سر ورق / ناول / کفن باندہ رہا ہے ۔۔شبیہہ مظہر رانجھا۔۔۔ قسط نمبر1

کفن باندہ رہا ہے ۔۔شبیہہ مظہر رانجھا۔۔۔ قسط نمبر1

ARY NEWS 13-Aug-2016

khyber agency; reports said that some personnel of the 35 punjab regiment were patrolling sandana area in sipah territory when an improvised   explosive device planted on the roadside exploded.three men including captain Omer Farooq were killed on the spot.

         کیپٹن غازی حافظ عمرفاروق شہیدؒ،

         ولادت 19جنوری1991۔

         شہادت۔12 اگست,2015

          جائے پیدائش۔واہ کینٹ۔

          جائے شہادت ۔وادی ¿ تیراہ

   اسکی قبر پہ بیٹھی میں بے آواز رو رہی تھی وقت پر لگا کے اڑتا رہا اور ہم اسے کھو کے بھی جیتے رہے،یہ کیسے ہو گےا،شائد اسے

ہم نے خود سے الگ کیا ہی نہیں،وہ ہماری زندگیوں میں ہی ٹھہر گےا ہے۔اسے ہم نے اپنے پاس سے کہیں جانے ہی نہیں دیا۔آج

بھی اسکی یادیں لمحہ پہلے کی باتیں لگتی ہیں،مجھے پل پل یاد آنے لگا وہ میرے آس پاس ٹہلنے لگا،وہ مجھے مسکرا کے بات کرتا نظر آنے

لگا،اسے ہم سب کو ستا کے بہت مزا آتا تھا،اور میں بھی تو اسے ناکوں چنے چبواتی تھی۔۔۔ آہ! میرا پیارا بھائی

       تم لوگ کنجوس ہو۔پلہ لگا کر راضی نہیں ہو، ےہ نہیں پتا کہ گفٹ دینے سے محبت بڑھتی ہے؟بڑے آ ئے لڑکے والے ۔منہ اٹھا کے چلے آئے ہو۔۔ میں اندھا دھند لفظوں کی فائرنگ کر رہی تھی۔اور وہ سارے بھی جوابی کاروائی کے لئے پر تول رہے تھے۔ہم میں رواج نہیں ہے، باجی ہم تو ابھی سٹوڈنٹ ہیں۔آپ ہم سے ویسے کوئی مقابلہ کر لیں۔مون نے کہا تو میں چڑ گئی کیوں جی مقابلے کی کیا بات ہے ٹیبل پہ جتنے گفٹ پڑے ہیں سب ہماری طرف سے ہیں تو ہم تو جیتے ہوئے ہیں نا۔بس تصویریں کھنچوانے کی پڑی ہوئی ہے تم لوگوں کو،میں یہ کہہ کر کچن کی طرف بڑھنے لگی تو لڑکوں نے کھینچ کر مجھے بھی صوفے پر بٹھا لیا ارے باجی آپ کہاں جا رہی ہیں چلیں گانوں کا مقابلہ کرتے ہیں لڑائی تو نہیں کرنی چاہیے ناں میں نے گھور کر عثمان کو دیکھا تو سب لڑکیاں لڑکے ہنس پڑے نہ بابا نہ یہ گانے بجانے کا ہنر ہم میں نہیں ہے ہم تو شاعر لوگ ہیں شعر سنا دیں گے اس بات پر مون اچھلا ہاں ہاں سنائیں میں نے کہا جواب میں تم بھی سنانا۔ اور اس طرح ہم شعر سنانے لگے ،خوب محفل جمی اور لڑائی بھی ہوتی رہی ساتھ ساتھ، لڑکیوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق چلتا رہا۔کزن کی منگنی کا فنکشن اسی چھیڑ چھاڑ میں اختتام پذیر ہو گیامون اور عثمان میری آنٹی کے بیٹے ہیں وہ ابو جی کی کزن ہیں اور امی کی بھی ،اس ساری سٹوری کا مرکزی کردار مون ہے، لڑکے والوں کے جانے کے بعد ہم سب بھی تیاری کرنے لگے کیونکہ بڑوں میں یہ طے پا گیا تھا کہ کل ہم بھی رسم کر آئیں گے نانا اباٹائم کے بہت پابند ہیں اور کل ہم لیٹ نہ ہو جائیں اس لیے ساری رات تیاری کرنے میں بیت گئی فیصل آباد سے بھی مہمان آئے ہوئے تھے اپنا بیوٹی سیلون ہے سو گرلز نے ڈٹ کرتےاری کی فیشل کلر مہندی اور نا جانے کیا کیا، رات کے تین بج گئے صبح امی نے دھکے وغیرہ لگا کے جگایا وقت

پر سب مہمان آئے جنھوں نے ساتھ منگنی پہ جانا تھا اور یہ قافلہ پنڈ دادنخان جیسے تاریخی لیکن خستہ شہر جا پہنچا یہ جہلم کی تحصیل ہے سنا

ہے کہ اس شہر کو البیرونی نے دنیا کا مرکز بتایا ہے اور یہاں بیٹھ کر بہت سے تاریخ سازامور سر انجام دیئے۔ خیر ہم لوگ منگنی کی رسم

کے لیئے وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئے ہماری خالہ جان کا یہ سسرال بھی ہے سو انکے روم میں جا کے بیٹھ گئے ۔سنیئہ کو عجیب سا لگ رہا تھا

کیونکہ کل جیسی گرما گرمی نہیں تھی ان لوگوں میں، آہستہ آہستہ ہم لوگ تیاری میں لگ گئے میزبانوں میںکچھ لوگ دریا پہ گئے ہوئے

تھے (دریائے جہلم انکے پاس ہی بہتا ہے)کچھ دیر تک سب اکٹھے ہوئے تو بڑے ابو جی نے جلدی مچا دی پھر بھی ٹھیک ٹھاک دوپہر

ہو گئی ان لوگوں کی خاص تیاری نظر نہیں آ رہی تھی میں نشاط اور سنیئہ روم میں بیٹھے ہوئے تھے جب اندر لڑکے داخل ہوئے مون نے

سمائل دی اور کوئی بات میری طرف اچھالی میں نے بھی جوابی وار کیا بس پھر کیا تھا ہلکی ہلکی چھیڑ چھاڑ چلنے لگی اتنے میںکھانے کا پیغام

آ گیا میری لڑکیوں اور لڑکوں ،دونوں سے بہت بنتی ہے تقریباً کچھ کو چھوڑکے سبھی چھوٹے ہیں میں نے جتلا دیا کہ کل ہمارے

گھر تو بہت اخلاق جھاڑ رہے تھے ۔لیکن آج اپنے گھر تمھیں احساس ہی نہیں کہ مہمان آئے ہیں بندہ ان کے پاس ہی آکے بیٹھ

جاتا ہے

کوئی بھاگتا ادھر جا رہا ہے کوئی ادھر جا رہا ہے ےہ سن کر مون میرے پاس بیٹھ گیا او ہو باجی آپ کے شکوے تو بوڑھی عورتوں کی طرح ختم

ہی نہیں ہوتے سنائیں کیا حال چال ہے میں پاس بیٹھ گیا ہوں آپ کے۔لیکن میں بھی آپا جی بن کر منہ پھلا کر بیھٹی رہی آج بھی

میری آنکھوں کے سامنے اس کا مسکراتا سراپا آ گیا ہے جب وہ معصوم سا لڑکا میرے پاس بیٹھ کر مجھے مناتا رہا اور میں بھی اسے

جگتیں لگاتی رہی خیر کسی نے آواز لگائی اور ہم کھانا کھانے چلے گئے اس کے بعد رسم شروع ہو گئی حسب معمول تحفے تحائف دیئے گئے

ساتھ ساتھ میں ان لڑکوں کو لتاڑتی بھی رہی کہ ادھر تو لڑکی ہماری تھی اس لیئے تم لوگوں نے گفٹس نہیں دیئے لیکن ادھر تو لڑکا تم لوگوں

کا ہے پھر بھی جیبوں سے کچھ نہیں نکلااوروہ اس نئی ریِت کے لیئے تیار سے نہیں لگ رہے تھے ۔تقریب اختتام کو پہنچی تو ہم خالہ کے

کمرے میں آ گئے انکی لڑکیاں تو اپنی فیملی میں بزی تھیں باہر سے مون آیا تو ٹوک لگائی باجی شبیہہ،نو گفٹ۔۔۔۔نو لفٹ؟ اور

دروازے میں کھڑا ہو کے مسکرانے لگا میں نے جواب دیا تم لوگوں کو گھر آئے مہمانوں کا خیال ہو تو پھر تو ہم تم لوگوں کو معاف بھی

کریںاور جو سیدھی بات ہے بھئی ہمیں تو گفٹ نہ دینے والا بندہ چبھتا ہی بہت ہے اتنا کہنے پہ وہ مجھے بیڈ سے اتار کر باہر کھینچ کر لے

گیا میں چیخی او کنجوس آدمی! کہاں لے کر جا رہے ہو؟کہتا ادھر باہر گھومنے جارہے ہیں باہر عثمان اور بلاول بھی تھے میں نے نشاط اور

سنیئہ کو آواز لگائی درےا کی طرف جانے والے رستے پہ ہم چلتے گئے نوک جھونک بھی چلتی رہی بلاول نے کوئی بات کی تو میں نے گرہ

لگائی دیکھو اسکو ذرا، پنڈ سے اٹھ کر لاہورکیا چلا گیااس کے تو پر پُرزے نکل آئے ہیں۔بولی تک بدل ڈالی اس نے اپنی ،عثمان نے

اردو پنجابی مکس کر کے کوئی بات کی تو اسکی ٹانگ کھینچنے کا موقع بھی مل گیا۔او بھائیو !بچپن سے تم لوگ اردو بول رہے ہوآنٹی ہماری نے

تم لوگوں کی تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی پر اردو تک ٹھیک سے نہیں بول پاتے تم لوگ، مون نے پھر گفٹ کے حوالے سے

کوئی بات کی اور میں شروع ہو گئی ہنستے کھیلتے ہم لوگ واک کرتے رہے نشاط اور سنئیہ ہماری بحث سے الگ تھیں اگر فاطمہ ہوتی تو اس نے میرا ساتھ دینا تھا یہ سوچ آتے ہی میں غصے میں آ گئی کہ میں اکیلی ان غنڈوں میں پھنسی ہوئی ہوں،میرے کچھ بولنے سے

پیشتر بلاول کہتا بس بس ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ واپس چلنا ہے تو ۔۔۔چلو پھر،گھر آئے اور نانا ابا نے جلدی مچا دی ،اس علاقے میں

آج بھی ٹانگے چلتے ہیں گاڑی تک جانے کے لئے ٹانگہ کروانا پڑتا ہے، ہم بھی ٹانگے پہ بیٹھے کچھ دور ہی گےا ہو گا کہ کہیں سے چھلانگ

لگا کر مون ٹانگے کے پیچھے لٹک گےا ۔وہ پایئدان پہ کھڑا ہو کے چھجے سے سر جھکا کے اندر ہو کے مجھ سے باتیں کرنے لگا۔باجی آپ

ناراض تو نہیں ناں؟ مجھے اصل میں اندازہ نہیں تھا ان فنکشنزکا،میں نے کہا نہیں بھائی میں ناراض نہیں ہوں بس ایک بات ذہن میں

آئی اور کر دی،ختم سمجھو، میں کہہ کے مسکرانے لگی تو بولا باجی دیکھیں ناں ابھی ہم سٹوڈنٹ ہیں ۔اتنا خرچہ نہیں ملتا بس پاکٹ منی

ہوتی ہے۔میں نے اسے پےار سے ڈانٹا کہ اب ایسی بات نہ کرنا۔ اچھا باجی جلدیسے نمبر لکھوائیں،میں نے اپنا نمبر لکھوا کے اسکا بھی

نوٹ کر لیا،تھوڑا دور چلے تو اچانک چھلانگ لگا کے پائیدان سے نیچے کود گےا،میں نے پریشان ہو کے گردن نکال کے دیکھا تو

مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کے الوداع کر رہا تھا۔ اس پہ بہت پیار آیاتب احساس ہوا کہ ہم تو ایویں لڑتے ہیںاندر

سے ہم محبت کرنے والے لوگ ہیں،ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ کہیں دور رہ گےا اور ہم گھر لوٹ آئے ان دنوں میں ایم اے پول سائنس کر

رہی تھی ساتھ اپنا سیلون بھی چلا رہی تھی ایف ایم پہ ان دنوں میرا پنجابی شو بھی آن ایئر جاتا تھا انکل کا سکول بھی چلا رہی تھی اور ادبی

مصروفیت اتنی کہ رات کے تین بجے تک تو عام طور پہ بیٹھ کے لکھتی رہتی،لیکن اس سب کا ےہ مطلب نہیں کہ میں اپنوں سے غافل رہتی

تھی،مون بھی میرے اپنوں میں شامل تھا چیٹنگ چلتی تو بہت دیر تک چلتی رہتی اکثر کسی نہ کسی موضوع پہ ہم بحث کرتے رہتے۔۔۔۔کرتے کراتے عابدہ(مون کی سسٹر)کی شادی آ گئی، ہم سب گئے مون کو بہت اچھا لگا خاص طور پہ وہ مِٹھائی جو ہم

لے کے گئی اسے بہت مزے کی لگی،ہم چونکہ عزت اور محبت کرنے والے لوگ ہیں اور صلے کے طور پہ محبت اور عزت ہی چاہتے

بھی ہیں اور مون کو اس چیز کا بڑا ادراک ہو گیا تھا اسی لئے میری اور اسکی گاڑھی چھننے لگی تھی، شائد اسے ہی مزاج آشنائی کہتے

ہیں۔۔۔۔بہت عرصے بعد ایک دن میں بڑی امی(نانی اماں)کے گھر تھی کہ عابدہ کا میسج آیا مون انجرڈ ہے اس کے

لیے دعا کریںمیں سخت پریشان ہو اٹھی اللہ خیر کرے کیا ہو گیا اسکو؟ میں نے آنٹی رضیہ کے نمبر پہ کال کیا میرا خیال تھا کہ ایویں مذاق ہو گا لیکن آنٹی واقعی پریشان تھیں ہُوا یوں کہ مون گھر میں کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا شیشہ پہلے ہی کریک تھا ہَوا بہت تیز چل رہی

تھی کہ شیشہ فریم سے نیچے دھڑام گرا اور کھڑکی کے ہینڈل پہ دھرے بازو کی رگیں کاٹتا ہوا فرش پہ جا گرا،آنٹی نے بتایا تو میرا پریشانی

کے مارے برا حال ہو گےا دعامانگوں یا اللہ میرے بھائی کو سلامت رکھنا جس دن بائیں ہاتھ کی رگیں کاٹی گئیں تھیں اس دن واہ کینٹ

 میں شدید بارش تھی کنونس نہیں ملتی تھی بہت مشکل سے انکل سلمان(مون کے والد) اسے سی ایم ایچ لے کے گئے انھوں نے بہت

مہارت سے بالکل کٹ گئی ہوئی رگوں کو سٹیچ کیا اور بلاخر دو تین ہفتے بعد اسے مکمل آرام آ گیا۔۔۔۔مون کو ہمیشہ چوٹیں لگتی ہیں بڑے

بڑے زخم آتے اوراللہ پاک کے خصوصی کرم سے اسے شفامل جاتی ہے آنٹی نے بتایا تو چپکے سے میں نے اسکی زندگی کے لیئے بہت

سی دعائیں کر ڈالیں

دن گزرتے گئے وقت کو مانو پر لگے ہوئے تھے اور ےہ لڑکا اپنی منزلیں طے کرتا جا رہا تھا غالباً بی ایس سی کر رہا تھا تب،ہم سبھی اپنی اپنی

زندگی میں گم چلے جا رہے تھے لیکن فون کا رابطہ اسکا اور میرا پھر ہمیشہ رہاآج بھی اسکے میسج آئے ہوئے تھے شائد سرگودھا یونیورسٹی کی

کوئی بات کی تھی اسنے ،سرگودھا کے تعلیمی ادارے پورے ملک میں مشہور ہیںمیں نے کہا تو اسکا جلا ہوا میسج آیا جی نہیں ہمارے

فیڈرل ادارے زےادہ بیسٹ ہیں نہیں محترم ہمارے ہاں کی پڑھائی زیادہ اچھی ہے سرگودھا بورڈ کے پڑھے ہوئے بچے کبھی کسی

میدان میں مار نہیں کھا سکتے میں نے بحث طویل کر دی،او نیئں باجی یارا اسلام آباد اور پنڈی کے ادارے زیادہ اچھے ہیں یہاں سے

پڑھنے والے بہت نامور لوگ بنے ہیں دوسرے علاقوں کی نسبت ادھر تعلیمی ادارے بھی زےادہ ہیں میں کتنے نامور

لوگ بتاﺅں کہ وہ ہمارے اداروں سے پڑھ کے نکلے ہیں اسکا میسج آیا تو میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی ذرا زیادہ شوخی ماروںاپنے

اداروں کی،یہ سوچ کے ابھی میسج ٹائپ کرنے ہی لگی تھی کہ اسکا مزید میسج آیا ۔۔۔۔جیسے کہ میں۔۔۔اور اس نے مجھے اور تپ چڑھا

دی،رات گئے تک ہم اسی بحث میں لگے رہے کہ کون سے ادارے بیسٹ ہیں آخر پھر صلح کر کے بحث لپیٹ دی کیونکہ ہمیں کےا لینا

دینا ان باتوں سے؟آج یہ سب سوچ کے مسکرا پڑتی ہوں کہ وہ تو ضدی تھا ہی لیکن میں کتنی نادان تھی ہر وقت دوست ہونے کے

باوجود اسے ہرٹ کرتی رہتی تھی شائد اس لیئے کہ محض اس کا اور میرا چند برسو ں کا ہی تو فرق تھا لیکن پھر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ

کھیلنے لگتی ہے کیونکہ مجھے اس بدمعاش کی سمجھ آنے لگتی ہے کہ وہ جان کے مجھے تنگ کرتا تھا کہ باجی کو غصہ آئے گا مون کی شاعرانہ

چوائس بہت زبردست تھی۔کزن کی منگنی پہ بھی ہم لوگوں نے چھوٹا سا مشاعرہ کر ڈالا تھا،اس فنکشن پہ جو ہلکی پھلکی فائٹ ہوئی تھی اک

دن اس نے سرپرائزلی اسکا ازالہ بھی کر ڈالا میں امی کے پاس بیٹھی تھی کہ اس کے میسج آئے اورساتھ ہی کال بھی کہ باجی میں نے

کتاب کوریئر کی ہے شام 4 بجے آپ ریسیو کر لینا، میں نے حیرت سے پوچھا کون سی کتاب؟ کہتا جب آئی آپ پڑھ لینا شاعری

کی کتاب ہے اور آپ کسی سے ذکر مت کیجیئے گا ساتھ ہی فون بے جان ہو گےامیں نے فوراًامی کو بتاےا کیونکہ میں ہر بات امی سے شیئر

کرنے کی عادی ہوں امی جی نے کہا کہ مجھے پھر کیوں بتاےا ہے جب اس نے منع کیا ہے کسی کو بتانے سے؟میں نے کہا آپکو ہی تو بتاےا

ہے، مسکرا کے کہتیں اب نا کسی کو بتانا ابھی ہم ےہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ڈور بیل بجی امی جان باہر گیئں تو کورئیر والا تھا مجھ سے دستخط

کروا کے مجھے کتاب پکڑائی میں نے پیکٹ کو الٹ پلٹ کے دیکھا تو بیک سائیڈ پہ لکھا تھا عمر فاروقF.G ماڈل سکول،واہ

کینٹ۔اوہ مائی گاڈ،ےہ تو وہی مون والی کتاب ہے، میں نے جلدی سے پیکٹ کھول کرکتاب باہر نکالی۔۔۔۔۔اور اس کتاب کو یکھ

کے مجھے بڑی بڑی سوچیں رکھنے والے چھوٹے سے مون پہ بہت پیار آےا،پروین شاکر کی ماہِ تمام میرے سامنے تھی اور اب مجھے ےاد

آرہا تھا کہ باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ باجی آپکو کون شاعر پسند ہے؟ تو میں نے بتاےا تھا کہ خواتین میںپروین

شاکر پسند ہے۔اس لڑکے نے کےسے ذہن میں رکھ کر آج ےہ بات پوری کر دی تھی، اب مجھے شرمندگی ہو بار بارہائے اللہ وہ

میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا،کہ باجی کتنی لالچی ہے میں نے فوراً شکرئیے کا میسج کیا،اور اسے سرزنش کی کہ کےا ضرورت تھی اس

سب کی ،تم تو ابھی سٹوڈنٹ ہو جواب آیا کچھ نہیں ہوتا باجی،آپ پڑھیں پسند آیا نا تحفہ آپکو؟ میں خوش بھی ہوئی کہ مون نے کتنا خیال

کیا مےرا،ہاں ےہ اسکا پاس رکھا میں نے کہ امی کے علاوہ کسی کو نہیں بتایا میں نے۔۔۔۔۔

 بہرحال ہمیں ایک دوسرے کو تنگ کرتے کافی دن کھسک گئے اور ساتھ ساتھ شب و روز ہمیں آزماتے رہے۔دوستیاں جتنی بھی پرانی

ےا عزیز ہوں لیکن زندگی الگ ہی اپنا خراج مانگتی ہے امی جان کی طبیعت کافی خراب تھی اور میں انھیں لے کے ڈاکٹرز کے پاس

بھاگی بھاگی پھرتی تھی،خالہ فردوس کے بارے سنا تھا کہ وہ بھی بیمار ہیں کچھ مالی پریشانی بھی آ گئی بھائی احتشام کے ساتھ پروگرام بناےا کہ ہم خالہ کا پتا کر آتے ہیں کچھ تو کزن کا سسرال بھی ہے جسکی منگنی کا ذکر کیا تھا ویسے بھی ان دِنوں شبِ برات تھی ہاں ےاد آےا ان

دنوں ایم اے پارٹ ٹو کے پیپرز بھی دیئے ہوئے تھے مون کو بتاےا کہ میں پنڈ جا رہی ہوں اسکا میسج آیا کہ میں پنڈ ہی آیا ہوا ہوں

 لاہور سے نوشی لوگ بھی آے ہوئے تھے۔۔۔ےہ بتاتی چلوں کہ پنڈ والا گھر مون کا ننھیالی گھر ہے،نوشی لوگوں کا ددھیالی گھر ہے اور

میری خالہ فردوس مون کی ممانی لگتی ہیں،مقصد یہ کہ سب کے مضبوط رشتے تھے،میں نے سوچا بہترین وقت ہے مون کے گفٹ کا بدلہ اتارنے کا،میں نے بازار سے ایک بہترین قِسم کی بلیک شرٹ کا انتخاب کیا تھا ہم دونوں بہن بھائی پِنڈ دادنخان پہنچے تو مون پہلے

سے موجود تھا خالہ فردوس کے کمرے میں ملنے آےاکچھ دیر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے جانے لگا تو میں نے آواز دے کے بلایا کہتا جی

باجی آپ نے مجھے بلاےا ہے ؟میں نے شاپر سے شرٹ والا پیکٹ نکالا اور اسکی طرف بڑھا دیایہ تمہارے لیئے ہے،وہ بڑی بڑی

آنکھیں پھاڑ کے میری طرف دیکھنے لگا یہ کیا ہے باجی؟میں نے کہا تمہارے لیے تحفہ ہے کہتا کیوں؟ آپ میرے لیئے تحفہ کیوں لائی

ہیں یہ بہت ضروری تھا؟ میں نے بولا ہاں بھئی تمھاری برتھ ڈے گزری ہے اور میں نے کوئی گفٹ نہیں دیا سوچا اب ملاقات ہو رہی

ہے تو موقع جانے نہیں دینا چاہیئے،دیکھو تو سہی کھول کے،اس نے پیکٹ کھولا تو اس کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چل رہا تھا کی

تحفہ پسند آیا ہے،میں ہولے سے مسکرا دی یہ اطمینان ہو گےا کہ اب جتنا بھی لڑے لیکن یہ تو تسلی تھی کہ گفٹ اسے پسند آیا ہے،میری

طرف شکوہ کناں نظروں سے دیکھنے لگا تو میں نے اشارہ کیا کہ کچھ نہیں ہوتا رکھ لو،اتنے میں خالہ نے بھی کہا احتشام نے بھی

اصرار کیا اور اسے گفٹ لیتے ہی بنی۔۔۔۔اس کے بعد سب چنڈال چوکڑی اکٹھی ہو گئی اور لڈو کا دور شروع ہوا،ہارنے پہ کوک کی

بوتل لگا کے ہم کھےلنا شروع ہوئے،پہلے تو گیم slow رہی پھر پانسہ پلٹنے لگا اور مابدولت کے بار بار چھ آنے لگے،میں جیت رہی تھی ہم لوگ شور مچا رہے تھے نوشی بھی چیخنے لگی مزے کی بات یہ کہ مون ہار رہا تھااسکی امی بھی کمرے میں آ گیئںبہت دلچسپ صوتحال

تھی،میں نے تھوڑی بے ایمانی بھی کی کئی بار گوٹ چپکے سے چلا دیتی شور اور ہاہاکار مچی ہوئی تھی احتشام اور مون ایک سائیڈ پہ تھے

میں اور نوشی ایک سائیڈ پہ،لڑکیاں گیت رہی تھیںاور لڑکے ہار رہے تھے،گیم آخری مرحلے میں تھی ہم نے بوتل بوتل کا شور مچایا اور گیم

آگے بڑھا دی،count downشروع تھا 5 تک گنتی آئی تو سبکی سانسیں اٹک گیئں کیونکہ چند سیکنڈ کی بات تھی 3 آجاتا اور

میری گوٹ winکر جاتی۔1,2,3,4…0اور ہم جیت گئے،اب تو لڑکے اٹھ کر بھاگے اور ہم ان کے پےچھے پیچھے،بوتل لاﺅ کوک

لاﺅ،لیکن مون کب دانتوں کے نیچے آتا،ہمیں ٹھینگے دیکھاتا رہا اور کہتا مجھے پتہ تو تھا کہ تم لوگوں نے جیت جانا ہے پر میں نے بھی سوچ

لیا تھا کہ ترساﺅ ں گا آپ لوگوں کو،نہیں پلانی نہیں پلانی نہیں پلانی،وہ خالہ کے بیڈ کے آس پاس گھومے اور ہم پیچھے پیچھے،لیکن

ناکام،آخر احتشام بھائی نے سیزفائر کرایااور کہا کہ میں پلاتا ہوں آپکو اسکی جان چھوڑ دو،نوشی اور میں شور مچائیںکہ مون ہی پلائے

گا،لیکن احتشام نے منگوا لی،اور ہم سب نے مل کر پی،ساتھ ساتھ مون کو بے عزت بھی کریں کہ تم نے آج پھر کنجوسی دکھا دی

ہے،وہ تپے،کہ میں کنجوس نہیں ہوں لیکن ہم باز آنے کہاں تھے کافی دیر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہے۔۔۔۔۔شام کو دریا پہ

جانے کا پروگرام بن گےا سب لڑکے لڑکیاں ادھر نکل گئے ساتھ کےمرہ بھی تھا کشتی پہ جھولے لیتے رہے اور درےائے جہلم کے کنارے نہاتے بھی رہے سرسبز کھیت بھی ساتھ ہی تھے جنہیں مقامی زبان میں بیلہ کہا جاتا ہے ا دھر ہم گلاسز پہن پہن کے تصویریں بناتے

رہے،رات تک انجوائے کرتے رہے کافی دیر سے گھر پہنچے تب تک جسم ٹوٹ کر آدھا رہ گےا تھا آتے ہی مزےدار سی چائے پی اسکے

بعد کچھ دیر ٹی وی دیکھا پھر 10 بجے کھانا کھاےا،ہم لوگ صحن میں بیٹھے گپ لگا رہے تھے مون اور میں ملک کے اوپر بات کر رہے تھے

پھر موضوع اسلام زیرِبحث آےا،اور ہم دونوں اک دوسرے کواپنی اپنی معلومات شیئر کرتے رہے تب میں نے جانا کہ ےہ ماشااللہ علم

کی دولت سے مالامال ہے،چونکہ اوائل گرمی کے دن تھے اسلیئے ساری گرلز چھت پہ گھوم رہی تھیں ادھر ہی ان سب نے فیصلہ کیا کہ

آج چھت پہ سوئیں گے یہ سنا تو میں پریشان ہو گئی کیونکہ خالہ فردوس کا گھر تب بن رہا تھا ابھی سیڑھیاں نامکمل تھیں بنیرے بھی نا تھے

لیکن ینگ پارٹی فیصلہ کر چکی تھی اسلیئے مجھے بھی ماننا تھا لیکن آپکو میں اپنی کمزوری بتا دوں کہ لکڑی کی سیڑھی سے چھت پہ جانا میرے

لیے ایسے ہی ہے جیسے آسمان سے تارے توڑ کے لانا،میں ڈرتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس آئی چھوٹے بچوں نے زور سے سیڑھی

کو پکڑا تا کہ باجی گِر نہ جائے کانپتی ٹانگوں اور لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اوپر چڑھتی گئی،آخری سیڑھی پہ جا کے سر ااوپر کیا تو میںڈر

گئی کیونکہ ان لوگوں نے تو چارپائیاں بھی نہیں بچھائی تھیں نیچے ہی بستر لگا کے بیٹھے ہوئے تھے بنیرے نہ ہونے کی وجہ سے زےادہ ڈر

لگ رہا تھا میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے یہ سب دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ چپکے سے نیچے چلی جاتی ہوں اتنے میں بنین نے مجھے

دیکھ لیا اور سب میری طرف بھاگےاور مجھے آکےبازو پکڑ کر اوپر کھینچ لیا،اتنی ساعت میں مجھے لگا کہ میرا دم نکل گےا ہے،میری حالت دیکھ

کر سب ہنس رہے تھے پانی وانی پیا اورٹولہ بنا کے سب بیٹھ گئے آہستہ آہستہ میراخوف کم ہونے لگا،درمیان والا بستر میں نے لے لیا

تا کہ میں گِر نہ سکوں،صبح شبِ برات تھی اور آج چاند پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا مانو اگر چھت پہ سوئی بھی گری ہوتی تو نظر

آجاتی،بہت جادوئی ماحول تھا میں آس پاس کے نظاروں میں کھو سی گئی پاکیزگی بھی تھی خاموشی بھی اور سکون بھی،سب کے بیچ میں

سے اٹھ کر میں چھت کے مغربی کنارے کی طرف بڑھ گئی وہاںمنظر بڑا خوبصورت تھاپنڈ دادنخان چونکہ تاریخی شہر ہے اس لیے یہاں

ہندووﺅں کی ےادگار کے طور پہ مندر بہت ہیں۔مندر کے کھنڈر بیک و قت بھیانک بھی نظر آ رہے تھے اور خاموش ،مظلوم،تنہا اور اپنی

تنہائی کے بین کرتے ہوئے بھی لگتے تھے مجھے اچھی طرح ےاد ہے کہ جب ہم بچپن میں ایک بار پنڈ آئے تھے اور مندر والی سایئڈ پہ

کسی کے گھر دودھ لینے گئے تب ہم سب بچے کہیں کہ مندر کے داخلی دروازے کو کھول کر کون اندر جاسکتا ہے؟کوئی بھی نا حامی

بھرے ہم سب اس تصور سے ہی ڈر گئے کہ مندر کے اندر نہ جانے کےا ہو؟میرے دماغ میں پتہ نہیں کےا آےا کہ میں گھر کی طرف بھاگی

تو باقی سب بھی میرے پیچھے بھاگے ہم دودھ بھی وہیں چھوڑ آئے،یہ واقعہ ےاد آیا تو میں دھیرے سے مسکرا دی بھلا مندر کے اندر کےا ہو

گا؟محض اندھیرا؟لیکن ان اندھیروں سے ہی تو ڈر لگتا ہے،تبھی میری نظر آسمان پر چمکتے چاند پہ جا ٹھہری،پاگل ہو کیوں ڈرتی ہو

اندھیروںسے،میں ہوں نہ تمہیں روشنی دینے کے لیے،چاند بات کر رہا تھا بے اختیار مندر کے ساتھ کچھ فاصلے پہ بنی مسجد پہ نگاہ پڑی

جسے دیکھ کے دل سکون سے بھر گےا،اہلِ تشیع کی مسجد تھی جہاں بڑے بڑے عَلم نماےاں لگے ہوئے تھے،اور روشنیاں پھوٹ رہی

تھیں،میں تفرقوں میں نہیں پڑتی اس لیے پاکیزہ سا سکون جسم میں جاگزیں ہوا۔اور ایک آواز دل کے نہاں خانوں سے ابھری ۔

۔۔۔۔۔میاں محمد بخش کی آواز۔۔۔۔

       مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے،ڈھا دے جو کُج ڈھیندا

       اک بندے دا دل نا ڈھاویں رب دلاں وِچ رہندا

وہ منظر ہی اتنا دلکش تھا کہ میں چاہتی تھی اس منظر کی خاموشی اور خوبصورتی کو دل میں اتارتی رہوں کیا یہ پاکستانیوں کی پاکستانیت اور

مسلمانوں کی مسلمانیت کی معراج نہیں کہ مسجد اور مندر ساتھ ساتھ تھے،لیکن نہ کبھی ہندوﺅں نے مسجد کو ناگوار سمجھا اور نہ کبھی مسلمانوں

نے مندر والوں کو ناگوارجانا،ورنہ عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ شیعہ مسجد دیکھی تو منہ پھیر لیا اہلِحدیث مسجد دیکھی تو لبوں پہ استغفار کا ورد

جاری ہوا،سنی مسلک کی مسجد دیکھی تو کانوں کو چھو لیا،کہنے دیجیئے کہ ہم روز دِلوں کو ڈھاتے ہیں،ایک اس گاﺅں کے لوگ ہیں جو ان

باتوں کی پرواہ تک نہیں کرتے۔واہ خدا ! تیری قدرت،اس منظر کی خوبصورتی کی انتہا ایک اور چیز بھی تھی،مسجد اور مندر کی پچھلی سائیڈ

پہ ایک گراﺅنڈ تھا جہاں لڑکے کھیلتے تھے اکثر ہم لوگ اس میدان میں چہل قدمی بھی شام کو کرنے جاتے،گراﺅنڈ عبور کر کے دریائے

جہلم آتا ہے جہاں ہم دن کے وقت گئے تھے،چاند کی چودھویں رات کو دریا کی لہروں کی بے چینی مسجد اور مندر کی اوٹ سے مارتی

مجھے نظر آ رہی تھی

جسے دیکھ کے میں خود بھی بے چین ہونے لگی ۔اوہ اس وقت کبھی میرے پاس وڈیو کیمرہ ہوتا تو میں ےہ خوبصورت منظر capture

کر لیتی،دریا کی لہریں چاند کی روشنی پڑنے کی وجہ سے چاندی کی دھاریں لگ رہی تھیں،جو مسلسل حرکت میں ہوں،واہ میرے

 مولا،اتنی خوبصورتی؟کیا شان ہے تمہاری، پیچھے سے گڑیا کی آواز آئی تو میرا تسلسل ٹوٹ گیا۔رب سے رابطہ ٹوٹا تو میں کزنز کے

درمیان چلی آئی،سب گپ لگا رہے تھے ہم نے بھی ٹانگ اڑائی اور باتیں شروع کر دیں،اتنے میں مون بھی کہیں سے آ

گےا،بڑے نیچے صحن میں تبصروںاور مذاکروں میں مشغول تھے ہم لوگ اوپر دھواں دھار بحثوں میں لگے ہوئے تھے،نوشی ، بنین علیحدہ باتوں میں مصروف تھیں گڑیا اور میں کپڑوںجوتوں کے new trendsپہ تبصرے کر رہی تھیں،احتشام اور مون بھی کوئی

موضوع ڈسکس کر رہے تھے،کچھ دیر تک ٹولوں میں بٹ کے گفتگو ہوتی رہی پھر احتشام تو جلدی سو گےا ،مون اور وہ معاشرتی نظام

کے بگاڑ پہ بات کر رہے تھے،ٹاپِک پھیل گےا اور مون اور میں اس پہ گفتگوکرنے لگے،آہستہ آہستہ سبھی سو گئے مون میرے ساتھ

باتیں کرتا رہا،ہم ملکوں کی ،باتیں کرتے تھے باقی لوگو ں کے لیے ےہ بہت خشک گپ تھی سو کوئی ہمارا ساتھ نا دے سکا اور کان لپیٹ

کے لمبے پڑ گئے۔باجی آجکل جدید اسلحہ کی دوڑ لگی ہوئی ہے،اور مزے کی بات ےہ کہ پاکستان کے پاس جو ٹیکنالوجی ہے وہ الحمدللہ کسی

کے پاس بھی نہیں،شائد اس کے پاس بہترین معلومات تھی، میں نے دلچسپی سے سوال کیا اچھا، پر پتہ توچلے کہ پاکستان کے پاس کےا

ہے؟ جوش سے بولا پاکستان کے پاس کےا نہیں ہے آپ ےہ پوچھیں،سب سے پہلے تو ذہانت اور ٹیلنٹ بہت ہے اس ملک میں،ہم

اگر یورپ کی نقل بھی بنائیں تو اصل سے زیادہ بیسٹ ہو گی ،اسکے بعد دیکھیں پاک آرمی کو، دنیا کی بہترین فوج ہے،بہادری میں

ہمارا کوئی ثانی نہیں،سٹڈی کو لیں، سائنس کا شعبہ دیکھیں، حال ہی میں ایسا سمارٹ بلٹ آیا ہے جو کہ دیوار کے پار کھڑے ٹارگٹ کو

ہٹ کرتا ہے ۔ پاکستان نے اس جیسا تےار کیا ۔اور استعمال بھی کیا،میں نے فوراً تنقیدکی،یہ کون سی ترقی ہوئی سیدھا سیدھا نقل کا

کیس بنتا ہے، میں نے منہ بنا کے نکتہ چینی کی،تو اپنی بات کو defendکرنے کے لیے بولا باجی آپکو پتہ ہے کہ اس ملک کے

وسائل کتنے ہیں؟ اگر اتنی غربت کے باوجود ایک اچھی ٹیکنالوجی کو ہمfallowکر کے رائج بھی کر لیں تو کیا یہ ایک کارنامہ

نہیں؟۔۔۔۔۔۔ہہہمم۔۔۔میں نے پُر سوچ انداز میں اسکی بات کی تائید کی،اس نے اپنا بستر میرے پاس ہی بچھا لیا،اور باتیں

کرنے لگاآج مجھ پہ کھل رہا تھا کی وہ عام بندہ نہیں ہے،اتنی کم عمری میں اتنا نالج عام لڑکوں کے پاس نہیں

ہوتا،سائنس،ڈاکٹری،اسلام،آرمی،اکنامک سسٹم،تاریخ،پاکستان،یورپ،مشرقِ وسطٰی،شخصیات،ادبیات،شاعری اور نا جانے

کہاں سے کہاں کی باتیں ہم بہن بھائی نے کر ڈالیں،اتنا پُر سکون ماحول چاندنی رات اور تا دیر کی گئی ہماری باتیں ۔میںکبھی بھی نہیں

بھول سکتی وہ ایک رات،شائد ایک بجے تک گپ لگاتے رہے ہم،وہ سب ےاد کر کے آنکھوں کے گوشے پانیوں سے بھر آئے ہیں،ہم کائنات کی ہر شے کو ڈسکس کر رہے تھے ماسوائے اپنے،۔۔۔۔۔مون میرے بہادر بھائی!کاش وہ رات سو سال کی ہو جاتی اور

میں تمہیں سو سال تک سنتی رہتی،تمہارے اندر نہ جانے کےا تھاجو تم مجھے سنا دینا چاہتے تھے،ہمارے موضوعات ہماری عمروں سے بہت

بڑے تھے شائد اسی لیے باقی لوگ نیند پوری کرنے لگے لیکن ہمیں شائد ستاروں کے جہاں سے بھی آگے جانا تھا،میں نے اس رات مون کی آنکھوں کے خوابوں کی جھلک دیکھ لی تھی باوجود اسکے کہ اس نے اور میں نے اپنی ذات کو touchہی نہیں کیا تھا،اسکے انداز

 بڑے نرالے تھے اسکی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی تھی بات کرتے ہوئے اسکو خود پہ بڑا کنٹرول تھا،صرف یہ ہی نہیں بلکہ اسے مقابل

پہ بھی کنٹرول تھا،توجہ بٹنے نہیں دیتاتھا،بات کر کے اسکے ردِعمل کا انتظار کرتا تھا،بالیدہ،ےکتا،اور پیارا،۔۔۔۔۔آہ۔۔۔تیر ی ذات

کو کہاں کہاں رکھوں تمہارا کےا کیا ڈسکس کروں؟ تو ایک ہشت پہلو ہیرا تھا،تو کوہِ نور تھا مون!تجھ سے مختلف روشنیاں پھوٹتی تھیں

 رنگ پھوٹتے تھے تیرے دم سے وہ جگہ منورہو جاتی تھی جہاں تو موجود ہوتا،دیکھنے میں 18,19برس کا کھلنڈرا اورنٹ کھٹ لڑکا،لیکن اندر سے ایک،،بابا”۔۔۔۔۔رات دیر سے سونے کے باوجود صبح ہم جلدی جاگ گئے کیونکہ چھت پہ دھوپ صبح صبح ہی

پھیل گئی تھی،میں حسبِ سابق ڈرتے ڈرتے نیچے اتری تو آگے ایک اورمصیبت کا سامنا کرنا پڑا،خالو جی(خالہ فردوس کے

ہزبینڈ)نے جیکی(گھر کاکتا)کھول رکھا تھا،اسے د یکھ کے میں گھبرا گئی وہ بدتمیزبھی میرے پاس آکر دُم ہلانے لگا،سب ہنسنے لگے

میں آگے آگے بھاگوں اور وہ میرے پیچھے،گھبرا کر میں چارپائی پہ چڑھ گئی وہ بھی دُورکھڑا ہانپ رہا تھا،توبہ بہت فُول بنا

میرا،۔۔۔۔ہنسی مذاق میں ناشتہ کیا اور گھر جانے کی اجازت طلب کی کیونکہ گھر سے امی جان کے مسلسل فون آرہے تھے کہ واپس

آجاﺅ شبِ برات والے دن اپنے گھر میں ہونا چاہیئے،ادھر سب روکتے تھے کہ خوشی والے دن گھر سے نہیں نکلنا چاہیے لیکن ہمیں

مجبوری تھی سو نکل آئے ویسے بھی ایک پارٹی کے ساتھ میری ڈیل چل رہی تھی سیلون کے بارے میں،اور میرا پہنچنا ضروری تھا اس

لیے سب کام چھوڑ کے ہم نکل آئے،احتشام کے مشورے بلکہ مالی معاونت سے میں نے وہ سیلون خرید لیا،اُدھر مون بھی ترقی کی

منزلیں طے کرتا جا رہا تھا ،جو بھی ہوتا فون پہ بتاتارہتا۔ایک دن پتہ چلا کہ اس نے ایبٹ آباد(کاکول)انٹرویو دیاہے۔آرمی کے انٹرویو تو بہت مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں میں نے استفسار کیا تو لاپرواہی سے بولا چھوڑیں باجی ،میرے لیئے کون سی چیز

مشکل ہے؟میں نے ٹیسٹ دیئے ہیں جلد ہی انشااللہ میرے آرڈر آجائیں گے، آپکو ملنے آﺅں گا تو تفصیل بتاﺅں گا،کال بند ہونے

کے بعد میں کتنی دیر تک اسکی کامےابی کے لیئے دعا کرتی رہی۔۔۔۔لکھنے کی طرف میری توجہ بلکل ختم ہوتی جا رہی تھی،کیونکہ عملی

زندگی میں بہت سی مصروفےت پال لی تھی میںنے۔پھر ایک دن اخبار جوئن کر لیا،اور کراچی سے نکلنے والے ہفت روزہ میں فلمی کالم بھی

لکھنے لگی،دراصل موڈ پہ dependکرتا ہے،ایک دن سیلون پہ خبر گیری کے لیے گئی کہ لڑکیاں کیسا کام کر رہی ہیں(سٹاف رکھا ہوا

تھا) ذاتی مصروفیت کی وجہ سے،فون آیا کہ گھر آﺅ مہمان آئے ہیں،پوچھنے پہ پتہ چلا کہ مون اور اسکی امی آئی ہیں،مجھے حیرت کے

ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ مون مجھے ملنے آیا ہے،میں لڑکیوں کو lectureدے رہی تھی کوشش کی کہ جلدی کام ختم ہو اور میں گھر

جاﺅں،لیکن کام بڑھتا جا رہا تھا،کسٹمرز کا رش بھی لگ گیا،بہت کوشش کے بعد مغرب کے وقت میں فارغ ہوئی،گھر سے فون پہ فون

آرہے تھے،مون بھی میسج کرتا تھا بار بار، میں waitلکھ کر فارورڈ کر دےتی،آخرکار میں کام لپیٹ کر سیلون سے باہر آ گئی،گھر کی

طرف آ رہی تھی کہ مون کا میسج آیا باجی ہم پارلر آجائیں آپکو لےنے؟ میں نے کہا آ رہی ہوں میسج سینڈ کر کے میں نے قدم بھی تیز

بڑھائے،گلی کی نکڑ مڑی تو ادھر سے مون اور امی جان آ رہے تھے،میں نے دور سے ہاتھ ہلاےا کہ میں پہنچ گئی ہوں،وہ تیزی سے میری

طرف لپکا اور مجھے ملا،میں نے پیار سے کندھے پہ تھپکی دی،تو کہنے لگا باجی میں آنٹی کو لے کے آپکی دکان پہ آرہا تھااور آپ آبھی

 گئیں؟میری ہنسی چھوٹ گئی کہتا آپ ہنس کیوں رہی ہیں؟میں اسکا بازو کھینچ کر گھر کی طرف بڑھی اور کہا کہ بھائی میاںمیری دکان

نہیں سیلون ہے،یعنی کہ بیوٹی پارلر،اور تم نے جس طرح میرے ابو جان کی دکان ہے اس طرح مجھے بھی دکان داروں میں شامل کر

دیا؟معصومیت سے کہتا باجی آپ نے دکان میں ہی پارلر نہیں بناےا ہوا؟میں نے کہا ہاں کرائے پہ لی ہوئی ہے شاپ،خوش ہو کے کہتا تو

پھر وہ دکان ہی تو ہے،میں نے خوشگوار موڈ میںہار مانتے ہوئے کہا اچھا بابا ٹھیک ہے وہ دکان ہی ہے،اب اندر جانے دوگھر میں

داخل ہوئے تو آنٹی بیٹھی ہوئی تھیں،ان سے ملی حال احوال پوچھا اتنے میں ابو جان آ گئے گپ شپ چلتی رہی ابو کو مون جیسے بچے

بہت پسند ہیں،قارئین!یہاں ایک دلچسپ بات کرتی چلوں،پہلے وقتوں میں کھیل تماشہ کرنے والے لوگ آبادیوں میں پڑاﺅ ڈالتے

تھے۔اور کھیل تماشہ کر کے دکھاتے تھے،اتفاق سے ہمارے علاقے میں سائیکل پر سات دن اور سات رات بیٹھ کے مسلسل چکر

لگانے والا آدمی آےا ہوا تھا،وہ اسکا ساتواں روز تھا سب لوگ اس کھیل کا فائنل راﺅنڈ دیکھنے گراﺅنڈ میں پہنچے ہوئے تھے،یہ بہت

پرانی نہیں بلکہ 2010کی بات ہے،اسطرح کے کھیل تماشے معاشرے کو فریش رکھنے اور بد صحبتوں سے بچانے میں مددگار ثابت

ہوتے ہیں،ہم سے پہلے لوگوں کے زمانے میں میلے ٹھیلے لگتے تھے نہ جانے کہاں سے جادوگر،کرتب دکھانے والے ،اور چیزیں بیچنے

والے آجاتے تھے،کوئی بانس پہ چل کہ دکھاتا کوئی دو دھڑ والا بچہ بنتاکہیں آدھا انسان، کہیں جُڑے ہوئے دو انسان،سرکس،ہاتھی،ریچھ، ببر شیر،اور بہت سے جانور دیکھنے کو ملتے،آج اسی طرح ےہ سائیکل والا بھی کچھ عجیب کرنے جا رہا تھا۔

قصہ مختصر یہ کہ احتشام اور مون آﺅٹنگ کر کے گھر لوٹے تو مون کی زبان تو اندر جائے ہی ناںوہ بہت پُر جوش ہو رہا تھا کہ آج میں

 نے سائیکل والاتماشہ دیکھا ہے،میں نے کہا پینڈو!پہلے ےہ سب کبھی نہیں دیکھا؟ کہتا نہیں باجی،واہ کینٹ میں یہ سب کہاں ہوتا

ہے،ابھی رطب السان ہی تھا کہ گھر سے اسے فون آےاعثمان کو بھی ساری تفصیل بتائی اس نے،اس دن وہ بہت حیران اور خوش

تھا،اسے دیکھ کے ہم سارے ہنستے تھے،کھانا کھانے کے بعد سب نشستیں سنبھال کے بےٹھ گئے،امی جان نے کہا مون تم جو حافظِ قرآن

ہوتو آج ہمیں تلاوت قرآن پاک سناﺅ۔ہم سب نے بھی تائید کی،اور پھر اس نے سورہ کہف قرات کے ساتھ پڑھنی شروع

کی،آنکھیں بند کر کے ایک جذب کے عالم میں وہ تلاوت کر رہا تھا،کب ختم ہوئی تلاوت،پتہ ہی نہ چلا، ایک ٹرانس میں تھے

سب،ہوش آیا تو عش عش کر اٹھے،بہت لطف آیا،اس کے بعد بھائی احتشام کی طرف سبکی نظر اٹھ گئی،وہ نعت خوان ہیں اور کافی

انعامات بھی حاصل کیئے ہیں،انھوں نے نعت شروع کی میرے دل میں ہے ےادِمحمد،میرے ہونٹوں پہ ذکرِمدینہ،تاجدارِ حرم کے کرم

سے،آگےا زندگی کا قرینہ۔۔۔۔۔ےہ نعت احتشام کو بڑی امی نے سکھائی ہے،وہ خودبھی نعت خوان ہیں،کیا خوب پڑھی تھی ،ماشااللہ

احتشام نے بھی چار چاند لگا دیئے،خوب محفل جمی اور چائے کا دور بھی چلا،

اسکے بعد میں نے پوچھا اب بتاﺅتمہارے انٹرویو پریکٹیکل اور ٹیسٹ کےسے ہوئے؟ارے باجی بلکل ٹھیک ہوئے ہیں بہت امید ہے

کہ آرڈر ہو جائیں گے میرے۔ تین ماہ بعد پتہ چلتا ہے، وہ کال کریں گے،ڈےڑھ دو ماہ گزر گئے ہیںپیچھے کچھ دن رہ گئے ہیں میں

نے کہا مجھے تفصیل بتاﺅ۔ادھر جا کے کےا کےا کِیا؟کہنے لگا رننگ کرواتے ہیں رسی کے جال کو پھلانگنا، ایک جیسی تصویریں سامنے ہوتی

ہیں ان میں فرق تلاش کرنا ہوتا ہے،پھر ایک جگہ لے گئے پورا پینل بےٹھا تھا وہ ایک وقت میں تیزی سے میتھ، اسٹیٹس کے سوالات

پوچھتے ہیں اور جواب کا انتظار کیئے بغےر اگلا سوال داغ دیتے ہیں،اگلا مرحلہ بہت عجیب تھا ایک جیسے دو کمرے تھے ان میں فرق بتانا

تھا،اور باجی جب میںنے سب سوال آسانی سے atemptکرلیے تو آفیسر نے مجھے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو تمہاری عمر کا ہی تھا

جب اس جگہ اسی پوسٹ کا امتحان پاس کرنے آیا تھا،وہ بہت شارپ تھا تمہاری طرح اس سے بھی سوال کیے گئے تھے،لیکن۔۔۔۔میں بے چین ہو گیا،لیکن کےا؟کیا وہ فَیل ہو گئے تھے ؟میں نے ترنت سوال داغا،آفیسر مسکرا کے بولے نہیں وہ حد

سے زیادہ ذہین تھے،اس وقت جو آفیسر انٹرویو لے رہے تھے انھوں نے بھٹو صاحب کو reject کر دیا تھا،جانتے ہو کیوں؟میں

نے احتجاجاًکہا کیوں؟لیکن کیوں rejectکر دیا تھا،وہ کندھے اچکا کر ٹیبل پہ تھوڑا سا جھک کرمیری آنکھوں میں آنکھیں ڈال

کربولے اتنے ذہانت کی آرمی سے زیادہ قوم کو ضرورت تھی،یہ کہہ کر انھوں نے اپنی توجہ سامنے پڑی فائلز پہ مبذول کر لی۔میں

ڈھیلا سا ہو کر پیچھے کرسی پہ ڈھے سا گےا،وہ پھر گوےا ہوئے جانتے ہواس آفیسر نے بھٹو صاحب کو کیا مشورہ دیا تھا؟میں سیدھا ہو کر بیٹھ

گیا،بیٹا تم سیاست میں قسمت آزمائی کرو،وہاں تمہاری بہت ضرورت ہے،اوہ میرے خدا،تو گویا بھٹو صاحب کو سیاست کا رستہ

دکھانے والی فوج ہی ہے،میں حیرت سے بڑبڑا ہی رہا تھا کہ مجھے کمرے سے چلے جانے کا کاشن دیا گیا،اور میں باہر آ گےا،اوئے پھر

کےا ہوا؟میں نے اور نشاط نے بیک وقت پوچھا،ایک دفعہ پھر مجھے ایک پینل کے سامنے لایا گےا،کمرے میں جاتے ہی انھوں نے

سوال داغا،لڑکے تم کبھی گھوڑے سے گرے ہو؟میں نے آگے پیچھے دیکھا،وہ مجھ سے ہی مخاطب تھے،جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا،میں

 نے جواب دیا تو زور دے کے کہا گےا نہیں تم گھوڑے سے گرے تھے مسٹرعمر! میں نے بھی تیزی سے جواب دیا نہیں جناب میں

گھوڑے پہ کبھی سوار نہیں ہوا،ساتھ ہی غصے کا اظہار کیا گےاتم مان کیوں نہیں رہے،ےاد کرو کافی عرصہ پہلے تم گھوڑے سے گرے

تھے،اور تمہارے لیفٹ ٹخنے پہ چوٹ بھی آئی تھی میں نے ٹخنے کی طرف دیکھنے کی ذرا سی بھی زحمت نہ کی،کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری

یہ حرکت مجھے فلاپ کرادے گی،میں نے کہا مجھے میری زندگی کا پل پل اچھی طرح ےاد ہے،اسلیئے مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے،میں آج

تک گھوڑے پہ سوار نہیں ہوا تو اس پر سے گرنے کا کیا جواز دوں؟غرض انھوں نے بہت زچ کیا اور مجبور بھی کیا کہ میں مان جاﺅں کہ

میں بھاگتے گھوڑے سے گرا ہوںاور میرے ٹخنے پہ بھی چوٹ آئی ہے،جسکی وجہ سے میں کافی عرصہ بیڈ ریسٹ پہ بھی رہا ہوں،لیکن

مجھے بھی انکار ہی کرنا تھا سو میں کرتا رہا،بلاآخر انھوں نے کہہ دیا please have a seat

بعد میں مجھے شاباش بھی دی گئی کہ میں آہنی ارادوں والا ہوںجو کسی کے لاکھ مجبور کرنے پہ کبھی بھی نہیں مانتا،میں نے کہا لیکن تم کبھی

گھوڑے پہ واقعی نہیں بیٹھے؟کہتا کیوں نہیں باجی میں اکثر گھوڑے پہ بیٹھا ہوں،آپکو تو پتہ ہے کہ ماموں ممتاز نے گھر میں گھوڑا رکھا

ہوا ہے میں جب بھی آﺅں تو گھوڑا لے کر باہر جاتا ہوں گھُڑسواری بھی کرتا ہوں ایک دو بار گرا بھی ہوں،میں نے بات کاٹی تو ان

کے سامنے مانے کیوں نہیں؟کہتا یہ ہی تو میرا سائیکالوجی ٹیسٹ تھا،وہ مجھے چیک آﺅٹ کر رہے تھے،میں اندر انٹر ہوا تو انھوں نے

میری چال ڈھال سے کوئی اندازہ لگالیا ہوگا،تبھی مجھے آڑے ہاتھوں لے رہے تھے،واہ کمال ذہانت کا ثبوت دیا تم نے،میں نے

متاثر ہو کے شاباش دی،اور دلچسپی سے پوچھا اچھاپھر بتاﺅ کیا ہوا،کرتے کراتے پھر باجی میرا میڈیکل چیک اپ ہوا اور یقین کریں

اس مرحلے پہ میں بہت ٹینس تھا،کیونکہ باقی سب میں اچھی پرفارمنس ہو بھی تو،اگر میڈیکل میں فالٹ آجائے تو کوئی سمجھوتہ نہیں

ہوتا،مجھے انھوں نے پورے کے پورے کو سکین کیا،اور میں پتہ ہے کس بات سے ڈرتا تھا؟میں سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی

تھی،وہ جو ونڈو کے شیشے ٹوٹے تھے نہ،اور میری veinsکٹ گئی تھیں؟مجھے وہ ٹینشن تھی،جب مجھے سکین کیا جا رہا تھا وہ صبح دو بجے کا

وقت تھا میں دل ہی دل میں دعائیں کر رہا تھا،آنکھوں کے سامنے بار بار امی جان کا چہرہ آئے اس نے میرے پورے جسم پر وہ مشین

پھیری جس میں چیک کرتے ہیں کہ ہڈیاں اور مسلز ٹھیک ہیں damageتو نہیں۔ادھر اسنے مشین کوحرکت دی ادھر میں نے دل

میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کی میں پوری جان سے کھڑا ہو کے اللہ تعالٰی سے مخاطب تھا،بازوﺅں کو سکین کیااور مشین پھیرتے

پھیرتے بائیں بازو پہ آگئے،لیکن مجھے اپنے رب پہ عجیب سٹرانگ قِسم کا ےقین تھاخدا کا معجزہ دیکھیں باجی جتنے حصے میں بازو پہ چوٹ

لگی تھی اور رگیں کٹ گئی تھیںوہ چیکر اتنی جگہ سے مشین اٹھا کر اگلے حصے پہ پھیرنے لگا،یقین کریں اس نے میرے بازو کا اُتنا حصہ

ہی چھوڑ دیا۔اوہ مائی گُڈ گاڈ۔۔۔۔۔میں حیران ہو کے اسکی داستان سُن رہی تھی its mericall my brother تمہارے

ساتھ تو خودخدا ہے،،،ہاں جی میں بھی تو یہ ہی کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ معجزہ ہوا ہے،اچھا آگے تو سنیں ناں،میں نے غور سے

اس لڑکے کی طرف دیکھاجسکا چہرہ جذباتوں سے سُرخ ہو رہا تھا،میںنے پہلے بھی ذکر کیا ہے ناں کہ وہ مجھے ہر بات بتا دینا چاہتا

ہوتا تھا،آج بھی ایسا ہی لگ رہا تھا،اتنے میں اسکی آواز گونجی،باجی وہ سحری کا وقت تھا،جب اس نے مجھے کلیئر کیا تو یقین مانیں فرطِ

جذبات سے یوں جیسے میں ہواﺅں میں اُڑ رہاہوں،باہر آکر میں نے سب سے پہلے خدا کا شکر ادا کیا اور نمازِ تہجد پڑھ کر ےوں ہی

پھرنے لگا،کافی دن سے ےہاں تھا،سردی بہت شدید تھی لیکن مےرے اندر جذبات کا طوفان تھا،اس لیئے مجھے اتنی سردی نے کیا کہنا

تھا،میں بے چینی سے صبح کا انتظار کرنے لگا تاکہ گھر والوں سے اپنی خوشی شیئر کروں،اللہ اللہ کر کے فجر ہوئی اور میں نے نماز ادا کر

کے فوراًگھر فون لگاےا،قدرتاًامی جان نے فون اٹھایا،حال احوال پوچھا اور میں نے بہت لاڈ سے انکو ساری بات بتائی،امی نے کوئی

جواب نہ دیا،میں نے پکارا،امی؟آگے سے کوئی بولے ہی ناں،امی آپکو خوشی نہیںہوئی میری میڈیکل رپورٹ کلیئر آنے کی؟وہی

خاموشی،امی ،امی۔۔۔ ´میں رو دینے والا ہو گیا،آپ ٹھیک تو ہیں؟کچھ دیر بعد امی جی کی ہلکی سی آواز آئی،مون کیا بتاےا تم نے،اس

وقت کیا ٹائم تھا؟اس وقت رات کے دو بجے تھے،اس میں پریشان ہونے کی کونسی بات ہے،تب امی نے کہا

میرے بچے اس وقت میں بھی مصلّا بچھا کر دعا کر رہی تھی،اور رو رو کر تیرے ٹیسٹ کی کلئیرنس کیلئے مناجات کر رہی تھی۔۔۔۔باجی

ےقین کریںامی نے ےہ بات کہی اور میں دم بخود،اب میں چُپ ہو گےا،کیونکہ واقعی اس وقت صرف میری آنکھوں کے سامنے اپنی ماں

کی صورت تھی۔۔۔۔بول رہا تھا اور میں غیر مرئی نقطے پہ نظر جمائے اسے دیکھے جا رہی تھی،مون تم ایویں نہیں ہو میرے بھائی،تمکو

خدا نے چُننا تھا تبھی ےہ سب تمھارے ساتھ ہوا ورنہ کسی کے ساتھ بھی ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔یہ کہہ کر میں اسے خیال کی نظر سے مستقبل کا

سپاہی بنے دیکھتی رہی،اس رات بھی اس میں کچھ خاص دیکھا میں نے،نہ جانے کیا،کہ جو لفظوں کے احاطے میں نہیں آسکتا،رات

بھر ہم دونوں جاگتے اور باتیں کرتے رہ۔۔۔۔۔،باتیںکرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی،میں سوئی ہوئی تھی کہ مجھے ہلکا ہلکاشور سنائی

دیا،میں نے کروٹ لی اور پھر سو گئی،خواب میں کوئی کہہ رہا تھا اٹھاﺅاسے اور لے چلتے ہیں،ہاں ایمرجنسی تو کھلی ہو گی اسوقت،کسی

اور کی آواز گونجی،میں سوتے میں پریشان تھی کہ کس کو لے کر جانا ہے،میں نے پریشان ہو کر امی کو جھنجھوڑا آپ مجھے بتا کیوں نہیں

رہیں کہ کس کو ایمرجنسی میں لے کر جانا ہے،اتنے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی نشاط مجھے جھنجھوڑ رہی تھی آپی جان اٹھو احتشام بھائی بیمار

ہیں،میں جھٹ سے اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی۔امی ابو باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے جو نیم خوابی میں سن کے میں نے خواب سمجھا

تھا،کافی اندھیراتھا ابھی،میں احتشام کے کمرے میں گئی وہ تکلیف سے بے حال تھا،میں نے پیار سے گال تھپتھپایااور پوچھا کیا

ہوا،بہ مشکل بولا آپی جان میرے گُردے میں بہت درد ہے،میں اپنے بھائی کی بات سن کر تڑپ ہی اٹھی،باہر آئی اس وقت کوئی

گاڑی ےا رکشہ نہیں مل رہا تھا،گھر میں بائیک تھی علی(چھوٹا بھائی)ابھی بچہ تھا اسے چلانی نہیں آتی تھی ابو اکیلے کیسے جاتے،ہم لوگوں کی

پریشانی سے آنٹی رضیہ اور مون بھی جاگ گئے،صورتحال دیکھ کے مون فٹا فٹ بائیک نکالنے لگا ابو نے پوچھا بیٹا کیا کرنے لگے

ہو؟انکل میں چلاوئں گاآپ بھائی احتشام کو پکڑ کے بےٹھیں گے،اسکے بعد دونوں نے دیر نہ لگائی اور فجر کے ملگجے اندھیرے میں نکل

گئے،امی نے رو رو کر کوئی حال نہ چھوڑاہم سب دعا مانگیں، آجتک احتشام کو ایسا نہیں ہوا تھا،جان لیوا انتظار کے بعد امی تیار ہو گئیں

کہ ہسپتال جانا ہے کیونکہ وہ لوگ فون نہیں اٹھا رہے تھے،امی نکلنے لگیں تو اتنے میں مون اندر داخل ہوا ہم سب اسکی طرف لپکے،لیکن

وہ سیدھا امی کے پاس گےا اور بولا آنٹی آپ پریشان نہ ہوںبھائی احتشام اب بلکل ٹھیک ہیں، انجکشن بھی لگے ہیں اور دوائی بھی

کھائی ہے،امی کے چہرے پہ سکون پھیل گیا،لیکن احتشام کدھر ہے ساتھ کیوں نہیں آیا،میں نے سوال کیا تو بولا کہ ابھی دوائیوں کے

زیرِ اثر وہ سو گئے ہیں،اسلئے چھٹی نہیں ملی،مجھے انکل نے زبردستی واپس بھیج دیاساری بات سن کے کچھ سکون ہوا،میں نے جلدی سے

ان لوگوں کے لیئے ناشتہ لگایا کیونکہ آگے پنڈدادنخان بھی جانا تھا،ابھی ناشتہ کر رہے تھے کہ ابو اور احتشام بھی آگئے،جلدی سے احتشام کو بستر پہ لٹا دیا،سب نے ناشتہ کیا اتنے میں مون لوگ جانے کے لیئے تیار ہو گئے،کافی اصرار کیا کہ رک جاﺅ لیکن انکی مجبوری

تھی،کچھ دن تک آرڈر آجانے تھے پھر نہ جانے کتنے عرصے تک کسی سے بھی مل نہ پاتا،اسلئیے سبھی کو مل کے جانا تھا اس نے،ہاں مجھ

سے اس نے وعدہ لیا کہ آرڈر ہو جائیں تو باجی آپ نے گھر آ کر مبارک دینی ہے،مجھ سے پرامس لے کر گیا تھا،میں نے بھی پرامس

دیا کہ مٹھائی لے کر آﺅں گی،سب نے شکریہ ادا کیا کہ احتشام کی ہیلپ کی اس نے،الوداع ہوا تو ابو جی کے کمنٹس تھے کہ کتنا اچھا بچہ

ہے،اس نے تو ہسپتال میں نجھے پریشان ہونے ہی نہیں دیا،بھاگ بھاگ کے دوائیاں لائے اور مجھے بچوں کی طرح تسلی دے کہ انکل سب ٹھیک ہو جائے گا،آپ پریشان نہ ہوں،سن کے امی بھی خوش ہوں اور اس کے لیئے دعا کریں۔

 آجکل میں مکمل طور پہ ایک کاروباری شخصیت بن چکی تھی،بازار کے وسط میں ایک بلڈنگ کرائے پہ لی تھی،ادھرمختلف کورس شروع

کروائے تھے۔کمپیوٹر ،سلائی کڑھائی،بیوٹی پارلر،ہوم سیٹنگ،فوٹوگرافی،پامسٹری،بوتیک،اور بہت سے دیگر کورس ےکمشت میں نے

شروع کروا دیئے۔ادبی دلچسپی وائنڈاپ کر دی تقریباً،ساتھ ساتھ امی جان کو بھی گھسیٹے رکھتی،کیونکہ میں اکیلی کچھ بھی نہ تھی۔ابو اور

بھائی کو مجھ پہ اندھا اعتماد تھا،میں انکے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتی تھی،سو اپنے سیلون میں سٹاف رکھ کے خود میں مَین بازار والے کمیونٹی

سینٹر کو ٹائم دے رہی تھی،بھلوال کی پڑھی لکھی جنٹری نے اس ادارے کو بہت سراہا،کام چل نکلاتو میں نے کورسز کی بہار لگا دی،میرج

یورو بھی بنا لیا لیڈیز کے لیئے موبائیل کارنر بھی ارینج ہو گےا،2010میرے لیئے لکی رہا بہت، 2011بھی عرج کا زمانہ تھا،کاش وہ

وقت رُک جاتا،حسبَ توقع ایک دن میسج آیا،کہ مون کو کمیشن مل گیا ہے،ہیں؟سچ؟واقعی؟یقین نہ آیا تو فون کر کے پوچھا،تصدیق ہو

گئی ،واہ جی واہ،کیا بات ہے میں بہت خوش ہوئی،زبردست ہوگیا یہ تو،اب تو لیفٹینینٹی گھر کی ہو گئی ہے،میں اور میری فیملی بہت خوش

ہوئے،پروگرام طے کیا اور جِس دن اسکی جوائننگ تھی اس سے کچھ دن پہلے امی اور میں اسے مبارک دینے چل پڑے،کیونکہ وعدہ

بھی تو وفا کرنا تھا،ہم براستہ موٹروے اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے،نہ جانے کیوں مجھے یہ سفر اچھا لگ رہا تھا،اور ایک حَسین

گیت سماعتوں میں رس گھولنے لگا۔۔۔۔۔۔ہم جو چلنے لگے،چلنے لگے یہ راستے،منزل سے بہتر لگنے لگے یہ راستے۔۔۔۔۔یہ

گیت کلر کہار کی پہاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے آپکو ےاد آئے ،آپ اسے گنگنائیںتو آپکو بہت اچھا لگے گا،۔۔۔۔۔۔آج اتنے

برس بعد مجھے یہ سطریں لکھتے ہوئے اُن وقتوں کا ایک ایک پَل،ایک ایک فیلنگ،ایک ایک ساعت یاد آرہی ہے،ماضی کے ےادگار

پل چپکے سے دبے پاﺅں آتے ہیں اور میرے احساس کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کھنکتی ہنسی میرے کانوں میں انڈیلتے ہیںاور اس

کے بعد میری آنکھیں ساون بھادوں کا مینہ برسانے لگتی ہیں۔آہ!میں وہ وقت کہاں سے کھینچ کے لاﺅں،جب کوئی دکھ نہیں تھا، جب

ہم سب ساتھ تھے،ہنسی کی کلکاریاں میرے کانوں میں گونجتی ہیں اسکے ساتھ ہی میرے سینے میں ایک جوار بھاٹا اٹھتا ہے جو میرے

بُری طرح رونے سے ہچکیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے،کچھ دیر ایسے ہی کیفیت رہتی ہے اور بعد اسکے دلِ مضمحل کو گھڑی پل کو چین آ جاتا

ہے،۔۔۔۔ایک لمبے لیکن خوش کُن سفر کے بعد ہم واہ کینٹ کے داخلی گیٹ پر پہنچے۔ادھر آئی ڈی کارڈ دکھایا تو اندر داخلے کی اجازت مل گئی،کیری ڈبے میں سوار ہوئے تو آگے کا ایڈریس ذہن میں نہ رہا،پھر عثمان کو فون لگایا،مون گھر نہیں تھا،جمعہ تھا ٹریفک

بھی اکا دکا تھی عثمان تھوڑے انتظار کے بعد خود لینے پہنچ گےا وہ کار پہ تھا اسلیئے ہم نے کیریcarryکو جانے دیا،20,25 منٹ

کے بعد ہم لوگ گھر کے سامنے اُتر رہے تھے،اندر داخل ہوئے،آنٹی انکل کو ملے،پانی وغیرہ پیا،مون کا پوچھا وہ گھر نہیں تھا،ایک دو

دن تھے جوائننگ میں،اسلئے بِزی بہت تھا،اب بھی کسی کام سے نکلا ہوا تھا،عابدہ میرپور گئی ہوئی تھی،اُدھر اسکے خاوند کی پوسٹنگ

تھیلیکن کچھ دیر تک وہ بھی پہنچ رہی تھی،ظاہر ہے بھائی کی جاب ہوگئی تھی اور اس نے آکر تیاری بھی تو کروانی تھی،ہم بیٹھے گپیں لگا

رہے تھے کچھ دیر تک کھانا لگ گیامون بھی پہنچ گیا اور عابدہ بھی،ہم لوگ ملے مبارک دی،بہت خوش تھا آج وہ،اسکی منزل جو قریب

آن پہنچی تھی،گھر والے بھی بہت خوش تھے لگن سے تیاری کروا رہے تھے اسکی،عثمان نے جمعہ والا ڈریس چینج کر کے اب بلیو کلر کا

سوٹ پہن لیا تھا،ایک اور مہمان بھی آئی ہوئی تھیں،خوب رونق لگی تھی مون کے پاس آج تو ٹائم ہی نہیں تھاکبھی کوئی دوست ملنے

آجاتا کبھی خود اسے کسی دوست کی ضرورت پڑ جاتی،ہم لوگ مٹھائی لے کے گئے تھے بہت خوش بھی ہوا اور ناراض بھی،کہ اسکی کیا

ضرورت تھی،لیکن محبتوں میں ضرورت تھوڑی دیکھی جاتی ہے،صِرف محبت دیکھی جاتی ہے،مون پھر ایکسکیوز کر کے غائب ہو گےا

کوئی لڑکا تھا جو دوست بھی تھا اور آرمی میں ہی اسکا سینیئر بھی تھا اس سے کچھ ٹِپس درکار تھیں اسے،عثمان اور آنٹی کچن میں گھسے ہوئے

 تھے،میںنے کہا ہیلپ کرا دوں؟تو کہتا نیئں نیئں باجی آپ آرام کریں،میں خود کروں گا،میں کر لیتا ہوں کوکنگ،بلکہ آہ مووی

دیکھیں عابدہ باجی کی شادی کی،اسنے جھٹ سے لگا دی۔میں نے کہا تم بہت چالاک ہو،اس لیئے لگا دی ہے نا کہ یہ لوگ بِزی ہو

جائیں اور میں فٹا فٹ کھانا بنا لوں،ہنس کے کہتا ہاں جی،آپ انجوائے کریں،ہم مووی دیکھ رہے تھے مزہ آرہا تھا،کیونکہ ہم بھی شامل

تھے،اس شادی میں،آبائی گاﺅں جا کے عابدہ کی شادی کی تھی اسلیئے سادہ سا ماحول تھا ،گاﺅں کے ماحول کا بھی اپنا ہی چارم

ہے،دیسی رسمیں،سادہ ڈانس،اور فُل دیسی کلچرڈ ماحول،دو اڑھائی گھنٹے کی مووی دیکھتے واقعی ٹائم کا پتا نہ چلا،اِدھر مووی ختم ہوئی

اِدھر عثمان نے دسترخوان لگا دیا،آئیں باجی کھانا کھاتے ہیں۔۔۔کےا؟ابھی تو دوپہرکا کھایا تھا،بھوک نہیں ہے سچی،میں نے جان

چھڑائی ساتھ ہی امی کو بھی مجبور کرنے لگا،آنٹی بھی اصرار کرنے لگیںتو ہم لو گ پھر اٹھ گئے،واﺅعثمان خوشبوئیں تو بہت زبردست

آرہی ہیںمیں نے تعریف کی تو کہتا آپ ایک بار کھا کر تو دیکھیں چاول ،کباب،رائتہ اور نہ جانے کےا کےا دسترخوان پہ لگا دیا تھا اس

لڑکے نے۔سبھی اکٹھے ہوئے تو مل کے کھانا کھاےا،واقعی بہت مزے کا کھانا تھا مجھے یقین نہ آئے میں نے پھر پوچھا عثمان یہ سب تم

نے بناےا ہے؟کہتا باجی قسم سے میں نے خود بنایا ہے سب کچھ،کباب اور رائس تو بہت نائس تھے حقیقتاً،میری اپنی کوکنگ تو اُن دنوں

ناقص ہی بہت تھی اس لیئے میں کچھ ذیادہ ہی متاثر تھی،خوب سیر ہو کر کھانا کھایا،اسکے بعد میں نے غور کیا تو عثمان نے اب ڈریس پھر

 چینج کیاتھا،اب کے اس نے شارٹس پہن رکھے تھے جیسے لڑکے آج کل پہنتے ہیں،میں نے مذاقاًکہا تم ہر کام کے لیے الگ ڈریس

استعمال کرتے ہو؟میری بات سن کے سب نے اس پہ غور کیا اور ہنسنے لگے،کیونکہ جب سے ہم آئے تھے اس نے دو تین سوٹ بدلے

تھے،رات کا کھانا کھا کر باہرنکلے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔واہ کا موسم بھی واہ واہ ہے،اچھا خاصا خوشگوار ہو گےا تھا،عثمان اور عابدہ

کہتے کہ باہر گھومنے چلتے ہیں۔مون stillغائب تھا،ظاہر ہے اسکی مصروفیت سامنے تھی،آتا اور معذرت کر کے پھر چلا جاتا،ہم لوگ

باہر نکلے بہت ہی خوبصورت موسم تھا کسی بھی خوبصورتی سے بڑھ کے،علاقہ اتنا ذرخیز اور سرسبز ہے کہ من خوش ہوتا رہتا ہے۔ہسٹری

کے مطابق شیرشاہ سوری کے منہ سے اس علاقے کودیکھ کے بے اختیار نکلا تھا ،،واہ،،تب سے اس ارضِ جنت کو واہ کے نام سے

پکارا جاتا ہے،کچھ یہاں اسلحہ فیکٹریاں ہیںآرمی ایریا ہے اس لیے اسے واہ کینٹ کا نام دیا گیا،ہلکی بونداباندی میںہم لوگ چلتے اس

مسجد کے پاس جا پہنچے جسے دور سے دیکھ کے انجانے میں اسکی طرف کھینچے چلے آئے بہت پُرشکوہ عمارت ہے میں مسجد کے پاکیزہ حُسن

میں کھوئی ہوئی تھی جب عثمان نے بتاےا کہ تینوں بہن بھائیوں نے قرآن پاک یہیںسے حفظ کیا ہے،مسجد رنگ برنگی لائیٹوں سے سجی

ہوئی تھی،اور اتنی وسیع کہ حد نہیں،واہ کی مرکزی جامعہ مسجد ہے اس وقت رات کے نو بج رہے تھے اور بچوں کی پڑھائی جاری

تھی،

جاری ہے

اگلی قسط اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے