سر ورق / ناول / دوڑ۔۔۔ قسط نمبر1۔ ممتا کالیا/ عامر صدیقی

دوڑ۔۔۔ قسط نمبر1۔ ممتا کالیا/ عامر صدیقی

وہ اپنے آفس میں گھسا۔ شاید اس وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ٹائم شروع ہو گیا تھا۔ مرکزی ہال میں ایمرجنسی ٹیوب لائٹ جل رہی تھی۔ وہ اس کے سہارے اپنے کیبن تک آیا۔ اندھیرے میں میز پر رکھے کمپیوٹر کی ایک بھدی سی پرچھائیںبن رہی تھی۔ فون، انٹرکام سبھی بے جان سے لگ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ساری اشیاءبے ہوش پڑی ہیں۔

بجلی کی موجودگی میں،یہ چھوٹا سا کمرہ اس کی سلطنت ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر میں آنکھیں اندھیرے کی عادی ہوئیں، تو میز پر پڑا ماو ¿س بھی نظر آیا۔ وہ بھی ماﺅس تھا۔ پون کو ہنسی آ گئی، نام ہے چوہا پر چلتا نہیں۔ بجلی کے بغیر پلاسٹک کا ننھا سا کھلونا ہے بس۔

 ”بولو چوہے کچھ توبولو، چوں چوں ہی سہی۔“اس نے کہا ۔ مگر چوہا بے جان پڑا رہا۔

پون کو اچانک اپنا چھوٹا بھائی سگھن یاد آیا۔ رات میں بسکٹوں کی تلاش میں وہ دونوں باورچی خانے میں جاتے۔ باورچی خانے میں نالی کے راستے بڑے بڑے چوہے دوڑ لگاتے رہتے تھے۔ انہیں بڑا ڈر لگتا تھا۔ باورچی خانے کا دروازہ کھول کر بجلی جلاتے ہوئے ،چھوٹو مسلسل منہ سے میاو ¿ں میاو ¿ں کی آوازیں نکالتا رہتاتا کہ چوہے یہ سمجھیں کہ باورچی خانے میں بلی آ پہنچی ہے اور وہ ڈر کر بھاگ جائیں۔ چھوٹو کی پیدائش بھی چینی جوتش کے حساب سے چوہے کے سال کی ہی ہے۔

 پون زیادہ دیر یادوں میں نہیں رہ پایا۔ اچانک بجلی آ گئی،گھپ اندھیرے کے بعد چکاچوند کرتی بجلی کے ساتھ ہی آفس میں جیسے جان واپس آگئی۔ داتارنے ہوٹ پلیٹ پرکافی کاپانی چڑھا دیا، بابو بھائی فوٹو کاپی مشین میں کاغذ لگانے لگے اور شلپا کابرا اپنی ٹیبل سے اٹھ کر، ناچتی ہوئی سی چترےش کی ٹیبل تک گئی۔

”یو نو ہمیں نرولاج کا کنٹریکٹ مل گیا۔“

 پون پانڈے کو اس نئے شہر اور اپنی نئی ملازمت پر ناز ہوا۔ اب دیکھئے نا بجلی چار بجے گئی اور ٹھیک ساڑھے چار بجے آگئی۔ پورے شہر کو ٹائم زون میں بانٹ دیا ہے، صرف آدھے گھنٹے کےلئے بجلی بندکی جاتی ہے، پھر اگلے زون میں آدھے گھنٹے۔ اس طرح کسی بھی علاقے پر زور نہیں پڑتا۔ نہیں تو اس کے پرانے شہر یعنی الہ آباد میں تو یہ عالم تھا کہ اگر بجلی چلی گئی، تو تین تین دن تک آنے کا نام نہ لیتی۔ بجلی جاتے ہی چھوٹو کہتا۔ ”بھیا، ٹرانسفارمر دھڑام بولاتھا، ہم نے سنا ہے۔“

امتحان کے دنوں میں ہی شادی بیاہ کا بھی موسم ہوتا۔ جیسے ہی محلے کی بجلی پر زیادہ زور پڑتا، بجلی فیل ہو جاتی۔

پون جھجلاتا،”ماں، ابھی تین چیپٹر باقی ہیں، کیسے پڑھوں گا۔“

ماں اسکی ٹیبل کے چاروں کونوں پر چار موم بتیاں لگا دیتی اور بیچ میں رکھ دیتی، اس کی کتاب۔ اس نئے تجربے کے شوق میں پون، بجلی جانے پر اور بھی اچھی طرح پڑھائی کرتا۔

پون نے اپنی ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے دانت پیسے۔ یہ بیوقوف لڑکی شیلاہمیشہ غلط آدمی سے بات کرتی رہتی ہے۔ اسے کیا پتہ نہیں کہ چترےش کی چوبیس تاریخ کو نوکری سے چھٹی ہونے والی ہے۔ اس نے دو جمپس(تنخواہ میں اضافہ) مانگے تھے، کمپنی نے اسے جمپ آو ¿ٹ کرنا ہی بہتر سمجھا۔ اس وقت تلواریں دونوںا طراف تنی ہوئی ہیں۔ چترےش کو جواب نہیں ملاہے، پر اسے اتنا اندازہ ہے کہ معاملہ کہیں پھنس گیا ہے۔ اسی لیے گزشتہ ہفتے اس نے ایشین پینٹس میں انٹرویو بھی دے دیا۔ ایشین پینٹس کا ایریا منیجر پون کو نرولاج میں ملا تھا اور اس کو بھرم مار رہا تھا کہ تمہاری کمپنی چھوڑ چھوڑ کر لوگ ہمارے یہاں آتے ہیں۔ پون نے چترےش کی سفارش کر دی تاکہ چترےش کا جو فائدہ ہونا ہے وہ تو ہو، اس کی کمپنی کے سر پر سے بھی یہ دردِسر ہٹے۔ وہیں اسے یہ بھی خبر ہوئی کہ نرولاج میں روز بیس سلنڈر کی کھپت ہے۔ آئی۔او۔سی اپنے ایجنٹ کے ذریعے ان پر دباو ¿ برقرار رکھے ہوئی ہے کہ وہ ان سے سال بھر کا معاہدہ کر لیں۔ گوجر گیس نے بھی عرضی لگا رکھی ہے۔ آئی۔او۔سی کی گیس کم قیمت ہے۔ امکان تو یہی بنتا ہے کہ ان کے ایجنٹ شاہ اینڈ سنز معاہدہ کر جائیں گے ۔پر ایک چیز پر بات اٹکی ہوئی ہے۔ کئی بار ان کے یہاں مال کی سپلائی ٹھپ پڑ جاتی ہے۔ پبلک سیکٹر کے سو مسائل۔ کبھی ملازمین کی ہڑتال، تو کبھی ٹرک ڈرائیوروں کی شرائط۔ انکے مقابلے گوجر گیس میں ڈیمانڈاور سپلائی کے درمیان ایسا توازن رہتا ہے کہ ان کا دعوی ہے کہ ان کا وجود ، مطمئن صارفین کی دنیا ہے۔

چھوٹو اسی بہانے بجلی گھر کے چار چکر لگا آتا۔ اسے بچپن سے بازاروں میں گھومنے کا شوق تھا۔ گھر کا راشن لاتے، پوسٹ آفس، بجلی گھر کے چکر لگاتے لگاتے، یہ شوق اب لت میں بدل گیا تھا۔ امتحان کے دنوں میں بھی وہ کبھی نئی پنسل خریدنے کے بہانے ،تو کبھی یونیفارم استری کروانے کے بہانے گھر سے غائب رہتا۔ جاتے ہوئے کہتا،”ہم ابھی آتے ہیں۔“لیکن اس سے یہ نہ پتہ چلتا کہ حضرت جا کہاں رہے ہیں۔ جیسے مراٹھی میں، گھر سے جاتے ہوئے مہمان یہ نہیں کہتا کہ میں جا رہا ہوں، وہ کہتا ہے ”می ےتو۔“ یعنی ”میں آتا ہوں۔“۔ یہاں گجرات میں ایک اور خوبصورت رواج ہے۔ گھر سے مہمان رخصت ہوتا ہے، تو میزبان کہتے ہیں،”آو ¿ جو۔“یعنی پھر آنا۔

یہ ٹھیک ہے کہ پون گھر سے اٹھارہ سو کلومیٹر دور آ گیا ہے۔ پر ایم بی اے کے بعد کہیں نہ کہیں تو اسے جانا ہی تھا۔ اس کے والدین یہ ضرور چاہتے تھے کہ وہ وہیں ان کے پاس رہ کر نوکری کرے، پر اس نے کہا،”پاپا، یہاں میرے لائق سروس کہاں؟ یہ تو بے روزگاروں کا شہر ہے۔ زیادہ سے زیادہ نورانی تیل کی مارکیٹنگ مل جائے گی۔“

ماں باپ سمجھ گئے تھے کہ ان کا آسمانوں میں اڑتابیٹا ،کہیں اور بسے گا۔

پھر یہ نوکری مکمل طور پون نے خود ڈھونڈ نکالی تھی۔ ایم بی اے کے آخری سال کی جنوری میں ،جو چار پانچ کمپنیاں انسٹیٹیوٹ میں آئیں، ان میں بھائی لال بھی تھی۔ پون پہلے دن، پہلے انٹرویو میں ہی منتخب کر لیا گیا۔ بھائی لال کمپنی نے اسے اپنے ایل۔پی۔جی یونٹ میں ٹرینی اسسٹنٹ منیجر بنا لیا۔ انسٹیٹیوٹ کا قانون تھا کہ اگر ایک نوکری میں طالب علم منتخب ہو جائے، تو وہ باقی کے تین انٹرویو نہیں دے سکتا۔ اس سے زیادہ سے زیادہ طالب علموں کو فائدہ ہو رہا تھا اور کیمپس میں باہم مقابلے کی بنیاد ڈلی تھی۔ پون کو بعد میں یہی افسوس رہا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ اس انسٹی ٹیوٹ میں وِپرو، ایپل اور بی۔پی۔سی۔ایل جیسی کمپنیاں بھی آئی تھیں۔ فی الحال اسے یہاں کوئی شکایت نہیں تھی۔ اپنے دوسرے کامیاب ساتھیوں کی طرح اس نے سوچ رکھا تھا کہ اگر سال گزرتے گزرتے اس کے عہدے اور تنخواہ میں، اس سے زیادہ گریڈ نہیں دیا گیا، تو وہ یہ کمپنی چھوڑ دے گا۔

سی پی روڈ کے چوراہے پر کھڑے ہو کے اس نے دیکھا، سامنے سے شرد جین آ رہا ہے۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ وہ دونوں الہ آباد میں اسکول ساتھ پڑھے تھے اور اب دونوں کوہی احمد آباد میں نوکری ملی تھی۔ درمیان میں دو سال شرد نے آئی۔اے۔ایس کے چکر میں تباہ کئے، پھر مقابلہ فیس دے کر سیدھا آئی۔آئی۔ایم احمد آباد میں داخل ہو گیا۔

اس نے شرد کو روکا،”کہاں یار؟ پزا ہٹ چلتے ہیں، بھوک لگ رہی ہے۔“

وہ دونوں پزا ہٹ میں جا بیٹھے۔ پزا ہٹ ہمیشہ کی طرح لڑکے لڑکیوں سے گل و گلزار ہو رہا تھا۔ پون نے کوپن لئے اور کاو ¿نٹر پر دے دیے۔ شردنے للچاتے ہوئے کہا،”میں تو جین پزا لوں گا۔ تم جو چاہے کھاو ¿۔“

”رہے تم وہیں کے وہیں سالے۔ پزا کھاتے ہوئے بھی جےن جم نہیں چھوڑیں گے۔“

احمد آباد میں ہر جگہ مینو کارڈ میں لازمی جین پکوان شامل رہتے ہیں، جیسے جین پزا، جین آملیٹ، جین برگر وغیرہ۔

 پون کھانے کے معاملے میں حساس تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ ہر پکوان کی ایک خاصیت ہوتی ہے۔ اسے اسی انداز میں کھانا چاہئے۔ اسے فیوژن سے اسے چڑ تھی۔

مینو کارڈ میں جین پزا کے آگے اس میں ڈالی جانے والی اشیاءکی تفصیل بھی دی گئی تھی، ٹماٹر، شملہ مرچ، بند گوبھی اور تیکھی میٹھی چٹنی وغیرہ۔

شرد نے کہا،”کوئی خاص فرق تو نہیں ہے، صرف چکن کی چار پانچ بوٹیاں اس میں نہیں ہوںگی، اور کیا؟“

” ساری لذت تو ان ہی بوٹیوں میں ہے، یار۔“ پون ہنسا۔

”میں نے ایک دو بار کوشش کی تھی، پر کامیاب نہیں ہوا۔ رات بھر لگتا رہا جیسے پیٹ میں مرغا بول رہا ہے ککڑوں کوں ںں۔“

”تم ہی جیسوں کی وجہ سے گاندھی جی آج بھی سانسیں لے رہے ہیں۔ ان کے پیٹ میں بکرا میں میں کررہاہے۔“

 شرد نے ویٹر کو بلا کر پوچھا،” کون سا پزا زیادہ بکتا ہے یہاں۔“

” جین پزا۔“ویٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

”دیکھ لیا۔“ شرد بولا،”پون، تم اس کو مانو کہ سات سمندر پار کی ڈش کا پہلے ہم بھارتیہ کرن کرتے ہیں، پھر کھاتے ہیں۔ گھر میں ممی بیسن کا ایسا لذیذ آملیٹ بنا کر کھلاتی ہیں کہ انڈے اس کے آگے پانی بھریں۔“

”میں تو جب سے گجرات آیا ہوں، بیسن ہی کھا رہا ہوں۔ پتہ ہے بیسن کو یہاں کیا بولتے ہیں؟ چنے کا لوٹ۔“

پتہ نہیں یہ جین مذہب کا اثر تھا یا گاندھی کا، گجرات میں گوشت، مچھلی اور انڈے کی دکانیں مشکل سے ہی دیکھنے میں آتیں۔ ہوسٹل میں رہنے کی وجہ سے پون انڈے کھانے کا عادی تھا، پر یہاں صرف اسٹیشن کے آس پاس ہی انڈے ملتے۔ وہیں تلی ہوئی مچھلی کی بھی چند دکانیں تھیں۔ پر اکثر میم نگر سے اسٹیشن تک آنے کی اور ٹریفک میں پھنسنے کی اس کی خواہش نہ ہوتی۔ تب وہ کسی اچھے ریستوران میں کھانا کھا کر اپنی طلب پوری کرتا۔

وہ اپنے پرانے دن یاد کرتے رہے، دونوں کے بیچ لڑکپن کی بےشمار بےوقوفیاں مشترک تھیں اور تعلیم کی جدوجہد بھی۔ پون نے کہا،”پہلے دن جب تم امداباد آئے، تب کی بات بتانا ذرا۔“

”تم کبھی امداباد کہتے ہو کبھی احمد آباد، یہ چکر کیا ہے۔“

”ایسا ہے اپنا گجراتی کلائنٹ احمد آباد کو امداباد ہی بولنا مانگتا، تو اپن بھی اےسااِچ بولنے کا۔“

”میں کہتا ہوں یہ بالکل بیوپاری شہر ہے، سو فیصد۔ میں چالیس گھنٹے کے سفر کے بعد یہاں اترا۔ ایک تھری وھیلروالے سے پوچھا، ”آئی۔آئی۔ایم چلو گے؟“،”کدر۔“ اس نے پوچھا۔ میں نے کہا،”بھائی، وستراپر جھیل ، جہاںمےنےجری کی پڑھائی ہوتی ہے، اسی جگہ جانا ہے۔“تو جانتے ہو سالا کیا بولا، ٹو ہنڈرےڈ بھاڑا لگے گا۔ میں نے کہا، تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا،” ساب آپ ادھر سے پڑھ کر بیس ہزار کی نوکری پاو ¿ گے، میرے کو ٹو ہنڈرےڈ دیناآپ کو زیادہ لگتا کیا؟“،” تمہارا سر گھوم کیا؟“ بائی گاڈ۔ مجھے لگا وہ ایک دم ٹھّگو ہے۔ پر جس بھی تھری وھیلروالے سے میں نے بات کی سب نے یہی ریٹ بتایا۔“

”مجھے یاد ہے، شام کو تم نے مجھ سے مل کر ،سب سے پہلے یہی بات بتائی تھی۔سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے گھر اور شہر سے باہر آدمی ،ہر روز ایک نیا سبق سیکھتا ہے۔ اور بتاﺅ، جاب ٹھیک چل رہی ہے؟“

” ٹھیک کیا یار، میں نے کمپنی ہی غلط چن لی۔ بینر تو بڑا اچھا ہے، اسٹارٹ بھی اچھا دیا ہے؟۔ پر پروڈکٹ بھی دیکھو۔ بوٹ پالش۔ حالت یہ ہے کہ ہندوستان میں صرف دس فیصد لوگ چمڑے کے جوتے پہنتے ہیں۔“

” باقی نوے فیصد کیا ننگے پاو ¿ں پھرتے ہیں؟“

”مذاق نہیں، باقی لوگ چپلیں پہنتے ہیں یا پھر ربڑ شوز۔ ربڑ کے جوتے، کپڑوں کی طرح ڈٹرجنٹ سے دھل جاتے ہیں اور چپل چٹخا نے والے پالش کے بارے میں کبھی سوچتے نہیں۔ پالش بکے تو کیسے؟“

پون نے فخریہ ریستوران میں کچھ پیروں کی طرف دیکھا۔ زیادہ تر پیروں میں ربڑ کے موٹے جوتے تھے۔ کچھ پیروں میں چپلیں تھیں۔ ”ابھی ہیڈ آفس سے فیکس آیا ہے کہ مال کی اگلی کھیپ بھجوا رہے ہیں۔ ابھی پچھلا مال توبکا نہیں ہے۔ دکاندار کہتے ہیں وہ اور زیادہ مال ا سٹور نہیں کریں گے، ان کے یہاں جگہ کی قلت ہے۔ ایسے میں میری سن شائن شو پالش کیا کرے؟۔ ڈیلر کو کوئی گفٹ آفر دو، تو وہ مال نکالے۔

سب کو سن شائن رکھنے کےلئے وال ریک دیئے ہیں، ڈیلروں کا کمیشن بڑھوایا ہے، پر میں نے خود کھڑے ہو کر دیکھا ہے، کاو ¿نٹر سیل نہیں کے برابر ہے۔“

پون نے مشورہ دیا،”کوئی حکمت عملی سوچو۔ کوئی انعامی ا سکیم، ہالیڈے پروگرام؟“

”انعامی اسکیم کی تجویز بھیجی ہے۔ ہمارا ہدف اسکول کے طالب علم ہیں۔ ان کی دلچسپی ٹافی یا قلم میں ہو سکتی ہے، ہالیڈے پروگرام میں نہیں۔“

” ہاں، یہ اچھا منصوبہ ہے۔بائی گاڈ، اگر سرکاری اسکولوں میں چمڑے کے جوتے پہننے کا اصول نہ ہوتا، تو ساری بوٹ پالش کمپنیاں بند ہو جاتیں۔ انہی کے بوتے پر باٹا، کیوی، بلی، سن شائن سب زندہ ہیں۔ اس لحاظ سے میری پروڈکٹ اچھی ہے۔ ہر موسم میں ہر طرح کے آدمی کو گیس سلنڈر کی ضرورت رہتی ہے۔ لیکن یار، جب بلک میں پروڈکٹ نکالنی ہو، یہ بھی بھاری پڑ جاتی ہے۔“پون اٹھ کھڑا ہوا،” تھوڑی دیر اور بیٹھے تو یہاں ڈنر ٹائم ہو جائے گا۔ تم کہاں کھانا کھاتے ہو آج کل۔“

”وہیں جہاں تمہیں بتایا تھا، موسی کے ہاں۔ اور تم؟“

” میں بھی موسی کے یہاں کھاتا ہوں پر میں نے موسی بدل لی ہے۔“

”کیوں؟“

”وہ کیا ہے یار موسی کڑھی اور کریلے میں بھی گڑ ڈال دیتی تھی اور کھانا پروسنے و الی اس کی بیٹی کچھ ایسی تھی کہ جھیلی نہیں جاتی تھی۔“

”ہماری والی موسی تو بہت سخت مزاج ہے، کھاتے وقت آپ واک مےن بھی نہیں سن سکتے۔ بس کھاو ¿ اور جاو ¿۔“

”یار، کچھ بھی کہو اپنے شہر کا خستہ سموسہ بہت یاد آتا ہے۔“

شہر میں جگہ جگہ گھروں میں خواتین نے ماہانہ کی بنیاد پر کھانا کھلانے کا انتظام کر رکھا تھا۔ نوکری پیشہ ،چھڑے چھانٹ نوجوان، ان کے گھروں میں جا کر کھانا کھا لیتے۔ روٹی، سبزی، دال اور چاول۔ نہ رائتہ نہ چٹنی نہ کچھ اور۔ شرح تین سو پچاس روپے مہینہ، ایک وقت کا۔ ان خواتین کو موسی کہا جاتا۔ا گرچہ ان کی عمر پچیس ہو یا پھر پچاس۔ رات ساڑھے نو کے بعد کھانا نہیں ملتا۔ تب یہ لڑکے اُڈپی بھوجنالیہ میں ایک مسالہ دوسا کھا کر سو جاتے۔ اتنی تکلیف میں بھی ان نوجوانوں کو کوئی شکایت نہ ہوتی۔ اپنے بل پر رہنے اور جینے کا اطمینان سب کے اندرہے۔

گھر گرہستی والے ساتھی پوچھتے،”زندگی کے اس ڈھنگ سے تکلیف نہیں ہوتی؟“

”ہوتی ہے کبھی کبھی۔“انوپم کہتا،” سن چوراسی سے باہر ہوں۔ پہلے پڑھنے کی خاطر، اب نوکری کی خاطر۔“

کبھی کبھی چھٹی کے دن انوپم کھانابناتا۔ باقی لڑکے اسے چڑاتے،”تم انوپم نہیں، انوپما ہو۔“

وہ بیلن ہاتھ میں نچاتے ہوئے کہتا،” ہم اپنے لالو انکل کو لکھوں گا، ادھر میں تم سب ، ایک سیدھے سادے بہاری کو ستاتے ہو۔“

جب آپ اپنا شہر چھوڑ دیتے ہیں، اپنی شکایات بھی وہیں چھوڑ آتے ہیں۔ دوسرے شہر کا ہر منظر پرانی یادوں کو کرےدتا ہے۔ دل کہتا ہے ایسا کیوں ہے، ویسا کیوں نہیں ہے؟ ہر گھر کے آگے ایک عدد ٹاٹا سومو کھڑی ہے۔ ماروتی 800 کیوں نہیں؟ منطقی لحاظ سے طے کیا جا سکتا ہے کہ یہ خاندان کی ضرورت اور اقتصادی حیثیت کا تعارفی خط ہے۔ پر یادیں ہیں کہ لوٹ لوٹ آتی ہیں، سول لائنز، اےلگن روڈ اور چیتھم لائنس کی سڑکوں پر جہاں ماچس کی ڈبیوں جیسی کاریں اور اسٹیرنگ کے پیچھے بیٹھے نمکین چہرے، طبیعت کو تروتازہ کر جاتے۔ اف، نئے شہر میں سب کچھ نیا ہے۔ یہاں دودھ ملتا ہے پر بھےنسےںنہیں دکھتیں ،کہیں سائیکل کی گھنٹی ٹنٹناتے دودھ والے نظر نہیں آتے۔ بڑی بڑی ڈیری شاپ ہیں، ائیر کنڈیشنڈ، جہاں چمکتی اسٹیل کی ٹنکیوں کی ٹونٹیوں سے دودھ نکلتا ہے۔ ٹھنڈا، پاسچرائزڈ۔ وہیں ملتا ہے دہی، میٹھا دودھ، کھویا اور کھیر۔

یہی ہال سبزی ترکاریوں کا ہے۔ ہر کالونی کے گیٹ پر صبح تین چار گھنٹے ایک اونچا سا ٹھیلا سبزی ترکاریوں سے سجا کھڑا رہے گا۔ وہ گھر گھر گھوم کر آواز نہیں لگاتا۔ عورتیں اس کے پاس جائیں گی اور خریداری کریں گی۔ اس ٹھیلے پر خاص اور عام ہر قسم کی سبزی ترکاریوں کا انبار لگا ہوتا ہے۔ سبز شملہ مرچ ہے تو سرخ اور پیلی بھی۔ گوبھی ہے تو بروکولی بھی۔ سلاد کی شکل کاتھائی کیبج بھی دکھائی دے جاتا ہے۔ خاص سبزیاں کسی بھی صورت میں ڈیڑھ دو سو روپے کلو سے کم نہیں ہوتیں۔ یہ بڑے بڑے سرخ ٹماٹر ایک طرف رکھے ہیں کہ دور سے دیکھنے پر پلاسٹک کی گیند لگتے ہیں۔ یہ ٹماٹر کیاری میں نہیں، تجربہ گاہیں میں اگائے گئے لگتے ہیں۔ قیمت دس روپے پاﺅ۔ ٹماٹر کا سائز اتنا بڑا ہے کہ ایک پاﺅ میں ایک ہی چڑھ سکتا ہے۔ دس روپے کا ایک ٹماٹر ہے۔ بھگوان، کیا ٹماٹر بھی این۔ آر۔آئی ہو گیا۔ شکاگو میں ایک ڈالر کا ایک ٹماٹر ملتا ہے۔ بھارت میں ٹماٹر اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سبزیاں عالمی مارکیٹ کی جنس بنتی جا رہی ہیں۔ ان کا گلوبلائزیشن ہو رہا ہے۔ پون کو یاد آتا ہے اسکے شہر میں کچرے پر بھی ٹماٹر اگ جاتا تھا۔ کسی نے پکا ٹماٹرکوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا، وہیں کلی لہلہا اٹھی۔ دو ماہ گزرتے گزرتے اس میںپھل لگ جاتے۔ چھوٹے چھوٹے سرخ ٹماٹر، رس سے بھرپور، یہاں جیسے بڑے ، بناوٹی اور مصنوعی نہیں، اصل اور کھٹے میٹھے۔

شہر کے بازاروں میں گھومنا شرد، پون، دیپندر، روجوندر اور شلپا کابرا کا شوق بھی ہے اور معمول بھی۔ روجوندر آلودگی پر پراجیکٹ رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ کندھے پرپرس اور کیمرہ لٹکائے ،کبھی وہ ایلس برج کے ٹریفک جام کی تصاویر اتارتی ہے، تو کبھی مارکیٹ میں جنریٹر سے نکلنے والے دھوئیں کا جائزہ لیتی ہے۔

 دیپندر کہتا ہے،”روجو تمہاری رپورٹ سے کیا ہوگا۔ کیا ٹرک اور جنریٹر دھواں چھوڑنا بند کر دیں گے؟“

روجو سگریٹ کا آخری کش لے کر اس کا ٹوٹا پاو ¿ں کے نیچے مسلتی ہے،”مائی فٹ! تم تو میری جاب کو ہی چیلنج دے رہے ہو۔ میری کمپنی کو اس سے مطلب نہیں ہے کہ گاڑیاں دھوئیں کے بغیر چلیں۔ اس کی منصوبہ بندی ہے کہ ہوا صاف کرنے والی پروڈکٹ بنیں۔ ایک ہربل اسپرے بھی بنا نے والی ہے۔ اسے ایک بار ناک کے پاس اسپرے کر لو، تو دھوئیں کی آلودگی آپ کی سانس کے راستے اندر نہیں جاتی۔“

”اور جو آلودگی آنکھ اور منہ کے راستے جائے گی وہ؟“

”تو منہ بند رکھو اور آنکھ میں ڈالنے کا کوئی آئی ڈراپ لاﺅ۔“

پون کے منہ سے نکل جاتا ہے،”میرے شہر میں آلودگی نہیں ہے۔“

”آ ہا ہا، پوری دنیا کو آلودگی پر تشویش ہے اور یہ پون کمار آ رہے ہیں سیدھا آسمان سے کہ دیکھیں ہمارے شہر میںآلودگی نہیں ہے۔ آپ الہ آباد کے بارے میں رومانٹک ہونا کب چھوڑوگے؟“

روجو ہنستی ہے،”واٹ ہی مینس از وہاں آلودگی کم ہے۔ ویسے پون میں نے سنا ہے یو پی میں ،اب بھی رسوئی میں لکڑی کے چولہے پر کھانا بنتا ہے۔ تب تو وہاں گھر کے اندر ہی دھواں بھر جاتا ہوگا؟“

”الہ آباد گاو ¿ں نہیں شہر ہے، تعلیمی دنیا میں اسے مشرق کا آکسفورڈ کہتے ہیں۔“

شلپا کابرا بات درمیان میں کاٹ دیتی ہے،” ٹھیک ہے، اپنے شہر کے بارے میں تھوڑا رومانٹک ہونے میں کیا حرج ہے۔“

 پون احسان مند نظروں سے شلپا کو دیکھتا ہے۔ اسے یہ سوچ کر برا لگا کہ شلپا کی غیر موجودگی میں وہ سب اس کے بارے میں ہلکے پن سے بولتے ہیں۔ پون کا ہی دیا ہوا لطیفہ ہے ۔شلپا کابرا، شلپا کا ”برا“۔

” وشواس نی جوت گھری گھرے گوجر گیس لاوے چھے“ یہ نعرہ ہے پون کی کمپنی کا۔ اس پیغام کو فروغ دینے اورمشتہر کرنے کا معاہدہ شیبا کمپنی کو ساٹھ لاکھ میں مل گیا۔ اس نے بھی سڑکیں اور چوراہے رنگ ڈالے ہیں۔

اٹیچی کیس میں کپڑے، آنکھوں میں خواب اوردل میں طرح طرح کے خیال لئے، نہ جانے کہاں کہاں سے نوجوان لڑکے نوکری کی خاطر اس شہر میں آ پہنچتے ہیں۔ بڑی بڑی سروس انڈسٹریز میں نوکری کرتے یہ نوجوان ،صبح نو بجے سے رات نو بجے تک انتھک محنت کرتے ہیں۔ ایک دفتر کے دو تین لڑکے مل کر تین یا چار ہزار تک کے کرائے کا ایک فلیٹ لے لیتے ہیں۔ سبھی برابر شئیر کرتے ہیں ،کرایہ، دودھ کا بل، نہانے دھونے کا سامان، لانڈری کا خرچا۔ اس انجان شہر میں جم جانا، ان کے آگے نوکری میں جم جانے جیسا ہی ایک چیلنج ہوتاہے، ہر سطح پر۔ کہاں اپنے گھر میں یہ لڑکے شہزادوں کی طرح رہتے تھے، کہاں ساری سہولیات سے محروم، گھر سے اتنی دور ،یہ سب کامیابی کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ نہ انہیں کھانے پینے کی فکر ہے ،نہ آرام کا خیال۔ ایک آنکھ کمپیوٹر پر گڑائے، یہ کھانے کی رسم ادا کر لیتے ہیں اور پھر لگ جاتے ہیں ،کمپنی کی کاروبار ی ترقی کو بڑھانے کی کوششوںمیں۔ ظاہر ہے، کاروبار یا منافع کے اہداف ،اتنے اونچے ہوتے ہیں کہ کامیابی کی خوشی ،ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی۔ کامیابی، اس دنیا میں، ایک فوروھیل ڈرائیو ہے ،جس میںا سٹیرنگ آپ کے ہاتھ میں ہے، پر باقی سارے کنٹرول کمپنی کے ہاتھ میں۔ وہی طے کرتی ہے آپ کو کس رفتار سے دوڑنا ہے اور کب تک ایل۔پی۔جی کے سیکشن میں کام کرنے والوں کے حوصلے اور حسرتیں بلند ہیں۔ سب کو یقین ہے کہ وہ جلد ہی آئی۔ او۔سی کو گجرات سے نکال دیں گے۔ ڈائریکٹر سے لے کر ڈلیوری مین تک میں، کام کےلئے جذبہ اور جنون ہے۔ مرکزی شہر میں جہاں جی۔جی۔سی۔ایل کا دفتر ہے، وہ ایک خوبصورت عمارت ہے، تین اطراف ہریالی سے گھری۔ سامنے کچھ خوبصورت مکانات ہیں، جنکے برآمدوں میں بڑے بڑے جھولے لگے ہیں۔ بغل میںسینٹ جےویرس اسکول ہے۔ چھٹی کی گھنٹی پر جب نیلے یونیفارم پہنے، چھوٹے چھوٹے بچے اسکول کے دروازے سے باہر بھیڑ لگاتے ہیں، تو جی۔جی۔سی۔ایل کے سرخ سلنڈروں سے بھری لال گاڑیاں، بڑا اچھاکنٹراسٹ بناتی ہیں، لال نیلا، نیلا لال۔

بیسویں صدی کی آخری دہائی کے تین جادو بھرے حروفوں نے بہت سے نوجوانوں کی زندگی اور سوچ کی سمت ہی بدل ڈالی تھی۔ یہ تین حروف تھے ،ایم بی اے۔ ملازمتوں میں ریزرویشن کی آندھی سے ستائے اعلی ذات کے خاندان، دھڑا دھڑ اپنے بیٹے بیٹیوں کو ایم بی اے میں داخل ہونے کا مشورہ دے رہے تھے۔ جو بچہ پون، شلپا اور روجوندر کی طرح کیٹ، میٹ جیسے داخلہ امتحانات نکال لے وہ تو ٹھیک، جو نہ نکال پائے اس کے لئے لمبی چوڑی داخلہ فیس دینے پر ایم۔ایم۔ایس کے دروازے کھلے تھے۔ ہر بڑے کالج نے دو طرح کے کورس بنا دیئے تھے۔ ایک کے ذریعے وہ شہرت حاصل کرتے تھے ،تو دوسرے کے ذریعے فنڈز۔ معاشرے کی طرح تعلیم میں بھی درجہ بندی آتی جا رہی تھی۔ ایم بی اے میں لڑکے سال بھر پڑھتے، پروجیکٹ بناتے، رپورٹ پیش کرتے اور ہر سیشن کے امتحان میں پاس ہونے کی جی توڑ محنت کرتے۔ایم۔ایم۔ایس میں رئیسوں ،صنعت کاروں اور سےٹھو ںکے بگڑے شاہزادے این ۔آر۔آئی کوٹے سے داخلہ لیتے، جم کر وقت برباد کرتے اور دو کی جگہ تین سال میں ڈگری لے کر ،اپنے والد کا کاروبار سنبھالنے یا بگاڑنے واپس چلے جاتے۔

شرد کے والد، الہ آباد کے نامی گرامی ڈاکٹر تھے۔شرد کو جب ایم ۔بی۔بی۔ایس میں داخل کروانے کی ان کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں، تو انہوں نے یکمشت د اخلہ فیس دے کر اس کا نام ایم۔ایم۔ایس میں لکھوا دیا۔ایم۔ایم۔ایس کی ڈگری کے بعد، انہوں نے اپنے اثرورسوخ سے اسے سن شائن بوٹ پالش میں ملازمت بھی دلوا دی۔ پر اس میں کامیاب ہونا، اب شرد کی ذمہ داری تھی۔ اسے اپنے والد کا سخت چہرہ یاد آتا اور وہ سوچ لیتا کہ کام میں چاہے کتنی بھی بے عزتی ہو ،وہ سہ لے گا، پر والد صاحب کی حقارت وہ نہیں سہ پائے گا۔ کمپنی کے ایم ڈی کبھی کبھار ہیڈ آفس سے آ کر چکر کاٹ جاتے۔ وہ اپنے منیجروں کو بھیج کر جائزہ لیتے اور شرد اور اس کے ساتھیوں پر برس پڑتے کہ،”پوری مارکیٹ میں بلی چھائی ہوئی ہے۔ شو رومز سے لے کر بل بورڈز اور بینرز تک، سب جگہ بلی ہی بلی ہے۔ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ اگر اسٹوریج کی قلت ہے، تو بلی کےلئے کیوں نہیں، سن شائن ہی کیوں؟“

شرد اور اسکے ساتھی اپنی پرانی دلیلیں پیش کرتے ،تو ایم ڈی تامرپرنی صاحب اور بھڑک جاتے،”بلی پالش کیا ربڑ شوز پر لگائی جا رہی ہے یا اس سے چپلیں چمکائی جا رہی ہیں؟“

اس بار انہوں نے شرد اور اس کے ساتھیوں کو ہدایت دی کہ شہر کے موچیوں سے بات کرکے رپورٹ دیں کہ وہ کون سی پالش استعمال کرتے ہیں اور کیوں؟

ایم ڈی تو پھوںپھاں کرکے چلتے بنے اور پیچھے لڑکوں کو موچیوں سے سر کھپانے کےلئے چھوڑ گئے۔ شرد اور اس کے ساتھی، صبح نو سے بارہ کے دوران شہر کے موچیوں کو ڈھونڈتے، ان سے بات کرتے اور نوٹس لیتے۔ دراصل مارکیٹ میں دن بدن مقابلہ سخت ہوتا جا رہاتھا۔ پیداوار، مارکیٹنگ اور فروخت کے درمیان مطابقت بٹھانا، شرد کا کام تھا۔ ایک ایک پروڈکٹ کے مقابلے میں، بیس بیس متبادل تھے۔ اور اوپر سے ان سب کو بہترین بتاتی انکی اشتہاری مہم تھی، جن کی وجہ سے مارکیٹنگ کا کام آسان ہونے کے بجائے مشکل سے مشکل ہوتا جاتا۔ صارفین کے پاس ایک ایک چیز کی کئی کئی بڑھیا چوائس تھیں۔

روجوندر نے پرانی کمپنی چھوڑ کر انڈیا لیور کے ٹوتھ پیسٹ ڈویژن میں کام سنبھالا تھا۔ اسے آج کل دنیا میں دانتوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ وہ کہتی،”ہماری پروڈکٹ کے ایک ایک آئٹم کو اتنا جدید کر دیا گیا ہے کہ اب اس میں صرف صابن ملانے کی کسر باقی ہے۔“ریڈیو اور ٹی وی پر دن میں سو بار سامعین اورناظرین کے شعور کو جھنجوڑتے اشتہارات، مارکیٹنگ کی کوششوں میں چیلنج اور انتباہ کا کام کرتے۔ صارفین بہت زیادہ امید کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ خریدتا ،جو ایکبارگی پوری نہ ہوتی دِکھتی۔ وہ واپس اپنے پرانے ٹوتھ پیسٹ پر آ جاتا، بغیر یہ سوچے کہ اسے اپنے دانتوں کی ساخت، کھانے پینے کی اقسام ، فطرت اور موروثی باتوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔

 شرد کو لگتا بوٹ پالش فروخت کرنا، سب سے مشکل کام ہے۔ تو روجوندر کو لگتا کہ گاہکوں کے منہ میں نیا ٹوتھ پیسٹ چڑھوانا ایک عذاب ہے اور پون پانڈے کو لگتا کہ وہ اپنی کمپنی کا ٹارگٹ، سیلز کا ہدف کس طرح پورا کرے۔ خالی وقت میں اپنی اپنی مصنوعات پر بحث کرتے کرتے وہ اتنی شرارت کرتے کہ لگتا کامیابی کا کوئی سٹہ کھیل رہے ہیں۔ پون میوزک سسٹم پر گانا لگا دیتا،”یہ تیری نظریں جھکی جھکی، یہ تیرا چہرہ کھلا کھلا۔ بڑی قسمت والا ہے ۔۔۔“

” سنی ٹوتھ پیسٹ جسے ملا “روجوندر گانے کی لائن مکمل کرتی۔

اےناگرام فنانس کمپنی کی طرف سے، شہر میں تین روزہ ثقافتی پروگرام کا انعقاد ہوا۔ گجرات یونیورسٹی کے وسیع گراﺅنڈ میں انتہائی خوبصورت فرنشنگ کی گئی۔ گجرات ویسے بھی اپنے روایتی پنڈالوں کی ساخت اور خوبصورتی کے لئے مشہور رہا ہے، پھر اس تقریب میں بجٹ کی کوئی حد نہ تھی۔ پون ، شلپا، روجو، شرد اور انوپم نے پہلے ہی اپنے پاس منگوا لئے۔ پہلے دن رقص کا پروگرام تھا، اگلے دن کلاسیکل میوزک تھا ۔ پنڈت بھیم سین جوشی کا گانا، ہری پرساد چورسیہ کی بانسری اور شیو کمار شرما کا سنتور۔ احمد آباد جیسے صنعتی، تجارتی نگری کے لئے، یہ ایک بے مثال ثقافتی سنگم تھا۔

تقریب کے تمام انتظامات، اے۔ایف۔سی کے نوجوان منیجروں کے ذمے تھے۔ مرکزی احاطے میں پندرہ ہزار ناظرین کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ احاطے کے چاروں کونوں اور بیچ بیچ میں بہت بڑے سپرا سکرین لگے تھے، جن پر اسٹیج کے فنکاروں کودکھایا جا رہا تھا۔ ان کی وجہ سے دور بیٹھے ناظرین کو بھی فنکاروںکے قریب ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ ناظرین کی سیٹوں سے ہٹ کر، احاطے کی بیرونی دیوار کے قریب ایک ا سنیک بازار لگایا گیا تھا۔ ثقافتی پروگرام میں داخلہ مفت تھا، تاہم کھانے پینے کے لئے سب کو پچاس روپے فی کس کے حساب سے کوپن خریدنا لازمی تھا۔

دوسرے دن پون، بھیم سین جوشی کو سننے گیا تھا۔ سپرا سکرین پر بھیم سین جوشی، مہا بھیم سین جوشی نظر آ رہے تھے۔ ”سب ہے تیرا“ پر آتے آتے انہوں نے ہمیشہ کی طرح سر اور تال سے سماں باندھ دیا۔ لیکن پون کو اس بات سے الجھن ہو رہی تھی کہ ارد گرد کی سیٹوں پر بیٹھے ناظرین کی دلچسپی گانے سے زیادہ کھانے پینے میں تھی۔ وہ بار بار اٹھ کرا سنیک بازار جاتے، وہاں سے انکل چپس کے پیکٹ اور پیپسی لاتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے ماحول میں راگ اہیر بھیرو کے ساتھ کچررکچرر، چرر چرر کی آوازیں بھی شامل ہو گئیں۔ زیادہ تر ناظرین کے لئے وہاں دیکھا جانا ہی اپنی موجودگی کی علامت تھی۔

پون نے اپنے شہر میں اس آرٹسٹ کو سنا تھا۔ مہتا سنگیت کمیٹی کے ہال میں کھچا کھچ بھیڑ میں ساکت بیٹھے تھے ناظرین۔ الہ آباد میں آج بھی ادب اور موسیقی کے سب سے زیادہ چاہنے والے اور پرستار نظر آتے ہیں۔ وہاں اس طرح درمیان میں اٹھ کر کھانے پینے کا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

اپنے شہر کے ساتھ ہی اپنے گھر کی یاد بھی اسے امڈ آئی۔ اس نے سوچا کہ پروگرام ختم ہونے پر وہ گھر فون کرے گا۔ ماں اس وقت کیا کر رہی ہوں، شاید دہی میں خمیر لگا رہی ہوں گی؟ دن کا آخری کام۔ پاپا کیا کر رہے ہوں گے، شاید خبروں کی پچاسویں قسط سن رہے ہوں گے۔ بھائی کیا کر رہا ہوگا۔ وہ ضرور ٹیلی فون پر چپکاہوگا۔ اسی کی وجہ سے فون اتنا مصروف رہتا ہے کہ خود پون کو اپنے گھر بات کرنے کے لئے بھی پی۔سی۔او پر ایک ایک گھنٹے بیٹھنا پڑ جاتا ہے۔ بالآخر جب فون ملتا ہے ، تب سگھن سے پتہ چلتا ہے کہ ماں پاپا کی ابھی ابھی آنکھ لگی ہے۔ کبھی ان سے بات ہوتی ہے، کبھی نہیں ہوتی۔ جب ماں اداس لہجے میں پوچھتی ہیں،”کیسے ہو پنّو، کھانا کھایا، چٹھی ڈالا کرو۔“وہ ہر بات پر ہاں کر دیتا ہے۔ پر تسلی نہیں ہوتی۔ اس کا اپنی ماں سے بے حد قریبی رشتہ رہا ہے۔ فونز کے روپ میں، آلات کو بیچ میں ڈال کر، صرف اس تک پہنچا جا سکتا ہے، پرمحسوس نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ماں کے چہرے کی ایک ایک جنبش دیکھنا چاہتا ہے۔ والد صاحب ہنستے ہوئے حیرت انگیز طور پر خوبصورت لگتے ہیں۔ اتنی دور بیٹھ کر پون کو لگتا ہے ماں، باپ اور بھائی اس کے البم کی سب سے خوبصورت تصاویر ہیں۔ اسے لگا اب سگھن کس سے الجھتاہوگا۔ سارا دن اس پر لدا رہتا تھا، کبھی تکرار میں، توکبھی لاڈ میں۔ کئی بار سگھن اپنا بچپنا چھوڑ کر بڑا بھیا بن جاتا۔ پون کسی بات سے اداس ہوتا ،تو سگھن اسے لپٹ لپٹ کر مناتا،”بھیا، بتاﺅ کیا کھاﺅ گے؟ بھیا، تمہاری شرٹ استری کر دوں؟ بھیا، ہمیں سبل لائنز لے چلو گے؟“

شعر وسخن سے محبت کرنے والے والدین کی وجہ سے، گھر میں کمرے کتابوں سے بھرے پڑے تھے۔ اسکول کی پڑھائی کی وجہ سے دوسری کتابیں پڑھنے کا ٹائم نہیں ملتا تھا، پھر بھی اپنے پاپا اور ماں کے اکسانے کی وجہ سے،وہ تھوڑا بہت پڑھ لیتا تھا۔ انہوں نے اسے پریم چند کی کہانیاں اور کچھ مضامین پڑھنے کو دیئے تھے۔ ”کفن“،”پوس کی رات“ جیسی کہانیاں اس ذہن پر نقش ہو گئی تھیں ،لیکن مضامین کے حوالے سب گڈمڈ ہو گئے تھے۔

مطالعے کے لئے اب وقت ہی نہیں تھا۔ کمپنی کی کرم بھومی نے اسے اس زمانے کا ابھی منیو بنا دیا تھا۔ گھر کی بہت ہڑک اٹھنے پر ہی فون پر بات کرتا۔ ایک آنکھ بار بار میٹرا سکرین پر اٹھ جاتی۔ چھوٹو کوئی چٹکلا سنا کر ہنستا۔ پون بھی ہنستا، پھر کہتا،”اچھا چھوٹو، اب کام کی بات کر، چالیس روپے کا ہنس لئے ہم لوگ۔“

ماں پوچھتی،”تم نے گدا بنوا لیا؟“

وہ کہتا،” ہاں ماں، بنوا لیا۔“

حقیقت یہ تھی کہ گدا بنوانے کی فرصت ہی اس کے پاس نہیں تھی۔ گھر سے فوم کی رضائی لایا تھا، اسی کو بستر پر گدے کی طرح بچھا کے رکھا تھا۔ پر اسے پتہ تھا کہ ”نہیں“ کہنے پر ماں نصیحتوں کے ڈھیر لگا دیں گی۔

 ”گدے کے بغیر کمر اکڑ جائے گی۔ میں یہاں سے بنوا کر بھیجوں؟ ۔اپنا خیال بھی نہیں رکھ پاتا، ایسی نوکری کس کام کی۔ پبلک سیکٹر میں آ جا، چین سے تو رہے گا۔“

احمد آباد، الہ آباد کے درمیان ایس۔ٹی۔ڈی کال کی پلس ریٹ، دل کی دھڑکن کی طرح سرپٹ چلتی ہے ، ابھی پانچ منٹ بات کرکے دل بھی نہیں بھرا ہوتا کہ سو روپے نکل جاتے۔ تب اسے لگتا ”ٹائم از منی“۔ وہ خودکو دھتکارتا کہ گھر والوں سے بات کرنے میں بھی وہ بنیا پن دکھا رہا ہے۔ پر شہر میں دیگر چیزوں پر اتنا خرچ ہو جاتا کہ فون کے لئے پانچ سو سے زیادہ کی گنجائش ،بجٹ میں نہ رکھ پاتا۔

ہفتہ کی شام پون ہمیشہ کی طرح ابھیشیک شکلا کے یہاں پہنچا تو پایا کہ وہاں ماحول کچھ الگ ہے۔ اکثر یہ ہوتا کہ وہ، ابھیشیک، اس کی بیوی راجُل اور انکے ننھے بیٹے انکور کے ساتھ کہیں گھومنے نکل جاتا۔ لوٹتے ہوئے وہ باہر ہی ڈنر کرلیتے یا کہیں سے بڑھیا سبزی کا سالن پیک کرا کر لے آتے اور روٹی سے کھاتے۔ آج انکور ضد پکڑے بیٹھا تھا کہ پارک میں نہیں جائیں گے، بازار جائیں گے۔ راجُل اسے منا رہی تھی،”انکور پارک میں تمہیں ریچھ دکھائیں گے اور خرگوش بھی۔“

”وہ سب میں نے دیکھ لیا، ہم بجال دیکھیں گے۔“

ہارمان کر وہ بازار چل دئیے۔ کھلونوں کی دکان پر انکور اڑ گیا۔ کبھی وہ ائیرگن ہاتھ میں لیتا ، توکبھی ٹرین۔ اس کے لئے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ کیا لے۔ پون نے الیکٹرانک بندر اسے دکھایا، جو تین بار چھلانگیں مارتا اور کھوکھو کرتا تھا۔

انکور پہلے تو چپ رہا۔ جیسے ہی وہ لوگ دام چکا کر اور بندر پیک کرا کر چلنے لگے، انکور مچلنے لگا،”بندر نہیں ،گن لینی ہے۔“

راجُل نے کہا،” گن گندی، بندر اچھا۔ راجابیٹا بندر سے کھیلے گا۔“

” ہم ٹھائیںٹھائیں کریں گے، ہم بندر پھینک دیں گے۔“

دوبارہ دکان پر جا کر کھلونے دیکھے گئے۔ بے دلی سے ائیرگن پھر نکلوائی گئی۔ ابھی اسے دیکھ، سمجھ رہے تھے کہ انکور کی توجہ پھر بھٹک گئی۔ اس نے دکان پر رکھی سائیکل دیکھ لی۔ ” چھیکل لینا، چھیکل لینا۔“وہ چلانے لگا۔

”ابھی تم چھوٹے ہو۔ ٹرائی سائیکل گھر میں ہے تو۔“راجُل نے سمجھایا۔

ابھیشیک کی برداشت ختم ہو رہی تھی،”اس کے ساتھ بازار آنا ایک مصیبت ہے، ہر بار کسی بڑی چیز کے پیچھے لگ جائے گا۔ گھر میں کھلونے رکھنے کی جگہ بھی نہیں ہے اور یہ خریدتا چلا جاتا ہے۔“

بڑی مہارت سے انکور کی توجہ واپس بندر میں لگائی گئی۔ دکاندار بھی اب تک اکتا چکا تھا۔ ان سب چکر وںمیں اتنی دیر ہو گئی کہ اور کہیں جانے کا وقت ہی نہیں بچا۔ واپسی میں وہ لَوگارڈن سے ملحقہ مارکیٹ میں بھےل پوری، پانی پوری کھانے رک گئے۔ بازار گاہکوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ انکور نے کچھ نہیں کھایا، اسے نیند آنے لگی۔ کسی طرح اسکو گاڑی میں لٹا کر وہ گھر آئے۔

ابھیشیک نے کہا،”پون تم لکی ہو، ابھی تمہاری جان کو نہ بیوی کا جھنجھٹ ہے اورنہ بچے کا۔“

راجُل تنک گئی،” میرا کیا جھنجھٹ ہے تمہیں؟“

” میں تو جنرل بات کر رہا تھا۔“

” یہ جنرل نہیں اسپیشل بات تھی۔ میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں ابھی بچہ نہیں چاہتی۔ تمہیں ہی بچے کی پڑی تھی۔“

پون نے دونوں کو سمجھایا،” اس میں جھگڑے والی کوئی بات نہیں ہے۔ ایک بچہ تو گھر میں ہونا ہی چاہئے۔ ایک سے کم تو پیدا بھی نہیں ہوتا، اس وجہ سے ایک تو ہوگا ہی ہوگا۔“

ابھیشیک نے کہا،” میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ نو مور ڈسکشن۔“

لیکن راجُل کا موڈ خراب ہو گیا۔ وہ گھر کے آخری کام نپٹاتے ہوئے بھنبھناتی رہی،”ہندوستانی مرد کو شادی کے سارے سکھ چاہئے، بس ذمہ داری نہیں چاہئے۔ میرا کتنا حرج ہوا۔ اچھی بھلی سروس چھوڑنی پڑی۔ میری تمام کولیگس کہتی تھیں، راجُل اپنی آزادی چوپٹ کرو گی اور کچھ نہیں۔ آج کل تو ڈرنکس کا زمانہ ہے۔ ڈبل انکم نو کڈز (دوہری آمدنی، بچے نہیں)۔ سینٹی منٹ کے چکر میں پھنس گئی۔“

کسی طرح رخصت لے کرپون وہاں سے نکلا۔

کمپنی نے پون اور انوپم کا تبادلہ راجکوٹ کر دیا۔ وہاں انہیںنئے سرے سے آفس شروع کرنا تھا، ایل۔پی۔جی کی خوردہ مارکیٹ کو سنبھالنا تھا اور پورے سوراشٹر میں جی۔جی۔سی نیٹ ورک کوپھیلانے کے امکانات پر پراجیکٹ تیار کرنا تھا۔

تبادلے اپنے ساتھ تکلیفیںبھی لاتے ہیں ۔پر ان دونوں کو اتنی نہیں ہوئیں، جتنی کا خدشہ تھا۔ ان کے لئے احمد آباد بھی انجانا تھا اور راجکوٹ بھی۔ پردیسی کے لئے پردیس میں پسند کیا، ناپسند کیا۔ احمد آباد میں اتنی جڑیں جمی نہیں تھیں کہ اکھڑے جانے پر درد ہوتا۔ پر احمد آباد، راجکوٹ روٹ پر ڈیلکس بس میں جاتے ہوئے، دونوں کو یہ ضرور لگ رہا تھا کہ وہ ہیڈ آفس سے برانچ آفس کی جانب دھکیل دئیے گئے ہیں۔

گوجر گیس ،سوراشٹر کے دیہاتوں میں اپنے پاو ¿ں پسار رہی تھی۔ اس کے لئے وہ اپنے نئے عہدے داروں کو دورے اور معلومات کا وسیع پروگرام سمجھا چکی تھی۔استعمال کا شعور، توانائی، فنانس اور مارکیٹنگ کے لئے مختلف ٹیمیں گاﺅں کی سطح پر کام کرنے نکل پڑی تھیں۔ یوں تو پون اور انوپم بھی ابھی نئے ہی تھے، پر انہیں ان چھبیس عہدے داروں کو کام سمجھانا اور انکا جائزہ لینا تھا۔ راجکوٹ میں ابھی وہ ایک دن ٹکتے نہیں تھے کہ اگلے ہی دن انہیں سورت، بھڑوچ، انکلےشور کے دورے پر بھیج دیا جاتا۔ ہر جگہ کسی تین ستارہ ہوٹل میں انہیں ٹکایا جاتا، پھر اگلا مقام۔

سورت کے پاس ہجیرا میں بھی پون اور انوپم گئے۔ وہاں کمپنی کے تیل کے کنوئیں تھے۔ لیکن پہلا احساس انہیںکمپنی کے تسلط کانہیں، بلکہ بحیرہ عرب کے تسلط کا ہوا۔ ایک طرف ہرے بھرے درختوں کے درمیان واقع بڑی بڑی فیکٹریاں، دوسری طرف شور مچاتا بحیرہ عرب۔

ایک دن انہیں ویر پور بھی بھیجا گیا۔ راجکوٹ سے پچاس میل پر اس چھوٹے سے قصبے میں جلرام بابا کا آشرم تھا۔ وہاں کے پجاری کو پون نے گوجر گیس کی اہمیت سمجھا کر چھ گیس کنکشن کا آرڈر لیا۔ کچھ ہی دیر میں جلرام بابا کے بھگتوں اور حامیوں میں خبر پھیل گئی کہ بابا نے گوجر گیس واپرنے (استعمال کرنے) کا حکم دیا ہے۔ دیکھتے دیکھتے شام تک پون اور انوپم نے دو سو چونسٹھ گیس کنکشنز کے آرڈرز حاصل کر لیے۔ ویسے گوجر گیس کا مقابلہ ہر جگہ آئی۔او۔سی سے تھا۔ لوگ صنعتی اور گھریلو استعمال کے فرق کو اہمیت نہیں دیتے۔ جس میں چار پیسے بچیں، وہیں انہیں بہتر لگتا۔ کئی جگہ انہیں پولیس کی مدد لینی پڑی کہ گھریلو گیس کا استعمال صنعتی اکائیوں میں نہ کیا جائے۔

کریٹ ڈیسائی نے چار دن کی چھٹی مانگی۔ توپون کا ماتھا ٹھنک گیا۔ پرائیویٹ انٹرپرائز میں دو گھنٹے کی چھٹی لینا بھی فضول خرچی سمجھا جاتا تھا، پھر یہ تو اکٹھے چار دن کا معاملہ تھا۔ کریٹ کی غیر حاضری کا مطلب تھا ،ایک دیہی علاقے سے چار دنوں کے لئے بالکل کٹ جانا۔

 ”آخر تمہیں ایسا کیا کام آ پڑا؟“

” اگر میں بتاو ¿ں گا ،تو آپ چھٹی نہیں دیں گے۔“

” کیا تم شادی کرنے جا رہے ہو؟“

”نہیں سر۔ میں نے آپ کو بولا نہ ۔میرے کوجرور جانا مانگتا۔“

بہت کریدنے پر پتہ چلا کریٹ ڈیسائی ،سرل مارگ کے کیمپ میں جانا چاہتا ہے۔ راجکوٹ میں ہی تیرہ میل دور، اسکے سوامی جی کا کیمپ لگے گا۔

”جو کام تمہارے ماں باپ کے لائق ہے، وہ تم ابھی سے کرو گے۔“پون نے کہا۔

”نہیں سر، آپ ایک دن کیمپ کے مےڈٹےشن میں حصہ لیجئے۔ دل کو بہت شانتی ملتی ہے۔ سوامی جی کہتے ہیں، مےڈٹےشن پری پئیرس یو فار یورمنڈےز۔“( دھیان لگانے سے آپ اپنے سومواروں کا سامنا بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔)

”تو اس کے لئے چھٹی کی کیا ضرورت ہے۔تم کام سے لوٹ کر بھی کیمپ میں جا سکتے ہو۔“

”نہیں سر۔ پوجا اور دھیان پھل ٹائم جاب ہے۔“

پون نے بے دلی سے کریٹ کو چھٹی دے دی۔ دل ہی دل میں وہ کھولتا رہا۔ ایک شام وہ یوں ہی کیمپ کی طرف چل پڑا۔ دل میں کہیں یہ بھی تھا کہ کریٹ کی موجودگی چیک کر لی جائے۔

راجکوٹ/ جونا گڑھ لنک روڈ پر دائیں ہاتھ کو بہت بڑے پھاٹک پر ” دھیان شِوِر سرل مارگ“ کا بورڈ لگا تھا۔ تقریباً سارا ہی شہر موجود تھا۔ گاڑیوں کے قافلے آ اور جا رہے تھے۔ اتنی بھیڑ تھی کہ اس میں کریٹ کو ڈھونڈنا ممکن ہی نہیں تھا۔ اکتایا ہوا پون اندر گھسا۔ بہت بڑے احاطے میں ایک طرف بڑی سی کھلی جگہ گاڑی کھڑے کرنے کے لئے چھوڑی گئی تھی، جو تین چوتھائی بھری ہوئی تھی۔ وہیں آگے کی طرف لال پیلے رنگ کا پنڈال تھا۔ دوسری طرف ترتیب سے خیمے لگے ہوئے تھے۔ کچھ خیموں کے باہر کپڑے بھی خشک ہو رہے تھے۔ اس حصے میں بھی ایک پھاٹک تھا جس پر لکھا تھا کہ داخلہ منع ہے۔

پنڈال کے اندر جب تک پون گھسنے میں کامیاب ہوا ،تب تک سوامی جی کا پروچن اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکا تھا۔ وہ نہایت پرسکون، معتدل، انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہہ رہے تھے۔” پریم کرو، پرانماتر سے پریم کرو۔ پریم کوئی ٹیلی فون کنکشن نہیں ہے، جو آپ صرف ایک منش سے بات کریں۔ پریم وہ آلوک ہے، جوسموچے کمرے کو، سموچے جیون کو آلوکت کرتا ہے۔ اب ہم دھیان کریں گے۔ اوم۔“

ان کے ”اوم“کہتے ہی پانچ ہزار افراد سے بھرے پنڈال میں سناٹا چھا گیا۔ جو جہاں جیسے بیٹھا تھا، ویسے ہی آنکھ موند کر دھیان میں چلا گیا۔

آنکھیں بند کر کے پانچ منٹ بیٹھنے پر، پون کو بھی بہت زیادہ سکون کا احساس ہوا۔ کچھ کچھ ویسا ہی، جب وہ لڑکپن میں بہت بھاگ دوڑ کر لیتا تھا ،تو ماں اسے زبردستی اپنے ساتھ لٹا لیتی اور تھپکتے ہوئے ڈپٹتی،”بچہ ہے کہ آفت۔ خاموشی سے آنکھیں بند کر، اور سو جا۔“اسے لگا اگر کچھ دیر اور وہ ایسے بیٹھ گیا، تو واقعی سو جائے گا۔

اس نے تھوڑی سے آنکھیں کھول کر اغل بغل دیکھا، سبھی دھیان میں گم تھے۔ دیکھنے سے سبھی وی آئی پی ٹائپ کے لوگ تھے، جیب میں جھانکتے موبائل فون اور گھٹنوں کے درمیان دبی منرل واٹر کی بوتلیں، انہیں ایک الگ مقام دے رہی تھیں۔ کامیابی کی اونچائیوں کی تلاش میں، یہ بھگت جانے کس جیٹ کی رفتار سے دن بھر دوڑتے پھرتے تھے، اپنے بزنس یا جاب کے اہداف کی تکمیل کا حصہ بنے انسان۔ پر یہاں اس وقت یہ شانتی کے سفیر تھے۔

کچھ دیر بعد اجتماع ختم ہوا۔ سب نے سوامی جی کو مون نمن کیا اور اپنی اپنی گاڑیوں کی سمت چل دیئے۔ پارکنگ پر گاڑیوں کی آوازیں اور تیکھے میٹھے ہارن سنائی دینے لگے۔ واپسی میں پون کا کریٹ پر غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اسے اپنا آپ پرسکون اور صحت مند لگ رہا تھا۔ اسے یہ اچھا لگا کہ بھاگ دوڑ سے بھری زندگی میں، چار دن کا وقت دھیان کے لئے نکالا جائے۔ سوامی جی کے خیالات بھی اسے بہترین اور تازگی سے بھرے لگے۔ جہاں دیگر ،دھرم کی رسومات کو خاص اہمیت دیتے ہیں، وہاںکریٹ کے سوامی جی صرف روحانیت پر زور دیتے رہے۔ سوچو، غور کرو اور روح کی صفائی، ان کی سرل مارگ( سادہ راستے )کے اصول تھے۔

سرل مارگ مشن کے بھگت، ان بھگتوں سے ہر اعتبار سے مختلف تھے ،جو اس نے اپنے شہر میں سالہا سال ماگھ میلے میں آتے دیکھے تھے۔ پریشان حالی کی تصویر بنے وہ بھگت ناقابل بیان تکلیفیںجھیل کر مکتی پانے کی کوشش کرتے۔ ذاتی اشیاءکے نام پر ان کے پاس ایک عدد میلی کچےلی گٹھری ہوتی، ساتھ میں بوڑھی ماں یا بہن اور انٹی میں دس بیس روپے۔ کمبھ کے میلے پر لاکھوں کی تعداد میں یہ بھگت گنگا میا تک پہنچنے، ڈپکی لگاتے اور نجات کی خواہش کے ساتھ گھر واپس لوٹ جاتے۔ غورو فکر کے بجائے منتر جپ کروہ بھگت، بس اتنا سمجھتے کہ گنگا ایک مقدس پانی ہے اور ان کے گناہوںکو اتارنے والا۔ اس سے اوپر سوچنا ان کے بس سے باہر تھا۔

پر کریٹ کے سوامی، کرشنا سوامی جی مہاراج کے بھگت ، سوسائٹی کے ایک سے ایک تعلیم یافتہ، اعلی سطح کے افسر اور تاجر تھے۔ کوئی ڈاکٹر تھا تو کوئی انجینئر، کوئی بینک افسر ،تو کوئی پرائیویٹ سیکٹر کا منیجر۔ یہاں تک کہ بہت سے چوٹی کے آرٹسٹ بھی ان کے بھگتوں میں شمار ہوتے تھے۔ سال میں چار بار وہ اپنا کیمپ لگاتے، ملک کے مختلف شہروں میں۔ پورے ملک سے ان کے بھگت وہاں پہنچتے۔ ان کے کچھ غیر ملکی بھگت بھی تھے ،جو ہندوستانیوں سے زیادہ مقامی بننے اور دِکھنے کی کوشش کرتے۔

پون نے دو چار بار سوامی جی کی گفتگو سنی۔ سوامی جی کی گفتگو اثر دار تھی اور شخصیت پر کشش۔ وہ تہمد کے اوپر کرتا پہنا کرتے۔ دیگر دھرم اچاریوں کی طرح نہ انہوں نے بال بڑھا رکھے تھے، نہ داڑھی۔ وہ مانتے تھے کہ انسان کو اپنا ظاہری روپ بھی اندرونی روپ کی طرح صاف رکھنا چاہئے۔ انکا حقیقت پسندانہ جیون فلسفہ انکے بھگتوں کو بہت درست لگتا۔ وہ سب بھی اپنے کاموںکو بالکل ترک نہیں کرتے،بس اس میں سے چار دن کی مہلت نکال کر، اس روحانی ہالیڈے کے لئے آتے۔ وہ اسے ایک ”تجربہ“مانتے۔ جب سوامی جی ایک دم رواں اورپر اعتماد انگریزی میںہندوستانی لوگوں کی طاقت اور قوت سمجھاتے، بھگتوںکا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ سوامی جی ہندی بھی بخوبی بول لیتے۔ عورتوں کے کیمپ میں وہ اپنا آدھا بیان ہندی میں دیتے اور آدھاانگریزی میں۔

 سرل مارگ مشن شروع کرنے سے پہلے سوامی جی ۔پی۔پی۔ کے کمپنی میں اسٹاف مینیجر تھے۔ مشن کی ساخت، آپریشن اور کام کی منصوبہ بندی میں ان کی انتظامی مہارت دیکھنے کو ملتی تھی۔ کیمپ میں اتنی بھیڑ جمع ہوتی تھی ،پر نہ کہیں افراتفری ہوتی نہ شورشرابا۔ لا شعوری طور پر پون ان سے متاثر ہوتا جا رہا تھا۔ مگر یہ اثرات اس پر زیادہ دیرٹھہر نہیں پاتے، کیونکہ کام کے سلسلے میں اسے راجکوٹ کے ارد گرد کے علاقوں کے علاوہ بار بار احمدآباد بھی جانا پڑتا۔ احمد آباد میں دوستوں سے ملنا بھی اچھا لگتا۔ ابھیشیک کے یہاں جا کر انکور کی نئی نئی شرارتیں دیکھنا اسے مزہ دیتا۔

ابھیشیک نے سنجیدگی سے آئیڈیا سمجھا۔ا سکرپٹ لکھا گیا۔ اب اشتہاری فلم بننی تھی۔ اسے ایسی ماڈل کی تلاش تھی ،جس کی شخصیت میں دانت اہمیت کے حامل ہوں، ساتھ ہی وہ خوبصورت بھی ہو۔ اس کے علاوہ دو ایک لائن کے ڈائیلاگ بولنے کا بھی اسے کچھ شعور ہو۔ اسکے پاس ماڈلزکی ایک مفصل فہرست تھی، پر اس وقت وہ کام نہیں آ رہی تھی۔ مشکل یہ تھی کسی بھی پروڈکٹ کی تشہیر کرنے میں، ایک ماڈل کا چہرہ دن میں اتنی بار میڈیا نیٹ ورک پر دکھایا جاتا کہ وہ اسی پروڈکٹ کے اشتہارات سے چپک کر رہ جاتا۔ اگلی کسی پروڈکٹ کے اشتہار میں اسی ماڈل کو لینے سے اشتہار ہی پٹ جاتا۔ نئے چہروں کی بھی کمی نہیں تھی۔ روز ہی اس فیلڈ میں نئی نئی لڑکیاں جوکھم اٹھانے کو تیار آتی تھیں ،پر انہیں ماڈل بنائے جانے کا بھی ایک طریقہ کار تھا۔ اگر سب کچھ طے ہونے کے بعد کیمرہ مین اسے ریجیکٹ کر دے، تب بھی اسے لینا مشکل تھا۔ ابھیشیک جس اشتہاری کمپنی میں کام کرتا تھا، اس کی آج کل ایک اور کمپنی کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ وار چھڑی ہوئی تھی۔ دونوں کے اشتہارات ایک کے بعد ایک ٹی وی چینلوں پر دکھائے جاتے۔ ایک میں ڈینٹسٹ کا بیان ثبوت کے طور پر دیا جاتا، تو دوسرے میں اسی بیان کی تردید۔ دونوں ٹوتھ پیسٹ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تھے۔ ان کمپنیوں کا جتنا پیسہ ٹوتھ پیسٹ بنانے پر لگ رہا تھا، تقریباً اتنا ہی اس کی مشہوری پر۔ ٹوتھ پیسٹ تقریبا ًایک جیسے ہی تھے، دونوں کی رنگت بھی ایک تھی، پر کمپنیاںمختلف ہونے کی وجہ سے ان کی مختلف خاصیتوں اور فوائد کو ثابت کرنے کی ایک دوڑ سی مچی ہوئی تھی۔ اسی لئے ابھیشیک کی کمپنی کریسنٹ کارپوریشن کو نوے لاکھ کا ایڈورٹائزنگ بجٹ ملا تھا۔

آج کل ابھیشیک کے ذمے کسی ماڈل کا انتخاب کرنا تھا۔ وہ ایک بیوٹی پارلر کی مالکن نیکتا پر دباو ¿ ڈال رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی تانیا کو ماڈلنگ کرنے دیں۔ اس سلسلے میں وہ کئی بار ”روزِز“ پارلر میں گیا۔ اسی کو مدعا بنا کر میاں بیوی میں کشیدگی ہو گئی۔

راجُل کا خیال تھا کہ روزِز اچھی جگہ نہیں ہے۔ وہاں علاج کی آڑ میں غلط دھندے ہوتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اشتہاری فلم بنانے کا کام، اس کی کمپنی کا بمبئی یونٹ کرے، یہاں احمدآباد میں اچھی فلم بننا ممکن نہیں ہے۔ ابھیشیک کا کہنا تھا کہ وہ بمبئی کی روائتی اشتہاری فلموں سے اکتا گیا ہے۔ وہ یہیں رہ کر بہترین کام کرکے دکھائے گا۔

”یوں کہو کہ تمہیں ماڈل کی تلاش میں مزہ آ رہا ہے۔“راجُل نے طعنہ مارا۔

 ”یہی سمجھ لو۔ یہ میرا کام ہے، اسی کی مجھے تنخواہ ملتی ہے۔“

”مزے ہیں۔ تنخواہ بھی ملتی ہے، لڑکی بھی ملتی ہے۔“

ابھیشیک اکھڑ گیا،” کیا مطلب تمہارا؟ تم ہمیشہ ٹیڑھاہی سوچتی ہو۔ جیسے تمہارے ٹیڑھی دانت ہیں، ویسی ہی ٹیڑھی تمہاری سوچ ہے۔“

راجُل کا، اوپر نیچے کا ایک ایک دانت ٹیڑھا نکلا ہوا تھا۔ خاص زاویہ سے دیکھنے پر وہ ہنستے ہوئے اچھا بھی لگتا تھا۔

 ”شروع میں اسی بانکے دانت پر آپ فدا ہوئے تھے۔“راجُل نے کہا،” آج آپ کو یہ ٹیڑھا لگنے لگا۔“

” پھر تم نے غلط لفظ استعمال کیا۔ بانکا لفظ دانت کے ساتھ نہیں بولا جاتا۔ بانکی ادا ہوتی ہے، دانت نہیں۔“

”لفظ اپنی جگہ سے ہٹ بھی سکتے ہیں۔ لفظ پتھر نہیں ہیں جو جمے رہیں۔“

” تم اپنی زبان و بیان کی کمزوری چھپا رہی ہو۔“

” کوئی بھی بات ہو، سب سے پہلے تم میری غلطیاں گنانے لگتے ہو۔“

” تم میرا دماغ خراب کر دیتی ہو۔“

”اچھا سوری، پر اب تم نیکتا کے یہاں نہیں جاو ¿ گے۔ اس سے اچھا ہے کہ تم یونیورسٹی کی طالبات میں کوئی صحیح چہرہ تپاش کرو۔“

” تپاس نہیں، تلاش کرو۔“

”تلاش ہی سہی، پر آپ روزِز نہیں جاو ¿ گے۔“

جب سے راجُل نے نوکری چھوڑی، اس کے اندر عدمِ تحفظ کا احساس گھر کر گیا تھا۔ ساڑھے چار سال کی نوکری کے بعد وہ صرف اس وجہ سے ہٹا دی گئی کیونکہ اس کی اشتہاری ایجنسی مانتی تھی کہ گھر اور دفتر کے دونوں محاذ بیک وقت سنبھالنا ،اس کے بس کی بات نہیں۔ خاص طور پر جب وہ حاملہ تھی اور اس کے ہاتھ سے سارے اہم کام لے کر سادھنا سنگھ کو دے دیے گئے تھے۔ انکور کے پیدا ہونے تک دفتر میں ماحول اتنا بگڑ گیا کہ ڈیلیوری کے بعد راجُل نے استعفی دے دیا۔لیکن اس کے بعد سے وہ شوہر کے بارے میں بڑی ہوشیار اور حساس ہو گئی تھی۔ اسے لگتا تھا ابھیشیک اتنا مصروف نہیں رہتا، جتنا وہ ڈرامہ کرتا ہے۔ پھر اشتہاری کمپنیوں کی دنیا تغیر اورکشش سے بھرپور تھی۔ روز نئی نئی لڑکیاں ماڈل بننے کا خواب آنکھوں میں لیے ہوئے ،کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹاتیں۔ ان کے استحصال کے خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔

جاری ہے

اگلی قسط اس لنک پر

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے