سر ورق / مضامین / اپنے غنچے سنبھال رکھیں۔۔ فرزانہ روحی اسلم

اپنے غنچے سنبھال رکھیں۔۔ فرزانہ روحی اسلم

جانے اس سر زمین کے دہقانوں پر جانے انجانے میں کیا ستم ٹوٹی کہ زمین سے ایسا غلہ اگنے لگا ہے جسے کھا کر انسان نے
وحشی درندے کا روپ دھارنا شروع کردیا
یا ماﺅں نے اپنی شکم میں رزقِ حلال نہیں اتارے؟!
یا قانون نے اپنے دست و بازو خود تراش لیئے ہیں۔؟!
سندھ کی بیٹیاں تو پہلے ہی کارو کاری کی کلہاڑی تلے سلائی جاتی رہی تھیں۔بلوچستان مین عورت کو جاگنے ہی نہیں دیا جاتا۔خیبر پختون خواہ میں خواتین کا قتل اورجور و جبر کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔لیکن پنجاب کے کچھ علاقوں میں جس طرح کلیاں مسلی جانے لگی ہیں۔اس پر ان ہی معصوم مقتولین کا لہو گریہ کناں ہے۔اور ایسی دہائی و فریاد کی ان سنی چیخ ،اہل فکرو اہلِ سماعتوں کو بے قرار کئے ہوئے ہے جس نے تہذیب وتمدن کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
جہان ایک عالم کو تھو تھو کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔وہیں خدثہ ہے کہ کہیں محققین ان کچلی کلیوں کے اسبابِ قتل ڈھونڈنے نہ چلے آئیں۔دہشت گردی مین بدنامی پہلے ہی کیا کم تھی کہ اب دنیا کے سامنے اپنے درندگی کے انگنت ثبوت بھی پیش کر دیئے۔
وحشیوں کے ہاتھوں مسلی اور کچلی جانے والی کن کن بچیوں کے نام لوں،کہیں غنچوں اور کلیوں کے نام ہوتے ہیں۔؟!ایسے ایسے ستم ان پر آز مائے گئے کہ انسانیت انگشت بدنداں ہے۔ یہ کیسا موسم اتر آیا ہے،کیسی ہوا چلی ہے جو ان کلیوں کو چٹکنے، مٹکنے،مہکنے کا موقع ہی نہین دے رہی۔
دنیا نے کس قدر ترقی کے منازل طے کر لیئے،روز افزوں نئی کمندیں ڈالے ہی چلی جا رہی ہے،مگر یہ اشرف المخلوقات آدمیت کی سیڑھیاں کیا چڑھتا،یہ تو زمانہءجاہلیت میں بچیوں کو زندہ گاڑنے والوں سے بھی زیادہ بدتر ثابت ہوتا چلا جا رہا ہے۔پتھر کے زمانے کا وہ آدمی جو قطعی بے شعور تھا،وہ بھی اپنے برہنہ جسم کو پتوں میں لپیٹتا تھا۔مگر اب دنیا کو اپنی انگلی کے پوروں پر نچانے والا آدمی خود کو ایک درندہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔شیطان نفسانی خواہشات میں ڈھل کر ان کے اندر چھپا بیٹھا ہے،جو جانے کب ،کہان اور کس سمے بر آمد ہو کر کسی بھی بچی کا تیا پانچا کرکے کچرے کے ڈھیر پہ پھینک دے۔
مذہب،انسانیت،تعلیم و تربیت جیسے لفظ تو کہیں بہت پیچھے رہ گئے یہاں توہوس کے ہاتھوں ایسی آگ دہکنے لگی ہے کہ سوچ و فکر کے موتیوں کو ٹٹولیں تو کوئی ایک بھی دانا ہاتھ نہ لگے۔یہاں کسی ایک پر صورتِحال کی ذمہ داری بھی نہیں ڈال سکتے۔اول تا آخر صغیر و کبیر ہر شخص ہی اس کا ذمہ دار ہے۔
قدرت تو ننھے فرشتے زمین پر اتارتی ہی رہے گی۔کیا خبر ہماری زمین ہی بانجھ ہو جائے۔کیوں کہ فلک ایسے ستم پر بھلا کب تک تماشائی بنا رہے گا؟!اے اہلِ زمین! اگر تمھارے باغوں میں غنچے چٹک ہی رہے ہیں تو انھیںسنبھالو۔اس کی ذمہ داری صرف باغباں پر ہی نہیں پورے معاشرے پر عاید ہوتی ہے۔ورنہ آفاتِ ارضی و سماوی اگر تمھارے گھر کا رستہ دیکھ لیں ،تو پھر مت کہنا ہمارا قصور کیا ہے؟قصور صرف قصور ہوتا ہے،جس کی زد میں بے قصور آجائے تو انصا ف بھی دہائی دینے لگتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"امرت کور“  …خلاصہ۔۔۔ حمید اختر

"امرت کور“ تحریر۔۔۔ امجد جاوید خلاصہ۔۔۔ حمید اختر بلال احمد انگلینڈ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی ہاسٹل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے