے پوچھا۔”ہاں تو بےٹے ‘ اب بولے گا مجھے پاگل؟“

          ”نہیں پاگل نہیں ‘ میرے باپ کی توبہ۔ “لمبو کانپ اٹھا۔

          ”ہاں تو اب سچی سچی بتاﺅ تم لوگ کون ہو….؟“

          ”ہم…. ہم ڈاکو ہیں۔“ استاد پاپڑی نے مرگلی آواز میں بتایا۔

          چاچا ان سے بال برابر بھی متاثر نہیں ہوئے اور سرہلاکر بولے۔” اچھا اچھا تم لوگ ڈاکو ہو۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اچھا توپھر تم لوگوں نے کہاں ڈاکا مارا تھا؟“

          ”وہ آپ کی کالونی میں ایک آدمی ہے چوہدری بشیر ۔ اس کے گھر ڈکیتی ماری ہے …. لل…. لیکن پتا نہیں آپ ہماری گاڑی میں کہاں سے ٹپک پڑے۔“

          ”ابے …. ابے یہ تو کمال ہی ہوگیا۔ “چاچا پھس پھس کرکے ہنس دیئے۔ ”ارے بھئی اصل میں مجھے نیند میں چلنے کی عادت ہے۔ میں نیند میں گھر سے نکل کر تمہاری گاڑی میں آکر لیٹ گیا ہوں گا۔“

          ”بزرگوار ‘اگر آپ کہیں تو ہم آپ کو گھر چھوڑ آئیں۔ بس ہم یہاں سے آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جائیں گے، تاکہ بعد میں آپ ہمارا گھر شناخت نہ کرسکیں۔“ استاد پاپڑی نے چاچا چراندی کو آفر کی۔

          ”میں اتنا بھی باﺅلا نہیں ہوں جتنا شکل سے نظر آتا ہوں۔ ابے گنجے ٹکلے…. تو آخر مال کر آیا ہے۔ میں اکیلے کیسے اُڑانے دوں۔ تھوڑا بہت مال اپنے چاچا پر بھی خرچ کردیجیو فالتو فنڈ میں۔“ چاچا نے بڑی خباثت سے مسکراکر کہا۔

          ”کیا…. کیا مطلب ؟ “تینوں ڈاکوﺅں کے چہروں پر پریشانی پھنسیاں نکل آئیں۔

          ”ابے مطلب وہی جو تیری گنجی ٹانٹ میں آیا ہے۔ جب تک تمہارے پاس ڈکیتی کا مال ہے ‘ میں ادھر ہی قیام و طعام کروں گا۔ چاروں بھائی مل جل کر گل چھرے اُڑائیں گے۔ کیوں کیسا ؟“ چاچا نے معنی خیز انداز میں دیدے نچائے۔

          ”میرے جیتے جی ایسا نہیں ہوگا۔“ استاد پاپڑی غرایا۔

          ”چل تو پھر تیرے مرنے کے بعد ہوجائے گا او رسن رکھو شہزادو…. اگر کوئی چراند کی تو جان اور میرا نام بھی چاچا چراندی ہے۔ شور مچا مچا کر دو منٹ میں سارے زمانے کو یہاں جمع کرلوں گا اور سب کو تمہارے سیاہ کرتوتوں سے آگاہ کردوں گا۔ سمجھے کچھ؟“ چاچا نے شعلے برسانی نظروں سے انہیں گھورا اورپھر چند ثانیے توقف کے بعد دوبارہ بولے۔” چلو اب میرے لئے ناشتے کا بندوبست کرو۔ اس مرمر ے کے لڈو کو پیسے دو ۔ یہ بھاگ کے ناشتا لے آئے گا۔“ چاچا کا اشارہ واضح طور پر ٹنگو کی جانب تھا۔

          مرمرے کا لڈو کہنے پر ٹنگو کی تھوتھنی پھول گئی ۔ استاد پاپڑی اور لمبو نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس پڑے ۔

                             ٭٭٭

          شرفو کونسلر صاحب کے دفتر میں اس وقت للو ‘پنجو‘ شرفو صاحب اور سخن موجود تھے۔ وہ لوگ چاچا چراندی کی پراسرار گمشدگی اور چوہدری بشیر کے گھر ڈکیتی کے موضوع پر گفتگو کررہے تھے ،جس میں گفت نہ ہونے کے برابر تھی۔

          للو بول رہا تھا۔” تو طے یہ پایا کہ چاچا کی گمشدگی کا اشتہار دے دیا جائے۔“

          ”ہاں یہ ٹھیک رہے گا اور اشتہار بناکر فوراً مجھے دے دینا میں ایک شمشاہی اخبار میں چھپوادوں گا۔ میرے ایک دور کے دوست کے منہ بولے چچا کا اخبار ہے۔“ شرفو صاحب نے بڑی نخوت سے کہا۔

          ”اشتہار میں بنا دوں گا۔“ سخن نے اپنی تھوتھنی اڑائی۔ ”مجھے اشتہار بنانا بہت اچھا آتا ہے۔“

          ”اچھا …. واقعی؟ “پنجو نے آنکھیں پھاڑیں۔” کیسا اشتہار بناﺅگے ذرا ہم بھی تو سنیں۔“

          ”بھئی بڑا آسان سا کام ہے میرے لئے۔ سخن نے بے پروائی سے کندھے اُچکائے۔” سیدھے سادے انداز میں لکھا جائے گا کہ ایک انسانی شکل کا چوہا جو غلطی سے انسانی روپ میں پیدا ہوگیا ہے۔ عمر اس کی پینسٹھ سال اور ساٹھ مہینے ہے۔سیاہ رنگت اور چہرے پر پھٹکار اس کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ الاسٹک والی شلوار پہنے ہوئے ہے۔ ببول کے کانٹوں کی طرح سخت اور نوکیلے بال ہیں۔ جسم سے مرے ہوئے چھچھوندر جیسی بدبو پھوٹتی ہے ۔ دہی بڑے جیسی ناک ہے ۔ زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں لانے والے کو چائے کی پتی اوردس کلو آٹا انعام میں دیا جائے گا۔“

          ”ابے یہ چائے کی پتی او رآٹا کہاں سے ٹپک پڑا بیچ میں؟“ شرفو صاحب نے سرکھجایا۔

          ”آٹے اور پتی کی اہمیت سے تو آپ واقف ہی ہوں گے اور پھر آٹے کا سن کر سب سے پہلے فقیروں کی ٹولیاں چاچا کی تلاش میں نکل کھڑی ہوں گی۔“ سخن نے چالاکی سے مسکراتے ہوئے بتایا اور ان لوگوں کو سخن کی ذلالت کا اعتراف کرناپڑا۔

          ”بھئی یہ با ت تو آج ماننی ہی پڑے گی کہ تمہارے سر میں انسان سے بڑھ کر دماغ ہے۔“ شرفو صاحب نے غیر واضح انداز میں سخن کی تعریف کی۔

          ”ہائیں۔ “سخن اچھل پڑا۔” انسان کا دماغ نہیں ہے تو پھر کس کا دماغ ہے؟“

          ”شرفو صاحب کے کہنے کا مطلب ہے کہ تمہارے سر میں بن مانس کا دماغ ہے۔ اس کا سر بڑا ہوتا ے نا پھر لازماً دماغ بھی بڑا ہی ہوگا۔“ للو نے وضاحت کرتے ہوئے سخن بونڈ کو مطمئن کردیا۔

          سخن سرہلانے لگا پھر کچھ سوچ کر گویا ہوا۔”شرفو صاحب کہیں سے ایک کتا مل جائے گا؟“

          ”کتے کی کیا ضرورت پیش آگئی تمہیں۔ کیا اپنی صلاحیتوں پر بھروسا نہیں ہے ؟“ للو نے پوچھا۔

          ”ارے بھئی کتے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ میرے پاس چاچا چراندی کی چپل ہے ‘ وہ میں کتے کو سنگھا دوں گا پھر کتا چاچا کی بدبو کے سہارے مجھے وہاں لے جائے گا جہاں چاچا کو قید کیا گیا ہوگا،کیوں کہ مجھے سوفیصد یقین ہے کہ چاچا ان ڈاکوﺅں کی قید میں ہی ہوں گے۔“

          ”تویہ کام تم خود کیوں نہیں کرلیتے ؟“شرفو صاحب نے بھولپن سے استفسار کیا اور سخن کی شکل تصویر کھینچ کر محفوظ کرلینے کے لائق ہوگئی۔

          ”یہ …. یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟“

          ”ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں میرے چاند‘ چل اچھا تو کہتا ہے تومیں تیرے لئے کسی نائس کتے کا بندوبست کردوں گا۔ ویسے کتے کا کلر کیسا ہونا چاہئے؟“

          ”بس آپ اپنے کلر سے ملتے جلتے کتے کو لے آئیں۔ مناسب رہے گا۔ “سخن بونڈ نے ادھار چکادیا۔

           شرفو صاحب نے اس کے جملے نماحملے پر زیادہ توجہ نہیں دی تھی،البتہ انہو ںنے للو کو اپنے ایک دوست کا ایڈریس سمجھاتے ہوئے کہا کہ فلاں صاحب کے گھر پر جاکر ان کا نام لے اور ان سے پالتو کتا لے آئے۔

           للو یہ سنتے ہی فوراً سے پہلے روانہ ہوگیا ۔ سخن خوش ہوگیا کہ چلو کتے کا انتظام بھی لگے ہاتھوں ہوگیا ہے۔ آدھے گھنٹے بعد للو ایک کتے کے ساتھ دفتر میں داخل ہوا۔ یہ ایک عام سا آوارہ کتاتھا، جو شاید کام سے زیادہ آرام پر توجہ دیتا تھا۔ کتے نے سوئی سوئی نظروں سے فرداً فرداً انہیں دیکھا اور فرش پر نہایت کاہلی سے بےٹھ گیا۔

          ”ابے یہ کیسا کتا ہے؟ یہ تو آتے ہی لیٹ گیا۔ رات بھر ڈی وی ڈی پر فلمیں دیکھی تھی اس نے؟“سخن کو کتے سے زیادہ شرفو صاحب پر طیش آرہا تھا۔

          میاں اب جیسا بھی کتا مل گیا ہے اس پر ہی صبر شکر کرو۔ لوگوں کو تو یہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ رات بھر بے چارہ جنگ و جدل میں لگا رہا ہوگا ۔تھکن کے مارے اب نیند نہیں آئے گی توپھر کب آئے گی۔“ شرفو صاحب نے اپنے جماہی لیتے ہوئے کہا۔

          سخن نے اپنی پتلون کی جیب سے ایک رومال میں بندھی شے نکالی۔ اس نے رومال کھولا تو ان لوگوں نے دیکھا کہ اندر ایک ٹوٹی پھوٹی سی سڑیل چپل تھی۔

          ”یہ ہے چاچا کی چپل۔ اس کے ذریعے میں چاچا تک پہنچوں گا۔“ سخن نے دعویٰ کیا۔پھر جھک کر چاچا کی چپل کتے کی ناک سے چپکادی،تاکہ چپل کی بدبو کتے کے دل و دماغ میں رچ بس جائے۔

           چپل کو سونگھتے ہی کتے کے بدن میں جھرجھری سی پیدا ہوئی اور اگلے ہی لمحے اس نے ایک زبردست چھینک ماری۔کتے کا دماغ ہل کر رہ گیا تھا۔ اس کی پوری زندگی گندی گندی چیزیں سونگھتے ہوئے گزری تھی، مگر ایسی ہولناک اور جان لیوا بدبو اس نے پہلے کبھی نہےں سونگھی تھی۔

          ”ابے ابے یہ کیا کردیا تو نے ‘ یہ مرمرانہ جائے کہیں ؟“

          شرفو صاحب گھبرا گئے۔ کتا اپنی جگہ کھڑا شرابی کی طرح جھوم رہا تھا۔

          ”کچھ نہیں ہوگا۔ ابھی دومنٹ بعد ہی اس کی طبیعت چنگی بھلی ہوجائے گی۔ شروع شروع میں میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ “ سخن نے ان کی معلومات میں گراں قدر اضافہ کیا۔

          واقعی چند منٹ بعد ہی کتا بالکل ریڈی ہوگیا ۔ اب سخن اور کتااپنے مشن پر جانے کے لئے تیار تھا۔

                                                                   ٭٭٭

          چاچا چراندی ڈبل بےڈ پر نیم دراز ہوکر آئس کریم ‘فالودہ نوش فرما رہے تھے۔ لمبو او رٹنگو گذشتہ ایک گھنٹے سے ان کے پیر دبا دبا کر ہلکان ہوچکے تھے۔ استا دپاپڑی ‘چاچا کے کھوکھلے سر میں تیل کی مالش اور چمپی کررہے تھے۔ ان مصروفیات کے ساتھ چاچا اپنے مافوق الفطرت دادا کے محیرا لعقول کارنامے بھی سنارہے تھے۔ جسمانی تھکن سے زیادہ چاچا کے شکاری دادا کے کھوپڑی گھما دینے والے کارنامے سن کر وہ ڈاکو آدھے پاگل ہوچکے تھے۔ جہاں ان کے ہاتھ سست پڑتے،وہیں اُن پر چاچا کے ہاتھ پڑتے۔ استاد پرپڑی نے تو کئی مرتبہ بھاگنے کی کوشش کی، لیکن چاچا نے عین موقع پر اُن کی شلوار پکڑ کر فراریت کا منصوبہ ہر بار ناکام بنادیا تھا۔

          ”محترم بڈھے ‘ مم…. میرا مطلب ہے بزرگوار صاحب آخر آپ کب ہماری جان بخشی کریں گے۔ آپ کے ہاتھ پیر دبا دبا کر خود ہمارے بدن درد سے چلا رہے ہیں۔ آپ ہیں کیا چیز اور پھر آپ صبح سے لے کر اب تک مسلسل اَلم غلم چیزیں کھائے چلے جا رہے ہیں۔ آپ کا پیٹ ہے یا عمروعیار کی زنبیل…. بھر کے ہی نہیں دے رہا ہے۔ “ٹنگو بے بس آمیز لہجے میں بولا۔

          ”او ئے مر نہیں…. فالتو فنڈ میں۔مجھے یہ سب معلوم ہے بہت پیسہ ہے تم لوگوں کے پاس۔آخر میں تمہارا مہمان ہوں۔ میرا بھی حق ہے ڈکیتی کے مال پر اور یہ پیر ٹھیک سے دبا، ورنہ دوں گا ابھی ایک لات منہ پر۔“ چاچا نے آکر میں لمبو کو ڈانٹ دیا۔

          لمبو کے ہاتھوں میں پھرتی آگئی، کیوں کہ چاچا کی لات وہ پہلے ہی تین چار مرتبہ کھاچکا تھا۔ چاچا کی لات اور گدھے کی دولتی میں آدھے ملی میٹر کا فرق بھی نہ تھا۔

          فالودہ کھاکر چاچا نے استاد پاپڑی کی کھوپڑی سے ہاتھ اور قمیص کے دامن سے منہ پونچھا اور پھر دریافت کیا۔” ہاں بھئی …. اب کھانے کا کیا پو گرام ہے؟“

          ”یا خدایا….یاتوہمیں موت دے دے یا اِن کو اُٹھا لے ۔“استاد پاپڑی نے دست دعا عاجزی کے ساتھ بلند کےے۔

          ”اب میں اتنی آسانی سے نہیں مروں گا۔ بچو ….تو ہے کس ہوش میں ؟ “چاچانے خاندانی خباثت کا مظاہرہ کیا۔ پھر کچھ سوچنے کے بعد بولے۔” اچھا بھئی ایسا کرو کہ اوجڑی منگوالو۔ چاروں بھائی مل کر بانٹ کر کھالیں گے۔“

          ”کیا اوجڑی ؟ “تینوں کو ابکائیاں آگئیں۔

          ”یہ بھی کوئی انسانوں کے کھانے کی چیز ہوتی ہے کیا؟“ ٹنگو نے غلیظ سا منہ بنایا۔

          ”اس لئے تو تم کھلانا چاہ رہا ہوں۔“

          ”ہم تو ہرگز نہیں کھائیں گے۔ اوجڑی …. اوغ اوغ ۔“ وہ تینوں مصنوعی آوازیں نکالنے لگے۔

          ’ابے تمہارا تو باپ بھی کھائے گا۔ اب تو اوجڑی میری انا کا مسئلہ بن گئی ہے۔ اور سن لو…. اگر تم لوگوں نے انکار کیا تو ابھی شور مچامچا کر سارے شہر کو جمع کرلوں گا۔ بولو اوجڑی کھاﺅگے یا مچاﺅں شور؟ “چاچا نے دھمکی دی۔

          ”نہیں…. نہیں ….“تینوں نے چیختے ہوئے چاچا کے منہ پر ہاتھ جمادیئے اورایک ساتھ ہنستے ہوئے کہنے لگے۔”ارے کھائیں گے کیسے نہیں کھائیں گے۔ اوجڑی تو بہت اچھی اور ہاضمے دار ہوتی ہے۔ یہ تو صحت کے لئے بڑی مفید ہے ۔ہم تو ایسے ہی مذاق کررہے تھے۔ ہمارے خاندان میں تو شادیوں پر بھی باراتیوں کو اوجڑی ہی کھلائی جاتی ہے۔“

          زبردستی ہنسنے کی کوشش میں ان کی شکلیں بن مانسوں جیسی ہوگئی تھیں۔

          ”بس تو پھر بھاگ کے قصائی سے تازہ اور گرم گرم اوجڑی پکڑلاﺅ۔“چاچا نے فوراً احکامات جاری کردےے۔

          ”لیکن ہمیں اوجڑی پکانا نہیں آتی۔“تینوں نے ایک ساتھ بہانہ چھیلا ۔

          ”لے یہ بھی کوئی بات ہے بھلا۔ میں بتاتا جاﺅں گا اور تم پکاتے جانا۔ اتنی سی بات کے لئے فالتو فنڈ میں اپنا جی ہلکان کررہا ہے۔“ چاچا نے ان کی مشکل آسان کردی۔

          طوعاًوکرہاً استاد پاپڑی نے ڈکیتی کے پیسوں میں سے ایک بڑا نوٹ نکال کر لمبو کے حوالے کردیا۔ وہ فوراً ہی اوجڑی لینے چلا گیا۔ استاد پاپڑی دل ہی دل میں اس وقت کو کوس کررہے تھے، جب وہ ڈکیتی کی نیت سے دڑبہ کالونی گئے تھے اور انہوںنے چوہدری بشیر کے گھر سے جو دو بوریاں اُٹھائی تھیں ۔ اُن میں بھوسی ٹکڑوں اور ٹین ڈبوں کے سوا اور کوئی شے نہیں تھی۔ اس سے زیادہ تو اُن کا پیٹرول خرچ ہوگیا تھا۔ اُدھر چاچا چراندی بڑے غور سے استاد پاپڑی کی شکل دیکھ رہے تھے۔ جیسے کچھ یاد کررہے ہوں۔

          پھر وہ بولے ۔” ایک بات توبتا گنجے….تیرا باپ اسٹیشن پر نان ختائیاں تو نہیں بیچتا تھا۔ بھٹ کالی شکل تھی اس کی ۔ چرس پیتا رہتاتھا وہ ہر وقت۔“

          ”ابے میرا باپ کیوں بیچے گا نان ختائیاں؟“ استادآس پڑوس میں دیوارڈھونڈنے لگے۔

          ”سر مت توڑیو اپنا….ہاں پہلے ہی بتاریا ہوں۔ “چاچا نے وارننگ دی۔ ”تیری یہ چم چماتی ہوئی چم چم جیسی کھوپڑی میرے دل کو بھاگئی ہے۔ ویسے ایک بات تو بتا۔ تو شیمپو کون سا لگاتا ہے ؟“

          ”او میرے بزرگ میں شیمپو کیسے لگاسکتا ہوں۔ “استاد کی بے بسی سوانیزے پر پہنچ چکی تھی۔” اور آئندہ خد اکے لئے شیمپو کا نام مت لینا۔ ان شیمپوﺅں کے چکر میں ہی میں گنجا ہوا ہوں۔“

          ”ابے تو بھائی میرے ….سر میں قدرتی کھاد ڈالا کر۔ سونے جیسی فصل نکل آئے گی۔ “چاچا بھی اس کی کھوپڑی کے تعاقب میں لگ گئے تھے۔

          ”ابے …. ابے آج نہیں بچے گی۔ خد اکی قسم آج میں اس کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہ منحوس کھوپڑی آج میں توڑ کر ہی رہوں گا۔“ استاد کی حالت دیکھنے کے لائق ہوگئی تھی۔ ”اوئے وہ بڑا والا ہتھوڑا لے کر آ۔“

          ”ابے مرمرے کے لڈو تیرا استاد تو گیا کام سے۔ او بھائی گنجے جاکر اپنی چندیا پر ٹھنڈا پانی ڈال، ورنہ تیرا دماغ پگھل جائے گا۔ “چاچا نے اسے گراں قدر مشورے سے نوازا۔

          استاد پاپڑی جلدی سے اُٹھ کر اس کمرے سے ملحقہ باتھ روم میں گھس گئے۔ اتنے میں دروازے پر کھٹکا ہوا ۔ٹنگو نے جاکر دروازہ کھولا۔ لمبو قصائی سے بالکل تازہ تازہ اوجڑی لے آیا تھا ۔ مکھیوں کی ایک پوری پلٹن اس کے تعاقب میں آرہی تھی۔ وہ کمرے میں آتے ہی استاد کو پکارنے لگا۔

          ”استاد…. ابے او استاد…. اوئے ٹنگو…. یہ استاد کہاں مرگئے؟“

          اس وقت باتھ روم سے آواز آئی۔” ہاں میں ادھر ہوں ۔“

          پھر استاد دروازہ کھول کر باہر نکلے تو لمبو نے نہایت ادب و احترام سے اوجڑی استاد کے ہاتھوں پر رکھ دی۔ استاد اسے تولیہ سمجھے اور خوب رگڑ رگڑ کر منہ صاف کرنے لگے۔ اگلے ہی لمحے انہیں یوں لگا کہ اُن کا دماغ ماﺅف ہوتا جارہا ہے۔ وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ نیل گنگن کے تلے ،جہاں سرسبز باغات ہیں اور جھلملاتی ہوئی ندی بہہ رہی ہے۔ پرندے اپنی اپنی زبانوں میں چہک رہے ہیں۔ استاد کا مغز پگھلنے لگا۔ انہو ں نے اپنے ہاتھوں میں تولیے کے بجائے خستہ اور کراری تازہ تازہ اوجڑی دیکھی تودنیا سے ان کا دل ہی اُچاٹ ہوگیا۔ اُن کے جی میں آیاکہ یہ رنگ برنگی دنیا‘ یہ زندگی کے میلے ٹھیلے‘ یہ جہان رنگ و بو،رشتے ناتے چھوڑ چھاڑ کر دور کہیں بہت دور چلے جائیں ۔ کسی ویران جگہ ،کسی اجنبی سیارے پر ، جہاں نہ یہ چاچا ہوں اور نہ ہی اوجڑی ۔

           لمبو اور ٹنگو اپنے استاد کا منہ دیکھ کر قہقہے لگارہے تھے۔استاد نے وہی اوجڑی بڑی سنجیدگی کے ساتھ لمبو کے منہ پر ڈال کر اسے اچھی طرح ڈھانپ دیا کہ اسے تازہ آکسیجن نہ مل سکے۔ لمبو کے قہقہے اب گھٹی گھٹی چیخوں میں تبدیل ہوگئے تھے۔ یوں لگ رہا جیسے اس کے پورے چہرے پر کوئی آکٹوپس چپک گیا ہو۔

                             ٭٭٭

          سخن نے کتے کو جوتی سنگھائی اور اسے لے کر نکل کھڑا ہو ا ۔ احتیاطاً اس نے کتے کے گلے میں رسی کی جگہ ازار بند باندھ دیا تھا کہ کہیں وہ اِدھر اُدھر بھٹک کر منہ نا مار دے۔ کتے کا جوش اور ولولہ قابل دید تھا،جیسے وہ کسی جلسے سے خطاب کرنے جارہا ہو۔ کہیں کہیں وہ رک کر اپنی تھوتنی فضا میں بلند کرتا اور کچھ سونگھنے کے بعد کسی سمت میں روانہ ہوجاتا۔ سخن ازار بند پکڑے پکڑے اس سے دو قدم پیچھے دوڑ رہاتھا۔ اسے سوفیصد امید تھی کہ کتا اسے چاچا کے پاس لے جائے گا۔ پھر ڈاکو اس کے ہاتھوں سے بچ نہیں سکیں گے۔

          بھاگ بھاگ کر اس کی سانسیں پھول گئی تھیں، مگر کامیابی کا خیال اسے دوڑا رہا تھا۔جس جس نے یہ منظر دیکھا، وہ حیرانی سے اپنی جگہ کھڑا دیکھتا ہی رہ گیا۔ بہت دیر دوڑنے کے بعد آخر کار ایک جگہ کتے کے جوش و خروش میں اضافہ ہوگیا۔ سخن سمجھ گیا کہ وہ اپنی منزل کے بالکل قریب آگیا ہے۔

          چند منٹ بعد سخن ،کتے کے ساتھ ایک موچی کے سامنے کھڑا تھا۔ کتا دُم ہلاتا ہوا سخن کو داد طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ سخن نے سرپیٹ لیا۔

          ”ابے یہ موچی کے پاس کیوں لے آیا ہے مجھے؟ کیا قمیص پھٹ گئی ہے میری ؟“

          موچی بالکل فارغ بےٹھا تھا۔ سخن کو دیکھ کر چہک اُٹھا۔”اوخوچے ….آﺅ آﺅ ادھر بیٹھو….“

          اچانک سخن کے ذہن میں ایک دھماکا ہوا۔ اگلے ہی لمحے وہ سمجھ گیا کہ کتا اسے موچی کے پاس کیوں لایا ہے۔ اس نے کتے کو چاچا چراندی کی چپل سنگھائی تھی۔ شاید کتے نے چاچا کی بدبو سے زیادہ چپل کی کنڈیشن پر توجہ دی ہوگی،تبھی وہ موچی کے ٹھکانے پر آگیا تھا۔ سخن نے بڑی حقارت سے موچی کو دیکھا اور تحقیر آمیز لہجے میں کہا۔

          ”اچھا اچھا بس زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اپنی اوقات سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کرو۔ تم یہ مت بھولوکہ تم ایک موچی ہو۔ بیٹھ جاﺅ واپس اپنی جگہ پر اور بےٹھ کر گاہک کی دعا کرو ۔ “سخن نے یہ کہہ کر کتے کے پیٹ پر ایک لات ماری۔ ”اس کتے کے بچے سے تو میں بعد میں نمٹ لوں گا ‘یہ نہیں جانتا ہے کہ میرا نام سخن ہے۔ ابے چل آگے۔“

          کتا اپنا ٹریجیڈیکل سونگ گاتا ہوا پھدک پڑا۔

          ایک مرتبہ پھر سخن…. کتے کے نقشِ قدم پر چلنے پر مجبور ہوگیا تھا۔اس بار کتا بہت سیریس انداز میں چل رہا تھا۔ سخن کی ایک لات نے ہی اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔ وہ اب انتقامی زاویوں پر غور کررہا تھا۔ سخن ‘ کتے کے عزائم سے لاتعلق تھا۔ اس مرتبہ کتا ایک بڑے سے مکان کے دروازے کے سامنے آکر ٹھہر گیا۔

          سخن بونڈ نے ایک ہی نظر میں جان لیا کہ یہی اس کی منزل ہے، جہاں چاچا چراندی اپنی زندگی کے آخری پراٹھے کھارہے ہوں گے۔ اس نے اردگرد نظریں دوڑائیں ۔ دونوں اطراف کوئی بھی نہیں تھا۔ موقع غنیمت جان کر وہ دروازے پر چڑھ کر بڑی کامیابی سے اندر کود گیا۔ اس کے اندر کودنے پر کوئی ردعمل نہ ہوا۔ اس کا حوصلہ راشی پولیس افسرد کی توند کی طرح بڑھ گیا۔ سخن کو ایک کلو امید تھی کہ یہی ڈاکوﺅں کا ٹھکانہ ہے۔ یہاں سے اسے چوہدری بشیر کا سارا مال بھی مل جائے گا اور چاچا چراندی بھی برآمد ہوجائیں گے، لیکن اسے ہر لمحہ بے حد محتاط اور چوکنا رہنا تھا ۔ظاہر ہے ڈاکو ایک دو نہیں کئی ہوں گے۔ کسی بھی لمحے کوئی بھی ڈاکو آسکتا تھا۔ سخن بالکل نہتا تھا۔ اس کے پاس کسی بھی قسم کو کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ اسے اب اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھاکہ کم ز کم یہاںآتے ہوئے اور کچھ نہیں تو گھر سے کپڑ اکوٹنے کا ڈنڈا ہی لیتا آتا ، جس سے اماں اس کی اکثر وبیشتر رنگائی کرتی ہی رہتی تھیں، لہٰذا وہ بہت بہتر جانتا تھا کہ کپڑا کوٹنی کی ضرب کیا اثرات رکھتی ہے۔ اس کے سائیڈ افیکٹس کیا ہوتے ہیں۔

          بہرطور اس نے پہلی فرصت میں بڑی آہستگی سے مین گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھولا۔ فوراً ہی کتا بھی اندر آگیا۔ سخن کو کتے کی موجودی میں بڑی طمانیت کا احساس ہوا۔ ذرا ہی دیر میں وہ کتے سے مانوس ہوگیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اس کا کتے کے ساتھ کوئی خونی رشتہ بھی ہے۔ اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کتے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ کتے نے خفیف سی” پیں“ کے ساتھ دُم ہلادی۔ اب وہ مکان کے اندرونی حصے کی طرف بڑھنے لگا۔

           دفعتاً اس نے راہ داری میں ایک آدمی کو دیکھا ،جو چائے کے برتن اٹھائے ایک کمرے سے نکل رہاتھا۔ سخن بڑی پھرتی سے کتے سمیت ایک نزدیک کے کمرے میں گھس گیا، جس کا دروازہ کھلاہوا تھا۔ یہ کمرامختصر سا تھا ۔شاید اسٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،اس لئے وہاں اَلا بلا چیزیں بھری ہوئی تھیں۔ ملازم اس اسٹور کے آگے سے گزرتا چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد سخن وہاں سے باہر نکلا اور روشنی کی رفتار سے اس دروازے کی جانب بڑھا، جہاں سے ملازم برآمد ہوا تھا ۔ دروازہ بھڑا ہوا تھا۔ سخن نے جھک کر کی ہول پر آنکھ لگادی اور اندر کا منظر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔

          اچانک سخن کو اپنے عقب میں کسی کی موجودی کا احساس ہوا۔ اس نے گھونگھے کی سی سستی سے گردن گھماکر دیکھا تو اس کے ہوش و حواس رحلت فرماگئے۔عقب میں وہی ملازم کھڑا مسکرا رہا تھا جو چائے کے برتن اٹھائے گزرا تھا۔ سخن نے اپنے کتے کو دیکھا ،جو خاموش بیٹھا خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔ غلطی اس کی تھی۔ اس نے ہی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کتے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ بھی ایسا سعادت مند کتا کہ ملازم کے آجانے کے باوجود خاموش ہی رہا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں کتے کوبرا بھلا کہا۔

          ملازم نے سخن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چرسیلے لہجے میں پوچھا۔ ”ہاں بھئی شہزادے کیا دیکھ رہاہے اندر؟“

           سخن کا بدن خوف کے مارے یوں لہرایا ،جیسے اس کے بد ن میں سے گندے پانی کا ریلا گزرا ہے۔

          ”وہ…. میں چابی کا سوراخ چیک کررہا تھا کہ اس میں سے نظر بھی آتا ہے یا نہیں۔“

          ”اچھا چھا ….تو تم یہاں لاک چیک کرنے کے لےے آئے تھے تو پھر کرلیا چیک ؟ “ملازم نے زہر خند کیا اور یک لخت اس نے سخن کو دونوں ہاتھوں سے جکڑلیا۔ سخن نے اس کی گرفت سے نکلنے کی ہزار کوشش کی، لیکن وہ تو انسانی گوند بن کر چپک گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے شور مچانا شروع کردیا۔

          ”چور چور چور…. مچایا میںنے شور۔“

          ساتھ ہی اس نے دروازے پر لات رسید کی۔ دروازہ دھڑ کرکے کھل گیا۔ اب کمرے کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ سخن نے دیکھا کہ ایک خطرناک باڈی بلڈر نیکر اور بنیان پہنے بیڈ پر اُچھل رہا تھا۔ اس نے ہاتھوں میں گلووز پہن رکھے تھے۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ یہ کوئی نامی گرامی باکسر ہے۔ وہ بیڈ پر اچھلتے ہوئے ہوا میں خیالی دشمن کو پنچ مار رہا تھا۔ اتنے شور شرابے اور دروازہ کھلنے کے باوجود اس کے جوش میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔

           ملازم ‘سخن کو تقریباً گھسیٹتا ہوا اندر لے آیا اور باکسر سے بولا۔”صاحب …. صاحب میں نے چور پکڑا ہے ‘ صاحب یہ دیکھو۔“

          باکسر کا چہرہ گھوما اور اس نے خونی نظروںسے سخن کو دیکھا اور بیڈ سے اُتر کر سخن بونڈ کی جانب بڑھنے لگا۔

          ”اوئے بھنگی کی شکل والے تو چوری کرنے آیا تھا میرے گھر؟“

          ”مم….میں بھنگی نہیں ہوں….“

          ”تجھے پتا نہیں ہے کس کا گھر ہے ؟ “باکسر غرایا۔

          ”نن…. نہیں بھائی ….میں تو سریف آدمی ہوں۔“

          ”ابے تو شریف آدمی دیوار کود کر آتے ہیں چوروں کی طرح؟بول بچے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ‘ مارادیا جائے ‘ یا چھوڑ دیا جائے۔“

          ”صاحب اس کے ساتھ ایک کتاب بھی ہے۔“ ملازم نے بتایا۔

          ”کتا کہاں ہے….؟“

          ”وہ باہر رہ گیا ہے۔“

          ”ہوں۔“ باکسر پرخیال اندا زمیں سخن کو دیکھا اور ملازم سے بولا۔” ایسا کرتے ہیں اس کو چھت سے اُلٹا لٹکا دیتے ہیں۔ میں اس پر پریکٹس کروں گا یہ پنچنگ بیگ کا کام دے گا۔“

          یہ سنتے ہی سخن کے پیروں سے گویا چپلیں نکل گئیں۔ یہ باکسر تو مار مار کر اس کا فالودہ بنادے گا۔ اسے فوراً ایکشن میں آنا ہوگا۔ جیسے ہی اس نے یہ بات سوچی۔ ایک عجیب اتفاق ہوا ۔

          کھلے دروازے سے اس کا ساتھی کتا چھلانگ لگاکر اندر تشریف لایا اور آتے ہی اس نے ملازم کی تشریف پر بٹکا بھرلیا۔ وہ غریب ملازم اس قدر زور سے چیخا کہ بجلی ہی چلی گئی۔ سخن کے اندر کا جاسوس جماہیاں لیتا ہوا جاگ گیا۔ ادھر باکسر ابھی صورت حال کو ٹھیک طرح سے سمجھ نہ پایا تھا کہ سخن نے کمرے سے باہر دوڑ لگادی۔ باہر آکر وہ رکا نہیں، بلکہ مین گیٹ کی جانب دوڑتا چلا گیا۔ دوڑتے ہوئے اسے اپنے عقب میں کئی ملی جلی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں جن میں کتے کی آواز بھی نمایاں تھی۔

                             ٭٭٭

          ”لوبھئی میں نے ایک شان دار پکنک کا پروگرام بنایا ہے۔“ چاچا نے ہاتھ اٹھاکر اعلان کیا اور پھر دوبارہ استاد پاپڑی کے گنجے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ انہیں اس کی کھوپڑی اتنی پسند آگئی تھی کہ اسے اپنے برابر میں بٹھا کر مسلسل چندیا پر ہاتھ پھیرے جارہے تھے۔ ہاتھ پھیرنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اس کے سر پر ریگ مال رگڑ رہے ہوں۔

          ”یا پروردگار ہمارے حال پر رحم فرما۔ ہمارے گناہوں اور خطاﺅں کو درگزر فرما دے اوران بزرگوار کو اپنا پیارا کرلے۔“ استاد پاپڑی نے گڑگڑاتے ہوئے دعا مانگی۔ اب تو استاد کا زیادہ وقت یاد الٰہی میں گزر رہاتھا۔

          ”پروگرام یہ ہے کہ ہم رات کو کلفٹن چلیں گے۔ شامی کباب اور روٹیاں لے جائیں گے۔ پھر ساحل پر بیٹھ کر رات کا کھانا ادھر ہی کھائیں گے۔“ چاچا اپنی دھن میں بولے جارہے تھے۔ پھر وہ اچانک چونک کر ہنسے۔” ابے روٹی اور کباب آدھی روٹی‘ آدھا کباب، گنجے کو مارنا بڑ اثواب۔“

          ثواب کے ساتھ ہی انہو ں نے ہاتھ بڑھاکر استاد پاپڑی کے سرپر ایک چپت مارکر ثواب دارین حاصل کیا۔ استاد نے تو اپنی قسمت سے سمجھوتا کرلیا تھا، اس لئے مجال ہے ،جو منہ سے اُف بھی نکلا ہو ،بلکہ انہوں نے تو شعور ی طور پر چاچا سے تعاون کرتے ہوئے چپت کھانے کے لئے اپنا سر مزید جھکاکر پیش کردیا تھا کہ

          ٹنڈتسلیم خم ہے جو مزاج بزرگوار میں آئے۔

          ”نہیں …. میں …. تو ہرگز نہیں جاﺅں گا ۔“لمبو نے جوابی اعلان کردیا۔

          ”نہیں جائے گا۔ اچھا تو پھر اس کا مطلب ہے کہ تمہاری طبیعت ناساز ہے۔ یہ لے یہ ٹافی لے لے۔ تیری طبیعت ہشاش بشاش ہوجائے گی۔ آجلدی آجا میرا بچہ آ…. کتنا ذہین ہے میرا لمبو‘ ہاں کیوں کھڑا ہے دور ….میرے نزدیک آ ….جلدی آ، ورنہ یہ گنجا تیری ٹافی کھاجائے گا۔“

          چاچا خالی مٹھی بند کرکے اسے پٹا پٹا کر بلا رہے تھے۔ لمبو بھی ایسا گاﺅدی کہ ٹافی کے لالچ میں دوڑا چلا آیا۔جونہی وہ چاچا کے ہاتھ کی رینج میں آیا۔ چاچا نے اقبال کے شاہین کی طرح اسے دبوچ کر جھکایا اور غریب کی کمر پر ”یاہوووو“ کرکے پوری قوت سے کہنی ماری۔ لمبو اونٹ کی طرح بلبلا کر رہ گیا۔

          ”ائی ائی میں مرگیا ‘ آئے میری کمر توڑ دی ایمان سے توڑ دی…. اللہ میاں۔“ وہ پورے کمرے میں پشتو ڈانس کرتا پھر رہاتھا۔

           چاچا اس کے ڈانس ایکشن کے ساتھ استاد پاپڑی کی کھوپڑی پر ایسے انگلیاں مارنے لگے تھے جیسے طبلہ بجارہے ہوں۔             پھر چاچا نے طبلے پر آخری زور دار ہاتھ مار کر پوچھا۔”اور کسی کو اعتراض ہے تو بتادے ابھی سے۔میرے پاس ایک اورٹافی ہے۔“

          ”ہم تو تیار ہیں …. ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ “استاد اور ٹنگو نے کورس کی صور ت میں کہا۔

          ”یہ ہوئی نا بات‘ ویسے ہمارے پاس ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ شام ہونے والی ہے۔ کیبل دیکھ دیکھ کر دل بھرگیا ہے۔ ایسا کرتے ہیں کہ پتنگ بازی کرلیتے ہیں گھنٹے دو گھنٹے۔ چھت پر چل کر اُڑائیں گے۔“

          ”ہیں…. ؟ تو …. تو آپ پتنگ کا شوق بھی رکھتے ہیں؟“ استاد کے لہجے میں بے یقینی تھی۔

          ”ابے میں نے بڑے بڑے دنگلوں میں حصہ لیا ہے۔ تو منگوا تو ذرا سامان۔ پھر دیکھیو ….ساری پتنگیں کاٹ کر پورا علاقہ ایسے صاف کروں گا جیسے تیری کھوپڑی۔“

          ”بزرگوار آخر آپ میری کھوپڑی کے پیچھے کیوں پڑگئے ہیں….؟“ استاد نے پوچھ ہی لیا۔

          ”بس تیری یہ کھوپڑی میرے دل کو بھاگئی ہے۔ایسی شان دار تاریخی کھوپڑی لئے لئے گھوم رہاہے اور ہاں کل سے تیرے بالوں کا ایک سالہ ڈپلومہ بھی شروع ہورہا ہے۔ ایسا کر یو کہ ہرا کدو بھی منگوالیجیو۔“

          ”پیارے چاچا جی ‘ آپ کدو ا کا کیا کریں گے ؟ “ٹنگو نے بڑے اشتیاق سے سوال کیا۔

          ”ابے صبح صبح نہار منہ اس کی کھوپڑی پر خوب رگڑ رگڑ کر کدو کو مسلنا پڑے گا۔ پھر ہری مرچیں اور ٹماٹر پیس کر لگانے پڑیں گے ۔ پورے ایک سال تک بلاناغہ یہ سلسلہ چلے گا تب کہیں جاکر اس کی کھوپڑی پر بالوں کی کونپلیں پھوٹیں گی ۔ فالتو فنڈ میں۔“

          ”کدو…. ہری مرچیں …. ٹماٹر…. چاچا…. یہ بال اُگانے کا نسخہ ہے یا کوئی افریقی ڈش ہے؟کہیں ایسا نہ ہو کہ بال کے بجائے استاد کی کھوپڑی سے کدو کی بیل نکل آئے۔“ٹنگو نے حیرانی سے چاچا کو دیکھا۔

          ”بزرگوار، آپ کو میری کھوپڑی پسند ہے نا؟ “ استادنے تحمل مزاجی سے پوچھا۔ ”توپھر خدا کے لئے میری یہ کھوپڑی گرد ن میں سے نکال لو اور اپنے ساتھ گھر لے جاﺅ۔ اس کھوپڑی نے مجھے ہر جگہ ذلیل کروایا ہے۔ زندگی کو جہنم بنادیا ہے ۔اس کو لے جاﺅ ،ورنہ میں اس کے قتلے کردوں گا۔“

          ”اچھا اچھا زیادہ باتیں مت بنا فالتو فنڈ میں۔“ چاچا نے نہایت بدتمیزی سے اسے جھڑک دیا۔” اسے پیسے دے یہ جاکر پتنگ بازی کا سامان لائے گا۔ ابے او…. مرے مرے کے لڈو ‘مانجا دیکھ بھال کر لائیو۔ میری ایک بھی پتنگ کٹی تو تیری خیر نہیں ہے پھر۔“

          ”بے فکر رہو چاچا….مانجا میں چھانٹ کر لاﺅں گا۔“ ٹنگومسکرایا۔

          آدھے گھنٹے بعد ہی منظر تبدیل ہوگیا تھا۔ اب وہ چاروں چھت پر موجود تھے۔ چاچا پتنگ اُڑارہے تھے۔استاد ذلت اور رسوائی کی کیچڑ میں لتھڑے چرخی پکڑے کھڑے تھے ۔لمبو اور ٹنگو بھی چھت پر موجود تھے۔ چاچا پتنگ اُڑانے کے ساتھ ساتھ گانا بھی گا رہے تھے۔ ”چلی چلی رے پتنگ میری چلی رے۔“

          اب تک چاچا کئی پیچ کاٹ چکے تھے۔ ہر پیچ کاٹ کر چاچا ”بوکاٹا “کا نعرہ لگاتے اور ٹنگو گانے لگتا۔” کہ دل ہوا بوکاٹا۔“

          اسی وقت چاچا نے ایک اور پتنگ کے ساتھ پیچ لڑالےے۔ وہ پتنگ تھوڑے ہی فاصلے پر ایک مکان کی چھت سے گینڈے جیسی جسامت کا ایک آدمی اُڑا رہا تھا۔ پیچ ہوتے ہی چاچا اُچھل کر چلانے لگے۔

          ”ہوگئے ابے ہوگئے …. ہاں …. یہ …. یہ زبردست …. جانے دے …. ابے…. ڈھیل چھوڑ گنجو ۔ ہاں اوئے ابے یہ کیا…. ہائیں۔ یہ تو میری پتنگ ہی کٹ گئی۔ بیڑہ غرق ۔ “چاچا ابھی تک اُچھل رہے تھے، لیکن اب اچھلنے کی وجہ تبدیل ہوگئی تھی اب وہ اشتعال میں جمپ لگا رہے تھے۔

          چاچا کی پتنگ کٹتے ہی ٹنگو اسپرنگ کی طرح” ٹیاﺅں ٹیاﺅں“ کرکے اچھلتے ہوئے کہنے لگا۔”بو کاٹا ….یاہو۔“

          چاچا کے سائلینسر مےں سے پہلے ہی کالا دھواں نکل رہا تھا۔ ٹنگو کی خوشیاں دیکھ کر وہ ہاف بوائل ہوگئے اور ایک رکھ کے دیا اس کی گدی پر۔ ٹنگو کی گدی پر سو روپے والا بم پھٹ گیا۔ وہ کرمچ کی گیند کی طرح اُچھل کر قلابازی کھاگیا۔ چاچا چھت کی منڈیر پر آکر زور سے چلائے۔

          ”ابے او گینڈے کی اولاد۔ لعنت تیری شکل پر…. یہ لے لعنت۔ “چاچا نے دونوں ہا تھوں کی لعنتیں دکھائیں۔

          اتفاق سے اسی گلی مےں سے سخن اکبر آبادی گزر رہا تھا۔ وہ باکسر کے گھر سے فرار ہوکر اس گلی مےںآ گیا تھا۔ اس کا کتا نہ جانے کس سمت میں چلا گیاتھا۔ سخن نے جو چاچا چراندی کی جانی پہچانی آوا ز سنی تو چونک کر اوپر دیکھا۔ چاچا کا بدہیئت چہرہ دیکھتے ہی وہ خوشی سے پھدک پڑا۔

          ”ابے …. چاچا….“ پھر وہ تیزی سے اس مکان کی جانب لپکا، جس کی چھت پر چاچا تھے۔ گینڈے نما آدمی نے اپنے اعزاز میں دی گئی لعنتیں دیکھیں تو شدت غیظ سے اس کا بدن تھرتھرانے لگا۔ اس کا غیر ارادی اور ہیجان انگیز ڈانس دیکھ کر استاد پاپڑی کی ہوا پول ہوگئی۔ اس نے لمبو کے کان میں لرزاں آواز مےں سرگوشی کی۔

          ”ابے یہ آسیبی بڈھا ہمیں دوزخ جانے والی بس میں بٹھا کر ہی دم لے گا۔ وہ گینڈا ایک نمبر کا بدمعاش اور جھگڑالو آدمی ہے۔ اب وہ سیدھا ادھر ہی آئے گا۔ چلو نیچے چل کرکہیں چھپ جاتے ہیں۔“

           وہ لوگ نیچے بھاگے۔ گھبراہٹ چاچا پر بھی طاری تھی، کیوں کہ گینڈے کے تیور وہ بھی بھانپ گئے تھے۔ابھی وہ صحن میں آئے ہی تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ چاروں صحن میں کارٹونوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگنے لگے پھر چاچا نے ایک جگہ رک کر ان تینوں کو بھی روکا۔

          ”ابے سنو اوئے۔ بات سنو پہلے میری۔ تم لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لعنت تو میں نے دی تھی ۔وہ مجھ سے آکر لڑے گا۔ تم میں سے جاکر کوئی درواز کھول دے اور ہمارے خالو تھے اور ابھی ابھی تانگے میں بیٹھ کر سرگودھا چلے گئے ہیں۔میں باورچی خانے میں چھپ رہا ہوں اور سن رکھو۔ اگر میرا بتایا تومیں تم لوگوں کی پول بھی کھول دوں گا فالتو فنڈ میں۔“ چاچا نے ہدایات کے اختتام پر ایک دھمکی چھوڑ دی۔

          تینوں بے بسی کے عالم میں اثبات میں کھوپڑیاں ہلانے لگے۔ درمیان میں ہلنے والی استاد کی گنجی کھوپڑی تھی۔چاچا غڑاپ سے باورچی خانے میں جاگھسے اور کھڑکی کی جالیوں میں سے صحن کا منظر دیکھنے لگے۔

          دروازے پر مسلسل دستک ہورہی تھی۔ ٹنگو نے جی کڑا کے دروازے کی کنڈی کھولی اور فوراً کہنا شروع کردیا۔

          ”وہ ہمارے خالو تھے۔ وہ ابھی ابھی گدھے پربےٹھ کر تانگے پر گئے ہیں۔“

          آنے والا سخن اکبر آبادی تھا۔ وہ ہونقوں کی طرح ٹنگو کو دیکھ رہاتھا۔”ابے تو کون سی مخلوق ہے مکوڑے ‘ وہ چاچا کہاں ہیں؟ “

          کیا …. کیا کہا…. میں مکوڑا ہوں ….“ ٹنگو کے پلگ میں بھی غصے کا کچرا آگیا اور وہ سانڈ کی طرح فوں فوں کرنے لگا۔

          ”ابے مکوڑا نہیں تو کیا شہزادہ چارلس کہوں تجھے۔ ہٹ جا سا منے سے۔ وہ کہاں ہیں چاچا؟“ سخن زبردستی اندر گھسا چلا آیا۔ اسے یوں دندناتا ہوا اندر آتا دیکھ کر استاد پاپڑی کی غصے کی زیادتی سے ناک بہہ نکلی۔

          ”اوئے کون ہے تو…. یہ کیا طریقہ ہے اندر آنے کا؟ “

          ”اندرآنے کا یہی طریقہ ہوتا ہے…. تم کسی کے گھر جاتے ہو تو کیا دیوار ٹاپ کر جاتے ہو؟“ سخن نے اینٹ کا جواب بم سے دیا۔

          ابھی استاد پاپڑی تلملا کر لمبو اور ٹنگو کو اٹیک کا حکم دینے ہی والے تھے کہ گلی کے کھلے ہوئے دروازے سے وہی گینڈانما آدمی اندر آ یا ۔ اندر آتے ہی اس نے ولن کی طرح زور دار بڑھک ماری۔ بڑھک ایسی زور دار تھی کہ باورچی خانے کے کئی برتن گر گئے۔ استاد پاپڑی ‘لمبو اور ٹنگو ایسے لہرانے لگے جیسے جھنڈے ایک ساتھ ساتھ لہرا رہے ہوں۔ سخن ایک سائےڈ پر کھڑا حیرت اور استعجاب سے گینڈے کی حرکات نوٹ کررہا تھا۔

          ”بھائی صاحب۔“ سخن نے آگے بڑھ کر گینڈے کو مخاطب کیا۔” آپ سے ایک بات پوچھنی ہے میری الجھن دور ہوجائے گی۔“

          ”کیا ہے؟ “گینڈے نے سرتا چپل سخن کا تفصیلی جائزہ لیا۔

          ”میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جوابھی آواز آئی تھی،یہ آپ کی ہی تھی نا؟“

          ”تو اور کس کی تھی؟ “گینڈے نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔

          اس نے آتے ہی دروازے کی کنڈی اندر سے لگالی تھی۔ گینڈے نما آدمی کا ورزشی جسم قابل دید تھا۔ یہ موٹے موٹے بازو اور خوب صورتی سے بنے ہوئے مسلز۔ یہ پھڑکتی ہوئی نسیں اور فولاد جیسے پنچے‘ سخن پر سے توجہ ہٹاکر گینڈے نے صحن میں ورزش شروع کردی۔ وہ ٹھکائی لگانے اور وہ تینوں ٹھکائی کھانے کے لئے خو دکو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کررہے تھے۔ لمبو نے کپکپاتی ہوئی آواز میں گینڈے سے پوچھا۔

          ”یہ…. یہ آپ کیا کررہے ہیں نسیم بھائی ؟ “گینڈے نما آدمی کا نام نسیم تھا۔

          ”نظر نہےں آرہا۔ اندھا ہے کیا؟“

          ”وہ…. وہ تو میں ایسے ہی پوچھ رہا تھا ۔ ویسے نسیم بھائی ایمان سے کیا بازو ہیں آپ کے ماشاءاللہ کیا سینہ ہے بن مانس جیسا‘ سبحان اللہ ماشاءاللہ۔ اللہ بری نظر سے بچائے۔“ لمبو اپنی جان بچانے اور نمبر بڑھانے کے لئے تعریفوں کے پل باندھنے لگا۔

          ”سینہ چھوڑ ‘ گردن دیکھ گردن۔“ استاد پاپڑی نے بھی ہمت کی انگلی پکڑلی۔” کیسی گدھے کی گردن سے بھی موٹی گردن ہورہی ہے۔ گدھا تو ان کے آگے بچہ لگے گا۔“

          ”تویہ گدھے کے ابو لگیں گے؟“سخن نے درمیان میں اپنا کھر اَڑادیا۔

          ”بکواس بند کرو اوئے گدھے کے بچو۔ “نسیم بھائی سے برداشت نہ ہوسکا اور اپنی ورزش ادھوری چھوڑ کر ان لوگوں پر پل پڑے۔

           اگلے ہی لمحے صحن میں جنگِ نسیم چھڑگئی۔

           ان تینوں کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔ نسیم بھائی بلا تخصیص ان لوگوں کی دل کھول کر دھنائی لگارہے تھے۔ انہو ں نے فیاضی اور سخاوت کی انتہا کردی تھی۔ تینوں کو بھرپور گھونسے‘ مکے اورجما جما کر لاتیں ماریں ۔ کوئی بھی اس شرف سے محروم نہ رہا، حتیٰ کہ سخن اکبر آبادی بھی ان کے لپیٹے میںآ گیا۔ چاچا چراندی باورچی خانے کی جالیوں میں سے انہیں پٹتا کر خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ ان لوگوں کی چیخوں نے اوزون کے سوراخ کو مزید بڑا کردیا تھا۔ پورا علاقہ لرز اُٹھا تھا۔ پڑوسی کے گھر میں چھینکے پر رکھا ہوا دودھ کا بھگونا گرگیا۔ ماﺅں نے اپنے بچوں کو آغوشوں مےں چھپالیا۔ ایک گھر کے زینے پر سے ایک انتہائی ضعیف بزرگ ریلنگ کو پکڑ کر نیچے اُتر رہے تھے۔ چیخیں سن کر وہ گڑبڑ اکر ریلنگ پر گرے اور پھسلتے ہوئے بڑے آرام سے نیچے آگئے۔ گینڈے ‘نسیم بھائی نے مار مار کر ان لوگوں کو خچر بنا دیا تھا۔ حد تو یہ کہ وہ گھٹنوں کے بل اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ استاد پاپڑی کی گنجی کھوپڑی پر پنگ پانگ کی گیند جتنے کئی جاذب نظر اور دیدہ زیب گومڑے نکل آئے تھے۔ باہر گلی میں لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ گینڈے نے جب خوب رج کر ان لوگوں کی طبیعت سیٹ کردی تو ہاتھ جھاڑ کر دروازے سے باہر نکل گیا۔

           محلے والے کھلے ہوئے دروازے سے جھانک جھانک کر چاروں اَدھ موئے آدمیوں کو دیکھنے لگے۔ اُن کے سارے بال بیرنگ ڈھیلے پڑگئے تھے۔ اسی لمحے کئی بلند آوازیں سنائی دیں اور سب سے پہلے سخن کا کتا اندر داخل ہوا۔ ا س کے پیچھے للو‘ پنجو‘ شرفو اور کونسلر صاحب چلے آرہے تھے۔ سب سے آخر مےں چوہدری بشیر ہانپتے کانپتے ہوئے پہنچے۔ اندر داخل ہوتے ہی چوہدری بشیر نے ڈاکوﺅں کو آدھی نظرمیں ہی پہچان لیا۔ انہوں نے لپک کر استاد پاپڑی کے گنجے سر پر ہاتھ مار ااور خونخوار لہجے میں بولے۔

          ”نکال اوئے گنجو پٹیل تیری کھوپڑی میں تیل ‘میرے پیسے نکال ‘ ورنہ تجھے جیل بھجوادوں گا۔ ابھی دیکھ لے‘ قسمت نے کیسا ساتھ دیا ہمارا‘ ایک بے زبان جانور ہمیں یہاں لے آیا ہے۔“

          ”ہاں ہاں بھجوادو۔ ضرو ربھجوادو۔ بلکہ ہم خود ہی جیل چلے جاتے ہیں۔ تمہارا احسان ہوگا تمہیں اللہ کی قسم ہے ‘ ہمیں جیل بھجوادو۔ ورنہ وہ پاگل بڈھا ہمیں بھی پاگل بنادے گا۔ ہمیں اس ابلیسی بڈھے سے بچالو۔“ استاد پاپڑی گڑگڑانے لگے۔

          ”کون بڈھا ‘ کیسا بڈھا؟“چوہدری بشیر اورشرفو صاحب چونک پڑے۔

          دوسری جانب للو اور پنجو ‘ سخن کا الٹرا ساﺅنڈ کررہے تھے۔ کتا ‘ٹنگو کو سونگھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کررہا تھا کہ یہ انسان ہی ہے یا کوئی چھیچھڑا پڑا ہے۔

          ”بڈھا ارے اسے بڈھا مت بولو۔ وہ توکوئی بھٹکی ہوئی روح ہے۔ کوئی شیطان ہے۔ اس نے ہماری زندگی دوزخ کا نمونہ بناکر رکھ دی تھی۔ دیکھو میں تمہاری ایک ایک پائی واپس لوٹا دوں گا۔ میرا وعدہ ہے مگر…. مگر ہمیں جیل بھجوا دو،ورنہ وہ بڈھا پھر سے ہم پر مسلط ہوجائے گا۔ تمہیں اپنے موٹے موٹے بچوں کی قسم ہے ۔ اگر تم نے ہمیں جیل نہیں بھیجا تو پھر ہم بلڈوزر کے نیچے آکر خودکشی کرلیں گے۔“

          اتنے میں پنجو کی آواز ابھری۔ ”شرفو صاحب یہ دیکھیں۔ سخن کی اَنٹی میں سے یہ رومال میں بندھی ہوئی چاچا کی چپل ملی ہے۔ یہ ابھی تک اسے لئے لئے گھوم رہا تھا۔“

          پنجو نے چپل کا نام لیا ہی تھا کہ باورچی خانے کا دروازہ ٹوٹ کر نیچے آن گرا۔چپل کا سن کر چاچا تو ایسے جذباتی ہوگئے تھے جیسے پاکستانی فلموں میں ماں کو اس کا بچھرا ہوا بےٹا اچانک مل جاتا ہے۔ انہوں نے جذبات میں آکر دروازے کی ایسی کی تیسی کرڈالی تھی۔ چاچا اندر سے ایسے بدحواس ہوکر باہر نکلے کہ گرے ہوئے دروازے سے ہی ٹکرا کر” ٹیاﺅں“ کرکے گرگئے۔ پھر جو وہاں کھڑے لوگوں نے قہقہے لگائے ہیں کہ بات ہی چھوڑو۔گرنے کے باوجود چاچا پڑے پڑے چلائے۔” کہاں ہے میری چپل؟“

          ”ارے چاچا تم؟ “للو‘ پنجو‘ شرفو صاحب اور چوہدری بشیر اُچھل پڑے۔

          ”ابے مجھ پر لعنت بھیجو‘ یہ بتاﺅ چپل کہاں ہے میری؟“ چاچا کے دماغ میں صرف چپل پھنسی ہوئی تھی۔

          ”یہ رہی۔ “پنجو نے چاچا کی طرف چپل اُچھال دی۔

           چاچا نے وہ چپل دبوچ کر پہن لی اور پھر ڈاکوﺅں سے مخاطب ہوکر سوال کیا۔”میری ایسی ہی ایک چپل جو میں پہن کر آیا تھا…. وہ کہاں گئی؟“

          ”وہ…. وہ تو میں نے گٹر میں ڈال دی تھی۔“ لمبو نے ہکلاتے ہوئے خوش خبری سنائی۔

          ”کیا؟ “چاچا زور سے چلائے۔” اب میں تم لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ “یہ کہہ کر چاچا چراندی نے ڈاکوﺅں پر سپرمین کی طرح چھلانگ لگادی۔

          ”بب…. بچاﺅ…. “تینوں ڈاکو ایک ساتھ چلا اُٹھے۔

                                                                                                                   ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے