سر ورق / ناول / خواب ۔۔ رائحہ مریم

خواب ۔۔ رائحہ مریم

خواب

از رائحہ مریم

قسط نمبر 1

اسے وہاں بیٹھے آدھا گھنٹا ہو گیا جب ایک بچہ بھاگتے ہوے آیا اور حریم کی بیساکھی سے ٹکرا گیا ۔ جس سے وہ کافی دور جاگری ۔ حریم اسے اٹھانے کیلیے اٹھی ہی تھی کہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گرنے لگی کہ یکدم کسی کی مظبوط گرفت نے اسے گرنے سےبچا لیا ۔ حریم نے اپنے بازو پر پر مردانہ ہاتھ دیکھے اور ان پر موجود وردی جس کو وہ لاکھوں میں پہچان سکتی تھی وہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان آرمی کی وردی تھی ۔ اچانک حریم کے زہن میں ماضی کا ایک منظر ٹھہر گیا ۔
***********
”اللہ اللہ ! حریم حد ہے جلدی چلو ہم پہلے ہی لیٹ ہو گئے ہیں اور میم مریم کی ڈانٹ پکی ہے آج۔“ ، ثنا جو کے پہلے ہی دیر ہو جانے کی وجہ سے پریشان تھی اچانک حریم کے رک جانے پر غصے میں آ گئ ، ”ثنا ! وہ دیکھو آرمی کی گاڑی ـ“ ثنا تو رکنے کے اس جواز پرجھنجھلا گئی ، ” تو کیا میں ناچوں؟“ ۔ حریم نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا جو اسے کھینچتے ہوے لیکے جا رہی تھی ۔ اتنے میں وہ گاڑی بھی پاس سے گزر گئی ۔
” ثنا ! “
” ہاں بولو ۔“
” تمکو پتا ہے کہ جب میں آرمی سے متعلق کوئی بھی چیز دیکھ لوں تو کیسا فیل کرتی ہوں ؟“
” نہیں “ ، کچھ لمحے رکی پھر پوچھا ،” کیسا فیل کرتی ہو ؟ “
” ایسے جیسے ساری دنیا تھم جاتی ہے اور تمہیں پتا ہے کہ میرا دل ٥٠٠ سے ٦٠٠ کی رفتار پر دھڑکتا ہے ۔“
”ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ “، ثنا کا قہقہا بے اختیار تھا . حریم نے صرف اسے گھورنے پر کام چلایا اور بات جاری رکھی ” جانتی ہو کہ یہ ہمارے محافظ ہیں۔ اصل ہیروز ، جو کہ سر پر کفن باندھے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اندرونی معاملات بھی سنبھالتے ہیں ـ جو کہ وطن کی خاطر جان قربان کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔۔۔۔“ ، اور پھر وہ کچھ سوچ کر پرعزم ہو کر بولی ، ” ثناء میرا خواب ہے کہ مجھے بھی میرے بازو پر پاکستان کا جھنڈا ملے اور میں اپنے سینے پر اپنا نام کماوں۔۔۔۔۔میں بھی سر فخر سے بلند کر کے کہہ سکوں کہ میں اپنے ملک کی خدمت کرتی ہوں جس نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں مانگا ، میں بھی کہہ سکوں کہ ہاں میں دنیا کی بہترین فوج کا حصہ ہوں ۔“
"اللہ تمہارا یہ خواب پورا کرے گا انشاءاللہ اب جلدی چلو کالج قریب ہی ہے ۔“ ، ثناء نے موڑ لیتے ہوئے کہا ۔
************
”مس آپ ٹھیک ہیں ؟ “
یہ وہ بھاری آواز تھی جو اسے ماضی سے حال میں لے آئی ۔ اب اس کی نظر وردی میں کھڑے شخص کے نام پر پڑی ”حسن “ ( لیکن آج نہ ہی حریم کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اور نہ ہی اسکی حالت میں کوئی تبدیلی آئی )
” مس حریم ڈاکٹر صاحبہ آپ کا ویٹ کر رہی ہیں۔“ کیبن کے باہر بیٹھی لڑکی کی آواز پر حریم نے اپنے بازو کو آزاد کروانا چاہا ۔ لیکن کیپٹن حسن نے گرفت ڈھیلی نہیں کی ۔
” اگر آپ کو ڈاکٹر مریم کے روم میں جانا ہے تو آئیے میں آپ کو چھوڑ دوں وہاں تک ۔“
حریم کے لیے یہ آفر غیر متوقع تھی اسے لگا کہ سامنے کھڑے جوان کی نظر اس کی بیساکھی پر نہیں گئ جو کہ درست تھا۔
” نہیں ، اس کی ضرورت نہیں۔ میں چلی جاوں گی خود ۔ “ یہ کہتے ہوے حریم نے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش جاری رکھی جسے وہ جوان ہنوز تھامے ہوئے تھا۔
”دیکھیے میں بھی وہیں جا رہا ہوں، تکلف والی کوئی بات نہیں ۔“ اب کی بار کیپٹن حسن نے کافی مسکرا کر جواب دیا . حریم نے اس بار بھی اس آفر کو خاطر میں نہ لاتے ہوے کہا، ” سر دیکھئیے اگر آپ کو خدمت خَلق کا اتنا ہی شوق ہے تو میری سٹک مجھے پکڑا دیں بس ۔“
”ارے آپ تو غصہ ہی کر گئیں ۔“ ، حسن نے مسکرا کر کہا ۔
” ایک تو آپ فضول میں بات بڑھا رہے ہیں ، پھر چاہتے ہیں میں غصہ بھی نہ کروں ۔“ ، نہ چاہتے ہوئے بھی حریم کا لہجہ سرد تھا . اب کی بار کیپٹن حسن نے بغیر کسی اعتراض کے وہ سٹک پکڑا دی ۔ حریم نے اسے تھاما اور توازن برقرار رکھتے ہوئے ڈاکٹر مریم کے کمرے کی طرف بڑھ گئ . اور حسن پیچھے سے اس کے سکارف کو دیکھتا رہا ۔
” مے آئی کم اِن ڈاکٹر ؟“ ، دروازے پر دستک دے کر حریم نے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔
” یس پلیز ۔۔۔۔ ہیو آ سیٹ مس حریم ۔ آئ ایم سوری مجھے آپریشن تھیٹر میں زیادہ وقت لگ گیا۔“ ، ڈاکٹر مریم نے اپنا کوٹ دوبارہ پہنا اور اپنی نشست پر بیٹھ کر سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا جسے حریم نے نرمی سے تھام لیا ۔
” ڈاکٹر اقبال از مائے ہزبینڈ ان کو ضروری کیس کے سلسے میں ملک سے باہر جانا پڑا لیکن انہوں نے مجھے یہ کیس تھما کر تاکید کی ہے کہ اب آپ کے معاملے میں مزید دیر نہ کی جائے اور آپ کو جلد از جلد پروستھیٹک فٹ مہیا کیاجائے ۔“ ڈاکٹر مریم نے شائستہ سی مسکراہٹ کے ساتھ وضاحت دی ۔ ابھی حریم نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ دروازہ کھلا اور آواز سنائی دی ۔
”ڈاکٹر مریم آپ آج رات کے کھانے پر اپنے ہی گھر میں انوائٹڈ ہیں ، کھانا بنانے والا ماہ بدولت میں خود ہوں ، آپ کو بس ٹھیک آٹھ بجے مطلوبہ مقام پر پہنچنا ہے ۔“ ،حریم نے ڈاکٹر مریم کو دیکھا جو کہ مسکرا رہی تھیں .اس نے بے اختیار مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں حسن تھا ۔ جس نے حریم کے اس طرح دیکھنے پر مسکرا کر سر خم کیا اور حریم گھبرا کر واپس سامنے دیکھنے لگی ۔ ”جی ٹھیک ہے حسن آپ مجھے آٹھ بجے وہیں پائیں گے ۔“
”ڈاکٹر صاحبہ ! آٹھ بجے کا مطلب آٹھ بجے ہی ہوتا ہے۔“
” جی ٹھیک آٹھ بجے ۔ اب اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنی پیشنٹ کو دیکھ لوں ؟“
” اوہ……. جی ضرور اللہ حافظ ۔“
جیسے ہی ڈاکٹر مریم نے خدا حافظ کہا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی ۔
” میرا بیٹا ہے حسن ، کیپٹن حسن ۔ آج ہی میس سے واپس آیا ہے ۔“، ڈاکٹر مریم نے مسکرا کر اپنا اس جوان سے رشتہ بتایا ۔ جس کے جواب میں حریم فقط ” جی “ کہہ پائی ۔
” تو ہم کہاں تھے ؟“، ڈاکٹر مریم نے یاد کرنے کی کوشش کی ۔
” آپ میرے پروستھیٹک فوٹ کی با ت کر رہی تھیں ۔“، اور حریم کے انداز میں جوش کو اس نے بھی محسوس کیا ۔
”ہاں۔ لیکن مجھے پہلے آپ کوکچھ ڈیٹیلز دینی ہیں۔“
” میں سن رہی ہوں ۔“
” جب ڈاکٹر اقبال نے مجھے یہ کیس دیا تو وہ اس نتیجے پر تھے کہ پہلے آپ کی ٹانگ کی سرجری کی جائے اور پھر میٹل کو اندر داخل کر کے آپ کی ہڈی کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ کام بھی بہتر کرے اور دیرپا بھی ہو ۔“، حریم نے سرجری کے ذکر پر جھرجھری لی ۔ لیکن غور سے سنتی رہی، ” لیکن میں ہیومن بونز میں میٹل انسرشن کے حق میں نہیں ہوں، میں نے خود آپ کی ریپورٹس دیکھیں اور ان کو پشاور بھی بھیجا اور پتا ہے کیا مجھے پوزیٹیو ریسپونس ملا ، وہاں ڈاکٹر شاہ زیب میرے کافی اچھے دوست ہیں اور یہاں سی۔ایم۔ایچ میں بھی آتے رہتے ہیں انہوں نے نہ صرف میرے ساتھ اتفاق کیا بلکہ آپ کیلیے سوکٹ وہی بنوا کر بھجوایں گے ان کے ہسپتال میں ذرائع زیادہ ہیں۔“
ڈاکٹر مریم کی مسکراہٹ گہری سے گہری تر ہوتی جا رہی تھی اور حریم کی آنکھوں میں بار بار نمی آرہی تھی جس کو وہ بہت ضبط سے قابو میں رکھے ہوئے تھی ۔
” میں اگلے ایک دو دنوں میں یہاں پر انتظام مکمل کر کے آپ کو بلواوں گی ۔ آپ کی ٹانگ کی کاسٹنگ کی جاے گی اور پھر وہ ماڈَل پشاور بھجوا دوں گی . اور انشاءاللہ تھورے سے عرصے میں آپ دوبارہ اپنے دونوں پاؤں پر کھڑی ہو جائیں گی۔“ اس مرتبہ حریم کی آنکھ سے باقاعدہ ایک آنسو نکل آیا ۔
” ارے حریم آپ تو بہت بہادر ہیں پھر رو کیوں رہی ہیں ۔“
” جی۔۔۔ جی میں بہت بہادر ہوں،“ انہیں لگا جیسے حریم خود کو باور کروا رہی ہے ۔
”حریم مجھے آپ سے ایک ریکویسٹ کرنی ہے ۔“
”جی کہیے ڈاکٹر ۔“
” کیا آپ مجھے اپنی کہانی بتانا پسند کریں گی ، میرا مطلب ہے کہ یہ حادثہ کیسے ہوا ؟“
اور حریم کا چہرا ایک دم بالکل بے تاثر ہو گیا ۔
”ام۔۔م۔۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ۔ اور ابھی نہیں اگلی دفعہ جب آپ آئیں تب ۔“
” جی ضرور ۔“ اور اتنا کہہ کر وہ اٹھی اپنی بیساکھی اٹھائی اور باہر کی جانب چلی گئ . ڈاکٹر مریم کو ناجانے کیوں وہ ان کے دل کے بہت قریب لگی ۔
گھر آتے ہوے اس کے ذہن میں بس ایک ہی فقرہ تھا اور وہ تھا ۔
” تھوڑے ہی عرصے میں آپ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائیں گی “
” دوبارہ اپنے پاووں پر “
” اپنے پاؤں پر “
یہ فقرہ اسے ماضی میں لے گیا۔
*********
”ابو جان میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں ۔“
”تو میرا بیٹا ابھی کس کے پاؤں پر کھڑا ہے ؟“ ،ضمان آفندی محظوظ ہوئے ۔
” ابو جان میں مزاق نہیں کر رہی . امی جان آپ ہی کچھ کہیں نہ ….. میں ……میں پڑھ لکھ کر میرے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں ۔“، اب وہ بالکل رونے کے قریب تھی ۔ ضمان صاحب نے انگلی کے اشارے سے حریم کو ان کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا کہا ۔ وہ ان کے سامنے آکر بیٹھ گئ ۔
”اب بتایں میں سن رہا ہوں ۔“ ، ضمان صاحب نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور اور اپنی ساری توجہ اپنی بیٹی کی طرف کر دی جس نے دسویں میں سکول ٹاپ کیا تھا اور اس وقت حریم کے مستقبل کو لے کر ان کے ، عائشہ آفندی کے اور حریم کے درمیان بحث ہو رہی تھی ۔
” ابو جان میں پڑھائی مکمل کرنے کے بعد پاکستان آرمی جوائن کرنا چاہتی ہوں ۔“
” ایز ؟“
” ایز آ ڈاکٹر ۔ انشاءاللہ ! “
” انشاءاللہ ۔ اور یہ کیوں سوچا آپ نے ؟“ ، حریم نے ناسمجھی سے ان کی طرف دیکھا ۔
” میرا مطلب ہے کہ آپ آرمی ہی کیوں جوائن کرنا چاہتی ہیں کوئی اور فیلڈ کیوں نہیں ؟“ضمان صاحب نے اس کے لیے سوال کو آسان کر دیا ۔
” ابو جان میں پاکستان آرمی جوائن کر کہ ان لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہوں جو ہماری خدمت میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھے سرحدوں کی حفاظت میں مگن ہیں ـ ابو جان میں ان جوانوں کو سرو کرنا چاہتی ہوں جو مسلسل 63 سالوں سے ہمیں سرو کر رہے ہیں میں ان کیلیے محنت کرنا چاہتی ہوں ابو جان جو اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں تب ہی ہم یہاں سکون سے سو پاتے ہیں ۔ ابو جان میں اپنے پاکستان سے محبت کا ثبوت دینا چاہتی ہوں جس نے ہمیں آذادی جیسی نعمت دی ہے ۔“ ،وہ لمحے بھر کو رکی ، ”ابو جان ! امی جان ! میں آگے ایف۔ایس۔سی اور پھر آرمی میڈیکل کالج سے ایم۔بی۔بی۔ایس کرنا چاہتی ہوں ۔ تو کیا مجھے اجازت ہے؟“، اور ضمان صاحب نے حریم کی آنکھوں کی چمک دیکھتے ہوے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ بھلا ان کی اس بیٹی سے کہ جس سے آج تک کوئی کسی بھی تقریری مقابلے میں جیت نہیں سکا تھا وہ بحث کیسے جیت جاتے ۔
*********
”حریم بی بی گھر آگیا۔“ ، غفور چچا نے جب گھر آجانے کے باوجود اسے کوئی حرکت کرتے نہ دیکھا تو بتا دینا مناسب سمجھا کیونکہ پچھلے دو سالوں سے وہ اسی طرح گاڑی میں بیٹھی بیٹھی کھو سی جاتی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے لیکن آج انہوں نے دیکھا کہ حریم کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے ۔
”جی چچا“، اور اندر آگئ .
********
ضمان آفندی اور فرقان آفندی دو ہی بھائی تھے جن کا اِمپورٹ اکسپورٹ کا بزنس لاہور اور اسلام آباد میں تھا ۔ اسلام آباد کا زیادہ تر کام ضمان دیکھتے تھے ۔ ان کے گھر ایک ہی اخاطے میں تھے جس کا مین گیٹ ایک تھا اور اندر ایک ہی طرز کے بنے دو خوبصورت سے گھر تھے ۔ جن میں دونوں بھائی بمع فیملی رہتے تھے ۔
فرقان کی وائف روما آفندی اور دو بچے حیدر جو کہ نو سال کا تھا اور طوبہ جو کہ پانچ سال کی تھی وہ دائیں گھر جبکہ ضمان آفندی ان کی وائف عائشہ آفندی اور دو بیٹیاں حریم اور حورعین بایں گھر میں رہتے تھے ۔ روما اور عائشہ دونوں ہی بہنوں کی طرح تھیں ۔ اسی لیے آج سے چار سال پہلے جب عائشہ کا کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوا تو روما نے ہر ممکن کوشش کی کہ حریم اور حورعین ان کے ساتھ رہیں کیونکہ ضمان صاحب کا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزرتا تھا ۔
” چچی جان ہم کیسے وہاں رہیں یہاں ہماری امی جان کی خوشبو ہے ۔“، روما نے اس کے آنسو پونچھے اور کہا ،” دیکھو بیٹا ضمان بھائی بزنس کے سلسلے میں زیادہ تر اسلام آباد میں ہوتے ہیں آپ دونوں کس طرح رہو گی یہاں ۔ اور پھر ساتھ ہی تو گھر ہے جب دل کرے آجائے گا ۔“
” چچی جان دل نہیں مانتا اور پھر آپ بھی تو ہمارے ساتھ ہی ہیں نہ کون سا دور ہیں اور ویسے بھی خالہ بی بھی یہیں رہیں گی نا ۔“ ( خالہ بی ان کے گھر پچھلے 8 سالوں سے تھیں اور بالکل فیملی جیسی تھیں بہت محبت کرنے والی ) اور پھر اس بحث کا نتیجہ یہ ہوا کہ روما کو ہار ماننا پڑی لیکن پھر بھی انہوں نے حریم اور حورعین کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔
**********
”اسلام علیکم “، حریم نے گھر میں داخل ہوتے سلام لی ۔
” وعلیکم السلام حریم بیٹا آپ بیٹھو میں پانی لے آوں ۔“ ، خالہ بی اسے بٹھا کر اس کیلیے پانی لینے چلی گئیں اتنے میں حورعین دوڑتی ہوئی آئی اور آکر اس سے لپٹ گئ ، ” آپی ! آپی ! کیا کہا ڈاکٹر نے ؟“
” ارے ارے حورعین بیٹا حریم کو پانی تو پی لینے دو ۔“ ، اتنے میں خالہ بی پانی لے آئیں . حریم نے گلاس لے کر ایک دو گھونٹ بھرے اور گہرا سانس لیا جیسے کوئی بہت بُری خبر سنانے والی ہو۔ ( وہ صرف ان دونوں کے صبر کو آزما رہی تھی )
” ڈاکٹر نے بہت امید دلائی ہے کہ سرجری کئے بغیر ہی ساکٹ اور پروستھیٹک فٹ سے کام بہترین چل جائے گا ـ اور تو اور کاسٹنگ یہاں ڈاکٹر کر دیں گی اور پازیٹو ماڈل کو وہ پشاور بھجوائیں گی۔ ساکٹ پشاور میں بنے گا ۔“، حورعین کی خوشی دیدنی تھی حریم نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور کہا ۔
” میں کچھ ہی دنوں میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاوں گی ۔“، اب کی بار حورعین نے خوشی سے حریم کے دونوں گال چومے اور کہا ،”میں ابھی چچی جان کو بتا کر آتی ہوں ۔“
حریم نے مسکرا کر اجازت دے دی ۔ حورعین ابھی دروازے تک پہنچی تھی کہ رک گئ اور پلٹ کر کہا ، ”حریم آپی آپ کیلیے میم مریم کی کال آئی تھی ۔ پوچھ رہی تھیں آپ کا ۔ ان کو کال بیک کر لیجئیے گا۔“ ، حریم نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔
”حریم بیٹا آپ کی چچی کہہ رہی تھیں کہ آج کھانا ان کی طرف ہے ۔“
” جی ٹھیک ہے خالہ بی میں تھوری دیر ریسٹ کر لوں آپ جا کر ان کا ہاتھ بٹا دیجئے ۔“ ، یہ کہہ کر حریم اپنے کمرے میں آگئ ۔ نفاست سے سجایا ہوا کمرہ تھا ۔ بیڈ کے ایک طرف سٹڈی ٹیبل اور دوسری طرف ڈریسنگ ٹیبل تھا ۔ کپڑوں کی الماری باتھ روم کے ساتھ اٹیچڈ ڈریسنگ روم میں تھی . بیڈ کی بالکل سامنے والی دیوار پر ایک خوبصورت سی پینٹنگ تھی جس میں پاکستان آرمی کی وردی جیسے رنگ تھے اور اوپر خطاطی کے خوبصورت سے انداز میں ”خواب“ لکھا ہوا تھا ۔ حریم دوبارہ ماضی میں کھو گئی ۔
************
سیکنڈ ائیر کے سینڈاپس کا لاسٹ پیپر تھا جب میم مریم پیپر واپس لےچکیں تو کلاس کو اپنی طرف متوجہ کر کے ایک سوال کیا ۔
” کلاس آج سب لڑکیاں اپنا اپنا مقصد حیات بتائیں گی؟ “، یہ کہہ کر میم چئیر پر بیٹھ گئیں ۔ ہاتھ کے اشارے سے دائیں طرف کونے میں بیٹھی طیبہ کو کھڑا کیا ـ
” میم میں اپنی زندگی میں ایک این۔جی۔او کھولنا چاہتی ہوں ـ“
میم مریم نے اس کو سراہا اورکہا ۔” اللّه آپ کا مددگار ثابت ہو ۔ آمین “
”آمین ۔“ ساری کلاس نے بھی آمین کہا ۔ پھر رامین کھڑی ہوئی اور کہا، ” میم میں ڈاکٹر بنناچاہتی ہوں۔“
”ٹیچر ۔“
” ڈاکٹر ـ“
” ڈاکٹر ۔“
” فزیشن ۔“
پھر حریم کھڑی ہوئی ،”میم میں پاکستان آرمی جوائن کرنا چاہتی ہوں یہی میرا خواب اور مقصد حیات ہے ۔“ میم مریم نے مسکرا کر سر خم کیا، ”حریم اللہ آپ کا مددگار ثابت ہو آمین ۔“
” آمین ۔“
*********
حریم نے ماضی کی یادوں سے سر جھٹکا اور میم مریم کو کال کی ۔ دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا ۔
”وعلیکم السلام “، دوسری جانب سلام کیا گیا جس کا حریم نے جواب دیا ۔
”جی میم میں بالکل ٹھیک ہوں ۔“، اب حال پوچھا گیا تھا ۔
” میم ڈاکٹر کہہ رہی ہیں کہ بہت جلد پروستھیٹک فٹ اور سوکٹ مل جائیں گے ۔“
اب کی بار وہاں الله کا شکر ادا کیا گیا ۔
”جی اللہ کا بہت شکر ۔“
اب وہاں سے ایک سوال پوچھا گیا جس کے جواب میں حریم ایک دو پل خاموش رہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
”جی میم میں اپنے خواب پر کام کر رہی ہوں ان شاء اللہ بہت جلد اس کا نتیجہ بھی آنے والا ہے ـ“ پھر ایک دو معمول کی باتوں کے بعد حریم نے فون بند کیا اور بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔
(تو کیا حریم نے اپنا خواب بدل دیا تھا یا چھوڑ دیا تھا یا وہ جھوٹ بول رہی تھی یا حقیقت کچھ اور ہی تھی )

حریم کی آنکھ کھلی تو اس وقت وہ بیڈ پر تھی ۔ ٹائم دیکھا تو ابھی مغرب میں وقت تھا ۔ وضو کے لئے باتھ روم میں آئی ۔ وہاں سنک کی اونچائی زیادہ نہیں تھی اور ساتھ میں ایک چئیر تھی جو کہ حریم کی ہی آسانی کے لئے تھی ۔ حریم اس پر بیٹھی اور اپنے پاجامہ کو پاؤں پر سے اوپر اٹھایا ۔ ایکسیڈنٹ کے باعث حریم کی ٹانگ کاٹنی پڑی تھی ۔ دایئں ٹانگ جو کہ پاوں سے 5 انچ اوپر تک کٹی ہوئی تھی ۔ حریم نے بغور اپنی ٹانگ کا جائزہ لیا ۔ اور پھر پاجامہ نیچے کر دیا ۔ وضو کر کے باہر آئی ۔ نماز پڑھی اور دعا کی لئے ہاتھ اٹھائے ،” اللہ میں نہیں جانتی میرے لئے کیا بہتر ہے ۔ آپ جانتے ہیں ۔ آپ میرے لئے وہ کر دیں جو میرے حق میں بہتر ہے ۔ اللہ میں نہیں جانتی کے اگلے کچھ دنوں میں کیا ہونے والا ہے ۔ آپ جانتے ہیں ۔ آپ پلیز وہ کردیجئے جو میرے لئے اچھا ہو ،“ اور ساتھ ہی ایک آنسو نکل آیا ۔
” اللہ میں جانتی ہوں آپ جو کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے ۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں بھی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔لیکن اللہ میں اب واقعی بہت تھک گئی ہوں ۔ اللہ میری آخری امید پروستھیٹک فوٹ ہے ۔ آپ پلیز میری اس امید کو مکمل کر دیں ۔ پلیز اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز ۔“ اب کی بار دونوں آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے ۔ ”آمین“ ، پھر وہ اٹھی اور کپڑے بدلنے کے لیے چلی گئی کیونکہ رات میں روما چچی کی طرف ڈنر تھا ۔
***********
گلبرگ کے ایک خوبصورت سے گھر کے اخاطےمیں ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ ٹیبل پر تین چار کھانے کی ڈشز اور ساتھ میں سویٹ تھی اور بالکل درمیان میں ایک موم بتی تھی ۔ حسن نے اب کی بار مریم کو پاستہ پاس آن کیا ۔
” تھنکس۔“، مریم نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں لیا ۔
” سو مما آپ کے دن کیسے گزر رہے ہیں ۔ آئی مین پاپا کے بغیر ؟“ ، حسن نے آنکھ ماری ۔
” ہاہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سچی بتاؤں حسن تو میں بہت زیادہ بور ہو جاتی ہوں اور آپ کے پاپا ہیں کہ ہر مہینے ہی کسی نا کسی کنٹری کا وزٹ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور اوپر سے آپ کی پوسٹنگ سے بھی شکایت ہے مجھے ، چینج ہو تی رہتی ہے ۔ بچی میں اکیلی ، ہنہ ۔“ ، مریم نے گلہ کیا ۔
” واقعی مما بات تو غلط ہے ۔“ ، حسن نے بھی تائد کر دی ۔
اس بار مریم کو لگا کہ لوہا گرم ہے ، ”بس حسن میں نے ایک فیصلہ کر لیا ہے کہ اس دفع میں آپ کے لئے لڑکی دیکھ رہی ہوں ۔“ ، اور یہ لوہے پر وار بھی کر دیا ۔ حسن نے گڑبڑا کر ان کی طرف دیکھا ۔
” ایک منٹ۔۔۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ لڑکی ،“ اور اپنی شہادت کی انگلی اپنی طرف کی ،” میرے لئے “، مریم نے محظوظ ہوتے ہوے اثبات میں سر ہلا دیا ، ”وہ کس لیے ؟“
” آپ کی شادی کے لئے بیٹا اور کس لئے ۔“
” یعنی کہ پاپا یہاں نہیں ہوتے اور ان کی وجہ ،“ مریم نے حسن کی جانب اشارہ کیا، ”اور ہاں ہاں میری وجہ سے آپ یہاں اکیلی بور ہوتی ہیں تو اس میں میری شادی کہاں سے آگی بیچ میں ۔“
حسن کونفو ز ہوا ۔
” توبہ ہے حسن بیٹا آپ کی وائف آئیں گی تو ہی میں تھوڑی مصروف ہوں گی نہ ۔“
” تو آپ پاپا کے ساتھ بھی گھوم پھر کر مصروف رہ سکتی ہیں ۔“ ، اپنی طرف سے حسن نے بہت اچھا مشورہ دیا ۔
” حسن آپ کو پتا بھی ہے کہ مجھے ان کا سرکل بہت بورنگ لگتا ہے ۔ اور ویسے بھی آپ اب نہیں تو پھر کب کریں گے شادی ۔“ ، مریم نے ہر ممکن کوشش کرنا چاہی ۔
”مما اس کا مطلب ہے کہ آپ لڑکی دیکھ چکی ہیں۔“
”دیکھی ہے یا نہیں ابھی کنفرم نہیں ہے لیکن کم از کم وہ ڈاکٹر نہیں ہو گی ۔“ ، مریم نے جھرجھری لی ۔ ” ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نہیں تو کیا آپ کی پیشنٹ ہو گی۔“ ، جسن کی زبان پھسلی ۔ وہ صبح سے لاشعوری طور پر حریم کو سوچ رہا تھا ۔
” ویسے حسن آیڈیا برا نہیں ہے ۔“ ، دونوں کا ذہن ایک ہی لڑکی کو سوچ رہا تھا ۔ حسن نے جب ان کی معنی خیز مسکراہٹ کے پیچھے کا مطلب جانا تو کہا ، ” نو وے مما ۔ آپ کو پتا ہے آج مس حریم کی ہلپ کرنے کی کوشش کی میں نے ۔ اینڈ شی واز لایک ۔ ۔ اف ۔ ۔ ۔ ۔ اتنا غصہ ۔ ۔ ۔ ۔“
” لیکن مجھے تو وہ بہت سویٹ سی لگی ۔ شی از آ نایس گرل حسن ۔ اور ویسے بھی میں نے تو عام بات کی تھی نہ کے حریم کی ۔“ ، مریم ہنسنے لگیں ۔ اور حسن صحیح معنوں میں کنفیوز ہو گیا ۔
” مما میرا مطلب تھا۔۔۔۔۔۔ “ ، مریم نے حسن کی بات کاٹی اور کہا ، ” حسن فار می فرسٹ امپریشن از ناٹ دا لاسٹ ون ۔“ ، مریم نے اپنے بیٹے کی سرزنش کی۔
” جی ٹھیک مما ۔ آپ سویٹ لیں نا ۔“ ، باقی ڈنر خاموشی سے کیا گیا ۔
*************
”مما ! “ ، حسن نے صبح صبح ہی دروازہ ناک کیا اس وقت مریم ہسپتال جانے کیلیے تیار ہو رہی تھیں ۔
” جی حسن ۔ حیریت ؟“، حسن اس وقت بہت ہی خوشگوار موڈ میں بلیک پینٹ پر سفید شرٹ پہنے ہوے تھا ۔
” بالکل حیریت ہے ۔ آپ بتائیں کہ مس حریم کا ساکٹ کب بنایئں گی آپ ؟“،
مریم مسکرا دیں ۔ ” آپ کہو تو آج ہی بنا دوں ۔“
” سو سویٹ ! چلیں پھر میں اسے پک کر کے ہاسپیٹل لے آوں گا ۔ کوئی پرابلم تو نہیں نا ۔“ ، حسن بے اتنی صبح آنے کا مقصد بتایا ۔
” آپ کو پتا ہے وہ کہاں ہیں ؟“، مریم نے پوچھا ۔
” مما کیپٹن حسن کیلیے کچھ پتا کروانا مشکل نہیں ہے ۔ شی از آ لیکچرآر ان پرائیوٹ کالج ۔ اینڈ شی ول بی فری ٹل 12 ۔“ ، حسن نے دل جیت لینے والی مسکراہٹ سے جواب دیا ۔
” حسن مجھے نہ دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ۔“ ، مریم نے مسکراہٹ دبا کر کہا تو حسن جھینپ گیا ۔
” وہ کیا ہے مما میں نے سوچا کہ جو لڑکی میری مما کو اتنی سویٹ لگی ہے مجھے اس کے متعلق رائے بدل لینی چاہئیے ۔ کیوں صحیح کہا نہ ؟“
” ہاہاہاہا ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل صحیح کہا ۔“ مریم نے پہلی مرتبہ اپنے بیٹے کو کسی لڑکی کو پک کرتے خوشی کا اظہار کرتے ہوے دیکھا تو وہ بھی مطمئن ہو گئیں کہ شاید اب اسے کوئی لڑکی پسند آ جائے اور اگر وہ لڑکی حریم ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔
”مما اگر اس نے آپ کو کال کی تو سنبھال لیجیے گا۔“ ، یہ کہہ کر حسن باہر چلا گیا ۔
پیچھے سے مریم بھی ہاسپٹل کیلیے نکل گئیں ۔
جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ صادقہ نواب سحر قسط نمبر 01  ٭ ڈیلیوری بوائے  ” ڈیلیوری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے