سر ورق / کہانی / خونی کھنڈر محمد عرفان رامے

خونی کھنڈر محمد عرفان رامے

اماوس کی گھٹا ٹوپ اندھیری رات میں صدیوں پرانے ا س کھنڈر کے بلند و بالا درو دیوار کسی خون آشوب عفریت کی طرح سرتانے کھڑے تھے۔ہر طرف خوف کی حکمرانی تھی اور کبھی کبھار سنائی دےنے والی کسی جانور کی آواز بھی ماحول کی دہشت مےں مسلسل اضافہ کر رہی تھی ۔
آدھی رات گزر چکی تھی اور وہ دونوں پنسل ٹارچ کی مدہم روشنی میں اس قدیم کھنڈر کے اُونچے نیچے چبوتروں کے درمیان ناہموار راستے پر ٹھوکریں کھاتے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔
اس موقع پر آصف تو ہر قسم کے خوف سے بے نیاز ہونٹوں سے فلمی دُھن بجا رہا تھا جب کہ اسلم کی حالت بالکل مختلف تھی۔وہ بہت گھبراےا ہوا تھا اور ہلکی سی آہٹ یا سوکھے پتوں کی سرسراہٹ بھی اُس کے دل کی دھڑکن کو تےز کر دیتی تھی۔اُسے یقین تھا کہ آج ضرورکچھ ہونے والا ہے۔
”لوبھئی! آدھا راستہ تو طے ہوگیا۔۔۔ ابھی تک کسی جن ،بھوت ےا چڑیل سے ملاقات نہیں ہوئی۔مےرا خےال ہے کہ آج تو ےہاں کوئی بد روح بھی نہےں ہے ۔ شاےد کسی ضروری کام سے شہر گئی ہوئی ہے ۔ لہٰذا مےرا خےال ہے کہ اس کا تھوڑ اانتظار کر لیا جائے ۔ ۔۔ کےوں کہ اگر اُسے ملے بغےر چلے گئے تو وہ ناراض ہو جائے گی ۔ ےہ بھی ممکن ہے کہ ناراض ہو کر وہ آےندہ کسی کے سامنے ہی نہ آئے اورگاﺅں والے اُسے دےکھنے سے محروم رہ جائےں۔‘ ‘
آصف نے ایک بڑے سے چبوترے پر بیٹھتے ہوئے اسلم سے کہاتو وہ گھبرا کر ادھر ادھر دےکھنے لگا اور پھر تےز لہجے مےں بولا:
” تم ےقےنا مےری حالت سے لطف اندوز ہو رہے ہو۔لےکن کسی غلط فہمی مےں نہ رہنا۔۔۔ دےکھو!خدا کے لےے یہاں مت بیٹھو۔ جلدی چلو، میرا دل گھبرارہا ہے۔اگر ہم فوراََ اس کھنڈر سے باہر نہ نکلے تو بے موت مارے جائےں گے اورکوئی ہماری لاشےں اُٹھانے والا بھی نہےں ہو گا۔ “
”صبر کرو تھوڑی دےر۔گھر ہی تو جانا ہے ،چلے جائےں گے۔ سچ کہتے ہےں سب کہ تم واقعی بہت ڈرپوک ہو۔ “آصف نے اسے زچ کےا۔
” مےں بزدل نہےں ہوں۔ “وہ سےنہ تان کر بولا۔
” تو پھر سکون سے بےٹھ جاﺅ۔کچھ دےر آرام کر کے دوبارہ سفر شروع کرےں گے۔ “
”کےا بکواس کر رہے ہو تم ۔ مےں پاگل نہےں ہوں کہ تمہارے ساتھ ےہاں بےٹھ کر آرام کروں۔ ۔۔کےسے دوست ہو تم ۔ خدا را مجھے ستاﺅ مت۔ اگر مجھے ہارٹ اٹےک ہو گےا تو ساری زندگی خود کو معاف نہےں کر سکو گے۔“اسلم اس کا پر سکون روےہ دےکھ کر بھڑک اُٹھا تھا۔
” اچھا اچھا۔۔۔بند کرو ےہ جذباتی قسم کے فلمی ڈائےلاگ۔تم مےرے دوست ہو مےں بھلا کےوں تنگ کروں گا تمہےں۔ بس تھوڑا سانس لےنے دو، پھر چلتے ہےں۔ بہتر ہو گا تم بھی اس وےران کھنڈر مےں بےٹھ کر تاروں بھری رات کا مزا لو۔۔۔ دیکھنا تھوڑی دیر یہاں رُکنے سے تمہارا ڈر خودبخود ختم ہو جائے گا۔“ آصف نے اسلم کو تسلی دی اور پھر اسی فلم کا گےت گنگنانے لگا جو وہ دونوں سےنما مےں دےکھ کر لوٹ رہے تھے۔
اسے ےوں لاپر وا دےکھ کر اسلم بے دلی سے قرےب ہی چبوترے پر بےٹھ گےا۔ لےکن اُس کادل کہہ رہا تھا ضرور کچھ ہونے والا ہے۔انہےں وہاں بےٹھے کچھ ہی دےر گزری تھی کہ اسلم کو کسی بھاری جسم کے چلنے کا احساس ہوا۔ اس نے جلد ی سے اندھےرے مےں ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر کچھ دکھائی نہ دےا۔لےکن بہت مدہم سی دھمک اب بھی سنائی دے رہی تھی۔ دوسری جانب آصف اپنی ہی دُھن مگن گلا پھاڑ کر اپنے بے سُرا ہونے کا ثبوت پےش کر رہا تھا۔ اسلم بے بسی کے عالم مےں اِدھر اُدھر دےکھتا رہا۔ جب دھمک برابر سنائی دےتی رہی تو وہ آصف کو بازو سے پکڑ کر خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا:
”تمہیں کچھ محسوس ہوا؟
”کیا۔۔۔؟“ آصف نے لمحہ بھر کے لےے خاموشی اختےار کی اور پھر دوبارہ سے گنگنانے لگا۔
” ےوں محسوس ہو رہا ہے جےسے کوئی آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہمارے قریب آرہا ہو۔“
”ےقےنا کوئی چڑےل ہو گی۔۔۔لگتاہے اب ہماری خےر نہےں۔ لےکن فکر مت کرو مےں چڑےل سے درخواست کروں گا کہ مجھے چھوڑ دے اور تمہےں کھا جائے ۔ وےسے ےاد کرو جو فلم ہم نے آج دےکھی ہے اُس مےں بھی اےک چڑےل تھی جو رات کے وقت سنسان جنگل مےں دلہن بن کر گھومتی تھی اور پھر وہاں سے گزرنے والے مسافروں کو ہلاک کر ڈالتی تھی ۔ ۔۔کےافلم تھی ےار! مےں تو ابھی تک اسی تصوراتی دنےا مےں کھوےا ہوا ہوں ۔۔۔ سوچ رہا ہوں کل اےک بار پھر وہی فلم دےکھنے جاﺅں۔ “آصف ابھی تک خود کو سنےما ہال مےں محسوس کر رہا تھا ۔
”مذاق مت کرو، مےں سنجےدہ ہوں۔ مجھے ےقےن ہے کہ ےہاں ہمارے علاوہ کوئی تےسرا بھی موجود ہے ۔ “ اسلم نے سخت لہجے مےں کہا۔
” کوئی نہیں ہے۔صرف تمہارا وہم ہے۔“ آصف نے ارد گرد ٹارچ گھمائی۔
”نہیں۔۔۔یہ وہم نہیں ہے۔۔۔ غور سے سنو!اس کے سانسوں کی آواز بھی آرہی ہے۔“
”تمہارے کان بج رہے ہیں۔“ آصف جھنجھلایا۔
سچ کہہ رہا ہوں۔ اب میں اُس کے قدموں کی آواز بھی سن سکتا ہوں۔ بھاری بھر کم آواز۔۔۔ جیسے کوئی دےو ہےکل وجود مشکل سے چل رہا ہو۔ “
”ہاںشاید تم درست کہہ رہے ہو۔“ آصف پہلی مرتبہ چونکااور پھر دائےں بائےں دےکھ کر بولا:” لےکن مجھے کچھ دکھائی نہےں دے رہا۔ “
”آصف! تمہارے پیچھے؟“ اسلم کی گھٹی گھٹی آواز سنتے ہی آصف نے بجلی کی سی تیزی سے ٹارچ پیچھے گھمائی تو اُس کا رنگ ےک دم زرد پڑ گےا۔
”اُف خدایا۔۔۔“
مارے خوف کے آصف کی آنکھیں پتھرا کر رہ گئیں۔ سانس جیسے سینے میں اٹک گئی اور قدم زمےن نے جکڑ لےے تھے۔ یہ اس کی زندگی کا بھےانک ترےن منظر تھا۔ اس کے عقب مےں کھڑا وجود یقینا کسی انسان کا نہیں تھا۔
دو ٹانگوں والے اُس بھاری بھر کم عفرےت کے جسم پر بال نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ چہرے میں دھنسی ہوئی آنکھیں اتنی سفید کہ جیسے برف جمی ہو۔ انٹینے کی طرح نکلی ہوئی کندھے کی مضبوط ہڈیاں اور اُن کے ساتھ جڑے چمگادڑ جےسے پر۔ اس کے غلےظ وجود سے اُٹھتی ہوئی کچے گوشت کی ناقابل برداشت بدبونے ان دونوں کے ناک جکڑ لےے تھے۔
”آصف بھاگو۔۔۔“
جانے اسلم میں اتنی ہمت جانے کہاں سے پیدا ہوگئی تھی ۔لےکن ےہ اُس کی بھول تھی۔ اُن کے ارادے بھانپتے ہی عفریت کا لمبا بازو حرکت میں آیا اور دوڑتاہوا اسلم کئی میٹر بلند ہوا میںمعلق ہو گےا۔ وہ کسی بھی صورت اُس بَلا کے پنجے سے آزاد ہونے کی جستجو کر رہا تھا مگر ےہ اُس کی خام خےالی تھی۔ پھر اسے ےہ تکلےف زیادہ دیر تک برداشت نہ کرنی پڑی۔اگلے ہی لمحے اُس عفرےت نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اسلم کے لمبے بالوں والا سر اےک ہی جھٹکے مےں دھڑ سے جدا کر کے فٹ بال کی طرح دُور اُچھال دیا۔
ایسا بھیانک منظر آصف نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ بھاگ کر اپنی جان بچا سکے ۔ وہ اپنی جگہ ساکت بےٹھا تھا کہ عفرےت کا بازو اےک مرتبہ پھر حرکت مےں آےا۔
”مم۔۔۔مجھے مت مارو۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں پھر کبھی یہاں سے نہیں گزروں گا۔“
وہ عفرےت کے ہاتھوں میں پھڑ پھڑاتے ہوئے بے تکان بول رہا تھا ۔ لےکن پھر موت کو اس قدر قرےب پا کر بھی حےران رہ گےا کہ وہ عجےب و غرےب مخلوق نہ صرف اُس کی بات سمجھ سکتی ہے بلکہ بول بھی سکتی ہے ۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں، لیکن اےک شرط پر۔“اےک کرخت آواز آصف کی سماعت سے ٹکرائی۔
”کک۔۔۔کیسی شرط؟“
”تم زندگی بھر کسی سے میرا ذکر نہیں کرو گے۔کبھی کسی کو ےہ نہےں بتاﺅ گے کہ کھنڈر مےں تمہارے ساتھ کےا واقعہ پےش آےا تھا۔ “
”مجھے منظور ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوںکہ کسی کے سامنے تمہارا نام نہےں لوں گا۔ “
”یاد رکھو! جس دن تم نے اپنا وعدہ توڑا، وہ تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔“
”ٹھیک ہے!میں کبھی کسی کو نہیں بتاﺅں گا۔مےں تمہارے متعلق ہر بات بھول جاﺅں گا۔ “ آصف کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
” توبھاگ جاﺅ ےہاں سے اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔“ عفرےت نے اُسے زمین پر پٹخ دیا۔
زمےن پر گرتے ہی آصف اُٹھ کر کھڑا ہو گےااور پلٹ کر دےکھے بغےر واپس اسی راستے پردوڑتا چلا گےا جہاں سے وہ دونوں کھنڈر میں داخل ہوئے تھے۔وہ ہرصورت کھنڈر سے بہت دور چلے جانا چاہتا تھا ۔ خوف و دہشت کے باعث وہ کئی مرتبہ زمین پر گرا لیکن اےک مرتبہ بھی پلٹ کر دےکھنے کی جرات نہ کی۔
آج پہلی بار اسے احساس ہوا تھا ، موت کتنے دبے پاﺅں انسان کا تعاقب کرتی ہے۔۔۔اسلم کی موت کا بھیانک منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔ لیکن وہ مسلسل بھاگتا رہا اورکافی دےر بعدگاﺅں سے باہر پکی سڑک تک پہنچ گےا ۔
خوف ،غم اور پیاس کی شدت کے باعث آصف کے دل کی دھڑکن بے قابو ہورہی تھی۔ اُس نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔۔۔ پھر اچانک وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر بری طرح لڑکھڑایا اور منہ کے بل زمین پرگرتے ہی بے ہوش ہو گےا ۔
-٭-
جانے کتنی دےر بعد آصف کی آنکھ کھلی تووہ ایک خوبصورت کمرے میں مخملیں بستر پر موجود تھا۔چند لمحے کمرے کی منقش چھت کو گھورنے کے بعد اُس کے ذہن کی تارےکی دھےرے دھےرے چھٹنے لگی تھی ۔ اب اسے وہ تمام واقعات ےاد آ نے لگے تھے جنہےں وہ بھےانک خواب سمجھ کر بھلا دےنا چاہتا تھا ۔ وہ خوفناک لمحات دوبارہ ےاد آتے ہی آصف نے ہڑ بڑا کر اُٹھنا چاہا تو اےک اپنائےت بھری آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی:
”لیٹے رہو۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“ قرےب بےٹھی اےک بزرگ خاتون نے شفقت بھری نظروں سے اس کی جانب دےکھا۔
”میں کہاں ہوں اس وقت؟“
” گھبراﺅ نہےں !تم محفوظ مقام پر ہو۔“
”آپ کون ہیں؟“ اس نے پہلی مرتبہ غور سے اُس بزرگ خاتون کو دےکھا جس نے لمبا سےاہ گون پہن رکھا تھا۔ اس کے سفےد بال شانوں تک لہرا رہے تھے۔
”میرا نام ٹریسا ہے اور تم اس وقت میرے گھر میں ہو۔“
” میں یہاں کیسے پہنچا۔۔۔ میں تو۔۔۔“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
”تم قادر پور کے نزدےک سڑک پر بے ہوش پڑے تھے۔ ہمارا گزر اُس طرف سے ہوا تو تیز بخار کے باعث تمہاری حالت زےادہ اچھی نہیں تھی۔ اُس وقت تمہارے علاوہ کوئی نہےں وہاں۔ اس حالت مےں تمہےں تنہا نہےں چھوڑا جا سکتا تھا چنانچہ ہم تمہےں اپنے ساتھ ےہاں لے آئے۔ “ وضاحت سن کر آصف نے چند لمحے توقف اختےار کےا اور پھر اس کی جانب دےکھتے ہوئے پوچھا:
”میں کتنی دیر بے ہوش رہا ہوں؟“
”تم چار دن بعد ہوش میں آئے ہو۔“
”چار دن۔“ وہ حیرت سے بڑبڑاےا۔
”تم نے اپنا نام نہیں بتایا؟“ ٹریسا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
” آصف ۔“
”کیا میں ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟“
”جی ضرور۔۔۔ پوچھیں۔“
”تم اکیلے اتنی رات گئے اس ویرانے میں کیا کر رہے تھے۔جب کہ مےں نے تو سنا ہے کہ وہ علاقہ ٹھےک نہےں ہے اور بہت سے لوگ اپنی جان بھی گنوا چکے ہےں۔ “
”آپ ٹھےک کہہ رہی ہےں ۔ مےں انہی کھنڈرات کی سیر کے لےے گیا تھا کےونکہ مےں ان باتوں پر ےقےن نہےں رکھتا ۔ واپسی پر اچانک مےری طبیعت خراب ہوگئی۔مےں وہاںبس کا انتظار کر رہا تھا کہ چکر سا آگےا اور مےں بے ہو ش ہو کر زمےن پر گر پڑا۔ “ آصف نے اصل کہانی صفائی سے گول کر دی تھی۔
” تمہارا گھر کہا ںہے؟“
”میرا کوئی گھر نہیں ۔ جہاں سورج ڈوباتا ہے ،وہیں رات بسر کر لیتا ہوں ۔ “
”ماں باپ؟“
”فوت ہو چکے ہیں۔“ اس نے مختصر جواب دیا۔
”اوہ۔۔۔بہت افسوس ہوا۔“
”ان کا نتقا ل مےرے بچپن مےں ہی ہو گےا تھا۔ در در کی ٹھوکرےں کھاتے اس عمر تک پہنچا ہوں۔مےرا اس دنےا مےں کوئی نہےں ہے ۔ “
”تم فکر مت کرو، سب ٹھےک ہو جائے گا۔“
”آپ ےہاں اکےلی رہتی ہےں؟“طبےعت سنبھلنے پر آصف نے بغورکمرے کا جائزہ لےا۔ جسے قدےم طرز تعمےر ہونے کے باوجود خوبصورت خواب گاہ کے طور پر ترتےب دےا گےا تھا۔
”مےں ، مےری بےٹی انجلی اورچند خدمت گار ۔ ےہ حوےلی ہمارے پرکھوں کی ےادگار ہے ۔ ہماری کئی نسلوں نے اسی حوےلی مےں زندگی بسر کی ہے ۔۔۔ اب تم آرام کرو ۔ مےں تمہارے کھانے کے لےے کچھ بجھواتی ہوں۔“ ٹرےسا نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
”جی بہت شکریہ۔“
” اورسنو! کسی چیز کی ضرورت ہو تو شرمانا مت۔اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔“ ٹریسا نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے ہی آصف گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
”کتنی نیک عورت ہے۔ کتنا اچھا روےہ ہے اس کا ۔۔۔ اور میں کتنا برا ہوں ۔جھوٹ بولے چلا جا رہا ہوں۔ مجھے چاہیے کہ سب کچھ سچ سچ بتا دوں اور واپس اپنے گاﺅں چلا جاﺅں۔کسی کو دھوکا دینا اچھی بات نہیں۔ جب حقیقت کھلے گی تو مجھے کس قدر شرمندگی کاسامنا کرنا پڑے گا اور اس رحم دل خاتون کا اعتماد بھی لوگوں پر سے اُٹھ جائے گا۔۔۔ ٹھیک ہے میں اسے اصل حقیقت سے آگاہ کر دوں گا۔“ آصف نے فےصلہ کےا۔اتنے میں ایک بوڑھا ملازم سوپ کا پیالہ تھامے کمرے میں داخل ہوا۔
”مالکن نے کہا ہے سوپ پی لیں اور اگر مزید کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں۔“ بوڑھے نے احترام سے کہا۔
”نہیں شکریہ“۔
بوڑھے کے باہر جاتے ہی آصف تیزی سے سوپ پینے لگا ۔ وہ فور اََاپنے گاﺅں رخصت ہونا چاہتا تھا۔ تاکہ گاﺅں والوں کو اسلم کی موت کے بارے حقیقت سے آگاہ کر سکے۔لیکن پھر اچانک ذہن میں نیا خیال آتے ہی وہ سہم سا گیا۔
”اسلم والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ وہ لوگ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار یقینا مجھے ہی ٹھہرائیں گے ۔ مجھ پر الزام لگائیں گے کہ میں اُسے زبردستی شہر لے گےا اور واپسی پر جان بوجھ کر کھنڈر والا راستہ منتخب کیالیکن عفرےت کے نمودار ہوتے ہی خود اُسے چھوڑ کر فرار ہوگیا۔۔۔گاﺅں والے تو پہلے ہی میرے خلاف ہیں اور مجھے اےک آوارہ لڑکا سمجھتے ہیں۔کوئی میری بات پر یقین نہیں کرے گا۔ اس لےے بہتر ہے کہ مےں واپس نہ جاﺅں اور ہمیشہ کے لےے گاﺅں چھوڑ دوں۔ ویسے بھی اب میرے پاس موقع ہے اگر میں اس نیک دل خاتون کی منت سماجت کر لوں تو ممکن ہے مجھے اپنے پاس ملازم رکھ لے ۔۔۔ اس طرح گاﺅں والوں کے طعنوں سے نجات مل جائے گی اور خونی بلا سے کیا وعدہ بھی قائم رہے گا۔“
وہ خاموش بےٹھا ہر پہلو سے معاملے کا جائزہ لے رہا تھا کہ اےک دھےمی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی:
”کیا سوچ رہے ہو؟“
”کک۔۔۔کچھ نہیں۔“
اس نے بد حواسی مےں نظرےں اٹھائےں تو منہ کھلا رہ گےا۔ اس کے سامنے کھڑی حسےن و جمےل لڑکی ےقےنا انسان نہےںپرستان کی شہزادی تھی۔۔۔گورا رنگ، سنہرے بال اور گہری نےلی آنکھوں نے اسے قدرت کا شاہکار بنا دےا تھا۔آصف کو اپنی جانب متوجہ پا کر وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھی اور قرےب پہنچ کر بولی:
”مجھے معلوم ہے کہ تم یہی سوچ رہے ہو کہ یہاں سے واپس چلا جاﺅں ۔۔۔تم خود کو ہمارے لےے اےک بوجھ سمجھ رہے ہوناں۔ لیکن یاد رکھو! ایسی کوئی بات نہیں ۔تم ےہاں آرام سے رہو اور ذہن پر زیادہ زور مت دو۔ تمہاری طبیعت ٹھےک نہےں ہے۔“
”وہ سب تو ٹھےک ہے مگر آپ کون ہےں؟“ آصف اسے دےکھ کر سٹپٹا سا گےا تھا ۔
”انجلی۔۔۔ماں نے بتاےا نہےں مےرے بارے؟“ وہ مسکرا کر بولی۔
” بتاےا تو تھا مگر اتنی تفصےل سے نہےں کہ آپ پرستان کی شہزادی ہےں۔“ جواب سن کر انجلی نے قہقہہ لگاےا تو اُس کی ہنسی کمرے کی فضاءپر غالب آگئی:
” بہت خوب۔پسند آئی مجھے تمہار ی بات۔ لےکن اب سو جاﺅ ۔ رات گہری ہو چکی ہے اور تمہاری طبےعت بھی ٹھےک نہےں۔ بے فکر رہو! باتوں کے لےے بہت وقت ہے مےرے پاس ۔“ ا نجلی نے آصف کے ہاتھ سے سوپ کا خالی پےالہ پکڑکر مےز پر رکھا اور واپس لوٹ گئی۔
اب تو واپسی کی رہی سہی خواہش بھی توڑ گئی تھی۔چنانچہ اُس نے ےہی فےصلہ کےا کہ صبح ٹرےسا سے اپنی ملازمت کے سلسلے مےں ضرور بات کرے گا۔
-٭-
”میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“ صبح ناشتے کی میز پر آصف ہمت کر کے ٹریسا سے مخاطب ہوا۔
” بالکل کہو۔“ وہ مسکرائی۔
”میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مشکل وقت میں میری مدد کی۔ اگر آپ اس روز مجھے اپنے ساتھ نہ لے آتیں تو شاید میں زندہ نہ بچتا۔“
” ایسی کوئی بات نہیں۔میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو وہ بھی تمہاری مدد ضرور کرتا ۔ تمہاری حالت اتنی خراب تھی کہ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں تمہیں اپنے ساتھ لے آئی۔“
”وہ دراصل میں۔۔۔“ آصف نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
”تم بنا کسی خوف کے اپنی بات کہہ سکتے ہو۔“ ٹریسا نے اسے حوصلہ دیا۔
”میں واپس نہیں جانا چاہتا۔“
”تو مت جاﺅ۔ تمہیں یہاں سے کوئی نہیں نکالے گا۔“ ٹرےسا لاپروائی سے بولی۔
”تو پھر آپ مجھے اپنے ہاں چھوٹی موٹی ملازمت دے دیں ۔ میں ےقےن دلاتا ہوں کہ جو کام بھی میرے ذمہ لگایا جائے گا، اےمانداری سے انجام دوں گا۔“ آصف نے اُمید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”اگر تم واپس نہےںجانا چاہتے تو مت جاﺅ۔۔۔ لیکن میں تمہیں ملازمت نہیں دے سکتی۔“
”کیا مطلب۔“ آصف چونکا۔
” مجھے کسی نئے ملازم کی قطعاً ضرورت نہیں۔“ ٹریسا نے دو ٹوک جواب دیا۔
”پھر میں یہاں کس طرح رہ سکتا ہوں“ آصف کے لہجے مےں ماےوسی تھی۔
”بالکل یہاں رہ سکتے ہو۔۔۔ اور وہ بھی میرے بیٹے کی حیثیت سے۔“ ٹرےسا نے پےار بھری نظروں سے اس کی طرف دےکھتے ہوئے کہا۔
”بیٹے کی حیثیت سے؟“ آصف حیرت سے اچھل پڑا۔
”ہاں تم نے صحےح سنا ۔۔۔ میرا بھی ایک بیٹا تھا بالکل تمہاری طرح۔“
”اب کہاں ہے وہ؟“ آصف نے پوچھا۔
”دشمنی کی بھےنٹ چڑھ گےا۔اگر آج وہ زندہ ہوتا تو میں اتنی تنہا نہ ہوتی ۔ تمہارے چہرے میں مجھے اس کا عکس نظر آتا ہے۔اسی لےے میں چاہتی ہوں ، تم ہمےں چھوڑ کر کہےں مت جاﺅ۔ ےہاں رہنے سے تمہاری عمر بھر کی محرومےاں ختم ہو جائےں گی اور تم وہ با وقار زندگی گزارنے کے قابل ہو جاﺅ گے جس کا تم نے خواب دےکھا ہے ۔ “ ٹرےسا کے لہجے مےں التجا تھی۔
”آپ میری سوچ سے بھی زیادہ عظیم ہیں۔میں کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جاﺅں گا۔ “ آصف نے اُس کا ہاتھ تھام کر تسلی دی ۔ اُس کے فےصلے پر ٹرےسا اور انجلی دونوں بہت خوش تھےں۔
اس محل نما قدیم حویلی میں آصف کا پہلا دن تھا۔ ٹرےسا ناشتے کے بعد اپنے کمرے مےں چلی گئی جب کہ وہ انجلی کے ساتھ پائےں باغ مےں آ گےا ۔ بقول انجلی ، اس کی ماں کم ہی اپنے کمرے سے نکلتی تھی ۔
حویلی میں ان ماںبےٹی کی خدمت کے لےے ملازمین کی پوری فوج موجود تھی لیکن تمام تر جدید سہولتوں کے باوجود حویلی میں بسنے والے افراد کا لباس اور طرز زندگی کسی قدیم ثقافت کی ترجمانی کر رہا تھا جو کہ آصف کی سمجھ سے بالا تر تھا۔
اےک دن تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آصف نے انجلی سے اس قدےم رہن سہن کے بارے درےافت کےا تو معلوم ہوا کہ اُن کے خاندان کا تعلق قدےم مصر سے ہے اور لےکن وقت کی آندھی انہےں ےہاں لے آئی اور ان کے اجداد نے شہر سے دور اپنے لےے ےہ عظےم الشان حوےلی تعمےر کی تاکہ اپنی ثقافت اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزار سکےں۔ حوےلی کا جو حدود اربعہ انجلی نے بےان کےا تھا اس کے مطابق وہ اپنے گاﺅں سے سےنکڑوں مےل دور تھا۔
ان سب باتوں کے باوجوداےک اہم چےز جو آصف کے لےے ذہنی اذےت کا باعث تھی وہ اس عالی شان حویلی کے درو دیوار تھے۔ جانے کیوں اسے ہر پل یہی احساس رہتا تھا کہ یہ جگہ اس کے لےے نئی نہیں۔وہ پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں آچکا ہے ۔لیکن کب؟ اور کیسے ۔۔۔؟‘یہ سوال واقعی ایک معمہ تھا۔
اےک رات آصف سونے کے لےے بستر پر لیٹا تو نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ ماضی کے خوفناک واقعات ڈراﺅنی فلم کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر مناظر بدل رہے تھے ۔وہ بھیانک چہرہ، اس کی باتیںاوراس سے کیا ہوا وعدہ سب کچھ ےاد تھا اسے ۔
”میں اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کروں گا۔“ آصف نے دل ہی دل میں اپنا وعدہ دہرایا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔لےکن نےند تو اس سے کوسوں دور تھی۔ بہت دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعدجب بے چےنی مزےد بڑھ گئی تو ایک نےاخیال ذہن میں آتے ہی وہ تےزی سے بستر پر اُٹھ بےٹھا۔
”کیوں ناں مےں اس عفرےت کی تصویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لوں اور ساتھ ہی پےش آنے والا واقعہ بھی تحریر کر لوں۔ اس طرح اصل واقعات بغیر کسی تبدیلی کے میرے پاس محفوظ رہیں گے۔“یہ سوچ کر اس نے الماری سے کاغذ قلم نکالااور اپنا کام شروع کر دیا۔
آصف زیادہ پڑھا لکھا نہیںتھا لیکن خدا نے اسے فن مصوری میں خاص مہارت عطا کی تھی۔ وہ انہماک سے ذہن کے پردے پر موجود اس عفریت کا خاکہ کاغذ پر منتقل کر رہا تھا۔دو گھنٹے کی محنت کے بعد جب اس نے اپنا قلم روکا تو تصویر مکمل ہو چکی تھی۔۔۔ کام مکمل ہونے پر اُس نے اپنی بنائی ہوئی تصویر کو نظر بھر کر دیکھا تو جسم سے گزرنے والی خوف کی لہر نے اسے دہلا دےا تھا۔
پھر اس نے دوسرا کاغذ اٹھایا اور ٹوٹی پھوٹی اردو میں کھنڈرات سے حویلی تک پہنچنے کے واقعات رقم کرنے لگا۔۔۔ اس کام سے فارغ ہو کر اس نے دونوں کاغذ تہ کر کے جیب میں ڈال لےے۔ اب اسے سکون محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ایک ایسی بات جو وہ کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا اس کے پاس کاغذ پر محفوظ تھی۔
-٭-
آصف کو اس حوےلی مےں رہتے ہوئے کئی دن گزر گئے تھے۔ اس دوران ٹریسا نے کئی مرتبہ اس کے ماضی کو کریدنے کی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ ٹال گےا تھا۔وہ اور انجلی دن کا زےادہ حصہ حوےلی کے پائےں باغ مےں گزارتے تھے اور مختلف موضوعات پر خوب بحث ہوتی تھی۔ ٹرےسا کو بھی ان دونوں کی دوستی پر کوئی عترا ض نہےں تھا لےکن ان سب باتوں کے باوجود اپنے ماضی کا خوف ہر لمحہ اُس کے سر پر سوار رہتا تھا۔
اسے کئی بار محسوس ہوا تھا جےسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ سانسوں کی تیز آواز، بھاری قدموں کی چاپ۔ ۔۔ لیکن باجود کوشش کے وہ کچھ دیکھ نہیں پاےا تھا۔
”شاید یہ میرے اندر کا خوف ہے جو مجھے ہر وقت بے چین رکھتا ہے۔“ وہ خود کو تسلی دیتا رہالیکن کب تک؟
آخر ایک روز آصف حوصلہ ہار گیااور ہمت جواب دے گئی:
”میں بزدل نہیں ہوں اور اس خوف سے نجات حاصل کر کے رہوں گا۔ میں ٹریسا کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتا ہوں۔ وہ یقینا میری مدد کرے گی اور اس طرح میرے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے گا۔“
یہ سوچ کر آصف پر جوش انداز میں ٹریسا کے کمرے کی طرف بڑھا اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے بعد دروازے پر دستک دی۔
”کون ہے۔۔۔اندر آجاﺅ۔“
ٹریسا کی دھیمی آواز سنائی دےتے ہی آصف نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا ۔ قدیم نوادرات سے آراستہ خوبصورت خواب گاہ میں ٹریسا ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھی تھی جب کہ انجلی عقب مےں کھڑی اپنی ماں کا سر دبا رہی تھی۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے قرےب پہنچا اور فرش پر بچھے قیمتی قالین پر بیٹھ گیا۔
”خیرےت توہے۔۔۔اتنی رات گئے۔“ ٹریسا پرےشانی سے بولی۔
”مجھے آپ کی مددچاہےے۔“
”کیسی مدد؟“ وہ چونکی۔
” میں آپ کو اپنی زندگی کے اہم ترین راز میں شریک کرنا چاہتا ہوں ۔ ورنہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاﺅں گا۔“
آصف تھکے تھکے انداز مےں سر جھکا کر بولاتواس کا ےہ غےر متوقع جملہ سنتے ہی دونوں ماں بےٹی چونک سی گئےں۔ پھر اس سے قبل کہ وہ اپنی بات دوبارہ شروع کرتا ٹرےسا نے تڑ پ کر کہا:
”دیکھو! میں ساری زندگی تمہاری ہر خواہش اور ہر ضرور ت پوری کر سکتی ہوں ۔ لیکن کوئی ایسی بات مت کرنا جو میں برداشت نہ کر سکوں۔ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی ۔“ اس کے لہجے میں عجیب سی التجا تھی۔
”میں نے آپ لوگوں سے ایک جھوٹ بولا تھا۔“ آصف اس کی بات پر توجہ دیے بغیر کہا۔
”کیسا جھوٹ؟“ٹرےسا نے سپاٹ لہجے مےں پوچھا۔
”میں نے غلط کہا تھا کہ حادثے کی رات میں قادر پور کے کھنڈرات کی سیر کے لےے گیا تھا۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ میں قادر پور کے قریبی گاﺅں کا رہائشی ہوں ۔ اس رات میرے ساتھ ایک عجےب و غرےب واقعہ پیش آیا تھا۔“ اس نے ٹریسا کے جھرےوں زدہ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات دوبارہ شروع کی:
”اس رات میں اپنے دوست اسلم کے ساتھ کھنڈر میں سے گزر رہا تھا کہ اچانک ہمارے سامنے ایک خوفناک بلا آگئی۔ اُس بلا نے چند لمحوں مےں میرے دوست کو چیر پھاڑ ڈالا۔ پھر وہ میری طرف بڑھی لیکن جانے کیوں اسے مجھ پر رحم آگیا۔ بلا نے مجھے اس شرط پر چھوڑ دیا کہ میں زندگی بھر کسی سے اس بات کا ذکر نہ کروں۔۔۔ مجھے معلوم ہے میں وعدہ خلافی کر رہا ہوںلیکن اگر میں آپ کو اس راز میں شریک نہ کرتا تو میرا دماغ شدید پریشانی سے پھٹ جاتا۔۔۔ میں مر جاتا یا کم ازکم پاگل ضرور ہو جاتا۔مگر اب مجھے سکون ہے کہ میں نے اپنا ہم راز کسی غلط شخصےت کو نہےں چنا۔کیوں کہ مجھے آپ پر مکمل بھروسہ ہے۔“
”تم بے فکر رہو۔۔۔ یہ راز ہمیشہ میرے دل مےں تمہاری امانت رہے گا ۔“ یہ کہہ کر ٹریسا کرسی سے اٹھی اور چہل قدمی کے سے انداز میں ٹہلنے لگی۔
”کیا تمہیں اس عفرےت کا حلیہ یاد ہے؟“ وہ کچھ سوچ کر بولی۔
”ہاں بالکل“ آصف نے جواب دیا اور پھر آنکھیں بند کر کے عفرےت کی تصویر کو اپنے ذہن کے پردے پر لاتے ہوئے حلیہ بیان کرنے لگا۔
”خوف ناک چہرہ۔۔۔ لمبے کان۔۔۔ دھنسی ہوئی سفید آنکھیں۔۔۔لمبے بازو۔۔۔نوکیلے ناخن اور۔۔۔اور۔۔۔“اس نے یاد کرنے کی کوشش کی۔
”اور چمگادڑ کی طرح پھڑ پھڑاتے پر۔“ پیچھے سے ٹریسا کی آواز سنائی دی۔
”بالکل ٹھیک۔۔۔لیکن آپ کیسے جانتی ہیں؟“
آصف نے چونک کر آنکھےں کھولےں تو حیرت اور خوف سے اس کا دل دھڑکنا بھول گےا۔ اس کے پیچھے ٹریسا اور انجلی کے بجائے اسی بھیانک حلےے والے دو عفرےت کھڑے تھے ۔
”آخر تم نے وعدہ خلافی کر ہی لی۔۔۔اگر تم یہ راز سینے میں محفوظ رکھتے تو ساری زندگی عیش و آرام سے گزار سکتے تھے اور میں کبھی تم پر اپنی اصلیت ظاہر نہ کرتی ۔ لیکن افسوس تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔“ےہ کہہ کی اس نے نظرےں دوسرے عفرےت کی جانب گھمائےںاور دوبارہ بولی:
”مےں نے تم سے کہا تھا ناں سب انسان جھوٹے اور دغا باز ہوتے ہےں۔ “اس کے منہ سے جیسے شعلے نکل رہے تھے۔
”میرا ارادہ برا نہیں تھا۔ میں نے تو آپ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر پریشانی بانٹنی تھی۔“ آصف نے خوف سے کانپتے ہوئے جواب دیا۔
”ےہ صحےح کہہ رہا ہے، اسے چھوڑ دو۔۔۔اس کا ارادہ واقعی ہمےں دھوکہ دےنے کا نہےں تھا۔“دوسری بلا جو ےقےنا انجلی تھی آصف کی حماےت مےں بولی۔لےکن روپ بدلتے ہی اس کی آواز بھی بھدی اور کھردری ہو گئی تھی۔
”بالکل نہےں!یہ پریشانی اور راز ہی تو اس کا اصل امتحان تھا۔۔۔ اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔تم اس کی حماےت مت کرو۔“
ان دونوں کوگفتگو مےں مصروف پا کر آصف نے فرار کے ارادے سے ارد گرد دیکھا تو حےران رہ گےا ۔وہ ایک مرتبہ پھر قادر پور کے کھنڈرات میں موجود تھا۔
”ہم کہاں ہیں؟ اور وہ حویلی؟ “ وہ چونکا۔
”تم اب بھی اُسی حویلی میں کھڑے ہو۔ایک ایسی حویلی جسے کوئی عام آدمی نہیں دیکھ سکتا۔اس کی شان و شوکت صرف اسے دکھائی دیتی ہے جسے ہم طاقت عطا کرتے ہیں۔باقی لوگوں کے لےے یہ کھنڈر ہے اور ہمیشہ کھنڈر ہی رہے گا۔“
اس کی بات مکمل ہوتے ہی آصف نے جست لگائی اور سامنے پڑے پتھر کو پھلانگ کر بھاگنے کی کوشش کی لےکن اسی لمحے ٹرےسا کا آہنی ہاتھ حرکت مےں آےا اور سےدھا آصف کی نازک گردن پر جا پڑا ۔
”انجلی مجھے بچاﺅ۔۔۔ٹرےسا تمہاری بات ضرور مانے گی۔ “اس کی گھٹی گھٹی آواز حلق سے برآمد ہوئی۔
”ہر گز نہےں ۔ تم کسی کے ساتھ مخلص نہےں ہو۔ اگر تمہےں مجھ پر اعتماد ہوتا تو تم کبھی بھاگنے کی کوشش نہ کرتے۔ ٹرےسا ٹھےک کہتی ہے کہ تم انسان بھروسے کے لائق نہےں ہو ۔“ انجلی نے ٹکا سا جواب دےا۔
” میں بھی تمہیںکبھی نہ مارتی لیکن اپنی بقا اور اس راز کی حفاظت کے لےے ضروری ہے کہ تمہاری جان کی قربانی دی جائے۔۔۔ مجھے یقین ہے تم نے دل میں اس بات کا اعتراف کر لیا ہوگا کہ تمہاری موت میرے ظلم سے زیادہ خود اپنی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔“
یہ کہتے ہی ٹرےسا نے اپنے دوسرے ہاتھ کے نوکیلے ناخن آصف کے سینے میں گاڑ دیے۔ایک زور دار چیخ اور ہلکی سی مزاحمت،صرف یہی مرتے ہوئے آصف کا آخری احتجاج تھا۔اب اس کا بے جان جسم نا ہموار چبوترے پر پڑا تھا ۔
”افسوس کہ آج کے بعد میں کبھی کسی انسان پر رحم نہیں کر سکوں گی ۔“
ٹرےسا نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور انجلی کے ہمراہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
-٭-
شام ڈھل چکی تھی۔انسپکٹر دانش گہری سوچ میں غرق اپنے دفترمیں بیٹھا تھا۔ قادر پور کے کھنڈرات میں بڑھتے ہوئے پر اسرار خونی واقعات اس کے لےے معمہ بنے ہوئے تھے۔دن رات اس کےس پر کام کرنے کے باوجود انسپکٹر دانش ابھی تک ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ اوپر سے اعلیٰ حکام کا دباﺅ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اخبارات چیخ چیخ کر لوگوں کو ہراساں کر رہے تھے اور علاقے کی آدھی سے زیادہ آبادی نقل مکانی کر چکی تھی ۔کیونکہ گاﺅں کے ہر دوسرے گھر میں کوئی نہ کوئی مارا جا چکا تھا۔ خود اس کے اپنے کئی بہادر سپاہی بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بےٹھے تھے۔ لےکن اس کے باوجود پولےس نے ہمت نہےں ہاری تھی ۔
انسپکٹر دانش چائے کا کپ ہاتھ مےں تھامے کےس کے مختلف پہلوﺅں پر غور کر رہا تھا کہ اچانک کمرے مےں داخل ہونے والے حوالدار نے پر جوش انداز مےں سلےوٹ کرتے ہوئے کہا:
”جناب! ایک بہت اہم خبر ہے۔“
”کیسی خبر؟‘ ‘ انسپکٹر دانش چونکا۔
”جناب کھنڈرات سے آج آصف نامی اُس لڑکے کی لاش ملی ہے جو چند روز قبل اسلم کی موت کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا۔“
”اتنے دنوں بعد؟“ انسپکٹر دانش کے لہجے میں حیرت تھی۔
” جی جناب!لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کی جیب سے یہ کاغذات بھی برآمد ہوئے ہیں۔“ حوالدار نے تہ کےے ہوئے دو کاغذ اس کے سامنے مےز پر رکھ دیے۔
انسپکٹر دانش نے جلدی سے ایک کاغذ اُٹھا کھولا تو حیرت سے اچھل پڑا ۔ کاغذ پر عجیب الخلقت جانور کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس نے جھٹ سے دوسرا کاغذ اُٹھایااور اس پر لکھی گئی تحریر پڑھنے لگا۔۔۔جیسے جیسے وہ تحرےر پڑھتا چلا جا رہا تھا اس کی پیشانی پر سوچ کی لکیریں گہری ہوتی چلی جا رہی تھےں۔
”ان کاغذات کا علم کتنے لوگوں کو ہے؟“
وہ تحریر پڑھنے کے بعد کچھ سوچ کر حوالدار سے مخاطب ہوا۔
”صرف تین سپاہیوں کو۔۔۔ انہوں نے لاش برآمد کی ہے اس لےے وہ ہر بات جانتے ہےں۔ “ حوالدار نے جواب دیا۔
”ٹھیک ہے۔ بہت اہم سراغ ڈھونڈ کر لائے ہو تم ۔ لیکن خیال رکھنا کہ یہ خبر راز ہی رہے۔ خصوصاً اخبار والوں سے محتاط رہنا۔اگر ےہ بات ان کے کانوں مےں پڑ گئی تو ہم اپنی تفتےش کو خفےہ نہےں رکھ پائےں گے۔ “ انسپکٹر دانش نے حوالدار کو سمجھایا۔
” آپ بے فکر رہےں جناب۔ مےں نے سب لوگوں کو سمجھا دےا ہے ۔ جب تک آپ نہےں چاہےں گے ےہ بات کسی کو معلوم نہےں ہو گی۔ “ ےہ کہہ کر حوالدار کمرے سے باہر نکل گےا۔
اس کے جانے کے بعد انسپکٹر دانش نے کاغذ پر لکھی ہوئی تحرےر کو غور سے دو تےن مرتبہ پڑھا اور پھر دوسرے کاغذ پر بناےا گےا اس عفرےت کا خاکہ بھی دےکھا۔ لیکن معاملہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
”ڈاکٹر داﺅد۔۔۔“
بہت دےر تک سوچنے کے بعد اچانک ےہ نام بجلی کی سی تےزی سے اس کے تارےک ذہن میں کوندا۔اس نے جلدی سے کاغذ جیب میں ڈالے اور باہر موجود اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔چند لمحوں بعد وہ ملک کے مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر داﺅد سے ملنے کے لےے اُن کے فارم ہاﺅس کی جانب اڑا چلا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر داﺅد کی تحقےقات کو ملکی اور بےن الاقوامی سطح پر نہاےت قدر کی نگاہ سے دےکھا جاتا تھا ۔ےہی نہےں انہوںنے قادر پور کے کھنڈرات پر کام کر کے کئی نئی چےزےں درےافت کی تھےں۔
انسپکٹر دانش کے ان سے بہت پرانے تعلقات تھے ۔ وہ اس کے والد کے گہرے دوست تھے اور انسپکٹر دانش کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔دو گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ کے بعد انسپکٹر دانش کی جیپ ڈاکٹر داﺅد کے فارم ہاﺅس میں داخل ہوئی ۔ ریٹائرمنٹ اور بےوی کی وفات کے بعد ڈاکٹر داﺅد مستقل طور پر یہیں منتقل ہوگئے تھے۔
انسپکٹر دانش کا چونکہ بچپن ہی سے ان کے ہاں آ نا جانا تھا اس لےے وہ جےپ پارک کرنے کے بعد عمارت کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا اور ایک نوکر سے ڈاکٹر داﺅد کے بارے معلوم کر کے لائبریری کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
”ےس۔۔۔ کم ان۔“
دستک کے جواب میں ڈاکٹر داﺅدکی شفقت بھری آواز سنائی دی تووہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوگیا۔
ڈاکٹر داﺅدایک آرام کرسی پر بیٹھے کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے انہوں نے سلام کی آواز سن کر کتاب سے سر اُٹھایا اور پھر کھڑے ہو کر انسپکٹر دانش کو گلے سے لگا لیا۔
کافی دیر تک وہ انسپکٹر دانش سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اسی دوران ملازم چائے لے آیاتوانسپکٹر دانش نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا:
”انکل! آج میں آپ کے پاس ایک ضروری کام سے آیا ہوں۔“
” کیسا کام؟“ ڈاکٹر صاحب مسکرائے ۔
”ایک مرتبہ آپ نے ذکر کیا تھا ، قادر پور کے کھنڈرات مےں کھدائی کے دوران آپ کو بعض پراسرار واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔“
”ہاں، مجھے یاد ہے۔۔۔لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو۔“
جواب میں انسپکٹر دانش نے جیب سے دونوں کاغذ نکال کر ڈاکٹر داﺅد کی طرف بڑھادےے۔
ڈاکٹر داﺅد نے پہلے تصویر والا کاغذ کھولاتواس پر نظر پڑتے ہی ان کا رنگ زرد پڑگیا۔تھوڑی دیر بعد سنبھل کر انہوں نے دوسرا کاغذ پڑھا اور پھر انسپکٹر دانش کی طرف دیکھتے ہوئے بولے:
”یہ خط اور تصوےر تمہیں کہاں سے ملی؟“
”کیا آپ اس تصویر کے بارے کچھ جانتے ہیں؟“ انسپکٹر نے الٹا سوال کیا۔
”ہاں!مگر پہلے بتاﺅ کہ یہ کاغذ تمہیں کہاں سے ملے ہیں۔“ وہ اپنے سوال پر ڈٹے رہے تو انسپکٹر دانش نے انہیں تفصیلاً سارے واقعات سے آگاہ کیا۔ڈاکٹر داﺅد نے اُس کی بات توجہ سے سنی اور پھر سوچتے ہوئے بولے:
” تمہاری باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔“
”کیا مطلب؟“ انسپکٹر دانش نے پوچھا تو انہوں نے اےک مرتبہ پھر تصویر کا جائزہ لیا اور بولے :
” 30 برس پہلے میں بھی تمہاری طرح جوان تھا۔ ہر چیز حاصل کرنے کا جنون میرے سر پر سوار رہتا تھا۔ ان دنوں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قادر پور کے کھنڈرات میں تحقیق کر رہا تھا۔ جب ہم نے کھنڈرات کے وسطی حصے میں کھدائی شروع کی تو عجیب و غریب واقعات رونما ہونے لگے۔“
” کےسے واقعات؟“انسپکٹر دانش نے پر تجسس لہجے مےں پوچھا۔
” وہاں کھدائی کرنے والے مزدوروں کو خوفناک شکلیں دکھائی دینے لگیں، خوفناک آوازیں سنائی دیتیں اور اکثر کھدائی کے دوران ان کے مضبوط اوزار ٹوٹ جاتے۔ آخر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مزدوروں نے کھنڈرات مےں کام کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ لیکن میرے سمجھانے پر وہ دوبارہ رضا مند ہوگئے اور میں نے ان کی حوصلہ افزائی کے لےے خود کام کی نگرانی شروع کر دی ۔ اب کام کی رفتار بھی بڑھا دی گئی تھی کہ اےک روز کھدائی کے دوران کافی گہرائی سے ہمیں ایک تابوت ملا۔ ہم نے اسے رسوں کی مدد سے گڑھے سے باہر نکالا۔ جب ہتھوڑوں کی مدد سے اس کے زنگ آلود قفل کو توڑ کر ڈھکن اُٹھایا گےا تو۔۔۔“
”تو۔۔۔؟ “ انسپکٹر دانش بے چینی سے بولا۔
” اس میں ایک لاش تھی۔“ انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔
” کس کی لاش؟“ انسپکٹر نے دوبارہ سوال کیا۔
”اس کی لاش شکل بالکل اس تصویر ی خاکے جےسی تھی جو آج تم لے کر آئے ہو۔“ انہوں نے جواب دیا۔
”کیا۔۔۔؟“ انسپکٹردانش کے منہ سے صرف یہی ایک لفظ نکل پاےا تھا۔
”لاش کے علاوہ تابوت میں ایک چھوٹا سا صندوق بھی تھا۔ جیسے ہی میں نے وہ صندوق اُٹھانے کے لےے ہاتھ بڑھایا،دن کا اجالا رات کی تاریکی میں بدل گیااور قادر پور کی فضا تیز سرخ آندھی کی لپیٹ میں آگئی۔۔۔اےسی آندھی جو ہم نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔ ہر شخص اپنی جان بچانے کے لےے دیوانہ وار منہ اٹھا کر بھاگا۔ آندھی اتنی شدید تھی کہ وہ مزدوروں کو فضا میں اُوپر اُٹھاتی اور پھر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔۔۔ میں نے خود ایک مضبوط ستون کا سہارا لے کر اپنی جان بچائی تھی۔کافی دیر بعد آندھی تھمی تو صورت حال پہلے سے بالکل مختلف تھی۔ کھنڈرات کاکافی حصہ زمین بوس ہو چکا تھا اور ملبے تلے دب کر بہت سے مزدور جاں بحق ہو چکے تھے۔ان سب باتوں کے علاوہ حیران کن بات یہ تھی کہ تابوت میں سے لاش بھی غائب تھی۔“
”یہ کیسے ممکن ہے؟“ سردی کی تیز لہر انسپکٹر دانش کے جسم کے آر پار ہوگئی۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں۔“ ڈاکٹر داﺅد نے جواب دیا۔
”اس کے بعد کیا ہوا؟“
”پھرہماری درخواست پر قادر پور کے ایک نیک بزرگ وہاں تشریف لائے ۔۔۔ انہوں نے چند قرآنی آیات کی تلاوت کی اور مجھے سختی سے حکم دیا کہ خالی تابوت فوراً اسی جگہ دفن کر دیا جائے۔ میں نے چھوٹا صندوق وہاں سے نکالنے کو شش کی تو انہوں نے منع کر دیا کہ یہ وقت اس صندوق کو کھولنے کے لےے مناسب نہیں۔ وقت آنے پر اسے دوبارہ نکال لیا جائے گا البتہ تم اس جگہ کا نقشہ اپنے پاس محفوظ کر لو۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ابھی ےہ چھوٹا صندوق کھول لےا گےا تو وہ شےطانی طاقت مزےد تباہی پھےلا سکتی ہے۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ میں اپنی بات پر اصرار نہ کر سکا اور تابوت کو صندوق سمیت دوبارہ اسی گڑھے میں دفن کر نے کے بعد مزید کھدائی بند کر دی گئی۔“
انہوں نے تفصیل بتا کر گہرا سانس لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
”لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ موجودہ واقعات کو شروع ہوئے صرف چند ماہ ہوئے ہیں۔ اگر یہ تصویر اسی لاش کی ہے تو تیس برس تک خاموشی کیوں رہی؟“ انسپکٹر دانش نے سوال کیا۔
”تمہارا سوال واقعی اہم ہے۔واقعہ کے بعد مجھے ان نیک بزرگ سے بہت عقیدت ہوگئی تھی۔میں اکثر ان کے پاس جا بےٹھتا اور مختلف سوالات کر کے اس سلسلے مےں مزےد جاننے کی کوشش کرتا۔۔۔ ایک روز انہوں نے مجھے بتایا کہ عفرےت اب اسی وقت حرکت میں آسکے گا جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔۔۔ اور یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کیوں کہ محترم بزرگ کا چند ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔“
”اس کا مطلب یہ ہواکہ اب یہ جنگ ہمیں اکیلے لڑنا ہو گی۔“ انسپکٹر دانش نے جواب دیا۔
”ہاں۔۔۔ تم درست کہتے ہو۔“ ڈاکٹر داﺅد نے کہا۔
”ہمیں اپنے کام کا آغاز کہاں سے کرنا چاہےے۔ “
” میری رائے یہی ہے کہ سب سے پہلے وہ صندوق تلاش کیا جائے ۔ جسے اس وقت دوبارہ تابوت کے ساتھ دفن کر دےا گےا تھا۔ “ ڈاکٹر داﺅد نے جواب دیا۔
”لیکن آپ کی بیان کردہ صورت حال کے مطابق وہ صندوق حاصل کرنا بھی توآسان نہیں۔“ انسپکٹر نے خدشہ ظاہر کیا۔
”تمہاری بات درست ہے۔مگر اب حقیقت مختلف ہے۔اس سلسلے میں میری نیک بزرگ سے تفصیلی بات ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھاکہ اگلی مرتبہ جو شخص تابوت کھولے گا اسے سرخ آندھی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ اس میں موجود شےطانی وجودغائب ہو چکا ہے لیکن اسے قابو کرنے کا طریقہ صرف اسی صندوق میں موجود ہے۔“ ڈاکٹرداﺅد نے وضاحت کی۔
”تو پھر صندوق حاصل کرنے کے لےے کھدائی کا آغاز کر دینا چاہیے۔“
”ہاں بالکل ،اور میرا مشورہ ہے کہ اس سارے معاملے کو خفیہ رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔“
”آپ فکر نہ کریں۔ تمام کام آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔“ انسپکٹر دانش مسکراتے ہوئے بولا۔
اس کے بعد ڈاکٹر داﺅد نے ایک نقشے کی مدد سے کھدائی کے اصل مقام کی نشاندہی کی۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ کھدائی صرف دن کی روشنی میں کی جائے۔ اس دوران رات کے وقت کوئی شخص اس طرف جانے کی کوشش نہ کرے ۔ ہدایات سننے کے بعد انسپکٹر دانش نے واپسی کی اجازت طلب کی اور فارم ہاﺅس سے باہر نکل آےا۔
-٭-
اگلے روز اےک خاص جگہ پر کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا۔ اس کام کے لےے باہر سے کسی مزدور کو بلانے کے بجائے پولیس کے جوان ہی کھدائی کر رہے تھے اور انسپکٹر دانش بذات خود اس کام کی نگرانی کرتا رہا۔
ڈاکٹر داﺅد کی ہدایت کے مطابق صرف سورج ڈھلنے تک کام کیا جاتا تھا اس کے بعد کسی شخص کو کھنڈر میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔کھدائی شروع ہوئے تیسرا دن تھا کہ گہرائی میں موجود ایک سپاہی کی آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
”سر! تابوت نظر آگیا ہے۔“
انسپکٹر دانش اس کی آواز سنتے ہی تیزی سے آگے بڑھا اور لٹکتی ہوئی رسے کی سیڑھی کی مدد سے کھودے جانے والے گڑھے کی تہ میں جا پہنچاجہاںدو سپاہی زمین میں دھنستے ہوئے لوہے کے مضبوط تابوت پر سے مٹی ہٹا رہے تھے۔ انسپکٹر دانش خود بھی ان کے ساتھ شریک ہوگیا۔۔۔کافی دیر بعد وہ تابوت کو مٹی کی گرفت سے آزاد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے بعد مضبوط رسیوں سے باندھ کراسے ایک طاقتور جیپ کے ذریعے کھینچ کر گڑھے سے باہر نکال لےاگیا۔
اس کے بعد انسپکٹر دانش نے بغور تابوت کا جائزہ لیا۔ اتنا پرانا ہونے کے باوجود وہ اپنی اصلی حالت میں تھا اور اس پر قدیم طرز کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔لیکن طویل مدت زمین میں دھنسے رہنے کے باعث وہ خاصا زنگ آلود ہو چکا تھا۔
”ٹھیک ہے۔۔۔کھولو اسے۔ “
اس نے پاس کھڑے سپاہی کو حکم دیاتوتےز دھار بلیڈ نے کچھ ہی دیر میں زنگ آلود تالے کو کاٹ کر الگ کر دےا۔
انسپکٹر دانش قرآنی آیات کا ورد کرتا ہوا آگے بڑھا اور بلا خوف تابوت کے ڈھکن کو الٹ دیا۔۔۔ توقع کے عےن مطابق تابوت اندر سے خالی تھا لیکن اس کے ایک کونے میں لوہے کا چھوٹا سا صندوق مضبوط زنجیر سے جکڑا ہوا تھا۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد وہ اس صندوق کو تابوت الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد انسپکٹر دانش نے صندوق اٹھا کر اپنی جیپ میں رکھا اور ڈاکٹر داﺅد کے فارم ہاﺅس کی طرف روانہ ہوگیا کیوں کہ وہ کھنڈر میں صندوق کھول کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔
رات گئے انسپکٹر دانش ڈاکٹر داﺅد کے پاس پہنچا تو وہ بے چینی سے اس کے منتظر تھے۔وہ اسے فوراً اپنی لیبارٹری میں لے آئے۔ انسپکٹرنے صندوق لیبارٹری میں بڑی سی میز پر رکھ کر سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر داﺅد کی طرف دیکھا۔
”اسے کھولو۔“
وہ انسپکٹردانش کو ایک ہتھوڑا پکڑتے ہوئے بولے۔جواباََانسپکٹر دانش نے اثبات سر ہلاتے ہوئے ہتھوڑا پکڑا اور صندوق کے تالے پر دے مارا۔۔۔ دو تین ضربوں کے بعد زنگ آلود تالے کا غرور ٹوٹ گیا۔
اس کے بعدانسپکٹر دانش نے ڈاکٹر داﺅد کی جانب دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر ٹوٹا ہوا تالا الگ کیا اور صندوق کے ڈھکن کو اُوپر کی طرف کھینچا۔ ایک ہلکی سی چر چراہٹ کمرے میں گونجی اور ڈھکن کھل گیا۔
صندوق کھلتے ہی ایک نامانوس سحر انگیز خوشبو کمرے میں پھیلتی چلی گئی۔صندوق میں صرف دو چیزیں تھیں۔ ایک پیتل کی تختی اور دوسری بوسیدہ کاغذ پر بنا ہوا ایک نقشہ۔ ان دونوں پر لکھی گئی تحریر کسی قدیم زبان میں تھی۔۔۔کچھ سمجھ نہ آنے پر انسپکٹر دانش نے ڈاکٹر داﺅد کی طرف دیکھا جو پیتل کی تختی پر کندہ تحریر کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔
”یہ دونوں چیزیں اٹھا کر میرے پیچھے آﺅ۔“ ڈاکٹر داﺅد نے کہا اور بیرونی دروازے کی طرف لپکے۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں لائبریری میں موجود تھے۔
”سامان میز پر رکھ کر آرام سے بیٹھ جاﺅ۔“
انہوں نے اگلا حکم صادر کیا۔یہ کہہ کر ڈاکٹر داﺅد اس کی موجودگی سے بے نیاز ہو کر ایک الماری کی طرف بڑھے اور وہاں سے ایک خستہ حال کتاب نکال کر واپس لوٹ آئے۔انہوں نے ٹیبل لیمپ روشن کر کے تختی تیز روشنی میں رکھی اور خود موٹے شیشوں والی عینک لگا کر کتاب کے مختلف صفحے پلٹنے لگے۔
کافی دیر بعد انہوں نے کاغذ قلم سنبھالا اور تختی پر لکھی تحریر کا ترجمہ انگریزی کرنا شروع کیا۔
جیسے جیسے وہ ترجمہ کرتے چلے جارہے تھے ان کی پےشانی پر سوچ کی لکیریں گہری ہوتی چلی جارہی تھیں۔دوسری طرف انسپکٹر دانش کرسی پر بیٹھا بے چینی سے پہلو بدل رہاتھا۔ لیکن اس نے ڈاکٹر داﺅد کے کام میں خلل نہیں ڈالا تھا۔
دو گھنٹے کی محنت کے بعد انہوں نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ میز پر رکھی اور کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔
”کچھ معلوم ہوا؟“ انسپکٹر دانش بے تابی سے بولا۔
”ہاں، بہت کچھ۔“ انہوں نے مختصر جواب دیا۔
”کیا لکھا ہے اس پر؟“
انسپکٹر دانش کا سوال سن کر انہوں نے تختی دوبارہ اٹھائی اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے:
”یہ تختی قدیم مصری زبان میں لکھی گئی ہے جو آج سے کئی ہزار سال پہلے بولی جاتی تھی۔۔۔ ےہ خونی بلا دراصل ایک شیطانی وجود ہے جسے ایک جادوگر کے غلط منتروں کے باعث طاقت ملی۔ یہ بلا اس جادوگر کی زندگی میں ہی بے قابو ہوگئی تھی ۔مگر شدید بیماری کے باعث وہ اس پر مکمل طور پر قابو نہ پاسکا اور عارضی طور پر اسے تابوت میں بند کر دیا۔ لیکن اسے معلوم تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ عفرےت کسی انسان کی غلطی سے دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔۔۔ چنانچہ اس نے عفرےت کو ختم کرنے کا مکمل طریقہ اس تختی پر لکھ کر صندوق میں بند کر دےا اور صندوق کو تابوت میں رکھوا کر زمین میں دفن کر دیا۔لیکن ساتھ ساتھ کچھ ایسا عمل بھی کر دےا کہ وہ شےطان صندوق کو ضائع نہ کر سکے۔“
”اور یہ دوسرا کاغذ؟“ انسپکٹر نے دوبارہ پوچھا۔
”یہ کاغذ اس خفیہ تہہ خانے کا نقشہ ہے جو کھنڈر کے آخری حصے کے نیچے موجود ہے۔اسی تہہ خانے میں وہ شیطان کتاب موجود ہے جسے ضائع کرنے سے اس بلا سے نجات ممکن ہے، لیکن ایک بات مجھے بہت پریشان کر رہی ہے۔“ ڈاکٹر داﺅد کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
”کیسی بات۔۔۔؟“ انسپکٹر چونکا۔
”اس تختی کے مطابق تہہ خانے میں صرف ایک شخص کو جانے کی اجازت ہے ۔ جب کہ یہ بہت خطرناک کام ہے۔“ ان کے لہجے میں تشویش تھی۔
اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے۔ ہمارا تو کام ہی خطروں سے کھیلنا ہے۔“ انسپکٹر دانش لاپروائی سے بولا۔
” وہ تو ہے۔۔۔ لیکن یہ چور سپاہی کا کھیل نہیں،نیکی اور بدی کی جنگ ہے۔“ ڈاکٹر داﺅد نے جواب دیا۔
”آپ فکر نہ کریں ڈاکٹر صاحب! مسلمان بزدل نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے، فتح بالآخر حق کی ہوتی ہے اور باطل مٹ جانے کے لےے ہے۔“ انسپکٹر دانش کا لہجہ پرعزم تھا۔
”انشاءاللہ تم ضرور کامیاب ہو جاﺅ گے۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔“ ڈاکٹر داﺅد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا۔
پھر وہ اسے تختی پر لکھی عبارت کے بارے تفصےل سے آگاہ کرنے لگے۔ جس کے اہم نکات انسپکٹر دانش اپنی یاداشت کے طور پر نوٹ کرتا رہا۔ تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد اس نے ڈاکٹر داﺅد کا شکریہ ادا کیا اور مزید انتظامات کرنے کے لےے وہاں سے رخصت ہوگیا۔
اگلے دو دنوںمیںڈاکٹر داﺅد اور انسپکٹر دانش تہ خانے کا خفیہ دروازہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ےہ مرحلہ طے ہوتے ہوا تو باقی تےارےاں بھی شروع کر دی گئےں۔ چند روز بعد وہ وقت بھی آ گےا جب انسپکٹر دانش کو تہہ خانے مےں داخل ہونا تھا۔
پھر ایک صبح انسپکٹر دانش نے جےسے ہی دےوار پر ابھرے ہوئے حصے پر ضرب لگائی سامنے موجود پتھریلی دیوار بائیں جانب سرکتی چلی گئی۔ سورج کی روشنی نے اس روز جانے کتنی صدےوں بعدتاریک تہ خانے میں جھانکا تھا۔
راستہ کھلتے ہی انسپکٹر دانش نے اپنے سپاہےوں اور ڈاکٹر داﺅد کو خداحافظ کہا اور ان کی نیک دعاﺅں کے ساتھ تہ خانے میں داخل ہوگیا۔ لیکن جیسے ہی اس کے قدم تہہ خانے کی گرد آلود سیڑھی کے وسط میں پہنچے ،کھلا دروازہ تیزی سے بند ہوتا چلا گیا۔
انسپکٹردانش نے پھرتی سے اپنے بیلٹ کے ساتھ بندھا وائرلیس اُتارا تاکہ بیرونی دنیا سے رابطہ کر کے مددحاصل کر سکے۔۔۔ لےکن یہ اس کی بھول تھی کیوں کہ دروازہ بند ہوتے ہی اس کے وائرلیس سسٹم نے بھی کام کرنا بند کر دیا تھا۔اب اس کا رابطہ ترقی یافتہ دنیا سے کٹ چکا تھااور ہر طرف گہری خاموشی تھی ۔
-٭-
دروازہ بند ہوتے ہی تہ خانہ اندھے کنویں کی شکل اختیار کر گےا تھا۔ مگر انسپکٹر دانش نے ہیلمٹ میں نصب ٹارچ کا بٹن دبادیا۔ یقینایہ پہلا موقعہ تھا جب صدیوں پرانے اس تہ خانے میں الیکٹرک بلب کی روشنی پھیلی تھی۔
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد انسپکٹر دانش نے دوبارہ وائرلیس پر رابطہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر مایوس ہو کر اسے بیلٹ کے ساتھ باندھ لیا۔
اب وہ محتاط انداز میں سیڑھیاں اترنے لگا تھا۔ تہہ خانے کے فرش پر قدم رکھتے ہی اس نے جیب سے نقشہ نکال کر صحیح سمت کاتعین کیا اور آگے بڑھا۔
ابھی اس نے چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اچانک اسے اپنے دائیں ہاتھ موجود بند دروازے کے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جےسے کوئی بچہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو۔اگلے ہی لمحے وہ بچے کی مدد کے لےے تےزی سے بند دروازے کی طرف بڑھا۔
”نہیں۔ ڈاکٹر داﺅد نے سختی سے منع کیا تھا کہ اپنے کام کے علاوہ کسی چیزپر توجہ نہیں دینی۔“یہ سوچتے ہی وہ فوراََ رک گیا۔
”لیکن کوئی معصوم بچہ شدےد تکلےف مےں ہے۔ہو سکتا ہے واقعی کسی کو میری مدد کی ضرورت ہو۔“ اس نے خود کو سمجھایا اور خستہ حال دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔
کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔وہ محتاط انداز مےں اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا کہ اندھیرے کمرے میں ہر طرف تیز دودھیا روشنی پھیل گئی۔اس نے چاروں طرف دیکھاتو معلوم ہوا کہ روشنی کونے میں میز پر پڑے گول پتھر سے پھوٹ رہی تھی۔
”حیرت ہے۔۔۔ اتنی تیز روشنی اور وہ بھی ایک پتھر سے۔“
وہ میکانکی انداز میں چلتا ہوا پتھر کے پاس جا پہنچا۔ جلد ہی اسے احساس ہوگیا پتھر سے نکلنے والی روشنی گرم نہیں بلکہ ٹھنڈی ہے۔چنانچہ اپنی پرتجسس طبیعت کے باعث اس نے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں روشن پتھر پر رکھیں تاکہ اس عجیب و غریب پتھر کو چھو کر اس کی ساخت کا اندازہ لگا سکے۔
پتھر واقعی ٹھنڈا تھا اور چھونے سے عجیب سی راحت محسوس ہو رہی تھی ۔ لہٰذا پتھر کے لمس کومزےد بہتر طور پر محسوس کرنے کے لےے اُس نے باقی دو انگلیاں بھی پتھر پر رکھ دیں۔۔۔ یہی اس کی غلطی تھی
چاروں انگلیاں بیک وقت پتھر پر رکھتے ہی بچے کے رونے کی آواز طنزیہ قہقہوں میں بدل گئی۔انسپکٹر دانش نے تیزی سے ہاتھ واپس کھینچنے کی کوشش کی لیکن بہت دےر ہو چکی تھی ۔
اس کی چاروں انگلیاں پتھر سے بری طرح چپک گئی تھیں۔ابھی وہ اپنا ہاتھ پتھر سے الگ کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا کہ ٹھنڈے پتھر میں حرارت پیداہونے لگی ۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے پتھر دہکتے ہوئے انگارے کی شکل اختیا کر گیا۔انسپکٹر دانش چپکے ہوئے پتھر کو ہاتھ سے الگ کرنے کے لےے دیوانہ وار کمرے میں اچھل رہا تھا۔ کبھی وہ اپنا ہاتھ زمین پر مارتا اور کبھی دیوار پرلیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورت حال مزےد بگڑتی چلی جا رہی تھی۔ اب انسانی گوشت جلنے کی تےز بو کمرے میں پھیلنے لگی تھی۔
وہ درد سے بری طرح نڈھال ہو چکا تھا۔ شدید تکلیف کی حالت میں اس نے اپنے ہاتھ کا جائز لیاتو چاروں انگلیاں تقریبا جل چکی تھیں اور آگ اب باقی ہاتھ کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اب مزےد سوچنے کا وقت نہیں تھااور نہ ہی اس کے سوا کوئی چارہ تھا، چنانچہ اس نے دائیں ہاتھ سے اپنی ٹانگ سے بندھا ہوا تیز دھار خنجر اتارا اور نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر پتھر سے چپکی ہوئی انگلیاں ہاتھ سے جدا کرنے لگا۔۔۔ درد سے بھرپور دبی دبی چیخیں اس کے منہ سے نکل کرکمرے مےں گونجنے لگیں،مگر خنجر اپنا کام کرتا رہا۔
کچھ دےر بعد یہ کربناک اپریشن مکمل ہوا اور دہکتا ہوا پتھر انگلیوں سمیت زمین پرگر پڑا۔ جب کہ انسپکٹر دانش شدید تکلیف کی حالت میں خود بھی زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔
جب طبےعت کچھ سنبھلی تو اس نے اپنا رومال نکالا اور کٹے ہوئے ہاتھ پر باندھ لیا۔پھر اس نے پشت پر لدا بیگ اتارکراس مےںسے درد کی گولےاں نکال کر نگل لیں اور بوتل سے پانی پی کر نےم بے ہوشی کے عالم مےں فرش پر لےٹ گےا۔
ادھرسرخ پتھر دوبارہ رنگ بدلنے لگا اور آہستہ آہستہ دودھیا ہوگیا۔ کمرے میں گونجنے والے طنزیہ قہقہے ایک مرتبہ پھر بچے کے رونے کی آواز میں بدل گئے اور سب کچھ پہلے کی طرح ہو چکا تھا۔۔۔ سوائے انسپکٹر دانش کے جس کے ہاتھ کی انگلیاں ہمیشہ کے لےے کٹ چکی تھیں۔
زیر زمین شیطانی دنیا میں یہ اس کی پہلی غلطی اور پہلی سزاتھی۔
طویل نیم بے ہوشی کے بعد انسپکٹر دانش کی طبےعت کچھ بہتر ہوئی تو جانے کتنا وقت گزر چکا تھا۔کیوں کہ اس کی گھڑی کی سوئیوں نے تو تہہ خانے میں داخل ہوتے ہی حرکت بند کر دی تھی ۔
وہ کراہتا ہوا اُٹھا اور کمرے سے باہر آگیا۔ دوا نے وقتی طور پر درد سے نجات تو دلادی تھی لیکن اس کی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی۔خون کافی بہہ چکا تھا اور اسے بہت نقاہت محسوس ہو رہی تھی ۔
کمرے سے نکل کر وہ نقشے کے مطابق چلتا ہوا ایک بند دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ انسپکٹر دانش نے بند دروازے کی مضبوطی جانچنے کے لےے ہاتھ کا دباﺅ بڑھاےا تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے کھلتا چلا گیا۔
”حیرت ہے۔۔۔“
انسپکٹر دانش نے بے ساختہ کہا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ ایک مرتبہ پھر نیچے جاتی سیڑھیوں کے سامنے کھڑا تھا۔یہی وہ دوسرا تہ خانہ تھا جس میں مطلوبہ شیطانی کتاب موجود تھی۔
چند لمحے اگلے محاذ کی پلاننگ کرنے کے بعد انسپکٹر دانش محتاط انداز مےں سیڑھیاں اترنے لگا۔ آخری سیڑھی پر پہنچ کر اس نے تہ خانے کے فرش پر قدم رکھا ہی تھا کہ راہداری کی دیواروں پر نصب مشعلیں خود بخود جل اٹھیں۔
وہ ابھی اس انوکھے استقبال پر غور کر رہا تھا کہ عقب مےں قدموںکی آہٹ سنائی دی۔ وہ تیزی سے پےچھے گھوماتو آنکھیں مارے حیرت کے پھیلتی چلی گئیں۔سامنے ڈاکٹر داﺅد، ان تین سپاہیوں کے ہمراہ سیڑھیاں اُتر کراس کی طرف بڑھ رہے تھے جنہیں وہ تہ خانے کے باہر گیٹ پر چھوڑ آیا تھا۔ان سب کے سینے تازہ خون سے لتھڑے ہوئے تھے۔ اُن کی آنکھےںبرف کی مانند سفید تھیں اور چاروں اپنے ہاتھوں میں بے نےام تلواریں تھامے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
”آپ لوگ۔۔۔ اور یہاں؟“ وہ حےرت سے بولا۔
لیکن ان میں سے کسی کے چہرے پر اپنائیت کا تاثر نہ ابھرا۔ آنکھوں میں موجود اجنبیت بدستور قائم دیکھ کر انسپکٹر دانش کا دل تےزی سے دھڑکنے لگا تھا ۔ وہ چاروں آہستہ آہستہ اس کے قریب آرہے تھے۔ چند فٹ کے فاصلے پر پہنچ کر ایک سپاہی نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تلوار ہوا میں بلند کی اور انسپکٹر دانش پر حملہ کر دیا۔
انسپکٹر دانش اس اچانک حملہ کے لےے تیار نہیں تھا ۔اس نے پھرتی سے جگہ بدلنے کی کوشش کی لیکن تیز دھار تلوار اس کی دائیں ٹانگ پر گہرا زخم لگاتے ہوئے گزر گئی۔اسی دوران ڈاکٹر داﺅد اور دوسرے سپاہی اس کے گرد گھیرا تنگ کر چکے تھے ۔
حالات کی سنگینی دیکھ کر انسپکٹر نے ریوالور نکال لیا۔ لیکن اُس میں اپنے ہی ساتھیوں پر فائر کرنے کا حوصلہ پیدا نہ ہوسکا۔چنانچہ وہ ان کے دوسرے حملے کو ناکام بناتے ہوئے راہداری میں موجود کمروںمیں سے ایک کے دروازے کی طرف لپکا تاکہ جلد از جلد شیطانی کتاب تک پہنچ سکے۔ مگر دروازہ کھولتے ہی اس کے اوسان خطا ہوگئے ۔
بند کمرے میں وہ تمام لوگ بدروحوں کی طرح ٹہل رہے تھے جنہیں وقتاً فوقتاً کھنڈر میں قتل کیا گیا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ سب تیزی سے اس کی طرف لپکے۔
اتنے لوگوں کو قابو کرناآسان نہیں تھا۔ وہ ایک لمبی جست لگا کر دوسرے کمرے کی طرف لپکااور دروازہ کھولنے کی کوشش شروع کر دی۔ صدیوں سے بند پڑا رہنے کے باعث دروازہ کسی صورت کھلنے کا نام نہےں لے رہا تھا ۔ وہ دیوانہ وار اُسے ٹھوکر یں مار رہا تھا۔
ادھر تمام بدروحیں آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہی تھیں ۔انسپکٹر نے آخری مرتبہ ان پر نظر دوڑائی اور اللہ کا نام لے کر پوری قوت سے دروازے پر لات ماری ۔ اگلے ہی لمحے دروازے کے پاٹ دھماکے سے کھل گئے۔
اندر داخل ہوتے ہی انسپکٹردانش نے تیزی سے دروازہ بند کر لےا اور اپنی بے ترتےب سانس بحال کرنے لگا۔
اس سارے واقعے کے دوران زخمی ٹانگ کا درد شدت اختیار کر چکا تھا اس نے کندھے سے لٹکتے بیگ میں سے ایک پٹی نکالی اور کس کر زخم پر باندھ لی۔
اس کام سے فارغ ہو کر انسپکٹر نے ایک مرتبہ پھر جیب سے نقشہ نکال کر جائزہ لیا۔سفر تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ شیطانی کتاب دوسرے کمرے میں موجود تھی اور کمرے میں داخلے کے لیے واحد دروازہ اس کے سامنے تھا۔نقشہ تہ کرکے جیب میں ڈالنے کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف بڑھا۔
ابھی وہ کمرے کے وسط میں پہنچا تھا کہ جانے کہاں سے ایک بھاری بھر کم جسم اس کے سر پر آن گرا۔اس نے حملہ آور کو تیزی سے سامنے والی دیوارکی طرف اچھال دےا۔ ۔۔۔اب اس کے سامنے ایک ایسا انسان نما جانور کھڑا تھا جس کا منہ بھیڑیے کا تھا اور وہ غصے سے بری طرح غرا رہا تھا۔
چند لمحوں بعد وہ دوبارہ حملہ آور ہوا لیکن اب انسپکٹر سنبھل چکا تھا۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ میں پکڑا ہوا خنجر جانور کے پیٹ میں گھونپ دیا۔۔۔جانور چیخ کے ساتھ فرش پر گرا اور اپنی زبان سے اپنا ہی زخم چاٹنے لگا۔ خون منہ میں جاتے ہی اس کی وحشت مزید بڑھ گئی اور وہ دوبارہ انسپکٹر پر حملہ آور ہوا۔
اس مرتبہ انسپکٹر دانش کے ریوالور نے شعلے اگلے اور خوفناک درندہ انسپکٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین بوس ہوگیامگر اگلا منظر اس کے وہم و گمان مےں بھی نہےں تھا ۔ تہ خانے کی زمین پر جہاں جہاں خون کا قطرہ گرا تھا،وہاں سے بالکل ویسا ہی بھیڑیا نما انسان وجود میں آ رہا تھا ۔ کچھ دیر میں بہت سے جانور اس پر حملے کرنے کے لےے تیار کھڑے تھے۔ ےہ دیکھ کر انسپکٹر دانش نے پھر ہمت کر کے جست لگائی اور زخمی ٹانگ کی پروا کیے بغیر بھاگتا ہوا شیطانی کتاب والے کمرے میں داخل ہوگیا۔
اندر داخل ہوتے ہی اس نے یہ دروازہ بھی بند کر لےا اور سامنے رکھے ہوئے اس صندوق کی طرف بڑھا جس میں وہ شیطانی کتاب موجود تھی۔
-٭-
کمرے کے وسط میں پڑے سیاہ صندوق کے پاس پہنچ کر انسپکٹر نے دلیری سے اس کاڈھکن اٹھانے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔ لےکن آناً فاناً کمرہ گہرے سرخ دھویں سے بھر گیا۔جب دھواں چھٹا تو سامنے وہی دہشت ناک حلےے والی خونی بلا موجود تھی جو قادر پور میں بے شمار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی تھی۔اسی عفرےت کے پےچھے اس کی ہمشکل بلاﺅں کی لمبی قطار موجود تھی جو سب اسے گھور رہی تھےں۔
”خبردار! کتاب کو ہاتھ مت لگانا۔“ایک پھنکارتی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔
”آج تمہار وقت پوراہو چکا ہے۔صدےوں سے قائم اس طلسمی حصار کے ٹوٹنے کا وقت آ چکا ہے۔تمہےںمرنا ہو گا۔“ انسپکٹر دانش نے اس کی بات کا جواب دےتے ہوئے تیزی سے صندوق میں پڑی بوسیدہ کتاب اٹھالی۔
یہ دیکھتے ہی بلا کا لمبا بازو حرکت میں آیا اور اس کا آ ہنی پنجہ انسپکٹر دانش کی نازک گردن پر جا پڑا۔جب کے اس کی ساتھی بلائےں خاموش کھڑی ےہ منظر دےکھتی رہےں ۔۔۔ انسپکٹر دانش کے پاﺅں زمین چھوڑ چکے تھے اور وہ بلا کے ہاتھوں میں بری طرح پھڑ پھڑا رہا تھا۔ شدید تکلیف کے باعث اس کی آنکھیں ابل کر باہر آرہی تھیںاور کتاب ہاتھوں سے نکل کر دور جاگری تھی۔اس نے ہمت کر کے ایک مرتبہ پھر اپنے ہولسٹر میں سے ریوالور نکالا اور اندازے سے بلا کے چہرے کی طرف رخ کر کے فائر کر دیا۔ گولی اس کی بھیانک آنکھ کو چیرتی ہوئی سر کے پچھلے حصے سے پار ہوگئی۔
زور دار جھٹکے کے باعث بلا کے ہاتھ کی گرفت کمزور ہوئی اور انسپکٹر دانش فرش پر آگرا ۔نیچے گرتے ہی اس نے بلا کے چہرے کی طرف دیکھا جس کی آنکھ میں ہونے والا سوراخ تیزی سے مندمل ہو رہا تھا۔
اس دوران انسپکٹر دانش ایک مرتبہ پھر کمرے کے کونے میں پڑی کتاب اٹھانے میں کامیاب ہو چکا تھااور جیب سے لائٹر نکال کر کتاب کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔لیکن باوجود مسلسل کوشش کے وہ لائٹر روشن کرنے میں ناکام رہا۔
شیطانی بلائےں یہ منظر دیکھ کر تیزی سے اس کی جانب لپکےں۔ موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ لمحہ بہ لمحہ کم ہورہا تھا۔ نیکی اور بدی کی جنگ آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اُمید کی کرنیں مایوسی کے اندھیرے پر اپنی گرفت کھونے لگیں ۔
انہیں اعصاب شکن لمحات میں جب خونی بلا کا آہنی پنجہ ایک مرتبہ پھر انسپکٹر دانش کی گردن کے قریب پہنچا اس کے ذہن کے تاریک پردے پر نور کی ایک انمٹ تحریر بجلی کی مانند کوندی۔
”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔“
انسپکٹر دانش کی زبان سے قرآن مجید کے مقدس الفاظ ادا ہوتے ہی خاموش لائٹر نے تیز شعلہ اگلا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب سوکھے پتوں کی طرح جل اٹھی۔
شیطان کتاب کے آگ پکڑتے ہی اس کی جانب بڑھتی ہوئی بلاﺅں کے جسم بھی بھڑک اٹھے۔ دوسرے کمرے میں موجود عجیب الخلقت جانور اور بدروحیں بھی خودبخودشعلوں کی لپےٹ مےں آگئےں اور سب چیختے چلاتے بڑی بلا کے گرد جمع ہوگئے۔
سب شےطانی چےلے دیوانہ وار آگ بجھانے میں کوشاں تھے کہ کھنڈریک دم شدےدزلزلے کی لپیٹ میں آگیا۔ چھتوں سے مٹی اور پتھروں کی بارش شروع ہوگئی اور بلند دیواریں زمین بوس ہونے لگیں۔پھراچانک زلزلے کے ایک شدید جھٹکے سے سارا تہ خانہ ریت کے کمزور گھروندے کی مانند بیٹھتا چلا گیا۔
انسپکٹر دانش بڑھتی ہوئی تباہی دےکھ کر زخمی ٹانگ کے ساتھ تےزی سے بےرونی دروازے کی جانب لپکالےکن بہت دےر ہو چکی تھی ۔۔۔ابھی وہ چند قدم آگے بڑھا تھا کہ دیوار کا بڑا حصہ موت بن کر دھماکے سے اس کے سر پر آگرا۔۔۔ اس لمحے انسپکٹر دانش کی آخری چیخ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر ملبہ گرنے کے شور میں ہمیشہ کے لےے دفن ہوگئی۔
قادر پور صدیوں پرانے شیطانی حصار سے آزاد ہو چکا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کھنڈر کے ملبے میں سے انسپکٹر دانش کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
طلسم ختم ہونے کے بعد اچانک ہزاروں من وزنی ملبے کے نیچے گہرائی میں دبے انسپکٹر دانش کے بے جان جسم کے ساتھ بندھی وائرلیس میں جان پیدا ہوئی اور باہر کھڑے پولیس آفیسر کی آواز ابھری۔
”ہیلو ۔۔۔ہیلو۔۔۔کیا آپ میری آواز سن رہے ہیں؟“
لیکن انسپکٹر دانش کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا ۔ کےونکہ وہ تواےک عظیم کارنامہ انجام دے کر ہمیشہ کے لےے خاموش ہوچکاتھا۔
شیطانی حصار ختم ہونے کے بعد قادر پور کے باسی مدتوں تک اپنے بچوںکو انسپکٹر دانش کی بہادری کے قصے سناتے رہے، لےکن اصل حقےقت کوئی نہ جان سکااور ےوںخونی کھنڈر ہمےشہ عام لوگوںکے لےے اےک راز ہی رہا۔
-٭-

Muhammad Irfan Ramay
359 A, Gulshan-e-Ravi, Lahore
0321-4172108

اماوس کی گھٹا ٹوپ اندھیری رات میں صدیوں پرانے ا س کھنڈر کے بلند و بالا درو دیوار کسی خون آشوب عفریت کی طرح سرتانے کھڑے تھے۔ہر طرف خوف کی حکمرانی تھی اور کبھی کبھار سنائی دےنے والی کسی جانور کی آواز بھی ماحول کی دہشت مےں مسلسل اضافہ کر رہی تھی ۔
آدھی رات گزر چکی تھی اور وہ دونوں پنسل ٹارچ کی مدہم روشنی میں اس قدیم کھنڈر کے اُونچے نیچے چبوتروں کے درمیان ناہموار راستے پر ٹھوکریں کھاتے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔
اس موقع پر آصف تو ہر قسم کے خوف سے بے نیاز ہونٹوں سے فلمی دُھن بجا رہا تھا جب کہ اسلم کی حالت بالکل مختلف تھی۔وہ بہت گھبراےا ہوا تھا اور ہلکی سی آہٹ یا سوکھے پتوں کی سرسراہٹ بھی اُس کے دل کی دھڑکن کو تےز کر دیتی تھی۔اُسے یقین تھا کہ آج ضرورکچھ ہونے والا ہے۔
”لوبھئی! آدھا راستہ تو طے ہوگیا۔۔۔ ابھی تک کسی جن ،بھوت ےا چڑیل سے ملاقات نہیں ہوئی۔مےرا خےال ہے کہ آج تو ےہاں کوئی بد روح بھی نہےں ہے ۔ شاےد کسی ضروری کام سے شہر گئی ہوئی ہے ۔ لہٰذا مےرا خےال ہے کہ اس کا تھوڑ اانتظار کر لیا جائے ۔ ۔۔ کےوں کہ اگر اُسے ملے بغےر چلے گئے تو وہ ناراض ہو جائے گی ۔ ےہ بھی ممکن ہے کہ ناراض ہو کر وہ آےندہ کسی کے سامنے ہی نہ آئے اورگاﺅں والے اُسے دےکھنے سے محروم رہ جائےں۔‘ ‘
آصف نے ایک بڑے سے چبوترے پر بیٹھتے ہوئے اسلم سے کہاتو وہ گھبرا کر ادھر ادھر دےکھنے لگا اور پھر تےز لہجے مےں بولا:
” تم ےقےنا مےری حالت سے لطف اندوز ہو رہے ہو۔لےکن کسی غلط فہمی مےں نہ رہنا۔۔۔ دےکھو!خدا کے لےے یہاں مت بیٹھو۔ جلدی چلو، میرا دل گھبرارہا ہے۔اگر ہم فوراََ اس کھنڈر سے باہر نہ نکلے تو بے موت مارے جائےں گے اورکوئی ہماری لاشےں اُٹھانے والا بھی نہےں ہو گا۔ “
”صبر کرو تھوڑی دےر۔گھر ہی تو جانا ہے ،چلے جائےں گے۔ سچ کہتے ہےں سب کہ تم واقعی بہت ڈرپوک ہو۔ “آصف نے اسے زچ کےا۔
” مےں بزدل نہےں ہوں۔ “وہ سےنہ تان کر بولا۔
” تو پھر سکون سے بےٹھ جاﺅ۔کچھ دےر آرام کر کے دوبارہ سفر شروع کرےں گے۔ “
”کےا بکواس کر رہے ہو تم ۔ مےں پاگل نہےں ہوں کہ تمہارے ساتھ ےہاں بےٹھ کر آرام کروں۔ ۔۔کےسے دوست ہو تم ۔ خدا را مجھے ستاﺅ مت۔ اگر مجھے ہارٹ اٹےک ہو گےا تو ساری زندگی خود کو معاف نہےں کر سکو گے۔“اسلم اس کا پر سکون روےہ دےکھ کر بھڑک اُٹھا تھا۔
” اچھا اچھا۔۔۔بند کرو ےہ جذباتی قسم کے فلمی ڈائےلاگ۔تم مےرے دوست ہو مےں بھلا کےوں تنگ کروں گا تمہےں۔ بس تھوڑا سانس لےنے دو، پھر چلتے ہےں۔ بہتر ہو گا تم بھی اس وےران کھنڈر مےں بےٹھ کر تاروں بھری رات کا مزا لو۔۔۔ دیکھنا تھوڑی دیر یہاں رُکنے سے تمہارا ڈر خودبخود ختم ہو جائے گا۔“ آصف نے اسلم کو تسلی دی اور پھر اسی فلم کا گےت گنگنانے لگا جو وہ دونوں سےنما مےں دےکھ کر لوٹ رہے تھے۔
اسے ےوں لاپر وا دےکھ کر اسلم بے دلی سے قرےب ہی چبوترے پر بےٹھ گےا۔ لےکن اُس کادل کہہ رہا تھا ضرور کچھ ہونے والا ہے۔انہےں وہاں بےٹھے کچھ ہی دےر گزری تھی کہ اسلم کو کسی بھاری جسم کے چلنے کا احساس ہوا۔ اس نے جلد ی سے اندھےرے مےں ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر کچھ دکھائی نہ دےا۔لےکن بہت مدہم سی دھمک اب بھی سنائی دے رہی تھی۔ دوسری جانب آصف اپنی ہی دُھن مگن گلا پھاڑ کر اپنے بے سُرا ہونے کا ثبوت پےش کر رہا تھا۔ اسلم بے بسی کے عالم مےں اِدھر اُدھر دےکھتا رہا۔ جب دھمک برابر سنائی دےتی رہی تو وہ آصف کو بازو سے پکڑ کر خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا:
”تمہیں کچھ محسوس ہوا؟
”کیا۔۔۔؟“ آصف نے لمحہ بھر کے لےے خاموشی اختےار کی اور پھر دوبارہ سے گنگنانے لگا۔
” ےوں محسوس ہو رہا ہے جےسے کوئی آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہمارے قریب آرہا ہو۔“
”ےقےنا کوئی چڑےل ہو گی۔۔۔لگتاہے اب ہماری خےر نہےں۔ لےکن فکر مت کرو مےں چڑےل سے درخواست کروں گا کہ مجھے چھوڑ دے اور تمہےں کھا جائے ۔ وےسے ےاد کرو جو فلم ہم نے آج دےکھی ہے اُس مےں بھی اےک چڑےل تھی جو رات کے وقت سنسان جنگل مےں دلہن بن کر گھومتی تھی اور پھر وہاں سے گزرنے والے مسافروں کو ہلاک کر ڈالتی تھی ۔ ۔۔کےافلم تھی ےار! مےں تو ابھی تک اسی تصوراتی دنےا مےں کھوےا ہوا ہوں ۔۔۔ سوچ رہا ہوں کل اےک بار پھر وہی فلم دےکھنے جاﺅں۔ “آصف ابھی تک خود کو سنےما ہال مےں محسوس کر رہا تھا ۔
”مذاق مت کرو، مےں سنجےدہ ہوں۔ مجھے ےقےن ہے کہ ےہاں ہمارے علاوہ کوئی تےسرا بھی موجود ہے ۔ “ اسلم نے سخت لہجے مےں کہا۔
” کوئی نہیں ہے۔صرف تمہارا وہم ہے۔“ آصف نے ارد گرد ٹارچ گھمائی۔
”نہیں۔۔۔یہ وہم نہیں ہے۔۔۔ غور سے سنو!اس کے سانسوں کی آواز بھی آرہی ہے۔“
”تمہارے کان بج رہے ہیں۔“ آصف جھنجھلایا۔
سچ کہہ رہا ہوں۔ اب میں اُس کے قدموں کی آواز بھی سن سکتا ہوں۔ بھاری بھر کم آواز۔۔۔ جیسے کوئی دےو ہےکل وجود مشکل سے چل رہا ہو۔ “
”ہاںشاید تم درست کہہ رہے ہو۔“ آصف پہلی مرتبہ چونکااور پھر دائےں بائےں دےکھ کر بولا:” لےکن مجھے کچھ دکھائی نہےں دے رہا۔ “
”آصف! تمہارے پیچھے؟“ اسلم کی گھٹی گھٹی آواز سنتے ہی آصف نے بجلی کی سی تیزی سے ٹارچ پیچھے گھمائی تو اُس کا رنگ ےک دم زرد پڑ گےا۔
”اُف خدایا۔۔۔“
مارے خوف کے آصف کی آنکھیں پتھرا کر رہ گئیں۔ سانس جیسے سینے میں اٹک گئی اور قدم زمےن نے جکڑ لےے تھے۔ یہ اس کی زندگی کا بھےانک ترےن منظر تھا۔ اس کے عقب مےں کھڑا وجود یقینا کسی انسان کا نہیں تھا۔
دو ٹانگوں والے اُس بھاری بھر کم عفرےت کے جسم پر بال نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ چہرے میں دھنسی ہوئی آنکھیں اتنی سفید کہ جیسے برف جمی ہو۔ انٹینے کی طرح نکلی ہوئی کندھے کی مضبوط ہڈیاں اور اُن کے ساتھ جڑے چمگادڑ جےسے پر۔ اس کے غلےظ وجود سے اُٹھتی ہوئی کچے گوشت کی ناقابل برداشت بدبونے ان دونوں کے ناک جکڑ لےے تھے۔
”آصف بھاگو۔۔۔“
جانے اسلم میں اتنی ہمت جانے کہاں سے پیدا ہوگئی تھی ۔لےکن ےہ اُس کی بھول تھی۔ اُن کے ارادے بھانپتے ہی عفریت کا لمبا بازو حرکت میں آیا اور دوڑتاہوا اسلم کئی میٹر بلند ہوا میںمعلق ہو گےا۔ وہ کسی بھی صورت اُس بَلا کے پنجے سے آزاد ہونے کی جستجو کر رہا تھا مگر ےہ اُس کی خام خےالی تھی۔ پھر اسے ےہ تکلےف زیادہ دیر تک برداشت نہ کرنی پڑی۔اگلے ہی لمحے اُس عفرےت نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اسلم کے لمبے بالوں والا سر اےک ہی جھٹکے مےں دھڑ سے جدا کر کے فٹ بال کی طرح دُور اُچھال دیا۔
ایسا بھیانک منظر آصف نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ بھاگ کر اپنی جان بچا سکے ۔ وہ اپنی جگہ ساکت بےٹھا تھا کہ عفرےت کا بازو اےک مرتبہ پھر حرکت مےں آےا۔
”مم۔۔۔مجھے مت مارو۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں پھر کبھی یہاں سے نہیں گزروں گا۔“
وہ عفرےت کے ہاتھوں میں پھڑ پھڑاتے ہوئے بے تکان بول رہا تھا ۔ لےکن پھر موت کو اس قدر قرےب پا کر بھی حےران رہ گےا کہ وہ عجےب و غرےب مخلوق نہ صرف اُس کی بات سمجھ سکتی ہے بلکہ بول بھی سکتی ہے ۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں، لیکن اےک شرط پر۔“اےک کرخت آواز آصف کی سماعت سے ٹکرائی۔
”کک۔۔۔کیسی شرط؟“
”تم زندگی بھر کسی سے میرا ذکر نہیں کرو گے۔کبھی کسی کو ےہ نہےں بتاﺅ گے کہ کھنڈر مےں تمہارے ساتھ کےا واقعہ پےش آےا تھا۔ “
”مجھے منظور ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوںکہ کسی کے سامنے تمہارا نام نہےں لوں گا۔ “
”یاد رکھو! جس دن تم نے اپنا وعدہ توڑا، وہ تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔“
”ٹھیک ہے!میں کبھی کسی کو نہیں بتاﺅں گا۔مےں تمہارے متعلق ہر بات بھول جاﺅں گا۔ “ آصف کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
” توبھاگ جاﺅ ےہاں سے اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔“ عفرےت نے اُسے زمین پر پٹخ دیا۔
زمےن پر گرتے ہی آصف اُٹھ کر کھڑا ہو گےااور پلٹ کر دےکھے بغےر واپس اسی راستے پردوڑتا چلا گےا جہاں سے وہ دونوں کھنڈر میں داخل ہوئے تھے۔وہ ہرصورت کھنڈر سے بہت دور چلے جانا چاہتا تھا ۔ خوف و دہشت کے باعث وہ کئی مرتبہ زمین پر گرا لیکن اےک مرتبہ بھی پلٹ کر دےکھنے کی جرات نہ کی۔
آج پہلی بار اسے احساس ہوا تھا ، موت کتنے دبے پاﺅں انسان کا تعاقب کرتی ہے۔۔۔اسلم کی موت کا بھیانک منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔ لیکن وہ مسلسل بھاگتا رہا اورکافی دےر بعدگاﺅں سے باہر پکی سڑک تک پہنچ گےا ۔
خوف ،غم اور پیاس کی شدت کے باعث آصف کے دل کی دھڑکن بے قابو ہورہی تھی۔ اُس نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔۔۔ پھر اچانک وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر بری طرح لڑکھڑایا اور منہ کے بل زمین پرگرتے ہی بے ہوش ہو گےا ۔
-٭-
جانے کتنی دےر بعد آصف کی آنکھ کھلی تووہ ایک خوبصورت کمرے میں مخملیں بستر پر موجود تھا۔چند لمحے کمرے کی منقش چھت کو گھورنے کے بعد اُس کے ذہن کی تارےکی دھےرے دھےرے چھٹنے لگی تھی ۔ اب اسے وہ تمام واقعات ےاد آ نے لگے تھے جنہےں وہ بھےانک خواب سمجھ کر بھلا دےنا چاہتا تھا ۔ وہ خوفناک لمحات دوبارہ ےاد آتے ہی آصف نے ہڑ بڑا کر اُٹھنا چاہا تو اےک اپنائےت بھری آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی:
”لیٹے رہو۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“ قرےب بےٹھی اےک بزرگ خاتون نے شفقت بھری نظروں سے اس کی جانب دےکھا۔
”میں کہاں ہوں اس وقت؟“
” گھبراﺅ نہےں !تم محفوظ مقام پر ہو۔“
”آپ کون ہیں؟“ اس نے پہلی مرتبہ غور سے اُس بزرگ خاتون کو دےکھا جس نے لمبا سےاہ گون پہن رکھا تھا۔ اس کے سفےد بال شانوں تک لہرا رہے تھے۔
”میرا نام ٹریسا ہے اور تم اس وقت میرے گھر میں ہو۔“
” میں یہاں کیسے پہنچا۔۔۔ میں تو۔۔۔“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
”تم قادر پور کے نزدےک سڑک پر بے ہوش پڑے تھے۔ ہمارا گزر اُس طرف سے ہوا تو تیز بخار کے باعث تمہاری حالت زےادہ اچھی نہیں تھی۔ اُس وقت تمہارے علاوہ کوئی نہےں وہاں۔ اس حالت مےں تمہےں تنہا نہےں چھوڑا جا سکتا تھا چنانچہ ہم تمہےں اپنے ساتھ ےہاں لے آئے۔ “ وضاحت سن کر آصف نے چند لمحے توقف اختےار کےا اور پھر اس کی جانب دےکھتے ہوئے پوچھا:
”میں کتنی دیر بے ہوش رہا ہوں؟“
”تم چار دن بعد ہوش میں آئے ہو۔“
”چار دن۔“ وہ حیرت سے بڑبڑاےا۔
”تم نے اپنا نام نہیں بتایا؟“ ٹریسا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
” آصف ۔“
”کیا میں ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟“
”جی ضرور۔۔۔ پوچھیں۔“
”تم اکیلے اتنی رات گئے اس ویرانے میں کیا کر رہے تھے۔جب کہ مےں نے تو سنا ہے کہ وہ علاقہ ٹھےک نہےں ہے اور بہت سے لوگ اپنی جان بھی گنوا چکے ہےں۔ “
”آپ ٹھےک کہہ رہی ہےں ۔ مےں انہی کھنڈرات کی سیر کے لےے گیا تھا کےونکہ مےں ان باتوں پر ےقےن نہےں رکھتا ۔ واپسی پر اچانک مےری طبیعت خراب ہوگئی۔مےں وہاںبس کا انتظار کر رہا تھا کہ چکر سا آگےا اور مےں بے ہو ش ہو کر زمےن پر گر پڑا۔ “ آصف نے اصل کہانی صفائی سے گول کر دی تھی۔
” تمہارا گھر کہا ںہے؟“
”میرا کوئی گھر نہیں ۔ جہاں سورج ڈوباتا ہے ،وہیں رات بسر کر لیتا ہوں ۔ “
”ماں باپ؟“
”فوت ہو چکے ہیں۔“ اس نے مختصر جواب دیا۔
”اوہ۔۔۔بہت افسوس ہوا۔“
”ان کا نتقا ل مےرے بچپن مےں ہی ہو گےا تھا۔ در در کی ٹھوکرےں کھاتے اس عمر تک پہنچا ہوں۔مےرا اس دنےا مےں کوئی نہےں ہے ۔ “
”تم فکر مت کرو، سب ٹھےک ہو جائے گا۔“
”آپ ےہاں اکےلی رہتی ہےں؟“طبےعت سنبھلنے پر آصف نے بغورکمرے کا جائزہ لےا۔ جسے قدےم طرز تعمےر ہونے کے باوجود خوبصورت خواب گاہ کے طور پر ترتےب دےا گےا تھا۔
”مےں ، مےری بےٹی انجلی اورچند خدمت گار ۔ ےہ حوےلی ہمارے پرکھوں کی ےادگار ہے ۔ ہماری کئی نسلوں نے اسی حوےلی مےں زندگی بسر کی ہے ۔۔۔ اب تم آرام کرو ۔ مےں تمہارے کھانے کے لےے کچھ بجھواتی ہوں۔“ ٹرےسا نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
”جی بہت شکریہ۔“
” اورسنو! کسی چیز کی ضرورت ہو تو شرمانا مت۔اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔“ ٹریسا نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے ہی آصف گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
”کتنی نیک عورت ہے۔ کتنا اچھا روےہ ہے اس کا ۔۔۔ اور میں کتنا برا ہوں ۔جھوٹ بولے چلا جا رہا ہوں۔ مجھے چاہیے کہ سب کچھ سچ سچ بتا دوں اور واپس اپنے گاﺅں چلا جاﺅں۔کسی کو دھوکا دینا اچھی بات نہیں۔ جب حقیقت کھلے گی تو مجھے کس قدر شرمندگی کاسامنا کرنا پڑے گا اور اس رحم دل خاتون کا اعتماد بھی لوگوں پر سے اُٹھ جائے گا۔۔۔ ٹھیک ہے میں اسے اصل حقیقت سے آگاہ کر دوں گا۔“ آصف نے فےصلہ کےا۔اتنے میں ایک بوڑھا ملازم سوپ کا پیالہ تھامے کمرے میں داخل ہوا۔
”مالکن نے کہا ہے سوپ پی لیں اور اگر مزید کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں۔“ بوڑھے نے احترام سے کہا۔
”نہیں شکریہ“۔
بوڑھے کے باہر جاتے ہی آصف تیزی سے سوپ پینے لگا ۔ وہ فور اََاپنے گاﺅں رخصت ہونا چاہتا تھا۔ تاکہ گاﺅں والوں کو اسلم کی موت کے بارے حقیقت سے آگاہ کر سکے۔لیکن پھر اچانک ذہن میں نیا خیال آتے ہی وہ سہم سا گیا۔
”اسلم والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ وہ لوگ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار یقینا مجھے ہی ٹھہرائیں گے ۔ مجھ پر الزام لگائیں گے کہ میں اُسے زبردستی شہر لے گےا اور واپسی پر جان بوجھ کر کھنڈر والا راستہ منتخب کیالیکن عفرےت کے نمودار ہوتے ہی خود اُسے چھوڑ کر فرار ہوگیا۔۔۔گاﺅں والے تو پہلے ہی میرے خلاف ہیں اور مجھے اےک آوارہ لڑکا سمجھتے ہیں۔کوئی میری بات پر یقین نہیں کرے گا۔ اس لےے بہتر ہے کہ مےں واپس نہ جاﺅں اور ہمیشہ کے لےے گاﺅں چھوڑ دوں۔ ویسے بھی اب میرے پاس موقع ہے اگر میں اس نیک دل خاتون کی منت سماجت کر لوں تو ممکن ہے مجھے اپنے پاس ملازم رکھ لے ۔۔۔ اس طرح گاﺅں والوں کے طعنوں سے نجات مل جائے گی اور خونی بلا سے کیا وعدہ بھی قائم رہے گا۔“
وہ خاموش بےٹھا ہر پہلو سے معاملے کا جائزہ لے رہا تھا کہ اےک دھےمی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی:
”کیا سوچ رہے ہو؟“
”کک۔۔۔کچھ نہیں۔“
اس نے بد حواسی مےں نظرےں اٹھائےں تو منہ کھلا رہ گےا۔ اس کے سامنے کھڑی حسےن و جمےل لڑکی ےقےنا انسان نہےںپرستان کی شہزادی تھی۔۔۔گورا رنگ، سنہرے بال اور گہری نےلی آنکھوں نے اسے قدرت کا شاہکار بنا دےا تھا۔آصف کو اپنی جانب متوجہ پا کر وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھی اور قرےب پہنچ کر بولی:
”مجھے معلوم ہے کہ تم یہی سوچ رہے ہو کہ یہاں سے واپس چلا جاﺅں ۔۔۔تم خود کو ہمارے لےے اےک بوجھ سمجھ رہے ہوناں۔ لیکن یاد رکھو! ایسی کوئی بات نہیں ۔تم ےہاں آرام سے رہو اور ذہن پر زیادہ زور مت دو۔ تمہاری طبیعت ٹھےک نہےں ہے۔“
”وہ سب تو ٹھےک ہے مگر آپ کون ہےں؟“ آصف اسے دےکھ کر سٹپٹا سا گےا تھا ۔
”انجلی۔۔۔ماں نے بتاےا نہےں مےرے بارے؟“ وہ مسکرا کر بولی۔
” بتاےا تو تھا مگر اتنی تفصےل سے نہےں کہ آپ پرستان کی شہزادی ہےں۔“ جواب سن کر انجلی نے قہقہہ لگاےا تو اُس کی ہنسی کمرے کی فضاءپر غالب آگئی:
” بہت خوب۔پسند آئی مجھے تمہار ی بات۔ لےکن اب سو جاﺅ ۔ رات گہری ہو چکی ہے اور تمہاری طبےعت بھی ٹھےک نہےں۔ بے فکر رہو! باتوں کے لےے بہت وقت ہے مےرے پاس ۔“ ا نجلی نے آصف کے ہاتھ سے سوپ کا خالی پےالہ پکڑکر مےز پر رکھا اور واپس لوٹ گئی۔
اب تو واپسی کی رہی سہی خواہش بھی توڑ گئی تھی۔چنانچہ اُس نے ےہی فےصلہ کےا کہ صبح ٹرےسا سے اپنی ملازمت کے سلسلے مےں ضرور بات کرے گا۔
-٭-
”میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“ صبح ناشتے کی میز پر آصف ہمت کر کے ٹریسا سے مخاطب ہوا۔
” بالکل کہو۔“ وہ مسکرائی۔
”میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مشکل وقت میں میری مدد کی۔ اگر آپ اس روز مجھے اپنے ساتھ نہ لے آتیں تو شاید میں زندہ نہ بچتا۔“
” ایسی کوئی بات نہیں۔میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو وہ بھی تمہاری مدد ضرور کرتا ۔ تمہاری حالت اتنی خراب تھی کہ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں تمہیں اپنے ساتھ لے آئی۔“
”وہ دراصل میں۔۔۔“ آصف نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
”تم بنا کسی خوف کے اپنی بات کہہ سکتے ہو۔“ ٹریسا نے اسے حوصلہ دیا۔
”میں واپس نہیں جانا چاہتا۔“
”تو مت جاﺅ۔ تمہیں یہاں سے کوئی نہیں نکالے گا۔“ ٹرےسا لاپروائی سے بولی۔
”تو پھر آپ مجھے اپنے ہاں چھوٹی موٹی ملازمت دے دیں ۔ میں ےقےن دلاتا ہوں کہ جو کام بھی میرے ذمہ لگایا جائے گا، اےمانداری سے انجام دوں گا۔“ آصف نے اُمید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”اگر تم واپس نہےںجانا چاہتے تو مت جاﺅ۔۔۔ لیکن میں تمہیں ملازمت نہیں دے سکتی۔“
”کیا مطلب۔“ آصف چونکا۔
” مجھے کسی نئے ملازم کی قطعاً ضرورت نہیں۔“ ٹریسا نے دو ٹوک جواب دیا۔
”پھر میں یہاں کس طرح رہ سکتا ہوں“ آصف کے لہجے مےں ماےوسی تھی۔
”بالکل یہاں رہ سکتے ہو۔۔۔ اور وہ بھی میرے بیٹے کی حیثیت سے۔“ ٹرےسا نے پےار بھری نظروں سے اس کی طرف دےکھتے ہوئے کہا۔
”بیٹے کی حیثیت سے؟“ آصف حیرت سے اچھل پڑا۔
”ہاں تم نے صحےح سنا ۔۔۔ میرا بھی ایک بیٹا تھا بالکل تمہاری طرح۔“
”اب کہاں ہے وہ؟“ آصف نے پوچھا۔
”دشمنی کی بھےنٹ چڑھ گےا۔اگر آج وہ زندہ ہوتا تو میں اتنی تنہا نہ ہوتی ۔ تمہارے چہرے میں مجھے اس کا عکس نظر آتا ہے۔اسی لےے میں چاہتی ہوں ، تم ہمےں چھوڑ کر کہےں مت جاﺅ۔ ےہاں رہنے سے تمہاری عمر بھر کی محرومےاں ختم ہو جائےں گی اور تم وہ با وقار زندگی گزارنے کے قابل ہو جاﺅ گے جس کا تم نے خواب دےکھا ہے ۔ “ ٹرےسا کے لہجے مےں التجا تھی۔
”آپ میری سوچ سے بھی زیادہ عظیم ہیں۔میں کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جاﺅں گا۔ “ آصف نے اُس کا ہاتھ تھام کر تسلی دی ۔ اُس کے فےصلے پر ٹرےسا اور انجلی دونوں بہت خوش تھےں۔
اس محل نما قدیم حویلی میں آصف کا پہلا دن تھا۔ ٹرےسا ناشتے کے بعد اپنے کمرے مےں چلی گئی جب کہ وہ انجلی کے ساتھ پائےں باغ مےں آ گےا ۔ بقول انجلی ، اس کی ماں کم ہی اپنے کمرے سے نکلتی تھی ۔
حویلی میں ان ماںبےٹی کی خدمت کے لےے ملازمین کی پوری فوج موجود تھی لیکن تمام تر جدید سہولتوں کے باوجود حویلی میں بسنے والے افراد کا لباس اور طرز زندگی کسی قدیم ثقافت کی ترجمانی کر رہا تھا جو کہ آصف کی سمجھ سے بالا تر تھا۔
اےک دن تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آصف نے انجلی سے اس قدےم رہن سہن کے بارے درےافت کےا تو معلوم ہوا کہ اُن کے خاندان کا تعلق قدےم مصر سے ہے اور لےکن وقت کی آندھی انہےں ےہاں لے آئی اور ان کے اجداد نے شہر سے دور اپنے لےے ےہ عظےم الشان حوےلی تعمےر کی تاکہ اپنی ثقافت اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزار سکےں۔ حوےلی کا جو حدود اربعہ انجلی نے بےان کےا تھا اس کے مطابق وہ اپنے گاﺅں سے سےنکڑوں مےل دور تھا۔
ان سب باتوں کے باوجوداےک اہم چےز جو آصف کے لےے ذہنی اذےت کا باعث تھی وہ اس عالی شان حویلی کے درو دیوار تھے۔ جانے کیوں اسے ہر پل یہی احساس رہتا تھا کہ یہ جگہ اس کے لےے نئی نہیں۔وہ پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں آچکا ہے ۔لیکن کب؟ اور کیسے ۔۔۔؟‘یہ سوال واقعی ایک معمہ تھا۔
اےک رات آصف سونے کے لےے بستر پر لیٹا تو نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ ماضی کے خوفناک واقعات ڈراﺅنی فلم کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر مناظر بدل رہے تھے ۔وہ بھیانک چہرہ، اس کی باتیںاوراس سے کیا ہوا وعدہ سب کچھ ےاد تھا اسے ۔
”میں اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کروں گا۔“ آصف نے دل ہی دل میں اپنا وعدہ دہرایا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔لےکن نےند تو اس سے کوسوں دور تھی۔ بہت دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعدجب بے چےنی مزےد بڑھ گئی تو ایک نےاخیال ذہن میں آتے ہی وہ تےزی سے بستر پر اُٹھ بےٹھا۔
”کیوں ناں مےں اس عفرےت کی تصویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لوں اور ساتھ ہی پےش آنے والا واقعہ بھی تحریر کر لوں۔ اس طرح اصل واقعات بغیر کسی تبدیلی کے میرے پاس محفوظ رہیں گے۔“یہ سوچ کر اس نے الماری سے کاغذ قلم نکالااور اپنا کام شروع کر دیا۔
آصف زیادہ پڑھا لکھا نہیںتھا لیکن خدا نے اسے فن مصوری میں خاص مہارت عطا کی تھی۔ وہ انہماک سے ذہن کے پردے پر موجود اس عفریت کا خاکہ کاغذ پر منتقل کر رہا تھا۔دو گھنٹے کی محنت کے بعد جب اس نے اپنا قلم روکا تو تصویر مکمل ہو چکی تھی۔۔۔ کام مکمل ہونے پر اُس نے اپنی بنائی ہوئی تصویر کو نظر بھر کر دیکھا تو جسم سے گزرنے والی خوف کی لہر نے اسے دہلا دےا تھا۔
پھر اس نے دوسرا کاغذ اٹھایا اور ٹوٹی پھوٹی اردو میں کھنڈرات سے حویلی تک پہنچنے کے واقعات رقم کرنے لگا۔۔۔ اس کام سے فارغ ہو کر اس نے دونوں کاغذ تہ کر کے جیب میں ڈال لےے۔ اب اسے سکون محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ایک ایسی بات جو وہ کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا اس کے پاس کاغذ پر محفوظ تھی۔
-٭-
آصف کو اس حوےلی مےں رہتے ہوئے کئی دن گزر گئے تھے۔ اس دوران ٹریسا نے کئی مرتبہ اس کے ماضی کو کریدنے کی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ ٹال گےا تھا۔وہ اور انجلی دن کا زےادہ حصہ حوےلی کے پائےں باغ مےں گزارتے تھے اور مختلف موضوعات پر خوب بحث ہوتی تھی۔ ٹرےسا کو بھی ان دونوں کی دوستی پر کوئی عترا ض نہےں تھا لےکن ان سب باتوں کے باوجود اپنے ماضی کا خوف ہر لمحہ اُس کے سر پر سوار رہتا تھا۔
اسے کئی بار محسوس ہوا تھا جےسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ سانسوں کی تیز آواز، بھاری قدموں کی چاپ۔ ۔۔ لیکن باجود کوشش کے وہ کچھ دیکھ نہیں پاےا تھا۔
”شاید یہ میرے اندر کا خوف ہے جو مجھے ہر وقت بے چین رکھتا ہے۔“ وہ خود کو تسلی دیتا رہالیکن کب تک؟
آخر ایک روز آصف حوصلہ ہار گیااور ہمت جواب دے گئی:
”میں بزدل نہیں ہوں اور اس خوف سے نجات حاصل کر کے رہوں گا۔ میں ٹریسا کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتا ہوں۔ وہ یقینا میری مدد کرے گی اور اس طرح میرے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے گا۔“
یہ سوچ کر آصف پر جوش انداز میں ٹریسا کے کمرے کی طرف بڑھا اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے بعد دروازے پر دستک دی۔
”کون ہے۔۔۔اندر آجاﺅ۔“
ٹریسا کی دھیمی آواز سنائی دےتے ہی آصف نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا ۔ قدیم نوادرات سے آراستہ خوبصورت خواب گاہ میں ٹریسا ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھی تھی جب کہ انجلی عقب مےں کھڑی اپنی ماں کا سر دبا رہی تھی۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے قرےب پہنچا اور فرش پر بچھے قیمتی قالین پر بیٹھ گیا۔
”خیرےت توہے۔۔۔اتنی رات گئے۔“ ٹریسا پرےشانی سے بولی۔
”مجھے آپ کی مددچاہےے۔“
”کیسی مدد؟“ وہ چونکی۔
” میں آپ کو اپنی زندگی کے اہم ترین راز میں شریک کرنا چاہتا ہوں ۔ ورنہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاﺅں گا۔“
آصف تھکے تھکے انداز مےں سر جھکا کر بولاتواس کا ےہ غےر متوقع جملہ سنتے ہی دونوں ماں بےٹی چونک سی گئےں۔ پھر اس سے قبل کہ وہ اپنی بات دوبارہ شروع کرتا ٹرےسا نے تڑ پ کر کہا:
”دیکھو! میں ساری زندگی تمہاری ہر خواہش اور ہر ضرور ت پوری کر سکتی ہوں ۔ لیکن کوئی ایسی بات مت کرنا جو میں برداشت نہ کر سکوں۔ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی ۔“ اس کے لہجے میں عجیب سی التجا تھی۔
”میں نے آپ لوگوں سے ایک جھوٹ بولا تھا۔“ آصف اس کی بات پر توجہ دیے بغیر کہا۔
”کیسا جھوٹ؟“ٹرےسا نے سپاٹ لہجے مےں پوچھا۔
”میں نے غلط کہا تھا کہ حادثے کی رات میں قادر پور کے کھنڈرات کی سیر کے لےے گیا تھا۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ میں قادر پور کے قریبی گاﺅں کا رہائشی ہوں ۔ اس رات میرے ساتھ ایک عجےب و غرےب واقعہ پیش آیا تھا۔“ اس نے ٹریسا کے جھرےوں زدہ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات دوبارہ شروع کی:
”اس رات میں اپنے دوست اسلم کے ساتھ کھنڈر میں سے گزر رہا تھا کہ اچانک ہمارے سامنے ایک خوفناک بلا آگئی۔ اُس بلا نے چند لمحوں مےں میرے دوست کو چیر پھاڑ ڈالا۔ پھر وہ میری طرف بڑھی لیکن جانے کیوں اسے مجھ پر رحم آگیا۔ بلا نے مجھے اس شرط پر چھوڑ دیا کہ میں زندگی بھر کسی سے اس بات کا ذکر نہ کروں۔۔۔ مجھے معلوم ہے میں وعدہ خلافی کر رہا ہوںلیکن اگر میں آپ کو اس راز میں شریک نہ کرتا تو میرا دماغ شدید پریشانی سے پھٹ جاتا۔۔۔ میں مر جاتا یا کم ازکم پاگل ضرور ہو جاتا۔مگر اب مجھے سکون ہے کہ میں نے اپنا ہم راز کسی غلط شخصےت کو نہےں چنا۔کیوں کہ مجھے آپ پر مکمل بھروسہ ہے۔“
”تم بے فکر رہو۔۔۔ یہ راز ہمیشہ میرے دل مےں تمہاری امانت رہے گا ۔“ یہ کہہ کر ٹریسا کرسی سے اٹھی اور چہل قدمی کے سے انداز میں ٹہلنے لگی۔
”کیا تمہیں اس عفرےت کا حلیہ یاد ہے؟“ وہ کچھ سوچ کر بولی۔
”ہاں بالکل“ آصف نے جواب دیا اور پھر آنکھیں بند کر کے عفرےت کی تصویر کو اپنے ذہن کے پردے پر لاتے ہوئے حلیہ بیان کرنے لگا۔
”خوف ناک چہرہ۔۔۔ لمبے کان۔۔۔ دھنسی ہوئی سفید آنکھیں۔۔۔لمبے بازو۔۔۔نوکیلے ناخن اور۔۔۔اور۔۔۔“اس نے یاد کرنے کی کوشش کی۔
”اور چمگادڑ کی طرح پھڑ پھڑاتے پر۔“ پیچھے سے ٹریسا کی آواز سنائی دی۔
”بالکل ٹھیک۔۔۔لیکن آپ کیسے جانتی ہیں؟“
آصف نے چونک کر آنکھےں کھولےں تو حیرت اور خوف سے اس کا دل دھڑکنا بھول گےا۔ اس کے پیچھے ٹریسا اور انجلی کے بجائے اسی بھیانک حلےے والے دو عفرےت کھڑے تھے ۔
”آخر تم نے وعدہ خلافی کر ہی لی۔۔۔اگر تم یہ راز سینے میں محفوظ رکھتے تو ساری زندگی عیش و آرام سے گزار سکتے تھے اور میں کبھی تم پر اپنی اصلیت ظاہر نہ کرتی ۔ لیکن افسوس تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔“ےہ کہہ کی اس نے نظرےں دوسرے عفرےت کی جانب گھمائےںاور دوبارہ بولی:
”مےں نے تم سے کہا تھا ناں سب انسان جھوٹے اور دغا باز ہوتے ہےں۔ “اس کے منہ سے جیسے شعلے نکل رہے تھے۔
”میرا ارادہ برا نہیں تھا۔ میں نے تو آپ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر پریشانی بانٹنی تھی۔“ آصف نے خوف سے کانپتے ہوئے جواب دیا۔
”ےہ صحےح کہہ رہا ہے، اسے چھوڑ دو۔۔۔اس کا ارادہ واقعی ہمےں دھوکہ دےنے کا نہےں تھا۔“دوسری بلا جو ےقےنا انجلی تھی آصف کی حماےت مےں بولی۔لےکن روپ بدلتے ہی اس کی آواز بھی بھدی اور کھردری ہو گئی تھی۔
”بالکل نہےں!یہ پریشانی اور راز ہی تو اس کا اصل امتحان تھا۔۔۔ اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔تم اس کی حماےت مت کرو۔“
ان دونوں کوگفتگو مےں مصروف پا کر آصف نے فرار کے ارادے سے ارد گرد دیکھا تو حےران رہ گےا ۔وہ ایک مرتبہ پھر قادر پور کے کھنڈرات میں موجود تھا۔
”ہم کہاں ہیں؟ اور وہ حویلی؟ “ وہ چونکا۔
”تم اب بھی اُسی حویلی میں کھڑے ہو۔ایک ایسی حویلی جسے کوئی عام آدمی نہیں دیکھ سکتا۔اس کی شان و شوکت صرف اسے دکھائی دیتی ہے جسے ہم طاقت عطا کرتے ہیں۔باقی لوگوں کے لےے یہ کھنڈر ہے اور ہمیشہ کھنڈر ہی رہے گا۔“
اس کی بات مکمل ہوتے ہی آصف نے جست لگائی اور سامنے پڑے پتھر کو پھلانگ کر بھاگنے کی کوشش کی لےکن اسی لمحے ٹرےسا کا آہنی ہاتھ حرکت مےں آےا اور سےدھا آصف کی نازک گردن پر جا پڑا ۔
”انجلی مجھے بچاﺅ۔۔۔ٹرےسا تمہاری بات ضرور مانے گی۔ “اس کی گھٹی گھٹی آواز حلق سے برآمد ہوئی۔
”ہر گز نہےں ۔ تم کسی کے ساتھ مخلص نہےں ہو۔ اگر تمہےں مجھ پر اعتماد ہوتا تو تم کبھی بھاگنے کی کوشش نہ کرتے۔ ٹرےسا ٹھےک کہتی ہے کہ تم انسان بھروسے کے لائق نہےں ہو ۔“ انجلی نے ٹکا سا جواب دےا۔
” میں بھی تمہیںکبھی نہ مارتی لیکن اپنی بقا اور اس راز کی حفاظت کے لےے ضروری ہے کہ تمہاری جان کی قربانی دی جائے۔۔۔ مجھے یقین ہے تم نے دل میں اس بات کا اعتراف کر لیا ہوگا کہ تمہاری موت میرے ظلم سے زیادہ خود اپنی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔“
یہ کہتے ہی ٹرےسا نے اپنے دوسرے ہاتھ کے نوکیلے ناخن آصف کے سینے میں گاڑ دیے۔ایک زور دار چیخ اور ہلکی سی مزاحمت،صرف یہی مرتے ہوئے آصف کا آخری احتجاج تھا۔اب اس کا بے جان جسم نا ہموار چبوترے پر پڑا تھا ۔
”افسوس کہ آج کے بعد میں کبھی کسی انسان پر رحم نہیں کر سکوں گی ۔“
ٹرےسا نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور انجلی کے ہمراہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
-٭-
شام ڈھل چکی تھی۔انسپکٹر دانش گہری سوچ میں غرق اپنے دفترمیں بیٹھا تھا۔ قادر پور کے کھنڈرات میں بڑھتے ہوئے پر اسرار خونی واقعات اس کے لےے معمہ بنے ہوئے تھے۔دن رات اس کےس پر کام کرنے کے باوجود انسپکٹر دانش ابھی تک ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ اوپر سے اعلیٰ حکام کا دباﺅ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اخبارات چیخ چیخ کر لوگوں کو ہراساں کر رہے تھے اور علاقے کی آدھی سے زیادہ آبادی نقل مکانی کر چکی تھی ۔کیونکہ گاﺅں کے ہر دوسرے گھر میں کوئی نہ کوئی مارا جا چکا تھا۔ خود اس کے اپنے کئی بہادر سپاہی بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بےٹھے تھے۔ لےکن اس کے باوجود پولےس نے ہمت نہےں ہاری تھی ۔
انسپکٹر دانش چائے کا کپ ہاتھ مےں تھامے کےس کے مختلف پہلوﺅں پر غور کر رہا تھا کہ اچانک کمرے مےں داخل ہونے والے حوالدار نے پر جوش انداز مےں سلےوٹ کرتے ہوئے کہا:
”جناب! ایک بہت اہم خبر ہے۔“
”کیسی خبر؟‘ ‘ انسپکٹر دانش چونکا۔
”جناب کھنڈرات سے آج آصف نامی اُس لڑکے کی لاش ملی ہے جو چند روز قبل اسلم کی موت کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا۔“
”اتنے دنوں بعد؟“ انسپکٹر دانش کے لہجے میں حیرت تھی۔
” جی جناب!لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کی جیب سے یہ کاغذات بھی برآمد ہوئے ہیں۔“ حوالدار نے تہ کےے ہوئے دو کاغذ اس کے سامنے مےز پر رکھ دیے۔
انسپکٹر دانش نے جلدی سے ایک کاغذ اُٹھا کھولا تو حیرت سے اچھل پڑا ۔ کاغذ پر عجیب الخلقت جانور کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس نے جھٹ سے دوسرا کاغذ اُٹھایااور اس پر لکھی گئی تحریر پڑھنے لگا۔۔۔جیسے جیسے وہ تحرےر پڑھتا چلا جا رہا تھا اس کی پیشانی پر سوچ کی لکیریں گہری ہوتی چلی جا رہی تھےں۔
”ان کاغذات کا علم کتنے لوگوں کو ہے؟“
وہ تحریر پڑھنے کے بعد کچھ سوچ کر حوالدار سے مخاطب ہوا۔
”صرف تین سپاہیوں کو۔۔۔ انہوں نے لاش برآمد کی ہے اس لےے وہ ہر بات جانتے ہےں۔ “ حوالدار نے جواب دیا۔
”ٹھیک ہے۔ بہت اہم سراغ ڈھونڈ کر لائے ہو تم ۔ لیکن خیال رکھنا کہ یہ خبر راز ہی رہے۔ خصوصاً اخبار والوں سے محتاط رہنا۔اگر ےہ بات ان کے کانوں مےں پڑ گئی تو ہم اپنی تفتےش کو خفےہ نہےں رکھ پائےں گے۔ “ انسپکٹر دانش نے حوالدار کو سمجھایا۔
” آپ بے فکر رہےں جناب۔ مےں نے سب لوگوں کو سمجھا دےا ہے ۔ جب تک آپ نہےں چاہےں گے ےہ بات کسی کو معلوم نہےں ہو گی۔ “ ےہ کہہ کر حوالدار کمرے سے باہر نکل گےا۔
اس کے جانے کے بعد انسپکٹر دانش نے کاغذ پر لکھی ہوئی تحرےر کو غور سے دو تےن مرتبہ پڑھا اور پھر دوسرے کاغذ پر بناےا گےا اس عفرےت کا خاکہ بھی دےکھا۔ لیکن معاملہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
”ڈاکٹر داﺅد۔۔۔“
بہت دےر تک سوچنے کے بعد اچانک ےہ نام بجلی کی سی تےزی سے اس کے تارےک ذہن میں کوندا۔اس نے جلدی سے کاغذ جیب میں ڈالے اور باہر موجود اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔چند لمحوں بعد وہ ملک کے مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر داﺅد سے ملنے کے لےے اُن کے فارم ہاﺅس کی جانب اڑا چلا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر داﺅد کی تحقےقات کو ملکی اور بےن الاقوامی سطح پر نہاےت قدر کی نگاہ سے دےکھا جاتا تھا ۔ےہی نہےں انہوںنے قادر پور کے کھنڈرات پر کام کر کے کئی نئی چےزےں درےافت کی تھےں۔
انسپکٹر دانش کے ان سے بہت پرانے تعلقات تھے ۔ وہ اس کے والد کے گہرے دوست تھے اور انسپکٹر دانش کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔دو گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ کے بعد انسپکٹر دانش کی جیپ ڈاکٹر داﺅد کے فارم ہاﺅس میں داخل ہوئی ۔ ریٹائرمنٹ اور بےوی کی وفات کے بعد ڈاکٹر داﺅد مستقل طور پر یہیں منتقل ہوگئے تھے۔
انسپکٹر دانش کا چونکہ بچپن ہی سے ان کے ہاں آ نا جانا تھا اس لےے وہ جےپ پارک کرنے کے بعد عمارت کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا اور ایک نوکر سے ڈاکٹر داﺅد کے بارے معلوم کر کے لائبریری کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
”ےس۔۔۔ کم ان۔“
دستک کے جواب میں ڈاکٹر داﺅدکی شفقت بھری آواز سنائی دی تووہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوگیا۔
ڈاکٹر داﺅدایک آرام کرسی پر بیٹھے کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے انہوں نے سلام کی آواز سن کر کتاب سے سر اُٹھایا اور پھر کھڑے ہو کر انسپکٹر دانش کو گلے سے لگا لیا۔
کافی دیر تک وہ انسپکٹر دانش سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اسی دوران ملازم چائے لے آیاتوانسپکٹر دانش نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا:
”انکل! آج میں آپ کے پاس ایک ضروری کام سے آیا ہوں۔“
” کیسا کام؟“ ڈاکٹر صاحب مسکرائے ۔
”ایک مرتبہ آپ نے ذکر کیا تھا ، قادر پور کے کھنڈرات مےں کھدائی کے دوران آپ کو بعض پراسرار واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔“
”ہاں، مجھے یاد ہے۔۔۔لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو۔“
جواب میں انسپکٹر دانش نے جیب سے دونوں کاغذ نکال کر ڈاکٹر داﺅد کی طرف بڑھادےے۔
ڈاکٹر داﺅد نے پہلے تصویر والا کاغذ کھولاتواس پر نظر پڑتے ہی ان کا رنگ زرد پڑگیا۔تھوڑی دیر بعد سنبھل کر انہوں نے دوسرا کاغذ پڑھا اور پھر انسپکٹر دانش کی طرف دیکھتے ہوئے بولے:
”یہ خط اور تصوےر تمہیں کہاں سے ملی؟“
”کیا آپ اس تصویر کے بارے کچھ جانتے ہیں؟“ انسپکٹر نے الٹا سوال کیا۔
”ہاں!مگر پہلے بتاﺅ کہ یہ کاغذ تمہیں کہاں سے ملے ہیں۔“ وہ اپنے سوال پر ڈٹے رہے تو انسپکٹر دانش نے انہیں تفصیلاً سارے واقعات سے آگاہ کیا۔ڈاکٹر داﺅد نے اُس کی بات توجہ سے سنی اور پھر سوچتے ہوئے بولے:
” تمہاری باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔“
”کیا مطلب؟“ انسپکٹر دانش نے پوچھا تو انہوں نے اےک مرتبہ پھر تصویر کا جائزہ لیا اور بولے :
” 30 برس پہلے میں بھی تمہاری طرح جوان تھا۔ ہر چیز حاصل کرنے کا جنون میرے سر پر سوار رہتا تھا۔ ان دنوں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قادر پور کے کھنڈرات میں تحقیق کر رہا تھا۔ جب ہم نے کھنڈرات کے وسطی حصے میں کھدائی شروع کی تو عجیب و غریب واقعات رونما ہونے لگے۔“
” کےسے واقعات؟“انسپکٹر دانش نے پر تجسس لہجے مےں پوچھا۔
” وہاں کھدائی کرنے والے مزدوروں کو خوفناک شکلیں دکھائی دینے لگیں، خوفناک آوازیں سنائی دیتیں اور اکثر کھدائی کے دوران ان کے مضبوط اوزار ٹوٹ جاتے۔ آخر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مزدوروں نے کھنڈرات مےں کام کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ لیکن میرے سمجھانے پر وہ دوبارہ رضا مند ہوگئے اور میں نے ان کی حوصلہ افزائی کے لےے خود کام کی نگرانی شروع کر دی ۔ اب کام کی رفتار بھی بڑھا دی گئی تھی کہ اےک روز کھدائی کے دوران کافی گہرائی سے ہمیں ایک تابوت ملا۔ ہم نے اسے رسوں کی مدد سے گڑھے سے باہر نکالا۔ جب ہتھوڑوں کی مدد سے اس کے زنگ آلود قفل کو توڑ کر ڈھکن اُٹھایا گےا تو۔۔۔“
”تو۔۔۔؟ “ انسپکٹر دانش بے چینی سے بولا۔
” اس میں ایک لاش تھی۔“ انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔
” کس کی لاش؟“ انسپکٹر نے دوبارہ سوال کیا۔
”اس کی لاش شکل بالکل اس تصویر ی خاکے جےسی تھی جو آج تم لے کر آئے ہو۔“ انہوں نے جواب دیا۔
”کیا۔۔۔؟“ انسپکٹردانش کے منہ سے صرف یہی ایک لفظ نکل پاےا تھا۔
”لاش کے علاوہ تابوت میں ایک چھوٹا سا صندوق بھی تھا۔ جیسے ہی میں نے وہ صندوق اُٹھانے کے لےے ہاتھ بڑھایا،دن کا اجالا رات کی تاریکی میں بدل گیااور قادر پور کی فضا تیز سرخ آندھی کی لپیٹ میں آگئی۔۔۔اےسی آندھی جو ہم نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔ ہر شخص اپنی جان بچانے کے لےے دیوانہ وار منہ اٹھا کر بھاگا۔ آندھی اتنی شدید تھی کہ وہ مزدوروں کو فضا میں اُوپر اُٹھاتی اور پھر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔۔۔ میں نے خود ایک مضبوط ستون کا سہارا لے کر اپنی جان بچائی تھی۔کافی دیر بعد آندھی تھمی تو صورت حال پہلے سے بالکل مختلف تھی۔ کھنڈرات کاکافی حصہ زمین بوس ہو چکا تھا اور ملبے تلے دب کر بہت سے مزدور جاں بحق ہو چکے تھے۔ان سب باتوں کے علاوہ حیران کن بات یہ تھی کہ تابوت میں سے لاش بھی غائب تھی۔“
”یہ کیسے ممکن ہے؟“ سردی کی تیز لہر انسپکٹر دانش کے جسم کے آر پار ہوگئی۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں۔“ ڈاکٹر داﺅد نے جواب دیا۔
”اس کے بعد کیا ہوا؟“
”پھرہماری درخواست پر قادر پور کے ایک نیک بزرگ وہاں تشریف لائے ۔۔۔ انہوں نے چند قرآنی آیات کی تلاوت کی اور مجھے سختی سے حکم دیا کہ خالی تابوت فوراً اسی جگہ دفن کر دیا جائے۔ میں نے چھوٹا صندوق وہاں سے نکالنے کو شش کی تو انہوں نے منع کر دیا کہ یہ وقت اس صندوق کو کھولنے کے لےے مناسب نہیں۔ وقت آنے پر اسے دوبارہ نکال لیا جائے گا البتہ تم اس جگہ کا نقشہ اپنے پاس محفوظ کر لو۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ابھی ےہ چھوٹا صندوق کھول لےا گےا تو وہ شےطانی طاقت مزےد تباہی پھےلا سکتی ہے۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ میں اپنی بات پر اصرار نہ کر سکا اور تابوت کو صندوق سمیت دوبارہ اسی گڑھے میں دفن کر نے کے بعد مزید کھدائی بند کر دی گئی۔“
انہوں نے تفصیل بتا کر گہرا سانس لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
”لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ موجودہ واقعات کو شروع ہوئے صرف چند ماہ ہوئے ہیں۔ اگر یہ تصویر اسی لاش کی ہے تو تیس برس تک خاموشی کیوں رہی؟“ انسپکٹر دانش نے سوال کیا۔
”تمہارا سوال واقعی اہم ہے۔واقعہ کے بعد مجھے ان نیک بزرگ سے بہت عقیدت ہوگئی تھی۔میں اکثر ان کے پاس جا بےٹھتا اور مختلف سوالات کر کے اس سلسلے مےں مزےد جاننے کی کوشش کرتا۔۔۔ ایک روز انہوں نے مجھے بتایا کہ عفرےت اب اسی وقت حرکت میں آسکے گا جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔۔۔ اور یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کیوں کہ محترم بزرگ کا چند ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔“
”اس کا مطلب یہ ہواکہ اب یہ جنگ ہمیں اکیلے لڑنا ہو گی۔“ انسپکٹر دانش نے جواب دیا۔
”ہاں۔۔۔ تم درست کہتے ہو۔“ ڈاکٹر داﺅد نے کہا۔
”ہمیں اپنے کام کا آغاز کہاں سے کرنا چاہےے۔ “
” میری رائے یہی ہے کہ سب سے پہلے وہ صندوق تلاش کیا جائے ۔ جسے اس وقت دوبارہ تابوت کے ساتھ دفن کر دےا گےا تھا۔ “ ڈاکٹر داﺅد نے جواب دیا۔
”لیکن آپ کی بیان کردہ صورت حال کے مطابق وہ صندوق حاصل کرنا بھی توآسان نہیں۔“ انسپکٹر نے خدشہ ظاہر کیا۔
”تمہاری بات درست ہے۔مگر اب حقیقت مختلف ہے۔اس سلسلے میں میری نیک بزرگ سے تفصیلی بات ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھاکہ اگلی مرتبہ جو شخص تابوت کھولے گا اسے سرخ آندھی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ اس میں موجود شےطانی وجودغائب ہو چکا ہے لیکن اسے قابو کرنے کا طریقہ صرف اسی صندوق میں موجود ہے۔“ ڈاکٹرداﺅد نے وضاحت کی۔
”تو پھر صندوق حاصل کرنے کے لےے کھدائی کا آغاز کر دینا چاہیے۔“
”ہاں بالکل ،اور میرا مشورہ ہے کہ اس سارے معاملے کو خفیہ رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔“
”آپ فکر نہ کریں۔ تمام کام آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔“ انسپکٹر دانش مسکراتے ہوئے بولا۔
اس کے بعد ڈاکٹر داﺅد نے ایک نقشے کی مدد سے کھدائی کے اصل مقام کی نشاندہی کی۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ کھدائی صرف دن کی روشنی میں کی جائے۔ اس دوران رات کے وقت کوئی شخص اس طرف جانے کی کوشش نہ کرے ۔ ہدایات سننے کے بعد انسپکٹر دانش نے واپسی کی اجازت طلب کی اور فارم ہاﺅس سے باہر نکل آےا۔
-٭-
اگلے روز اےک خاص جگہ پر کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا۔ اس کام کے لےے باہر سے کسی مزدور کو بلانے کے بجائے پولیس کے جوان ہی کھدائی کر رہے تھے اور انسپکٹر دانش بذات خود اس کام کی نگرانی کرتا رہا۔
ڈاکٹر داﺅد کی ہدایت کے مطابق صرف سورج ڈھلنے تک کام کیا جاتا تھا اس کے بعد کسی شخص کو کھنڈر میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔کھدائی شروع ہوئے تیسرا دن تھا کہ گہرائی میں موجود ایک سپاہی کی آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
”سر! تابوت نظر آگیا ہے۔“
انسپکٹر دانش اس کی آواز سنتے ہی تیزی سے آگے بڑھا اور لٹکتی ہوئی رسے کی سیڑھی کی مدد سے کھودے جانے والے گڑھے کی تہ میں جا پہنچاجہاںدو سپاہی زمین میں دھنستے ہوئے لوہے کے مضبوط تابوت پر سے مٹی ہٹا رہے تھے۔ انسپکٹر دانش خود بھی ان کے ساتھ شریک ہوگیا۔۔۔کافی دیر بعد وہ تابوت کو مٹی کی گرفت سے آزاد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے بعد مضبوط رسیوں سے باندھ کراسے ایک طاقتور جیپ کے ذریعے کھینچ کر گڑھے سے باہر نکال لےاگیا۔
اس کے بعد انسپکٹر دانش نے بغور تابوت کا جائزہ لیا۔ اتنا پرانا ہونے کے باوجود وہ اپنی اصلی حالت میں تھا اور اس پر قدیم طرز کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔لیکن طویل مدت زمین میں دھنسے رہنے کے باعث وہ خاصا زنگ آلود ہو چکا تھا۔
”ٹھیک ہے۔۔۔کھولو اسے۔ “
اس نے پاس کھڑے سپاہی کو حکم دیاتوتےز دھار بلیڈ نے کچھ ہی دیر میں زنگ آلود تالے کو کاٹ کر الگ کر دےا۔
انسپکٹر دانش قرآنی آیات کا ورد کرتا ہوا آگے بڑھا اور بلا خوف تابوت کے ڈھکن کو الٹ دیا۔۔۔ توقع کے عےن مطابق تابوت اندر سے خالی تھا لیکن اس کے ایک کونے میں لوہے کا چھوٹا سا صندوق مضبوط زنجیر سے جکڑا ہوا تھا۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد وہ اس صندوق کو تابوت الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد انسپکٹر دانش نے صندوق اٹھا کر اپنی جیپ میں رکھا اور ڈاکٹر داﺅد کے فارم ہاﺅس کی طرف روانہ ہوگیا کیوں کہ وہ کھنڈر میں صندوق کھول کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔
رات گئے انسپکٹر دانش ڈاکٹر داﺅد کے پاس پہنچا تو وہ بے چینی سے اس کے منتظر تھے۔وہ اسے فوراً اپنی لیبارٹری میں لے آئے۔ انسپکٹرنے صندوق لیبارٹری میں بڑی سی میز پر رکھ کر سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر داﺅد کی طرف دیکھا۔
”اسے کھولو۔“
وہ انسپکٹردانش کو ایک ہتھوڑا پکڑتے ہوئے بولے۔جواباََانسپکٹر دانش نے اثبات سر ہلاتے ہوئے ہتھوڑا پکڑا اور صندوق کے تالے پر دے مارا۔۔۔ دو تین ضربوں کے بعد زنگ آلود تالے کا غرور ٹوٹ گیا۔
اس کے بعدانسپکٹر دانش نے ڈاکٹر داﺅد کی جانب دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر ٹوٹا ہوا تالا الگ کیا اور صندوق کے ڈھکن کو اُوپر کی طرف کھینچا۔ ایک ہلکی سی چر چراہٹ کمرے میں گونجی اور ڈھکن کھل گیا۔
صندوق کھلتے ہی ایک نامانوس سحر انگیز خوشبو کمرے میں پھیلتی چلی گئی۔صندوق میں صرف دو چیزیں تھیں۔ ایک پیتل کی تختی اور دوسری بوسیدہ کاغذ پر بنا ہوا ایک نقشہ۔ ان دونوں پر لکھی گئی تحریر کسی قدیم زبان میں تھی۔۔۔کچھ سمجھ نہ آنے پر انسپکٹر دانش نے ڈاکٹر داﺅد کی طرف دیکھا جو پیتل کی تختی پر کندہ تحریر کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔
”یہ دونوں چیزیں اٹھا کر میرے پیچھے آﺅ۔“ ڈاکٹر داﺅد نے کہا اور بیرونی دروازے کی طرف لپکے۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں لائبریری میں موجود تھے۔
”سامان میز پر رکھ کر آرام سے بیٹھ جاﺅ۔“
انہوں نے اگلا حکم صادر کیا۔یہ کہہ کر ڈاکٹر داﺅد اس کی موجودگی سے بے نیاز ہو کر ایک الماری کی طرف بڑھے اور وہاں سے ایک خستہ حال کتاب نکال کر واپس لوٹ آئے۔انہوں نے ٹیبل لیمپ روشن کر کے تختی تیز روشنی میں رکھی اور خود موٹے شیشوں والی عینک لگا کر کتاب کے مختلف صفحے پلٹنے لگے۔
کافی دیر بعد انہوں نے کاغذ قلم سنبھالا اور تختی پر لکھی تحریر کا ترجمہ انگریزی کرنا شروع کیا۔
جیسے جیسے وہ ترجمہ کرتے چلے جارہے تھے ان کی پےشانی پر سوچ کی لکیریں گہری ہوتی چلی جارہی تھیں۔دوسری طرف انسپکٹر دانش کرسی پر بیٹھا بے چینی سے پہلو بدل رہاتھا۔ لیکن اس نے ڈاکٹر داﺅد کے کام میں خلل نہیں ڈالا تھا۔
دو گھنٹے کی محنت کے بعد انہوں نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ میز پر رکھی اور کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔
”کچھ معلوم ہوا؟“ انسپکٹر دانش بے تابی سے بولا۔
”ہاں، بہت کچھ۔“ انہوں نے مختصر جواب دیا۔
”کیا لکھا ہے اس پر؟“
انسپکٹر دانش کا سوال سن کر انہوں نے تختی دوبارہ اٹھائی اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے:
”یہ تختی قدیم مصری زبان میں لکھی گئی ہے جو آج سے کئی ہزار سال پہلے بولی جاتی تھی۔۔۔ ےہ خونی بلا دراصل ایک شیطانی وجود ہے جسے ایک جادوگر کے غلط منتروں کے باعث طاقت ملی۔ یہ بلا اس جادوگر کی زندگی میں ہی بے قابو ہوگئی تھی ۔مگر شدید بیماری کے باعث وہ اس پر مکمل طور پر قابو نہ پاسکا اور عارضی طور پر اسے تابوت میں بند کر دیا۔ لیکن اسے معلوم تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ عفرےت کسی انسان کی غلطی سے دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔۔۔ چنانچہ اس نے عفرےت کو ختم کرنے کا مکمل طریقہ اس تختی پر لکھ کر صندوق میں بند کر دےا اور صندوق کو تابوت میں رکھوا کر زمین میں دفن کر دیا۔لیکن ساتھ ساتھ کچھ ایسا عمل بھی کر دےا کہ وہ شےطان صندوق کو ضائع نہ کر سکے۔“
”اور یہ دوسرا کاغذ؟“ انسپکٹر نے دوبارہ پوچھا۔
”یہ کاغذ اس خفیہ تہہ خانے کا نقشہ ہے جو کھنڈر کے آخری حصے کے نیچے موجود ہے۔اسی تہہ خانے میں وہ شیطان کتاب موجود ہے جسے ضائع کرنے سے اس بلا سے نجات ممکن ہے، لیکن ایک بات مجھے بہت پریشان کر رہی ہے۔“ ڈاکٹر داﺅد کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
”کیسی بات۔۔۔؟“ انسپکٹر چونکا۔
”اس تختی کے مطابق تہہ خانے میں صرف ایک شخص کو جانے کی اجازت ہے ۔ جب کہ یہ بہت خطرناک کام ہے۔“ ان کے لہجے میں تشویش تھی۔
اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے۔ ہمارا تو کام ہی خطروں سے کھیلنا ہے۔“ انسپکٹر دانش لاپروائی سے بولا۔
” وہ تو ہے۔۔۔ لیکن یہ چور سپاہی کا کھیل نہیں،نیکی اور بدی کی جنگ ہے۔“ ڈاکٹر داﺅد نے جواب دیا۔
”آپ فکر نہ کریں ڈاکٹر صاحب! مسلمان بزدل نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے، فتح بالآخر حق کی ہوتی ہے اور باطل مٹ جانے کے لےے ہے۔“ انسپکٹر دانش کا لہجہ پرعزم تھا۔
”انشاءاللہ تم ضرور کامیاب ہو جاﺅ گے۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔“ ڈاکٹر داﺅد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا۔
پھر وہ اسے تختی پر لکھی عبارت کے بارے تفصےل سے آگاہ کرنے لگے۔ جس کے اہم نکات انسپکٹر دانش اپنی یاداشت کے طور پر نوٹ کرتا رہا۔ تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد اس نے ڈاکٹر داﺅد کا شکریہ ادا کیا اور مزید انتظامات کرنے کے لےے وہاں سے رخصت ہوگیا۔
اگلے دو دنوںمیںڈاکٹر داﺅد اور انسپکٹر دانش تہ خانے کا خفیہ دروازہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ےہ مرحلہ طے ہوتے ہوا تو باقی تےارےاں بھی شروع کر دی گئےں۔ چند روز بعد وہ وقت بھی آ گےا جب انسپکٹر دانش کو تہہ خانے مےں داخل ہونا تھا۔
پھر ایک صبح انسپکٹر دانش نے جےسے ہی دےوار پر ابھرے ہوئے حصے پر ضرب لگائی سامنے موجود پتھریلی دیوار بائیں جانب سرکتی چلی گئی۔ سورج کی روشنی نے اس روز جانے کتنی صدےوں بعدتاریک تہ خانے میں جھانکا تھا۔
راستہ کھلتے ہی انسپکٹر دانش نے اپنے سپاہےوں اور ڈاکٹر داﺅد کو خداحافظ کہا اور ان کی نیک دعاﺅں کے ساتھ تہ خانے میں داخل ہوگیا۔ لیکن جیسے ہی اس کے قدم تہہ خانے کی گرد آلود سیڑھی کے وسط میں پہنچے ،کھلا دروازہ تیزی سے بند ہوتا چلا گیا۔
انسپکٹردانش نے پھرتی سے اپنے بیلٹ کے ساتھ بندھا وائرلیس اُتارا تاکہ بیرونی دنیا سے رابطہ کر کے مددحاصل کر سکے۔۔۔ لےکن یہ اس کی بھول تھی کیوں کہ دروازہ بند ہوتے ہی اس کے وائرلیس سسٹم نے بھی کام کرنا بند کر دیا تھا۔اب اس کا رابطہ ترقی یافتہ دنیا سے کٹ چکا تھااور ہر طرف گہری خاموشی تھی ۔
-٭-
دروازہ بند ہوتے ہی تہ خانہ اندھے کنویں کی شکل اختیار کر گےا تھا۔ مگر انسپکٹر دانش نے ہیلمٹ میں نصب ٹارچ کا بٹن دبادیا۔ یقینایہ پہلا موقعہ تھا جب صدیوں پرانے اس تہ خانے میں الیکٹرک بلب کی روشنی پھیلی تھی۔
اس کام سے فارغ ہونے کے بعد انسپکٹر دانش نے دوبارہ وائرلیس پر رابطہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر مایوس ہو کر اسے بیلٹ کے ساتھ باندھ لیا۔
اب وہ محتاط انداز میں سیڑھیاں اترنے لگا تھا۔ تہہ خانے کے فرش پر قدم رکھتے ہی اس نے جیب سے نقشہ نکال کر صحیح سمت کاتعین کیا اور آگے بڑھا۔
ابھی اس نے چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اچانک اسے اپنے دائیں ہاتھ موجود بند دروازے کے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جےسے کوئی بچہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو۔اگلے ہی لمحے وہ بچے کی مدد کے لےے تےزی سے بند دروازے کی طرف بڑھا۔
”نہیں۔ ڈاکٹر داﺅد نے سختی سے منع کیا تھا کہ اپنے کام کے علاوہ کسی چیزپر توجہ نہیں دینی۔“یہ سوچتے ہی وہ فوراََ رک گیا۔
”لیکن کوئی معصوم بچہ شدےد تکلےف مےں ہے۔ہو سکتا ہے واقعی کسی کو میری مدد کی ضرورت ہو۔“ اس نے خود کو سمجھایا اور خستہ حال دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔
کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔وہ محتاط انداز مےں اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا کہ اندھیرے کمرے میں ہر طرف تیز دودھیا روشنی پھیل گئی۔اس نے چاروں طرف دیکھاتو معلوم ہوا کہ روشنی کونے میں میز پر پڑے گول پتھر سے پھوٹ رہی تھی۔
”حیرت ہے۔۔۔ اتنی تیز روشنی اور وہ بھی ایک پتھر سے۔“
وہ میکانکی انداز میں چلتا ہوا پتھر کے پاس جا پہنچا۔ جلد ہی اسے احساس ہوگیا پتھر سے نکلنے والی روشنی گرم نہیں بلکہ ٹھنڈی ہے۔چنانچہ اپنی پرتجسس طبیعت کے باعث اس نے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں روشن پتھر پر رکھیں تاکہ اس عجیب و غریب پتھر کو چھو کر اس کی ساخت کا اندازہ لگا سکے۔
پتھر واقعی ٹھنڈا تھا اور چھونے سے عجیب سی راحت محسوس ہو رہی تھی ۔ لہٰذا پتھر کے لمس کومزےد بہتر طور پر محسوس کرنے کے لےے اُس نے باقی دو انگلیاں بھی پتھر پر رکھ دیں۔۔۔ یہی اس کی غلطی تھی
چاروں انگلیاں بیک وقت پتھر پر رکھتے ہی بچے کے رونے کی آواز طنزیہ قہقہوں میں بدل گئی۔انسپکٹر دانش نے تیزی سے ہاتھ واپس کھینچنے کی کوشش کی لیکن بہت دےر ہو چکی تھی ۔
اس کی چاروں انگلیاں پتھر سے بری طرح چپک گئی تھیں۔ابھی وہ اپنا ہاتھ پتھر سے الگ کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا کہ ٹھنڈے پتھر میں حرارت پیداہونے لگی ۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے پتھر دہکتے ہوئے انگارے کی شکل اختیا کر گیا۔انسپکٹر دانش چپکے ہوئے پتھر کو ہاتھ سے الگ کرنے کے لےے دیوانہ وار کمرے میں اچھل رہا تھا۔ کبھی وہ اپنا ہاتھ زمین پر مارتا اور کبھی دیوار پرلیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورت حال مزےد بگڑتی چلی جا رہی تھی۔ اب انسانی گوشت جلنے کی تےز بو کمرے میں پھیلنے لگی تھی۔
وہ درد سے بری طرح نڈھال ہو چکا تھا۔ شدید تکلیف کی حالت میں اس نے اپنے ہاتھ کا جائز لیاتو چاروں انگلیاں تقریبا جل چکی تھیں اور آگ اب باقی ہاتھ کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اب مزےد سوچنے کا وقت نہیں تھااور نہ ہی اس کے سوا کوئی چارہ تھا، چنانچہ اس نے دائیں ہاتھ سے اپنی ٹانگ سے بندھا ہوا تیز دھار خنجر اتارا اور نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر پتھر سے چپکی ہوئی انگلیاں ہاتھ سے جدا کرنے لگا۔۔۔ درد سے بھرپور دبی دبی چیخیں اس کے منہ سے نکل کرکمرے مےں گونجنے لگیں،مگر خنجر اپنا کام کرتا رہا۔
کچھ دےر بعد یہ کربناک اپریشن مکمل ہوا اور دہکتا ہوا پتھر انگلیوں سمیت زمین پرگر پڑا۔ جب کہ انسپکٹر دانش شدید تکلیف کی حالت میں خود بھی زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔
جب طبےعت کچھ سنبھلی تو اس نے اپنا رومال نکالا اور کٹے ہوئے ہاتھ پر باندھ لیا۔پھر اس نے پشت پر لدا بیگ اتارکراس مےںسے درد کی گولےاں نکال کر نگل لیں اور بوتل سے پانی پی کر نےم بے ہوشی کے عالم مےں فرش پر لےٹ گےا۔
ادھرسرخ پتھر دوبارہ رنگ بدلنے لگا اور آہستہ آہستہ دودھیا ہوگیا۔ کمرے میں گونجنے والے طنزیہ قہقہے ایک مرتبہ پھر بچے کے رونے کی آواز میں بدل گئے اور سب کچھ پہلے کی طرح ہو چکا تھا۔۔۔ سوائے انسپکٹر دانش کے جس کے ہاتھ کی انگلیاں ہمیشہ کے لےے کٹ چکی تھیں۔
زیر زمین شیطانی دنیا میں یہ اس کی پہلی غلطی اور پہلی سزاتھی۔
طویل نیم بے ہوشی کے بعد انسپکٹر دانش کی طبےعت کچھ بہتر ہوئی تو جانے کتنا وقت گزر چکا تھا۔کیوں کہ اس کی گھڑی کی سوئیوں نے تو تہہ خانے میں داخل ہوتے ہی حرکت بند کر دی تھی ۔
وہ کراہتا ہوا اُٹھا اور کمرے سے باہر آگیا۔ دوا نے وقتی طور پر درد سے نجات تو دلادی تھی لیکن اس کی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی۔خون کافی بہہ چکا تھا اور اسے بہت نقاہت محسوس ہو رہی تھی ۔
کمرے سے نکل کر وہ نقشے کے مطابق چلتا ہوا ایک بند دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ انسپکٹر دانش نے بند دروازے کی مضبوطی جانچنے کے لےے ہاتھ کا دباﺅ بڑھاےا تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے کھلتا چلا گیا۔
”حیرت ہے۔۔۔“
انسپکٹر دانش نے بے ساختہ کہا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ ایک مرتبہ پھر نیچے جاتی سیڑھیوں کے سامنے کھڑا تھا۔یہی وہ دوسرا تہ خانہ تھا جس میں مطلوبہ شیطانی کتاب موجود تھی۔
چند لمحے اگلے محاذ کی پلاننگ کرنے کے بعد انسپکٹر دانش محتاط انداز مےں سیڑھیاں اترنے لگا۔ آخری سیڑھی پر پہنچ کر اس نے تہ خانے کے فرش پر قدم رکھا ہی تھا کہ راہداری کی دیواروں پر نصب مشعلیں خود بخود جل اٹھیں۔
وہ ابھی اس انوکھے استقبال پر غور کر رہا تھا کہ عقب مےں قدموںکی آہٹ سنائی دی۔ وہ تیزی سے پےچھے گھوماتو آنکھیں مارے حیرت کے پھیلتی چلی گئیں۔سامنے ڈاکٹر داﺅد، ان تین سپاہیوں کے ہمراہ سیڑھیاں اُتر کراس کی طرف بڑھ رہے تھے جنہیں وہ تہ خانے کے باہر گیٹ پر چھوڑ آیا تھا۔ان سب کے سینے تازہ خون سے لتھڑے ہوئے تھے۔ اُن کی آنکھےںبرف کی مانند سفید تھیں اور چاروں اپنے ہاتھوں میں بے نےام تلواریں تھامے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
”آپ لوگ۔۔۔ اور یہاں؟“ وہ حےرت سے بولا۔
لیکن ان میں سے کسی کے چہرے پر اپنائیت کا تاثر نہ ابھرا۔ آنکھوں میں موجود اجنبیت بدستور قائم دیکھ کر انسپکٹر دانش کا دل تےزی سے دھڑکنے لگا تھا ۔ وہ چاروں آہستہ آہستہ اس کے قریب آرہے تھے۔ چند فٹ کے فاصلے پر پہنچ کر ایک سپاہی نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تلوار ہوا میں بلند کی اور انسپکٹر دانش پر حملہ کر دیا۔
انسپکٹر دانش اس اچانک حملہ کے لےے تیار نہیں تھا ۔اس نے پھرتی سے جگہ بدلنے کی کوشش کی لیکن تیز دھار تلوار اس کی دائیں ٹانگ پر گہرا زخم لگاتے ہوئے گزر گئی۔اسی دوران ڈاکٹر داﺅد اور دوسرے سپاہی اس کے گرد گھیرا تنگ کر چکے تھے ۔
حالات کی سنگینی دیکھ کر انسپکٹر نے ریوالور نکال لیا۔ لیکن اُس میں اپنے ہی ساتھیوں پر فائر کرنے کا حوصلہ پیدا نہ ہوسکا۔چنانچہ وہ ان کے دوسرے حملے کو ناکام بناتے ہوئے راہداری میں موجود کمروںمیں سے ایک کے دروازے کی طرف لپکا تاکہ جلد از جلد شیطانی کتاب تک پہنچ سکے۔ مگر دروازہ کھولتے ہی اس کے اوسان خطا ہوگئے ۔
بند کمرے میں وہ تمام لوگ بدروحوں کی طرح ٹہل رہے تھے جنہیں وقتاً فوقتاً کھنڈر میں قتل کیا گیا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ سب تیزی سے اس کی طرف لپکے۔
اتنے لوگوں کو قابو کرناآسان نہیں تھا۔ وہ ایک لمبی جست لگا کر دوسرے کمرے کی طرف لپکااور دروازہ کھولنے کی کوشش شروع کر دی۔ صدیوں سے بند پڑا رہنے کے باعث دروازہ کسی صورت کھلنے کا نام نہےں لے رہا تھا ۔ وہ دیوانہ وار اُسے ٹھوکر یں مار رہا تھا۔
ادھر تمام بدروحیں آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہی تھیں ۔انسپکٹر نے آخری مرتبہ ان پر نظر دوڑائی اور اللہ کا نام لے کر پوری قوت سے دروازے پر لات ماری ۔ اگلے ہی لمحے دروازے کے پاٹ دھماکے سے کھل گئے۔
اندر داخل ہوتے ہی انسپکٹردانش نے تیزی سے دروازہ بند کر لےا اور اپنی بے ترتےب سانس بحال کرنے لگا۔
اس سارے واقعے کے دوران زخمی ٹانگ کا درد شدت اختیار کر چکا تھا اس نے کندھے سے لٹکتے بیگ میں سے ایک پٹی نکالی اور کس کر زخم پر باندھ لی۔
اس کام سے فارغ ہو کر انسپکٹر نے ایک مرتبہ پھر جیب سے نقشہ نکال کر جائزہ لیا۔سفر تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ شیطانی کتاب دوسرے کمرے میں موجود تھی اور کمرے میں داخلے کے لیے واحد دروازہ اس کے سامنے تھا۔نقشہ تہ کرکے جیب میں ڈالنے کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف بڑھا۔
ابھی وہ کمرے کے وسط میں پہنچا تھا کہ جانے کہاں سے ایک بھاری بھر کم جسم اس کے سر پر آن گرا۔اس نے حملہ آور کو تیزی سے سامنے والی دیوارکی طرف اچھال دےا۔ ۔۔۔اب اس کے سامنے ایک ایسا انسان نما جانور کھڑا تھا جس کا منہ بھیڑیے کا تھا اور وہ غصے سے بری طرح غرا رہا تھا۔
چند لمحوں بعد وہ دوبارہ حملہ آور ہوا لیکن اب انسپکٹر سنبھل چکا تھا۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ میں پکڑا ہوا خنجر جانور کے پیٹ میں گھونپ دیا۔۔۔جانور چیخ کے ساتھ فرش پر گرا اور اپنی زبان سے اپنا ہی زخم چاٹنے لگا۔ خون منہ میں جاتے ہی اس کی وحشت مزید بڑھ گئی اور وہ دوبارہ انسپکٹر پر حملہ آور ہوا۔
اس مرتبہ انسپکٹر دانش کے ریوالور نے شعلے اگلے اور خوفناک درندہ انسپکٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین بوس ہوگیامگر اگلا منظر اس کے وہم و گمان مےں بھی نہےں تھا ۔ تہ خانے کی زمین پر جہاں جہاں خون کا قطرہ گرا تھا،وہاں سے بالکل ویسا ہی بھیڑیا نما انسان وجود میں آ رہا تھا ۔ کچھ دیر میں بہت سے جانور اس پر حملے کرنے کے لےے تیار کھڑے تھے۔ ےہ دیکھ کر انسپکٹر دانش نے پھر ہمت کر کے جست لگائی اور زخمی ٹانگ کی پروا کیے بغیر بھاگتا ہوا شیطانی کتاب والے کمرے میں داخل ہوگیا۔
اندر داخل ہوتے ہی اس نے یہ دروازہ بھی بند کر لےا اور سامنے رکھے ہوئے اس صندوق کی طرف بڑھا جس میں وہ شیطانی کتاب موجود تھی۔
-٭-
کمرے کے وسط میں پڑے سیاہ صندوق کے پاس پہنچ کر انسپکٹر نے دلیری سے اس کاڈھکن اٹھانے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔ لےکن آناً فاناً کمرہ گہرے سرخ دھویں سے بھر گیا۔جب دھواں چھٹا تو سامنے وہی دہشت ناک حلےے والی خونی بلا موجود تھی جو قادر پور میں بے شمار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی تھی۔اسی عفرےت کے پےچھے اس کی ہمشکل بلاﺅں کی لمبی قطار موجود تھی جو سب اسے گھور رہی تھےں۔
”خبردار! کتاب کو ہاتھ مت لگانا۔“ایک پھنکارتی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔
”آج تمہار وقت پوراہو چکا ہے۔صدےوں سے قائم اس طلسمی حصار کے ٹوٹنے کا وقت آ چکا ہے۔تمہےںمرنا ہو گا۔“ انسپکٹر دانش نے اس کی بات کا جواب دےتے ہوئے تیزی سے صندوق میں پڑی بوسیدہ کتاب اٹھالی۔
یہ دیکھتے ہی بلا کا لمبا بازو حرکت میں آیا اور اس کا آ ہنی پنجہ انسپکٹر دانش کی نازک گردن پر جا پڑا۔جب کے اس کی ساتھی بلائےں خاموش کھڑی ےہ منظر دےکھتی رہےں ۔۔۔ انسپکٹر دانش کے پاﺅں زمین چھوڑ چکے تھے اور وہ بلا کے ہاتھوں میں بری طرح پھڑ پھڑا رہا تھا۔ شدید تکلیف کے باعث اس کی آنکھیں ابل کر باہر آرہی تھیںاور کتاب ہاتھوں سے نکل کر دور جاگری تھی۔اس نے ہمت کر کے ایک مرتبہ پھر اپنے ہولسٹر میں سے ریوالور نکالا اور اندازے سے بلا کے چہرے کی طرف رخ کر کے فائر کر دیا۔ گولی اس کی بھیانک آنکھ کو چیرتی ہوئی سر کے پچھلے حصے سے پار ہوگئی۔
زور دار جھٹکے کے باعث بلا کے ہاتھ کی گرفت کمزور ہوئی اور انسپکٹر دانش فرش پر آگرا ۔نیچے گرتے ہی اس نے بلا کے چہرے کی طرف دیکھا جس کی آنکھ میں ہونے والا سوراخ تیزی سے مندمل ہو رہا تھا۔
اس دوران انسپکٹر دانش ایک مرتبہ پھر کمرے کے کونے میں پڑی کتاب اٹھانے میں کامیاب ہو چکا تھااور جیب سے لائٹر نکال کر کتاب کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔لیکن باوجود مسلسل کوشش کے وہ لائٹر روشن کرنے میں ناکام رہا۔
شیطانی بلائےں یہ منظر دیکھ کر تیزی سے اس کی جانب لپکےں۔ موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ لمحہ بہ لمحہ کم ہورہا تھا۔ نیکی اور بدی کی جنگ آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اُمید کی کرنیں مایوسی کے اندھیرے پر اپنی گرفت کھونے لگیں ۔
انہیں اعصاب شکن لمحات میں جب خونی بلا کا آہنی پنجہ ایک مرتبہ پھر انسپکٹر دانش کی گردن کے قریب پہنچا اس کے ذہن کے تاریک پردے پر نور کی ایک انمٹ تحریر بجلی کی مانند کوندی۔
”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔“
انسپکٹر دانش کی زبان سے قرآن مجید کے مقدس الفاظ ادا ہوتے ہی خاموش لائٹر نے تیز شعلہ اگلا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب سوکھے پتوں کی طرح جل اٹھی۔
شیطان کتاب کے آگ پکڑتے ہی اس کی جانب بڑھتی ہوئی بلاﺅں کے جسم بھی بھڑک اٹھے۔ دوسرے کمرے میں موجود عجیب الخلقت جانور اور بدروحیں بھی خودبخودشعلوں کی لپےٹ مےں آگئےں اور سب چیختے چلاتے بڑی بلا کے گرد جمع ہوگئے۔
سب شےطانی چےلے دیوانہ وار آگ بجھانے میں کوشاں تھے کہ کھنڈریک دم شدےدزلزلے کی لپیٹ میں آگیا۔ چھتوں سے مٹی اور پتھروں کی بارش شروع ہوگئی اور بلند دیواریں زمین بوس ہونے لگیں۔پھراچانک زلزلے کے ایک شدید جھٹکے سے سارا تہ خانہ ریت کے کمزور گھروندے کی مانند بیٹھتا چلا گیا۔
انسپکٹر دانش بڑھتی ہوئی تباہی دےکھ کر زخمی ٹانگ کے ساتھ تےزی سے بےرونی دروازے کی جانب لپکالےکن بہت دےر ہو چکی تھی ۔۔۔ابھی وہ چند قدم آگے بڑھا تھا کہ دیوار کا بڑا حصہ موت بن کر دھماکے سے اس کے سر پر آگرا۔۔۔ اس لمحے انسپکٹر دانش کی آخری چیخ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر ملبہ گرنے کے شور میں ہمیشہ کے لےے دفن ہوگئی۔
قادر پور صدیوں پرانے شیطانی حصار سے آزاد ہو چکا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کھنڈر کے ملبے میں سے انسپکٹر دانش کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
طلسم ختم ہونے کے بعد اچانک ہزاروں من وزنی ملبے کے نیچے گہرائی میں دبے انسپکٹر دانش کے بے جان جسم کے ساتھ بندھی وائرلیس میں جان پیدا ہوئی اور باہر کھڑے پولیس آفیسر کی آواز ابھری۔
”ہیلو ۔۔۔ہیلو۔۔۔کیا آپ میری آواز سن رہے ہیں؟“
لیکن انسپکٹر دانش کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا ۔ کےونکہ وہ تواےک عظیم کارنامہ انجام دے کر ہمیشہ کے لےے خاموش ہوچکاتھا۔
شیطانی حصار ختم ہونے کے بعد قادر پور کے باسی مدتوں تک اپنے بچوںکو انسپکٹر دانش کی بہادری کے قصے سناتے رہے، لےکن اصل حقےقت کوئی نہ جان سکااور ےوںخونی کھنڈر ہمےشہ عام لوگوںکے لےے اےک راز ہی رہا۔
-٭-

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    عبدالرشید فاروقی

    خونی کھنڈر بہت اچھی کہانی ہے ، لطف آیا۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے