سر ورق / کہانی / چار چاند …زرین قمر

چار چاند …زرین قمر

سرخ ،نارنجی،پیلے اور سفید چمکتے ،دمکتےروشنی بکھیرتے رنگوں میں گھریوہ تیزی سے نیچے گری جا رہی تھی پھر چند ہی لمحوں میں وہ پانی کے تالاب میں گری تھیاور زور دار چھپاکا ہوا تھاتالاب کا پابی بوچھاڑ کی طرح اچھلا تھا اور ارد گرد بکھر گیا تھااس کے تالاب میں گرنے سے کچھ مصنوعی لہریں اٹھی تھیںاور تالاب کے کناروں سے پانی اچھل کر باہر بکھر گیا تھاوہ تیزی سے اٹھی تھی اور اس کے دو ساتھیوں نے تالاب میں آ کر اسے سہارا دیا پر پھر وہ اسے اپنے ساتھ پنڈال سے باہر کی طرف لے گئےتھے جہاں چند خیمے نصب تھے-

 "تم ٹھیک تو ہو تانیہ؟ اسلم نے اس سے پوچھا جو اس کے ساتھ ہی تانیہ سرکس میں کام کرتا تھا او ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا-

"ہاں میں ٹھیک ہوں تانیہ نے کھانستے ہوئے کہا-

"چلو تم کپڑے بدل کر کچھ آرام کر لو”اسلم نے کہا اور اسے اس کے خیمے میں چھوڑ کر واپس چلا گیا-تانیہ نے لپک کر خیمے میں بھندھی ڈوری سے اپنے دوسرے کپڑے اتارے تھے اور کونے میں تنی ایک چادر کے پیچھے جا کر کپڑے بدل لیے تھےپھر وہ تولیہ سے اپنے بال خشک کرر کے اپنے بستر پر جا لیٹی تھیسرکس کے نمائشی دنوں میں یہی اس کا معمول تھا وہ اس سرکس میں دوسرے کرتب دکھانے کے ساتھ ساتھ آخر میں یہ خطر ناک مظاہرہ بھی کرتی تھی کہ پچاس ساتھ فٹ کی بلندی سے اپنے کپڑوں میں اگ لگا کر پانی کے تالاب میں چھلانگ لگاتی تھی اس ائٹم کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا تھا لوگ دور دور سے تانیہ کا یہ دلیرانہ مظاہرہ دیکھنے اتے تھےلیکن تانیہ وہ بد نصیب تھیجس کے نام پر سرکس قائم تھا لیکن اسے کوئی اجرت نہ ملتی تھی وہ ایک قیدی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور-

   اس نے لیٹے لیٹے کروٹ لی سرکس میں بجنے والے گانوں کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں اچانک گانا بدل گیا-

                جھر بیریا کے بیر، جھر بیریا کے بیر

                       مت، ہو مت توڑو کانٹا لگ جائے گا

               جھر بیریا کے بیر

تانیہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں یہ گانا اسے ہمیشہ اس کے بچپن میں لے جاتا تھا اسے آج بھی یاد تھا وہ اس وقت صرف سات برس کی تھی جب اپنے گاؤں میں اپنے گھر کے سامنے لگے بیری کے درخت میں ڈلے جھولے میں اکثر جھولا کرتی تھی اس کے محلے کے دوسرے بچے بھی اس کے ساتھ ہوتے تھےاس زمانے میں یہ گانا بہت مقبول تھا تانیہ بھی بری لڑکیوں کی آواز سے اواز ملا کرجھولا جھولنے کے دوران یہ گانا گایا کرتی تھی اس روز بھی وہ یہی گانا گا رہی تھی او جھولا جھول رہی تھی شام کے سائے پھیل رہے تھے اور ساری سہیلیاں جا چکی تھیں وہ اخری پینگیں لے رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر سیاہ چادر اوڑھے ایک شخص پر پڑی اس کا آدھا چہرہ چادر میں چھپا ہوا تھا اسے اتنا یاد تھا کہ وہ اس کے قریب آیا تھا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا پھر شاید اس سے بات کرنے کے لیے جھکا تھا لیکن پھر اسے کچھ یاد نہیں تھا اگر وہ یاد بھی کرنے کی کوشش کرتی تھی تو اس کے ذہن میں اندھیرے کے سوا کچھ نہیں آتا تھا-

        جب اس کی انکھ کھلی تھی تو اس نے خود کو ایک خیمے میں پایا تھا اس کے قریب ایک سیاہ فام پستہ قد بد شکل سا شخص بیٹھا تھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا تانیہ اجنبی جگہ پر خود کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی اور فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی تھی

"میں کہاں ہوں میرا گھر کہاں ہے؟ وہ رونے لگی رتھی

"ےمہارا گھر قریب ہی ہے تم بے ہوش ہو گئی تھیں میں تمہیں یہاں کے آیا ابھی چھوڑ آؤں گا-” اس کے قریب بیٹھے شخص نے کہا-

” نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ابھی جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی چلو- تانیہ نے پلنگ سے نیچے اترنے کی کوشش کی تو اس شخص نے بڑھ کرسختی سے اس کا بارو پکڑ لیا اور وہ درد کی شدت سے چیخ اٹھی-

"چھوڑو ، مجھے چھوڑو –” وہ زور زور سے چیخ رہی تھی اسی وقت ایک بوڑھی سی عورت خیمے میں داخل ہوئی اس نے میلا سا سلوٹوں والا لباس پہنا ہوا تھا-

"کیا کر رہا ہے شیرے کیوں اس ننھی سی جان کو تنگ کر رہا ہے اس عورت نے قریب آ کر تانیہ کو اس شخص کی گرفت سے چھڑایا

"ارے دیکھو ہمارے ہاتھ ہیرا لگ گیا ہے کتنی خوبصورت بچی ہے ہمارے سرکس کو چار چاند لگ جائیں گے بہت دولت آئے گی – شیرے نے خوش ہوتے ہوئے کہا-

ابھی بہت چھوٹی ہے شیرے اس عورت نے سمجھانے والے انداز میں کہا-

تو ان باتوں میں ٹانگ نہ اڑا زُلیخا یہ کاروباری معاملے ہیں- شیرے نے غصے سے کہا اور زلیخا برا سا منہ بنا کر وہاں سے ہٹ گئی-

میں اپنے گھر جاؤں گی تانیہ نے ایک بار پھر کہا-

ہاں ہاں لی جائیں گے تجھے تیرے گھر-شیرے نے جھُلا کر کہا اور زلیخا کو اشاری کیا۔

اس کا خیال رکھنا میں باہر کام سے جا رہا ہوں اگر یہ باہر نکلی تو میں تیری کھال ادھیڑ دوں گا-

اس نے کہا تو زلیخا کے چہرے پر خوف کے سائے لہرائے-

جا دفع ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بچی کو کچھ کھلاتی ہوں وہ بڑ بڑائی اور تانیہ کے پاس پلنگ پر آ کر بیٹھ گئی شیرا باہر چلا گیاتھا

"تیرا کیا نام ہے زلہخا نے پوچھا

"تانیہ” مجھے گھر جانا ہئ وہ پھر رونے لگی-

دیکھ بچی تانیہ میں بہت مجبور ہوں میرا شوہر بڑا ظالم ہے۔۔۔۔۔ بہت مارتا ہے میں تو بس تیری یہی مدد کر سکتی ہوں کہ تیرا خیال رکھوں تجھے ٹائم پر کھانا دوں تجھے بہلاؤں تیرا دکھ دور کرنے کی کوشش کروں- زلیخا نے کہا اس وقت تو تانیہ کی سمجھ  میں یہ باتیں نہیں ائی تھیں لیکن سات سال گزرنے کے بعد جب زلیخا کا انتقال ہو گیا تب احساس ہوا کہ اپنے ظالم شوہر کا ساتھ دینے کے باوجود ذلیخا اس کے لیے کتنی بڑی چھاوں تھی گزرے ہوئے سات سالوں میں شیرے نے تانیہ کو بہت سے کرتب سکھائے تھے جن میں رسی پر چلنا جھولے میں قلابازیاں کھانا چھلانگیں لگاکر فضا میں ایک جھولے سے دوسرے جھولے پر جانا اور بہت زیادہ اونچائی سے نیچے پانی میں مصنوعی تالاب میں چھلانگ لگانا لیکن اس نے کبھی بھی اسے سرکس میں شو کرنے کے لیے نہیں کہا تھا وہ چاہتا تھا کہ تانیہ اپنے فن میں ماہر ہو جائے تب وہ اسے زمانے کے سامنے پیش کرے اور پھر ذُلیخا کی موت کے بعد وہ وقت ا گیا تھا تانیہ نے عمر کے پندگرویں سال میں قدم رکھ دیا تھا اور شیرے نے اسے سرکس کے ایک شو میں حصہ لینے کا حکم دیاتھا یہ شو ایک بڑے شہر میں ہو رہا تھا  اور یہاں شیرے کو بہت زیادہ کمائی کی امید تھی-

"نہیں بابا میں بہیں کر سکتی تانیہ نے سہمے ہوئے انداز میں کہا-

"یہ تو تمہیں کرنا ہی ہو گا تانیہ، میں تم پر اتنے عرصے سے محنت کر رہا ہوں میں نے تم پر بہت پیسہ لگایا ہے ماہر کرتب دکھانے والوں سے تمہاری ٹریننگ کروائی ہے اب تو میری کمائی کا وقت آیا ہے اور تم انکار کر رہی ہو؟

"مجھے ڈر لگتا ہے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گر گئی تو چوٹیں ائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ہاتھ یا پاؤں میں کوئی نقص بھی ہو سکتا ہے۔۔۔

تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں میں نیچے مضبوط جال بچھا دوں گا۔۔۔۔۔ تم دیکھتی ہو نا دوسرے لوگ بھی تو کرتب دکھاتے ہیں نیچے جال لگا ہوتا ہے اول تو کوئی گرتا نہیں اور اگر گرتا ہے تو وہ جال پر گرتا ہے اسے چوٹ نہیں لگتی- شیرے نے اسے سمجھایا اس نے بہت مزاحمت کی لیکن اس کی ایک نہ چلئی اور اسے سرکس کے شو میں حصہ لینا پڑا –

تانیہ جتنی خوبصورت ، اسمارٹ اور پھرتیلی لڑکی نے شو میں موجود لوگوں کے دل جیت لئے اس نے کئی کرتب دکھائے کرتب دکھانے کے دوران اس نے محسوس کیا کہ ایک نوجوان کی نظریں مستقل اس پر ہیں وہ بھی بار بار کن اکھیوں سے اس کی طرف  دیکھ رہی تھی وہ اس کی پہلی پرفارمنس تھی اس میں شیرے نے اس سے بلندی سے نیچے چھلانگ لگانے کے لیے نہیں کہا تھا لیکن اس کے بعد ہونے والے سرکس کے مختلف شوز میں اس نے بلندی سے چھلانگ لگانے کا بھی مظاہرہ کیا تھا جیسا کہ آج۔۔۔۔آج تو شیرے نے حد کر دی تھی آج اس نے تانیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ بلندی پر جانے کے بعد اہنے کپڑوں پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگائے گی اور پھر پانی کے تالاب میں کودے گی اور ہمیشہ کی طرح منع کرنے کے باوجود اسے شیرے کی بات ماننا پری تھی اور اس نے خود کو اگ لگا کر پانی میں چھلانگ لگائی تھی اس نے کرنے کو تو یہ مظاہرہ کر لیا تھا لیکن خوف سے وہ کانپ اٹھی تھی اس وقت بھی اپنے بستر پر پری وہ کانپ رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے-

تانیہ تانیہ شیرا اسے اوازیں دیتا ہوا اس کے خیمے میں آ گیا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی–

"تم نے تو آج کمال ہی کر دیا تانیہ- لوگ تماہری بہت تعریف کر رہے تھے-تمہاری پھرتی حسن اور تمہارے سڈول جسم کی-کل ہم ایسے دو شو کریں گے لوگ اج ہی ٹکٹ لے گئے ہیں ہماری آمدنی ڈبل ہو گئی ہے- وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا-

"لیکن مجھے کیا فائدہ آمدنی کم ہو یا زیادہ مجھے کیا فرق پڑتا ہے تانیہ نے اس سے کہا-

"کیوں فرق کیوں نہیں پڑتا۔میں یہ سب کس کے لیے کر رہا ہوں؟میرا سب کچھ تمہارا ہی تو ہے میرے اور کون سے بچے پیچھے ہیں- ایسی باتیں نہ کیا کر تانیہ مجھے دکھ ہوتا ہے- شیرے نے بناوٹی پیار دکھاتے ہوئے کہا اور تانیہ اداسی سے مسکرا رہی تھی-

ارے ہاں تانیہ میں تمہیں ایک بات بتانا تو بھول ہی گیا ایک نوجوان ہے کافی دنوں سے پیچھے لگا ہے-وہ بھی ہمارے سرکس میں شامل ہونا چاہتا ہےاور تم سے ہی ملنا چاہتا ہے شیرے نے کہا-

میں مل کر کیا کروں گی؟ تمہاری مرضی بابا جو چاہو کرو- تانیہ نے لاپرواہی سے کہا-

میں نے اسے شامل تو کر لیا ہے وہ جھولے پر کرتب دکھانے کا ماہر ہےکل سے پرفارمنس بھی کرے گا رہی تمہارہ ملاقات تو وہ بھی ہو ہی جائے گی-شیرے نے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا-

دوسرے سدن تانیہ کی ملاقات شرجیل سے ہو گئی تھی اس کی پرفارمنس کا پہلا دن تھا لیکن اس کے چہرے پر بالکل بھی گھبراہٹ نہیں تھی

تم کب سے یہ کام کر رہی ہو شرجیل نے پوچھا

"بہت چھوٹ تھی تب سے بابا سکھا رہے تھے اور پرفارمنس ابھی چند سالوں سے شروع کی ہے”

تمہیں ایک بات بتاؤں شرجیل نے رازداری سے کہا-میں تمہاری خاطر اس سرکس میں آیا ہوں-

"کیا؟ تانیہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا-"

ہاں تانیہ میں کافی عرصے سے تمہیں اس سرکس میں کام کرتے دیکھ  رہا ہوں جہاں یہ سرکس جاتا ہے میں بھی وہیں چلا جاتا ہوں اور تمہاری ہر پرفارمنس دیکھتا ہوں

بھلا کیوں؟مجھ میں ایسی کیا بات ہے؟ تانیہ نے جھینپتے ہوئے پوچھا

"پتہ نہیں بس تم مجھے اچھی لگتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تمہارے کرتب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کا تو جواب ہی نہیں”

مجھے یہ سب پسند نہیں لیکن میں بابا کہ کہنے پر یہ سب کرتی ہوں”

کیوں تمہیں کیوں پسند نہیں؟

میں پڑھنا چاہتی تھی تانیہ نے مختصر سا جواب دیا

تو اس کام کے ساتھ ساتھ پڑھ بھی سکتی تھیں- شر جیل نے کہا تانیہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا تھا وہ اسے اپنی کہانی نہیں سنانا چاہتی تھی اس لیے خاموش تھی

تم نے جواب نہیں دیا شرجیل نے استفسار کیا-

چلو پرفارمنس کا وقت ہو گیا ہے –تانیہ نے کہا اور خیمے سے نکل کر پنڈال کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھ گئی شرجیل بھی اس کے پیچھے تھا پنڈال میں سارے کرتب دکھانے والے پہنچ گئے تھے کچھ دیر گوکر لوگوں کو محظوظ کرتے رہے اس کے بعد جھولوں پر کرتب دھانے کی باری آئی آج دوسرے جوڑوں کے ساتھ تانیہ اور شرجیل کو بھی اس کرتب میں شامل کیا گیا تھا انہوں نے بہت اچھی پرفارمنس دکھائی اور لوگوں نے انہیں بہت داد دی-

پھر ان کی جوڑی مقبول ہوتی چلی گئی اور سال بھر ایک ساتھ کام کرنے کے ساتھ ساتھ پیار بھی ان کے درمیان پروان چڑھتا گیا شرجیل تانیہ کا بہت خیال رکھنے لگا وہ اکثر اس سے محبت کا اظہار کرتا جس سے تانیہ کو حوصلہ ملتا اسے یوں لگتا کہ وہ اس جہنم سے اس کی نجات کا ذریعہ بنے گا وہ بھی والہانہ اسے باہنے لگی-

"شرجیل ہم کب تک یہاں کام کرتے رہیں گے- ایک دن تانیہ نے اس سے پوچھا-

"بس تانیہ تھوڑے دن کی بات ہے ہمارے پاس کچھ رقم جمع ہو جائے پھر ہم یہاں سے چلے جائیں گے-

لیکن پھر بابا سے کیا کہیں گے تانیہ نے پریشان ہو کر پوچھا-

"بھئی میں بابا سے تمہارا رشتہ مابگ لوں گا اور تم سے شادی کر کے تمہیں یہاں سے لے جاؤں گا شرجیل نے کہا تو اس کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن ہو گئے-وہ اٹھتے بیٹھتے شرجیل کی شریک ِ حیات بننے کے خواب دیکھنے لگی اسے امید ہو چلی تھی کہ بابا بھی ان کے درمیان بن جانے والے پیار کے رشتے کو پسند کرتا ہےچنانچہ انہیں شادی کی اجازت مل جائے گی خوشی سے اس کے قدم زمین پر نہیں پڑتے تھے پرفارمنس کے دوران جب شرجیل اسے سہارا دیتا تو اسے لگتا جیسے وہ ہواؤں میں اڑ رہی ہو وہ شرجیل کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار تھی-

تانیہ آج ہماری سب سے خطرناک پرفارمنس ہے شرجیل نے تانیہ سے کہا-

کیا مطلب تانیہ چونکی

آج ہم لوگ اپنا ہر کرتب جال کے بغیر دکھائیں گے ہماری حفاظت کے لیے نیچے جال نہیں ہوگا شرجیل نے کہا تو وہ پریشان ہو گئی-

لیکن بابا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ  جال کے ساتھ ہی مجھ سے کرتب کروائے گا-

دیکھ میں نے بابا کو یہ مشورہ دیا ہے کہاگر تم جال کے بغیر کرتب دکھاؤ گی تو لوگ زیادہ پسند کریں گے اور ہمارے ٹکٹ زیادہ مہنگے بک جائیں گے ہمیں ایک ہی شو سے ایک دن میں ایک ہفتے برابر آمدنی ہو گی-

نہیں شرجیل مجھے ڈر لگتا ہے- مین یہ نہیں کر سکتی تانیہ نے اداسی سے کہا-

"تانیہ میری خاطر ہمارے پیار کی خاطر کیا تم یہ نہیں چاہتیں کہ ہم یہاں سے آزاد ہو جائیں اور شادی کر کے ایک  نارمل اور پیار بھری زندگی گزاریں-

ہاں یہ تو میرا خواب ہے جس کے سہارے میں جی رہی ہوں-

"تو پھر تمہیں یہ کرنا ہو گا آج رات کی پرفارمنس ہمیں کہاں سے کہاں لے جائے گی-

ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن یاد رکھومیں تمہاری خاطر یہ سب کروں گی-

ہاں ہاں مجھے تمہارے پیار پر بھروسہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہارا ہوں تم بھی مجھ پر بھروسہ کرو-

ٹھیک ہے میں تیار ہوں تانیہ نے کہا

اسی دوپہر تانیہ نے شیرے کے خیمے کے پاس سے گزرتے ہوئے دو لوگوں کے باتیں کرنے کی آوازیں سنیں تو وہ سننے کے لیے رک گئی-

شرجیل تم نے تانیہ سے بات کر لی؟

ہاں شیرے میں نے اسے راضی کر لیا ہے وہ آج جال کے بغہر کرتب دکھائے گی اسے شیرے کی آواز سنائی دی "میں نے اسے اپنی محبت کا وااسطہ دیا تو وہ خود ہی مان گئی-

شاباش۔۔۔۔تم نے اس پر بہت محنت کی ہے میں تمہیں اضافی معاوضہ دوں گا تمہاری وجہ سے میرے سرکس کو چار چاند لگ جائیں گے میری کمائی چوگنی کو جائے گی شیرا خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اور شرجیل اس کی باتوں پر قہقہے مار رہا تھا-

میں نے اس سے کہا کہ اس پرفارمنس کے بعد میں اس سے شادی کر لوں گا اور اسے یہاں سے کہیں دور لے جاؤں گا جہاں ہم پیارا سا گھر بنائیں گے شرجیل نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا اور شیرا ہنسنے لگا-

"ہونہہ! وہ کبھی یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اس پر بہت محنت کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیسہ لگایا ہےوہ میری کمائی کا زریعہ ہے

"ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔۔ میں تو اسے جھوٹی تسلیاں دیتا رہتا ہوں تاکہ وہ اچھے سے اچھا کام کرے-

تانیہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا وہ تو شرجیل کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہی تھی اور وہ اس کے ساتھ دھوکا کرتا رہا وہ دھیرے دھیرے اپنے خیمے کی طرف چلی گئی-

پھر رات کے شو میں اس نے ہر کرتب بہت محنت سے کیا تھا وہ شرجیل سے اپنی محبت اور وفاداری کا وعدہ نبھا رہی تھی شرجیل بہت خوش تھا آخر میں اس آخری کرتب کی باری آئیجس میں اسے ساتھ فٹ کی بلندی سے اپنے کپڑوں میں آگ لگا کر نیچے پانی کی تالاب میں کودنا تھا وہ پرفارمنس کے لیے بڑھی تو شیرے نے اسے روک لیا-

یہ کیا ایسے ہی پرفارمنس کرو گی؟ ان کپڑوں پر اپنے پوٹے والے کپڑے تو پہن لوجو تمہیں آگ سے بچاتے ہیں اور تمہارے اندرونی لباس تک آگ پہنچنے سے پہلے تم پانی کے تالاب میں گر جاتی ہو-

نہیں بابا آج میں اسی اکہرے لباس میں کرتب دکھاؤں گی لوگ زیادہ لطف اٹھائیں گے آئندہ تمہیں اور زیادہ رقم ملے گی تانیہ نے یوں کہا جیسے خواب میں بول رہی ہو-

ٹھیک ہے ۔۔۔ٹھیک ہے شیرے یہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔ ہمارے شو کو چار چاند لگ جائیں گے شرجیل نے خوش ہوتے ہوئے کہا-

اور آج سیڑھی بڑی لگوا دو بابا میں سو فٹ اونچائی سے چھلانگ لگاؤں گی تانیہ نے کہا-

اچھا ٹھیک ہے شیرے کی خوشی کی انتہا نہ رہی تمام امتظامات بہت جلدی کروا دیئے وقت مقررہ پر تانیہ نے سیڑھیاں چٹھنا شروع کیں وہ آہستہ آہستہ اوپر اور اوپر چڑھتی جا رہی تھی مجمع دم سادھے دیکھ رہا تھا شیرے اور شرجیل کے دل بھی تیزی سے دھڑک رہے تھے اوپر پہنچ کر تانیہ نے نیچے بیٹھے ہوئے لوگوں کو ایک نظر دیکھا سب کے چہروں پر حیرت کے آثار تھے وہ اسے بہت چھوٹے چھوٹے نقطے نظر آ رہے تھے اس نے اوپر بنے مچان پر پاؤں جمائے اور اپنے کپڑوں پر مٹی کا تیل ڈالنے لگی روز کی طرح آج اس کے ہاتھ نہیں کانپ رہے تھے اس کے قدم مضبوطی سے مچان پر جمے ہوئے تھے آج اس میں بڑا اعتماد تھا نیچے پانی کے تالاب میں پانی بھرا جا چکا تھا پھر کارکنوں نے تالاب کے گرد رکھے بھوسے کی قطار میں بھی آگ لگا دی تھی تانیہ نے قریب رکھی ماچس اٹھا کرتیلی جلائی تھی اور اپنے کپڑوں کو آگ لگائی تھی اس کی نظروں کے سامنے شرجیل کا چہرہ تھا جو اس کا ساتھی اور ہمدرد تھا اس نے اور دنوں کے مقابلے میں پانی میں کچھ تاخیر سے چھلانگ لگائی تھی تاکہ لوگوں کو مزید سسپنس دیکھنے کو ملے پھر وہ سرخ نارنجی پیلے اور سفید چمکدار شعلوں کے حصار میں گھومتی بل کھاتی تیزی سے نیچے پانی کے تالاب کی طرف آ رہی تھی لیکن اس بار اس کا زاویہ مختلف تھا اس نے اوپر ہی سے اندازے سے تھوڑا ہٹ کر چھلانگ لگائی تھی اور تالاب سے چند قدم دور پکے فرش پر آ گری تھی اس کے گرنے کی ہلکی سی دھمک کےساتھ اس کی ہلکی سی کراہ کی آواز نکلی تھی مجمع میں شور مچھ گیا تھا لوگ اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو گئے تھے اور تانیہ اس جہنم میں اپنی پرفارمنس سے چار چاند لگا کر اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملی تھی-

از زرین قمر

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

عالمی ادب سے انتخاب "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد "کیا تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے