سر ورق / ڈراما / شاخ نازک پہ آشیانہ(ناول ) قسط 1ابن آس محمد

شاخ نازک پہ آشیانہ(ناول ) قسط 1ابن آس محمد

پہلے ایک قسط ناول پھر اسی پر ڈرامہ اسکرپٹ
( پہلی قسط )

فجر کی اذان فضا میں گونجی تو زندگی بیدار ہوگئی۔
موسم خوش گوار تھا، ہلکی ہلکی خنکی کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔ صدیقی صاحب نے کسمساکر آنکھیں کھولیں اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔
فجر کی اذان کے ساتھ بے دار ہونا اُن کا معمول تھا۔ پنج وقتہ نمازی تو نہ تھے مگر فجر کی نماز عموماً وقت پر پڑھ لیا کرتے تھے۔ پچھلے ڈیڑھ دو ہفتے سے تو باقاعدہ محلے کی مسجد میں بھی جانے لگے تھے۔عمر عزیز کے پچاس ویں برس میں خدا اور مسجد اچانک ہی شدت سے بلاوا دینے لگی تھی۔
صدیقی صاحب اذان کے الفاظ دوہراتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے تو پہلی نظر اپنی سب سے بڑی بیٹی حیا پر پڑی جو وضوبناکر جائے نماز لیے اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی۔
صدیقی صاحب کے ہونٹوں پر پدرانہ شقت پھیل گئی۔ آنکھوں میں جیسے ٹھنڈک پڑگئی۔
حیا نے اُن کے قدموں کی چاپ سن لی تھی۔ کمرے کے دروازے پر ہی ٹھہر گئی۔
”سلام ابوجی!“
”وعلیکم السلام حیا بیٹی….!“ صدیقی صاحب نے اس کے سرپر دست شفقت پھیرا۔
”باقی بہنوں کو بھی اُٹھادیا کیا….؟“ انہوں نے پوچھا۔
”نہیں ابو….“ حیا نے نظریں نیچی رکھتے ہوئے جواب دیا۔’اٹھانے جارہی ہوں ابھی….“
وہ ابو جی سے بات کرتے وقت نظریں جھکالیتی تھی اور مسکراتے ہوئے بات کرتی تھی ،وہ پلکیں جھکاتے ہوئے مزید گویا ہوئی ۔
”آپ نماز پڑھ آئیں…. میں ناشتہ تیار کرتی ہوں۔“
صدیقی صاحب کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
حیا پانچ بہنوں میں سب سے بڑی تھی، اٹھائیس کی ہوچکی تھی پر اب بھی اپنی فطری معصومیت ، شگفتگی، اور دھیمے پن کی وجہ سے بیس بائیس سے زیادہ نہیں لگتی تھی۔
حیا کے بعد اِرم تھی، بائیس برس کی، پھر بیس برس کی ردا تھی،، چوتھے نمبرکی مائرہ، جو ابھی اٹھارہ برس کی ہوئی تھی اور سب سے چھوٹی حرا جو مائرہ سے ایک برس چھوٹی تھی۔
”خوش رہو بیٹی۔“ صدیقی صاحب کے دل سے دُعا نکل کر زبان پر آگئی۔”ٹھیک ہی کہتے ہیں لوگ….بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، اور میرے گھر پر تو یہ رحمت پانچ بار نازل ہوئی ہے۔ کتنا خوش نصیب ہوں میں….؟“
حیا نے آنچل درست کیا، مسکراتے ہوئے بولی۔”ابوجی، آپ کو دیر ہورہی ہے۔ یہاں بیٹیوں کو دعائیں دیتے رہیں گے تو جماعت نکل جائے گی۔“
”ٹھیک کہتی ہو بیٹھی….اچھا میں جارہا ہوں، اُٹھادو باقی بہنوں کو بھی، ورنہ دن چڑھے سوتی رہیں گی۔ اُنہیں سمجھاﺅ، صبح سویرے اٹھنے کی عادت ڈالیں، صحت بھی ٹھیک رہے گی، اور نصیب بھی….“
وہ زیرلب وظیفہ پڑھتے ہوئے گھر سے نکل گئے۔
حیا انہیں جاتے ہوئے دیکھ کر مسکراتی رہی، ایک دل فریب سی مسکراہٹ ہمہ وقت اس کے ہونٹوں پر رقص کرتی نظر آتی تھی۔ ایسی معصوم مسکراہٹ کہ جو بھی اس کی طرف دیکھتا، بے اختیار خود بھی مسکرانے پر مجبور ہوجاتا۔
ابوجی کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ نماز پڑھنی تھی، پھر سب کے لیے ناشتا بنانا تھا، باقی بہنوں کو بھی بے دار کرنا تھا۔
صدیقی صاحب کا گھر خاصا بڑا تھا۔ عمارت قدیم تھی مگر لوگ جدید تھے۔ اچھا کاروبار تھا۔ بہت دولت مند تو نہ تھے، مگر خوش حال تھے۔ زندگی کی ہر نعمت میسر تھی۔
یہ عمارت کوئی بیس برس پہلے صدیقی صاحب نے اس لیے خرید لی تھی کہ انہیں پسند آگئی تھی۔ اس وقت ان کی بیوی بھی حیات تھیں۔ یہ گھر ان کی بیوی کو بہت پسند تھا۔ ہر دیوار اور کمرے کو انہوں نے بڑے چاﺅ سے سجایا تھا۔ ان کا لایا ہوا فرنیچر ،پینٹگز، شوپیس اور بہت سی چیزیں اب بھی اس گھر کا حصہ تھیں۔
بڑے بڑے ہوادار کمرے تھے۔ حویلی کی طرز پر بنے ہوئے اس بڑے سارے گھر سے ملحقہ ایک پائیں باغ بھی تھا۔ جس میں طرح طرح کے درخت، اورسدا بہار پھول دار پودے سارا سال اپنی بہار دکھاتے نظر آتے۔
ارم اور ردا ایک کمرے میں ہوتی تھیں تو شاہدہ اور سائرہ کا اپنا ایک کمرا تھا۔
حیا چوں کہ سب سے بڑی تھی۔ اس لیے وہ اکیلی ایک کمرے میں مقیم تھی، باقی بارہ کمروں میں سے کئی کمرے خالی تھے۔ ایک کمرا بچیوں کی بیوہ پھپو کے قبضے میں تھا۔
نگہت پھپھو اپنی لو میرج کی ناکامی کے بعد اس گھر میں واپس آگئی تھیںاور سب کے سینوں پر مونگ دلتی رہتی تھیں۔ ان سات نفوس کے علاوہ راحیلہ خالہ بھی تھیں جو گھر کی ملازمہ تھیں۔ مگر کوئی بھی برسوں میں انہیں ملزمہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکا تھا۔رشتے خون کے ہوتے ہیں یامحبت سے بنتے ہیں …. وہ ایک طرح سے اس خاندان کا حصہ تھیں …. خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود خونی رشتوں سے زیادہ قریب تھیں۔
حیا جب ردا اور ارم کے کمرے میں آئی تو اس وقت بھی دونوں مدہوش سورہی تھیں۔ صدیقی صاحب ابھی نماز پڑھ کر واپس نہیں آئے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ نماز سے فارغ ہوکر مسجد کے سامنے والے باغیچے میں کچھ دیر چہل قدمی کرکے اور اپنے بچپن کے دوست پیارے بھائی سے کچھ دل کی باتیں بھی کہہ ڈالتے۔ پیارے بھائی اور صدیقی صاحب کا یارانہ لڑکپن کا تھا۔ ساتھ کھیل کود کر جوان ہوئے تھے۔ پیارے بھائی اپنی بیوی کے ساتھ قریب ہی رہتے تھے۔ اکثر ان کے گھر آجاتے یا صدیقی صاحب ان کے گھر چلے جاتے، اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلے ایک دوسرے سے شیئر کرتے، اور ایک دوسرے کی رائے لیتے تھے۔ اس طرح ایک تو بوجھ ہلکا ہوجاتا اور کوئی حل بھی نکل آتا تھا۔
حیا صدیقی نے ارم اور ردا کو سوتے دیکھا تو مسکراکر رہ گئی۔
”ارے…. تم دونوں ابھی تک اٹھی نہیں ہو، چلو اٹھو…. ارم…. ردا….اٹھو….“
دونوں نے اس کی آواز سن لی تھی۔ دونوں نے ایک ساتھ کروٹ بدل کر اپنا رخ دوسری طرف کرلیا۔
”اب اٹھ بھی جاﺅ یار…. !“ حیا نے دونوں کو جھنجوڑ ڈالا۔ مگر دونوں ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ پلکیں مضبوطی سے بند کرلیں۔
”ارم….اٹھونا…. کالج کی دیر ہوجائے گی….سات بج گئے ہیں، پھر نہ کہنا کہ دیر ہوگئی۔“
ارم ایک دم اچھل کر بیٹھ گئی۔
”ارے….سات بج گئے…. اوہ میرے خدا….!
اس نے چونک کر گھڑی کی طرف دیکھا، اور اس کا منہ بن گیا۔ گھڑی میں ابھی سوا چھ بجے تھے۔
”کیا ہے بجو….سونے بھی نہیں دیتی ہیں۔“!“ وہ تنک کر بولی اور لیٹتے ہوئے چادر اوپر لے لی۔حیا نے ان کے اوپر سے چادر کھینچ لی اور تیز لہجے میں کہا۔
”بس، بہت سولیا….’اسی لیے کہتی ہوں کہ رات کو جلدی سوجایا کرو، مگر تم لوگ سنتی کب ہو، چلو اٹھو….ابوجی آتے ہوں گے نماز پڑھ کر….ارے ردا….اب اٹھ بھی چکو۔“
چادر تو اس نے کھینچ لی تھی۔مگر ردا نے پھر بھی اپنی ٹانگیں پیٹ سے لگاکر کروٹ بدل لی ۔ ارم البتہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور برے برے منہ بنانے لگی، اور ساتھ ساتھ اپنے بکھرے ہوئے لمبے بال سمیٹ کر باندھنے لگی۔
”ردا کی بچی….اب اٹھ بھی جاﺅ۔“ حیا جھنجھلاگئی۔
”اچھا ٹھیک ہے، نہیں اٹھوگی نا…. میں بھی دیکھتی ہوں کہ کیسے نہیں اٹھوگی، ابھی ٹھنڈا پانی پڑے گا، ساری نیند ہوا ہوجائے گی۔“
حیا سائیڈ ٹیبل سے گلاس اٹھاکر جگ سے پانی انڈیلنے لگی۔
”ارے باپ رے….! ردا فورااُچھل کر بیٹھ گئی۔چلاتے ہوئے بولی۔
”اے….اے….بجو، پانی مت ڈالنا….میں اٹھ گئی ہوں۔“
ارم کی ہنسی نکل گئی۔ یہ روز کا ڈراما تھا جو صبح صبح ان کے گھر میں ہوتا تھا۔
”چلو، شاہدہ اور راشدہ کو اٹھاﺅ جلدی، نماز پڑھو، میں ناشتہ تیار کررہی ہوں۔“
حیا نے اطمینان سے کیا اور کمرے سے نکل گئی۔ اور اب برے برے منہ بنارہی تھی۔ اور ارم اس کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہی تھی۔
٭٭٭
نماز ختم ہوگئی تھی۔
ابھی اندھیرا نہیں چھٹا تھا۔
صدیقی صاحب تسبیح پڑھتے ہوئے، دروازے کی طرف بڑھے تو مولوی صاحب نے انہیں مسجد کے صحن میں ہی جالیا۔
”السلام علیکم، صدیقی صاحب…. کیسے مزاج ہیں؟“ مولوی صاحب نے مصافحے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھادیا۔ صدیقی صاحب نے چونک کر دیکھا اور خوش دلی سے ان کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لیا۔
”ارے، مولی صاحب…. بس اچھا ہوں…. اللہ کا بڑا کرم ہے۔“
مولوی صاحب ایک نیک اور دھیمے مزاج کے انسان تھے، بڑی بڑی آنکھیں اور ابھری ہوئی جبڑوں کی ہڈیاں،اور دل فریب سی پاکیزہ مسکراہٹ۔
”بھئی صدیقی صاحب، آپ کو تواتر سے فجر کی نماز میں دیکھ رہا ہوں۔ سچ بتاﺅں، بہت خوشی ہورہی ہے۔ اب یہ سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے….!“
صدیقی صاحب نے مسکراکر جواب دیا۔”جی بالکل…. ایسا ہی ہو گا انشاءاللہ ….نماز تو میں پہلے بھی پڑھتا تھا مولوی صاحب…. پہلے گھر پر ہی ادا کرلیا کرتا تھا مگر اب فجر میں مسجد چلا آتا ہوں…. ارے ہاں مولوی صاحب…. آپ نے جو گزارش کی تھی مسجد کے پنکھوں کے لیے…. وہ کام ایک دودن میں ہوجائے گا۔“
مولوی صاحب کے چہرے پر اطمینان دوڑگیا۔جس کا کے لیے صدیقی صاحب کو روکا تھا ،وہ بغیر بولے ہو گیا ۔مسکرا کر کہا ۔”اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، بھئی صدیقی صاحب۔ یہ تو اللہ کا گھر ہے، اللہ کے گھر میں جو کچھ آپ لگائیں گے، وہ ضائع نہیں جائے گا۔“
”میں سمجھتا ہوں مولوی صاحب….!
مولوی صاحب سے رخصت ہوکر صدیقی صاحب مسجد سے باہر آگئے۔ مسجد کے سامنے ایک ویران سا باغیچہ تھا۔ اب ان کا رخ، پارک کی طرف ہوگیا۔ پیارے بھائی سے یہیں ملاقات ہوتی تھی ان کی صبح سویرے….
٭٭٭
حیا باورچی خانے میں آئی تو راحیلہ خالہ اس سے پہلے ہی وہاں آکر کام میں مصروف ہوچکی تھیں…. راحیلہ خالہ ان کے گھر کی پرانی ملازمہ تھیں۔ ان بچیوں نے جب سے ہوش سنبھالا تو انہوں نے دیکھا کہ پورا گھر راحیلہ خالہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے۔ خالہ سے ان کا کوئی قریبی یا خونی رشتہ نہیں تھا۔ مگر اب وہ برسہا برس سے اس گھر کا حصہ تھیں۔ گھر کا فرد بننے کے لیے یا دل میں گھر کرنے کے لئے کسی خونی رشتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سو راحیلہ خالہ کو بھی اس گھر کا فرد بننے میں دیر نہیں لگی تھی۔ گھر کی ہر ذمے داری ان کی تھی۔ گھر کا ہر معاملہ وہی دیکھتی تھیں، کہنے کو تو اس گھر میں ان کے علاوہ نگہت پھپو بھی تھیں۔ مگر خونی رشتہ ہونے کے باوجود ان کا اس گھر سے تعلق محض اتنا تھا کہ وہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتی تھیں اور ہر کسی سے جلتی بھنتی رہتی تھیں۔ راحیلہ خالہ چالیس کے پیٹے میں تھیں۔ عام شکل وصورت والی راحیلہ خالہ کے چہرے پر ہمیشہ ایک خاص طرح کا اطمینان ، سکون اور خوشی نظر آتی تھیں۔
حیا نے چائے کا پانی چڑھادیا تھا، راحیلہ خالہ پراٹھے بنانے کے لیے آٹا گوندھ رہی تھیں۔انہوں نے چونک کر حیا کو دیکھا اور بولیں ۔
”حیا بیٹی….، تم سے کتنی بار کہا ہے کہ یہ ناشتہ، کھانا پکانا، سب میری ذمے داری ہے….، تم ان کا موں میں ہاتھ مت ڈالا کرو….، مگر تم میری تو سنتی ہی نہیں ہو ….جب دیکھو کچن میں آجاتی ہو، …. چھوڑو ہٹو، میں بنالوں گی سب….“
حیا نے مسکراکر جواب دیا۔”نہیں راحیلہ آپا…. مجھے مت روکا کریں ….مجھے اچھا لگتا ہے یہ سب…. اور پھر آپ بھی تو اکیلی پڑجاتی ہیں…. اتنا بڑا گھر ہے، اتنے بہت سے کام ہوتے ہیں۔ تھک کر چور ہوجاتی ہوں گی…. مجھ سے نہیں دیکھا جاتا یہ سب۔“
راحیلہ خالہ کے ہاتھ رک گئے۔ محبت پاش نظروں سے حیا کی طرف دیکھنے لگیں۔ پھر گویا ہوئیں تو گلارندھ گیا۔ ”حیا بیٹی….کہنے کو تو میں ملازمہ ہوں اس گھر کی….مگر تم لوگوں نے کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیا….گھر کا فرد ہی سمجھا ہے ہمیشہ….اللہ بخشے تمہاری امی کو…. ان کی ساری خوبیاں تم میں آئی ہیں، جیسی نیک دل اور خیال رکھنے والی وہ تھیں، عین ویسی ہی تم ہو…. انہوں نے بھی مجھے کبھی اکیلے کام نہیں کرنے دیا اس گھر میں….“
یہ وہی وقت تھا جب نگہت پھپھو باورچی خانے کے دروازے پر آگئیں۔ وہ وہیں کھڑی راحیلہ خالہ کی باتیں سنتی رہیں اور جب برداشت نہ ہوسکا تو حسب عادت ناگوار لہجے میں بولیں ۔
”تمہیں تو ویسے بھی بہانے چاہئیں کام نہ کرنے کے لیے ….بہلا پھسلاکر، چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے کسی نہ کسی بچی کو ساتھ لگالیتی ہے….، اور گھر کا آدھا کام ان سے ہی کرالیتی ہو….نوکر و گھر میں ،مگر باتوں باتوں میں رشتے جوڑ لیتی ہو ….بھئی چالاکی تو تم سے سیکھے راحیلہ ….ماں گئی میں تو ….“
راحیلہ خالہ نے چونک کر دیکھا، اور ان کی بھی تیوریاں چڑھ گئیں۔
راحیلہ خالہ اور نگہت پھپو میں خداواسطے کا بیر تھا۔ وہ نگہت پھپو کی کسی بات کو جانے نہیں دیتی تھیں، ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتی تھیں، اور اکثر جوابی بات کا پتھر پھینک کر ماردیا کرتی تھیں مگر اس وقت جانے کیوں چپ سی ہوگئیں ، شاید صبح صبح فضیتا کرنے کے موڈ میں نہیں تھیں۔
راحیلہ خالہ کی چپ سے نگہت پھپھو کو اور شہہ مل گئی۔
”غضب خدا کا….، یہ وقت ہوگیا، اور چائے ابھی تک نہیں بنی….، کیا شام تک یوں ہی روٹیاں بیلتی رہوگی یا چائے بھی دوگی۔“
راحیلہ خالہ نے خاموش نظروں سے حیا کی طرف دیکھا، حیا نے آنکھوں سے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیااورمسکراکر بولی۔ ”ارے نگہت پھپو….بس ہوگئی چائے تیار….آپ جائیں اپنے کمرے میں…. ایک ابال آجائے ذرا…. راحیلہ خالہ ابھی چائے پہنچاتی ہیں۔“
راحیلہ خالہ اب خاموشی سے ٹکر ٹکر نگہت پھپھو کو دیکھ رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر تو نگہت پھپھو کے تن بدن میں آگ ہی لگ گئی۔
”گھور کے کیا دیکھتی ہے مجھے…. آنکھیںنکال دوں گی…. ٹھیک ہی تو کہا ہے میں نے….کون سے تیر برچھے ماردیے جو آنکھوں ہی آنکھوں میں کھارہی ہے۔“
حیا فوراً راحیلہ خالہ اور نگہت پھپھو کے درمیان آگئی۔”ارے پھپھو…. آپ جائیں، میں پہنچوارہی ہوں ابھی چائے….“
نگہت پھپھو جو شاید آج لڑنے کے موڈ سے بیدار ہوئی تھیں،”ہنہ“ کرکے واپس چلی گئیں۔ حیا نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔اور مسکرا کر راحیلہ خالہ کی طرف دیکھنے لگی جو سر جھٹک کر اپنے کام میں لگ گئی تھیں ۔
٭٭٭
پارک میں حسب معمول چہل پہل تھی۔ لوگ صبح سویرے ہی یہاں آجاتے، چہل قدمی کرتے اور ورزش کرتے تھے۔ پارک کے درمیان میں گھاس کے بڑے بڑے قطعے تھے اور باﺅنڈری وال کے ساتھ ساتھ اندر کی طرف جاگنگ ٹریک تھا۔ یہ ایک خاصا طویل اور چوڑا پارک تھا۔ گھنے اور سایہ دار درختوں کی بہتات تھی اور جابجا سستانے اور بیٹھ کر نظارہ کرنے کے لئے سنگی نشست گاہیں بھی تھیں….
صدیقی صاحب دو ہی چکر میں ہانپ گئے اور سستانے کو بیٹھ گئے، ان کے عزیز دوست پیارے بھائی تین چکر لگاچکے تھے اورجب وہ چوتھے چکرکے ارادے سے ان کے سامنے سے گزرے تو صدیقی صاحب نے روک لیا۔
”رک جاﺅ بھئی…. ہانپ گئے ہو، تھوڑا سانس تو لے لو۔“
”ارے….بس، تھک گئے کیا….؟“ پیارے بھائی نے ان کے سامنے رک کر گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔ ”میں تو ابھی دو راﺅنڈ اور لگاﺅں گا….
”ہاں یار، تھک گیا ہوں“ صدیقی صاحب نے سچ تسلیم کرلیا۔
”ہاہاہا….“ پیارے بھائی نے قہقہہ لگایا۔”تم تو بوڑھے ہوگئے ہویار….!
صدیقی صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”ہاںہاں…. پانچ پانچ بیٹیاں جوان ہیں…. ذمے داریوں کے بوجھ نے وقت سے پہلے بوڑھا کردیا ہے۔“
پیارے بھائی ہنسنے لگے۔”حیرت ہے، یار صدیقی…. تو نے بیٹیوں کو کبھی بوجھ نہیں سمجھا۔ یہ اچانک آج اپنے بڑھاپے کا الزام بیٹیوں کو کیسے دے ڈالا۔“‘
”’تو ادھر بیٹھ….!“ صدیقی صاحب نے ہاتھ پکڑ کر پیاے بھائی کو اپنے قریب بٹھالیا۔
”کوئی بیٹی، باپ کو بوڑھا نہیں کرتی پیارے بھائی…. بیٹی تو رحمت ہوتی ہے…. میں تو خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے پانچ بٹیاں دی ہیں…. بس فکر یہ ہے کہ سب خیر سے اپنے اپنے گھر کی ہوجائیں…. ہنسی خوشی اپنی زندگی گزاریں….کوئی کمی نہ ہو انہیں زندگی میں….کوئی دکھ ان کی آنکھوںمیں آنسو نہ لائے۔“
پیارے بھائی نے ایک طویل سانس لی۔
ہاں میاں…. کہتے تو تم ٹھیک ہو، تم نے اپنی بیٹیوں کو ہاتھ کا چھالا بناکر پالا ہے۔ خدا تمہاری دعا قبول کرے….تمہاری بیٹیوں کا نصیب اچھا ہو….“
پھر ایک دم سے انہیں یاد آیا۔
”ارے ہاں صدیقی…. تم نے بتایا تھا کہ حیا بیٹی کی کہیں بات چیت چل رہی ہے….کیا رہا….!“
صدیقی صاحب کے چہرے پر ایک دم رونق دوڑگئی۔
”دعا کرو پیارے بھائی…. سب کچھ اچھے سے ہوجائے۔ بہت اچھا گھرانا ہے۔ اچھے لوگ ہیں، آج شام میں آرہے ہیں لڑکے والے، اپنی حیا بیٹی کو دیکھنے….“
”یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔“ پیارے بھائی حقیقتاً خوش ہوگئے مگر پھر فوراً ہی کچھ سوچ کر یکدم سنجیدہ بھی ہوگئے۔
”لیکن یار…. کبھی کبھی میں تمہارے بارے میں سوچتا ہوں تو فکر مند ہوجاتا ہوں۔“
”کیسی فکر….!“ صدیقی صاحب نے چونک کر دیکھا۔
”سوچتا ہوں…. تم اپنی بیٹیوں سے جس طرح اٹیچڈ ہو…. ان کے بغیر ایک پل بھی تو رہا نہیں جاتا تم سے…. رخصت کیسے کروگے اپنی بیٹیوں کو….کیسے برداشت کروگے ان کی جدائی….؟
صدیقی صاحب بے سوچ سمجھے دوسری طرف دیکھنے لگے، چند لمحے کو تو وہ بول ہی نہ پائے۔ پھر جب گویا ہوئے تو آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔
”ٹھیک کہا تم نے پیارے بھائی…. اپنی بچیوں کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے….پر….رخصت تو کرنا پڑتا ہے….بیٹیاں تو چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں….وقت ٓنے پر چوں چوں کر کے اڑ جاتی ہیں ….جدائی کا دُکھ تو بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی ماں باپ کے حصے میں آجاتا ہے….“
اتنا کہہ کر وہ چپ سے ہوگئے، پھر ایک طویل سانس لے کر بولے۔
”اور انہیں تو جانا ہی ہوتا ہے…. ان کا گھرانہیں بلا رہا ہوتا ہے…. دعا کرویار….اس بھاری ذمے داری سے خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹ جاﺅں۔“
پیارے بھائی نے ان کے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
”سب ٹھیک ہوگا بھائی صدیقی….، جن بچیوں کی تربیت اچھی ہو….وہ حالات سے لڑہی لیتی ہیں، چاہے حالات کیسے بھی ہوں….“
پھر بات بدل کر بولے ۔” تم کو لگتا ہے بری طرح تھک گئے ہو….میں اپنے دو راﺅنڈ پورے کرلوں….، پھر چلتے ہیں“
پیارے بھائی کھڑے ہوگئے اور ہولے ہولے دوڑتے ہوئے دور چلے گئے۔ صدیقی صاحب مسکراتی ہوئی نظروں سے انہیں دور جاتے ہوئے دیکھتے رہے، پھر زیرلب بڑبڑائے۔
”پیارے بھائی بھی کتنا پیارا انسان ہے…. لڑکپن کا دوست ہے….اچھا ہی اچھا سوچتا ہے میرے لیے….اچھا دوست بھی کتنی بڑی نعمت ہوتا ہے۔“
٭٭٭
صدیقی صاحب آفس جانے کےلئے تیار ہوکر میز پر آئے تو حیا نے اخبار کے ساتھ چائے اور ناشتہ بھی رکھ دیا۔ صدیقی صاحب خبروں پر نظریں پھیلاتے ہوئے چائے کے گھونٹ حلق سے اتارنے لگے۔
حیا باورچی خانے کی طرف پلٹی تو نگہت پھپھو نکل کر ان کے قریب آگئیںاور ذرا دھیمی آواز میں بولیں ۔”بھائی صاحب…. مجھے نہیں لگتا کہ حیا کو یہ رشتہ پسند آئے گا….“
چائے کا گھونٹ صدیقی صاحب کے حلق میں پھنس گیا۔ حیران نظروں سے اپنی بہن کی طرف دیکھا۔ ”کیا مطلب….!“
”مطلب یہ….“ کہتے ہوئے نگہت پھپھو کرسی گھسیٹ کر قریب بیٹھ گئیں ۔
”آپ کے کہنے پر لڑکے کی تصویر دکھائی تھی میں نے حیا کو….!“
”پھر….!“ کچھ کہا کیا حیا بیٹی نے….؟“ چائے کا گھونٹ بڑی مشکل سے حلق سے اتارتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
”نہیں….“ نگہت پھپھو نے انکار میں سرہلایا۔
”کہا تو کچھ بھی نہیں…. تصویر دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اور خاموش ہی رہی….“
”تو….!!‘ صدیقی صاحب کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
”اس کی خاموشی…. ناپسندیدگی کا پتا دیتی ہے….آپ تو سمجھ دار ہیں…. خاموشی آدھی ناں ہوتی ہے….“
صدیقی صاحب کا دماغ گھو م گیا۔تڑپ کر بولے۔ ”نگہت….! تم تو بس…. ہر بات میں منفی پہلو تلاش کرتی ہو…. خاموشی اگر آدھی ناں ہوتی ہے تو آدھی ہاں بھی تو ہوتی ہے۔“
”میں نے تو ایک بات کہی ہے۔“نگہت پھپو نے پہلو بدلا۔
”بہتر ہوگا بھائی صاحب ،لڑکے والوں کو گھربلانے سے پہلے حیا سے ایک بار پھر سے پوچھ لیں، کہیں ایسا نہ ہو پھر انکار کردے…. درجنوں رشتوں سے انکار کرچکی ہے اب تک…. ممکن ہے کوئی اسے پسند ہو اور….!‘
صدیقی صاحب کو غصہ آگیا۔ غراکر بولے۔
”نگہت….“ خبردار جو تم نے میری کسی بچی پر انگلی اٹھانے کی کوشش کی تو….ہر بات میں کیڑے نکالتی ہو، دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی اپنی یہ عادت بدلو نگہت…. میری بیٹیاں کیسی ہیں…. تم اچھی طرح جانتی ہو، پھر بھی اپنی زبان پر ایسی غلط باتیں لانے سے چوکتی نہیں ہو۔“
”آپ تو خوامخواہ ناراض ہورہے ہیں….میں نے تو ایک بات کہی تھی۔“
”تمہاری یہ ایک بات بسے بسائے گھر اجاڑدیتی ہے….“ صدیقی صاحب کے غصہ کم نہیں ہوا تھا۔ ”خبردار جو آئندہ کبھی ایسی بات کہی تو…. میں اپنی بیٹیوں کے بارے میں کوئی الٹی سیدھی بات نہیں سن سکتا….سمجھیں تم….!!“
پھرکہاں کا ناشتہ، کیسا ناشتہ….
ان کی طبیعت ہی مقدر ہوگئی تھی۔ غصے میں ناشتہ ادھورا چھوڑ کر کھڑے ہوگئے، اور نگہت پھپھو کو گھورتے ہوئے باہرچلے گئے۔
نگہت ان کی حقیقی بہن تھیں۔ اور ان کا خون جلانے میں ماہر تھی۔ وہ غصے میں کھولتے ہوئے باہر آگئے ۔ ڈرائیور نے گاڑی پورچ میں لگادی تھی۔ منہ ہی میں بڑبڑاتے ہوئے وہ گاڑی میں آکر بیٹھ گئے۔
اسی وقت ارم کچھ کتابیںہاتھوں میں تھامے دوڑتی ہوئی اندرسے باہر آئی۔
”ابوجی….!“ اس نے آواز لگائی جوصدیقی صاحب کے کانوں تک پہنچ گئی۔ ڈرائیور گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا۔
”رکنا ڈرائیور….!“
ارم اتنی دیر میں گاڑی کے قریب آگئی۔
”ابو جی، مجھے کالج چھوڑدیں گے، آج دیر ہوگئی ہے، اور دوسری گاڑی بھی مکینک کے پاس گئی ہوئی ہے۔“
”ہاں ہاں بیٹھو….!“ انہوں نے مسکراکر کہا۔ ارم کو قریب دیکھ کر انہوں نے اپنے غصے پر قابو پالیا تھا۔
”ڈرائیور…. ہمیں کالج ہوتے ہوئے جانا ہے۔“
ڈرائیور نے گاڑ ی آگے بڑھادی ۔ چوکی دار نے دروازہ کھول دیا تھا۔ گاڑی گھر سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
نگہت پھپھو کو نہیں معلوم تھا کہ راحیلہ خالہ نے ان کی اور صدیقی صاحب کی ساری گفتگو سن لی ہے۔ باورچی خانہ ڈائننگ ٹیبل سے دور ہی کتنا تھا۔ سرگوشیوںمیں ہونے والی گفتگوبھی باورچی خانے کے کھلے دروازے سے اندر تک پہنچ جاتی تھی۔
جب نگہت پھپھو اپنے کمرے میں چلی گئیں تو راحیلہ خالہ نے پوری بات جاکر حیا کو بتادی۔ حیا حیرانی سے ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ سن رہی تھی۔ حیا کو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔بے یقینی سے بولی۔”اچھا…. ایسا کہا نگہت پھپو نے….!“
”ہاں….تو کیا میں جھوٹ کہہ رہی ہوں۔“
”پھر….!!“
”پھر کیا تھا….تمہارے ابو جی کا پارہ چڑھ گیا، ایک دم سے لال پیلے ہوگئے….ڈپٹ کر کہا، کان کھول کر سن لو نگہت، میں اپنی بیٹیوں کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتا….، خبردار جو کبھی آئندہ ایسی بات بھی زبان پر لائیں تو….“
حیا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایک اطمینان بھری سانس کے ساتھ بولی۔
”ابو جی نے ہمیشہ ہمارا سرفخر سے بلند کیا ہے….کبھی محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ ہماری امی ہمارے ساتھ نہیں ہیں…. راحیلہ خالہ…. یہ گھر ہمارے لیے گھر نہیں ہے جنت ہے، جنت….اس جنت کو چھوڑ کر جانے کی ہمت نہیں ہوتی ہے…. میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوجاتی ہوں کہ جب ہم سب بہنیں اپنے گھر کی ہوجائیں گی تو ابوجی کتنے اکیلے ہوجائیں گے اس وقت….!“
”ہاں…. یہ تو ہے….!“ راحیلہ خالہ اس کی ذہنی حالت سمجھ رہی تھیں۔مگر چونک کر بولیں ۔”اس کا مطلب ہے ….کیا یہی خوف تمہیں ہر رشتہ ٹھکرانے پر مجبور کردیتا ہے…. اسی لیے تم ہر آنے والے رشتے کو انکار کردیتی ہو۔“
”نہیں راحیلہ خالہ…. یہ بات نہیں ہے۔“ حیا نے پوری سچائی سے جواب دیا۔
”ہر لڑکی کو ایک اچھے گھر اور اچھے ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے….مگر راحیلہ خالہ….اچھا گھر اور اچھا جیون ساتھی آسانی سے نہیں ملتا….نصیب سے ملتا ہے….“
”ہاں بیٹی…. سارے کھیل نصیب کے ہی تو ہوتے ہیں۔“ راحیلہ خالہ کو اس کی بات سے اتفاق تھا۔
”ویسے حیا بیٹی…. یہ لڑکا پسند تو ہے نا تمہیں…. تصویر میں تو بہت اچھا لگا ہے، سچ بتاﺅں، یہ لڑکا مجھے تو بہت پسند آیا ہے….تمہاری جوڑی بہت اچھی رہے گی اس کے ساتھ….!“
حیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف ہلکی سی مسکراہٹ پر اکتفا کیا اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔ راحیلہ خالہ اس کے یوں نظریں چرالینے پر مسکرااٹھیں…. حیا کا یہ انداز، یہ خاموشی، اس کی فطری حیا کا اولین تقاضا تھا۔
٭٭٭
راشدہ، شاہدہ اور ردا ہمیشہ دیر سے ناشتہ کرتی تھیں۔ جب ان کے ابو جی آفس کے لیے نکل جاتے تو وہ ناشتے کی میز پر آتی تھیں۔ راحیلہ خالہ اس لیے ان کا ناشتہ بعد میں ہی تیار کرتی تھیں۔
تینوں بہنیں فریش ہوکر ناشتے کی میز پر آئیں تو راحیلہ آپا ان کے لیے ناشتے کا سامان اٹھاکر آگئیں۔ اور چیزیں میز پر رکھتے ہوئے بولیں۔
”لو بچیو، جلدی جلدی ناشتہ کرلو…. بہت کام پڑے ہیں کرنے کے، پھر تیاری بھی کرنی ہے….“
”تیاری….!!“ راشدہ چونکی”کیسی تیاری راحیلہ خالہ!“
”کہیں جارہی ہیں آپ راحیلہ خالہ….؟“ شاہدہ نے ان کی طرف دیکھا۔
”ارے میں نے کہاں جانا ہے شاہدہ بیٹی….“ راحیلہ آپا نے خالی برتن ٹرے میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
”آج لڑکے والے آرہے ہیں نا….ان کے لیے تیاری نہیں کرنی کیا!“
”آپ تو ایسے فکر مند ہورہی ہیں راحیلہ خالہ، جیسے لڑکے والے آپ کو دیکھنے آرہے ہیں۔“ ردا نے ہنستے ہوئے کہا تو تینوں کی ہنسی نکل گئی۔
راحیلہ خالہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔
”میرے دن تو لد گئے بچیو…. مجھے کس نے دیکھنا ہے اب…. اب تو تم لوگوں کی باری ہے…. تم دیکھنا لائن لگے گی….ایک کے بعد ایک….ایک کے بعد ایک….چڑیوں کی طرح اُڑجاﺅگی….دیکھتے دیکھتے اس گھر کو سونا کرجاﺅگی….!“
ردا نے ایک بار پھر چہک کر کہا۔”راحیلہ خالہ….آپ نے تو شادی ہی نہیں کی…. آپ بولیں تو ہم ڈھونڈیں آپ کے لیے کوئی اچھا سا لڑکا۔“
سب کی کھی کھی گھر میں گونجنے لگی۔
”ارے،ایک زبردست ترکیب ہے۔“ راشدہ نے چٹکی بجاکر کہا۔
”کیسی ترکیب؟“ یہ شاہدہ تھی۔
”آج شام کو حیا بجو کو دیکھنے کے لیے جو لوگ آرہے ہیں۔ انہوںنے بجو کی تصویر تو دیکھی ہی نہیں….کیوں نہ بجو کی جگہ راحیلہ خالہ کو سجاسنوار کر گھونگھٹ ڈال کر ان کے سامنے بٹھادیں….سچ بڑا مزہ آئے گا، شکل دیکھنے والی ہوجائے گی ہونے والے دولہا بھائی کی جب وہ بجو کی جگہ راحیلہ خالہ کو دیکھیں گے تو….کیوں؟“
ہنسی تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی، راحیلہ خالہ بھی ان کے ساتھ بچیوں کی طرح ہنس رہی تھیں۔
اسی وقت نگہت پھپھو تلملاتی، بل کھاتی ہوئی وہاں آگئیں۔ راحیلہ کو یوں بچیوں کے ساتھ ٹھٹے مارتے دیکھا تو تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی ان کے۔
”بس، ہوگیا دن شروع….پھوٹنے لگے قہقہے….، تم لوگوں کو دیوانوں کی طرح ہنسنے کے سوا اور بھی کوئی کام ہے کہ نہیں….کیوں ہنس رہی ہو گلا پھاڑ پھاڑ کر….
”نگہت پھپھو…. یہ راشدہ کہہ رہی ہے کہ لڑکے والوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔“ ردا نے بتانا شروع کیا۔
”کیسا مذاق….؟“
”یہ کہہ رہی ہے کہ بجو کی جگہ راحیلہ خالہ کو لڑکی بناکر ان کے سامنے لے جاتے ہیں، سچ بڑا مزہ آئے گا۔“
سب اس مذاق کے تصور سے ہی ایک بار پھر کھی کھی کرنے لگیں۔ راحیلہ خالہ اب ہنس تو نہیں رہی تھیں۔ بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کررہی تھیں، مگر مسکراہٹ تو ہونٹوں پر جم چکی تھی۔
”بس، فضول باتیں کرالو تم لوگوں سے….“ نگہت پھپھو جانے کیوں اچانک آپے سے باہر ہوگئیں۔ اور اپنی ساری توپوں کا رخ ایک دم راحیلہ خالہ کی طرف کرلیا۔
”اور یہ تم کیوں ان بچیوں کے ساتھ دانت نکال رہی ہو، کتنی دیر ہوگئی تم سے کہا تھا کہ میرے لیے ایک کپ چائے اور بنادو….مگر مجال ہے جو تم نے سن لیا ہو….“
”ابھی دیتی ہوں لاکر….!“ راحیلہ خالہ نے جواب دیا۔
”خاک دوگی اب ….تم جاﺅ…. تمہیں دانت چمکانے اور ہنسی ٹھٹھول سے فرصت ملے تو کوئی کام کروگی نا گھر میں….لڈو پھوٹ رہے ہوں گے تمہارے من میں تو یہ سوچ سوچ کرکہ تمہیں دلہن بناکر لڑکے والوں کے سامنے لے جایا جائے….کیوں؟ بڈھی کھوسٹ ہوگئی ہو، جھریاں پڑگئی ہیں، مگر ابھی تک حسرت ختم نہیں ہوئی دل سے شادی کرنے کی….کیوں؟“
اب راحیلہ خالہ سے برداشت نہ ہوا۔ تڑپ کر بولیں۔ ”مجھے کاہے کی حسرت ہوتی…. جن کو آگ لگتی ہے، حسرت ہوتی ہے وہ ستر ہ برس کی عمر میں ہی کسی کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلیتی ہیں….اور پھر جب وہ کھاپی کر مزے کرکے چھوڑکے بھاگ جاتا ہے تو پھر بے شرمی سے گھر آکر بیٹھ جاتی ہیں۔“
نگہت پھپھو کے نیچے سے اوپر تک آگ لگ گئی۔
”یہ تم مجھے کہہ رہی ہو….؟“
”اگر تم نے یہ حرکت کی ہے تو ظاہر ہے بیبی، تمہیں ہی کہہ رہی ہوں۔“
”دیکھ راحیلہ….!“ نگہت پھپھو بری طرح غرائیں۔
”مجھ سے زبان مت چلانا۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا….اپنی طرح باولی مت سمجھنا مجھے….بہت چنٹ ہوں میں، سمجھیں نا؟“
راحیلہ خالہ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دے دیا۔
”اور تم بھی مجھ سے اس لہجے میں بات نہ کرنا….مجھے پتا ہے تم کیسی ہو، تم سے برا پہلے کوئی ہوا ہے جو اب ہوگا۔“
کہتے ہوئے راحیلہ خالہ، باورچی خانے کی طرف چلی گئیں۔
”کیا کیا….کیاکہا….!“ نگہت پھپو تلملاتے ہوئے، بل کھاتے ہوئے راحیلہ کے پیچھے باورچی خانے میں گھس گئیں۔
لڑکیوں کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے ہی تھی، باورچی خانے سے دونوں کی جنگ کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔ پھر کوئی برتن گرنے کی آواز آئی۔
ردا نے ایک طویل سانس لے کر کہا۔
”لوجی، ہوگیا ہمارے گھر میں دن شروع….!“
راشدہ اور شاہدہ جی کھول کر ہنس رہی تھیں، ردا بھی ساتھ ہنس رہی تھی….یہ ان کے گھر کا روز کا معمول تھا۔
٭٭٭
راستے بھر ارم اپنے ابوجی سے باتیں کرتی رہی۔
سڑکوں پر خلاف معمول خاصا رش تھا۔ آج صبح سویرے کسی وی آئی پی کو ایئرپورٹ تک جانا تھا جس کی وجہ سے سب ہی لوگ دفتر، اسکول، کالج اور اسپتال وقت پر پہنچنے سے محروم ہوگئے تھے۔ پھر بھی جب ان کی گاڑی کالج گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو کالج شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔
ارم گاڑی سے اترنے لگی تو صدیقی صاحب نے تاکید کرنا مناسب سمجھا۔
”اچھا بیٹی….!آج ذرا وقت سے گھر آجانا….کسی سہیلی کے گھر مت چلی جانا….حیا بیٹی کو دیکھنے آرہے ہیں نا آج….لڑکے والے!“
”جی ابوجی….یاد ہے مجھے۔“ ارم نے جلدی سے کہا۔”خدا حافظ۔“
وہ کتابیں سمیٹ کر گاڑی سے اترگئی۔
”چلو بھئی ڈرائیور….“ صدیقی صاحب نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔
ابھی گاڑی گھوم ہی رہی تھی کہ ارم لپک کر اندرونی گیٹ تک پہنچ گئی اسی وقت ایک لڑکے نے اس کا بازو پکڑلیا اور سرگوشی میں کہا۔
”ہائے، جان من، آج اتنی دیر لگادی….! کب سے تمہارا انتظار کررہا ہوں۔“
ارم نے بے رخی سے ہاتھ کو جھٹکا دے کر بازوچھڑایا، اور اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر بولی۔”ابھی دور رہو….، قریب مت آﺅ، آج ابو جی چھوڑنے آئے ہیں مجھے….!“
لڑکے نے گھبراکر پلٹ کر دیکھا۔ ارم کے ابوجی کی گاڑی گھوم چکی تھی اور بیرونی گیٹ سے باہر نکل رہی تھی۔ اس نے مسکراکر کہا۔
”ابوجی….!!! تم اپنے ابوجی سے اتنا ڈرتی کیوں ہو….؟“
”تمہیں ڈر نہیں لگتا….؟“
”بالکل نہیں، میں کیوں ڈرنے لگا بھلا۔ “ اس نے بے خوفی سے کہا اور اس کے کاندھے پر بے تکلفی سے ہاتھ رکھا تو ارم ہنس پڑی۔
”میں سمجھ گئی…. ابو جی جاچکے ہیں اس کا مطلب ہے۔“
ہنستے ہوئے اس نے پلٹ کر دیکھا تو واقعی اس کے ابوجی کی گاڑی باہر جاچکی تھی۔
لڑکے نے بہادری سے کہا۔”مگر میں واقعی تمہارے ابوجی سے نہیں ڈرتا…. محبت کرتا ہوں تم سے…. اور محبت کرنے والے کسی سے نہیں ڈرتے۔“‘ ۔
ارم مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
وہ سہیل تھا…. اس کا بوائے فرینڈ، اِسی کالج میں پڑھتا تھا۔ پچھلے سات آٹھ ماہ سے وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے ۔ یہ پسندیدگی بڑھتے بڑھتے محبت میں تبدیل ہوچکی تھی، مگر اس محبت کے بارے میں ابھی ان دونوں کے سوا کسی کو کچھ پتا نہیں تھا، حتیٰ کہ ان کے قریبی دوست بھی اس محبت کو محض بہت اچھی دوستی ہی تصور کرتے تھے۔
”ارے سہیل…. میرے ابو آگئے….!!“ ارم نے اچانک گھبراکر کہا، تو سہیل کی سٹی گم ہوگئی، ایک دم سے گھبراکر پلٹا تو ارم کے ابو جی کہیں نظر نہ آئے۔ البتہ ارم کا کھنکتا ہوا قہقہہ ضرور اس کی سماعت سے ٹکرایا۔
”اچھا جی….، تم تو محبت کرنے والے ہو، اور کسی سے ڈرتے بھی نہیں ہو، پھر ابو جی کا نام سنتے ہی چھکے کیوں چھوٹ گئے….؟“
سہیل بری طرح جھینپ گیا۔ ارم نے لاجواب کردیا تھا اسے۔ اور وہ ہمیشہ لاجواب کردیتی تھی اسے….محبوبہ لا جواب ہو تو ،محبوب کو بھی لا جواب کر دیتی ہے ۔
٭٭٭
صدیقی صاحب کالج سے نکل کر کچھ ہی فاصلے پر تھے کہ آفس سے ان کے منیجر کا فون آگیا تب انہیں یاد آیا کہ انہوں نے منیجر کو صبح جلدی بلایا تھا ایک اہم میٹنگ کے لیے۔ وہ فون ریسیوکرکے اس سے باتیں کرنے لگ۔ بتایا کہ ابھی پہنچ رہا ہوں۔
”اچھا ٹھیک ہے صفدر…. میں کچھ ہی دیر میں آفس پہنچ رہا ہوں، تم ایسا کرو کہ دونوں فائلیں نکال لو….، میں آتا ہوں۔“
انہوں نے فون بند کیا تو چونک سے گئے۔ عقبی نشست پر ان کے قریب ہی ارم کی ایک کتاب رکھی ہوئی تھی۔ شاید ارم اپنی کتاب گاڑی میں ہی بھول گئی تھی۔
”ارے….! یہ ارم بٹیا کی کتاب تو گاڑی میں ہی رہ گئی…. ڈرائیور…. گاڑی گھمانا ذرا….یہ کتاب ارم کو دینی ہے۔“
ڈرائیور نے حکم کی تعمیل میں اگلے یوٹرن سے گاڑی گھمادی۔
چند منٹ بعد ان کی گاڑی کالج میں دوبارہ داخل ہورہی تھی۔ ڈرائیور نے گاڑی ایک طرف لگادی ….عین اسی وقت صدیقی صاحب کی نظر ارم پر پڑی، وہ گاڑی کے شیشے میں سے نظرآرہی تھی۔ان کی نظروں کے سامنے ایک نوجوان لڑکے سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی ہوئی ایک کار کی طرف بڑھ رہی تھی۔
صدیقی صاحب دم بخود رہ گئے۔ سکتے کی سی کیفیت میں وہ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ارم اس لڑکے کے ساتھ اس کی کار میں اگلی نشست پر بیٹھ گئی۔ کتابیں پچھلی نشست پر پھینک دیں۔
ان کی نظروں کے سامنے سے وہ کار کالج کے گیٹ سے باہر کی طرف چلی گئی۔
”لائیں صاحب، کتاب دیں میں چھوٹی مالکن کو دے آتا ہوں۔“ ڈرائیور کی آواز سے صدیقی صاحب چونک گئے۔
”نن….نہیں، آفس چلو…. وہ شاید کلاس میں چلی گئی ہوگی۔ ”انہوں نے بڑبڑاکر کہا۔
ان کے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگی تھیں۔ آفس پہنچتے پہنچتے انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے اعصاب پر قابو پایا….
وہ تو شکر ہے گاڑی خود نہیں چلارہے تھے۔ کہیں ٹھوک دیتے۔
٭٭٭
شام کووقت مقررہ پر لڑکے والے صدیقی صاحب کے گھر آگئے۔
لڑکے کے والد ارسلان بیگ ایک پڑھے لکھے، شریف صورت شفیق، نرم خو اور مہذب انسان تھے، بات کرتے تو لگتا لہجے میں چینی گھلی ہوئی ہے، ایک فقرہ بھی بغیر مسکرائے ادا نہیں کرتے تھے، لہجے کا دھیما پن، خلوص اور سچائی ان کی آنکھوں سے بھی چھلکتا تھا۔ روشن آنکھیں، کشادہ پیشانی، کلچر ڈ لہجہ، باتوں میں رکھ رکھاﺅ، لہجے اور اندازمیں ٹھہراﺅ، اور ایک خاص قسم کا وقار جو ان کی شخصیت میں تھا وہ سوائے مالی آسودہ شخص کے کسی اور انسان میں نظر نہیں آسکتا تھا۔ اچھے خاصے دولت مند تھے اور عموماً دولت مندوں کے سے چھچھورپن کی جھلک تک محسوس نہیں ہوررہی تھی۔
کچھ ایسی ہی ان کی بیگم بھی تھیں۔ ان کی بیوی راحت بیگم نہایت سیدھی سادی، بے حد پرخلوص دکھائی دینے والی، پرانے وقتوں کی سی ملنسار اور گھریلو خاتون تھیں۔ گفتگو میں بڑی بوڑھیوں کا سارکھ رکھاﺅ اور تجربے کی جھلک…. اگرچہ عمر اتنی نہ تھی…. چالیس سے کچھ اوپر کی تھیں مگر خوشحالی، سلیقے اور سادگی کی وجہ سے چونتیس پینتیس سے زیادہ کی نہ لگتی تھیں۔ شائستہ اور بردبار لہجہ، پہننے اوڑھنے کا ڈھنگ….
حیا صدیقی پہلی نظر میں ہی راحت بیگم کو بھاگئی۔ وہ اپنے گھر کے لیے ایسی ہی نرم مزاج، نرم خو، بھولی بھالی اور خوب صورت دبلی پتلی لڑکی کی تلاش میں تھیں۔ حیا صدیقی نے سادہ سا لان کا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔ ہلکا پھلکا سا شام کی مناسبت سے میک اپ اس سلیقے سے کیا تھا کہ میک اپ خود محسوس نہیں ہورہا تھا بلکہ اس کی تازگی اور سادگی کو بڑھاوا دے رہاتھا۔ اس نے اس تقریب بہر ملاقات کے لیے بہت زیادہ اہتمام نہیں کیا تھا، اور نہ ہی خود کو نمایاں کرنے کے لباس اور میک اپ کا خاص طورپر سہارا لیا تھا۔ راحت بیگم کو حیا صدیقی کی شخصیت کی یہ سچائی اور خود کو بہت نمایاں کرنے سے بے نیازی کی یہ سادگی پسند آگئی۔
حیا صدیقی جب سے آکر بیٹھی تھی، شرمائی اور لجائی ہوئی چور نظروں سے درید ارسلان کو دیکھ رہی تھی۔ درید ارسلان ممکنہ طورپر اس کا ہونے والا شوہر تھا۔ پہلی ہی نظر میں اسے درید پسند آگیا تھاجو آج حیا صدیقی کو دیکھنے اپنے ممی اور ڈیڈی کے ساتھ آیا تھا، اور دیکھنے سے زیادہ اس وقت خود دیکھا جارہا تھا۔
حیا صدیقی کے دائیں بائیں، شاہدہ اور راشدہ تھیں ، ردا اس کی پشت پر کھڑی تھی۔ سب کی نظریں درید پر ہی فوکس تھیں، درید سب کو اچھا لگاتھا۔ گرے کلر کے سوٹ اور آسمانی رنگ کی شرٹ میں وہ کسی فلمی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا۔کھلتی ہوئی گلابی مائل صاف رنگت، بڑی بڑی روشن اور چمکتی ہوئی آنکھیں۔ موٹی بھنویں، چوڑاماتھا، اور سلیقے سے تراشے ہوئے سیاہ بال، اس کے بیٹھنے اور دیکھنے میں بھی ایک وقار تھا۔ اس نے دو ایک بار نظر اٹھاکر حیا کو دیکھا اور حیا کو اندازہ ہوگیا کہ شادی کے لیے یہ شخص نہایت موزوں ہے، جس کی آنکھوں میں چمک تو تھی مگر دیکھنے کے انداز میں شرم وحیا اور پاکیزگی بھی تھی…. اس نے اس طرح نہیں دیکھا جس طرح نوجوان لڑکے لڑکیوں کو دیکھتے ہیں، اوپرسے نیچے تک نظروں میں تولتے ہیں،وہ دیکھنا کچھ اورہوتا ہے،یہ دیکھنا کچھ اور تھا…. اس نے ایک ڈیسنٹ لک سے اس کی طرف دیکھا تھا۔ اتفاق سے حیا نے بھی چور نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ لمحہ بھر کو نظریں ٹکرائیں تو حیا کو اس کی نظروں میں اپنے لیے پسندیدگی کی جھلک نظر آئی۔ حیا کا دل بے طرح دھڑکنے لگا۔ حیا صدیقی حیا سے گلابی ہوگئی۔
وہ اب تک لگ بھگ مجموعی طورپر سترہ رشتے ٹھکراچکی تھی زیادہ تر رشتوں سے محض اس لیے انکار کردیا تھا کہ اسے لڑکے کا اپنی طرف دیکھنے کا انداز پسند نہیں آیا تھا، کسی کے والدین کا رویہ مناسب معلوم نہ ہوا تو کسی میں اجڈ اور گنوارپن کی جھلک نظرآئی تھی…. مگر یہ رشتہ ٹھیک تھا۔ اس نے دل ہی دل میں اطمینان کی سانس لی، اور اپنی طرف سے….کم ازکم اپنی طرف سے خود کو درید سے منسوب ہونے کے لیے آمادہ کرلیا۔
نگہت پھپھو ایک طرف بیٹھی سب تاڑ رہی تھیں، مگر اپنے بھائی صاحب کے خیال سے یا جانے کس بناءپر اس موقع پرخاموش ہی تھیں۔
راحیلہ خالہ مہمانوں کی آﺅ بھگت کرنے میں مصروف تھیں، لوازمات لارہی تھیں۔ خوشی کے مارے پھولے نہیں سمارہی تھیں، ایک پیر باورچی خانے میں تو ایک پیر ڈرائنگ روم میں تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ یوں گھل مل گئے جیسے اس گھرانے سے پرانی شناسائی ہو، صدیقی صاحب اور ارسلان بیگ ہنس کر باتیں کررہے تھے، دونوں طرف سے تکلف کو کم کرنے کے لیے خوش گوار باتیں ہورہی تھیں۔
”ارے درید بیٹا….آپ یہ….گلاب جامن تو لیں نا….میٹھے کو تو آپ نے دیکھا تک نہیں۔“
درید مسکراکر رہ گیا، صدیقی صاحب نے بڑھ کر گلاب جامن کی پلیٹ اٹھاکر درید کی طرف بڑھائی۔
”جی شکریہ….“ درید نے مسکراکر کہا۔”آپ زور دیں گے تو لے لوں گا، ویسے مجھے نمکین پسند ہے…. اس لیے….“
”بہت اچھی بات ہے۔“ صدیقی صاحب نے مسکراکر کہا۔
”مجھے آپ کی یہ بات بہت اچھی لگی ہے درید بیٹا….انسان کو جوپسند ہو، اس کا اظہار کردینا چاہئے….کیوں بہن جی….کیوں بیگ صاحب….؟“
”آپ ٹھیک کہتے ہیں بھائی صاحب….!“ راحت بیگم نے خوش گواری سے تائید کی۔ اور درید کی طرف دیکھا تو وہ حیا کی طرف دیکھ رہاتھا۔ اس کی نظروں میں پسندیدگی تھی۔ وہ ماں تھیں اور ماں کو اپنی اولاد کی نظریں بھی پڑھنا آتی ہیں۔
”بھائی صاحب….ہمیں آپ کی حیا پسند آئی ہے…. بہت اچھی لگی ہے آپ کی بیٹی…. بالکل ویسی ہے ….جیسی بہو میں چاہتی تھی….کیوں درید بیٹا….؟“
”درید اس اچانک سوال پر گڑبڑاگیا۔”جج….جی….جی ہاں….بالکل!“
حیا شرماکر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
صدیقی صاحب نے ایک طویل سانس لی۔ اور راحیلہ کو آواز دی۔”بھئی راحیلہ…. شربت کہاں رہ گیا….!“
راحیلہ کی آواز باورچی خانے سے سنائی دی۔”بس ایک منٹ صاحب جی….، ابھی لائی۔“
یہ وہی وقت تھا جب ارم گھر میں داخل ہوئی۔ اس پر گھبراہٹ طاری تھی۔ اسے معلوم تھا کہ بجو کو دیکھنے آج لڑکے والے آئیں گے، اسے وقت سے پہلے پہنچنا تھا، ابو جی نے یاد بھی دلایا تھا کالج میں چھوڑتے وقت…. مگر اسے پھر بھی دیر ہوگئی تھی۔
اس نے گھر کے باہر ایک بڑی سی گاڑ کھڑی دیکھ لی تھی، اورسمجھ گئی تھی کہ مہمان آگئے ہیں۔ وہ گھر میں آتے ہی باورچی خانے میں گھس گئی۔ کتابیں فریج کے اوپر رکھ دیں۔ راحیلہ خالہ ٹرے میں گلاس رکھ کر ان میں شربت ڈال رہی تھیں۔
”ارے….ارم….کہاں رہ گئی تھیں تم….؟“
”دیر ہوگئی راحیلہ خالہ….پلیز، آپ ابو کو مت بتائیے گا کہ میں گھر میں نہیں تھی….لائیے…. یہ شربت میں لے کر جاتی ہوں۔“
ارم نے شربت کی ٹرے راحیلہ خالہ کے ہاتھ سے لے لی۔ اور ڈرائنگ روم کی طرف چل دی۔
ڈرائنگ روم میں سب ہنس رہے تھے۔ ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔
”آپ ٹھیک کہتے ہیں بیگ صاحب!“ صدیقی صاحب نے کہا۔
”اچھے لوگ، اور اچھے خاندان اب ڈھونڈنے سے نہیں ملتے….“
”صدیقی صاحب….، بھئی ہمیں آپ سب لوگ، اور یہ پورا گھرانا بہت پسند آیا ہے، کیوں درید بیٹا….“ ارسلان بیگ نے درید کی طرف دیکھا۔
درید نے جواب میں جھک کر اپنے ڈیڈی کے کان میں سرگوشی کی۔ بیگ صاحب نے توجہ سے سنا پھر سیدھے ہوئے گویا ہوئے۔
”بات یہ ہے صدیقی صاحب….زمانہ بہت بدل گیا ہے اب….اب تو لڑکی اور لڑکا اپنی شادی کا فیصلہ خود کرتے ہیں اور….والدین کو محض اطلاع دیتے ہیں۔“
”بالکل ٹھیک کہا بیگ صاحب“صدیقی صاحب نے تائید کی۔
”وقت واقعی چال چل گیا….ہم نے مگر اپنی بچیوں کی تربیت الگ ڈھنگ سے کی ہے۔ تعلیم تو دلائی ہی ہے، تربیت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی….اور زمانے کے ساتھ بھی چلنا سکھایا ہے۔“
”بہت اچھی بات کہی آپ نے….“بیگ صاحب بولے۔
”اگر بچوں میں اعتماد نہ ہو تو وہ اپنے دل کی بات والدین سے بھی نہیں کہہ پاتے…. خیر، میں کہہ رہا تھا….بھئی ہم میاں بیوی تو اپنا فیصلہ کرچکے ہیں….لیکن….“
”لیکن….لیکن کیا….؟“ صدیقی صاحب چونک سے گئے۔
”گھبرائیے مت…. ہم کوئی ایسی بات نہیں کرنے جارہے جو آپ کو ناگوار گزرے….بات یہ ہے کہ ہمارے بیٹے درید نے بھی سمجھ لیں…. فیصلہ تو کرہی لیا ہے مگر…. وہ چاہتا ہے کہ کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے….آپ کی بیٹی سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہے….کچھ پوچھنا چاہتا ہے….کچھ سوال کرنا چاہتا ہے….نہیں نہیں….اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو….“
صدیقی صاحب چونک تو گئے، ایک لمحہ کو سنجیدہ ہوگئے مگر فوراً ہی انہوں نے خود کو سنبھالا، اور مسکراکر بولے۔
”ہاںہاں، کیوں نہیں….میں سمجھتا ہوں بیگ صاحب کہ زمانہ بدل گیا ہے….ہمیں اس زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔“
بیگ صاحب اور راحت بیگم کے چہرے پر اطمینان دوڑ گیا۔
راحت بیگم نے خوش ہوکر کہا۔ ”بھائی صاحب….ہماری طرف سے تو آپ ہاں سمجھیں….ہمارے بیٹے کی شادی آپ ہی کے گھر میں ہوگی….اسی گھر سے دلہن لے کر جائیں گے ہم….بس….اب لڑکا اورلڑکی ایک دوسرے کے ہاں کہہ دیں…. اکیلے میں بات کرکے تسلی کرلیں….پھر باقی معاملات طے کرلیں گے….کیوںجی؟“
انہوں نے آخر میں اپنے شوہر کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی فوراً اثبات میں سرہلایا۔”ہاں،ہاں، بالکل….!“
ارم ہاتھوںمیں شربت کی ٹرے لیے اندر آگئی۔ صدیقی صاحب کی نظر ارم پر پڑی تو ایک دم غصہ آگیا، انہیںکالج والا واقعہ یاد آگیا تھا۔ انہوں نے سب سے نظر بچاکر غصے سے ارم کو دیکھا تو وہ یہی سمجھی کہ اس کے تاخیر سے آنے پر وہ ناراض ہیں۔ اس کو علم ہی نہیں تھا کہ ابو جی کی آنکھوں سے چھلکنے والی ناراضی کا اصل سبب کیا ہے۔
ارم نے فوراً آنکھوں میں آنکھوںمیں معذرت طلب کی اور صدیقی صاحب سچویشن کے باعث فوراً خود کو سنبھال کر مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولے ۔
”بیگ صاحب….یہ میری چھوٹی بٹی ارم ہے…. ارم صدیقی….!“
”السلام علیکم!“ ارم نے فوراً کہا، اور شربت کی ٹرے لے کر ان کی طرف آگئی۔
”وعلیکم السلام۔“
”السلام علیکم دولہا بھائی….!“ ارم درید ارسلان کے سامنے پہنچ گئی اور مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا، شربت اس کی طرف بڑھایا۔
”لے لیجئے، دولہا بھائی، اتنا شرمانے کی ضرورت نہیں ہے، اب یہ آپ کا ہی گھر ہے۔“
سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑگئی۔ درید نے ایک نظر اس پر ڈالی اور شربت کا گلاس اٹھالیا۔ پھر ایک نظر حیا کی طرف ڈالی۔ اس طرف سے حیا نے درید کی طرف دیکھا، دونوں کی نظریں ٹکرائیں۔ ارم نے یہ ”تصادم“ دیکھ لیا۔
وہ شرارت سے بولی۔”چور نظروں سے کیا دیکھ رہے ہیں دولہا بھائی….!“
درید بے اختیار جھینپ گیا۔ سب ہنسنے لگے۔
ارم نے شوخی سے کہا۔ ”ہماری حیا بجو….آپ لوگوں کو پسند آگئیں….اور ہم سب کو آپ لوگ اچھے لگے….چلیں بجو….دولہا بھائی کو اپنا کمرا تو دکھادیں۔“
ماحول کی خوش گواری میں ایک دم اضافہ ہوگیا۔
درید نے اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھا۔ اور بیگ صاحب نے استفہامیہ انداز میں صدیقی صاحب کی طرف دیکھا۔
”ہاں، ہاں….کیوں نہیں….میں سمجھ گیا۔“ صدیقی صاحب فوراً بولے، پھر حیا کی طرف گھومے۔
”حیابیٹی….!درید بیٹے کو اپنا کمرا دکھاﺅ….ہم اتنے یہاں….کچھ اہم باتیں کرلیں….“
حیا جھجکتے ہوئے، شرماتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
”جاﺅ درید بیٹا….!“ ارسلان بیگ نے درید ارسلان کو ٹہوکادیا۔ درید بھی جھجکتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔
اس نے ایک نظر حیا کی طرف دیکھا، پھر صدیقی صاحب کی طرف دیکھا۔
”لیکن انکل….میں….حیا سے نہیں…. آپ کی دوسری بیٹی….ارم سے اکیلے میں بات کرنا چاہوں گا….“
جیسے بم پھٹ گیا ہووہاں….سب بری طرح چونک گئے۔
کسی کو امید نہیں تھی کہ درید یہ بات بھی کہہ سکتا ہے۔
”کک….کک….کیا مطلب….؟“ صدیقی صاحب سٹپٹاگئے۔
”آپ میری بات مائینڈ مت کیجیے گا۔“ درید نے پورے اطمینان کے ساتھ ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”مجھے آپ کی بیٹی ارم پسند آئی ہے….اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں….، میں ارم سے شادی کرنا چاہوں گا۔“
ڈرائنگ رم میں موت کی سی خاموشی پھیل گئی۔
سب ہی سکتے کی کیفیت میں آگئے تھے۔
حیا نے گھبراکر آنکھیں بند کرلیں۔

( باقی پھر)
٭٭٭

- admin

admin

5 تبصرے

  1. پہلی قسط تو جانب بہت خوبصورت ہے خصوصا اختتام ۔ مزید اقساط کا انتظار رہے گا ۔

  2. سرفراز اجمل

    ماشاءاللہ۔بہت خوبصورت بنا کر لکھا گیا ہے۔میں کسی ایسے استاد کی تلاش میں تھا۔میں آپ کی ہر پوسٹ اور کہانی کو پڑھتا ہوں۔اللہ آپ کو خوش رکھے۔

  3. السلام و علیکم !
    اردو لکھاری کے لیے کچھ بھی کہنا باعث فخر بات ہے۔۔جہاں اس پلیٹ فارم پر پرانے لکھاریوں نے اپنے قلم کا سحر پیدا کیا وہیں نئے لکھنے والے بھی منظر عام پر آئے۔
    ابھی تک میں نے صرف سر ابن آس محمد کا ہی افسانہ پڑھا ہے۔
    یہ پہلا موقع ہے جب میں نے سر کر کوئی تحریر پڑھی ہے۔۔میں تھوڑا کھلے دل کا بندہ ہوں اسی لیے تعریف کے معاملے بھی دل کو تنگ نہیں رکھتا۔۔
    ابن آس محمد کی تحریر واقعی نئے لکھنے والوں کے لیے کسی استاد سے کم نہیں۔۔انداز بیان کے تو کیا ہی کہنے۔ بھئی مزا آگیا۔
    شاخ نازک پہ آشیانہ آج کے دور کی جیتی جاگتی تصویر سے کم نہیں۔
    جہاں افسانے کا آغاز فجر کی اذان سے ہو کر کہانی کی کرداروں کی پاکی کا اظہار کرتا ہے وہیں آختتام حیرت انگیز طور پر بہت تجسس سے بھر پور تھا۔
    اگلی قسط کا بے صبری سے انتظار رہے گا۔۔
    اور ایک بات، سر کا افسانہ پڑھ کر سر سے ملاقات کی خواہش پیدا ہو گئی ہے۔امید کرتا ہوں کہ زندگی کے اس سفر میں کہیں نہ کہیں سر کی قربت ضرور میسر آئے گی۔
    فی اماں اللہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے