سر ورق / کہانی / بھائی جان ..امین صدرالدین بھایانی

بھائی جان ..امین صدرالدین بھایانی

میں نے اسٹڈی میں داخل ہوتے ہی کمرے کا بغور جائزہ لینا شروع کردیا….!
کمرے کی تین دیواروں پر لگی الماریوں میں نفاست اور سلیقے سے بے شمار کتابیں سجیں ہوئی تھیں۔ چوتھی دیوار کے وسط میں گھر کے عقبی احاطے میں لگے مختصر سے باغیچہ میں کھلتی کھڑکی سے شام کے دھندلے سائے اور اُفق پر دور تک پھیلی نارنجی شفق عجب سا سماں باندھ رہی تھی۔ کمرا ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی اور وہاں پھیلی خاموشی کے سبب ایک نہ معلوم سی پُراسرایت میں لپٹا محسوس ہو رہا تھا۔ کھڑکی کے عین ساتھ لکھنے والی میز پر چند کتابیں اور ایک ٹیبل لیمپ دھرا تھا۔ دوسری طرف مطالعے کے لیے چرمی آرام کرسی لگی تھی۔ ایک لمبا سا ریڈنگ لیمپ کرسی کے پیچھے سے ہوتا ہوا عین اوپر یوں چھایا ہوا تھا کہ اُس کا اجالا صرف کرسی تک ہی محدود تھا۔ میز کے اوپر دیوار گیر پینٹنگ میں ناریل کے درختوں کے جھنڈ میں گھرے ساحل کے آسمان پر چند پرندے اُڑتے دکھائی دے رہے تھے ۔ پینٹنگ کے ذرا نیچے دیوار کی خالی جگہ پر تین چار چھوٹی چھوٹی تصاویر سے مزین ایک پرانا سا فریم نصب تھا۔ فریم پر نظر پڑتے ہی ایک بے ساختہ مسکراہٹ یکلخت میرے لبوں پر پھیل گئی۔ مگر جتنی تیزی کے ساتھ وہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اُسی تیزی کے ساتھ معدوم بھی ہوگئی۔ فریم میں کل چار تصاویر لگائے جانے کی گنجائش تھی اور وہاں صرف تین تصاویرآویزاں تھیں۔ چوتھی تصویر والی جگہ خالی پڑی تھی۔
”بھائی جان کی تصویر کہاں گئی….؟“ میں نے سوچتے ہوئے اپنا چہرہ محمود کی طرف پھیرا۔ وہ میرے چہرے پر ثبت حیرت کے ساتھ میری آنکھوں سے ٹپکتے سوال کو بھانپ گیا اور نظریں چُرا لیں۔ اُس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ کمرے کے عین وسط میں لگی کرسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ”یار شفقت….! تم ذرا بیٹھو میں تمھاری بھابھی کو چائے بھجوانے کا کہ کر ابھی آیا۔“ اس سے پہلے کہ میں اُسے روکتا وہ تیر کی طرح کمرے سے باہر نکل گیا۔میں دھیرے دھیرے چلتا کرسی تک گیا۔ دھم سے ڈھیر ہو کر اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔ میری نگاہیں فریم کے اُسی خالی حصے پر جمی ہوئی تھیں جہاں آج سے کوئی پینتیس چھتیس برس قبل اُن دیگر تصاویر کے ہمراہ بھائی جان کی تصویر خود میں نے اور محمود نے مل کر لگائی تھی۔
یہ ۰۷۹۱ءکی دھائی کے اواخر کا ذکر ہے۔
میں اور محمود نچلے متوسط طبقہ کی آبادی کے ایک محلے میں رہا کرتے تھے ۔ مقامی اسکول میں میڑک کی کلاس میں ہم جماعت ہونے کے علاوہ گھر آمنے سامنے ہونے کے سبب گہرا یارانہ تھا۔ ہمارے گھر والوں نے آپس میں صلاح مشورہ کر کے ہمیں محلے ہی کے ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر میں داخل کروا دیا۔ گو کہ ہم تعلیم میں کچھ ایسے بُرے بھی نہ تھے مگر بہتر نمبروں ہی کے سبب آگے اچھے کالج میں داخلہ ملنے کی امید تھی۔ دسویں جماعت کے پہلے روز سے ہی ہمارے والدین ہمیں محلے کے سب سے پڑھاکو اور نیک نام لڑکے کے گھر لے گئے اور پھر ہم دونوں نے باقاعدگی کے ساتھ ہر شام پانچ سے سات بجے تک وہاں جانا شروع کردیا۔
نام تو اُن کا شرافت علی تھا۔ مگر سارا محلہ اُنہیں بھائی جان، بھائی جان کہہ کر پُکارتا۔ گھر میں دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ اُن کے والدین تک اُنہیں بھائی جان ہی کہہ کر پکارتے۔ یوں وہ محلے بھر کے بھائی جان ٹہرے۔ کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا جوان، کیا بوڑھا۔ مرد ہو یا عورت سب اُنہیں بھائی جان ہی کہ کر پکارتے۔ تیس بتیس سال کے باوجود چوبیس پچیس سے زیادہ کے دکھائی نہ دیتے۔ بھائی جان کو دیکھنے والا بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ لامبا قد، کھلتی رنگت پر گہرے سیاہ گھنے بال، چوڑی پیشانی کے ساتھ قدرے پتلی سی ناک۔ ہمہ وقت صاف سُتھرے اور کلین شیو رہا کرتے۔ وہ اپنے دور کے کسی فلمی ہیرو سے کیا ہی کچھ کم رہے ہوں گے۔
سارے محلے میں اُن کا گھرانہ بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ اُن کے والدین نے تمام عمر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے تمام بچوں کی عمدہ پرورش کی بلکہ اعلیٰ تعلیم و تربیت کے زیور سے بھی آرستہ کیا۔ اب بھائی جان ہی کو لے لیجئے ۔ انہوں نے انگریزی ادب میں گولڈ میڈل کے ساتھ ماسٹرز کیا۔ پھر بناءکسی سفارش کے محض اپنی اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر اہم سرکاری محکمے میں بہت اچھی پوسٹ پر اُن کا تقرر بھی ہوگیا۔
بھائی جان ایسی کلیدی سرکاری پوسٹ پر متعین تھے کہ جہاں ہر وقت ہُن برستا۔ مگر کیا کیجیے کہ والدین کی تربیت ہی کچھ ایسی تھی، اُوپر کی آمدنی سے اُنہیں خدا واسطے کا بیر تھا۔ والد کے رٹائیرڈ ہوجانے کے بعد اب وہ ہی گھر کے واحد کفیل تھے۔ اپنے سے چھوٹے دو بھائیوں اور دو بہنوں کی تعلیم اور گھر کے اِخراجات کی مکمل زمہ داری، جو کہ ظاہر ہے والد کی قلیل سی پینشن میں تو کسی طور پر پورے نہ ہوسکتے تھے ، اُن ہی کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔
سہ پہر چار بجے وہ اپنے دفتر سے فارغ ہو کر گھر پہنچتے۔ کوئی ایک گھنٹے بعداُن کے کمرے میںمحلے کے دس بارہ بچوں ٹیوشن پڑھنے کے لیے جمع ہوجاتے۔ جنھیں پڑھانے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ہی کو اُن کی بالائی آمدنی کہ لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
بھائی جان کے اُس لائبریری نما کمرے میں لگی دو بڑی بڑی الماریاں کتابوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ ایک الماری میں انگریزی اور دوسری میں اُردو ادب کی کتابیں۔ انگریزی ادب سے تو مجھے اور محمود کو اُس وقت تک کوئی خاص شغف نہ تھا۔ بلکہ سچ پوچھیں تو اُردو ادب و شاعری سے بھی ہمیں متعارف کروانے کا سہرا اگر میں کہوں کہ بھائی جان کے سر جاتا ہے توغلط نہ ہوگا۔ اُس سے قبل ہم بچوں کے ناول، رسالوں اور دیگر فلمی نوعیت کے جرائد سے ہی دل بہلا لیا کرتے۔ بھائی جان کی الماری میں اُردو ادب کی اتنی ڈھیر ساری کتابیں دیکھ دیکھ کر اُنہیں پڑھنے کی چاہ ہمارے دلوں میں بھی پنپنے لگی۔ جب بھی موقعہ ملتا ہم الماری سے کوئی نہ کوئی کتاب اُٹھا کر اُس کے صفحات پلٹنا شروع کردیتے ۔ بھائی جان نے اس حوالے سے ہماری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ وہ اپنی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں بتاتے اور من پسند کتابیں گھر لے جانے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔
بھائی جان کی ایک اور عادت جو آگے چل کر ہم دنوں میں بھی سرایت کر گئی وہ تھی اُن کا گیت وغزلوں کا شوق۔ ہمیں پڑھاتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں اپنا ریڈیو بھی لگا دیتے او ر سرِشام مقامی ریڈیواسٹیشن سے نشر ہونے والے گیت وغزل کا پروگرام سر دھنتے ہوئے سُنتے اور ہمیں پڑھاتے جاتے۔ادب و موسیقی سے ہمارے شوق کو مہمیز کرنے میں بھائی جان کے دوستوں نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ ہوتا کچھ یوں کہ اکثر شام کے اوقات میں بھائی جان کے چند ہم ذوق دوست بھی آ جاتے۔ ادب، شاعری، موسیقی حتیٰ کہ تازہ ترین شائع شدہ ادبی کتب اور نئی ریلیز شدہ فلموں پر اُن کے مابین ہونے والی گفتگو اس قدر دلچسپ ہوتی کہ ہماری آنکھیں تو سبق پر ہوتی مگر کان اُن کی گفتگو پر لگے رہتے۔
اکثرجمعرات کو رات گئے یا پھرجمعہ کی شام کو، کہ اُن دنوں جمعہ کی تعطیل ہوا کرتی، اُن کے گھر ہم خیال و ہم ذوق دوستوں کی ادبی بیٹھک ہوتی۔ بھائی جان نے ہم دونوں کی دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُن بیٹھکوں میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی۔
علاوہ ازیں وہ ریڈیو سے نشر ہونے والے ادبی پروگراموں میں بھی گاہے بہ گاہے حصہ لیتے ۔ جس روز اُن کا پروگرام نشر ہوتا، میں اور محمود وہ پروگرام شوق سے سُنتے ۔
اِن تمام باتوں کا فائدہ یہ ہوا کہ نہ صرف ہماری ادبی معلومات میں کماحقہ اضافہ ہوا بلکہ اسکول کے ساتھیوں میں بلعموم اور اُردو کے استادوں میں بلخصوص ہماری ادبی معلومات کی دھاک بیٹھ گئی۔ اکثر اساتذہ تک کسی نوآمدہ ناول، افسانوی یا شاعری مجموعے کے بارے میں ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتے۔ بھائی جان کی گھریلو لائبریری، ادبی بیٹھکوں اور ادبی ریڈیو پروگراموں کی مہربانی کے سبب ہم سے بہتر ان سوالات کے جواب بھلا اور کون دے سکتا تھا؟
ایک روز ہمیں بھائی جان کے حوالے سے ایک اور بات کا پتہ چلا۔
ہم دوستوں کے ساتھ محلے کے میدان میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ وہاں موجو د لڑکوں میں سے اکثریت بھائی جان کے سابقہ وحالیہ شاگروں کی تھی۔ باتوں باتوں میں اُن کا ذکر نکل آیا۔ ہم سے عمر میں چند بڑے لڑکوں نے انکشاف کیا کہ بھائی جان ناکام محبت کے تیر سے گھائل ہوئے ہیں اِسی لیے تو شادی نہیں کرتے۔ مجھے اور محمود کو اس بات پر بالکل یقین نہ آیا۔ بھائی جان کے چہرے کا نور اور مسکراہٹ، اُن کا رکھ رکھا¶، اُن کی چال ڈھال، باوقار نشت وبرخاست اور ہر موسم کے لحاظ سے اُن کا پُرتکلف پہناوا۔ بھلا کون کافر کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص اپنے سینے میں ناکام محبت کا داغ چھپائے پھرتا ہے۔مگر معمولی سی تحقیق سے بات سامنے آئی کہ کہنے والے نے کہا تو سچ ہی تھا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ جب بھائی جان کالج کے طالبعلم تھے۔ اپنی ایک کلاس فیلو نائلہ سے اُنہیں محبت….!، جی نہیں….! محبت نہیں….! بلکہ عشق ہوگیا…. !!!
دونوں ہی طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔ مگر جیسا کہ عموماً ہوتا ہے ، بھائی جان کے ساتھ بھی کم و بیش ویسا ہی ہوا۔ ایک کرائے کے چھوٹے سے گھر میں رہنے والے معمولی سے سرکاری افسر کے بڑے بیٹے کا رشتہ جس کے کاندھوں پرابھی اپنی تعلیم کے ساتھ چھوٹے بہن بھائیوں کا بوجھ بھی تھا۔ نائلہ کے اونچے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے والدین نے نہ صرف ٹھکرا دیا بلکہ اپنی بیٹی کی شادی ہم پلہ لوگوں میں کردی۔ یوں بھائی جان کی مختصر سی پریم کہانی اپنے دردناک انجام کو پہنچی….!
اس بات کا علم ہونے کے بعد ہماری نظروں میں بھائی جان کی قدر ومنزلت اور عزت واحترام مزید بلند ہوگیا۔ بڑی خاموشی، متانت اور وقار کے ساتھ اُس دکھ کو جھیل رہے تھے۔ نہ معلوم کب اپنے اندر غیراعلانیہ کسی اور سے شادی نہ کرنے کا مستحکم فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ محلے بھر کی کنواری لڑکیوں کے والدین تو منتظر تھے۔ کب بھائی جان کے والدین اشارہ کریں اور وہ اپنی دخترِنیک اختر کا پلہ اُنہیں تھما دیں۔ خود اُن کے امی ابو کی بھی شدید خواہش تھی کہ وہ کسی طرح سے شادی کے لیے راضامند ہوجائیں۔ مگر جب بھی اس حوالے سے کوئی بات چلتی، بھائی جان چُپ چاپ وہاں سے اُٹھ جاتے ۔ اپنے کمرے میں بند ہو کر کتابوں کی الماری سے فراز کا شعری مجموعہ ”جاناں جاناں“ نکال صفحے پلٹ کر جسے وہ کبھی جاناں کہا کرتے تھے کو اُس کا پیماں یاد دلاتے ۔ مگر افسوس کہ اُس پیماں کی تجدید کا اب کوئی امکاں دور دور تک باقی نہ رہا تھا….! سچ تو یہ تھا کہ وہ دونوں جہاں محبت میں ہارنے کے باوجود بھی کسی طور شبِ غم گزار کر جانے والوں میں سے دکھائی نہ دیتے تھے….!!!
اِن سارے معاملات میں پتہ ہی نہ چلا کہ کب سال بیت گیا۔ ہمارے امتحانات ہوگئے۔ پھر نتائج کا اعلان ہوا جو ہمارے گھر والوں کی امیدوں کے عین مطابق رہا۔ ہمیں شہر کے ایک بہت اچھے کالج میں اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کے سبب باآسانی داخلے مل گئے۔
جس روز ہمارا نتیجہ نکلا، میں اور محمود مٹھائی کا ڈبہ اور بھائی جان کے پسندیدہ ادیب کے تازہ ترین ناول کا تحفہ لے کر اُن کے گھر پہنچے۔ رات کا وقت تھا۔ وہ اپنے کمرے میں بکھری کتابوں کے درمیان غلطاں و پیچاں تھے۔ ہمیں دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ گلے لگا کر خُوب شاباش دی۔ کچھ دیر بڑے ہی خُوشگوار ماحول میں اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ اچانک میرے ایک سوال نے سارے ماحول پر ایک بوجھل سی سنجیدگی طاری کردی۔”بھائی جان یہ آپ کی لکھنے والی میز کے اُوپر دیوار پر لگی فریم میں قائدِ اعظم، فیض صاحب اور آپ کے والد ِمحترم کی تصاویرکے ساتھ میں نے ہمیشہ سے دیکھا ہے کہ چوتھی جگہ خالی ہی رہتی ہے ۔ ایسا کیوں؟….!!!“
کچھ دیر بھائی جان آنکھیں سُکیڑے ، بے تاثر چہرے کے ساتھ خلا میں گھورتے رہے۔ پھر ایک گہری سانس لے کر بھینچے ہوئے ہونٹ پر ایک ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ ناک سے سانس خارج کی اور بولے۔ ”میں تو یہ توقع کررہا تھا کہ تم لوگ بہت پہلے مجھ سے یہ سوال کرو گے۔ مگر خالی جگہ کے بارے میں نہیں بلکہ اِن تین تصاویر کے بارے میں کہ اُن کے ایک ساتھ ہونے کے بھلا کیا معنی ہوسکتے ہیں؟“
”جی بھائی جان….! میں اکثر انہی تین تصاویر کے بارے میں سوچتا رہتا کہ کبھی نہ کبھی آپ سے ضرور پوچھوں گا…. ، مگر یہ جو شفقت ہے نا، جب سے اِس نے محلے کے لڑکوں کی زبان سے….!!!“ اس سے پہلے کہ محمود کچھ کہتا میں نے اُسے اپنی آنکھوں کے اشارے سے چُپ ہوجانے کا اشارہ کیا۔ بھائی جان نے دیکھ لیا اوراُن کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔ ”یہی کہتا ہے نا کہ یہاں کبھی نائلہ کی تصویر ہوتی ہوگی….!“ میں نے اپنے خجالت آمیز چہرے کو کھسیانی سی مسکراہٹ سے سجاتے ہوئے دھیرے سے سر ہلادیا۔
اپنی شہادت کی انگلی ترچھی کر کے ٹھوڑی پر رکھی۔ انگوٹھے سے ٹھوڑی کو نیچے سے کُھجاتے ہوئے ایک سرد آہ بھر کر اُوپری ہونٹ کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے ڈوبتی آواز میں فقط اتنا بولے ۔”اب یہ جگہ ہمیشہ یونہی خالی رہے گی….!!!“
میں نے ماحول کو اس قدر بوجھل اور گھمبیر ہوتے دیکھ بات بدلتے ہوئے کہا۔ ”اور یہ ان تین تصاویر کا کیا قصہ ہے ؟“ میرا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھا۔ بھائی جان کے چہرے پر ایک بھرپور اور گہری مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”یہ تینوں میری آئیڈیل شخصیات ہیں…. !!!“
”خیر قائد ِ اعظم اور فیص صاحب تو بہت سے لوگوں کی آئیدیل شخصیات میں شامل ہیں۔ مگراُن کی تصاویر اپنے والد صاحب کی تصویر کے ہمراہ ایک فریم میں لگانے کی وجہ سمجھ نہ آ سکی؟“ محمود حیران ہوتا ہوا بولا۔”چلو میں تمھیں آج ایک راز کی بات بتاتا ہوں….!“ وہ دھیرے مگر بڑے ہی مستحکم لہجے میں بولے۔ ”راز….!!!“ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ ”ہاں تم لوگ اسے میرا راز ہی سمجھ لو۔“ اُن کے چہرے پر ایک ہلکی شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔”دیکھو….! تم لوگ، تمھارے والدین اور سارے محلے والے میری بہت عزت کرتے ہیں….! کرتے ہیں نا؟….!!!“
”جی بھائی جان….!!!“ہم ایک ساتھ بولے۔”تو بتا¶….! وہ کیوں بھلا؟….!!!“ کچھ دیر ہم صُم بکُم کی سی کیفیت کا شکار رہے پھر محمود نے یک لخت خاموشی کو توڑا۔ ”آپ کے اعلیٰ کردار کے سبب۔“ اتنا کہہ کر وہ بھائی جان کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ ”تو تمھیں لگتا ہے کہ میرا کردار بہت اعلیٰ ہے ؟“
”بھلا یہ بھی پوچھنے والی بات ہے ، بھائی جان“ اب ہم دونوں بول اُٹھے ۔”بات یہ ہے محمود اور شفقت….! زندگی میں جب بھی میں نے خود کو کمزور پایا۔ جب جب کسی درست فیصلے پر پہنچنے میں مشکل محسوس کی ، تب تب میں نے ان تصاویر سے مدد لی۔“
”مدد اوروہ بھی تصویروں سے ؟….!!!“ میرا لہجہ حیرت سے پُر تھا۔
”ہاں…. !“ وہ ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔ ”میں نے سوچا کہ اگر یہی معاملہ اُن لوگوں کے ساتھ پیش آتا تو وہ کیا کرتے اور پھر جو جواب آیا میں نے ویسا ہی کیا….! ایک لمحے کو رکے اور بولے ۔ ” قائد اور اُبو سے میں نے کردار و نظم پایا….! فیص صاحب کی شاعری سے ضبط….!!!
اُس روز ہم نے ضد کر کے بھائی جان سے اُن کی دو تصاویر حاصل کیں۔ اگلے ہی دن بازار جا کر اُسی طرح کے دو فریم لے کر اُنہیں اپنی دیگر تین آئیڈیل شخصیات کی تصاویر کے ہمراہ لگا کر اپنے اپنے کمروں میں سجا دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہم دونوں کی زندگی میں جب جب کمزور لمحات آئے اور صحیح وغلط کا فیصلہ کرنا مشکل محسوس ہوا، تب تب ہم نے بھی وہی کیا جیسا بھائی جان نے بتایا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ اللہ کہ کرم سے ہم ہمیشہ سُرخ رو رہے۔
وقت کا پنچھی پر لگا کر اُڑتا رہا۔ ہم نے تعلیمی مراحل سے گزر کر عملی زندگیوں میں قدم رکھ دیا۔ پہلے مجھے بیرون ملک جا کر حصولِ رزق کا موقعہ میسر آ گیا اور پھر میری شادی ہوگئی۔ گو کہ شروع کے آٹھ دس سال تک تو ہم ایک دوسرے کی اور میں محمود کے توسط سے بھائی جان کی خبر رکھتا رہا۔ پھر اپنی زندگی اور گھر گرہستی میں کچھ یوں مگن ہوگیا کہ دھیرے دھیرے محمود سے بھی رابطہ ختم ہوتا چلا گیا۔ اب کوئی پیتنس چھتیس سال بعد مجھے اچانک محمود کی یاد آئی۔ دراصل مدتوں بعد میں ایک ماہ کے لیے وطن جانے کا سوچ رہا تھا تو خیال آیا کہ محمود سے ضرور ملاقات کرنی چاہیے ۔ بھلا ہو فیس بک کا کہ تھوڑی سی تگ ودو کے بعد میں نے محمود کو ڈھونڈ نکالا۔ یہ بتائے بناءکہ اگلے ماہ میں اُس سے ملنے آنے والا ہوں اُس کا پتہ لے لیا۔ دل ہی دل میں یہ سوچ کر محضوظ ہوتا رہا کہ مجھے اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اُسے اور بھائی جان کو کتنا زبردست جھٹکالگے گا۔
”ارے بھئی شفقت….! معاف کرنا یار…. !!!“ شفقت کی آواز نے مجھے چونکا دیا وہ کافی ٹیبل پر ایک بڑی سی ٹرے رکھ رہا تھا جو چائے اور فواکہات سے لدھی ہوئی تھی۔ میں چونک اُٹھا۔ سورج مکمل غروب ہوچکا تھا۔ کھڑکی سے نظر آتے آسمان پر چہار سو سیاہی پھیل چکی تھی۔ کمرے میں ملگجا سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ ٹرے رکھ کر محمود نے دیوار پر نصب سوئچ دبا کر بتیاں روشن کردیں۔ اچانک کمرہ روشن ہو کر جگمگانے لگا۔ اُن تیز روشنیوں میں نہ جانے کیوں محمود کا چہرہ بے حد اجنبی سا لگا۔”میں نے سوچا کہ تمھارے لیے چائے وغیرہ اپنے سامنے ہی تیار کروا کر لے آ¶ں۔ بور تو نہیں ہورہے تھے نا۔“ مجھے گھورتے دیکھ کرمحمود نے وضاحت پیش کی۔”ان باتوں کو چھوڑوں۔ یہ بتا¶ بھائی جان کیسے ہیں؟“ میں نے اُس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔”چائے سے فارغ ہو کر بس ابھی سیدھا اُن کے ہاں ہی چلتے ہیں۔“
محمود کے چہرے پرایک کے بعد دوسرا رنگ آ جا رہا تھا۔ ساتھ رکھی کرسی پر خاموشی سے بیٹھ کر اپنا سر جھکا لیا۔ کچھ دیر یونہی خاموشی چھائی رہی پھر اُس نے دھیرے دھیرے اپنا سر اُٹھایا۔ میں نے دیکھا کہ اُس کی آنکھیں سرُخ اور اشکبار تھیں۔ پھر اپنی آنکھیں میرے جوتوں پر مرکوز کرتے ہوئے انتہائی بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
”یار…. ش…. ش…. شش…. شف…. قت….! کوئی تین چار ماہ قبل بھائی جان کا انتقال ہوگیا….!!!“
”کیا….!کیا کہہ رہے ہو محمود….!!!“ میں زور سے چیخ پڑا۔ کئی ساعتوں تک کمرے میں ماسوائے ہماری سانسوں کے کوئی اور آواز سُنائی نہ دیتی تھی۔ ”یہ کیسے ہوا ؟ اور یہ تم نے فریم میں سے اُن کی تصویر کیوں نکال دی ہے ؟“ میں نے محمود کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔”یار شفقت….! کیا بتا¶ں….! تم تو جانتے ہی ہو کہ انہوں نے شادی نہ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی سو تمام عمر خود تو شادی نہ کی مگر اپنے چاروں بہن بھائیوں کو نہ صرف خوب لکھایا، پڑھایا، اُن کی شادیاں کروائیں اور اُنہیں اپنی اپنی زندگیوں میں سیٹ کرواتے کرواتے خود اپ سیٹ ہوگئے ۔“
”کیا مطلب….؟“ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔ ”ساری زندگی سرکاری نوکری کرتے رہے اور جب تک صحت نے ساتھ دیا اُس وقت تک ٹیوشنز بھی پڑھاتے رہے۔ گذشتہ سات آٹھ برس سے اُن کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ اپنے علاج معالجے کی طرف بھی دھیان نہ دیتے تھے۔ پھر کوئی دو برس قبل ملازمت سے رٹائر ہوئے۔ تب معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے پرواڈنٹ فنڈ وغیرہ سے لون لے لے کر اپنے بھائی بہنوں کی تعلیم اور شادیوں کے اخراجات پورے کیے تھے۔ سو وہاں بھی کچھ بچا نہ تھا۔ ساری زندگی اصول پسندی اور ایمانداری سے گزار دی۔ وہی سب اُن کے آڑے آیا۔ رٹائرڈ ہونے کے بعد ایک سال ڈیڑھ سال تک تو اپنی پنشن کے کاغذات منظور کروانے کے لیے اِدھر اُدھر بھٹکتے رہے مگر کچھ نہ ہوسکا۔ اُس وقت تک جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔ نہیں معلوم کیسے گزرا کرتے تھے۔“
”اور اُن کے بہن بھائی؟“
”وہ اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے ۔ بھائی جان اُسی پرانے محلے والے کرائے کے گھر میں ہی رہے ۔ ایک بھائی اور دو بہنیں بیرون ملک جا بسے جبکہ دوسرے چھوٹے بھائی نے اپنا ذاتی گھر بنوالیا مگر اُنہیں کبھی پھوٹے منہ سے بھی اپنے ساتھ آ کر رہنے کی دعوت نہ دی۔“
”یہ سب باتیں تمھیں کیسے معلوم ہوئیں؟“ میرے سوال کرنے پر محمود اُٹھا اور لکھنے والی میز کی دراز سے اخبار کا تراشہ لے کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔یہ کسی مقامی اخبار کی مختصر سی دو کالمی خبر تھی۔ لکھا تھا۔
رٹائرڈ سرکاری افسر شرافت علی انتقال کر گئے ۔
”ہمارے نمائیندے کے مطابق ڈیڑھ سال تک اپنی پنشن منظور کروانے کی کوشش کرتے رہے مگر اُن کا کیس مسلسل سرُخ فیتے کا شکار رہا۔ آخرکاراپنی بیماری کے سبب تھک کر ہار مان لی۔ وہ شہر کے مضافاتی علاقے میں کرائے کے گھر میں اکیلے رہتے تھے ۔ اُن کی کوئی اولاد نہ تھی۔ گذشتہ روز گھر سے بدبو اُٹھنے کے سبب پڑوسیوں نے گھر کا دروازہ توڑا تو اُنہیں بستر پر مردہ حالت میں پایا۔ بتایا جاتا ہے کہ اُن کی موت کو پانچ چھے روز گزر چکے تھے ۔ گھر کی صورتحال سے اندازہ ہوا کہ مرحوم کئی روز کے فاقے سے تھے۔ اہلِ محلہ کے مطابق چند برسوں قبل وہ اُن کے بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے۔ خرابیِ صحت کے باعث یہ سلسلہ موقوف ہوگیا۔ لہذا اُن کے ہاں کسی کی آمدورفت بھی نہ تھی۔ مرحوم نے سوگوران میں دو بھائی اور دو بہنوں کو چھوڑا۔“
میری آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ اُس اخباری تراشے پر گر رہے تھے۔ محمود اپنی جگہ سے اُٹھا۔ اُس نے میرے ہاتھ سے اخبار کا تراشہ لے لیا اور مجھے اپنے گلے سے لگا لیا۔ کچھ دیر ہم یونہی ایک دوسرے سے لپٹے سسکتے رہے۔ پھر وہ دھیرے سے روہانسی آواز میں بولا۔”بھائی جان کی تصویر دیکھ کر میرا روز یہی حال ہوتا تھا۔ سو میں نے اُن کی تصویر فریم سے نکال دی۔“ پھر ہچکیاں لے کر رو پڑا۔ چند لمحوں بعد خود پر ضبط کرتا ہوا ایک گہری سانس لینے کو رکا اوربولا۔
”یار….! شفقت….! بھائی جان….! بہت اچھے انسان تھے ….!
مگر یار….! انسان کو اتنا اچھا بھی نہیں ہونا چاہیے …. !!!“
٭….٭….٭….٭….٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

عالمی ادب سے انتخاب "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد "کیا تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے