سر ورق / کہانی / اپنے جیسے۔ عروسہ وحید

اپنے جیسے۔ عروسہ وحید

اپنے جیسے

عروسہ وحید

حصۃ اول

                ”ارے کمبخت ،کلموہی ،ڈائن، خدا غارت کرے تمہیں ، میرا سارا سوٹ خراب کر دیا ۔شرم نہیں آتی تمہیں، میرا نہایت خوبصورت سوٹ اپنے موٹے بھدے جسم میں پھنساتے ہوئے، منحوس ماری نے ساری سلائیاں اُدھیر کر رکھ دی ہیں“۔نور زور سے چلائی۔

                ”کیوں گلا پھاڑ رہی ہو پاگل لڑکی پھٹے سپیکر کی طرح۔“ سحر نے اطمینان سے جواب دیا۔

                ”میرا اتنا پیارا سوٹ خراب کر دیا اور پوچھتی ہو کہ کیوں چلا رہی ہوں۔مجھے نہیں پتہ ،مجھے اس سوٹ کے پیسے دو یا پھر اپنا سفید نگینوں والا نیکلس دو جو مجھے تب سے پسند ہے جب سے تم نے اُسے خریدا ہے۔“ نور غصے میںبولی ۔

                ”خبردار ،میں تمہاری آنکھیں پھوڑ دوں گی جو تم نے اس نیکلس کی طرف اپنی گندی نظر سے دیکھا تو ۔۔۔“سحر نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔

                ”تو تم نے میرا کیوں سوٹ خراب کر دیا ہے ۔“نور رودینے کو تھی۔

                ”اچھا اپنی شکل کے زاویے ٹھیک کرو ،میں تمہیں اپنا وہ سوٹ دے دیتی ہوں جو میں نے ہماری کام والی ماسی کو دینا تھا۔پر چلو اب وہ تمہیں میں دے دیتی ہوں۔ بس تھوڑا سا پھٹا ہوا ہے وہ سوٹ لیکن تم پر وہ بڑا جچے گاتمہاری تو شکل بھی نوکرانیوں والی ہے لوگ بھی اکثر تمہیں غریب منہ والی کہہ دیتے ہیں“۔سحر آرام سے بولی

                ”کیا۔۔۔؟“ نور نے طیش میں آکر اُسے کُشن اُٹھا کر مارا۔کُشن سحر کی ناک پر لگا۔ سحر نے جوتا اُٹھا کر اُس کی کمر پر مارا۔ دونوں میں زبردست لڑائی شروع ہو چکی تھی۔

                ”یہ کیا دھینگا مشتی ہو رہی ہے؟“ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور اماں اندر داخل ہوئی۔” کیوں تم دونوں نے کمرے کو اکھاڑا بنایا ہوا ہے ۔“اماں کی آمد کا بھی دونوں پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔

                ”میں اس ڈائن کا منہ نوچ لوں گی۔“ نور اپنے آپے میں نہ تھی۔

                ”اے بند کرو یہ ڈرامہ۔۔۔“ اماں اچانک زور سے دھاڑی۔” میں تم دونوں کا منہ لال کر دوں گی تھپڑوں سے جو اب تم دونوں نے لڑائی ختم نہ کی تو۔“ لیکن اُن دونوں پر کوئی اثر نہ ہوا اچانک اماں باہر گئی اور واپس جب آئی تو اُن کے ہاتھ میں جھاڑو تھا اور اُنہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ اور شروع ہو گئیں۔

                ”اماں!“سحر کراہ کے بولی،” آپ تو پوری جلاد لگ رہی ہیں۔اور وہ بھی ہلاکو خاں کے دربار کا ذرا جو آپ میں رحم ہو، ایسے بھی کوئی ماں اپنے بچوں کو مارتی ہے جیسے آپ شروع ہو گئی ہیں۔“

نور تو پہلے بھی رو رہی تھی اور جھاڑو کھانے کے بعد اُس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا ۔

                ”اچھا توکوئی ماں اپنے بچوں کو نہیں مارتی ہو گئی توکوئی بچے بھی اپنی مان کو ایسے تنگ نہیں کرتے ہوں گے۔“اماں نے غصے میں لرزتے ہوئے کہا

                ”پر آپ پیار سے بھی تو سمجھا سکتی تھیں۔“ سحر غصے اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات سے بولی

                ”اچھا تم دودھ پیتی کا کیا ں ہو جو تم لوگوں کو پیار سے سمجھاﺅں ،گدھے جتنی بڑی ہو گئی ہو ۔۔۔بی۔اے میں پڑھتی ہو تم دونوں لیکن عقل تم دونوں میں رتی برابر نہیں ہے کیسے جانوروں کی طرح آپس میں لڑ رہی تھی اور ویسے بھی لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے “اماں بولتے بولتے ہاپنے لگی۔

نور جس سے اپنے خراب ہوجانے والے سوٹ کا ہی غم نہیں بھولا جا رہا تھااور اُوپر سے اماں سے ہونے والی پٹائی اُس کا دل چاہا وہ سحر کو زندہ جلا دے لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اماں کے پاس گئی اور بولی

                ” اس منحوس لڑکی نے میرے سارے سوٹ کا ستیاناس کر دیا ہے اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں خراب کیا ہے تو مجھے نوکرانی کہنے لگی اور کہتی ہے اس کے بدلے میرا پھٹا ہوا سوٹ لے لو ،یہ تمیز ہے اس کو یہ میرے ساتھ بہت ہی برا سلوک کرتی ہے یہ ،دیکھنا اماں اس کو کیڑے پڑے گے خود اس کی شکل بھکارنوں سے بھی بد تر ہے اور مجھے یہ باتیں کرتی ہے چنڈال کہتی ہے۔“

                ”اے بند کرو اپنی بکواس۔۔۔“ اماں بیزاری سے بولی،” پتا نہیں تم دونوں کن گناہوں کی سزا ہو،تم دو ہو اور ہر وقت جنگی حالات نافذ کیے رکھتی ہو ذرا جو تم دونوں میں اتفاق ہو ،ہر وقت اُدھم مچائے رکھتی ہو، تم جیسی نا مراد بیٹیاں تو اللہ کسی دشمن کو بھی نہ دے۔“ یہ کہتے ہوئے اماں کی آواز غمگین ہو گئی اور وہ روتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی۔

                ”دیکھا منحوس لڑکی تم نے امی کو رونے پر مجبور کر دیا ،کیا ہوا جو میں نے تمہارا سوٹ پہن لیا تو اتنا تماشا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔“ سحر غصے سے کہتی ہوئی اماں کے پیچھے چل دی۔ نور بھی سب بھول کر اماں کو منانے باہر چلی گئی

ززز

                ”آئے ہائے جب دیکھو لڑتی مرتی رہتی ہو مجھے تو یہ ڈر ہے کہ کہیں ایک دوسرے کو قتل ہی نہ کر دو،بتاﺅ منحوسوں کیوں لڑرہی تھی،“ اماں غصے سے بولی۔

وہ امی اس منحوس لڑکی نے میرے فیورٹ ہیروز کو نا زیبا کلمات کہے ہیں۔اس نے ہریتک روشن کو ناچنے والا گھوڑا کہا ہے اور یہ تو کچھ بھی نہیں اس نے تو اُس بیچارے معصوم کو اُس موٹی بھینس سدرہ سے بھی ملایا ہے کہتی ہے اگر وہ لڑکا ہوتی بالکل اُس کے جیسی ہوتی۔ اب بھلا بتائیں وہ کس جگہ سے اُس کی طرح لگتی ہے۔ کیسی اُس کی پیاری آنکھیں اور اُس سدرہ بھینس کی آنکھوں کے نام پر زیرا کیسی اُس کی پیاری ناک اور اُس کی ناک پر کسی نے آلو رکھ دیا ہو، کیا اُس کے خوبصورت ہونٹ ایسے میں جیسے کسی نے زندہ گائے کا کلیجہ نکال کر اُس کے ہونٹوں پر چپکا دیاہو۔ ارے وہ عدنان سمیع کی بہن لگتی ہے موٹاپے کے معاملے میں لیکن اب تو وہ بھی پتلا ہو گیا ہے لیکن وہ بھینس تھی بھینس ہے اور بھینس ہی رہے گی۔اُس کی عمر چاہے بیس سال ہے لیکن اُس کا منہ ستر سالہ ہے اور جسم نوے سالہ تجھے حیا نہ آئی سحر تیری زبان پر انگارے نہ پڑے اُس معصوم ہریتک کواُس بھینس سے ملاتے ہوئے۔“

”اے بس کر نور کی بچی جتنی تعریف تو نے اُس چھے انگلیوں والے ناچے کی کردی ہے اتنی تو محنت پڑھائی پر کر لیتی تو آج اکنامکس کے پریڈمیں اتنی انسلٹ نہ ہو تی۔ اماں آج یہ اتنے آسان سے سوال نہ حل کر سکی اور یہ تو اس چھانگے کی آنکھوں کو کیا کہہ رہی تھی خوبصورت ؟ارے اس کی آنکھوں کا رنگ ایسا ہے جیسے کسی ٹی بی والے بابے نے اپنے گلے کا سارا بلغم اُس کی آنکھوں پر پھینک دیا ہو اور ناک کہاں سے پیاری لگی جیسے کسی طوطے کی چونچ ہو اور ڈانس وہ ایسا کرتاہے جیسے بجلی کی تاروں کو پکڑ لیا ہو اور کبھی کبھی تو ایسا لگتاہے کہ جیسے کوئی سانپ لہرا رہا ہو اور ہونٹ تمہیں کہاں سے پیارے لگے۔“

”اے بس کرو “اماں نے غصے سے بیچ میں ہی سحر کی بات کاٹ دی ”ارے تم دونوں کتنا فضول بولتی ہو اور نور کی بچی مجھے پہلے ہی شک تھا تمہارا دھیان پڑھائی میں نہیں لگ رہا میں آج ہی تمہارے ابا سے کہہ کر یہ خرافات اُترواتی ہوں۔“

”نہیں امی میں کیبل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی“ نور حتمی لہجے میں بولی!

”نہیں رہ سکتی تو پھڑک کے مر جا ،میری طرف سے کھلی اجازت ہے“ اماں بولی ”ہائے ہائے تم دونوں کی بکواس میں اصل بات تو میں بتانا ہی بھول گئی ہوں وہ بادل کی ماں ہے نہ مینا۔“

” ارے اماں وہی مینا جس کی بیٹی کا نام ہم نے آندھی اور شوہر کا نام ہم نے طوفان رکھا ہوا ہے “نور اماں کی بات کاٹ کر بولی

”کتنی بار کہا ہے منحوس لڑکی میری بات مت کاٹا کر لیکن تجھ پر ذرا جو اثر ہو“

” کُتے کی دم بھی کبھی سیدھی ہوئی ۔“سحر نے نور کی طرف دیکھ کر کہا

” تم اپنی حد میں رہوسحر کی بچی ورنہ میں تمہارا منہ نوچ لوں گی “نور نے خونخوار لہجے میں کہا ۔

”اے بند کرو اپنی بکواس “اماں دھاڑی” آج شام کو مینا تمھارا رشتہ لا رہی ہے تم لوگ تیارہو جانا۔ وہ مینا بتا رہی تھی کافی اچھے لوگ ہیں اور کھاتے پیتے بھی۔“

”ارے امی آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں۔جیسے ہم تو بھوکے مرتے ہیں ۔“نور نے پھر اماں کی بات کاٹ کر بولی۔

”بکواس بند کر شام کو تیار رہنا اور کوئی ڈرامہ مت کرنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“اماں نے اکتائے لہجے میں کہا

”ارے امی آپ کو ہماری شادی کی اتنی جلدی کیاپڑ گئی ابھی تو ہماری عمر ہی کیا ہے صرف اُنیس اُنیس سال اور آپ ابھی سے ہی ہم کو اپنے سے جدا کرنا چاہتی ہیں۔“سحر نے وضاحت دی۔

”تم دونوں نے مجھے کوئی سکھ دیا ہو تو سوچوں۔“ اماں بولی

”دیکھیں امی میں تو بالکل بھی اُن لوگوں کے سامنے نہیں آﺅ گی چاہے جو مرضی ہو جائے اور ویسے بھی ہمارا ایک ہی تو مشغلہ ہے لڑنا اور ہم کرتی ہی کیا ہیں ؟ کوئی رشتہ دار ہے جس کے گھر ہم چلے جائیں ،لے دے کے ایک خالہ ہے جو اسلام آباد میں رہتی ہیں۔اور وہاں بھی ہم صدیوں بعد جاتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیں لڑیں نہ تو کیا کریں۔“ سھر نے بری سنجیدگی سے اپنی مجبوری بتائی۔

”تو لڑائی کونسی سے اچھی بات ہے ۔“اماں بولی

”بس مجھے نہیں پتا میں اُن لوگوں کے سامنے بالکل بھی نہیں جاﺅ گی۔“ سحر بولی

”میں تمہاری ٹانگ توڑ دوں گی۔“ اماں غصے میں بولی

”اچھا ہے پھر لنگڑی لڑکی کو وہ اپنی بہوبنانے سے رہی۔“ سحر زچ ہو کر بولی” آخر امی آپ سمجھ کیوں نہیں رہی اتنی کم عمر میں بھی کوئی شادی کرتاہے کیا۔“

”کیوں جب میری شادی ہوئی تھی تو میں صرف سترہ سال کی تھی اور تمہارے ابا مجھ سے پورے پانچ سال بڑے ہیں۔“ اماں نے یادوں میں کھوتے ہوئے کہا تو سحر بولی                          ”لیکن امی وہ وقت اور تھا اب زمانہ بدل گیا ہے ۔“

”کیوں اب زمانے کو کونسے کیڑے پڑے ہیں۔ وہ سدرہ بھی تو ہے ،تم لوگوں سے ایک سال بڑی ہے اُس کی منگنی بھی دوسا ل پہلے ہو چکی ہے۔ اب اس کی ماں کہہ رہی تھی اُس کی شادی کرنی ہے ۔“

”ارے اماں اُس کی تو مجبوری ہے۔“ نور بولی

”کیسی مجبوری ؟“اماں نے حیرانگی سے نور کی طرف دیکھا۔

”ارے اماں آپ کتنی بھولی ہو آپ نے دیکھا نہیں وہ کتنی بھیانک ہے۔ آپ کو پتا تو ہے اُن لوگوں نے اپنا دروازہ نکال کر بڑا گیٹ صرف اس لئے بڑا کیا ہے تا کہ سدرہ بھینس اُس میں سے گذر سکے۔ اماں کچھ تو خیال کریں آپ ہمارا مقابلہ اُس دو ٹانگوں والی بھینس سے کر رہی ہیں۔“

”خدا کا خوف کرو لڑکی“ اماں بولی” تم ہر وقت کیا کیا فضول کہتی ہو۔ وہ بھی اللہ کی بنائی ہوئی انسان ہے۔ کیا ہوا جواللہ نے تم لوگوں کو خوبصورت بنا دیا ہے۔ وہ تم لوگوں میں بھی کوئی کمی پیدا کر سکتاتھا ۔تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے نہ کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق کا مذاق بناﺅ۔اللہ سے ڈرو اُس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔“

” اماں اب آپ ہمیں لیکچر نہ دیں اور اُس مینا منحوس کو کہیے کہ کوئی رشتہ لانے کی ضرورت نہیں بس۔“ نور اُکتاہٹ سے بولی۔

”چل چل بڑی آئی۔ ابھی ہم زندہ ہیں ،دو گھنٹے میں وہ آرہی ہے، تم دونوں تیار ہو جاﺅ اور اگر زیادہ زبان چلائی تو کاٹ دو گی“ اماں انہیں وارننگ دے کر باہر چلی گئی۔

اماں کے جاتے ہی نور پھر شروع ہو گئی

” دیکھا تم نے ،تمہاری وجہ سے مجھے یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔ پتا نہیں وہ جھریوں زدہ چہرے والی مینا، پتا نہیں کیا شاہکار اٹھا کر لائے گی،ارے وہ ہماری کلاس فیلو عطرت، وہ بتا رہی تھی اُس کی کزن کا رشتہ بھی اس مینا نے کروایا تھا۔“

”کونسی والی کزن کا رشتہ کروایا تھا۔“ سحر بولی” اُس کی ہزاروں کزن کزنیں ہیں راہ چلتے کو وہ اپنا کزن بنا لیتی ہے۔ ایک دن وہ کہے گئی ز داری اور اُباما بھی میرے کزن ہیں۔“

”اُہو، وہی تبسم کی بات کر رہی ہوں، ارے وہی جوماچس کی تیلی سے ملتی جلتی ہے۔ بہت برا ہوا بیچاری کے ساتھ، اُس کا رشتہ اُس کے ایک ایسے انسان کے ساتھ طے کروایا ہے کہ وہ انسان تو لگتاہی نہیں اُسے دیکھ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پتا ہے اُس کے لمبے لمبے دانت ،کالا رنگ، سفید بال اتنے نہیں تھے پر تھے، چھوٹی چھوٹی بوڑھی آنکھیں، بڑے بڑے پنکھوں جیسے کان اور حبشیوں جیسے موٹے موٹے ہونٹ ،جسامت ایسی کہ تنکا بھی موٹا لگے ۔میں نے تمیں کتنا کہا تھا کہ میرے ساتھ چلو مگر تم گئی ہی نہیں ۔بیچاری بڑی حواس باختہ تھی۔ ولیمے والے دن سچی اُس کی ہمت تھی ورنہ کوئی کمزور دل والی تو اُس کو دیکھ کر ویسے ہی پھڑک کر مر جائے۔ سچی مجھے تو بڑا ترس آیا اُس بیچاری تبسم پر۔ چلو شوہر تو شوہر اُس کی ساس بھی بڑی بھیانک تھی۔ مجھے تو وہ سرے سے عورت لگی ہی نہیں مجھے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ عورت نما ڈائن ہے یا ڈائن نما عورت اور اُس کی نندیں اُن کمینی چڑیلوں کا سایہ پوری بارات پر تھا اور دیور دیور نہیں دیو تھے دیو، بیچاری پر ایک رحم ہو گا۔“

”وہ کیا۔۔؟“ سحر نے دلچسپی سے پوچھا۔

”اُس کا سسر زندہ نہیں تھا۔ وہ زندہ ہوتا تو پتا نہیں کتنا بھیانک ہوتا۔ جس کی اُولاد اتنی خوف صورت ہے وہ خود کتنا دراﺅنا ہوتا۔ توبہ توبہ اُ س ساری فیملی کو دیکھ کر منہ سے تو یہ ہی نکلتی تھی یا اللہ ایسا ظلم کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ کرنا۔ بڑی زیادتی ہوئی تبسم کے ساتھ۔“ نور نے دکھ سے سوچا اور سحر یہ سب سُن کر بہت غمگین ہوئی تھی۔

ززز

”ارے سحر جلدی کرو وہ نمونے آگئے ہیں“ نور سے اطلاع دی

” ارے اتنی جلدی آ گئے اُنہوں نے تو کہا تھا ہم پانچ بجے آئیں گے لیکن ابھی تو ساڑھے چار ہوئے ہیں اور ابھی سے ہی آفتیں نازل ہوگئی ہیں۔بتاﺅ کتنے نمونے ہیں۔“ سحر نے غصے اور بیزاری کی ملی جلی کفیت میں پوچھا

”مجھے کیا پتا۔“ نور اُکتاہٹ سے بولی ”چلو جلدی کرو امی بُلا رہی ہیں ۔“

”ہاں چلو“ دونوں ڈرائنگ روم میں چلی گئی۔

دونوں نے ڈرائنگ روم میں جاکر سلام کیا جس کا جواب نہایت ہی معمولی شکل والی براﺅن کلر کی عورت نے دیا جو یقینا لڑکے کی ماں تھی۔ اُس کے ساتھ ایک بھاری بھرکم عورت تھی جس نے سلام کا جواب دینا بھی گوارہ نہ کیا ۔اُس عورت کا منہ تو تھوڑا صاف تھا لیکن ہاتھ اور پاﺅں منہ کے مقابلے میں بہت کالے تھے ایسا لگتا تھا منہ کسی اور کا ہو اور ہاتھ اور پاﺅں کسی اور کے۔ وہ صوفے پرایسے بیٹھی تھی اور لڑکیوں کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کسی گورنرکی بہو یابیٹی ہو ۔ خاص کر اپنے موٹے بھدے کالے سیاہ ہاتھوں میں آرٹی فیشل کنگن پہنے تھے اور وہ اُن کو ایسے گھما رہی تھی جیسے سونے کہ ہو۔ صاف پتا چل رہا تھا کسی گھٹیا سی دوکان یا باہر سڑک کے کنارے لگی جیولری کی ریڑھی سے خریدے ہوئے ہیں۔ اُن کے ساتھ ایک بچھو نما آدمی تھا جو بار بار بسکٹوں کو ڈنگ مار رہا تھا۔ ایک مریل سا کالے اور نیلے کلر کو مکس کریں تو جو کلر بنے گا، اُس کلر کا ڈراﺅنا سا بابا بھی ساتھ لائے تھے جس کی شکل نہایت ہی ڈراﺅنی تھی۔ جب وہ دیکھتا تو لگتا کہ ابھی کہیں سے چھری چاقو یا تلوار یا اُسترا نکالے گا ۔میں مار ڈالوں گا، ختم کردوں گا، ساری دنیا کو تہس نہس کر دوں گا، جیسے ایکسپریشن لیئے لڑکیوں کو خونی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اُس منحوس مینا نے تعارف کروایا

” یہ حبیب صاحب کی بیٹیاں ہیں ،نور اور سحر، دونوں کالج میں پڑھتی ہیں۔“

”اس کے علاوہ یہ کچھ نہیں کرتیں۔“ اُس ملٹی شیڈ عورت نے پوچھا

”نہیں اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں کرتیں“ سحر نے بیزاری سے جواب دیاتواماں نے اُس کو گھورا۔

”اس کا مطلب ہے پڑھنے کے علاوہ تم لوگ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتیں۔“ وہ گوالن پھر بولی

”نہیں نہیں بچیاں اپنے سارے کام خود ہی کرتی ہیں ۔کھانے پکانے میں تو ماہر ہیں۔ دوسرے کام میں بھی میرا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ پڑھائی کے بوجھ کی وجہ سے میں خود ہی ان کو زیادہ کام نہیں کرنے دیتی۔“ اماں بات کو سنبھالنے لگیں

”اس کا مطلب ہے آپ اِن کویہ نہیں سکھاتی کہ گھر کے کام کیسے کرتے ہیں۔“ وہ گوریلی پھر بولی۔

”ارے آپ اِن کی پڑھائی وغیرہ چھڑوائیں اور اِنہیں گھر داری سیکھائیں ۔اب یہ سسرال میں جاکر خود ہی کام کریں گی نہ کہ ان کی پڑھائی کام کرے گی اور یہ جو آپ کہہ رہی کہ یہ اپنے سارے کام خود کرتی ہیں لیکن لگتا ہے کہ انہوں نے کبھی برتن یا کپڑے دھوئے ہو۔“ اُس بھینس نے دونوں کے مخروطی انگلیوں والے ہاتھوں اور پاﺅں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”اور تمہارے ہاتھوں اور پاﺅں کے نام پر دھبے ہوں۔“ نور نے جل کر سوچا

                ”اوبی بی آپ کے شوہر کیا کام کرتے ہیں۔“ اب بابا قاتلی بولا اُس کی آواز ایسی تھی جیسے کوئی بھڑیا اوراُلومل کر کورس میں بولے تو جو آواز نکلے گی ویسی آواز تھی بابے قاتلی کی

                ”جی وہ بینک میںجاب کرتے ہیں ۔“اماں نے جواب دیا

                ”یہ گھر کرائے کا ہے یا اپنا ہے “

                ”جی ہمارا اپنا ہے۔“ اماں بولی

                ”او بی بی گھر میں کوئی مرد نام کی چیز ہے یا نہیں؟“

                ”نہیں بھائی صاحب میرے شوہر اس وقت بینک میں ہوتے ہیں اور ۔۔۔“

                ”اور کیا۔۔۔؟“ بابا قاتلی اپنی الو جیسی گول آنکھوں میں دنیا جہان کا قہر سمائے نہایت خوفناک انداز سے پوچھ رہا تھا۔اماں بابا قاتلی کے خطرناک تیور دیکھ کر سہم کر بولی

                ”نہیں بیٹا کوئی نہیں ہے ۔بس اللہ نے دو بیٹیا ں دی ہیں ۔اللہ اِن کے نصیب اچھے کرے۔“ اماں نے دل کی گہرائیوں نے دونوں کو دعادی۔

                ”ہاں ہاں کوئی خوش قسمت مائیں ہوتی ہیں جن کے بیٹے ہوتے ہیں۔ بیٹیا ں تو بوجھ ہوتی ہیں جتنی جلدی ہو سکے اِن کو اُتار دو۔“ وہ پچکے گالوںاور مٹیالے منہ والی عورت بولی جو پچھلے پندرہ منٹ سے نمکو کی پلیٹ کا صفایا کرنے کے بعد بولی بھی تو اتنا گھٹیا بولی کہ سحر کا دل چاہا اُس کی زبان کاٹ دے یا پھر اُس کے منہ میں انگارے بھر دے ۔

                آپ کا بیٹا کیا کرتاہے ۔“اب اماں نے اُن ندیدے لوگوں سے سوال کیا ۔

                ”بھئی میرے بیٹے کی اپنی کریانے کی دوکان ہے۔“ وہ عیار منہ والی بڑھیا خرانٹ بولی،” میٹرک پاس ہے میرا بیٹا، ہیرا ہے میرا بیٹا ہیر،ا میں بیوی بھی ہیرے جیسی لاﺅں گی۔“وہ منحوس عورتگدھے کی طرح اکڑ کو بولی

                ”اچھا اب ہم چلتے ہیں۔“ اچانک وہ ملٹی شیڈ عورت بولی

                ”ہاں اب اُنہوں نے جانا ہی تھا ،کیونکہ چائے بسکٹ کیک نمکو او رسموسے کا صفایا جوہو چکا تھا اب اُن کے بیٹھنے کاکیا فائدہ۔جاتے ہوئے وہ ہینوٹرک بولا

                ” آپ بھی ہماری طرف ضرور آنا، ہاںکل یا پرسوں مت آنا، ایسے کئی لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ایک دن مہمان آیا اور دوسرے دن منہ اُٹھا کر اُس کے گھر پہنچ جانا ایسا کرنا آپ جمعے والے دن آ جانا کیونکہ جمعے والے دن دوکان بند ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی اور دن آئی تو میرے بھائی کو دوکان بند کرنا پڑے گی ۔اس طرح ہمارا نقصان ہوگا۔“اماں ان کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور مینا منحوس بھی اُن کے ساتھ ہی دفعہ ہو گئی۔اماں واپس آئی تو بہت ہی افسردہ تھیں دونوں لڑکیاں پریشان ہو گئی

                ” آپ اتنی اداس کیوں لگ رہی ہیں اماں ۔ہم نے آپ کو پہلے کبھی بھی اس قدر اُداس نہیں دیکھا۔“ نور نے کہا

اب وہ اُن کو کیا بتاتی کہ اُس عورت کی بات کس قدر اُن کے دل کو لگی تھی اُن کا کیا قصورتھا کہ اللہ نے اُن کو کوئی بیٹا نہیں دیا تھا۔اماں نے اپنا دکھ چھپا کر چہرے پر اطمینان لا کر لڑکیوں سے پوچھا

                ” تم دونوں کو یہ لوگ کیسے لگے؟ “

سحر تو پھٹ پڑی ۔اماں اس منحوس کالی سیاہ رات جیسے منہ والی مینا کو شرم نہ آئی ایسا رشتہ لاتے ہوئے، کیسے وہ سب چیزوں کا صفایا کر کے چلے گئے تمیز تواُن کو پتا ہی نہیں کس چیز کا نام ہے اور وہ بھینس کس طرح اپنے بھائی کی تعریفیں کر رہی بھی جیسے کریانے کی دوکان والانہ ہو کوئی بہت بڑا بزنس ٹائیکون ہو اور وہ بوڑھی خرانٹ اپنے بیٹے کے لئے ہیرے جیسی بیوی لائے گی، ارے اِن کو کوئی ہیرے جیسی بیٹی تو بہت دور کی بات ہے کوئی ان کو کوئلے جیسی بیٹی بھی نہ دے جیسے ان کی حرکتیں ہیں ۔بھوکے ،ننگے ،ندیدے ،گھٹیا لوگ اور وہ جو اپنے ساتھ ایک بچھو نما آدمی لائے تھے ،اُس جلے ہوئے بینگن کو صرف کھانے کی پڑی تھی۔ سب نے باری باری اپنے حصے کا زہر اگلا تھا اور اُس بچھونے تو صرف نگلا تھا۔ چائے اور بسکٹ اور وہ جو اُس کی بیوی تھی وہ رنگین بھینس اُ س کا میک اپ دیکھا تھا جیسے کسی ورکشاپ سے کروا کر آئی ہو اور اُس کی جوتی کا ڈیزائن توبہ توبہ جیسے کسی نے جانورکا پنجہ پاﺅں پر چپکا دیا ہو۔ بڑی ہمت تھی اُس عورت کی جو گھروں میں جاتی ہے اور اُس بے وقوف بھنیس کو یہ تک خبر نہیں کہ لوگ اُس کا کتنا مذاق بنائے گئے اور دیکھا وہ کنگ کونگ کی شکل اور جسامت والی بہن، اگر کنگ کونگ کو پتہ چل جائے کہ اُسے اس عورت کے ساتھ ملایا جا رہا ہے تو وہ پھڑک کے مر جائے۔ کیسے کہہ رہی تھی کہ پڑھائی چھڑوا دیں۔ارے خود تو جاہل ہے ہی اور کہتی ہے پوری دنیا کے لوگ جاہل ہو جائےں، میں پہلے ہی جانتی تھی کہ یہ مینا کی بچی جراثیم ہی اٹھا کر لائے گی۔“

                ”اوے بس بھی کرو تم لوگ چُپ ہو جاﺅ۔“ اماں بولی” ایسے نہیں کہتے کسی کے بارے میں‘

                ”خبر دار اماں، جو آپ نے اُن لوگوں کی حمایت کی تو“ نور غصے سے بولی،” جب تک ہم بی اے نہیں کر لیتیں، تب تک آپ ہمارے رشتوں کے بارے میں نہ سوچیں، جب اللہ کو منظور ہو گا تو ہو جائے گا۔“نور یہ کہتی ہوئی ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئی اُس کے پیچھے سحر بھی چلی گئی اور اماں نے دل کی گہرائیوں سے اُن کے لیئے دعا کی کہ اِن کے نصیب اچھے ہوں اور یہ لوگ تواماں کو بھی اچھے نہیں لگے تھے۔

ززز

                ”ارے سحر اُٹھو۔۔۔!“ نور نے سحر کو اُٹھایا۔

                ” کیوں کیا تکلیف ہے ۔“سحر نے نیندمیں جواب دیا

                ”ارے تمہیں کوئی آواز سنائی دیں رہی ہے۔“

                ”آں۔۔۔ کیسی آواز۔۔۔؟“ سحر بڑبڑائی ۔

                ”جیسے کوئی رکشا چل رہا ہو۔“ نور بولی

                ”ارے پاگل لڑکی اتنی رات کو رکشا کون چلائے گا ۔ چُپ چاپ سو جاﺅ۔“

                ”ارے سنوتوسہی نور کسی طرح نہ مانی

                ”ضرور وہ بھینس سدرہ غراٹے لیں رہی ہو گی۔ اس کا تبیلا اور ہمارے کمرے کی دیوار ایک ہے اور تم اس وقت سو جاﺅ اورمجھے بھی سونے دو۔“ سحر نے کہا اور چادر تان لی۔

ارے سنو۔۔۔ اب کوئی اور آواز آ رہی ہے جیسے بلی یا کتا رو رہا ہو“ نور نے سحر کو ہلایا

                ”منحوس لڑکی سو جاﺅ چُپ چاپ، ہو گا اُن کا کوئی گھریلو مسئلہ“ سحر غصے سے بولی۔

                ”چلو چل کر باہر دیکھیں ۔“نور کا سحر کی باتوں پر کوئی اثر نہ ہوا ،”اگر بلی روئے تو گھر میں مصیبت آتی ہے۔“

                ”تم سے بڑی مصیبت اس گھر میں داخل ہو سکتی ہے اور اب اگر تم نے مجھے جگانے کی کوشش کی تو میں زور زور سے چلاﺅں گی اور تمہاری بلی کتے کی داستان امی اور ابا کو سُناﺅ گی پھر تمہارے رونے کی آواز پورا محلہ سُنے گا۔“ سحر نے خطرناک لہجے میں دھمکی دی اور دوبارہ کمبل تان لیا۔اُس کی دھمکی صرف دھمکی نہیں تھی اگر وہ اُسے ایک بار اور اُٹھا دیتی تو ابھی اُس کے ساتھ وہی ہوتا جو اُس نے کہا ہے

                ”جاﺅ مرو منحوس کہیں کی ،ساری دنیا اس وقت سو مر رہی ہے پر مجھے پتا نہیں کیا تکلیف ہے جو مجھے نیند نہیں آ رہی ۔اسے دیکھوں جیسے نشہ کر کے سوئی ہے۔“ نور نے سحر کی طرف دیکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔

                                                ززز

                آسمان پر اودے، کالے ،مٹیالے اورسفید بادل رینگ رینگ کر قریب ہوئے جارہے تھے۔ موسم بڑا سہانا تھا۔ آج لڑکیوں کا بی اے کا آخری پیپر تھا۔ وہ بہت خوش تھیں کہ اُن کے سبھی پیپر اچھے ہوئے تھے۔ وہ بہت ہی اچھے موڈ میں گھر پہنچیں تھیں۔ جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو نور سحر سے ٹکرائی اور سحر کا پاﺅں گیٹ کے پاس پڑے گملے سے ٹکرا گیا

                ”منحوس لڑکی اندھی ہو، کیڑے پڑے ہوئے ہیں آنکھوں میں یا سفیدموتیا اُتر آیا ہے جو اندھوں کی طرح بھاگی چلی آ رہی ہو ،دیکھ کر نہیں چل سکتی نابینا کہیں کی۔“ سحر نے کھا جانے والی نظروں سے نور کو دیکھا۔

                ”تو کیا ہوا تمہارا پاﺅں ٹوٹ تو نہیں گیا ،لنگڑی تو نہیں ہو گئی جو اتنی بکواس کر رہی ہو، ڈرامے باز کہیں کی، چلو اٹھو، اب یہ مکر بند کرو اور اندر چلو گیٹ پر ہی تماشا لگانا شروع کر دیا ہے مدارن کہیں کی ،ایک بندر ہی خرید لو بڑا شوق ہے نہ تمہیں تماشا دکھانے کا۔“ نور نے غصے سے کہا

اماں اُن کی آواز سُن کر باہر آئی اور اُن کو لڑتے دیکھا۔

                ”آئے ہائے آتے ہی کمینگی شروع ہو گئی تم دونوں کی۔ اندر تو داخل ہو لو تم دونوں، دروازے پر ہی اپنی اوقات دکھانی شروع کر دی ہے۔ کبھی تو اتفاق کر لیا کرو ہر وقت لڑائی اور لڑائی بھی ایسی بے تُکی باتوں پر جن کا نہ تو سر ہوتاہے اور نہ ہی پیراور یہ اُس بات کے دُم اور سینگ بھی نکال لیتی ہے کبھی کسی نے کسی کے فیورٹ ہیروں کو کچھ کہہ دیا، کبھی کپڑوں پر لڑائی تو کبھی جوتوں پر ۔میں تنگ آ گئی ہوں تم دونوں کی حرکتوں سے ،آج ہی میں اُس مینا سے کہہ کر تمہارے رشتوں کی بات کرتی ہوں، جب وہ مینا چھچھورے رشتے لائے گی تب تم کو پتا چلے گا کہ ماں کا دل دُکھانے کی کتنی سزا ملتی ہے، ہم نے تو کبھی اپنی اماں مرحومہ، اللہ ان کو جنت نصیب کرے، اُن کو نہیں ستایا پتہ نہیں ہمیں اتنی بڑی سزا کیوں ملی ہے تم دونوں کی شکل میں۔“ یہ کہتے ہوئے اماں چلی گئی

                ”اور تمہیں اللہ جہنم نصیب کرے۔۔۔“ سحرنور کو کہتے ہو کمرے میں چلی گئی

                ززز

                ”ارے سحر اُٹھو۔۔۔“ نور نے سحر کو اُٹھایا

                کہو، کیا بکواس ہے۔“ سحر نے جواب دیا

                ”ارے وہ جو ہمارے گھر کے سامنے نیا گھر بنا ہے نا، اُس میں رہنے کے لیئے لوگ آئیں ہیں۔“ نور نے سحر کو بتایا ۔

                ”لوگ ہی رہنے آئیں گے جانور نہیں اور تمہارا کیا ارادہ ہے کہ میں ان لوگوں کو دھکے مار کر اُس گھر سے باہر نکال دوں۔“

                ”اُہو بکواس بند کرو اور چلو چل کر دیکھتے ہیں، آخر ہمارے نئے پڑوسی ہیں کیسے“ نورنے کہا ۔سحر بھی بستر چھوڑ کر اُٹھ بیٹھی۔

                آج دونوں لڑکیوں نے پارک جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ اُن کے پیپر بھی ختم ہو چکے تھے اور کرنے کے لیئے کوئی کام نہ تھا تو اُنہوں نے سوچا کیوں نہ پارک ہی جایا جائے۔ موسم بھی بہت سُہانا تھا ۔لڑکیاں تیار ہو کر پارک پہنچیں۔ سرمئی بادلوں سے سارا آسمان بھرا ہوا تھا۔

                ”آج تو کھُل کر بارش ہو تومزا آجائے گا۔ دیکھو سر سراتا ہوا سبزہ کتنا اچھا لگ رہا ہے وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھی کہ اچانک اُن کی نظر بائیں جانب لگے کیکر کے درخت پر پڑی۔ اُنہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا سامنے درخت پر ایک خوش شکل نوجوان لڑکا اُلٹا لٹکا ہوا دکھائی دیا۔

                ”ارے یہ کون ہے؟“ دونوں حیران ہوئیں،” لگتاہے کوئی پاگل ہے اسی لیئے ایسی بونگی حرکت کر رہا ہے۔ چلو چل کر دیکھتے ہیں۔“ نورکہا

                ”ابھی وہ دونوں جانے ہی والی تھی کہ اچانک اُسی عمر کا ایک اور نوجوان آ گیا اُس کے ہاتھ میں درجن بھر کیلے تھے اُس نے ایک کیلے کا چھلکا اُتارا اورآدھا اپنے منہ میں اور آدھا لٹکے ہوئے لڑکے کے منہ میں ڈال دیا۔

                ”یہ دونوں ہی پاگل ہیں جو ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ ورنہ کوئی عقل مند ایسا بالکل نہیں کر سکتا ہے ۔“سحر نے کہا

                ” ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے۔“ نور نے تائید کر دی

دوسرا لڑکا جو کیلے لے کر آیا تھا اُس نے کیلے نیچے رکھے اور پہلے والے لڑکے کی طرح درخت پر چڑھا اور ویسے ہی لٹک گیا اور پہلے والا نیچے اُترا اور اُس نے کیلے کا چھلکا اُترا اور پہلے کی طرح آدھا خود کھایا اورا ٓدھا لٹکے ہوئے لڑکے کے منہ میں ڈالا۔

                ”تم مانو یا نہ مانو مجھے پکا یقین ہے کہ یہ دونوں پچھلے جنم میں بندر ہو گئےں ورنہ اگر انسان ہوتے تو ایسی عقل سے فارغ حرکت نہ کرتے۔“ سحربولی

                ”چلو چل کر پوچھتے ہیں ان کو کیا بیماری ہے۔“                نور نے کہا

                ”نہ بابا نہ میں تو بالکل بھی نہیں جاتی اگر ہم نے انہیں کچھ کہا تو اُلٹا پتھر ہی نہ مارنا شروع کر دیں ۔“سحر نے خوف زدہ ہو کر کہا

                ”ارے کچھ نہیں ہوتا “سحر کے نہ نہ کرنے کے باوجود نور اُسے زبردستی گھسیٹنے لگی۔

                ایویں فضول ان لوگوں کو چھیڑنا ہے۔۔۔ ہم انہیں کیا کہیں گے بھلا؟“

                ”یہ کہیں گے کہ۔۔ارے اُو۔۔۔باندر بھائی صاحب اس پارک میںسرکس کب لگی ہم تو یہاں روز آتے ہیں مگر ہم نے تم لوگوں کو کبھی یہاں نہیں دیکھا آج کیا پہلا شو ہے۔“

                ”نہ بھئی نا میں نہیں جاتی۔“ نور نے صاف انکار کر دیا اور آگے بڑھ گئی۔کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئیں تو اچانک اُن میں نے ایک لڑکا ان کے سامنے آکر بولا

”جی ہاں یہاں سرکس لگی ہے اور ہم نے بندریا برائے ضرورت کا ایڈ بھی اخبار میں دیا تھا شائد آپ دونوں اُسی نوکری کے لیئے آئی ہیںِ کیوں میں نے ٹھیک کہا نہ؟“ لڑکے نے شرارت سے پوچھا۔دونوں لڑکیاں ہکا بکا رہ گئی اِن کو اس قدر فورا جواب کی امید ہر گز نہیں تھی۔

 ”ارے ہمیں تو یقین نہیں آ رہا اتنی جلدی ہمیں ہماری بندریاںمل جائیں گی۔ “اب کی بار دوسرا لڑکا بولا۔ سحر سے تو بولا ہی نہیں جا رہا تھا

اتنی توہین۔۔۔ اُس نے نور کا بازو کھینچا اور گھسٹتی ہوئی اُسے وہاں سے لے گئی۔ پیچھے سے لڑکوں نے آواز دی۔

                ”ارے اُو۔۔۔باندریوں یہ توپوچھتی جاﺅ کہ تنخواہ کتنی لوگی اور کام کب سے شروع کرنا ہے۔“

 اُن لڑکوں کی آواز ے سحر کے کانوں میں سیسے کی طرح پڑنے لگی اور وہ نور کو کھنچتی ہوئی پارک کا گیٹ عبور کر گئی ۔ انہیں یہ ہوش بھی نہ رہا کہ یہ ہی معلوم کر لیں کہ ان لڑکوں کو اتنی دور سے سنائی کیسے دے گیاتھا؟

                ”آخر تمہیں ضرورت کیا تھی اِن چھچھوروں کے منہ لگنے کی ،تمہاری وجہ سے اتنی بکواس سننی پڑی ۔تم اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہو کہ تم دنیا کی سب سے بڑی مسخرہ ہو جو تم کسی کو کچھ بھی کہو و ہ بڑا مانے بغیر تم سے ڈر جائے گا کہ نہیں یہ دنیا کا سب سے بڑا مسخرہ ہے اس سے کون جیت سکتاہے۔ تم نے سب کو اپنی طرح بے وقوف سمجھ رکھا ہے۔“ نور کی آنکھیں غصے سے لال ہو گئی تھی اُس کا دل چاہ رہا کہ وہ سحر کو گولی مار دے اور اُن باندروں کی زبانیں کاٹ دے ۔”تم نے اُن کی دس سن کر آئی ہو، ارے تمہاری تو کوئی عزت ہے نہیں ،پر میری تو پروا کرتی کتنا کہا تھا تمہیں پر تم پر کوئی چیز اثر بھی کرتی ہو گدھی کہی کی۔“

                ”ارے بس بھی کرو ۔“سحر شرمندہ لہجے میں بولی اگر تم مجھے نہ لاتی تو جواب دیتی اُن باندروں کو کہ نانی تو کیا اُن کے نانے کی پرانی گرل فرنیڈ بھی یاد آ جاتی میں ایسی اُن کمینوں پاگلوں اور خالی دماغ والے لڑکوں کی طبیعت صاف کرتی ۔“

                ”ہاں ہاں میرے سامنے تو تم ایسے ہی کہوں گی ۔اب کیا پچھتائے کیا ہوت جب باندر کر گئے بے عزتی۔“

                ” ٰٓایک منٹ ۔۔ ایک منٹ۔۔۔ذرا سوچو ان تک ہماری بات کیسے پہنچ گئی ۔ ہم نے تو بہت

 نے تو بہت فاصلے سے ان پر ریمارکس دئیے تھے ۔“ سحر نے کہا تو نور بھی چونک گئی ۔ اسے پہلے خیال ہی نہیں آیا تھا۔ غصے میں اس کا بھی دماغ ماﺅف ہو گیا تھا،سارے راستے دونوں یہی سوچتیں رہیں، یہاں تک وہ گھر نہ پہنچ گئیں۔

                وہ دونوں جب گھر میں داخل ہوئی تو سامنے کا منظر کچھ عجیب تھا۔ اماں کسی عورت کے گلے لگ کر رہ رہی تھی۔ وہ عورت تھی تو نفیس لیکن رونے کی وجہ سے اُس کی ناک ٹماٹر کی طرح سرخ ہو چکی تھی ۔یہ کون ہے ؟دونوں نے ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

                ”اسلام وعلیکم!“دونوں نے سلام کیا ۔جس کا جواب نہایت پیارسے موصول ہوا تھا ۔

                ”اچھا ہوا تم دونوں آ گئی ہو۔ اِن سے ملو یہ میری بچپن کی سہیلی نفیسہ ہے ۔یہ جو سامنے نیا گھر بناہے ،یہ انہی کا ہے۔“ اماں بتانے لگی،” ہم ایک ہی محلے میں رہتی تھیں۔ ہمارا بچپن بہت اچھا تھا، مل کر کھانا پینا ایک ساتھ سکول جانا پھر اس کی شادی ہو گئی اور یہ کویت چلی گئی۔ شادی کے بعد اس کے امی اور ابو وفات پا گئے اور یہ پھر وہاں کی ہو کر رہ گئی۔ اب یہ ہمیشہ کے لئے پاکستان سیٹل ہو گئی ہے۔“ وہ بہت پیاری سی خاتون تھی اور بڑے پیار سے اِن کو دیکھ رہی تھی۔ اُس آنٹی نے دونوں کے نام پوچھے اور اُن دونوں کو اپنے پاس بٹھایا۔ کچھ ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہیں اور پھر جاتے ہوئے اِن تینوں ماں بیٹی کو اپنے یہاں آتے کی دعوت دے کر گئی تھیں۔

ززز

جاری ہے۔ حصہ دوم کے لئے اس لنک پر کلکل کریں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے