سر ورق / مکالمہ / ملاقات۔۔ عمران احمد قریشی۔ حمیرا تبسم

ملاقات۔۔ عمران احمد قریشی۔ حمیرا تبسم

دنیائے دائجسٹ کا ایک معتبر نام ، جنہوں نے اس دشت کی سیاحی میں بہت قوت گزارا۔

عمران احمد قریشی تیس برس تک ایک بہت معتبر ادارے سے وا بستہ رہے۔ اور ایک مقبول جریدے میں ایڈیٹر  کی ذمے داری کے فرائض  ادا کرتے رہے ہیں۔ سو انُ کیُ زندگی کئ ادوار سے گذری ہے۔ کئ پرانے اور مقبول لکھنے والی شخصیات سے وابستہ رہے اور ادب کی دنیا میں کئ تجربات کۓ۔تو چلتے ہیں انٹرویو کی طرف اور دیکھتے ہیں عمران احمد قریشی صاحب قارئین کے پوچھے گئے سوالات کے کیا جوابات دے رہے ہیں۔ یہ انٹرویو فیس بک کے ایک گروپ اجالا میں محترمہ عشناء کوثر سردار نے شروع کیا اور مجتلف اجالین نے سوال کئے ، میں اسے ترتیب دے کر آپ کی خدمت میں پیش کر رہی ہوں ۔

( عشنا سردار کوثر )

سوال  :  پاپولر لٹریچر اور ادب کے متعلق آپ کی کیا راۓ ہے؟اِن میں کیا تفریق ہے اور کون سی خلیج حائل ہے کہ ان کا تقابلی جائزہ لیتے ہوۓ عجیب تلخی سی پھیلتی جاتی ہے؟  کیا پاپولر ادب کلاسک کا درجہ پانے کے قابل نہیں؟ یا پاپولر ادب لکھنے والے ادب کے زمرے میں کیوں نہیں آتے؟؟ اس کے علاوہ

کیا آپکی تیس برس کی ادبی زندگی کے ایسے واقعات ہیں جن کو آپ آج بھی یاد کرتے ہیں تو مسکراہٹ لبوں پر پھیل جاتی ہے؟

جواب  :  آپ کے پہلے سوال کا جواب بہت ہی طویل ہے پھر بھی دے دیتا ہوں۔

پالولر لٹریچر وہ نام نہاد ادب یا کہانیاں تخلیقات ہیں جنہیں عام طور پر عوام کی دلچسپی کے لئے لکھا گیااور وہ جیسے عوام کا معیار پسند یدگی بنتا چلا گیا مصنفین نے بھی اپنی تحریروں کا رخ اسی طرف موڑ ناشروع کردیا۔اگرتشدد اور ماڑ دھاڑ کا عنصر سے بھر پور تحریروں نے پذیرائی حاصل کی تو مصنفین نے ایسی ہی کہانیاں لکھنا شروع کردیں۔جنہیں عوام پڑھنا چاہتے تھے۔ اس کی واضع مثال ۷۰ اور ۸۰ کی دھائیوں میں ڈائجسٹوں سے لے کر ناولوں میں نظر آتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال کسی حد تک ابن صفی کے ناولوں میں نظر آتی ہے۔ان کی تحریروں سےہارر، سنسنی خیز تحریریں تخلیق کی گئی۔

پھر ایک اور دور کہانیوں کا آیا، رضیہ بٹ سے لے کر بشری رحمان تک، مری کی حسین وادیوں کے پس منظرایسی ایسی کہانیاں تخلیق کی گئی کہ ہر لڑکی خود کو بشری رحمان کے ناولوں کی ہیروئن سمجھنےلگی۔

اورپھر ایک دور ماروائی کہانیوں کا آیا۔ سونا گھاٹ کا پچاری اس کی پہلی اینٹ تھی اور اس کے بعد لوگ دھڑا دھڑماروائی کہانیاں لکھنے

جواب   :  لگےان ساری تحریروں کو چھاپنے والے ڈائجسٹ تھے اور  لفظی طور پرڈائجسٹ کاترجمہ ہضم کرنے کے بنتے ہیںتو جو چیز ہضم ہوجائےتووہ دماغ میں کہیں نہیں رہتی۔کیونکہ دماغ میں وہ چیز رہتی ہے جو اول تا آخر سو فیصد معیار پر اترتی ہو۔

سعادت حسن منٹوکے افسانے ہوں منشی پریم چند کی کہانیاںہوں یا نسیم حجازی کے ناول یہ وہ شہکار ہیں جو اب تک لوگوں کے ذہنوں میں نقش اور تازہ ہیں، یہی ادب ہے۔

آج بھی اگر ہم کسی بات کا ریفرنس کو کوڈ کرتے ہیں تو منٹو، عصمت چغتائی، منشی پریم چند اور نسیم حجازی کے شہکار ہی یاد آتے ہیں۔

آپ نے کبھی انکا، اقابلاوغیرہ جیسے ناولز کا حوالہ نہیں سنا ہوگا،بس یہی فرق ہے پاپولر لٹریچر اور ادب میں۔

اور عشناجی ڈائجسٹ کے مدیر کی زندگی بڑی خشک اور سادہ ہوتی ہے۔ کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں تحریر میں لانا ممکن نہیں۔ مجھے زندگی نے ایسا کوئی موقع شعبہ ادارت میں فراہم نہیں کیا

 (  ریما نور رضوان  )

السلام علیکم امید ہے کہ خیریت سے ہونگے۔آپ ایک طویل عرصہ تیس برس معتبر ادارے میں بطور مدیر اعلی رہے۔تو اس دوران اپنا خود کا ڈائجسٹ نکالنے کا کتنی مرتبہ خیال آیا؟خیال آیا تو عمل کیونکر نہ کرسکے۔؟

اورتمام تر کہانیاں آپ منتخب جو کرتے اس پر کبھی کسی اسٹاف ممبر کو اعتراض ہوا۔۔۔

جواب  : وعلیکم السلام۔ الحمدللہ میں خیریت سے ہوں۔ایک بات واضح کردوں ،میں مدیر اعلی نہیں مدیر رہا ہوں۔ خود ڈائجسٹ نکالنے کا کبھی خیال ہی نہیں ایا۔ کیونکہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ادارے سے الگ ہونا پڑے گا۔

میں بہ حیثیت ایک مدیر کے کئی ڈائجسٹوں کا کام کررہا تھا اس لیے دماغ میں یہ خیال ہی نہیں آیا۔ پھر پاکستان میں ڈائجسٹ نکالنا بے حد مشکل کام ہے۔ ڈائجسٹ نکال تو لیں مگر اس کے علاوہ بھی ڈائجسٹوں کے بے شمار کام ہوتے ہیں۔ جو مجھ جیسے انسان کے بس کی بات نا تھی۔

اور الحمدللہ میرے اسٹاف ممبر کو مجھ سے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی۔ کیونکہ اگر انہیں کسی کہانی پر اعتراض ہوتا اور ان کا اعتراض صحیح ہوتا تو میں عین وقت پر کہانی تبدیل کردیا کرتا تھا

(آمنہ عبدالغفور )

 سوال :   تیس برس کوئی کم عرصہ نہیں آپ کو ان تیس برس میں کیسا لگا ایک ہی جگہ میں ؟

جواب : آمنہ یہ تیس برس مجھے اس وقت تو معلوم نہیں ہوئے کہ کیسے گزر گئے اب یاد کرتا ہوں تو حیرت کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا کہ میرے اللہ نے یہ کس طرح وقت گزار دیا۔

(زیست فاطمہ)

سوال :  ایک ہی موضوع پر وصول ہونے والی کہانیوں نے کس حد تک آپ کو پریشان کیا؟

۲-کبھی آپ کو ان تیس سالوں میں محسوس ہوا کہ آپ غلط فیلڈ منتخب کر بیٹھے ہیں؟

۳-کس طرز کی کہانی آپ کو متاثر کرتی ہے؟؟

جواب  :  پہلی بات  تو یہ ہے کہ ایک موضوع پر کہانیاں موصول نہیں ہوتی تھیں اگر ہوئیں بھی تو ایک دو بس اس کے علاوہ نہیں۔  مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کیونکہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی اور ہوش سنبھالا وہاں پہلے سے ہی یہ سب کچھ والد محترم کو کرتے دیکھا۔

اور مجھے ویسے تو ہرقسم کی کہانیاں پسند تھیں۔ مگر زیادہ جرائم میں ملوث سیاسی کہانیاں زیادہ پسند تھیں۔ یا مکمل جرائم پر مبنی

( نسیرین اختر نینا  )

 سوال :  آپ کو سب سے زیادہ کس تحریر نے متاثر کیا اور کیوں ؟

جواب : میری پسندیدہ کہانیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ کیونکہ ان کہانیوں میں خود ملوث ہوتا تھا کہ مصنف کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں کہانی پر بحث و مباحثہ کرتا تھا۔

مجھے ذاتی طور پر ذولفقاار ارشد گیلانی کی ناگ رانی ۔ غلام قادر کی زردار پسند تھیں

(صبیحہ علی حسن )

 سوال :  آپ کے پسندیدہ لکھاری کون ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کی کسوٹی کیا ہے کسی تحریر کو کس نہج پہ قابل اشاعت سمجھتے ہیں۔

جواب : میرے پسندیدہ لکھاری ذولفقار ارشد گیلانی۔ غلام قاد۔ ایچ اقبال ۔طاہر جاوید مغل۔ ہیں۔

اور میری کسوٹی یہ تھی کہ کہانی میں کہانی پن ہونا قابل اشاعت ہوتا تھا۔ اس طرح کی کہانی جس کو پڑھ کر آپ اس کے سحر میں جکڑ جائیں اور کہانی  خود کہے کہ مجھے مکمل پڑھو

(فضا سلہری )

سوال  :  کامیاب لوگوں کی مثال درخشاں ستارے کی مانند ہوتی ہے ان میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ دیپ سے دیپ جلائیں آپ نے کتنے دیپ جلائے؟

کبھی کوئی ایسی تحریر آپ کے سامنے آئی جس کی اصلاح میں آپ نے صرف حوصلہ افزائی کی نیت سے بہت محنت کی ہو؟

کامیابی کے اس سفر میں کیا کھویا کیا پایا؟

عمران بھائی زندگی کیا ہے آپ کی نظر میں ؟

آپ کی کامیابی کے پیچھے کس کی دعائیں ہیں ؟

جو کامیابی کی راہ میں موجود مشکلات سے ہار  آپ کاان سب نئے رائٹرز کے لیے کوئی پیغام ؟

آپ اپنی زندگی میں آگے کیا کرنا چاہتے ہیں ؟

کسی بھی تحریر کی اشاعت کے لیے کیا چیز ضروری ہوتی ہے؟

 کہانی کا پلاٹ ڈائیلاگ یا منظر کشی

کسی بھی تحریر کو رائٹر اور انداز میں دیکھتا ہے قاری اور انداز میں اور ایڈیٹر اور انداز میں سال میں ہزاروں تحریری ردی کی ٹوکری کی نظر ہوتی ہیں کیا ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کہانی میں موجود کمی بتائی جائے اور بے غرض ہو کر اصلاح کی جائے ؟

اور آخر میں ریکویسٹ کروں گی  کہ آپ اپنے ماہنامہ ڈائجسٹ کا اجراء کریں۔

‏ جواب : ان تیس سالوں میں بے شمار نئے لوگوں کو مواقع فراہم کیے۔ کبھی کسی حوصلہ شکنی نہیں کی۔

بے شمار ایسی تحریریں آئی جنہیں نئے سرے سے لکھا۔ اوپر لکھاری کی ہوئی لائن ہوتی اس کے نیچے میری اصلاح کی ہوئی۔ تاکہ اسے معلوم ہوسکے کہ اس نے کہاں کہاں غلطی کی ہے۔ ایک نئے مصنف کے لیے بالکل نئے سرے سے کہانی لکھی۔

تیس سالوں میں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کے اس سفر میں کچھ کھویا ہے۔

میری نظر میں زندگی اللہ کی عطا کی گئی ہے اس اس کی مخلوق کی خدمت میں گزار دینی چاہیے

میری کامیابی ہمیشہ میری والدین کی دعائیں رہی ہیں۔ اور میرا حوصلہ میرے والد رہے ہیں۔

میری نظر میں ہار کسی شے کا نام نہیں۔ انسان جو بھی کام کرے خلوص نیت اور دل لگا کر کرے تو ہار کہیں نظر نہیں آتی۔ اللہ کی مدد کو شامل حال رکھے گا تو وہ اللہ اپنے بندے جو کبھی ہارنے نہیں دیتا۔ اس لیے جو بھی کام کریں اس میں سب سے پہلے اللہ کی مدد شامل حال رکھیں اور خلوص نیت سے کام کریں۔ اور اپنے آس پاس رہنے والوں کو اس طرح خیال رکھیں جس طرح اللہ ہمارا رکھتا ہے۔میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہی کام کیا جو اپنے والد کو کرتے دیکھا۔

آپ کی بتائی ہوئی تینوں چیزیں  اچھی اور معیاری کہانی کی ضمانت ہیں۔

ہر کہانی ردی کی ٹوکری میں نہیں جاتی۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کسی کی بھی تحریر میں ایک پوائنٹ بھی کہانی پن ہو تو اس کی اصلاح کردیں۔ اور میں یہی کرتا تھا نناوے فیصد کہانیوں کے ساتھ یہی کیا۔

( اروشمہ خان )

سوال :   اسلام علیکم

آپ سے میرا سوال ہے کہ نئے لکھاریوں کو کہانی بھیجتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ کہانی منتخب ہو نہ کہ ریجکٹ ??

جواب :کہانی کا انداز بیاں اچھا ہو۔ پلاٹ جاندار ہو۔ اور لکھائی اچھی ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کہانی ہو۔

( نمرہ ندیم )

سوال  :

آپ کا مقصد حیات کیا ہے؟نئے لکهاریوں کے رویوں اور تحریروں میں آپ کیا تبدیلی دیکهنا چاہتے ہیں؟

ملک عزیز کی ترقی میں آپ کس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟ اور اس ملک میں کون سی تبدیلی دیکهنا چاہتے ہیں؟

جواب :میرا مقصد حیات یہ ہے کہ پاکستان کا ہر شخص پڑھ سکے چاہے وہ کچھ بھی ہو اسے پڑھنا آنا چاہیئےہم خود کو ٹھیک کرلیں تو سب خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا اور یہی تبدیلی ہوگی۔بڑی معذرت کے ساتھ عرض کروں گا نئے لکھنے والوں میں تنقید برداشت کرنے کا مادہ نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں جو انہوں نے لکھادیا وہ حرف آخر ہے۔ یہ بات ان کے زوال کا شکار بن جاتی ہے۔

جب تک ایک لکھاری اپنے لکھے ہوئی تحریر کو کم از کم دو سے تین بار نہیں پڑھے گا اسے اپنی غلطیاں نظر نہیں ائیں گی۔ اپنے اندر صبر۔ برداشت اور تنقید سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئیے

۔

( صائقہ حسن )

سوال  :  اسلام و علیکم ۔آپ کے خیال میں سب سے اچھا ناول اب تک کا کونسا تھا جس نے بہت شہرت پائی اس کے علاوہ ایک ایڈیٹر کی بہترین کوالٹی کیا ہوتی ہے ؟

جواب : پہلا سوال کا جواب نامکمن ہے۔ کیونکہ بے شمار ناولز ایسے ہیں جو انمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ اب کس کس کا نام لوں۔

ایک اچھے مدیر کی کوالٹی یہ ہونی چاہیے کہ اسے کہانی پرکھنا آتا ہوں۔ جملوں کی نشست و برخاست سے آشنا ہو۔ اردو کا اچھا ہونا لازمی ہے۔

( ام حضیفہ )

سوال  :  نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام؟

جواب : نئے لکھنے والے پہلے اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں۔ تنقید کو سننا پسند کریں۔ اپنے بڑوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ بحث برائے بحث سے اجتناب کریں۔ اور سئنئرز کی رائے لیں۔

( شہباز اکبر الفت )

سوال  : آپ کی نظر میں ابتداء سے اب تک نئے افق کا ماسٹر پیس کون سی مکمل یا سلسلے وار کہانی ثابت ہوئی ہے ؟نئے لکھنے والوں میں کس کے انداز تحریر نےمتاثر کیا ؟

جواب  : ٹائیگر۔۔۔۔۔ زردار۔۔۔۔۔کمانڈو۔۔۔۔۔ ناگ رانی۔قلندر ذات۔ بھائی نئے افق کو بیالیس سال ہوگئے ہیں اب کس کس کا نام لوں۔ اور ڈائجسٹ آخری سال میں مجھے عشنا کوثر سردار کی کہانی ایک سو سولہ چاند کی راتیں نے بے حد متاثرکیا جب عشنا جی نے اس کہانی کے پانچ صفحات میل کئے تو اس پڑھ کر میں نے ان سے درخواست کی کہ اگر یہ کہانی نئے افق میں نہیں چھپی تو کل ہوجائے گیا۔اور نئے لکھنے والوں میں امجد جاوید نے متاثر کیا

(  ایمانِ عائشہ )

سوال  :  السلام علیکم سر

میرا سوال یہ ہے کہ ہر قسم کی غصے والی سچویشن میں آپ بہتcalm ہوتے ہیں مجھے یہ پوچھنا تھا کہ آپ اتنے calm کیسے رہ لیتے ہیں۔۔؟

آجکل کے ایف بی ایونٹس کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے یعنی اتنی بھرمار کے حساب سے ہو رہے ہیں تو کیا یہ ٹھیک ہیں۔۔۔؟

جواب :  وعلیکم سلام ایمانے عائشہ میں عمر کے جس حصے میں ہوں وہاں آپ کا یہ calm خود بہ خود آجاتا ہے۔ ورنہ غصہ تو میری ذات کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے ۔اور جہاں تک بات ایونٹ کی ہے یہ آج کی ضرورت ہے لوگوں سے میل ملاپ کا۔

(  ثناء جاوید  )

سوال  : ایک معیاری ڈائجسٹ شروع کرنے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے کن کن لوازمات اور خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔۔؟

جواب : معیاری ڈائجسٹ کے لیے سب سے اہم اس کا نام ہوتا ہے۔ پھر اس کی ٹیم۔ سب اہم ڈسٹریبیوشن کا کام ہے۔ آپ کے پاس جتنے اچھے لکھنے والے ہوں گے ڈائجسٹ اتنا ہی کامیاب ہوگا۔ یہ سب عوامل مل کر ہی ایک اچھا اور معیاری ڈائجسٹ بن سکتا ہے۔

( محمد کبیر عباسی )

سوال : انٹرنیٹ اور تفریح کےنت نئے زرائع آ جانے کی وجہ سے بک ریڈنگ کو بہت نقصان پہنچا ہے،آپ اس صورت حال میں مستقبل میں ڈائجسٹس کا کیا مقام دیکھتے ہیں،نیز کیا اس مسئلے کا آپ کے پاس کوئی حل ہے؟

جواب : میرے بھائی ڈایجسٹ اس زمانے سے شائع ہورہے ہیں جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی ہی آتا تھا اس کے بعدوی سی آر آیا تو بھی ڈائجسٹ آتے رہے اور بڑی تعداد میں شائع ہوتے رہے۔ اس کے بعد ڈائجسٹ پر کیبل حلمہ آور ہوا مگر وہ ثابت قدم رہا پھر نیٹ نے ہر طرف اپنے جھنڈے گاڑے مگر ڈائجسٹوں کی سرکولیشن پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ آج بھی ڈائجسٹ ہر ماہ ایک لاکھ سے دیڑھ لاکھ کی تعداد میں چھاپ رہے ہیں۔

( امجد جاوید )

سوال  :  آپ کے خیال میں ایک مدیر اور لکھاری کا تعلق کیسا ہونا چاہئے ؟ مختلف لکھاریوں کے حوالے سے اپنے تجربات سے نوازیں،

اورآج کل سیکھنے کا رواج بہت کم ہو گیا ہے ۔۔۔ بنا سیکھے کہانی کار کیسا ہوتا ہے ۔۔ ؟ آپ کے دور میں کہانی کار کیسے کیسے سیکھنے اور کہانیکی تکمیل میں تحقیق کے قائل تھے ؟

جواب :آپ کو تو علم ہے جب تک ایک مدیر لکھاری کی لکھائی کو نہیں سمجھے گا تو وہ اسے کیسے سمجھ پائے گا۔

ایک مدیر اور ایک لکھاری کا رشتہ باپ بیٹا جیسا ہونا چاہیئے۔

میرے تجربات نہیں تجربہ ہے کہ اگر لکھاری مدیر کی بات کو سمجھ نا سکے تو اسے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ہر لکھاری کی نظر میں اس کا لکھا ہوا انمول موتی ہوتا جب کہ مدیر شکرے کی نظر سے ہر تحریر کو دیکھتا ہے۔ کیونکہ وہ لکھاری اور اس سے زیادہ قاری کے رابطے میں ہوتا ہے مدیر کو معلوم ہوتا ہے۔ کہ اس کا قاری کیا پسند کرتا ہے اسی لیے مدیر لکھاری کو قاری کا پوائنٹ آف ویو سمجھتا ہے۔

بغیر سیکھے کہانی کار ایسا ہی ہے جیسے دو پہیوں والی موٹر سائیکل ایک پہیے پر چلے۔

اس وقت بہت اچھا ماحول تھا ہم لکھاری سے سیکھتے اور اپنا تجربہ ان سے شئیر کرتے۔ کیونکہ ہمارے پاس درجنوں کے حساب سے مختلف لکھاریوں کی کہانیاں اتی تھیں اور سب کا انداز جدا سب کی کہانی الگ تو ہم اپنا تجربہ ان سے شئیر کرتے اوروہ ہم سے۔ پھر اس وقت کہانیوں پر مدلل بحث ومباحثہ ہوتا تھا۔ دلیل کے ساتھ۔ اس سے دونوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا۔ آج کل تو سنا ہے مدیر نوسے پانچ ڈیوٹی کرتا ہے جب کہ اس وقت ہمارے افس کے اوقات کوئی نہیں تھے۔

کیونکہ سارا دن تو ڈائجسٹوں کے کاموں میں مصروف رہتے شام کو کوئی نا کوئی مصنف آجاتا اب جب بات نکلتی تو دور تک جاتی گھڑیوں جب وقت دیکھا جاتا تو رات کے دو بج رہے ہوتے۔اور

میرے پہلے استاد محترم جناب اظہر کلیم مرحوم ہیں۔ اور دوسرے جناب انور فراز ہیں۔ ان کا میری ذات پر بہت احسان ہے۔ انہوں نے جہاں مجھے سیکھایا وہاں ہر ہر قدم پر مدد بھی کی۔ بہت سے ایسے مراحل جہاں میری سمجھ نے کام چھوڑا دیا وہاں ان کی راہ نمائی نے کام دکھایا

اور

میرے اس کیریئر میں میرا ایک دوست بنا جو اج بھی ہے ہماری دوستی کی سب سے بڑی اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اخبار کے کام کے حوالے سے میرا استاد ہے۔ جب کہ اس کا کلیم ہے کہ میں ڈائجسٹ میں اس کا استاد ہوں۔ ہماری یہ دوستی کئی نشیب و فراز سے گزری مگر قائم رہی اس کا نام نہ لینے سے یہ انٹرویو ادھورا رہے گا۔ وہ  سید زولفقار گیلانی ہے۔ یہ مجھے جان سے بھی پیارا ہے۔ اس قلم کی کاٹ اتنی تیز ہے کہ میں نے آج تک کسی میں نہیں دیکھی۔ اس نے بڑی بڑی اہم کہانیاں لکھیں۔ اس کے ساتھ کام کرنے کا مزہ ہی بلکل الگ ہے۔

( زرین قمر )

سوال  :  جس وقت نئے افق پبلیکیشنز کا آغاز ہوا آپکی عمر کیا تهی آپ نے وہاں کب سے خدمات انجام دینا شروع کیں اور جو تیس سال وہاں گزارے ان میں کن کن بڑی شخصیات سے ملاقات ہوئی کس کس بڑے لکهاری کی تحریر پر قلم چلایا کبهی کسی لکهاری کو آپ کی طرف سے کی گئی قطع و برید پر اعتراض تو نہیں ہوا اس سے ریلیٹیڈ کوئی دلچسپ واقعہ؟

جواب  :  اس وقت میری عمر بارہ سال تھی 86ء میں٬ میں نے جب کالج میں داخلہ لیا تو میرا کالج اور والد کا دفتر ساتھ ساتھ میں کالج سے فارغ ہو کر دفتر چلا جاتا تھا۔

90 ءکی دھائی سے میں نے باقاعدہ کام شروع کیا۔

ان تیس سالوں میں میری میرے والد کی وجہ سے بڑی بڑی شخصیات سے شناسائی ہوئی۔ جن شوکت صدیقی۔ اے حمید۔ منو بھائی۔ شکیل عادل زادہ۔ ایم اے راحت۔ احمد ندیم قاسمی اور زریں قمر۔ جیسے بے شمار نام ہیں۔

مجھے جن بڑی شخصیات کی کہانیوں کو ایڈیٹ کرنے کا موقع ملا ان میں اے حمید۔ ایم اے راحت۔زریں قمر۔ ایچ اقبال ایم الیاس۔ پرویز بلگرامی۔ سلیم فاروقی۔ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ اور میں نے انہی سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔

اللہ کا بڑا شکر ہے ان مصنفین میں سے کسی نے بھی قطع برید کرنے پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔ میرے قلم سے سب سے زیادہ قطع برید ایم اے راحت اور اے حمید جیسے بڑے مصنفین کے مسودوں میں کی۔

ایک مرتبہ کچھ یوں ہوا کہ میں ایم راحت کی سلسلے وار کہانی کی ایڈیٹنگ کررہا تھا اس میں مجھے ایک باب اضافی لگا میں اسے کہانی میں سے حذف کردیا۔ اگلے ماہ وہی کردار دوبارہ آیا کیونکہ اس وقت وہ کہانی سے میل نا کھا رہا تھا میں نے اس بار بھی پورے پانچ صحفات پر مشتمل اس باب کو کاٹ دیا۔ پھر جب وہ تیسرے ماہ آیا اور پھر وہ کہانی پر بیس کرنے لگا تو میں کچھ دیر کے لئے پریشان ہوا اور پھر والد سے ڈسکس کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ راحت صاحب سے بات کرلو وہ اس کا کوئی نا کوئی حل بتادیں گے۔ مگر میرے لئے یہ صورت حال قابل قبول نا تھی۔ تو میں نے پچھلے دو ماہ کے حذف کیے گئے کو پڑھا اور مختصر کرکے پانچ صفحات لکھ دئیے۔ اتفاق تھا کہ وہی قسط راحت صاحب نے پڑھ لی اور مجھے فون کرکے کہا "یار عمران یہ پانچ صفحات کسی اور کہانی کے لگ گئے ہیں انہیں میں نے نہیں لکھا مگر کردار میرے ہی ہیں شاید مجھ سے ہی کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ یہ ساری بات وہ ہنستے ہوئے کررہے تھے۔ مگر جب ساری صورتحال بتائی تو ایک زور دار قہقہہ لگایا  اور کہا کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے کہ تم نے کہانی کو سنبھال لیا ورنہ کہانی کا سلسلہ خراب ہوجانا تھا۔ یہی وہ بات تھی جس مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

( ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ )  سوال  :  ادب کے کمرشلایز ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اور علاوہ ہمارے ملک میں ادیبوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے علاوہ یہ بتائیں کہ ہمارے ہاں حقیقت دکھانے والے کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے معاشرے کی برائی کو جس نے اجاگر کیا وہ ٹارگٹ پہ رہا جیسے منٹو عصمت چغتای کیا ہم صرف خواب دیکھنا چاہتے ہیں آپکی کیا راۓ ہے رائٹر کو سچ دکھانا چاہیے یا سنہرے خواب۔۔؟

جواب  :  ادب تو شروع دن سے کمرشلائز تھا ڈائجسٹوں میں جو کچھ بھی  چھپتا تھا اس کا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ ایک وقت میں ایک ادارے سے تین سے چار ڈائجسٹ شائع ہوتے تھے اور آپکا دوسرا سوال حقیقت کے قریب تر ہےاور اس کی ایک بہت بڑی وجہ ڈائجسٹوں کا سارا میٹریل ہمیں امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ ڈائجسٹ کی قیمت ہمیں اپنے ملک کے عوام کو دیکھ کر رکھنی پڑتی تھی۔ اب کسی نا کسی کے ساتھ زیادتی تو ہونی ہی تھی تو بے چارہ مصنف  چھڑی کے نیچے آیا۔

ڈائجسٹوں کا سارا سامان ڈالر میں خریدا جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ بھی نہیں بنتا ڈائجسٹ کا۔

اور جہاں تک جانتا ہوں حقیقت لکھنا چاہئیے۔ مگر کچھ حقیقیتں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں در گزر کرنا چاہیئے۔ ہم ایک اسلامی معاشرے کی پیداوار ہیں۔

میں منٹو اور عصمت چغتائی کی حقیقت پسندی کا قائل تو ہوں مگر اس ضبط تحریر میں لانے کا نہیں۔

ہمارے معاشرے میں ماں۔ باپ۔ بھائی۔ بہن۔ میاں بیوی کے رشتے ایسے مقدس ہیں کہ ہم ان کا احوال عام نہیں کرسکتے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں لکھوں گا۔ کہیں یارلوگ فتوے نا لگادیں۔ہم معاشرے میں ہونے والے مظالم پر لکھنا چاہیئے مگر ایک حد تک۔ کیونکہ جب تک کسی بھی چیز میں اعتدال نہیں ہوگا وہ خرابی کی طرف جائے گی۔اعتدال پسند ہو کر لکھیں جتنا سچ لکھنا ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی ایک حد متعین ہے۔

( سباس گل )

سوال  :  بھائ میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ آپ نے زندگی سے کیا کچھ سیکھا ؟ اور کبھی کبھار زندگی میں مشکل وقت بھی آتا ہے،وہ وقت کسے گزرا ، یا پھر مایوس ہو گئے ؟

جواب  :  آج جو کچھ بھی ہوں اسی زندگی کے تجربات کی بھٹی سے نکل کر۔

اور میں اپنے مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہوں۔ یہ راز کی بات کسی کو بتائیے گا نہیں۔ اس کا تجربہ ہوجانے تو پھر سب کے ساتھ شئیر کروں گا۔

        (ختم شد)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ملاقات۔۔ یاسین صدیق۔صبا عیشل

پاکستان کے معروف اور اپنی طرز تحریر اور اسلوب کے واحد ناول نگار،مترجم، افسانہ نگار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے