سر ورق / کہانی / مشن اسکواڈ۔۔۔ محمد ندیم اختر

مشن اسکواڈ۔۔۔ محمد ندیم اختر

عبیرہ بلاخوف و خطر آگے بڑھی ۔

                ”کاکروچ کو دیکھو تو شور مچانے کی بجائے اسے مار ڈالو ، بھلا کیسے ….؟ ایسے ….!“ ایک پٹاخ کی آواز سے کاکروچ زمین پر چاروں شانے چت پڑا تھا ۔ کچن کی ایک نکڑ میں فاطمہ باجی تھر تھر کانپ رہی تھی ۔ عبیرہ کاکروچ کو مارنے کے بعد ہنستے ہوئے فاطمہ باجی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ فاطمہ باجی کی چیخ و پکار سن کر امی عبیرہ کی امی بھی بھاگتے ہوئے کچن میں پہنچی تو سارا کاکروچ کو مرے دیکھ کر سارا ماجرا ان کی سمجھ میں آگیا کہ فاطمہ کی چیخ و پکار کیوں تھی ۔

                ”عبیرہ تو میری شیرپتر ہے ۔ فاطمہ تم بدھو ہی رہنا ۔ “عبیرہ کا ہمیشہ کی طرح بہادرانہ کارنامہ دیکھ کر امی جان عبیرہ کی بلائیں لینے لگیں ۔ عبیرہ کی تعریف کرتے ہوئے امی جان نے اس بات کا خیال رکھا کہ وہ عبیرہ سے دور ہی رہے کیونکہ وہ بھی فاطمہ باجی کی طرح کاکروچ سے اتنی ہی خوفزدہ ہوتیں تھیں بلکہ تھوڑا زیادہ کہہ لیا جائے تو بھی اس میں حرج نہیں ۔ امی جان کو تعریف کرتے دیکھ کر عبیرہ نے ایک نظر فاطمہ باجی پر ڈالی اور ہنستے ہوئے کچن سے باہر نکل گئی ۔ اتنی دیر میں بازار سے مہد بھی انرجی سیور لے آیا تھا ۔

                ”مہد !شام ہونے کو ہے اور ابھی کھانا بھی بنانا ہے ،اس لیے جلدی سے انرجی سیور لگا بھی دو ۔ “

                ”امی !مگر ….میں کیسے لگاﺅ ۔“

                ”جیسے آپ کے ابو انرجی سیور لگالیتے ہیں ۔“

                ”ابو ! ابوجان تو بڑے ہیں نا ….“ ماں بیٹے کی تکرار جاری تھی کہ دونوں کی تکرا ر سن کر عبیرہ بولی ۔

                ”مہد !تم بچے ہی رہنا ، بھلا اس میں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ “

                ”یہ لیں امی آپ کی لاڈلی جالینوس بھی آگئی ہیں ۔ “مہد نے منہ چڑاتے ہوئے کہا ۔

                ”جالینوس کے کچھ لگتے ، ادھر دو مجھے سیور ، اور مجھ سے سیکھو کیسے لگاتے ہیں یہ انرجی سیور ۔“عبیرہ نے مہد کے ہاتھ سے انرجی سیور اچک لیا ۔ مہد کو حکم دیا کہ جاﺅ صحن میںجو دو سٹول پڑے ہیں وہ مجھے لاکر دو ، عبیرہ نے دونوں سٹول اوپر نیچے رکھے ، جنہیں مہد نے مضبوطی سے پکڑرکھا تھا ،سٹول پر چڑھتے ہوئے عبیرہ نے احتیاط کا دامن تھامے رکھا ۔ انرجی سیورانرجی سیور والے پلگ میں لگا دیا ۔

                ٭٭٭

                اختر چوہدری صاحب کی بڑی بیٹی فاطمہ ، عبیرہ کا دوسرا نمبر جبکہ مہد ان کا چھوٹا بھائی تھا ۔ عبیرہ بچپن سے ہی غیر معمولی بچی واقع ہوئی تھی ۔ جب پہلے دن سکول گئی تو واپسی پر ایک نئے کارنامے کے قصے رات کے کھانے کی ٹیبل پر سنائے جارہے تھے ۔ سکول کے پہلے دن ہوا کچھ یوں کہ عبیرہ کے ساتھ ڈسک پر بیٹھی ایک لڑکی بانو نے اس وقت شور مچا دیا جب اس نے کاپی نکالنے کے لیے سکول بیگ کی زیپ کھولی تو کاپی کے ساتھ ایک چھپکلی بھی اس کے ڈسک پر آن گری ۔ بانو کا شور کیا تھا ایک واویلا تھا ، پوری کلاس بانو کا شور سن کر جب اس کی طرف متوجہ ہوئی تو سامنے ڈسک پر چھپکلی دیکھ کر بجائے بانو کو چپ کراتے ٹیچر سمیت پوری کلاس کلاس روم سے باہر کھڑی تھی ۔ ایک عبیرہ تھی جو کلاس روم میں کھڑی چھپکلی کا جائزہ لے رہی تھی ۔ جب عبیرہ نے دیکھا کہ چھپکلی بالکل ساکت پڑی ہے تو وہ آگے بڑھی اور غور سے دیکھنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ پلاسٹک کی چھپکلی ہے ، وہ پلاسٹک کی چھپکلی کو دم سے پکڑ کر کلاس روم سے باہر نکلی توپوری کلاس کی دوڑیں دیکھنے والی تھیں ۔ وہ پرنسپل کے روم میں جاکر معمہ حل ہوا کہ کسی بچے نے شرارت سے بانو کے بیگ میں کھلونا چھپکلی رکھ دی تھی ۔ کھانے کی ٹیبل پر نہ صرف اختر چوہدری صاحب چھپکلی والا قصہ سن کر ہنس رہے تھے بلکہ رضوانہ بیگم عبیرہ کی امی جان ، فاطمہ ،مہد اور عبیرہ کی خالہ اقرا اور ان کی بیٹی افرا جبکہ چاچا شکیل بھی ہنس رہے تھے اور عبیرہ کی بہادری پر اسے داد دے رہے تھے ۔

                عبیرہ کی انہی غیر معمولی صلاحیتوں نے عبیرہ کو گھر غیر معمولی پذیرائی بھی ملتی تھی ۔ خصوصا اسے ابو جان اختر چوہدری ہمیشہ اس کی ہر خواہش کو فورا پورا کرتے تھے ۔ اس دن جب اس نے فرمائش کی کہ وہ جوڈو کراٹے سیکھنے کے لیے کلب جانا چاہتی ہے تو ابوجان نے فورا حامی بھر لی ۔ اب تو ماشااللہ عبیرہ جوڈو کراٹے میں بھی بلیک بیلٹ تھی ۔ عبیرہ کے ساتھ ساتھ مہد اور افرا نے بھی جوڈو کراٹے سیکھنے شروع کیے تھے ۔ لیکن یہ دونوں ابھی بلیک بیلٹ تک نہیں پہنچے تھے ۔ عبیرہ ، افرا اور مہد کی خوب بنتی تھی ۔ ایک تو تینوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے ، دوسرا تینوں اکٹھے مل کر ہوم ورک کرتے اور تیسرا ان کے شوق بھی ایک جیسے تھے ۔ ایک دن عبیرہ نے رائے دی کہ کیوں نہ ہم اپنے تینوں پر مشتمل گروپ کو کوئی نام دیں ۔ مہد عبیرہ کی بات سن کر جھٹ سے بولا ۔

                ”تھری سٹار گروپ ۔ “

                ”نہیں ! “افرا کا سر انکار میں ہلا ۔ تینوں سر جوڑ کر اپنے گروپ کا نام سوچنے لگے ۔

                ”مشن اسکوارڈ ….!“ یہ نام بھی ہو سکتا ہے ۔ مہد ایک بار پھر بولا ۔

                ”ہونہیں سکتا بلکہ ہمارے گروپ یہ ہی نام ہو گا۔ “ عبیرہ اور افرا کے منہ ایک دم نکلا ۔ تینوں نے ہاتھوں پر ہاتھ مارے اور وکٹری کا نشان بنانے لگے

                اس طرح انہوں نے اپنے گروپ کو ایک نام ”مشن اسکوارڈ “ میں سمو دیا ۔ تینوں کی رائے اور عبیرہ کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے عبیرہ کو مشن اسکوارڈ کا لیڈر نامزد کیا گیا کہ اگلے ایک سال عبیرہ کی کارکردگی کو جانچا جائے گا۔ اگر عبیرہ نے اچھی کارکردگی دکھائی تو مشن سکوارڈ کی لیڈر یہ ہی رہیں گی ۔ ورنہ مشورے سے کسی دوسرے کو سکوارڈ کا لیڈر نامزہ کیا جائے گا ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے