سر ورق / کہانی / چچا تیزگام کی کرکٹ محمد فہیم عالم

چچا تیزگام کی کرکٹ محمد فہیم عالم

اچانک چچا تیزگام کی آنکھ کھل گئی۔
”حیرت ہے، کمال ہے، تعجب ہے بل کہ افسوس ہے۔ آج ہماری آنکھ اتنی جلدی کیسے کھل گئی۔“ چچا تیز گام حیرت سے بڑبڑائے۔ ویسے تو عموماً چچا تیزگام نمازِ فجر پڑھ کر دوبارہ سوتے اور سات بجے تک اٹھ جاتے تھے کیوں کہ محمود اور عروج فاطمہ نے اسکول جانا ہوتا تھا۔ اس لیے بیگم ناشتہ جلد ہی تیار کر دیتی تھیں، لیکن آج چوں کہ اتوار کا دن تھا، محمود اور عروج فاطمہ کی چھٹی ہونے کی وجہ سے اتوار کو ناشتہ بھی دیر سے بنتا تھا۔ اس لیے چچا تیزگام بھی دیر ہی سے اٹھتے تھے۔
”جمن!او! جمن!“ چچا تیزگام کو اپنی آنکھ کھلنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تو اُنھوں نے بستر پر بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی۔
”جی! مالک! جی مالک!“
”جی مالک کے بچے! یہ آج ہماری آنکھ اتنی جلدی کیسے کھل گئی؟“ چچا جمن پر برس پڑے۔
”مم مالکب بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں یہ تو آپ اپنی آنکھ سے پوچھئیے۔“ جمن گھبرا کر بولا۔
”وہ تو خیر ہم ضرور پوچھیں گے، ارے! کیا کہا! آنکھ سے پوچھوں، دماغ تو نہیں چل گیا تمھارا۔ ہم آنکھ سے بھلا کیسے پوچھ سکتے ہیں۔“چچاتیزگام جمن کو گھورتے ہوئے بولے۔
”مم مالک وہ وہ میرا مطلب “ جمن سے کوئی بات نہ بن پڑی۔
”کیا مطلب تھا تمھارا؟ ارے! ارے! یہ کیا!“
چچا تیزگام اچانک اُچھل پڑے۔ گول سی کوئی چیز کھڑکی سے ہوتی ہوئی چچا کے سر سے ٹکرائی۔ وہ تو شکر تھا کہ چچا تیزگام نے بیدار ہوتے ہی اپنی پُھندنے والی ٹوپی پہن لی تھی۔ اس لیے وہ چیز چچا کے سر کی بجائے ٹوپی سے ٹکرائی اور ٹوپی چچا تیزگام کے سر سے اڑ تی ہوئی دُور جا گری تھی۔ چچا تیزگام اور جمن نے گھبرا کر اُس چیز کی طرف دیکھا، وہ کرکٹ ہارڈ بال تھی۔
”اف مالک! اگر آپ کے سر پر ٹوپی نہ ہوتی تو“ جمن خوف سے جھرجھری لیتے ہوئے بولا۔
”ارے ! اس گیند کو تو ہم بھول ہی گئے۔ یہ یہاں کہاں سے آئی؟“
”مالک محمود اپنے دوستوں کے ساتھ گلی میں کرکٹ کھیل رہا ہے، لگتا ہے یہ گیند اسی کی ہے۔“ جمن نے بتایا۔
” ہوں تو ہماری آنکھ ان کے شور سے کھلی ہے گیند اور ہماری ٹوپی ذرا ہمیں پکڑاﺅ، ہم محمود میاں اور اُن کے دوستوں کی خبر لیتے ہیں۔“ پھر چچا ٹوپی سر پر رکھے اور گیند ہاتھ میں پکڑے کمرے سے باہر آئے۔ دروازے پر محمود اور اُس کے دوست پہلے ہی گیند لینے کے لیے کھڑے تھے۔
”چچا تیزگام! چچا تیزگام! ہماری گیند دے دو۔“
چچا تیزگام کو دیکھتے ہی سب لڑکے پکار اٹھے۔
”ارے برخوردارو! گلی بھی کوئی کرکٹ کھیلنے کی جگہ ہے۔“ چچا تیزگام بولے۔
”ابا جان! ہمارے علاقے میں کوئی گراﺅنڈ تو ہے نہیں، اب اگر ہم گلی میں بھی نہ کھیلیں تو اور کہاں کھیلیں۔“ محمود نے جواب دیا۔
”ارے بھئی ضروری تو نہیں تم کرکٹ ہی کھیلو۔ تم کوئی اور کھیل بھی تو کھیل سکتے ہو۔ بھلا کرکٹ بھی کوئی کھیل ہے۔“ چچا تیزگام بُرا سا منہ بنا کر بولے۔
” چچا جی !آپ کو کیا پتا کرکٹ کتنا زبردست کھیل ہے، آپ نے کبھی کرکٹ جو نہیں کھیلی۔“ ایک لڑکا بولا۔
”جمن! سنا تم نے، یہ آج کل کے لونڈے ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کرکٹ کاکیا پتا۔ ارے برخودردار! اپنے وقت میں ہم اپنی ٹیم کے کپتان ہوا کرتے تھے کپتان!“
”ابا جان! کیا آپ بھی کرکٹ کھیلا کرتے تھے؟“
محمود نے حیرت کا اظہار کیا۔ جمن اور تمام بچے بھی حیرت سے چچا کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اُن کے لیے یہ ایک نئی بات تھی۔
”اور نہیں تو کیا، ہمارے چھکے تو علاقے بھر میں مشہور تھے۔“
”مالک ! پھر تو آپ ماشاءاﷲ کرکٹ کے پُرانے کھلاڑی ہیں۔“ جمن بول اُٹھا۔
”ہماری ٹیم کی جیت کا دارومدار ہی ہم پر ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمارے گاﺅں کا دُوسرے گاﺅں والوں کے ساتھ میچ تھا۔ ہماری ٹیم کو جیتنے کے لیے ایک اوورمیں 40 رنز کی ضرورت تھی اور آخری بلے باز بھی ہم ہی تھے۔ بس پھر ہم نے وہ چھکے لگائے وہ چھکے لگائے کہ سب اَش اَش کر اٹھے اور ہم نے ایک اوور میں 40 اسکور پورا کر دیا۔“
چچا تیزگام اپنی داستانِ کرکٹ سناتے ہوئے بولے۔
”کیا!!“ یہ سن کر سب حیرت سے چلا اٹھے۔
”لیکن ابا جان ایک اوور میں تو صرف چھ گیندیں ہوتی ہیں۔ آپ نے چھ گیندوں میں 40 اسکور کیسے بنا لیا؟“ محمود نے حیرت سے پوچھا۔
”ہم نے ہر گیند پر چھکا لگایا اور اسکور پورا ہو گیا۔“
”لیکن چچا تیزگام چھ گیندوں پر چھ چھکے لگانے سے بھی 40 اسکور پورا نہیں ہوتا بلکہ 36 بنتا ہے۔“ ایک لڑکا بولا۔
”بھئی دو گیندیں وائٹ اور دو نو بال بھی تو ہوئی تھیں۔“ چچاتیز گام بھلا کہاں ہار ماننے والے تھے۔
” چچا جان! آپ تو چھپے رستم نکلے۔ ابھی کچھ دیر بعد یونیورسٹی گراﺅنڈ میں ایک ٹیم کے ساتھ ہمارا میچ ہے۔ ابھی ہم اُسی میچ کی پریکٹس کر رہے تھے۔ آپ ہمارے امپائر بن جائیں کیوں کہ ہمارے پاس کوئی اَمپائر نہیں ہے۔“ محمود کی ٹیم کے کپتان نعمان نے کہا۔
”کیا کہا ہم اور اَمپائر! نا بابا نا بہت عرصہ ہوا ہمیں کرکٹ چھوڑے ہوئے ہیں۔“ چچا تیزگام امپائر بننے کا سن کر گھبرا کر بولے۔
”پلیز چچا! پلیز۔“ نعمان نے بلند آواز میں کہا تو سب لڑکے بھی یک زبان ہو کر بولے: ”پلیز چچا مان جائیں۔“
”اچھا بابا اچھا ٹھیک ہے۔“ چچا بولے۔
کچھ دیر بعد چچا اَمپائر بنے گراﺅنڈ میں کھڑے تھے۔

جیسے ہی باﺅلر نے پہلی بال کروائی، چچا تیزگام نے جلدی سے نو بال کا اشارہ دیتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ پھیلا دیا۔
”یہ تو ٹرائی بال تھی۔“ باﺅلر نے حیرت سے چچا تیزگام کی طرف دیکھا۔
”ہم بھی تو یہی اشارہ کر رہے تھے کہ یہ نو بال ہے۔ مطلب یہ گیند نہیں ہے۔“ چچا تیزگام بولے۔باﺅلر نے سمجھنے کے سے اندز میں سر ہلایا اور دوبارہ باﺅلنگ کروانی شروع کی۔ کچھ دیر تو چچا تیزگام اس کی باﺅلنگ دیکھتے رہے، لیکن پھر چچا تیزگام کو فارغ کھڑا رہنا اچھا نہ لگا۔ اب جیسے ہی باﺅلر نے گیند کروائی، اور بلے باز نے زور سے بلا گھمایا اور گیند فضا میں بلند ہوئی تو چچا تیزگام نے فوراً اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی اُوپر اٹھا لی۔
”اوہ !چچا تیزگام! یہ تو چھکا ہے۔ اور آپ آﺅٹ ہونے کا اشارہ کر رہے ہیں۔“ چچا تیزگام کو اشارہ دیتے دیکھ کر بلے باز چلا اٹھا۔
”اوہ! اچھا! اچھا! ہم بھی وہی کر رہے تھے۔ وہ دراصل ہمارے کان میں خارش ہورہی تھی۔ اس لیے ایک ہاتھ سے ہم کان میں خارش کر رہے تھے۔“ چچا تیزگام دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بلند کرتے ہوئے بولے۔
باﺅلر نے اگلی گیند کروائی تو بلے باز نے گیند کو ہلکی سی ہٹ لگائی اور رن لینے کے لیے دوڑتے ہوئے اپنے ساتھی بلے باز کو پکارا: ”بھاگو….“
چچا تیزگام سمجھے شاید انہیں بھاگنے کے لیے کہا ہے، انھوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ اور دوڑ پڑے۔
”چچا تیزگام! آپ کیوں دوڑ رہے ہیں؟ میں نے تو اپنے ساتھی بلے باز کو دوڑنے کے لیے کہا تھا۔“
”دھت تیرے کی، ہم سمجھے تم نے ہمیں کہا ہے۔ ایسے ہی ہماری دوڑ لگوا دی۔“
چچا تیزگام جھلا کر واپس پلٹے۔ آخر خدا خدا کر کے پہلی ٹیم کے اوورز مکمل ہوئے، اب دُوسری ٹیم کو چند منٹ کے وقفے کے لیے بعد کھیلنا تھا۔
”ہم سے نہیں ہوتی یہ امپائرنگ…. بھلا یہ بھی کوئی کام ہے، بندہ بُت کی طرح ایک جگہ کھڑا رہے۔“ چچا تیزگام جھلا کر بولے۔
”تو پھر آپ ہمارے ساتھ کھیل لیں۔ ہمارا ایک کھلاڑی ویسے بھی فیلڈنگ کرتے ہوئے زخمی ہو گیا ہے۔“ نعمان بولا۔
”آپ ماشاءاﷲ تجربے کار کھلاڑی ہیں۔ چوکے چھکے لگائیں گے تو ہم میچ آسانی سے جیت جائیں گے۔“ محمود بولا۔
”چوکے، چھکے لگانا تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔“
پھر نعمان نے دُوسری ٹیم کے کپتان سے چچا کے کھیلنے کے بارے میں بات کی تو انھوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔
”آپ کو ہم بیٹنگ کے لیے آخر میں بھیجیں گے کیوں کہ آپ ماشاءاﷲ چوکے چھکے لگاتے ہیں۔“ نعمان نے کہا۔
”اُس وقت تک ہم بھلا کیا کریں گے؟“ چچا تیزگام تلملا کر بولے کیوں کہ فارغ بیٹھنے سے اُن کو کو کوفت ہوتی تھی۔
”اُس وقت تک چچا ہماری طرف سے فیلڈنگ اور باﺅلنگ کریں گے آخر یہ ہمارے بھی تو چچا ہیں۔“ دُوسری ٹیم کا کپتان بولا۔
”ہاں! ہاں! کیوں نہیں، ہم تو سب کے چچا ہیں۔“ چچا تیزگام زور سے اپنا سر ہلاتے ہوئے بولے۔
باﺅلنگ کے لیے پہلا اور چچا ہی کو دیا گیا۔ جیسے ہی میچ شروع ہوا چچا تیزگام فوراً رن اپ لینے کے لیے دوڑے، لیکن جیسے ہی انھوں نے گیند کروانی چاہی اُن کا ہاتھ فضا ہی میں جھول کر رہ گیا۔ کیوں کہ جلدی میںوہ گیند لینا بھول گئے تھے۔
چچا کی اس حرکت پر سب لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔
”ارے بھئی! ہمیں گیند تو پکڑا دو۔“
چچا تیزگام کھسیانے سے ہو کر بولے۔ پھر انھوں نے گیند جس تیزی سے بلے باز کی طرف پھینکی تھی اُس سے کہیں زیادہ تیزی سے وہ فضا میں بلند ہو کر چھکے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔
”چچا تیزگام! دھیان سے! پہلے ہی گیند پر چھکا کوئی نیک شگون نہیں۔“ ایک کھلاڑی چلّایا۔
”ارے یہ گیند تو میں نے بچہ سمجھ کر ویسے ہی کروائی تھی۔ اب دیکھنا دُوسری گیند پر آﺅٹ نہ کیا تو میرا نام چچا تیز گام نہیں۔“
چچا تیزگام اوور مکمل ہونے تک چار چوکے اور دو چھکے کھا چکے تھے۔ میچ کافی دل چسپ ہو گیا تھا۔ پہلی ٹیم نے 120 رنز بنائے تھے۔ محمود کی ٹیم 100 بنا چکی تھی۔ اب میچ جیتنے کے لیے انہیں 20رنز کی ضرورت تھی۔ جب کہ ابھی دو اووز کا کھیل باقی تھا۔
ٹیم کے 9 کھلاڑی آﺅٹ ہو چکے تھے۔ اُس وقت کپتان ہی وکٹ پر کھڑا ہوا تھا۔ چچا تیزگام چوںکہ دونوں طرف سے کھیل رہے تھے۔ اس لیے کپتان کے ساتھ اب چچا تیزگام کو کھیلنا تھا۔ کپتان نے ایک اوور میں ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا۔ یوں اسکور 110 ہو گیا۔ کھیل کافی سنسنی خیر مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ سب کی نظریں کپتان پر لگی ہوئی تھیں۔ کیوں کہ چچا تیز گام کے بارے میں تو سب ہی جان چکے تھے کہ وہ کتنے
”ماہر کھلاڑی“ ہیں۔ آخری اوور کی پہلی گیند پر کپتان نے ایک زور دار ہٹ لگائی اور چوکا ہو گیا۔ اب میچ جیتنے کے لیے تین گیندوں پر صرف چھ رنز کی ضرورت تھی۔ محمود کی ٹیم کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ باﺅلر نے جیسے ہی دُوسری گیند کروائی تو کپتان نے تیزی سے ایک رن بنا لیا۔ اب چچا نے باﺅلر کا سامنا کرنا تھا۔ خوف کے مارے اُن کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ باﺅلر جیسے جیسے ان کی طرف بڑھ رہا تھا اُن کے خوف میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ کپتان کے کہنے کے باوجود وہ بغیر پیڈ اور ہیلمٹ کھیل رہے تھے۔تماشائی ایسے خاموش تھے جیسے انھیں سانپ سونگھ گیا ہو۔
باﺅلر نے اتنی تیزی کے ساتھ گیند پھینکی کہ چچا کو نظر ہی نہ آئی۔ یوں وہ گیند ضائع ہو گئی۔
”چچا دھیان سے کھیلیں۔“ نعمان چلّایا۔
”دھیان ہی سے تو کھیل رہا ہوں اگر مجھے گیند ہی نظر نہ آئے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔“
”بس اب ایک چھکے کی ضرورت ہے۔“ نعمان نے کہا۔
”چھکا، ارے چھکا لگانا تو میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔“
”اب آخری گیند پر ہمیں چھ رنز کی ضرورت ہے۔“
”ارے صاحب زادے تم فکر ہی نہ کرو، اب گیند میری طرف آئے گی تو میں اس کا وہ حشر کروں گا کہ اُسے چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔“ چچا بولے۔
باﺅلر گیند کروانے کے لیے تیار تھا۔ وہ تیزی سے وکٹوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اُس نے پوری قوت کے ساتھ گیند پھینکی تو چچا تیزگام نے دیکھے بغیر کہ گیند کدھر ہے اپنا بلا گھما
دیا۔ ایسا کرتے ہوئے انھوں نے سر کو تیزی سے حرکت دی تھی۔ اُن کے ایسا کرنے کی دیر تھی کہ گیند صاحبہ اُن کی ٹوپی سے تیزی سے ٹکراتے ہوئے اُن کے سر کو لہولہان کر گئی تھی۔ گیند لگنے کی دیر تھی کہ خون کا ایک فوارہ اُبل پڑا تھا۔ اپنا خون دیکھ کر چچا بے ہوش ہو گئے وکٹ پر گرتے ہوئے اُن کے ہونٹ ”چھکا ، چھکا، چھکا“ کا راگ الاپ رہے تھے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

: "آخری جلسہ” … آندرے گروشینکو (روس… ستار طاہر

: "آخری جلسہ” آندرے گروشینکو (روس ستار طاہر بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے