سر ورق / یاداشتیں / شہ زورِ قلم اختر حسین شیخ : سید انور فراز

شہ زورِ قلم اختر حسین شیخ : سید انور فراز

بہ سلسلہ یادِ ماضی عذاب ہے یارب
شہ زورِ قلم اختر حسین شیخ

تحریر: سید انور فراز
دو سال قبل لاہور جانا ہوا تو حسب معمول دوست احباب سے ملاقاتیں رہیں، لاہور، پنڈی اور اسلام آباد عام طور پر ہم اسی مقصد کے لیے جاتے رہتے ہیں، ایک صاحب سے معلوم ہوا کہ جناب اختر حسین شیخ سخت بیمار ہیں اور ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے،یہ خبر اس روز ملی جب ہم کراچی واپس آنے کے لیے تیار تھے اور اتنا وقت نہیں تھا کہ ان سے ملاقات کے لیے جاتے، خیال یہ تھا کہ آئندہ چکر میں ملاقات ضرور کریں گے،بعد ازاں کچھ ایسی مصروفیات رہیں کہ لاہور ہی نہ جاسکے، گزشتہ دنوں عزیزم امجد جاوید سے فون پر بات ہورہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ شیخ صاحب کا انتقال تو دو سال پہلے ہوچکا ہے گویا وہ اس بیماری سے جاں بر نہ ہوسکے اور ہم ان سے آخری ملاقات بھی نہ کرسکے۔
اختر حسین شیخ سے ہمارے مراسم کی ابتدا ماہنامہ سرگزشت کی ادارت کے زمانے میں ہوئی اور پھر یہ تعلق روز بہ روز گہرا ہوتا چلا گیا، ہم لاہور میں عزیزم طاہر جاوید مغل کے گھر پر قیام کرتے تھے لیکن شیخ صاحب سے مراسم کے بعد وہ ہمیشہ بضد رہے کہ ہم ان کے گھر پر ٹھہرا کریں، ایک بار ہم نے ان کی یہ فرمائش پوری بھی کردی جو ہمیں خاصی مہنگی پڑی کیوں کہ شیخ صاحب بڑے پریکٹیکل اور جوشیلی طبیعت کے مالک تھے،اپنے گھر میں انہوں نے ہمیں سانس لینے کی بھی مہلت نہیں دی، مسلسل مختلف موضوعات پر گفتگو جاری رہی،یہاں تک کہ رات کا ایک بج گیا تو ہم نے خود ہی سونے کی اجازت طلب کی جو شیخ صاحب نے بادل ناخواستہ عنایت کردی اور یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے کہ میں ابھی کچھ کام کروں گا، جاسوسی کے سرورق کے لیے کہانی لکھ کر آپ کے ساتھ ہی روانہ کرنی ہے۔
آپ نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ وہ اپنے کام سے کس قدر وابستگی رکھتے تھے،شیخ صاحب کے گھر پر قیام کے دوران ہی ہم نے پہلی مرتبہ قیمہ بھرے تندوری نان بھی کھائے اور ان کے ہمراہ ہی جناب اشفاق احمد صاحب سے بھی ملاقات کی،تین روزہ قیام کے دوران میں شیخ صاحب نے ایک لمحے کو بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، یہ محبتیں ، خلوص کم کم ہی نظر آتا ہے،شیخ صاحب کی پیدائش تو غالباً امرتسر کی تھی لیکن بچپن اور جوانی لاہور میں گزرا اور ایسا گزرا کہ وہ قدیم لاہور کے چپے چپے سے اس طرح واقف تھے جیسے کوئی اپنے گلی محلے سے واقف ہوتا ہے، شیخ صاحب ہی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ لاہور میں سب سے اعلیٰ برفی کہاں ملتی ہے اور لاہور کی کون کون سی سوغات اہم ہے۔
شیخ صاحب اور سرگزشت
ماہنامہ سرگزشت کا آغاز ہوچکا تھا، پہلا شمارہ 10 دسمبر 1990 ءکو بازار میں آیا جو جنوری 1991 ءکا شمارہ تھا، کسی نئے پرچے کا آغاز جیسا ہونا چاہیے تھا، ویسا ہی تھا، معراج رسول صاحب جو اصولی طور پر کسی نئے پرچے کے اجرا کے حامی نہ تھے لیکن سرگزشت کے نام اور مواد سے انہیں بڑا لگاو¿ تھا اور انہوں نے یہ سوچ کر اس پرچے کے اجرا پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ کوئی کام اپنے شوق کی تکمیل کے لیے بھی ہونا چاہیے، وہ ہر گز سرگزشت سے زیادہ امیدیں نہیں رکھتے تھے، اکثر کہتے کہ اگر یہ اپنا خرچہ پورا کرلے تو بھی میں مطمئن رہوں گا، گویا سرگزشت کا اجرا ہر گز کاروباری مقاصد کے تحت نہیں ہوا تھا۔
سرگزشت کے لیے رائٹرز کی ایک علیحدہ ٹیم منتخب کی گئی تھی تاکہ سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ میں لکھنے والوں پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، البتہ عزیزم علیم الحق حقی نے اپنی مرضی اور شوق سے عظیم باکسر محمد علی کلے کی کہانی لکھنے میں دلچسپی ظاہر کی اور یہ کام ان کے سپرد کردیا گیا، سرگزشت کے رائٹرز کی فہرست میں علی سفیان آفاقی سرفہرست تھے،وہ اس زمانے میں روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ تھے اور ویکلی فیملی میگزین کے لیے کام کر رہے تھے،ان کے ذمے ہر ماہ ایک سفر نامہ اور کسی ایک فلمی شخصیت کے حالات و واقعات کہانی کی شکل میں بیان کرنے کی ذمے داری تھی جس کے لیے انہوں نے اپنا نام استعمال کرنے سے انکار کیا لہٰذا ایک قلمی نام ”آشنا کے قلم سے“ رکھ لیا گیا، پہلے شمارے میں اداکارہ رانی کی کہانی دی گئی اور یہ طے ہوا کہ اصل نام تبدیل کردیا جائے لہٰذا کہانی میں رانی کا نام شہزادی رکھا گیا، خیال تھا کہ لوگ خود سمجھ لیں گے کہ یہ کس مشہور فلم اسٹار کا قصہ ہے لیکن بعد میں محسوس ہوا کہ بہت سے لوگ شہزادی کو رانی سمجھنے سے قاصر رہے لہٰذا آئندہ سے یہ طے ہوگیا کہ اب کسی بھی کردار کا اصل نام تبدیل نہیں کیا جائے گا، اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر تقریباً فلمی دنیا کی تمام ہی اہم شخصیات سرگزشت کی زینت بنتی چلی گئیں۔
آمدِ شیخ
غالباً اگست 1991 ءمیں سرگزشت کا ”دوسری شادی نمبر“شائع ہوا، اس شمارے نے دھوم مچادی اور پرچے کی اشاعت اچانک بڑھ گئی،یہ شمارہ بہت زیادہ مقبول ہوا، سرگزشت کی شہرت ہر طرف پھیل گئی، اسی سال لاہور سے ایک صاحب کراچی تشریف لائے اور دفتر میں ہم سے ملاقات کی، اپنا تعارف اختر حسین شیخ کے نام سے کرایا، ہم ان سے کسی طور بھی واقف نہیں تھے،انہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصہ ابودھابی میں میزائل انجینئر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے اصل شہر لاہور میں ایک ٹریول ایجنسی چلا رہے ہیں، لکھنے پڑھنے سے خصوصی شغف رہا ہے اور اب سرگزشت کے لیے لکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ پہلا پرچا ہے جو انہیں پسند آیا ہے۔
سرگزشت میں شائع ہونے والے مواد کے سلسلے میں ادارے کی پالیسی یہ تھی کہ فیکٹس کو فکشنائز کرکے پیش کیا جائے تاکہ حقیقت کی خشکی ختم ہوجائے اور لوگ کہانی کی چاشنی محسوس کریں،شیخ صاحب سے دو تین ملاقاتیں اس دوران میں ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ وہ نہایت پڑھے لکھے اور کثیر المطالعہ انسان ہیں، ہم نے جس موضوع پر بھی گفتگو چھیڑی وہ رواں دواں نظر آئے،خدا معلوم کس طرح فن پہلوانی کا ذکر چھڑ گیا اور شیخ صاحب نے ہمیں حیران کردیا، اس حوالے سے تھوڑی بہت معلومات ہمیں بھی تھیں لیکن اختر حسین شیخ تو گویا اس موضوع پر اتھارٹی تھے، ہمیں فوراً خیال آیا کہ پاکستان میں آج تک ملک کے ان نامور اور عظیم پہلوانوں پر کچھ زیادہ نہیں لکھا گیا، لوگوں نے گاما، امام بخش، بھولو اور ان کے بھائیوں کا نام سنا ہے،ان کے چند مقابلے بھی دیکھے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ درحقیقت فن پہلوانی اور اس سے متعلق حقیقی مسائل کیا ہیں؟
ہم نے شیخ صاحب سے فوراً یہ فرمائش کردی کہ آپ پاکستان کے مشہور پہلوانوں کی کہانیاں لکھیں اور شیخ صاحب نے فوراً ہی آمادگی کا بھی اظہار کردیا، اس طرح وہ ہم سے رُخصت ہوکر لاہور واپس چلے گئے۔
15 یا 20 دن ہی گزریں ہوں گے کہ ڈاک سے ایک مسودہ موصول ہوگیا جو شیخ صاحب نے روانہ کیا تھا، دیکھا تو شاید چالیس پینتالیس یا پچاس صفحات میں برصغیر کے پہلے پہلوان سے آخری پہلوان تک کے حالاتِ زندگی اور ان کے مشہور مقابلے تحریر کردیے گئے تھے اور انداز وہی عام کتابی مضامین کا سا تھا کہ کون کب اور کہاں پیدا ہوا اور اس نے کیا کارنامے انجام دیے اور کس طرح اس دار فانی سے رخصت ہوا، یہ دیکھ کر ہم نے اپنا سر پکڑ لیا۔
فوراً ہی شیخ صاحب کا نمبر ملایا گیا تو ان کی بھاری بھر کم کھرج دار آواز کانوں میں آئی، سلام دعا کے بعد ہم نے شکوہ کیا کہ شیخ صاحب یہ آپ نے کیا کردیا؟ کیا سارے پہلوانوں کو ایک ہی شمارے میں نمٹانے کا ارادہ کرلیا ہے؟ وہ ہماری بات پوری طرح نہیں سمجھ سکے اور کہنے لگے ”میں نے اپنے طور پر کوشش کی ہے کہ کوئی غیر ضروری بات شامل نہ ہو اور ضروری بات رہ نہ جائے، اب آپ کیا چاہتے ہیں؟“
ہم نے عرض کیا کہ ہم یہ چاہتے ہیں ، آپ ایک شمارے کے لیے ایک پہلوان کی سرگزشت لکھیں اور اس کی کوئی قید نہیں ہے کہ وہ کتنی طویل ہوسکتی ہے،یہ سننا تھا کہ شیخ صاحب کھل اٹھے ، غالباً وہ تو یہی چاہتے تھے کہ اس طرح ایک لمبی اننگ کھیلنے کا موقع مل سکے،چناں چہ انہوں نے وعدہ کرلیا کہ وہ برصغیر کے پہلے اور بالکل ابتدائی پہلوان نورالدین قطب سلطانی پر تفصیلی قصہ لکھ کر بہت جلد روانہ کردیں گے۔
شاید تھوڑے ہی دن بعد انہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا لیکن بنیادی خرابی موجود تھی یعنی کہانی کا انداز کہیں نظر نہیں آتا تھا، ایک مسلسل بیانیہ اول تا آخر جاری تھا ، ہم نے سوچا کہ شیخ صاحب بنیادی طور پر کہانی کے آدمی نہیں ہیں، ہم نے انہیں کوئی فوری جواب نہیں دیا لیکن شیخ صاحب کب چین سے بیٹھنے والے تھے، ان کے مزاج میں خدا معلوم کیسی بے تابیاں پوشیدہ تھیں اور وہ ہر معاملے میں تیز رفتاری کے نت نئے ریکارڈ بنانے کے کس قدر مشتاق تھے اس کا اندازہ ہمیں بعد میں ہوا۔
اب یہ معمول بن گیا کہ ہر ہفتے ایک فون کال شیخ صاحب کی ضرور آتی اور وہ پوچھتے کہ ان کا شاہکار کب تک سرگزشت کی زینت بنے گا؟ ہم انہیں مختلف بہانوں سے ٹالتے رہتے،شیخ صاحب کے حوالے سے معراج صاحب سے بھی بات چیت ہوئی اور ہم نے ان سے یہی کہا کہ وہ کہانی کے آدمی نہیں ہیں۔
کنوارا کنواری نمبر
اسی دوران میں سرگزشت کے ”کنوارا کنواری نمبر“کا پروگرام بن گیا لہٰذا ایسے مشہور اور غیر معمولی افراد کی کہانیاں تلاش کی جانے لگیں جو اس دنیا سے کنوارے ہی رخصت ہوگئے تھے،اس حوالے سے ہر شعبے سے ایک شخصیت کا انتخاب کیا گیا، شاعروں میں تو بہت سے نام مل گئے، اسرار الحق مجاز، شکیب جلالی، عزیز حامد مدنی وغیرہ لیکن پاکستانی سیاست دانوں میں جو دو کنوارے (شیخ رشید اور الطاف حسین)حاضر اسٹاک میں موجود تھے ان پر لکھنا یا ان کی سرگزشت چھاپنا ممکن نہیں تھا لہٰذا انڈین سیاست سے ایک غیر معروف کردار کا انتخاب ہوا اور اس طرح ”کشتہ ءسیاست“ لکھی گئی، فلمی دنیا سے اداکارہ ثریا اور سنجیو کمار کو لیا گیا، قصہ مختصر یہ کہ کام جاری تھا کہ اچانک ہمارے ذہن میں ایک جھماکا ہوا اور ہمیں یاد آیا کہ شیخ صاحب نے جس پہلے عظیم پہلوان نورالدین کا قصہ لکھ کر بھیجا ہے وہ بھی دنیا سے کنوارا ہی رخصت ہوا تھا اور اس کی زندگی میں ایک زوردار عشق بھی موجود تھا۔
ہم نے شیخ صاحب کا مسودہ نکالا اور اس کی عام انداز کی اوپننگ تبدیل کردی، شیخ صاحب کو اطلاع دے دی کہ آپ کی کہانی سرگزشت کے خاص شمارے میں آرہی ہے،انہوں نے فوراً ہمیں یہ اطلاع دی کہ دوسرا مضمون بھی تیار ہے ، میں آپ کو فوراً روانہ کر رہا ہوں لیکن ہم نے انہیں روک دیا اور عرض کیا کہ پہلے آپ اپنے موجودہ مضمون کو دیکھ لیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہم آپ سے کیا چاہتے ہیں، اس کے بعد آپ آغاز کریں۔
شیخ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان میں کسی بھی قسم کا غرور و تکبر یا بناو¿ٹی رنگ روپ نہیں تھا، وہ نہایت سادہ ، کھلے دل کے اور پرخلوص انسان تھے،ہر حال میں خوش رہنا اور خوش امید رہنا ان کی بنیادی صفت تھی، انہوں نے ہماری بات سے اتفاق کیا اور جب پرچا ان تک پہنچا اور انہوں نے اپنا مضمون پڑھا تو کسی تاخیر کے بغیر ہمیں کال کی اور نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ آپ کی بات میری سمجھ میں آگئی ہے، اب آپ بے فکر ہوجائیں اور واقعی اس کے بعد ہم بے فکر ہوگئے،شیخ صاحب لکھتے رہے اور ان سے مراسم مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔
یہاں ایک اور دلچسپ بات بیان کرنا ضروری ہے، معراج صاحب پہلوانوں کی سرگزشت کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے،مزید یہ کہ کچھ ہم نے بھی شیخ صاحب کے حوالے سے جو رپورٹنگ کی تھی وہ بھی ان کی شیخ صاحب سے عدم توجہی کا باعث تھی لیکن جب انہوں نے پرچا آنے کے بعد نور الدین قطب سلطانی کی سرگزشت پڑھی اور بقول ان کے انہوں نے سب سے پہلے وہی پڑھی تو وہ حیران رہ گئے،دوسرے دن آفس آتے ہی ہمیں بلایا اور اپنی بے حد پسندیدگی کا اظہار کیا لیکن یہ بھی فرمایا کہ بھئی! اب ہر پہلوان کی زندگی میں تو رومان نہیں ہوگا اور رومان کے بغیر اچھی کہانی نہیں بن سکے گی لہٰذا اس سلسلے کو زیادہ آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے،ہم خاموش ہوگئے کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ ان سے بحث نہیں کی جاسکتی اور وہ جو کہہ دیں اس کی تردید بھی نہیں ہوسکتی تھی۔
معراج صاحب کے دوستوں میں ایک صاحب اور تھے جنہوں نے اس سلسلے کی مخالفت کی،یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا، بہر حال ان کی رائے اپنی جگہ ، ظاہر ہے وہ شیخ صاحب کے یا ہمارے دشمن ہر گز نہیں تھے،ان کا اپنا نقطہ ءنظر تھا جسے وقت نے بعد میں غلط ثابت کردیا کیوں کہ پہلوانوں کی سرگزشت کا یہ سلسلہ بے حد مقبول ہوا اور بعد ازاں کتابی شکل میں ”داستانیں شہ زوراں“ کے نام سے شائع ہوا۔
شیخ صاحب اس حوالے سے بڑے شاکی تھے کہ اس سلسلے کے علاوہ کچھ اور ان سے کیوں نہیں لکھوایا جارہا، وہ سسپنس ، جاسوسی وغیرہ میں کہانیاں بھی لکھنا چاہتے تھے،آخر ہم نے ان کی خواہش اور ضرورت کے پیش نظر جاسوسی کے سرورق کی کہانیاں یا دیگر کہانیاں بھی ان سے لکھوائیں، واقع یہ ہے کہ ان کا ٹریول ایجنسی کا کاروبار ٹھپ ہوتا جارہا تھا جس میں ان کے بیٹے کی نالائقیاں شامل تھیں پھر ایک بڑا سانحہ بھی رونما ہوا، ان کے گھر پر ڈکیتی ہوئی، ان کے ہاتھ میں گولی لگی لیکن آفرین ہے کہ انہوں نے کبھی اپنی مشکلات یا مصائب کا ذکر تک نہ کیا، کبھی ان کے چہرے سے یا ان کی باتوں سے ہمیں کسی پریشانی یا افسوس کا تاثر تک نہ ملا، ایک بار ان کے ہاتھ پر نظر پڑی تو ہم نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ہے؟تو بڑے اطمینان سے جواب دیا ”گولی لگی تھی“ ۔
”کب؟ “ ہم نے حیران ہوکر پوچھا۔
تو اسی اطمینان سے جواب دیا ”فلاں مہینے میں گھر پر ڈکیتی پڑی تھی، اسی دوران میں ہاتھ میں گولی لگی“
ہمیں نہ صرف تعجب ہوا بلکہ صدمہ بھی ہوا کہ آخر شیخ صاحب نے اتنی بڑی خبر کبھی ہم سے شیئر کیوں نہیں کی اور پھر یہ شکایت ہماری زبان پر بھی آگئی تو اسی اطمینان اور بے پروائی کے ساتھ انہوں نے جواب دیا ”آپ کو بتانے سے کیا حاصل ہوتا، جو ہونا تھا ہوگیا، اب اس کا چرچا کرنا مناسب نہیں ہے“
بعض دیگر ذرائع سے ہمیں معلوم ہوتا رہا کہ وہ سخت پریشان ہےں، اپنا آبائی نہایت شاندار مکان بیچنے پر مجبور ہوگئے اور شاید کسی کرائے کے مکان میں منتقل ہوگئے لیکن یہ بات بھی انہوں نے کبھی نہیں بتائی، جب بھی ملاقات ہوتی، اسی طرح ہشاش بشاش اور خوش باش نظر آتے، ایک تبدیلی یہ ضرور دیکھنے میں آئی کہ اب انہوں نے داڑھی رکھ لی تھی۔
پہلوانوں کی سرگزشت ختم ہونے لگی تو ہم نے ان سے تاریخی کہانیوں اور صوفیائے کرام کے سوانح لکھنے کی فرمائش کی لہٰذا انہوں نے سب سے پہلے ایرانی فاتح سائرس اعظم کی داستان لکھی اور پھر صوفیا کے سوانح پر توجہ دی، اب ہمیں یاد نہیں کہ انہوں نے اس سلسلے میں کتنا کام کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ادارہ مکمل طور پر ان کا بوجھ سہارنے سے قاصر تھا اور ویسے بھی ہمارے ملک میں صرف کہانیاں لکھ کر زندگی گزارنا مشکل ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے بہت سے رائٹر مشقت کی اس چکی کو چلاتے رہے اور ہمیشہ مالی مسائل کا شکار رہے ، صرف تین افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قلم گیری سے خاصی اطمینان بخش زندگی گزاری لیکن ان کی یہ اطمینان بخش زندگی قناعت سے خالی نہیں تھی، ان تین افراد میں سرفہرست محی الدین نواب کا نام ہے کیوں کہ معراج رسول صاحب ان پر بہت زیادہ مہربان رہے،دوسرے الیاس سیتا پُری تھے اور تیسرے احمد اقبال۔
شیخ صاحب بنیادی طور پر فکشن رائٹر نہیں تھے،وہ ایک عالم اور محقق انسان تھے، اس حوالے سے سرگزشت کا دامن خاصا تنگ تھا، جاسوسی میں ایک کہانی اور ایک دو کہانیاں سرگزشت میں مزید ان کے گزر بسر کے لیے کافی نہیں تھیں اور جب یہ بات شیخ صاحب کی سمجھ میں آگئی تو انہوں نے مجیب الرحمن شامی کے ساتھ قومی ڈائجسٹ کی ادارت قبول کرلی،وہ سرگزشت سے اتنا متاثر تھے کہ انہوں نے قومی ڈائجسٹ کو سرگزشت بنانے کی کوشش کی،ممکن ہے اس حوالے سے شامی صاحب سے کچھ اختلافات بھی رہے ہوں لیکن کافی عرصے تک وہ قومی ڈائجسٹ سے وابستہ رہے۔
فروری 2004 ءمیں ہم ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے الگ ہوگئے تھے اور ہماری مصروفیات بھی یکسر ہی تبدیل ہوگئیں، بہت عرصے تک شیخ صاحب سے کوئی رابطہ نہ ہوسکا، 2010 ءمیں ایک شادی میں شرکت کے لیے لاہور گئے تو پرانے احباب سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، ایک صاحب نے بتایا کہ شیخ صاحب نے قومی ڈائجسٹ بھی چھوڑ دیا ہے لیکن اب وہ کیا کر رہے ہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا، امجد جاوید آخری زمانے میں شیخ صاحب کے زیادہ قریب رہے اور انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ان کے بارے میں لکھیں گے، وہ شیخ صاحب کے صوفیائے کرام پر لکھے گئے سوانح بھی یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کرنا چاہتے ہیں، اللہ انہیں اس کار خیر کی توفیق دے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️جب سے.. اردو کہانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے