سر ورق / افسانہ / مصحف.. کبیر عباسی

مصحف.. کبیر عباسی

مصحف

کبیر عباسی

”رمضان میں تو اس موئے کو بخش دو۔نماز کا ٹائم گزرا جا رہا ہے ،اور تم ڈائجسٹ لے کے بیٹھی ہو ۔لوگ رمضان میں قران پڑھتے ہیں مگر ان بی بی کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے ۔“

علینا کی امی سخت غصے میں تھیں۔

 علینا اس وقت نمرہ احمد کے ناول مصحف کا آخری حصہ پڑھ رہی تھی۔اسے ارد گرد کا ہوش ہی نہیں تھا۔وہ مکمل طور پہ ناول کی ٹرانس میں تھی کہ اس نے امی کو چلاتے سنا۔

”امی میں مصحف پڑھ رہی ہوں۔اسے پڑھنا بھی ثواب کا کام ہے ۔“وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔

ڈائجسٹ پڑھنے سے ثواب کا سن کے تواس کی امی کے تن بدن میں گویا آگ لگ گئی۔”اے بی بی۔۔۔ کیا کفر بکے جا رہی ہو اب کیا ڈائجسٹ پڑھنے سے بھی ثواب ملنے لگا ہے ؟“

علینا بار بار کی ڈسٹربنس سے جھنجھلا گئی ۔خود کو بمشکل اس نے قابو کیا اور نارمل لہجے میں بولی۔

”امی بس ایک منٹ پلیز ۔۔۔ایک صفحہ رہ گیا ہے صرف۔“

چھوڑو اب اس کو نماز کا ٹائم نکلا جا رہا ہے مگر یہ بی بی ڈائجسٹ میں ثواب ڈھونڈ رہی ہیں۔علینا کی امی نے ایک بار پھر اے بی بی والا اپنا من پسند ڈایئلاگ دہرایا۔

علینا کے ذہن میں نماز کے دوران بھی مصحف چل رہا تھا۔کیا واقعی قران انسان سے باتیں کرتا ہے ؟کیا وہ ہر مسئلے میں آ پ کی رہنمائی کرتا ہے ؟

”نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ مصنف تو ایسے ہی نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔“اس کے ذہن نے خود ہی جواب تراشا۔

”ویسے بھی آج تک نہ کسی نے خدا کو دیکھا نہ کوئی قران کے بارے میں یقین سے کہہ سکتا ہے کہ یہ واقعی خدا کی کتاب ہے بھی یا نہیں۔یہ تو بس مصنفہ کے تخیل کا کمال ہے۔“اس کا زہن اسی ادھیڑبن میں مشغول تھا۔اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ نماز میں کیا پڑھ رہی ہے یا نہیں۔

پہلے اسے نماز میں بھرپور یکسوئی حاصل ہوتی تھی لیکن جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی اس کا دل مذہب سے اچاٹ ہونا شروع ہو گیا۔دنیا میں زیادہ تر جگہوں پہ مذہب کے نام پہ ہی جنگیں جاری تھیں۔جن میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے تھے۔مذہب کے نام پہ ہر کوئی ہی دوسروں کا استحصال کئے جا رہا تھا۔گویا مذہب خدا کی طرف سے ہدایت کے بجائے ایک ”بزنس ٹول“ بن چکا تھا۔وہ لوگوں کو ایک نام پر اکٹھا کرنے کے بجائے مختلف مذاہب اور فرقوں میں تقسیم در تقسیم کئے جا رہا تھا۔انسانوں کی راہنمائی کے بجائے انہیں الجھا رہا تھا۔ایسے میں بیشتر لوگوں کی طرح علینا کا یقین بھی مذہب سے اٹھ چکا تھا۔مذہب کے نام پہ ہونے والی اسی لوٹ مار اور لڑائیوں کو دیکھ کے اکثر علینا سوچتی کہ کیا واقعی دنیا میں کسی خدا کا وجود ہے اور وہ اپنے بندوں کو اپنے ہی نام پہ لڑتے دیکھ رہا ہے؟اس کے زہن کے نہاں خانوں میں ایک ہی جواب ابھرتا کہ اگر خدا کا وجود کہیں ہوتا تو وہ اپنے بندوں کو اپنے نام پہ ایسے لڑاتا نہ۔وہ ایک ہی دین دنیا میں اتارتا۔اس جواب کو کبھی اس نے شعور کے پردے پر نہیں آنے دیا تھا لیکن اس کے لاشعو ر میں یہ جواب ہمیشہ ہلچل مچاتا رہتا۔

 جب سے اس کے زہن نے خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں سوچنا شروع کیا تھا،اس کی نماز سے یکسوئی بالکل ہی ختم ہو کے رہ گئی تھی۔اب نہ اسے کسی قسم کی عبادت کرنے کا دل کرتا تھا نہ دعا مانگنے کا۔

اس وقت بھی وہ کھڑی تو نماز کے لئے تھی۔اس کے لب ہل رہے تھے۔جسم خودکار طور پر نماز کی ادائیگی میں متحرک تھا لیکن زہن۔۔۔وہ کسی اور ہی راہ کا مسافر بنا ہوا تھا۔

”یہ مصنفین بھی مذہب کو بس ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔وہ لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں۔لوگوں کے مذہبی رحجان کو دیکھتے ہوئے ناولوں میں مذہب کا تڑکا لگا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ناول ہٹ ہو جاتا ہے۔ورنہ انہیں مذہب سے کیا لگاو ¿۔یہ اپنی کہانی کے کرداروں کو پردہ دار بنانے والی نمرہ کیا پتہ خود کتنی ماڈرن ہو۔“اس کے اندر نماز پڑھتے ہوئے گویا ایک جنگ جاری تھی۔

”ہاں۔۔۔اور نہیں تو کیا یہ عمیرہ احمد نے کتنے ناول لکھے لیکن پیر کامل کو جو شہرت ملی وہ کسی اور ناول کو نہیں ملی۔اس کے بعد تو ان کے بھی ہر ناول میں مذہب کا تڑکا ضرور ہوتا ہے۔نمرہ بڑی ہوشیار ہے۔اس نے بھی پیر کامل کی شہرت کو دیکھتے ہوئے اپنے ناولوں میں مذہب کا تڑکا لگانا شروع کیا اور کامیاب ہو گئی۔“وہ اپنے آپ کو ہی دلائل دئیے جا رہی تھی۔

”ہو سکتا ہے۔قران واقعی راہنمائی کرتا ہو۔نمرہ نے تخیل کے بجائے مشاہدے اور تجربے کو بیان کیا ہو۔“مخالف آواز نے کیس کا رخ دوسری طرف موڑا۔

”ہاں،ہو تو یہ بھی سکتا ہے۔“اس کے اندر سے ایک کمزور سی آواز ابھری۔

کیوں نا میں خود اسے آزما لوں؟ہو سکتا ہے میرے زہن میں پیدا ہونے والاخدا کے متعلق شک دور ہی ہو جائے۔“ مخالف آواز نے اپنے حق میں دلیل دی۔

”مگر اس میں تو لکھا تھا کہ ہدایت ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں اور آئندہ کے لئے گناہوں سے تائب ہو جاتے ہیں۔میں تو بڑی گناہ گار ہوں۔“ایک اورآواز نے نکتہ اٹھایا۔

”تو کیا ہے رمضان میں تو میں ویسے بھی میں توبہ کر لیتی ہوں۔اگر قران واقعی اللہ کا کلام ہے تو مجھے بھی اس میں اپنے سوال کا جواب ملنا چاہیے۔“اس کی سوچ میں ھٹ دھرمی عود آئی۔

نماز پڑھ کے اس نے رو رو کے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور ہدایت طلب کی۔پھر اس نے ذہن میں ایک مسئلہ سوچا اور قران لے کے بیٹھ گئی۔

اس نے اہنے زہن میں عرصے سے کشمکش پیدا کرنے والا سوال ہی سوچا تھا۔”کیا قران واقعی انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے ؟ کیا خدا کا وجود واقعی موجود ہے؟“

ناول کی ہیروئن تو جہاں سے پڑھتی تھی اسے اپنے سوال کا جواب مل جاتا تھا،میں کہاں سے پڑھوں؟ قران پاک ہاتھ میں لے کے وہ سوچنے لگی۔

کچھ دیر وہ اسی شش وپنج میں رہی آخرکار وہ ایک فیصلے پر پہنچ گئی۔اس نے سورہ بقرہ کا شروع سے ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔

”الم۔یہ اللہ کی کتاب ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں۔راہ دکھاتی ہے۔ڈر رکھنے والوں کو۔جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے ۔۔۔“

وہ ہکا بکا قران کو دیکھتی رہ گئی۔اسے اس کے سوال کا جواب مل گیا تھا۔

٭٭٭

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

2 تبصرے

  1. Avatar

    تحریر کی اشاعت پر میں اردو لکھاری کی انتظامیہ بالخصوص امجد جاوید صاحب کا مشکور ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے