سر ورق / ناول / فرار ..  روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی

فرار ..  روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی

پہلا حصہ

سریش کے گھر میں داخل ہوتے ہی ماں کی بڑبڑاہٹ شروع ہو گئی تھی،”دنیا جہان کے لڑکے دھندے سے لگ گئے۔ ان نواب زادے کو کام کرنے کا من ہی نہیں ہے۔ بیٹھے بیٹھے کھانے کی عادت جو پڑ گئی ہے۔ نہ بہن کے بیاہ کی فکر، نہ گھر بار کا دھیان۔ ارے میں تو کہتی ہوں پلّے داری کر لے۔ چار پیسے کما کر تو لائے۔“

سریش کو بی اے پاس کئے دو سال ہو گئے تھے۔ نوکری کے لیے بہت ہاتھ پاوں مارے لیکن کوئی نوکری نہیں ملی۔ آج کے دور میں جب ایم بی اے اور انجینئرز پریشان ہیں، تو بی اے پاس کو کون پوچھتا۔

اسے ماں کی کھری کھوٹی سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کی بڑبڑاہٹ کے پیچھے انکے ہائی بلڈ پریشر، گھریلو پریشانیوں اور شوہر کے اغماض کا ہاتھ تھا۔ لیکن اس دن وہ کچھ اکھڑا ہوا تھا۔ رات کو ماں نے آنگن میں کھانا لگادیا۔ اس نے ابھی پہلا نوالہ ہی توڑا ہی تھا کہ ماں نے سوال داغ دیا،”کوئی کام ملا؟“

سریش کے دانت کٹکٹائے، مٹھیاں کس گئیں اور غصے اور مایوسی سے ایک چیخ نکل گئی۔ گھر کے سب لوگ چونک کر ادھر آ گئے۔وہ پلیٹ ایک طرف سرکا کر اٹھ گیا۔

ماں بڑبڑائی،”گھر کا کھانا اب اچھا نہیں لگتا۔ باہر کھا کے آیا ہوگا۔ ارے کچھ کما کر لائے، گھر میں کچھ دے تو میں بھی تر مال کھلاﺅں۔“

سریش نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اوپر چھت پر جاکر چارپائی بچھا کر لیٹ گیا۔

سریش ، ہری لال اور اُوما دیوی کی اولادوں میں سب سے بڑا تھا۔ بس اس سے بڑی ایک بہن ریکھا تھی، جس کی عمر چوبیس سال تھی۔ ایک سترہ سال کی چھوٹی بہن رشمی اور ایک بارہ سال کا چھوٹا بھائی امیت تھا۔

 ہری لال، اترپردیش کے ایک چھوٹے سے شہر اُورائی کے سرکاری اسکول میں استاد تھے۔ ریکھا چار سال سے بی اے کرکے گھر میں فارغ بیٹھی تھی۔ ریکھا کی شادی کی کوششیں جاری تھیں، لیکن کہیں معاملہ فٹ نہیں ہو پا رہا تھا۔ رشمی گیارویں میں اور امیت چھٹی کلاس میں پڑھ رہے تھے۔ گھر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور شادی کی دہلیز پار کرتی عمر کی نوجوان بیٹی گھر میں بیٹھی تھی۔ اُوما دیوی کی صحت اور مزاج خراب ہونے کی یہی بنیادی وجوہات تھیں۔ اُوما دیوی، ہری لال سے اس بات پر بھی ناراض رہتیں کہ وہ ٹیوشن نہیں پڑھاتے تھے۔ اُوما دیوی کو معلوم تھا کہ ہری لال جی کے دوسرے ساتھی، اسکول میں کم اور گھر میں زیادہ توجہ دیتے تھے اور تنخواہ سے کئی گنا زیادہ ٹیوشن سے کماتے تھے۔ کچھ استاد تو طلباءکو ہراساں کر کے یا ڈرا دھمکا کر بھی، اپنے یہاں ٹیوشن پڑھنے پر مجبور کرتے تھے۔ ہری لال اسکول میں خلوص سے پڑھاتے اور کسی طالب علم کو ٹیوشن پڑھنے کا مشورہ نہیں دیتے۔ کچھ طالب علم رضاکارانہ طور پر ٹیوشن پڑھنا چاہتے تو پڑھا دیتے۔ خالی وقت میں اخبار پڑھتے رہتے اور اُوما دیوی کبھی کچھ کہتیں تو ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے۔

 ریکھا میں کوئی کمی نہیں تھی ،پھر بھی شادی میں تاخیر ہو رہی تھی۔ کہیں جنم کنڈلی میل نہیں کھاتی۔ کبھی لڑکے والے آکر لڑکی کو دیکھ جاتے پھر کوئی جواب نہیں دیتے۔ کچھ لوگ جہیز کا سیدھے یا اشارے کنایوں میں، ایسا مطالبہ یا ایسی شرط رکھ دیتے جو پورا کرنا ہری لال کے بس سے باہر ہوتا اور انہیں خود ہی پیچھے ہٹنا پڑتا۔ ماں باپ کو اپنی شادی کے لیے پریشان اور لڑکے والوں کے نخرے دیکھ کر ریکھا بھی اداس تھی اور اس کے مزاج میں بھی تھوڑی چڑچڑاہٹ آ گئی تھی۔ کبھی کبھار بات بے بات ماں سے الجھ پڑتی تھی۔

سریش بہت سی ملازمتوں کے امتحانات دے چکا تھا۔ کچھ میں پاس بھی ہوا، لیکن پھرانٹرویو میں فیل ہو گیا۔ پتہ چلا کچھ پوسٹنگ سفارش یا لے دے کر ہو گئیں۔ اُوما دیوی چاہتیں تھیں کہ ہری لال کو بھی لڑکے کی نوکری کے لیے کچھ کوشش کرنا چاہیے لیکن ہری لال کوئی بڑی سفارش نہیں جٹا پائے اور رشوت کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ایک تو پیسہ تھا نہیں اور ہو بھی توکسے جاکر دیں ،ان کی سمجھ سے باہرتھا۔ وہ ڈرتے تھے کہیں ایسا نہ ہو کام بھی نہ ہو اور پیسہ بھی ڈوب جائے۔

بیوی کے بہت اصرار پر انہوں نے اپنے ایک دوست کی مدد سے، سریش کو بازار میں ایک میڈیکل اسٹور پر سیلز مین کی نوکری پر رکھوا دیا۔

جس قسم کے سماجی ماحول میں ہری لال کا خاندان رہ رہا تھا، اس میں اب بھی زیادہ تر ارینجڈ میرج ہی ہوتیں تھیں۔

سریش کی نوکری لگتے ہی، اس کی شادی کے لیے رشتے آنے لگے۔

اُومادےوی کے دل میں یہ بات بےٹھ گئی تھی کہ پیسے کی کمی کی وجہ سے ریکھا کی شادی طے نہیں ہو پا ر ہی ہے۔

ایک دن انہوں نے ہری لال سے کہا،”سنو جی، کیوں نہ سریش کی شادی ریکھا سے پہلے کر دیں؟“

” ریکھا کیا سوچے گی؟ پھر برادری والے کیا کہیں گے؟“ ہری لال نے خدشہ ظاہر کیا۔

” ریکھا کے بارے میں سوچ کر ہی بول رہی ہوں۔“

”کیا مطلب؟“

” ریکھا کے کچھ اچھے رشتے پیسوں کی کمی کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گئے۔“

”تو کیا؟“

”میں سوچ رہی تھی کہ اگر سریش کی شادی پہلے کر دیں، تو لڑکی والے جو جہیز ہمیں دیں گے، اسے ہم ریکھا کی شادی میں کام میں لا سکتے ہیں۔“

”میں تو سوچتا تھا کہ میں سریش کی شادی بغیر جہیز کے کروں گا۔ میں لڑکی کے خاندان والوں سے کچھ نہیں مانگوںگا۔“

”زیادہ آدرشوں والا بننے کی ضرورت نہیں۔ پھر میں تم سے کچھ مانگنے کو نہیں کہہ رہی اور مجھے بھی جہیز کا کوئی لالچ نہیں ہے۔ “

”تو پھر؟“

”پھر کیا؟ چار سال سے کوشش کر رہے ہو۔ ریکھا پچیسویں میں چل رہی اب۔ بغیر مطالبے کا کوئی لڑکے والا سامنے آیا؟“

”ایک دو لوگ تو آئے تھے۔“ ہری لال نے کہا۔

”کیا ان کے لڑکے کسی لائق تھے؟“اُوما دیوی نے سوال کیا۔

 ہری لال خاموش ہو گئے۔

…………

 چندا اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس سے چھوٹی دو بہنیں تھیں کرن اور روپا اور ایک چھوٹا بھائی ویویک تھا۔ والد منوہر اُورائی کے چھوٹے بازار میں چاٹ کا ٹھیلا لگاتے تھے۔ ماں کملا گھر میں سموسے، کچوری، پانی پوری وغیرہ بنا کر ٹھیلے پر فروخت کرنے کےلئے دیتیں تھیں۔ کملا کا ہاتھ اس کام میں خوب سدھا ہوا تھا اور اسی وجہ سے منوہر کی چاٹ بازار میں خوب بکتی تھی۔ آمدنی ٹھیک ٹھاک تھی۔

 چندا نے بارہویں پاس کر لی تھی۔ وہ گوری، دبلی اور تیکھے نین نقش والی خوبصورت لڑکی تھی۔ زیادہ تر وہ شلو ار سوٹ پہنتی تھی ،لیکن جب کبھی کبھی شوق میں ماں کی ساڑی پہن لیتی، تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے۔ کملا اسے ساڑی میں دیکھتی تو اس کی بلائیں لیتی ،لیکن ساتھ ہی اس کی شادی کی فکر بھی ستانے لگتی ۔

منوہر کا مکان اُورائی کی ایک تنگ گلی میں تھا۔

گلی تنگ تھی ،لیکن اس میں بڑے، اونچے، چھوٹے ہر طرح کے مکان تھے۔ منوہر کے برابر میں ورما جی کا مکان تھا ۔جن کا نئے بازار میں ایک لیڈیز اسٹور تھا ۔جس میںچوڑیاں، بندیاں اور سنگھار کی دیگر اشیاءبکتی تھیں۔ ورما جی کے دو بچے تھے، ایک لڑکی شیلی جس کی ایک سال پہلے کانپور میں شادی کر دی تھی اور دوسرا ایک لڑکا تھا سومیش عرف ّ سمّو جو چندا کا ہم عمر تھا۔ سمّو تعلیم کے ساتھ ساتھ دکان پر بھی اپنے والد کے ساتھ بیٹھتا تھا۔

منوہر اور ورما کے بچے کے ساتھ ساتھ کھیلتے کودتے بڑے ہوئے تھے۔ دونوں خاندانوں میں اچھا گھلنا ملنا تھا۔ انکی چھتیں بھی ایک دوسرے سے اتنی ملی ہوئیں تھی کی منڈےر کود کر ایک دوسرے کی چھت پر آ جا سکتے تھے۔ گرمیوں میں شام کو، ہوا کھانے کے لیے ،دونوں گھروں کے افراد اپنی اپنی چھتوں پر آ جاتے اور وہیں گپیں لگاتے۔

ایسی ہی ایک شام کملا اور بچے چھت پر وقت گزار کر نیچے چلے گئے سوائے چندا کے۔ تھوڑی دیر بعد کسی کام سے کملا چھت پر گئی تو اس نے دیکھا چندا اور سمّو چھتو ں کی درمیانی منڈیر پر جھکے، ایک دوسرے سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ کملا کو دیکھ کر چندا بولی،”ماں کچھ کام تھا کیا؟“

”کچھ کام سوچ کر ہی آئی تھی پر بھول گئی۔“ یہ کہہ کر وہ نیچے چلی گئی اس کے پیچھے چندا بھی چلی آئی۔

کملا کو سمّو اور چندا دونوں پر اعتماد تھا، لیکن انکی نوجوان عمر کا بھی اسے خیال تھا۔ ڈرتی تھی کوئی چکر نہ ہو۔ اس کا بس چلتا تو سمّو ہی سے چندا کا بیاہ کر دیتی۔ لیکن ورماجی کی برادری الگ تھی۔ وہ برادری اور سماج سے بہت ڈرتی تھی۔

رات کو جب بازار سے لوٹ کر منوہر کھانے کے لئے بیٹھا ،تو اُس نے کھانا پروسا اور برابر میں بیٹھ گئی۔

”تم بھی کھا لو۔“ منوہر نے کملا سے کہا۔

”تم کھاو، میں بعد میں کھاﺅںگی۔ “کملا بولی۔

کملا کے اس انداز سے منوہر سمجھ گیا کہ وہ کسی سوچ میں ہے۔

”سب ٹھیک تو ہے؟“

”سب ٹھیک ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ چندا بڑی ہو گئی ہے ۔ہمیں اس کی شادی کے لیے لڑکے کی تلاش شروع کر دینا چاہیے۔ “کملا بولی۔

”آج اچانک یہ خیال کس طرح آیا؟“منوہر نے پوچھا۔

”ایسے ہی۔ کبھی کبھی رشتہ طے ہوتے ہوتے وقت لگتا ہے، اس لئے ابھی سے شروعات کریں گے، تو سال چھ ماہ میں بات کچھ آگے بڑھے گی۔“

”وہ تو ٹھیک ہے، لیکن میں سوچ رہا تھا کہ چندا پہلے بی اے تک کم سے کم پڑھ لے۔“

”اب اتنی جلدی کون سی شادی ہوئی جاتی ہے، وہ پڑھتی رہے گی۔ ہمیں کوشش شروع کر دینی چاہیے ،جس سے وقت رہتے لڑکی کا بیاہ ہو جائے۔“

”ٹھیک ہے میں خاندان والوں اور جان پہچان والوں سے بول دوں گا، ان کی نظر میں کوئی شادی کے قابل لڑکا ہو تو بتائیں۔ تم چندا کی کچھ اچھی سی فوٹو کھنچوا کر رکھ لو۔ “

منوہر نے کھانا ختم کیا اور منہ ہاتھ دھو کر چھت پر سونے چلا گیا۔ کملا ،منوہر کے جواب سے مطمئن تھی۔ وہ سونے سے پہلے باورچی خانے کے بچے کچے کام نمٹانے میں لگ گئی۔

…………

اگلے دن اتوار تھا۔ اس دن چھوٹے بازار بند رہتا تھا۔ منوہر کے پاس تین چوائس ہوتیں یا تو وہ چھٹی منائیںیا ٹھیلے پر کم سامان بنوا کرلے جائیں اور ایک مختصر وقت کے لئے بازار جاکر آجائے، تیسری چوائس یہ تھی کہ سنیما ہال یا پارک کے پاس جا کر چاٹ بیچیں۔ لیکن وہاں کبھی کبھی دوسرے ٹھیلے والے برا مانتے ،کیونکہ انہیں خوف رہتا کہ ان کی کمائی پر منفی اثر پڑے گا، لہذا وہ بھی کہیں نہیں جاتا۔ اپنے بازار کا ہی چکر لگا کر جلدی لوٹ آتا۔ اس دن وہ کملا کے ساتھ بڑے بازار سے ضروری خریداری کرتا یا بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتا اور ٹی وی دیکھتا۔ کبھی وہ لوگ سنیما ہال میں جاکر فلم بھی دیکھ آتے۔ لیکن اس دن منوہر کو اپنے ایک چچیرے بھائی سوہن کی لڑکی کی شادی میں بمع اہل و عیال جانا تھا۔ شادی رات کو تھی اور وہاں رات گئے تک پروگرام چلنے والا تھا، لہذا اس نے دن میں گھر میں رہ کر آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوہن کا گھر، منوہر کے گھر سے تقریبا ًایک کلومیٹر کے فاصلے پر پرانی بستی میں واقع تھا۔ منوہر،کملا اور بچے شام تقریباً سات بجے تیار ہو کر پیدل ہی سوہن کے گھر کی طرف چل دیئے۔ منوہر نے ایک ڈنڈا اور فلیش لائٹ بھی لے لیا۔در اصل سوہن کے گھر تک پہنچنے میں کئی گلیوں سے ہوکر گزرنا تھا، پھر انہی گلیوں سے رات گئے لوٹنا بھی تھا۔ آدھی رات میں ان گلیوں میں آوارہ کتوں کا ڈیرہ ہوتا تھا، جو ہر انجان شخص پر بھونکتے تھے اور کبھی انکے کاٹ کھانے کا بھی خوف ہوتا تھا۔ کبھی کسی گلی میں بجلی نہیں ہوتی ،تو گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوتا تھا۔ منوہر اُورائی سے پوری طرح واقف تھا، سو وہ تیاری کے ساتھ چلا۔

غنیمت تھا کہ سوہن کی گلی تھوڑی چوڑی تھی اور اس میں شامیانہ اور کرائے کی پلاسٹک کی کرسیاں لگا کر مہمانوں کے بیٹھنے کا ٹھیک ٹھاک انتظام کیا گیا تھا۔ کملا ،کرن اور روپا کے ساتھ سوہن کے گھر کے اندر چلیں گئیں۔ منوہر اور ویویک باہر ہی مہمانوں کے درمیان بیٹھ گئے۔

تھوڑی دیر میں بارات آ گئی۔ دولہا شان سے ایک راجکمار کی طرح ایک سجی ہوئی گھوڑی پر سوار تھا۔ دلہن کے گھر کے دروازے پر دولہا کو کھڑا کر کے کچھ رسومات کرائی گئیں۔ پھر دولہے کوگھوڑی سے اتار کر شامیانے میں ہی، ایک چھوٹے سے اسٹیج پر ور مالا کی رسم کے لئے بٹھایا گیا۔ تھوڑی دیر میں دلہن کی کچھ سہیلیاں دلہن کو لے کر اس اسٹیج تک آئیں۔ منوہر نے دیکھا کہ دلہن کے ساتھ آئی ہوئی لڑکیوں میں ایک ان کی بیٹی چندا بھی تھی، جو ساڑی پہنے ہوئے اور کچھ خاص قسم کے بنائے گئے بالوں میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ تبھی انہیں لگا کملا ٹھیک کہہ رہی تھی کہ بیٹی بڑی ہو گئی ہے۔

ورمالا کے بعد جوڑے کو گھر کے اندر لے گئے۔ شادی کی رسومات تو رات بھر چلنے والی تھیں۔ سوہن نے پڑوسی کے مکان کی چھت پر مہمانوں کے کھانے پینے کا اہتمام کیا تھا۔ چھت بڑی تھی۔ قریب ڈیڑھ سو مہمان ہوں گے۔ تین چار بار کی شفٹ میں سارے مہمانوں نے کھانا کھا لیا۔ خاص رشتے داروں کو چھوڑ کر سارے مقامی مہمان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ باراتی بھی آرام کے لیے چلے گئے۔

منوہر اور اس کے گھر والوں کو گھر پہنچتے پہنچتے رات کے ساڑھے بارہ بج گئے تھے۔ راستے میں ڈنڈا اور فلیش لائٹ کتوں اور اندھیرے سے بچنے میں کام آئے۔ گھر پہنچ کر سب لوگ جلد ہی سو گئے۔

…………

کملا نے جب سے چندا اور سومیش کو چھت پر تنہائی میں منڈیر پر جھکے ہوئے کچھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تھا، اسے چین نہیں آ رہا تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہیں ان کے بیچ پیار ویار تو نہیں ہے۔ کملا جانتی تھی کہ ویسے چندا اپنی زیادہ تر باتیں اسے بتاتی تھی، لیکن سوچتی تھی کہیں شرم یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں نہ بتائے۔ اس نے چندا سے خود اس بارے میں پوچھنے کا فیصلہ کیا۔

گرمی کی چھٹیاں چل رہیں تھیں۔ چندا چھٹیوں میں گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ ایک روز جب کملا اور چندا باورچی خانے میں تھے کملا نے بات چھیڑی۔

”اب بارہویں کلاس کے بعد کیا کرو گی؟“

”بی اے کروں گی، ماں، کیوں؟“

”ڈگری کالج تو بڑا دور ہے۔“

”اتنا بھی دور نہیں ہے۔ شیلی دیدی تو پیدل چلی جاتی تھیں۔ میں تو سائیکل سے بھی جا سکتی ہوں۔“

”اچھا یہ ورماجی کا لڑکا سومیش کیسا لڑکا ہے؟“

”ماں، آپ تو ایسے پوچھ رہی ہو ،جیسے تم اسے جانتی نہیں۔ سمّو بھیا ایک دم بدھو ہیں۔ “چندا نے ہنستے ہوئے کہا۔

کملا نے چین کی سانس لی۔ اسے چندا اور اس کے بھولپن پر پیارامڈ آیا۔ پھر بھی اس نے کریدا ،”اس دن چھت پر تم دونوں کیا باتیں کر رہے تھے؟“

”میں اسے ڈگری کالج سے داخلہ فارم لانے کو بول رہی تھی۔ فارم ملنا شروع ہونے والے ہیں۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ جا کر لے کر آئے گا۔“

”تو وہ لے کر آیا؟“

”کل سے ملنا شروع ہوں گے۔ وہ لے آئے گا۔ ورنہ مجھے یا پاپا کو جانا پڑتا۔ “

”اچھا اب تو کام چھوڑ باقی میں کر لوں گی۔“کملا نے چندا سے کہا۔

”ٹھیک ہے ماں، جب میری ضرورت ہو بلا لینا۔“ یہ کہہ کر چندا باورچی خانے سے باہر چلی گئی۔

…………

جون کا مہینہ تھا، دوپہر کی کڑک دھوپ میں بازار مندا تھا۔ چھوٹے بازارکے دکان داروں نے مل کر بازار میں لوگوں کو سورج سے بچانے دینے کے لیے ترپال لگوا دیا تھا، لیکن لوگ گھر سے باہر نکلنے کی ہمت کریں تو وہاں آئیں۔ اکا دکا گاہک ہی یہاں وہاں نظر آ رہے تھے۔ منوہر نے سوہن کی پرچون کی دکان کے پاس ٹھیلا کھڑا کیا اور سوہن کی دکان میں چلا آیا۔ سوہن بھی گدی پر سستا ہی رہا تھا۔ دکان میں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھی۔ ایک ا سٹول تھا جو دکان کے شیلفوں میں اونچائی پر رکھا سامان اتارنے کے کام آتا تھا۔ منوہر اسی پر جا کر بیٹھ گیا۔

 ”بے انتہا گرمی پڑ رہی ہے اس بار۔“

 ”بے انتہا۔“ سوہن نے حمایت کی۔

”سنیتا کیسی ہے؟“منوہر نے سوہن کی بیٹی کے بارے میں پوچھا ،جس کی کچھ دنوں پہلے شادی ہوئی تھی اور جس میں سوہن مع بیوی بچوں کے شامل ہوا تھا۔

”اچھی ہے۔ ایشور کی کرپا اور بزرگوں کا آشیرواد ہے، سنیتا کو گھر اور ور دونوں اچھے ملے۔ “

کملا نے دوبارہ چندا کی شادی کا ذکر نہیں چھیڑا تھا، پھر بھی منوہر کو اس کی بات یاد رہی۔

”بھیا چندا کے لیے بھی کوئی گھر ور بتا۔“

” چندا کی عمر ابھی کتنی ہے؟“

”اٹھارہ کی ہو گی۔“

”جلدی کیا ہے اسے اور پڑھاﺅ لکھاﺅ ابھی۔“

”وہ تو پڑھے گی اگر چاہے گی۔ کوشش تو شروع کریں؟“

”میری نظر میں ویسے اس اُورائی میں ہی ایک لڑکا ہے۔“ سوہن نے کہا۔

”کہاں ہے؟“ منوہر نے بے چینی سے پوچھا۔

”سرکاری اسکول میں اپنی برادری کے ایک ماسٹر ہری لال ہیں۔ ان کالڑکا ہے۔ چاہو تو مل لینا۔ اسکول میں ہی رہتے ہیں۔“سوہن بولا۔

تبھی منوہر کے ٹھیلے پر کچھ گاہک آ کھڑے ہوئے۔ منوہر فوری طور پر اپنے ٹھیلے پر پہنچ گیا اور گاہکوں کی ڈیمانڈ کے مطابق پتے کے دونوں میں انہیں میٹھی تیکھی چٹنی کے ساتھ سونٹھ کے پانی کی مٹکی میں ڈبوکر پانی پوری کھلانے لگا۔

جیسے جیسے شام ہوئی بازار میں چہل پہل بڑھتی گئی۔ رات آٹھ بجے تک منوہر کے ٹھیلے کا سارا سامان بک چکا تھا۔ وہ گھر کی طرف چل دیا۔

رات کو گھر پہنچنے کے بعد منوہر کو خیال آیا کہ سوہن سے اس نے یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ ماسٹر ہری لال کا لڑکا کرتا کیا ہے۔ اس نے اپنے موبائل فون سے سوہن سے رابطہ کیا اور ساری معلومات لے لیں تاکہ کملا کو بتا سکے۔

گرمی زیادہ تھی، لہذا منوہر رات کو بھی نہا کر کھانے کے لئے بیٹھا۔ کملا نے کھانا پروسا اور پاس ہی بیٹھ گئی۔

”سوہن بھائی نے چندا کے لئے ایک لڑکے کابتایا ہے۔“ کھانا کھانے کے درمیان منوہر نے کملا سے کہا۔

”اچھا، کہاں کا ہے؟ کیا کرتا ہے؟“

”یہیں اُورائی کے سرکاری اسکول میں ایک استاد ہیں، ان کا لڑکا ہے۔ بی اے پاس ہے اور ایک میڈیکل ا سٹور میں کام کرتا ہے۔“

”یہ تو بہت اچھا ہے اگر بات بن جائے، اپنی چندا پاس میں ہی رہے گی۔“

”کسی اتوار کو ان کے گھر جاو ں گا۔“

کھانا ختم کرکے منوہر آرام کرنے چھت پر چلا گیا۔

…………

بازار میں خریداری کے دوران ہی ماسٹر ہری لال کا تعارف سوہن سے ہوا تھا۔ ماسٹر صاحب اس کی ہی برادری کے نکلے، تو ان سے دعا سلام رہنے لگی۔ کبھی ماسٹرصاحب کچھ خریدنے اس کی دکان پر آتے تو سوہن ادب سے انہیں بیٹھا لیتا۔ منوہر نے اس سے جب ماسٹر صاحب کے گھر ساتھ چلنے کے لئے کہا تو وہ مان گیا اور اتوار کی صبح دونوں ماسٹر صاحب کے گھر پہنچ گئے۔

ماسٹرصاحب نے احترام سے انہیں بٹھایا۔ سوہن نے منوہر کا تعارف کرایا اور اپنے یہاں آنے کا مقصد بتایا۔ ماسٹرصاحب نے انہیں ناشتا کرایا۔ منوہر اور ہری لال جی نے ایک دوسرے کے گھر خاندان، رشتہ داروں کے بارے میں معلومات شیئرکیں۔ منوہر ،چندا کی تصویر اور جنم کنڈلی ساتھ لے گیا تھا۔ اس نے دونوں چیزیں ماسٹر صاحب کو سونپ دیں۔ ماسٹر صاحب نے سریش کو بلا کر ان لوگوں سے ملوایا۔ اس کے بعد منوہر اور سوہن نے ماسٹر صاحب سے اپنی تجویز پر غور کا پوچھا۔ ماسٹر صاحب نے گھر میں سب سے مشورہ کرنے کے بعد، بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وہ دونوں ان سے رخصت لے کر واپس ہو لئے۔

 چندا کی تصویر ماسٹر ہری لال کے گھر میں سب کو پسند آئی، لیکن سریش ابھی شادی کے لئے تیار نہیں تھا اور اُوما دیوی کو اس بات کا شک تھا کہ منوہر کے مالی حالات کیسے ہوں گے۔ انہیں ڈر تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ سریش کی دلہن تو گھر آ جائے اور بیٹی کی ڈولی پھر بھی نہ اٹھے۔ منوہر کچھ دان جہیز دے پائے گا؟ انہوں نے سوچا ہری لال تو اس بارے میں لاتعلق ہیں، لہذا انہیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔

…………

گھر پہنچ کر منوہر نے کملا کو ماسٹر جی سے ہوئی بات چیت کے بارے میں بتایا۔ کملا کو ابھی اتنی جلدی نہیں تھی، لیکن اس بات سے خوش تھی کہ منوہر نے کوشش کرنا شروع کر دی تھی۔

” لڑکا دیکھا؟ کیسا ہے؟“کملا نے بے چینی کا اظہار کیا۔

”ٹھیک ہے۔“

”اس کی تصویر لے آتے۔“

”یاد نہیں رہا۔ اگلی بار جب جائیں گے، تو لے آئیں گے۔ ویسے بھی یہیں بازار میں تو ہے، آتے جاتے تمہیں دکھادوں گا۔“

”آج ٹھیلے کے لئے کچھ بنانا ہے؟“

”تھوڑا بہت بنا دینا۔ شام کو ایک آدھ گھنٹے کیلئے بازار ہو آو ¿ں گا۔“

کملا اپنے کام پر لگ گئی۔ منوہر بیٹھک میں ٹی وی کھول کے بیٹھ گیا۔ بچے دوسرے کمرے میں گپ شپ لگا رہے تھے۔تبھی دروازے پر دستک ہوئی، کھولا تو ورما کا لڑکا سومیش ہاتھ میں کچھ کاغذ لئے کھڑا تھا۔

منوہر کو دیکھ کر وہ بولا،” نمستے چاچا جی، یہ فارم چندا نے منگایا تھا، اسے دے دینا۔“

سومیش نے ایک فارم منوہر کو دیا اور واپس چلا گیا۔ منوہر نے دیکھا وہ کالج میں بی اے میں داخلے کا فارم تھا۔

منوہر صرف بارہویں پاس تھا۔ لیکن اسے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ وہ سوچنے لگا،”اگر ماسٹرصاحب نے شادی کے لیے ہاں کی، تو کیا اسے فوری طور پر چندا کا بیاہ کر دینا چاہیے، جبکہ چندا ابھی آگے پڑھنا چاہتی ہے؟“

اس نے چندا کو آواز دے کر بلایا اور فارم دے دیا۔

فارم دیکھ کر چندا بولی،”پاپا میں بی اے میں داخلہ کے لئے فارم بھر دوں؟“

منوہر نے جواب دیا،”تم چاہتی ہو بھر تو دو۔“

 چندا کے چہرے پر جوش تھا۔ وہ خوش ہوکر اندر چلی گئی۔

…………

شام کو ٹھیلے پر گاہکوں کو چاٹ بنا کر دیتے ہوئے بھی، اس کے دل میں خیال چل رہا تھا، کیا چندا کی شادی ابھی کر دینی چاہئے؟

رات کو کھانے پر بھی گم صم بیٹھا،وہ یہی سوچ رہا تھا۔ کملا نے اسے سوچ میں پڑے دیکھا تو پوچھ لیا،”آج بڑے چپ ہو، کیا سوچ رہے ہو۔“

”یہی سوچ رہا ہوں کہ چندا کی شادی میں کہیں ہم جلدبازی تو نہیں کر رہے؟“

”کہاں کل ہی شادی ہوئی جا رہی ہے۔“

” چندا پڑھنے میں اچھی ہے اور آگے پڑھنا چاہتی ہے۔ ہمیں اسے پڑھنے دینا چاہیے۔“

”پڑھنے سے کون روک رہا ہے۔ اگر گھر ،لڑکا اچھے ہےں اور وہ راضی ہوتے ہیں، تو رشتہ پکا کر دیں گے۔ شادی بعد میں کریں گے۔“کملا نے کہا۔

”کیا کوئی اتنا انتظار کرے گا؟“منوہر نے پوچھا۔

کملا بولی،”اگر بہت اچھا رشتہ ہے تو شادی کر دیں گے۔ بی اے چندا شادی کے بعد کر لے گی۔ میں نے بھی تو بارہویں کا امتحان شادی کے بعد دیا تھا۔“

”اچھا ٹھیک ہے۔ دیکھا جائے گا۔“یہ کہہ کر منوہر اٹھ گیا۔

…………

ماسٹر صاحب کے گھر میں، سریش شادی سے انکار کر رہا تھا۔ ماسٹر ہری لال نے تھوڑا بہت سمجھایا اور چھوڑ دیا۔ سریش کو قائل کرنے کی ذمہ داری اُوما دیوی پر زیادہ تھی۔

اُومادےوی نے ایک روز سریش سے بات چھیڑی،”سریش بیٹا تو شادی کے لئے کیوں انکار کر رہا ہے؟“

سریش بولا،”پہلے ریکھا دیدی کی شادی تو ہو جائے۔“

”تم دیکھ تو رہے ہو، تمہارے پاپا گزشتہ کئی سال سے اس سلسلے میں کہاں کہاں نہیں بھٹکے۔ کتنی جگہوں پر بات چلائی لیکن کہیں بات نہیں بنی۔“

”لیکن ابھی میری آمدنی بھی بہت کم ہے۔“

”ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں تمہیں نوکری کئے ہوئے۔ وقت کے ساتھ آمدنی بھی بڑھ جائے گی۔“

”لیکن اچھا نہیں لگے گا کہ شادی کے لائق بڑی بہن کنواری رہے اور بھائی شادی کر لے۔“

اُومادےوی نے تھوڑا چڑ کر کہا،”اگر ریکھا کی تقدیر میں شادی کی لکیر نہ ہو، تو تم سب بھی کیاکنوارے رہو گے؟“

”پر میری شادی کی اتنی جلدی کیوں؟“سریش نے سوال کیا۔

اُومادےوی نے اب اسے بغیر لگی لپٹی کے بتایا کہ وہ سریش کی شادی ریکھا سے پہلے کیوں کروانا چاہتی ہے۔ بات کرتے ہوئے ریکھا کے بارے میں سوچ کر اُوما دیوی روہانسی ہو گئی۔ سریش بھی سوچ میں پڑ گیا۔

…………

کئی دنوں سے سریش کا روز رات کو بہت دیر سے سونے اور صبح دیر سے جاگنے کا سلسلہ جاری تھا۔ پھر اچانک کسی روز آنکھ بہت جلد کھل جاتی تھی ،لیکن کبھی تازہ دم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ سر بھاری اور بدن کا پور پور ٹوٹتا ہوا سامحسوس ہوتا۔ ایک بار ایک مقامی ڈاکٹر نے کچھ دنوں کے لیے اسے نیند کی گولیاں لکھی تھیں۔ وہ دوا کی دکان سے کبھی کبھی وہی گولیاں لے آتا اور رات کو کھا کر سو جاتا۔ کچھ آرام مل جاتا تھا۔ جوں جوں شادی کی تاریخ قریب آ رہی تھی، سریش کی گھبراہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ اسے تو خوش ہونا چاہیے ،لیکن ایسا ہوتا نہیں تھا۔ ایک تو وہ اپنی بڑی بہن ریکھا سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا، دوسرے چندا کی خوبصورتی کے آگے آئینہ اسے منہ چڑاتا دکھائی دیتا تھا۔ کچھ دوست اس سے شادی کو لے کر مذاق کرتے، تو وہ صرف ہلکا سا مسکرا بھر دیتا۔ کبھی اسے لگتا شادی نہ کرے لیکن وہ ماں سے ہاں کہہ چکا تھا اور چندا کے گھر والوں کو منظوری دی جا چکی تھی۔ دونوں پارٹیوں کی طرف سے شادی کی تیاریاں شروع کی جا چکی تھیں۔

ہرروز کی طرح وہ صبح نو بجے سوکر اٹھا اور فوری طور پر نہادھوکر اور ناشتہ کرکے دکان جانے لگا ،تو ماں نے اسے روک کر کہا،”ایک منٹ ٹھہر۔“

یہ کہہ کر وہ اندر جاکر ایک بیگ لے کر آئیں اور اسے تھماتے ہوئے بولیں،”اس میں بازار والوں کیلئے شادی کے کارڈ ہیں، بانٹ دینا اور تمہارے لئے شیروانی کا کپڑا ہے، اسے آج ہی سلنے کے لیے دے دینا۔“

اس نے بیگ لیا اور تیز قدموں سے بازار کی طرف چل دیا۔

…………

دو ہفتے پہلے ۔۔۔

 چندا ویسے تو کبھی کبھی اپنی شادی کا سوچا کرتی تھی کیونکہ ایک دن اس کی بھی شادی ہو گی ہی۔ لیکن اتنی جلدی ہو گی اس نے اسکا تصور بھی نہیں کیاتھا۔ جب کملا نے اسے بتایا تھا کہ لڑکے والے اسے دیکھنے آنے والے ہیں ،تو وہ بھونچکی سی ماں کو دیکھتی رہ گئی تھی۔ اس کے منہ سے نکلا تھا،”کیا؟“اسے بالکل یقین نہیں ہوا تھا۔ اس کی شادی کی کہیں بات چل رہی تھی، اور اس کی اسے جانکاری بھی نہیں تھی۔

کملا نے دہرایا،”شام کو تمہیں دیکھنے والے آ رہے ہیں ،ساڑی پہن کر اچھی طرح سے تیار ہو جانا۔“

”مجھے بتایا بھی نہیں اور اتنی جلدی شادی؟“ چندا نے پریشان ہو کر کہا۔

”آج ہی لڑکے والوں نے اطلاع بھیجی ہے۔ تو پریشان نہ ہو۔ اُورائی کا ہی لڑکا ہے، گھر بھی اچھا ہے تو خوش رہے گی اور ہمارے نزدیک ہی رہے گی۔ فکر نہ کر تیری پڑھائی بھی نہیں رکے گی۔“کملا نے اسے یقین دلایا۔ چندا فرمانبردار بیٹی تھی، جلدی مان گئی۔

شام کو لڑکا اپنے ماں باپ کے ساتھ آیا۔ جیسا کے چلن تھا چندا کو ان کے درمیان بٹھایا گیا۔ لڑکے کے باپ نے لڑکے سے کہا،”سریش، چندا سے کچھ پوچھنا ہے تو پوچھ لو۔“

سریش نے ایک نظر چندا کو دیکھا اور ہلکے سے مسکرایا۔ مگرپوچھا کچھ نہیں۔ سریش کی ماں نے ہی چندا سے بات چیت کی۔ تھوڑی دیر میں منوہر نے چندا کو بہانے سے اندر بھیج دیا۔ جاتے جاتے چندا نے ایک نظر سریش کو دیکھا اور اندر کمرے میں چلی گئی۔

اُومادےوی اب مدعے پر آئیں اور سیدھا منوہر سے بولی،”بھائی صاحب، جب سے سریش کی نوکری لگی ہے، ایک ہفتہ بھی ایسا نہیں گیا جب کوئی لڑکی والا گھر نہ آیا ہو۔“

منوہر چپ رہا۔

اُومادےوی نے آگے مزید کہا،”کچھ لوگ تو شادی میں بہت کچھ دینے کی بات کرکے گئے، لیکن ہم اپنے جیسے لوگوں ہی رشتہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ لڑکی میں ایسے سنسکار ہوں کہ ہمارے ساتھ اچھی طرح ہم آہنگی بیٹھا سکے۔“

اس کا جواب کملا نے دیا،”بہن جی، ہماری چندا بہت نیک اورسگھڑ ہے۔“

ماسٹر صاحب اور سریش خاموش تھے۔

 اُومادےوی نے منوہر سے پوچھا،”آپ شادی کیسی کریں گے؟“

” اپنی حیثیت کے مطابق اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کریں گے۔“

”میں اس لئے پوچھ رہی تھی کہ آپ نے ذہن میں کچھ سوچ کر ضرور رکھا ہو گا۔ کچھ بجٹ بھی بنایاہوگا۔ شادی بیاہ میں دونوں گھروں کا کچھ خرچہ تو ہوتا ہی ہے۔“

منوہر نے اشارہ سمجھ کر کہا،” دیدی جی میرا بجٹ آٹھ لاکھ کا ہے۔“

 اُومادےوی کھل کر اور کچھ بھی بولنا چاہ رہی تھیں ،تبھی ماسٹر جی نے اٹھتے ہوئے کہا،”اب چلا جائے۔“

ماسٹر جی نے منوہر سے ہاتھ ملایا اور کہا،”ہم ایک دو دن میں آپ سے رابطہ کریں گے۔“

ماسٹر جی، اُوما دیوی اور سریش، منوہر اور کملا سے رخصت لے کر گھر واپس آ گئے

…………

 اُومادےوی کو چندا پسند آئی۔ ساتھ ہی وہ سمجھتی تھیں کہ سریش کیلئے اس سے بہتر رشتہ نہیں ملے گا۔ دو دن بعد ماسٹر صاحب نے فون پر منوہر کو شادی کی منظوری کی اطلاع دے دی۔ منوہر نے دل کو سمجھالیا کہ اُورائی میں ہی برادری کا اچھا گھر اور لڑکا مل رہا ہے اور ایک ذمہ داری نمٹ جائے گی۔ چندا کو کملا نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا۔ باقی بچے بڑی بہن کی شادی کو لے کر خوش ہی تھے۔ منوہر نے ماسٹر صاحب سے ملکر شادی کی تاریخ اوردیگر جزئیات طے کیں۔ تین ہفتے کے اندر دھوم دھام سے سریش اور چندا سارے رسوم ورواج کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئے یا باندھ دیئے گئے۔

گرمی کی شادی تھی، جس کے بارے میں سریش کے کچھ دوست مذاق میں کہتے تھے،”بڑا پسینہ بہانے کے بعد سریش بھائی کو دلہن اور ہمیں بھابھی ملی ہیں۔“

سریش اور چندا کی قسمت سے سہاگ رات کو بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی اور موسم تھوڑا سہانا ہو گیا ۔ رات اچھی طرح کٹی۔

اگلے ایک ہفتے تک سریش اور چندا اُورائی میں موجود رشتے داروں کی دعوتوں پر جاتے رہے۔

تھوڑے دن بعد چندا نے رسم کے مطابق سسرال میں پہلی بار کھانا بنایا۔ ساس سسر نے اسے نےگ میں تحائف دیئے اور سب نے کھانے کی خوب تعریف کی۔

اس کے بعد سریش نے دکان جانا شروع کر دیا اور چندا نے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ چندا اپنی شادی سے خوش تھی ،کیونکہ سریش اسے سادہ مزاج کے لگے اور وہ اس کا دھیان رکھتے تھے۔ جب اس نے انہیں اپنے آگے پڑھنے کی خواہش بتائی، تو انہوں نے اسے ماسٹر صاحب اور اُوما دیوی سے مشورہ کر لینے کا مشورہ دیا۔

تھوڑے دنوں بعد کالج کھلنے والے تھے۔ ایک دن گھر کے سارے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے اور چندا کھانا پروس رہی تھی۔ اسی درمیان چندا نے اپنی ساس سے پوچھا،”ماں جی میں بی اے کرنا چاہتی ہوں۔ کالج کھلنے والے ہیں۔ کیا میں ایڈمشن لے لوں؟“

یہ سن کر ماسٹر صاحب کے چہرے پر خوشی کے رنگ ابھرے، لیکن اُوما دیوی تھوڑا سوچ میں پڑ گئیں۔ وہ دل میں سوچنے لگیں،”ادھر اپنے بچوں کو مناسب طریقے سے پڑھانا مشکل ہے، اب بہو کو بھی پڑھانا پڑے گا کیا؟ اور وہ پہلے کی طرح ہی گھر گرہستی کے کام میں لگی رہیں گی؟“

 اُومادےوی نے چندا سے کہا،”تمہارے ماں باپ اگر تمہیں پڑھانا چاہتے ہیں، تو پڑھ سکتی ہو۔“

ماسٹر صاحب نے اپنی بیوی کی بات کی گہرائی کو سمجھ کر ٹوکا،” چندا اب ہماری بہو ہے اور وہ ہماری رائے پوچھ رہی ہے۔“

 اُومادےوی نے کہا،”اگر آپ اور سریش جی ہاں کہتے ہیں، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“

ماسٹر صاحب بولے،”تمہارا دل ہے تو ضرور پڑھو بیٹی۔“

دوسرے ہی دن چندا نے داخلہ فارم بھر کر سریش کے ہاتھوں کالج میں جمع کروا دیا۔

…………

ماسٹر صاحب کے دانتوں میں ایک ہفتے سے درد تھا۔ کچھ کھانے پینے پر بے انتہاٹیسیں ہوتی تھیں۔ کچھ دنوں سے پتلی کھچڑی اور دودھ وہ بھی گنگنا، پی کر کام چلا رہے تھے۔ کچھ آلسی پن اور کچھ کنجوسی کی وجہ سے ابھی تک ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے تھے۔ آج رات تکلیف برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔ بائیں جانب کی سب سے اندرونی داڑھ میں شدید درد تھا، جس کا اثر بائیں آنکھ کی بغل میں کنپٹی تک محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بائیں گال پر بائیں ہتھیلی لگائے درد میں کچھ آرام پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تبھی چندا ادھر آئی۔ اس نے ماسٹر صاحب کو اس طرح بیٹھا دیکھ کر پوچھ لیا،”پاپاجی دانت میں درد ہے؟“

”ہاں بیٹی تھوڑا درد تو ہے۔“ ہری لال بولے۔

 چندا اپنے کمرے میں گئی اور لونگ کا تیل اور روئی لے کر واپس آئی۔ دونوں چیزیں ماسٹر صاحب کو دیتے ہوئے بولی،”پاپاجی لونگ کا تیل دانت میں لگا لیجیے۔ اس سے کچھ آرام مل جائے گا۔“یہ کہہ کر چندا اندر چلی گئی۔ ماسٹر صاحب نے دل سے چندا کو دعا دی۔

 چندا کا کالج شروع ہو گیا تھا، پھر بھی صبح اٹھ کر وہ کام میں ہاتھ بٹاتی۔ رات میںکچن میں بھی ساس کا ہاتھ بٹاتی۔ سب کو کھانا کھلا کر پھر خود کھاتی، تب اپنے کمرے میں جا پاتی۔ سریش کبھی اس کا انتظار کرتا اور کبھی سو جاتا تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک پڑھائی کرتی پھر سو جاتی۔

دوسرے دن ماسٹر صاحب ڈےنٹسٹ کے کلینک پہنچے۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے بتا دیا کہ دو دانتوں میں روٹ کینال کرنا پڑے گا۔ پانچ ہزار کا خرچہ آئے گا۔ فی الحال کچھ درد کی گولیاں دے کر دو دن بعد آنے کو کہا۔

ماسٹر صاحب دل ہی دل بڑبڑائے،”غریبی میں آٹا گیلا۔“ ریکھا کی شادی کے بعد ہاتھ تھوڑا تنگ تھا۔

ماسٹر ہری لال بیڑی، سگریٹ، پان، تمباکو جیسی کسی چیز کا شوق نہیں رکھتے تھے۔ ہاں میٹھے کا شوق ضرورتھا۔ کھانے کے بعد ان کو کچھ میٹھا ضرور چاہئے تھا۔ کچھ نہیں ہوتا تو گڑ یا چینی سے کام چلا لیتے تھے۔

ڈاکٹر کے یہاں سے واپسی پر بیوی نے پوچھا،”کیا کہا ڈاکٹر نے؟“

”کچھ نہیں، دوا دی ہے۔“انہوں نے مختصر جواب دیا۔

ماسٹر صاحب نے اس دن چھٹی لے رکھی تھی۔ ان کا دھیان چندا کی طرف چلا گیا۔

”بہو تو کالج چلی گئی ہو گی!“انہوں نے یوں ہی کہا۔

” ہاں گئی ہے۔ میری قسمت میں بہو کا سکھ کہاں!“ اُومادےوی ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولیں۔

ماسٹر صاحب چپ رہے۔

…………

 چندا کالج اور گھر کے کاموں کے بیچ اتنی مصروف رہتی تھی کہ سریش کو وقت کم دے پا رہی تھی۔ سریش کبھی کبھی اس کمی کو محسوس کرتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ چندا کے آنے کے بعد سے اس کی بہن رشمی نے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا تقریباً بند کر دیا تھا۔ امیت تو ابھی چھوٹا تھا اور کھیل کود میں مست رہتاتھا۔ رشمی اور امیت کی گھر میں جو فرمائیشیں پہلے ماں سے ہوتی تھیں، اب وہ اپنی بھابھی سے کرتے۔ چندا سب کا خیال رکھتی تھی۔ اس نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔

ایک دن گھر کے سب لوگ رات کا کھانا کھا کر ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہے تھے۔ رشمی کو پیاس لگی تو وہ چندا سے بولی،”بھابھی پیاس لگی ہے۔“

 چندا اٹھکر پانی لینے چلی گئی۔

سریش نے رشمی کو ٹوکا،”تم خود اٹھکر پانی لے سکتی تھیں۔ ہر کام بھابھی سے کرانا کیا ضروری ہے؟“

 رشمی نے کوئی جواب نہیں دیا اور ٹی وی دیکھتی رہی، البتہ سریش کی ماں نے ضرور ترچھی نظروں سے سریش کی طرف دیکھا۔ سریش نے تھوڑا عجیب محسوس کیا تو وہ وہاں سے ہٹ کر اپنے بیڈروم میں جاکر لیٹ گیا۔ تقریباً گیارہ بجے چندا کمرے میں آئی۔

 چندا کا ہاتھ پکڑ کر سریش نے کہا،”اتنا کام کیوں کرتی ہو؟“

”گھر کا کام سب کرتے ہیں۔“ چندا نے مسکراتے ہوئے کہا اور سریش کے مزید قریب آ گئی۔

”تم بہت اچھی ہو۔“ کہتے ہوئے سریش نے اسے آغوش میں لے لیا۔

…………

سریش کی شادی ہوئے چھ ماہ گزر چکے تھے۔ ماسٹر صاحب اس بات سے خوش تھے کہ ساس بہو کی ابھی تک کوئی تکرار نہیں ہوئی تھی۔ اُوما دیوی کواپنی ماں سے ان کے مرتے دم تک جھگڑتے وہ دیکھ چکے تھے۔پر ان کی خوشی زیادہ دنوں تک نہیں ٹکی۔

اس دن سب لوگوں کو ایک شادی کی تقریب میں جانا تھا۔ سب لوگ تیار ہو رہے تھے۔ چندا اپنی ماں کی دی ہوئی سبز بنارسی ساڑی اور کندن کا ہار پہن کے شادی میں جانا چاہتی تھی۔ شادی میں ملی تقریباً ساری چیزیں اُوما دیوی نے اپنی الماری میں رکھی ہوئیں تھی۔

 چندا نے اُوما دیوی سے کہا،”ماں جی، میری ماں نے جو سبز بنارسی ساڑی اور کندن کا ہار دیا تھا، وہ دے دیجیے۔“ اُوما دیوی چونک گئیں اور ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ انہوں نے چندا کی طرف دیکھے بغیر پوچھا،”کیوں؟“

”میں آج شادی میں پہن کے جانا چاہتی ہوں۔“

”اتنی بھاری ساڑی سنبھال لو گی؟ اور رات برات زیادہ زیور پہن کے جانے کی ضرورت کیا ہے؟“

 اُومادےوی نے ٹالنا چاہا۔ چندا کو معلوم تھا کہ اس کی شادی میں تحائف کے روپ میںملے روپے پیسے اور دیگر چیزیں، ریکھا کی شادی میں جہیز کی شکل میں دے د ی گئیں ہیں۔ لیکن سب کچھ دے دیا گیا تھا، اسے معلوم نہیں تھا ،نہ اس نے اس کا تصور کیا تھا۔

”ماں جی وہاں میری کچھ پرانی سہیلیاں بھی آئیں گی، جن سے میں اپنی شادی کے بعدپہلی بار ملوںگی۔“ چندا نے وجہ بتائی۔

”بہو ضد نہ کرو، وہ میں رکھ کر بھول گئی۔ ڈھونڈنے میں فالتو ٹائم خراب ہوگا۔“

”ماں جی آپکی الماری یا صندوق میں ہی ہوںگی۔ آپ تیار ہوں۔ لائیں چابیاں مجھے دے دیجئے، میں تلاش کر لوں گی۔“

 اُومادےوی فطرتاً بہت تیز تھیں ،لیکن جھوٹ بولنے میں ماہر نہیں۔ نہ انہیں کوئی چال بازی پسند تھی۔ پھر بھی انہوں نے تھوڑے سے جھوٹ کا سہارا لیا۔

”ارے بہو میں تو بھول ہی گئی تھی، وہ دونوں چیزیں تو ریکھا کی شادی میں کام میں آ گئیں۔ تمہارے لئے نئی لا دیں گے۔“

یہ سن کر چندا دھک سے رہ گئی۔ یہ دونوں چیزیں اس کی ماں کی نشانیاں تھیں۔

”آپ نے مجھے بغیر بتائے کس طرح ۔۔۔؟“اس کے آگے وہ نہ بول سکی۔ اس کا گلہ روندھ گیا اور آنکھوں سے آنسوو ¿ں کی جھڑی لگ گئی۔

تھوڑی دیر بعد اس کا رونا تھما، تو اس کا غصیلا روپ ظاہر ہوا۔ رونے اور غصے سے ہوئی سرخ آنکھوں سے ساس کو ایک نظر گھورا اور اپنی پہنی چیزیںکو اتار پھینکا۔

”آپ لوگ جائیں شادی میں، میں نہیں جاو ¿ں گی۔“

 اُومادےوی نے پہلے منانے کی کوشش کی۔ سریش سے کہلوایا۔ لیکن چندا نہیں مانی۔ چندا کا یہ روپ انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

 اُومادےوی نے اب ساس ہونے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے سختی دکھائی اور ڈانٹتے ہوئے تیز آواز میں بولیں،”اتنی ضد ٹھیک نہیں بہو، وہاں سب پوچھیں گے بہو کیوں نہیں آئی؟جلدی تیار ہو جاو ¿۔ جانے کا وقت ہو رہا ہے۔“

”کہہ تو دیا آپ لوگ جائیے ۔میرا من نہیں ہے۔“ چندا نے لاتعلقی سے جواب دیا۔

یہ ایک لازمی بات ظہور میں آئی ہے کہ ساس جب بہو سے زیادہ ناراض ہو جاتی ہے ،تو اس کے میکے کوکوسنا شروع کرتی ہے اور یہ آگ میں گھی کا کام کرتا ہے ،کیونکہ کسی بہو کو اسکے میکے کی برائی برداشت نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں جھگڑا اور بڑھ جاتا ہے۔ وہی یہاں بھی ہوا۔

 اُومادےوی نے غصے میں کہا،”نہ جانے ماں باپ نے کیا سکھایا ہے۔ ایسی ضد۔“

”آپ اچھاسکھائیں اپنی رشمی کو کہ کسی کی چیز بھی بنا بتائے لے کر جس کو چاہو دے دو۔“

 رشمی ان لوگوں کی تیز آوازیں سن کر ادھر آ گئی تھی۔ وہ بھی بول پڑی،”مجھے کیوں درمیان میں لا رہی ہو بھابھی۔“

 اُومادےوی کو لگا اب ان کا پلڑا بھاری ہے۔

”جس کسی کو نہیں ریکھا کو دیا ہے، بڑی نند لگتی ہے تیری۔“

”ماں کم سے کم پوچھ کے تو دیتی۔ وہ ساڑی اور ہار میری ماں نے بہت پہلے سے، مجھے شادی کے وقت دینے کے لیے سنبھال کر رکھے تھے۔“

کڑواہٹ میں چندا نے آگے بول دیا،”اتنی ہی کمی تھی تو کہتیں،میں میکے سے ایک ویسی ہی ساڑی اور ہار منگوا دیتی۔“

 چندا کی اس بات سے ساس کے دل کو سیدھی چوٹ لگی۔ وہ تلملا گئیںاور انہوں نے بھی لفظوںکا ایک زہر بجھا تیر چھوڑ ہی دیا،”باپ چاٹ کا ٹھیلا لگاتا ہے، بیٹی بہت بڑی سیٹھانی بن رہی ہے۔“

اب تو چندا مکمل طورپر بپھر گئی،”میرے پاپا کو کچھ مت کہیں۔ چاٹ کا ٹھیلا لگانا کیا برا ہے؟وہ بھی تو ایک کاروبار ہے۔ اور انہوں نے ہم بچوں کو راجکمار اور راجکماریوں کی طرح ہی پالا ہے۔ آپ کے یہاں سے اچھا ہی ہم لوگ کھاتے اور پہنتے ہیں۔“

جھگڑا اور بڑھ جاتا، اگر ماسٹر جی درمیان میں دخل نہ دیتے۔ ماجرا تو وہ سمجھ ہی گئے تھے۔ آوازیں ان تک بیٹھک میں بھی پہنچ رہی تھیں۔

انہوں نے چندا کو وہیں سے آواز دی،” چندا بیٹی، سب کو تیار کرا کے باہر لاﺅ۔ چلنے میں دیر ہو رہی ہے۔“

 چندا نے پاپا جی کی بات کا مان رکھ لیا۔ فوری طور پر تیار ہو گئی۔ باقی لوگ پہلے ہی تیار تھے۔ سب لوگ شادی کی تقریب میں شامل ہونے ،چل پڑے۔

…………

جاری ہے

دوسرا حصہ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے