سر ورق / افسانہ / گرادب۔۔ ثمینہ طاہر بٹ

گرادب۔۔ ثمینہ طاہر بٹ

 تم صرف نام کی ہی پارسا ہو۔ کہا تھا میں نے پہلے ہی تمہاری جیسی عورتیں گھر نہیں بسا سکتیں۔گھراور بچے تو تمہارے لیئے پیروں کی زنجیر ہیں ناں، اسی لیئے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی ادھر ادھر منہ مارتی پھرتی ہو۔ بدذات خرافہ، ہمارے لیئے ہی رہ گئی تھی یہ سوغات ۔“ عالم آرا کا مارے غصے کے برا حال ہو رہا تھا۔ سب دم بخود آنکھیں پھاڑے انکے اس جلالی انداز کو دیکھ رہے تھے۔ وہ ایسی تو نہ تھیں، لیکن پے درپے ٹوٹنے والے حادثات نے شاید انکی ضبط کی طنابیں ہی کھینچ لی تھیں اسی لیئے وہ بظاہر چھوٹی سے نظر آنے والی بات پر اس قدر طوفان اٹھائے ہوئے تھیں۔
” امی۔!! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔؟ بھابھی کا کیا قصور ہے۔ آپ انہیں اس طرح کیوں ڈانٹ رہی ہیں۔اور وہ بھی سب کے سامنے ۔؟ “ تیمور سے شاید برداشت نہیں ہوا تھا اس لیئے وہ بول ہی پڑا تھا لیکن اسکا بولنا خود اس کے لیئے عذاب بن جائے گا، یہ شاید اس نے بھی نہیں سوچا تھا۔
” اس کا قصور نہیں تو کیا ہمارا قصور ہے۔؟ یا پھر تمہارے بیمار، لاچار بھائی کا قصور ہے جسکی آنکھوں میں یہ دن دیہاڑے دھول جھونک رہی ہے۔ ؟ “ وہ ایک دم شیرنی کی طرح غرائی تھیں اور انکی اس غراہٹ نے پارسا کی رہی سہی ہمت بھی سلب کر ڈالی تھی۔اس نے ڈوبتے دل اور بند ہوتی آنکھوں سمیت اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی تھی۔ منصور، اسکا محبوب شوہر، اسکا ہمزاج، ہمراز اپنی ماں کے پاس نڈھال بیٹھا اسے شک بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف اسکا دیور جسے اس نے ہمیشہ چھوٹے بھائی سے زیادہ بیٹے کی طرح سمجھا تھا بے بسی کی تصویر بنا ماں کی زہر میں بجھی باتیں سن رہا تھا۔ اور سب سے تکلیف دہ منظر تو اسکے بچوں کے چہروں پر پھیلا خوف و ہراس پیش کر رہا تھا ۔ اپنے دونوں معصوم بچوں پر نگاہ پڑتے ہی اسکی ممتا جیسے انگڑائی لے کر جاگی تھی۔ اس نے اپنے ڈوبتے دل اور ڈولتے وجود کو بمشکل سنبھالا اور اپنے بچوں کی طرف لپکی، جیسے انہیں اپنے آنچل میں چھپا کر اس ماحول سے بہت دور لےجانا چاہ رہی ہو۔
” رک جاو¿ وہیں۔ خبردار جو تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا ہو تو۔ میرے بیٹے کو تو کھا گئی ہو، اب کیا ان معصوموں کی جان بھی لینے کا ارادہ ہے تمہارا۔؟ “ عالم آرا چیل کی طرح جھپٹی تھیں اور دونوں بچوں کو کمرے میں دھکیل کر دروازہ بند کرتے ہوئے اس پر الٹ پڑی تھیں۔ وہ یک لخت رک گئی اور ڈبڈبائی نگاہوں سے انہیں دیکھتے ہوئے منصور کی طرف مڑ گئی جو ، اب بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے سر جھکائے بیٹھا تھا۔پارسا نے ایک نگاہ اسکے جھکے سر پر ڈالی اور پھر اس میں کچھ بھی دیکھنے ہی ہمت باقی نہ بچی ، اور وہ لہرا کر زمین پر آرہی۔
**********************************
عالم آرا کے دو ہی بیٹے تھے۔ منصور اور تیمور۔ انہوں نے اپنی بیوگی کا زمانہ اپنے بیٹوں کے خوش کن مستقبل کے خواب دیکھتے ہوئے ہی گذارا تھا۔ منصور اور تیمور بہت لائق اور فرمانبرادر بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنی ماں کے خواب پورے کرنے کے لیئے بہت محنت کی تھی اور اسکا ثمر انہیں قدرت کی طرف سے مل بھی چکا تھا۔منصور مکینکل انجینئر تھا اور بہت اچھی جگہ جاب کر رہا تھا۔ تیمور ابھی پڑھ رہا تھا لیکن وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنے دوست کے والد کی اکیڈمی میں جاب بھی کر رہا تھا۔ منصور کے سیٹل ہوتے ہی عالم آرا کے دل میں بھی ہر ماں کی طرح بیٹے کا سہرا دیکھنے کی آرزو جاگ اٹھی تھی۔انہوں نے بیٹوں سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو منصور سے زیادہ تیمور نے گرم جوشی اور خوشی دکھائی تھی۔بیٹوں کی رضامندی پاتے ہی انہوں نے بہو تلاش مہم شروع کر دی اور یہ تلاش انہیں پارسا کے گھر تک لے گئی تھی۔ پارسا پانچ بہنوں میں تیسرے نمبر پر تھی۔ اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے اسکا تعلق تھا۔ اسکے والد کا اپنا بزنس تھا خاندانی شرافت اور رکھ رکھاو¿ بھی انکے ہر انداز سے ظاہر ہوتا تھا۔عالم آرا کو پارسا پہلی نظر میں ہی بھاگئی تھی ۔ اسی لیئے انہوں نے زیادہ سوچ بچار میں وقت ضائع کرنے کی بجائے خادم صاحب کے سامنے دست سوال دراز کر دیا۔ پارسا اکنامکس میں ماسٹرز کر رہی تھی اور یہ اسکا لاسٹ سمسٹر تھا۔ خادم صاحب اور انکی بیگم کو بھی منصور بہت پسند آیا تھا اسی لیئے انہوں نے بھی فضول میں وقت ضائع کیئے بغیر اس رشتے کو سند قبولیت بخش دی تھی۔ دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں جوش وخروش سے شروع ہو گئیں ، لیکن شادی پارسا کی امتحانوں کے بعد ہی رکھی گئی تھی۔یہ منصور کی خواہش تھی ، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا فائنل اگزامز سے پہلے پارسا کے دل یا دماغ پر کوئی بوجھ رہے۔ وہ اسی میں پھولے نہیں سما رہی تھی کہ اسکے ہونے والے جیون ساتھی کا دل کس قدر خوبصورت ہے کہ بنا کہے اسکے دل کی بات جان گیا۔
پارسا دلہن بن کر عالم آرا کے آنگن میں اتر آئی۔ منصور اور تیمور کی طرح وہ بھی بہت لائق طالبہ رہی تھی اور اسے پورا یقین تھا کہ اسکا نتیجہ اس بار بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہی رہے گا۔اور پھر ایسا ہی ہوا۔ شادی کے بعد اسکا رزلٹ آیا تو اس نے اپنے سابقہ ریکارڈ خود ہی توڑتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا تھا۔ عالم آرا کے پاو¿ں خوشی کے مارے زمین پر ہی نہیں پڑ رہے تھے۔ انہیں ہمیشہ سے ایک بیٹی کی آرزو رہی تھی اور بلاشبہ پارسا نے ایک بیٹی ہونے کا حق ادا کر کے دکھایا تھا۔ اس نے آتے ہی گھر کا انتظام اس خوبصورتی سے سنبھالا تھا کہ عالم آرا اسے دعائیں دیتی نہیں تھکتی تھیں۔ منصور اور تیمور بھی اس سے بہت خوش تھے۔ انکا یہ چھوٹا سا گھرانہ ایک مکمل جنت کی تصویر دکھائی دیتا تھا۔ عالم آرا اپنی جنت کی بقا کے لیئے ہر وقت دعاگو رہا کرتیں تھی۔ لیکن بعض اوقات دعائیں کسی اور رنگ میں بھی تو پوری ہو جایا کرتی ہیں۔ انسان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا اور وہ ہو جاتا ہے کہ اسے نہ پھر کوئی دعا یاد رہتی ہے اور نہ ہی بددعا۔
*****************************************
تیمور کو بینک میں بہت اچھی جاب مل گئی۔ اسکے برسرروزگار ہوتے ہی گھر میں ایک اور طرح کی ہی خوشی کی لہر دوڑی تھی۔ منصور اور پارسا اس وقت تک ایک بیٹے کے والدین بن چکے تھے۔ منصور کی جاب بھی ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی۔ پارسا البتہ اپنے گولڈ میڈل اور ڈگری سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکی تھی کیونکہ عالم آرا کو بہو بیٹیوں کا دفتروں میں دھکے کھانا پسند نہیں تھا۔ اسی لیئے پارسا نے انکی اور منصور کی خوشی کو اپنی خواہش پر فوقیت دیتے ہوئے اپنی ڈگریاں اور میڈلز تالے میں ڈال دئے تھے۔تیمور کا انٹرن شپ ختم ہوتے ہی اسے پرمنٹ بیسز پررکھ لیا گیا۔ اسکی تنخواہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا اور بینک کی طرف سے اسے دوسری بھی کئی مراعات دی گئیں، جن میں گاڑی بھی شامل تھی۔ عالم آرا بیٹے کی ترقی پر بہت شاداں تھی۔ وہ اب اپنی بھتیجی کو بہو بنانا چاہتی تھیں اور اس سلسلے میں وہ پورا پلان بھی تیار کر چکی لیکن نہیں جانتی تھیں کہ تیمور کچھ اور ہی سوچے بیٹھا تھا۔
” نہیں امی۔!! آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے۔؟ مجھے نہیں کرنی آپکی بھتیجی سے شادی۔ میں جس لڑکی کو جانتا ہی نہیں، جسے کبھی دیکھا بھی نہیں، اس کے ساتھ بھلا اپنی ساری عمر کیسے گذار سکتا ہوں۔؟“ ماں کے منہ سے اپنے رشتے کی بات سن کر وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گیا تھا اور اسکی باتیں عالم آرا کو حیران کیئے جا رہی تھیں۔
” کیا مطلب۔؟ تم کہنا کیا چاہتے ہو۔؟ میری بھتیجی تمہاری بھی کچھ لگتی ہے۔ تمہارے سگے اور اکلوتے ماموں کی بیٹی ہے وشمہ ۔ اور مجھے بہت پیاری ہے وہ۔ اس لیئے تمہاری دلہن تو میں اسے ہی بناو¿ں گی۔ یاد رکھنا تم ۔“ خفگی اور مان بھرے انداز سے کہتے ہوئے انہوں نے اسکے سارے اعتراضات جیسے ہوا میں اڑا دئے تھے۔
” مجھے تو سب یاد ہے امی۔ لیکن لگتا ہے آپ سب کچھ بھول گئیں ہیں۔ “ وہ بھی انکا ہی بیٹا تھا۔ انہیں کے انداز میں گویا ہوا تھا۔
” بک بک مت کرو تیمور !! میں فیصلہ کر چکی ہوں۔ اور پھر جو ہونا تھاہو گیا۔ اب گذری باتوں کو یاد کرنے کا کیا فائدہ بیٹا۔ تمہارے ماموں نے خود مجھ سے۔۔!!“
” جانتا ہوں امی۔ اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ اب ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ آپکے امیر کبیر بھائی کو ہم سے رشتہ جوڑتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوگی۔ لیکن بخدا، اب مجھے ان سے رشتہ جوڑتے ہوئے بہت شرمندگی ہوگی۔ میں آپکو صاف صاف بتا رہا ہوں کہ میں وشمہ سے شادی نہیں کرونگا۔ کبھی بھی نہیں۔ آپ اپنے بھائی سے رشتہ جوڑنا چاہتی ہیں تو سو بار جوڑیں۔ وہ بھائی ہیںآپکے، آپ بہن بن کر ملیں ان سے۔ یہ سمدھیانے والا رشتہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔!!“ تیمور نے انکے ہاتھ تھامتے ہوئے نرمی سے کہا تو وہ اسکی شکل دیکھتی رہ گئیں۔ کیونکہ غلط تو وہ بھی نہیں کہہ رہا تھا۔ انکے برے وقتوں میں انکے بھائی نے کبھی انہیں سہارہ نہیں دیا تھا۔ ٹھیک ہے، وہ بہت خوددار اور اناپرست تھیں لیکن بھائی پر جو ایک مان بہن کو ہوتاہے، انکے بھائی نے تو وہ مان بھی نہیں رکھا تھا۔ اور اب۔
” امی!! تیمور ٹھیک کہہ رہا ہے۔ کیا فائدہ ایسی رشتہ داریوں کا جن میں احساس اور خلوص کی جگہ مفادپرستی اور لالچ جھلکے۔ آپ ماموں کو سہولت سے منع کر دیں۔ ہم اپنے چھوٹے سے گھر میں بہت خوش ہیں۔ ہمیں انکے بنگلے، گاڑیاں نہیں چاہییں۔ !! “ منصور نے بھی تیمور کی تائد کی تو عالم آرا خاموش ہو گئیں۔ پارسا نے انکی معمول سے ہٹ کر بڑھتی خاموشی محسوس کر لی تھی ، اس لیئے انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دینے کی کوشش کرنے لگی۔ عارض کو بھی زیادہ انکے پاس چھوڑنے لگی جس سے یہ ہوا کہ انکا دھیان بٹ گیا۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ اب عارض کا زیادہ وقت دادی کے پاس گذرتا ۔ اب وہ سوتا بھی انکے پاس تھا۔ منصور نے اسے کئی بار عارض کو واپس کمرے میں لانے کا کہا لیکن وہ اسے بھی سمجھا کر چپ کروا دیتی تھی۔
” امی ۔!! آپ بھابھی کی چھوٹی بہن کا رشتہ کیوں نہیں مانگ لیتیں میرے لیئے۔ دیکھیں ناں، بھابھی نے اتنی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ہمارے گھر کو کیسے سنبھال لیا ہے۔ یقنناً دلکش بھی انکی طرح ہی اس گھر کو اپنا گھر سمجھے گی اور۔۔۔!! “
” اچھا۔!! تو یہ وجہ تھی وشمہ کے لیئے انکار کرنے کی۔؟ میں تو پہلے ہی سمجھ گئی تھی، ضروردال میں کچھ نہ کچھ تو کالا ہے ہی ورنہ کون سی بہو ہے جو اپنے سسرال کی اس طرح جی حضوری کرتی ہے۔ یعنی کہ ، میرے ہی گھر میں، میری ہی ناک کے نیچے یہ کھیل رچایا جا رہا تھا، اور مجھ بیوقوف کو کوئی خبر ہی نہ ہو سکی۔؟ واہ ، کیا کہنے تیمور تمہارے، اور کیا کہنے تمہاری اس لاڈلی بھابھی کے۔ کیسا جال پھینکا ہے اس میسنی نے۔ میرے دونوں کماو¿ پوت لے اڑی اور مجھے پتا بھی نہ چلا۔“ تیمور کی بری قسمت کہ اس نے جانے کس رو میں دلکش کا نام ماں کے سامنے لے ڈالا۔ حالانکہ نہ تو اسکے عشق میں پاگل ہورہا تھا اور نہ ہی پارسا یا دلکش کو اسکے ارادوں کی کچھ خبر تھی۔ لیکن عالم آرا کے دل میں بہو کی طرف سے یہ پہلی دراڑ پڑی تھی جو گذرتے وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے خلیج کا روپ دھارتی چلی گئی تھی۔تیمور کو ماں کی خیالات جان کر سخت افسوس ہوا تھا لیکن وہ انہیں کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ اس لیئے چپ چاپ اپنے ارادے سے پیچھے ہٹ گیا اور ماں کی خواہش پر وشمہ کو بیاہ لایا۔
**************************************
بھتیجی کو بہو بنانے کا فیصلہ عالم آرا کا اپنا تھا لیکن اسکا خمیازہ ان سب کو بھگتنا پڑا تھا۔ وشمہ بمشکل دو ماہ ہی انکے ساتھ رہ پائی تھی اور پھر اسکے نخرے اور نزاکتیں دیکھتے ہوئے تیمور نے ازخود فیصلہ کیا اور اسکے جہیز میں ملے بنگلے میں اسکے ساتھ شفٹ ہو گیا۔ عالم آرا شدید خواہش کے باوجود بھی انکے ساتھ نہیں جا پائیں تھیں کیونکہ بھتیجی صاحبہ نے انہیں جھوٹے منہ بھی ساتھ چلنے کا نہیں کہا تھا اور انکی انا کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ وہ بنا بلائے انکے ساتھ چل پڑتیں۔تیمور اور وشمہ کے جانے کے بعد گھر میں جیسے سناٹے بولنے لگے تھے۔ عارض اور عنایا اسکول چلے جاتے ، منصور آفس اور گھر میں عالم آرا اور پارسا ہی رہ جاتیں۔ گذرتے وقت نے ان دونوں کے درمیان جو خلیج کھینچی تھی، اب عالم آرا کا دل چاہتا کہ وہ اس خلیج کو کسی طرح پاٹ لیں، لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔عالم آرا کا دل اب دو حصوں میں بٹ چکا تھا۔ ایک حصہ منصور کے لیئے دھڑکتا تو دوسرے میں تیمور کا درد ہلکورے لیتا رہتا تھا۔اور پھر انہیں دنوں منصور کو نوکری سے جواب مل گیا۔ وجہ تو کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تھی لیکن شاید وقت کا چلتا پہیہ ایک بار پھر نیچے کی طرف ہو گیا تھا جو بیٹھے بٹھائے بیروزگاری منصور کا نصیب بن گئی۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، سب کچھ اتھل پتھل ہو گیا۔ عالم آرا نے اپنی جوانی میں اس سے بھی کڑا وقت دیکھا تھا، لیکن اب شاید انکی ہمت بھی ختم ہو گئی تھی اس لیئے بیٹے اور بہو کے ساتھ زیادہ عرصہ فاقہ کشی نہ کر سکیں اور خود ہی تمیور کے ساتھ چلی گئی۔
” منصور ۔!! بچوں کی فیسیں دینی ہیں۔ بجلی، گیس کے بل۔۔ اور۔۔گھر کا راشن بھی ختم ہے۔ اب کیا ہوگا منصور۔؟ “ پارسا نے بہت مشکل سے کسی نہ کسی طرح یہ کڑا وقت گذار ہی لیا تھا ، لیکن امی کے جانے کے بعد وہ بھی بوکھلا گئی تھی اس لیئے منصور کے سامنے دل کا غبار نکالنے بیٹھ گئی۔ ورنہ اب تک تو وہ اپنی کی گئی بچتوں سے ہی ٹائم پاس کرتی آرہی تھی۔ خود دار وہ بھی بہت تھی اس لیئے نہ اپنے باپ سے مدد مانگی اور نہ ہی دیور کے سامنے کبھی ہاتھ پھیلایا تھا لیکن اب تو سب جمع پونجی ٹھکانے لگ چکی تھی۔ ا ب اسکا گھبرانا بنتا تھا۔
” میں نے بہت کوشش کی پارسا۔ لیکن کہیں بھی جاب نہیں ملی۔پتا نہیں کیا ہوگیا ہے نہ میرا تجربہ کسی کام آرہا ہے اور نہ ہی تعلقات کوئی کام دکھا رہے ہیں۔ “ وہ بھی شدید مایوسی کے عالم میں تھا۔ اسی لیئے لہجہ بھی ٹوٹا بکھرا سا تھا۔
” منصور ۔!! اگر آپکو برا نہ لگے تو میں کہیں جاب کر لوں۔؟“ اس نے جھجکتے جھجکتے کہا تو منصور حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” تم۔۔؟ لیکن تم کہاں جاب کرو گی پارسا۔ تمہارے پاس نہ تو تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی سفارش۔ تو پھر۔۔!! “
” کوشش کرنے میں کیا حرج ہے منصور۔ہو سکتا ہے کہ کسی اسکول میں ہی مجھے جاب مل جائے۔“ اس نے ہمت نہ ہارتے ہوئے امید بھرے انداز سے کہا تو منصور سے سر جھکا دیا۔پارسا نے اسکی خاموشی کو اقرار سمجھتے ہوئے اپنی سی وی کئی جگہ بھیج دی۔ اور پھر جلد ہی اسے بہت اچھی جاب مل گئی۔اب وقت کا پہیہ الٹا چلنے لگا تھا۔ تیمور سارا دن گھر گذارتا اور پارسا آفس میں اسکی ذمہ داریاں نبھاتی۔عالم آرا کو اس کی جاب کا پتا تو ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا ۔ اور اسوقت تیمور نے اسکا بہت ساتھ دیا۔ جانے اس نے ماں کو کیا کہا کہ وہ خاموش ہو گئیں اور یوں پارسا سکون سے جاب کرنے لگی۔لیکن اسکی زندگی میں اب شاید سکون رہ نہیں گیا تھا۔ اس لیئے اسے پتا ہی نہیں چلا اور اپنے اھساس کمتری میں دن بدن گھرتا منصور نشہ کرنے لگا۔ شروعات سگریٹ سے ہوئی اور آہستہ آہستہ ڈرگز تک بات جا پہنچی۔ جب تک پارسا کو پتا چلتا، پانی سر سے گذر چکا تھا۔ منصور کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ پارسا سے تیمور کو سب کچھ بتایا تو وہ بھی پریشان ہو گیا۔ انہوں نے عالم آرا سے یہ خبر چھپانے کی بہت کوشش کی لیکن بھلا ہو وشمہ کا ، جس نے عین اس وقت بھانڈا پھوڑا، جب تیمور اور پارسا منصور کو ری ہیبیلیٹشن سینٹر لےجا رہے تھے۔ منصور غصے میں بکتا جھکتا ، کہیں بھی جانے کو تیار نہیں تھا اور اسی وقت وشمہ پھپھو کو ساتھ لیئے وہان آن پہنچی تھی۔ عالم آرا کے لیئے بیٹے کی یہ حالت ناقابل برداشت تھی اس لیئے انہوں نے سارا غصہ پارسا پر نکال دیا تھا۔ اسکی نوکری کو آوارگی کا نام دیتے ہوئے انہیں ایکبار بھی خیال نہیں آیا کہ اگر انکی بہو نوکری کر رہی ہے تو انکے بیٹے اور اسکے بچوں کو معاشی سہارہ دینے کے لیئے ہی کر رہی ہے۔پارسا کے لیئے یہ الزامات بالکل نئے تھے۔ سمجھ تو تیمور کو بھی نہیںآرہی تھی امی کو ہو کیا گیا ہے۔اس نے جیسے ہی بھابھی کی سائڈ لینے کی کوشش کی، امی نے اسے بھی لتاڑ کر رکھدیا تھا۔
” پھپھو ۔!! میں کہتی تھی ناں، آپکی بڑی بہو ایک چیز ہے۔ دیکھ لیں، اپنے شوہر کو سنبھال نہیں سکی اور میرے شوہر کو کیسے ہاتھوں پر ڈالا ہوا ہے۔ انکی وجہ سے ہی ہمارے آپس کے تعلقات کبھی ٹھیک نہیں ہو پائے۔!! “ وشمہ نے موقع پاتے ہی اپنے دل کا زہر اگلا تھا اور اس سے زیادہ کچھ سننے کی ہمت پارسا میں بالکل بھی نہیں تھی اس لیئے وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔
” امی۔!! خدا کے لیئے ۔ اپنی آنکھوں پر بندھی اپنی بھتجی کی محبت کی پٹی کھول کر دیکھیں۔ یہ آپکی وہی بہو ہے جس نے آپکے گھر کو جنت میں بدل دیا تھا۔ اور یہ ، جو آپکی ہمدرد بن کر کھڑی ہے اس نے تو آپکا گھر ہی توڑ ڈالا۔اور آپ اب بھی ۔۔!! “ تیمور کی برداشت بھی شاید ختم ہو گئی تھی۔ اسلیئے وہ بھی پھٹ پڑا تھا اور اسکا یہ روپ دیکھ کر ایک لمحے کو تو وشمہ بھی کانپ گئی تھی۔ عالم آرا کے دل کو بھی کچھ ہوا تھا۔ ماضی کے کئی خوشگوار اور خوبصورت مناظر انکی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے تھے۔ اب جو انہوں نے تعصب کی عینک اتار کر بیٹے اور بہو کو دیکھا تو انکی حالت دیکھ کر کانپ گئی تھیں۔
” امی۔!! پارسا نے کچھ غلط نہیں کیا۔ وہ کل بھی پاک تھی اور میں جانتا ہوں وہ آج بھی پارسا ہے۔ ہم وقت کے گرداب میں پھنس چکے ہیں امی اور پارسا ہمیں اس گرداب سے نکالنے کو کوشش میں ہلکان ہو رہی ہے۔ اس پر بجائے اسکی حوصلہ افزائی کے میں نے تو اسے مایوس کیا ہی تھا، آپ نے بھی اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔!! “ منصور دونوں ہاتھوں میںمنہ چھپائے رو دیا تھا اور عالم آرا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنے بیٹے کو اس دکھ کے گرداب سے نکالیں کیسے۔؟کیونکہ غلطی تو ان سے بھی ہوئی تھی اور اس غلطی کا خمیازہ اب ان سبکو بھگتنا تھا۔
***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے