سر ورق / کہانی / ” سمجھوتہ “ … ثمینہ طاہر بٹ 

” سمجھوتہ “ … ثمینہ طاہر بٹ 

 اس نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ وہ دونوں تیزی سے اس کے استقبال کے لیئے آگے بڑھیں، مگر اس کے پہلو سے لگی ” سرخ گٹھری “کو دیکھ کر وہیں رک گئیں۔ چھوٹی نے بڑی کی طرف حیران، خوف سے پھیلی نگاہوں کے ساتھ دیکھا۔ بڑی کے ساکت وجود میں جیسے دکھ کی دڑاریں اور زیادہ گہری ہوتی چلی گئیں۔                    ” تم دونوں رک کیوں گئیں۔؟ آگے آو ¿۔ استقبال کرو ہمارا۔“ غرور اور تکبر سے پر ان دونوں کا تمسخر اڑاتا لہجہ انہیں پاتال کی گہرائیوں میں دکھیلتا چلا گیا۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔

     ************************************               رمضان اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ باپ کی کافی زرعی زمینیں تھیں۔ جس پر مزارعے کام کرتے تھے۔ دو بڑی بہنیں تھیں جو شادی شدہ اور اپنے گھر بار والی تھیں۔ باپ کو بڑا شوق تھا کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر بابو بنے۔ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیئے اس نے رمضان کو چھوٹی عمر میں ہی شہر بھیج دیا تھا۔ ماں بےچاری ، ممتا کی ماری اکلوتے بیٹے کی شکل دیکھنے کو ترستی رہتی ، مگرمجازی خدا کے خوف سے مُنہ سے بھاپ بھی نہ نکال پاتی۔ بیٹا مہینوں بعد گاو ¿ں آتا تو ماں کی جیسے عید ہو جاتی۔ اس کا بس نہ چلتا کہ لاڈلے بیٹے کو دنوں میں ہی مہینوں بھر کا پیارکر لیتی، اسے اپنے ہاتھوں چوریاں بنا بنا کر کھلاتی۔ اس کے واری صدقے جاتی نہ تھکتی۔ مگر وہ بھی تو اپنے باپ کا ہی بیٹا تھا۔ دو گھڑیاں بھی پیاسی ماں کے پاس بیٹھنا گوارہ نہ کرتا اور پورے گاو ¿ں میں ” چوہدری“ بنا اکڑ اکڑ کر گھومتا رہتا۔ ماں کی آنکھوں کو ابھی ٹھیک طرح سے ٹھنڈک بھی نہ پہنچ پاتی کہ بیٹے کی واپسی کا وقت آ جاتا۔ بیٹا، خوشی خوشی اڈاری بھرتا اور ماں مایوس، اداس نگاہوں سے سے اسے جاتا دیکھتی ہی رہ جاتی۔                              ” رمضان کے ابا۔!! تسی میرے ساتھ چنگا نہیں کیتا۔ ایک ہی ایک ہمارا پُتر ہے اور اسے بھی تساں دور دیس بھیج دیا۔ جیسے دنوں دھیاں پرائی ہوئیں، دور دیسوں کی باسی ہو کے مجھے بھول گئیں، ویسے ہی میرا رمضانا بھی مجھ سے دور ہوگیا۔ بھول گیا مجھے اپنی بہنوں کی طرح۔ اب میں جی کہ کیا کروں رمضان کے ابا۔ اب میرا اس دنیا میں جی نہیں لگتا۔“ اداسی اور مایوسی جب حد سے بڑھی تو وہ بیمار پڑ گئیں۔ اور اس بیماری میں بھی جب بچوں نے اپنی شکلیں نہ دکھائی تو وہ بری طرح سے ٹوٹ گئیں۔ اس پر مجازی خدا کی ” مزاج “ ہی نہیں مل رہے تھے۔ گھر کا سارا نظام تو دھرم بھرم ہوا ہی تھا، اپنے آگے پیچھے داسیوں کی طرح پھرتی بیوی کو بھی جب ہر وقت مُنہ سر لپیٹے چارپائی پر پڑے دیکھا تو ان کا پارہ سوا نیزے پر جا پہنچا۔ برداشت کی حد ختم ہوئی تو لحاظ کا پردہ بھی چاک ہو گیا اور پھر ” مجازی خدا“ نے ” زمینی خدا“ کا روپ دھارا اور دکھوں کی ماری بیوی کو بے نقط سنا ڈالیں۔ وہ چُپ چاپ سر جھکائے سنتی چلی گئیں۔ پھر جو بولیں تو انکے ایک ایک لفظ سے نارسائی کا ایسا دکھ بہا کہ سب کچھ بھیگتا چلا گیا۔ چوہدری بھی اور اس کا تنتنا بھی۔             ۔   ماں مر گئی۔ رمضان کے ساتھ ساتھ اسکی بہنوں کو بھی مطلع کر دیا گیا۔ وہ سب روتے پیٹتے آن پہنچے۔ مگر وہ آنکھیں ، جو انہیں دیکھنے کو ترستی ترستی ساکت ہو چکی تھیں، پھر ان میں زندگی کی رمق نہ جاگی۔دنیا داری کے سب کام ہوئے۔ باقی لوگوں کی طرح رمضان اور اس کی بہنیں بھی اپنے اپنے ٹھکانے کو روانہ ہوئیں، مگر اس سے پہلے ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔ دونوں دامادوں نے آپس کے صلح مشورے سے رمضان کو ساتھ ملایا ۔ بہنوں کو جو تھوڑی بہت ہچکچاہٹ تھی، وہ بھائی کی شہہ پا کر ختم ہوئی اور وہ سب اباجی کے سامنے ایک نئی تجویز کے ساتھ جاپہنچے۔ابا جی کی کمر تو پہلے ہی نصف بہتر کی دائمی جدائی کے سبب دوہری ہو چکی تھی، اس نئے مطالبے نے تو انہیں بالکل ہی چُپ لگا دی۔

   ” ٹھیک ہے پُتر۔!! اگر تم سب کی یہی رائے ہے تو پھر میں کو ن ہوتا ہوں اعتراض کرنے والا۔ویسے بھی یہ جو کچھ بھی ہے، تم سب کا ہی تو ہے۔ تو جیسا تم لوگ مناسب سمجھوکر لو۔ میں تم لوگوں کی خوشی میں ہی راضی ہوں۔تم لوگ وکیل سے مل لو۔ اور مجھے جہاں کہو گے میں انگوٹھا لگا دونگا۔“ لوجی، یہاں تو سارا مسلہٰ ہی حل ہو گیا۔ وہ تو سوچ رہے تھے کہ ابا جی کو بہت سمجھانا پڑے گا، بڑی مشکل سے منانا پڑے گا، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور ابا جی نے بغیر لڑے ہی اپنا مقدمہ ہار دیا۔ جلد ہی دامادوں کی دلی مراد پوری ہوئی اور چوہدری کی ساری زرعی زمینیں اسکے بیٹے اور دامادوں میں تقسیم ہو گئیں۔ نہ صرف تقسیم ہوئیں، بلکہ بک بھی گئیں۔ اب روز روز اتنی دور ” گاو ¿ں “ میں کون ان زمینیوں کی دیکھ بھال کے لیئے آتا، اس لیئے دامادوں نے بیویوں کے مشورے سے اسی گاو ¿ں کے بڑے چوہدری کے ہاتھ اپنے اپنے حصے کا سودا کیا، دنوں میں دام کھرے کیئے اور اپنے اپنے گھر کی راہ لی۔ رمضان نے جب یہ صورتِ حال دیکھی تو اسکے دماغ نے بھی اسے ایک نئی راہ سجھائی۔ اس نے اپنی زمین ٹھیکے پر دی اور ، حویلی گروی چڑھائی، ساری رقم ڈب میں ڈالی اور ابا جی کو لے کر شہر سدھارا کہ اب اسکا اس دھول مٹی میں دم گھٹنے لگا تھا۔ ابا جی چُپ چاپ یہ سارا تماشہ دیکھتے رہے۔ اپنے ہاتھوں سجائے گلشن کی دھجیاں اڑتے دیکھنا کس حوصلے اور برداشت کا کام تھا، یہ کوئی ان کے دل سے پوچھتا۔ وہ رمضان کے ساتھ شہر آتو گئے ، مگر اپنے وجود کا ایک بڑا حصہ وہیں گاو ¿ں میں ہی چھوڑ آئے تھے، اسی لیئے ہر وقت اداس رہنے لگے۔ رمضان کے ہاتھ میں کھلے پیسے آئے تو اسے نئے نئے شوق سوجھنے لگے۔ اس پر اس کے شہری دوست اسے عجیب عجیب مشورے دینے لگے۔ کوئی کہتا پیسہ کاروبار میں لگا دو۔ جلد ہی دگنا، تگنا ہو جائے گا۔ کوئی کہتا پراپرٹی خرید لو۔ ساری عمر بیٹھے کرائے کھانا اور عیش کرنا۔ کوئی کہتا ساری رقم بینک میں رکھوا دو۔ ہر ماہ منافع لیتے جاو ¿ اور زندگی آرام و سکون سے گذارو۔ اس کا دماغ الجھتا جا رہا تھا۔ اور پھر اس سے پہلے کہ وہ بالکل ہی الجھ جاتا، ابا جی نے ہی آگے بڑھ کے اس کی ساری الجھنیں سلجھا دیں۔ انہوں نے شہر کے نواح میں سستے داموں بہت اچھی زمینیں خریدیں اور اور ان پر گھر اور دکانیں بنوانی شروع کر دیں۔ رمضان کے ذمے نگرانی کا کام لگایا اور خود واپس گاو ¿ں جا پہنچے۔ جب تک مکان اور دکانیں تیار ہوئیں، رمضان اس کام میں پورا ماہر ہو چکا تھا۔ اسے یہ نگرانی اور ٹھیکےداری کا کام بہت پسند آیا تھا۔ سب لوگ جھک جھک کر اسے سلام کرتے اور باو ¿ جی باو ¿جی کہتے نہیں تھکتے تھے۔       ” ابا جی۔!! میں نے سوچ لیا ہے۔ میں ٹھیکیداری کا کام کرونگا۔ مجھے اس کام میں بہت مزہ آتا ہے۔اور میں اسے اچھی طرح سمجھ بھی گیا ہوں۔ پھر اس میں منافع بھی بہت ہے اباجی۔ اس لیئے میں آج سے ہی اپنی ٹھیکداری کی کمپنی بنا رہا ہوں۔ “ ابا جی گاو ¿ں سے واپس آئے تو رمضان نے انہیں خوش خبری سنائی تھی۔ اور ایک خوش خبری وہ بھی اس کے لیئے لائے تھے۔          ” ٹھیک ہے پُتر۔!! جو تجھے اچھا لگے ، تو وہی کر۔ مگر میری خوشی کے لیئے ایک بات میری بھی مان لے۔!! “         ” آپ حکم کرو ابا جی۔!! آپ جو کہو گے میں وہی کرونگا۔!! “ وہ سمجھا کہ شاید ابا جی اسے کوئی بہتر آپشن دینے لگے ہیں۔ اسی لیئے بڑی تابعداری سے سر جھکاتے ہوئے بولا تھا۔                        ” پُتر۔!! میں نے کلثوم سے تیری بات پکی کر دی ہے۔ اگلے مہینے ہمیں جنج لے کر جانا ہے پنڈ۔ اب میری عزت تیرے ہاتھ ہے۔ تو چاہے تو اسے رکھ لے، اور اگر دل نہ مانے تو بے شک اسے رول دے۔ میںتجھے کچھ نہیں کہوں گا۔!! “ ابا جی نے غور سے اسکے بدلتے تاثرات دیکھ کر بات پوری کی اور پھر مجرموں کی طرح سر جھکا لیا۔                     ” کلثوم۔۔۔چاچے شبیرے کی کلثوم۔؟ “ رمضان کی نگاہوں کے سامنے بانکی سجیلی کلثوم گھوم گئی، جس کا نخرہ ہمیشہ ساتویں آسمان کو چھوتا تھا۔ وہ رمضان سمیت کسی کو بھی اپنے برابر کا نہیں سمجھتی تھی۔ جانے اس کے خوابوں کے شہزادے کو کس دیس سے آنا تھا کہ وہ زمین پر نگاہ ڈالنا پسند ہی نہیں کرتی تھی۔ رمضان نے ایک دو بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ نخوت سے سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی تھے۔ اور اب وہی کلثوم، اور اسکی منگیتر۔

  ” اچھا ہے۔ بہت اچھا ہے۔ اب مزہ آئے گا۔ اب دیکھتا ہوں کہ کیسے دکھاتی ہے نخرے مجھے۔ ساری اکڑ ایک ہی جھٹکے میں نکال کر نہ رکھدی تو میرا بھی نام رمضان چوہدری نہیں۔“ وہ اپنے خیالوں میں کھو گیا ، اور اباجی مارے تفکر کے ہاتھ ملنے لگے کہ بغیر بیٹے سے مشورہ کئے اس کی بات پکی کی۔ تو کیوں۔؟                        ” رمضان۔!! پُتر، تونے بتایا نہیں پھر۔؟ “ ابا جی نے تفکر اور خوف سے بھرے انداز سے اسے دیکھتے ہوئے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو وہ ایکدم چونک گیا۔                           ” آپکا حکم سر آنکھوں پر ابا جی۔آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہوگا۔“ رمضان نے کھل کر مسکراتے ہوئے کہا تو انہوں نے بے ساختہ اٹھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔                             ***********************************************

   کلثوم بیاہ کر رمضان کے گھر آ گئی۔ دل میں تو شاید بہت پہلے ہی آ جاتی ، اگر جو اپنے علاوہ بھی کسی دوسرے کو سراہنے کی عادی ہوتی۔ اس کی خود پسندی اور انا کا عالم وہی تھا۔ وہ اپنی دلدادہ خود ہی تھی۔ اتنے سالوں بعد بھی نہ وہ بدلی تھی اور نہ ہی اس کی عادتیں۔ مگر چوہدری رمضان سر سے لے کر پاو ¿ں تک بدل چکا تھا۔ اب وہ شہرکا مشہور ٹھکیدار تھا۔ دنیا اسے جھک جھک کر سلامیں کرتی تھی، روپیہ پیسہ اس پر ہن کی طرح برستا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ دولت ٹھیکیدار رمضان پر عاشق ہے۔ وہ مٹی کو بھی ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ سونا بن جاتی ہے۔ مگر خود ٹھیکیدار کس کا عاشق تھا۔؟ یہ وہ ابھی تک خود بھی نہیں سمجھ پایا تھا۔ اباجی اس کی شادی کے بعد زیادہ جی نہیں پائے تھے، اور پوتا کھلانے کی آرزو دل میں لیئے ہی منوں مٹی تلے جا سوئے۔ ٹھیکیدار رمضان نے انکی آخری خواہش کے احترام میں انہیں گاو ¿ں میں ہی دفنایاتھا، اور پھر سب پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیئے اماں، ابا کی قبروں کو خوبصورت اور قیمتی پتھروں سے پکا کروا دیا۔             ٹھیکیدار رمضان اور کلثوم کی زندگی کی گاڑی ایک ہی ٹریک پر بھاگی چلی جا رہی تھی۔ شادی کے پانچ سال بعد

 کلثوم کا تنتنا کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ہاں، رمضان ٹھیکیدار کی گردن میں جانے کہاں سے سریا آتا جا رہا تھا۔ ان کی زندگی کا ایک اور بڑا خلا، اولاد کی کمی تھی۔ جانے یہ کمی کلثوم میں تھی یا ٹھیکیدار میں، مگر ان کا آنگن بچوں کی قلقاریوں سے خالی تھا۔ اس خاموشی اور سناٹے نے کلثوم کی روح کو جکڑنا شروع کر دیا ۔ وہ آس پڑوس کی عورتوں کے بتائے ٹوٹکوں پر بھی عمل کر کے دیکھ چکی تھی۔مگر فایدہ، ندارد۔ اور پھر قبل اس کے یہ خاموشی، مایوسی اور اداسی اسے بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی کہ اس کی تنہائیوں کا روگ مٹانے کے لیئے پروین اس کی زندگی میں آ گئی۔

  ” کلثوم۔!! لے سنبھال اسے۔ تو بھی کیا یاد کرے گی۔ تیرے سارے دکھوں، ساری تکلیفوں کا حل نکال لیا ہے میں نے ۔ چل، اب آگے آ اور لے جا کر بٹھا اسے میرے کمرے میں۔ میں آتا ہوں ابھی۔!! “ ٹھیکیدار رمضان نے اپنے سامنے بت بنی کھڑی کلثوم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے حکم سنایا، اور اپنے پیچھے سر جھکائے کھڑی پروین کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتا ہوا صحن میں بچھی چارپائی کی طرف بڑھ گیا۔ دلہن بنی پروین نے نے درزیدہ نگاہوں سے اپنے سامنے کھڑی کلثوم کے چہرے کو دیکھا تو ایک لمحے کو خود بھی پتھرا سی گئی۔ کیا تھا اس کے چہرے پر۔ نارسائی کا دکھ، نامکمل ہونے کی تکلیف، اپنا راج سنگھاسن چھن جانے کا خوف۔ کلثوم کا چہرہ اس وقت کھلی کتاب بنا ہوا تھا، اور س کتاب کا حرف حرف پروین نے ایک نگاہ میں ہی حفظ کر لیا تھا۔              ” اوئے کلثوم۔!! تو ابھی تک اسے لیئے یہیں کھڑی ہے۔؟ سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے تجھ سے۔ ؟ چل، لے کر جا اسے اندر اور پوری عزت اور اعزاز کے ساتھ کمرے میں چھوڑ کے آ۔“ ٹھیکیدار رمضان کی تیز آواز نے ان دونوں کو ہلا کر رکھدیا تھا۔ کلثوم نے اپنے دل پر اپنا ہی پاو ¿ں رکھا اور اپنی سوتن کو لیئے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پروین کی حیثیت کا تعین اسی وقت ہو گیا تھا۔ کلثوم نے اسے اپنے کمرے کے ساتھ والا کمرہ دیا تھا۔ گھر کا دوسرا خوبصورت ، بڑا اور آرام دہ کمرہ۔اپنا کمرہ اس نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔ شوہر کا بٹوارہ تو اس نے دل پر جبر کرتے ہوئے برداشت کر لیا تھا، مگر اپنے کمرے کا بٹوارہ وہ ہر گز نہیں سہہ سکتی تھی۔ اور یہ بات ٹھیکیدار بھی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اسی لیئے انہیں دوسرے کمرے میں جاتا دیکھ کر قہقہے لگانے لگا تھا۔                 پروین کے ساتھ ٹھیکیدار رمضان کا نکاح اس کے دوست نے کروایا تھا۔ پروین اس کی سب سے چھوٹی بہن تھی۔ ماں باپ کی وفات کے بعد وہ بھابھیوں اور بہنوں کے درمیان شٹل کاک بن کر رہ گئی تھی۔ بہنوں کو جب اپنے گھر کے کاموں کا بوجھ حد سے زیادہ لگنے لگتا، یا انہیں اپنے چھلے کٹوانے ہوتے تو فوراً پروین کا بلوا لیتیں۔ چاہے اس کے لیئے انہیں بھابھیوں سے جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑتی۔ ادھر بھابھیوں کا بھی یہی حال تھا، ضرورت کے وقت سب کو پروین حاضرِ خدمت چاہئے ہوتی، لیکن اس کی ضروریات کا بوجھ اٹھانا سب کو دوبھر لگتا۔ سیزن کے دو جوڑے اور دو وقت کا پیٹ بھر کھانا، بس سب کے نزدیک اس کی یہی ضروریات تھیں اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ پروین نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا۔ و ہ سب سمجھتی تھی مگر، کسی سے کچھ بھی نہیں کہتی تھی۔ ہاں، جب دل دکھ سے بھر جاتا تو اپنے رب کے سامنے رو کر اسے ہلکا کر لیتی اور ایکبار پھر نئے جذبے سے اپنے بھائی، بہنوں کی خدمت میں جت جاتی۔ بڑے بھیا کو اس سے کسی زمانے میں شدید محبت تھی، مگر اب یہ محبت اس کی بیوی اور بچوں میں تقسیم ہوتی جا رہی تھی۔ اور قبل اس کے کہ یہ محبت بالکل ہی سو جاتی، کہیں گم ہو جاتی بھیا نے اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا نکاح ٹھیکیدار رمضان سے کروا کر اسے اپنے تئیں ساری زندگی کی بیگار سے نجات دلوا دی۔ پروین کی بھابھیوں اور بہنوں کو جب اس کی شادی کا علم ہوا، وہ سٹپتا کر رہ گئیں۔ لمحوں میں انہیں اپنے ہونے والی نقصان کا اندازہ ہو گیا، مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ بھیا نے جو فیصلہ کیا تھا، اسے پورا کر کے چھوڑا اور یوں، پروین ایک ” بیگار کیمپ“ سے نکل کر دوسرے ” بیگار کیمپ “ میں آ گئی۔

 ” آپا۔!! یہ گھر تمہارا ہے۔ تم مالکن ہو اس گھر کی۔ میں چھوٹے گھر میں رہنے والی، چھوٹے چھوٹے خواب دیکھنے والی لڑکی ہوں۔ مجھے ان محلوں دو محلوں سے کوئی غرض نہیں۔ تم بس، مجھے اپنے قدموں میں تھوڑی جگہ دے دو۔ میں ساری عمر تمہاری خدمت کرونگی۔ کبھی شکایت کا کوئی موقع نہیں دونگی تمہیں۔ یہ وعدہ ہے میرا۔!! “ کلثوم کا اکھڑا اکھڑا روئیہ جب اس سے برداشت نہیں ہوا تو وہ ایکدن اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اسکے ہاتھ نرمی سے تھامتے ہوئے، روتے ہوئے اسے اپنے دل کی بات سناتی چلی گئی۔ کلثوم نے چونک کر اسے دیکھا۔ یہ تو کوئی بہت ہی مجبور اور بےچاری سی لڑکی تھی۔ بھلا، اس سے ڈرنے یا دبنے کی اسے کیا ضرورت ہو سکتی تھی۔ بس، اس دن کے بعد سے کلثوم واپس اپنے راج سنگھاسن پر جا بیٹھی اور پروین نے ایک داسی کی طرح اس کی اور ٹھیکیدار کی خدمت شروع کر دی۔                               ” ٹھیکیدار ۔!! تم اسے بیاہ تو لائے، مگر گھر تو تمہارا ابھی تک سونا ہے۔ ڈیڑھ سال ہو گیا تم دونوں کی شادی کو، مگر ابھی تک یہ بھی میری طرح بے مراد ہی پھر رہی ہے۔ مان لو ٹھیکیدار، کمی ہم میں نہیں ، تم میں ہے۔ یہ گھر اگر بچوں کی آوازوں سے خالی ہے تو اسکی وجہ ہم دو عورتیں نہیں۔ تم ایک اکیلے ”مرد“ ہو۔ !! “ گہرے طنز میں ڈوبے اس طعنے نے ٹھیکیدار کو آگ لگا دی تھی۔ وہ بے حد غصے سے چیزوں کو ٹھوکریں مارتا، کف اڑاتا گھر سے باہر نکل گیا۔ کلثوم اسے آگ لگا کر اب مزے سے ہاتھ سینک رہی تھی اور تماشہ دیکھ رہی تھی ۔ جبکہ پروین کا مارے خوف کے برا حال ہو رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آپا نے ایسا کیوں کیا۔؟               ” آپا۔!! تمہیں ڈر نہیں لگتا۔؟ ٹھیکیدار جی اگر غصے میں تم پر ہاتھ اٹھا بیٹھتے تو۔؟ “ پروین کا دل ابھی تک پتے کی طرح لرز رہا تھا۔    ” اونہہ۔!! ہاتھ لگا کے تو دیکھے۔ کم نہیں ہوں میں اس سے۔ ست بھرائی ہوں ست بھرائی۔ ایک آواز دوں تو میرے ساتوں شیر جوان بھائی دیوار بن کر میرے سامنے آ کھڑے ہوں۔ اتنی اس ٹھیکیدار کی جرا ¾ت نہیں کہ میرے مُنہ لگے۔ تو گھبرا نہ۔ میں نے جو بھی کیا، تیرے بھلے کے لیئے ہی کیا۔ رب سب خیراں کرے گا۔چل، شاوا ہانڈی چڑھا جا کے۔ آج پسندے پکا لے۔ ہمارے ٹھیکیدار کو بہت پسند ہیں۔ خوش ہو جائے گا کھا کر۔!! “ کلثوم نے چٹکیوں میں بات اڑاتے ہوئے اسکا خوف دور کرنے کی کوشش کی اور اسے کاموں میں الجھا کر اسکا دھیان بھی بٹا دیا۔ کلثوم کی بات بالکل درست ثابت ہوئی۔ٹھیکیدار نے جانے کسی حکیم سے بات کی یا کسی ڈاکٹر سے مشورہ کیا، مگر اگلے چند ماہ میں ہی پروین نے کلثوم کو خوش خبری سنا دی۔                    ” دیکھا۔میں نہیں کہتی تھی کہ رب سب خیراں ہی کرے گا۔تو دیکھ لو۔ رب نے تم پر خیر کر ہی دی ناں۔“ کلثوم خوش تھی۔ بہت خوش ۔ اور پروین کی سمجھ میں یہی بات نہیں آ رہی تھی کہ ایک سوتن، دوسری سوتن کی گود بھرنے پر اتنا خوش کیسے ہو سکتی ہے۔؟ ٹھیکیدار بھی اپنی جگہ بہت خوش تھا۔ اس نے کلثوم کے طعنے کا بھرپور جواب دے دیا تھا۔

        ***************************************            ” مبارک ہو ٹھیکیدار نی۔!! اللہ پاک نے بیٹا دیا ہے بیٹا۔ چاند جیسا پیارا اور روئی کے گولے جیسا گورا۔!! “ دائی نے کلثوم کو مبارک دیتے ہوئے کہا تو اس نے اپنے بٹوے میں ہاتھ ڈال بند مٹھی بھر کے نوٹ دائی کی پھیلی جھولی میں پھینکے اور خود اندر کو بھاگی۔ اندر کمرے میں پروین زرد چہرہ لیئے نڈھال، نیم بیہوش سی پڑی تھی۔ اسکے پہلو میں پھولدار چادر میں لپٹا ننھا سا وجود لیٹا تھا۔ کلثوم نے پروین کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیئے ٹہر سی گئی۔ اس” کمزور، بےچاری غریب “سی لڑکی پر اس وقت ممتا کا روپ نور بن کر اتر رہا تھا۔ اسکی زرد رنگت میں نور کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے دل میں ایک تیز لہر سی اٹھی۔ ایک آگ کی لہر۔ ایسی آگ جو سب کچھ جلا کر بھسم کر دینے کو بےتاب تھی۔ اسی وقت پروین کے پہلو میں لیٹے ننھے وجود نے حرکت کی۔ کلثوم نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر اس کی طرف ہاتھ بڑھا دئے۔ اس کے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی۔سانس جانے کیوں دھونکنی کی طرح چلنے لگا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے بچے کو اٹھایا اور اپنے سامنے کیا۔ اس وقت کلثوم کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔ حسد اور جلن کی آگ اتنی تیز تھی کہ خود اس کا اپنا پورا وجود اس میں سوکھی لکڑی کی طرح جلنے لگا تھا۔                             ” تو نے مجھے بے مراد رکھ کر اس” غریبنی“ کو بامراد کیا ہے ٹھیکیدار۔ میں اب اسے بھی ہرا نہیں رہنے دونگی۔تُو سانپ ہے ٹھیکیدار، اور یہ تیرا سنپولیا۔ اور میں اس سنپولیئے کا سر کچل دونگی۔ میرے زندگی میں ایک تُو سانپ ہی بہت ہے۔ یہ جیتا رہا، تو یہ بھی تیری طرح سانپ بن جائے گا۔ پھر کسی کلثوم کی زندگی زہر آلود کرے گا تو کبھی کسی پروین کو ڈس کر نیلونیل کر دے گا۔نہیں، میں ایسا نہیں ہونے دونگی۔ کبھی بھی نہیں۔“ کلثوم کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔ قریب تھا کہ یہ شوریدہ سری کی آندھی سب کچھ اڑا کر لے جاتی کہ ایکدم اُس ننھے وجود نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔ کلثوم کا ہاتھ اسکی گردن کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اسی وقت بچے نے اسے دیکھا اور پھر جانے کیوں ایک معصوم سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیل گئی۔ وہ کلثوم کو دیکھ رہا تھا، مسکرا رہا تھا، اپنے ننھے ننھے ہاتھوں کے چھوٹے چھوٹے مکے بنائے، انہیں ہوا میں لہراتا جیسے کلثوم کے حسد اور عناد کو مقابلے کی دعوت دے رہا تھا۔ وہ دم بخود اس ننھے فرشتے کو دیکھے چلی گئی اور پھر اس کی معصوم مسکراہٹ پر سو جان سے نثار ہو گئی۔ اسے بانہوں میں بھر کے سینے سے لگائے بلک بلک کر رونے لگی۔ پروین کی آنکھ اس کے رونے کی آواز سے کھلی۔ اس نے جو کلثوم کو اس طرح بچہ سینے سے لگائے دھاڑیں مار مار کر روتا دیکھا تو مارے خوف اور غم کے بیہوش ہی ہو گئی۔     ” جھلی ناں ہوتو۔!! تو کیوں بیہوش ہو گئی تھی۔ ؟ کیا سمجھی تھی تو پاغلے۔ میں تو اپنی خوشی نہیں سنبھال سکی اور رونے بیٹھ گئی، اور تُو بیوقوف جانے کیا کیا سوچ بیٹھی۔!! “ ہوش میں آنے کے بعد جب پروین کو کلثوم کے رونے کی وجہ پتا چلی تو اسکا مُنہ حیرت سے کھلے کا کھلا ہی رہ گیا۔ کلثوم نے اپنے حسد کو تو مات دے دی تھی، مگر اب اپنی ممتا کو کنٹرول کرنا اس سے مشکل ہو رہا تھا اس لیئے وہ کامران کی بڑی ماں بن گئی اور اس کی ہر طرح کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ کلثوم کا راج سنگھاسن کامران کے آنے سے اور زیادہ مظبوط ہو گیا اور پروین کی چاکری میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔                          وقت اپنی مخصوص رفتار سے گذرتا چلا گیا اور کامران کے بعد سلمان نے بھی ان کے گھر میں رونق بکھیر دی۔ کلثوم کی حیثیت ابھی بھی اتنی ہی مستحکم ، اتنی ہی مضبوط دکھائی دیتی تھی، جتنی کہ پہلے تھی۔ مگر یہ تو وہ ہی جانتی تھی کہ ٹھیکیدار کے دل کی دھرتی ابھی بھی اس کے لیئے ویسے ہی بنجر تھی، جیسی کہ پہلے تھی۔پروین کے ساتھ البتہ اس کا روئیہ بہت نارمل سا تھا۔ اور اس میں بھی زیادہ ہاتھ پروین کی صلح جو طبیعت کا ہی تھا۔ اسے تو شروع سے ہی” سمجھوتہ “کرنے کی عادت تھی، سو اس نے یہاں بھی بڑی آسانی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ کلثوم یا ٹھیکیدار سے اسے کوئی گلہ نہیں تھا۔ گلہ اسے اپنی تقدیر سے تھا کہ ماں بن کر بھی وہ اپنے بچوں پر پوری طرح اپنی ممتا نہیں لٹا سکتی تھی۔ کلثوم کی مرضی کے بغیر وہ انہیں نہ تو کچھ کھلا سکتی تھی اور نہ ہی پہنا سکتی تھی۔ مگر وہ پھر بھی خوش تھی ۔ کیونکہ کلثوم جیسی بھی تھی، اس سے اور اسکے بچوں سے واقعی محبت کرتی تھی۔ بچوں پر تو وہ جان دیتی تھی۔ اور پروین نے اس کے دل میں اپنی خدمت اور اطاعت کے ذریعے بہت خاص جگہ بنا لی تھی۔ گذرے سات سالوں میں وہ اس ماحول میں رچ بس چکی تھی۔ بچے بھی دو دو ماو ¿ں کے ساتھ بہت خوش، بہت مطمئن تھے۔        **************************************

  رات بھیگنے لگی تھی۔ ٹھکیدار ابھی تک گھر واپس نہیں آیا تھا۔ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ وقت پر گھر آتا، دونوں بیویوں اور بچوں کے ساتھ کھانا کھاتا۔ کچھ وقت بچوں کے ساتھ کھیلتا۔ اور پھر دوستوں سے ملنے چلا جاتا۔ پھر رات گئے واپس آتا اور جہاں دل چاہتا پڑ کر سو رہتا کہ گھر کے سارے کمرے ہمیشہ اس کے لیئے کھلے ہی رہتے تھے۔مگر آج جانے کیا بات تھی کہ سب معمولات الٹ پلٹ ہوئے جا رہے تھے۔ صبح گھر سے جاتے ہوئے بھی وہ بہت الجھا الجھا سا دکھائی دے رہا تھا۔ جلدی جلدی ناشتہ کیا اور عجلت میں ہی کام پر گیا تھا اور اسی عجلت میں وہ کامران اور سلمان کو پیار کرنا بھی بھول گیا تھا۔ نہ ہی کلثوم سے چونچ لڑائی اور نہ ہی پروین کی دوڑیں لگوائیں۔ بس کھویا کھویا سا باہر نکل گیا تھا اور اس کا یہی روئیہ کلثوم سے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔                  ” پروین۔!! آج کوئی خاص بات ہے۔ پتا نہیں کیوں، مگر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ دعا کر کے رب سب خیر کرے۔ ٹھیکیدار کے مزاج کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں مجھے۔!! “ پروین کے پوچھنے پر اس نے اپنے خدشات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا کہ وہ غریب بھی دل تھام کر رہ گئی۔                          ” آپا۔!! یوں تو مت کہو۔ میرا جی بھی گھبرانے لگا ہے۔ اللہ نہ کرے ، کہیں ٹھیکیدار جی کی طبیعیت تو خراب نہیں ہو گئی۔؟ “        ” نہیں۔ اس کی طبعیت نہیں، مجھے تو اس کی نیت خراب لگ رہی ہے۔“ اس نے سوچ میں ڈوبے انداز سے کہا تو پروین حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔

  ” کیا مطلب آپا۔!! میں کچھ سمجھی نہیں۔“ اپنی حیرتوں پر بمشکل قابو پاتے ہوئے اس نے کہا تو کلثوم ہنس دی۔

  ” کچھ نہیں۔ تو نہیں سمجھے گی۔ تیرا ابھی ٹھیکیدا ر سے واسطہ پڑے وقت ہی کتنا ہوا ہے۔ میں اس کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ آخر کو بچپن کا سنگی رہا ہے میرا۔ میں اسے نہیں سمجھوں گی تو اور کون سمجھے گا۔“ کلثوم کی گہرے طنز میں ڈوبی یہ باتیں پروین کے سر کے اوپر سے گذرتی چلی گئیں اس لیئے وہ بس مُنہ اٹھائے اسے دیکھے چلی گئی۔ اور اب ان کے خدشات کوئی اور رنگ اختیار کرتے جارہے تھے۔ وقت تیزی سے گذر رہا رتھا اور ٹھیکیدار کا کوئی اتا پتا ہی نہیں تھا۔ بچے بھی کب کے اس کا انتظار کرتے کرتے سو چکے تھے۔ اس وقت بھی وہ دونوں صحن میں بچھی چارپائی پر خاموش بیٹھی اپنی اپنی سوچوں سے لڑتیں ٹھیکیدار کا انتظار کر رہی تھی کہ دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔وہ دونوں ہڑبڑا کر گیٹ کو دیکھنے لگیں۔ ٹھیکیدار اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھولے مست چال چلتا اندر آرہا تھا۔ وہ دونوں تیزی سے اٹھیں اور اس کا استقبال کرنے کے لیئے آگے بڑھیں۔دونوں کے احساسات مختلف تھے۔ بڑی کے ماتھے پر غصے کے بل اور آنکھوں میں انتظار کی کوفت سے بھر جانے والا غصہ تھا، جبکہ چھوٹی کے چہرے پر سادہ معصوم استقبالی مسکراہٹ تھی، جس میں پریشانی کی جھلک بھی نمایاں تھی۔ وہ دونوں پہلو بہ پہلو چلتی ٹھیکیدار کے سامنے جا کھڑی ہوئیں۔ ابھی انہوں نے کچھ کہنے کو مُنہ کھولا ہی تھا کہ ٹھیکیدار نے پیچھے مڑکر اپنے پیچھے آتی ہستی کو ہاتھ تھام کر اپنے برابر کھڑا کر لیا۔ وہ دونوں اس سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس دلہن بنی جوان دوشیزہ کو دیکھ کر وہیں ساکت رہ گئیں۔ پروین کی استقبالی مسکراہٹ خوف کے بوجھ تلے دب گئی اور کلثوم کے تاثرات ایسے اسپاٹ اور جامد ہو گیئے جیسے وہ ٹھیکیدار کو نہیں ، کسی اجنبی کو دیکھ رہی ہو۔                        ” کیا ہوا۔؟ تم دونوں رک کیوں گئیں۔؟آگے آو ¿ اور میری نئی دلہن کو اندر کمرے میں لے جاو ¿۔ پورے اعزاز اور شگن کے ساتھ۔“ ٹھیکیدار نے گھنی مونچھوں تلے مسکراتے ہوئے انہیں حکم دیا تو ان کے ساکت وجود میں ہلچل ہوئی۔چھوٹی نے خوفزدہ نگاہوں سے بڑی کو دیکھا۔ اس کے وجود میں دکھ سے گہری دراڑیں پڑتی دکھائی دینے لگیں تھیں۔               ” سنا نہیں تم دونوں نے۔؟ میں نے کیا کہا ہے۔؟ آگے آو ¿ اور استقبال کرو ہمارا۔!! “ ٹھیکیدار نے انہیں بت بنے نئی دلہن کو گھورتے پایا تو تیز لہجے میں انہیں ایک بار پھر حکم سنایا تھا۔ بڑی چٹان کی طرح اپنی جگہ جمی رہی، مگر چھوٹی کے پاو ¿ں ایک ہی دھاڑ میں اکھڑ گیئے۔ اس کی موٹی موٹی آنکھیں آنسوو ¿ں سے بھر گئیں۔ اس نے گھبرا کر خوفزدہ نگاہوں سے بڑی کی طرف دیکھا۔ بڑی پر اسکے آنسوو ¿ں کا خاطر خواہ اثر ہوا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس کھینچا اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھی اور ” نئی دلہن“ کو سہارہ دیتے ہوئے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ ٹھیکیدار نے غرور سے سر اونچا کیا، ایڑیاں اٹھا کر اپنا قد بڑھانے کی ناکام کوشش کی اور پھر اپنی اس کوشش کو خود ہی سراہتے ہوئے تکبر بھرا طویل قہقہہ لگایا اور پھر سرمستی اور خوشی کے عالم میں جھومتے ہوئے چارپائی کی طرف بڑھ گیا۔ ایک تمسخر میں ڈوبی گہری نگاہ سر جھکائے کھڑی کانپتی پروین پر ڈالی کو چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔کالے سیاہ آسمان پر نگینوں کی طرح سجے ٹمٹماتے روشن ستاروں نے حیرت سے اس ”ابن آدم “کے پر غرور انداز کو دیکھا اور پھر پلکیں جھپک جھپک کر اس سے کچھ فاصلے پر مجرم بنی کھڑی” بنت ِ حوا“ کو دیکھ کر حیرت سے پلکیں جھپکائیں اور پھر اچانک امڈ آنے والے گہرے بادلوں کی ردا اوڑھ کر غائب ہوگیئے۔ جیسے کہ ان کہ ہمت بھی یہ نظارہ دیکھ کر ختم ہو گئی ہو۔                                *************************************

 ” ابو جی۔!! یہ کون ہیں۔؟ “ کامران اور سلمان، کلثوم کی چادر کے پلو پکڑے اس کے دائیں بائیں کھڑے حیران نگاہوں سے سامنے پلنگ پر بیٹھی، سجی سنوری عورت کو دیکھ رہے تھے۔ جس کے سامنے انکی چھوٹی امی مشینی انداز سے پھل کاٹ کاٹ کر پلیٹ میں رکھتی جارہی تھی۔ان کے ابو جی بھی اس عورت کو نثار ہوتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور وہ خوب نخرے دکھا رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچے اس صورتِ حال کو سمجھنے کے قابل نہیں تھے، اس لیئے حیران نگاہوں سے ایک ایک کا چہرہ دیکھے جا رہے تھے۔ جب گتھی کسی طرح سلجھتی دکھائی نہ دی تو کامران نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق سوال کر ہی ڈالا۔ پروین کے ہاتھ ایک لمحے کو رکے، اس نے بےساختہ کلثوم کی طرف دیکھاتھا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں ملیں اور پھر ایکساتھ ہی جھک گئیں۔ ٹھیکیدار ان دونوں کے تاثرات کا بغور جائیزہ لے رہا تھا۔ وہ ان کی بے بسی پر دل کھول کر ہنسا اور پھر ہاتھ بڑھا کر بیٹے کو گود میں بٹھا لیا۔               ” بیٹا۔!! یہ تمہاری نئی امی ہیں۔ چلو، سلام کرو انہیں۔ یہ تم دونوں کے ساتھ کھیلیں گی۔ تمہیں بہت پیار کریں گی۔“ ٹھیکیدار نے سلمان کا ہاتھ پکڑ کر دلہن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو کلثوم کے ساتھ لگا کامران حیرت سے اچھل پڑا۔          ” اوئے۔!! نئی امی۔۔۔سلمان، ہماری تین ، تین امیاں۔۔۔ اوئے۔۔خرم کی تو ایک بھی امی نہیں۔۔اس کی دادی ہی اس کی امی۔۔۔اور ہماری تین تین امیاں۔۔اوئے تین، تین۔۔!!! “ کامران حیرت سے آنکھیں پھیلائے بے ربط انداز سے بول رہا تھا۔

   کمرے میں ایک دم محسوس کیا جانے والا سناٹا چھا گیا۔ہر طرف صرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔ ” تین، تین امیاں۔“ ” تین ۔۔تین “ کمرے کی چھت پکار اٹھی ۔” تین ۔تین۔“ دروازے ، کھڑکیاں تالیاں بجانے لگے۔” تین ۔تین“۔ ہلکی اسپیڈ میں چلتا پنکھا اور ٹم ٹم ٹمٹماتی ٹیوب لائیٹس ٹھٹھا لگا کر ہنسنے لگے۔”تین۔تین “۔ کھڑکیوں ، دروازوں پر پڑے پردے سرسراتے لہراتے جھوم جھوم کر گانے لگے۔” تین۔تین۔“ کلثوم کی آنکھیں حیرت سے اور پروین کی خوف سے پھیل گئیں۔ نئی دلہن کا مُنہ بھی کھلے کا کھلا رہ گیا اور ٹھیکیدار۔ ٹھیکیدار کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ وہ اس سچوئیشن میں کیا کہے۔                     ” کامران، سلمان۔ چلو باہر۔ چلو بیٹا اپنے کمرے میں چلو۔ میں تمہیں چیز دیتی ہوں۔ چپس، بسکٹ، ٹافی جو کہو گے وہی دونگی۔ بس، یہاں سے چلو باہر۔!! “ کلثوم ان دونوں کو بازوو ¿ں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئی اور پروین ایک بار پھر سر جھکا کر پہلے سے زیادہ تیزی سے سیب کی قاشیں کاٹنے لگی۔                           ” آپا۔!! ٹھیکیدار جی نے یہ کیا کیا۔؟ہم دونوں سے ایسی کون سی خطا ہو گئی کہ وہ تیسری بھی بیاہ لائے۔؟ تم کچھ بولتی کیوں نہیں آپا۔؟ کچھ تو بولوآپا۔؟ “ پروین کا دکھ بڑا تھا۔ اس کے سینے پر یہ غم کی ”سل“ تازہ تازہ گری تھی۔مگر کلثوم کا غم اس سے بھی سوا تھا۔ اسے اس ” سل “ کا بار دوسری دفعہ اٹھانا پڑ رہا تھا۔                          ” پروین۔!! چُپ ہو جا۔تو بھی میری طرح اپنے لب سی لے جھلئے۔ تو نہیں جانتی کہ ٹھیکیدار کا شمار ان مردوں میں سے ہوتا ہے جو اسلام کا کوئی اور حکم یاد رکھیں یا نہ رکھیں، مگر انہیں یہ ضرور یاد رہتا ہے اسلام نے انہیں چار شادیوں کا حق دیا ہے۔ تو بھی سمجھ لے کہ ٹھیکیدار اپنا یہ شرعی حق استعمال کر رہا ہے۔اور اسے یہ” حق“ استعمال کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ نہ تو، نہ میں اور نہ ہی یہ آنے والی ”نئی دلہن۔“ اس لیئے خاموش ہو جا، اور میری طرح تو بھی ”سمجھوتے “کی چادر اوڑھ لے۔“ کلثوم نے اپنی آنکھ سے ٹپکا بے بسی بھرا آنسو اپنی انگلی کی پور پر چنتے ہوئے ہنس کر کہا تو اس کی ہنسی میں چھپی ٹوٹے کانچ جیسی چبھن پروین کی روح کو بھی زخمی کر گئی۔

  ” سمجھوتے کی چادر۔؟ یہ تم کیا کہہ رہی ہو آپا۔؟ کیا تم بھی سمجھوتے سے بھری زندگی گذار رہی ہو۔ میری طرح۔؟ “ پروین کی روح ہی نہیں ، اسکا لہجہ بھی زخمی زخمی سا تھا۔                        ” میں نے چوہدری رمضان سے عشق کیا تھا پروین ۔ کچی عمر کا پکا عشق۔ میں ان دونوں کم عمر تھی، نادان تھی۔ عشق کی رمزیں نہیں جانتی تھی۔ اس لیئے اپنی طرف بڑھتے اس کے قدم اپنی انا میں روک بیٹھی۔ نہیں جانتی تھی کہ جہاں عشق ہو، وہاں انا کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ رمضان شہر سے جب بھی گاو ¿ں آتا، بےتابانہ میری طرف لپکتا۔ میری چڑھتی جوانی اور نوخیز حسن شاید اسے میری طرف کھیچ لاتا تھا، مگر میں اس کی کشش کو جان ہی نہ سکی۔ ہوش سنبھالتے ہی تو اماں، تائی، خالہ سب کے مُنہ سے یہی سنا تھا کہ چوہدری رمضان ہی میرا نصیب ہے۔ تو میں نے سوچا کہ جب اسکی زندگی میں شامل ہونا ہی ہے تو ابھی سے اسے سر کیا چڑھانا۔ اور بس، شاید یہی میری غلطی تھی۔ میری شرم و حیا کو رمضان نے جانے کیا سمجھا کہ میری طرف سے اپنے دل میں گرہ باندھ لی۔ اور ایسی پکی باندھی کہ میں آج تک اس گرہ کو کھول نہیں پائی۔ بس، پھر میں نے اپنی محبت، اپنے عشق کا تماشہ لگانے سے کہیں بہتر سمجھا کہ ” سمجھوتے کی چادر “ تان لوں۔ ایسا سمجھوتہ جس میں ٹھیکیدار کی انا کی جیت ہو جائے اور میری محبت کا بھرم بھی رہ جائے۔ اس لیئے میں نے تیرے آنے کے بعد اس چادر کو اور پھیلا لیا۔ تجھے بھی اپنے اس سمجھوتے کی چادر تلے لے لیا۔ پھر کامران اور سلمان بھی ۔ اور اب یہ ٹھیکیدار کی نئی نویلی۔ تم دیکھنا پروین، بہت جلد یہ بھی ہمارے ساتھ یہاں بیٹھی ہوگی۔ اور ٹھیکیدار اپنے شرعی حق کو استعمال کرتے ہوئے چوتھی بھی بیاہ لائے گا۔ پھر یہ بھی ہمارے ساتھ اسی سمجھوتے کی چادر تلے بیٹھی اس ” نئی نویلی“ کے نخرے اٹھا رہی ہوگی۔تو دیکھ لینا پروین، ایسا ہی ہوگا۔“ کلثوم نے کھوئے کھوئے انداز سے کہا تو حیرت سے مُنہ کھولے اسے دیکھتی پروین کی پلکیں بھیگ گئیں۔

 ” آپا۔!! تم ٹھیک ہی کہہ رہی ہو۔ اللہ پاک نے شاید ہم دونوں کا نصیب ایک جیسا اور ایک ہی جگہ بیٹھ کر لکھاتھا۔ اسی لیئے تو ہم دونوں کی زندگی کی مہار ایک ہی مرد کے ہاتھ میں دے ڈالی۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو آپا۔ یہ سمجھوتے کی چادر ہی اب ہمارا آخری آسرا بھی ہے اور ہمارا بھرم بھی۔“ پروین نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بھیگے لہجے میں کہا تو کلثوم ایکبار پھر ٹوٹے کانچ جیسی ہنسی ہنس دی۔           ” دو نہیں چار۔ ٹھیکیدار کے ہاتھ میں چار عورتوں کی مہار ہے۔ تین تو آ گئیں، اب چوتھی آنے والی ہے۔ اور تم دیکھناپروین۔ ایک ایک کر کے ہم چاروں عورتیں ہی اس سمجھوتے کی چادر تلے آ جائیں گی اور یہ ہمارا ٹھیکیدار، ایک مرد ہونے کی وجہ سے ایکبار پھر آزاد پنچھی کی طرح پرواز کرنے کو آزاد ہو جائے گا۔ !! “ کلثوم نے ہنستے ہنستے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اپنے پلو میں سمیٹ لیئے اور پروین اسے غور سے دیکھتی گہری سوچوں میں گم ہو گئی کہ آپا کی ہنسی میں چھپے نوحے اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئے تھے۔               *********************************************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے