سر ورق / کالم / بحر جاہل۔۔ احمد رضا میاں

بحر جاہل۔۔ احمد رضا میاں

اگر بیٹھے بٹھائے کسی کو شاعری آنی شروع ہو جائے تو اُسے کیا کرنا چاہیے۔۔۔؟ جی ہاں ۔۔۔!!! میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔ شاعری مجھے آئے جا رہی تھی اور میں کیے جا رہا تھا۔ یہ کوئی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔! یہ سوچ کر مجھے کچھ پریشانی لاحق ہوئی اور وقت ضائع کیے بغیر ایک نامور شاعر کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ کیونکہ اس بیماری کا علاج کسی ڈاکڑ کے پاس نہیں ہوتا۔اپنی کی ہوئی شاعری میں نے اُن کی خدمت میں پیش کر دی ۔ پہلے انہوں نے حیرانی سے میری شاعری کی طرف دیکھا، پھر میرے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔ "کہاں سے آئے ہو برخودار۔۔۔؟” کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوئے۔” گھر سے۔۔ ۔!!!” میں نے جلدی سے جواب دیا۔اس دفعہ اُن کے چہرے پرتمسخرانہ تبسم تھا اور فرمانے لگے کہ” بیٹا تمہارے جیسے لوگوں کو گھر میں ہی رہنا چاہیے۔ کیوں ہمارا وقت ضائع کرنے کے لیے آجاتے ہو”۔ وہ میری شاعری مجھے واپس تھماتے ہوئے بولے۔”کیا ہوا پسند نہیں آئی۔۔۔؟” میں نے حیران ہو کر پوچھا۔”بہت پسند آئی ہے ۔ لیکن شاعری نہیں تمہاری جرات۔ بیٹا جس کام کے بارے میں کچھ پتا نہ ہو اُس کام میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔چلو شاباش کوئی اور کام کرو ۔۔۔ اور مجھے بھی میرا کام کرنے دو”۔یہ کہہ کر وہ اپنے اُسی کام میں لگ گئے جو میرے آنے سے پہلے کر رہے تھے۔لیکن میں اُن کی جان چھوڑنے والا نہیں تھا۔” میں جانتا ہوں کہ یہ جو کچھ بھی میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے وہ شاعری نہیں ہے۔ شاعری کیا ہوتی ہے یہی جاننے کے لیے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں”۔میں نے ایک معصومانہ گذارش کی جسے سن کر انہوں نے کچھ نرم دلی کا مظاہرہ کیا اور مجھے سمجھایا کہ بیٹا شاعری سیکھنے کے لیے شاعری کے کچھ بنیادی اصول بھی سیکھنے پڑتے ہیں۔ اُن اصولوں کے بغیر کوئی شاعری تو کیا۔۔۔ شاعری کی "شین "بھی نہیں سیکھ سکتا۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ پہلے تم شاعری کے بنیادی اصول سیکھ لو اُس کے بعد شاعری کو ہاتھ ڈالنا۔ انہوں نے ایک قیمتی مشورہ دیتے ہوئے کہا۔اب مجھے شاعری سیکھنے سے پہلے شاعری کے اُن بنیادی اُصولوں کو سیکھنا تھا جن کا مجھے لیکچر دیا گیا تھا۔”تو ٹھیک ہے سر آپ مجھے اُن بنیادی اُصولوں کے بارے میں ہی کچھ بتا دیںتاکہ اپنا شوق پورا کرنے میں مجھے کچھ آسانی ہو”۔میں نے التجا کرنے کے سے انداز میں کہا۔”بحر کے بارے میں کچھ علم ہے۔۔۔؟؟؟” انہوں نے پوچھا۔” ہاں معلوم ہے ۔ سمندر کو کہتے ہیں”۔ میں نے جلدی سے جواب دیا اور دانت نکال کر داد طلب نگاہوں سے اُن کی طرف دیکھنے لگا۔” شاباش۔۔۔!!! تم اسی سمندر میں ڈوب کر مر کیوں نہیں گئے۔ ۔۔؟ شاعری کی اصطلاح میں بحر ایک پیمانہ ہے جس کی مدد سے شعر کو وزن میں کیا جاتا ہے”۔انہوں نے شاعری کا پہلا اُصول مجھے بتا دیا تھا۔”کیا۔۔۔؟ شاعری کا وزن ۔۔۔؟ وزن تو ترازو میں کیا جاتا ہے۔ یہ بحر بیچ میں کہاں سے آگئی۔۔۔؟” میں نے سٹپٹاتے ہوئے کہا۔ "ہاہاہاہا۔۔۔” انہوں نے با آوازِ بلند قہقہہ لگایا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے حوصلہ دیا اور کہا کہ” گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے۔اچھا تم ایسا کرو یہ کتاب رکھو اور اس کا بغور مطالعہ کرو۔ جب کچھ کچھ سمجھ میں آنا شروع ہو جائے تو سمجھ لینا کہ تم شاعری کرنے کے قابل ہو گئے ہو”۔ انہوں نے وہ کتاب میرے ہاتھ میں تھمائی اور مجھے چلے جانے کا حکم دیا۔میں بڑا خوش تھا ۔اور شاعری سیکھنے کی ابتدا شاعری کے اُصولوں سے کر رہا تھا۔میں جیسے جیسے کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا ایسے ایسے میرے ایک ایک کر کے سارے طبق روشن ہو رہے تھے۔علم عروض کے نام سے اس کتاب کا ہر باب مجھے دن میں تارے دکھا رہا تھا۔ لیکن اس کے مطالعے سے اس بات کی سمجھ آ چکی تھی کہ بحر کسے کہتے ہیں۔ اب مجھے ایک ایک کر کے ان تمام بحور کو یاد کرنا تھا۔یہ جاننا تھا کہ کون سا شعر کس بحر میں ہے اور بحر کو جاننے کے لیے کسی مصرعے کی تقطیع کیسے کرنی ہے۔ ہجائے بلند کیا ہوتا ہے اور ہجائے کوتاہ کسے کہتے ہیں۔ فاعلن، مفعولن، مفاعیلن وغیرہ وغیرہ کس بلا کا نام ہے میں کافی حد تک سمجھ چکا تھا۔اب مجھے شاعری کے ان اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے طبع آزمائی کرنا تھی جو خاصا مشکل کام تھا۔

مجھے پورے دو مہینے لگے تھے فاعلن، مفعولن، مفاعیلن کی رٹ لگاتے ہوئے۔لیکن ابھی تک یہ جاننے میں قاصر تھا کہ کون سا فارمولا کس شعر پر لگتا ہے۔بڑے بڑے نامی گرامی شعرا کے اشعار کو سامنے رکھ کر میں نے اس کی مشق کی تھی تب جا کر کچھ پلے پڑا تھا۔اب میں خود شعر کہتا اور یہ جاننے کی کوشش کرتا کہ یہ کون سی بحر میں ہے۔میں نے بڑی محنت اور کوشش کے بعد ایک شعر لکھا اور اُسے اپنے طور پر مکمل با وزن کر لیا تھا۔میں اپنی اس کامیابی پر بہت خوش تھا۔ اور اُن شاعرِ محترم یعنی اپنے اُستادِ محترم کے پاس لے گیا تاکہ اُن کو بتا سکوں کہ میں بھی شاعر بن گیا ہوں۔شعر کچھ یوں تھا۔

کنڈی نہ کھٹکھٹا ﺅ میری جان اندر چلے آﺅ

بھری جوانی گلے لگا کر کرلو شوق پورے

 اُستاد محترم نے اس شعر کو پہلے بڑے غور سے پڑھا پھر غصے سے بھری ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھا۔میں سمجھ گیا تھا کہ اُستاد محترم شعر کے مطلب سے نالاں ہو گئے ہیں۔ لیکن شعر تو شعر ہوتا ہے اس کے مطلب سے زیادہ اُس کی بناوٹ پر غور کرنا چاہیے ۔ اُسے کس خوبصورتی سے لفظوں میں پرویا گیا ہے ،یہ دیکھنا چاہیے ۔ پھر بھی میںنے اُستاد محترم سے اس قسم کے ناپسندیدہ شعر پر معذرت کی اور عرض کیا کہ ” حضور ۔۔۔ اس واہیاتی کی معافی چاہتا ہوں آئندہ اس قسم کا شعر آپ کی خدمت میں پیش نہیں کروں گا۔ بس مجھے اتنا بتا دیجیے کہ یہ شعر ہے کس بحر میں۔۔۔؟؟؟”انہوں نے ایک دفعہ پھر مجھے غصے سے گھورکر دیکھا اور گرج کر بولے ” دفع ہو جاﺅ یہاں سے۔ ناخلف، نا مراد، واہیات” اور نہ جانے انہوں نے مجھے کون کون سے تخلص سے نوازا دیا تھا۔ تب مجھے ایک اور بات بھی سمجھ میں آئی کہ ایک شاعر کے نام کے ساتھ تخلص کا ہونا بھی ضروری ہے۔ میری تشنگی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے میں اُن کے پاﺅں میں گر پڑا اور اپنے تخلیق کردہ شعر کی بحر کے بارے میں جاننے کے لیے ضد کرنے لگا۔اُنہیں شاید میری حالت پر رحم آگیا تھا تبھی تو انہوں نے بڑی شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔ "بیٹا تم نے ایک نئی بحر ایجاد کر ڈالی ہے ۔۔۔ جس کا نام بحرِجاہل ہے”۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نوخیزیاں/گل نوخیزاختر  ہائے ۔۔۔ہائے۔۔۔ہائے

نوخیزیاں/گل نوخیزاختر ہائے ۔۔۔ہائے۔۔۔ہائے اگر ممکن ہو تو یہ کالم پڑھنے سے پہلے کسی گوشہء …

6 تبصرے

  1. بہت خوب ۔۔۔۔ ایک شگفتہ تحریر

  2. دلچسپ تحریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے