سر ورق / کہانی / کاکروچ ایڈونچر ..معروف احمد چشتی

کاکروچ ایڈونچر ..معروف احمد چشتی

یہ بھی کوئی بات ہے کرنے والی جس کو دیکھو جوتا اٹھائے ہمیںمارنے کو دوڑ رہا ہے۔ مطلب ہم کاکروچ نہ ہوئے چھوٹے بھائی ہو گئے کہ ہوم ورک نہیں کیا تو جوتے سے مرمت کر دی۔آخر کاکروچ کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے ، مگر انسان کو یہ بات کب سمجھ میں آتی ہے۔
بندہ پوچھے بھئی کیوں پیٹتے ہو بے چارے معصوم کاکروچ کو۔ہم نے آخر بگاڑا ہی کیا ہے آپ کا۔خدا گواہ ہے کہ روزِ اول سے آج تک ہم نے کسی کو ڈنک مارا نہ کاٹی کی۔ہم تو اپنی خوراک خود کاٹ کے نہیں کھا سکتے۔آپ کو کیا کاٹیں گے۔ نہ ہی ہمارے منہ میںانسانوں کی مانند دانتوں کی بتیسی ہے جو آپ کی طرح چک مار لیں گے۔ تو پھر ہم سے کیا ڈرنا؟
کاکروچ کو مارنا تو ویسے بھی بد ذوقی کی علامت ہے۔ چلیں مان لیا چھپکلی مار دی کہ زہریلی ہوتی ہے۔چوہا مار دیا کہ دانت سے کاٹ کھاتا ہے۔ مگر ہم بے چارے کاکروچوں کو مارنے کی کیا تُک بھلا؟بدذوقی یوں کہ دنیا جہان کے حشرات الارض جمع کر لیں،سب سے زیادہ خوب صورت اور اٹھتا ہوا رنگ کاکروچ ہی کا نکلے گا۔ ہم تو اس قدر کلر فُل ہیں کہ خوش ذوق انسان بس ٹکٹکی باندھے ہمیں دیکھتا رہے۔ مردانہ وجاہت ایسی رکھتے ہیں کہ بڑے بڑوں کی مونچھیں ہماری مونچھوں کے سامنے ہیچ ہیں۔
اوہ! اب بات سمجھ میں آئی۔مندرجہ بالا دونوں باتیں جنہیں میں اپنی خوبیوں کے طور پر بیان کررہا ہوں شاید یہی تو ہمارے قتلِ ناحق کی وجہ ہیں۔وہ یوں کہ خواتین ہمارے سرخ بھڑکیلے رنگ سے جیلس ہو کر ہمیں مارتی ہوں گی اور مرد حضرات ہماری عالی شان مونچھوں سے حسد کی وجہ سے ہمیں پیٹتے ہوں گے۔بچے یقینا ہمیں نہیں مارنا چاہتے۔ وہ تو صرف ابو ، امی کی دیکھا دیکھی ہماری جان کے دشمن ہو گئے ہیں۔
ارے بابا اس سے بڑھ کر ہماری معصومےت کی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم تو انسان کے احترام میں منہ سے آواز تک نہیں نکالتے۔ آپ نے رات کی خاموشی میں کمرے کی چھت سے چمٹی چھپکلی کی گُر گُر سنی ہو گی۔ بھِڑ کی بھُوں بھُوں بھی سنی ہو گی۔مگر انصاف سے بتایئے ہماری کوئی آواز کبھی سنی؟
ہم کاکروچ تو آپ انسانوں کے لیے اتنے فائدہ مند ہیں کہ پاکستانی ساینس دان ڈاکٹر نوید احمد خان (آغا خان یونی ورسٹی) کے مطابق کاکروچ کی مدد سے انسانوں کے لیے شفا بخش ادویات تیار کی جا سکتی ہیں۔ ساینس دان کہتے ہیں کہ اگر ایٹمی دھماکے کے بعد کوئی جاندار زندہ رہ سکتا ہے تو وہ کاکروچ ہی ہیں۔
ان سب دلائل کے بعد تو آپ انسانوں کے پاس ہم مظلوم کاکروچوں کو مارنے کا کوئی جوا ز ہی نہیں بچتا ہے۔میرے خیال میں تو انسان کو بس خواہ مخواہ دہشت گردی کا شوق ہے۔ہم جیسے بے ضرر کیڑے پتنگوں کو ناحق مارنا دہشت گردی ہی تو ہے۔
آخر کب تک کاکروچ ظلم سہتا رہے۔ ہم نے بھی تبدیلی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انسانوں کے خوف سے گھُٹ گھُٹ کر مرنے کے بجائے زندگی کو زندہ دلی سے گزارنے کا تہیہ کر لیا ہے۔وہ اس طرح کہ ہم نے نوجوان کاکروچوں کی ایک تنظیم بنائی ہے جس کا مقصد انسانوں کے ساتھ لُکا چھُپی کرکے ان کو تھوڑی دیر کے لیے ڈرانا ہے۔یقین مانیے اتنا مزا آتا ہے کہ ہم ایک واقعہ پر ہفتوں ہنستے رہتے ہیں۔ ہم نے سوچا ہے کہ جلد یا بدیر مرنا تو ہے،کیوں نہ زندگی میں مسکراہٹ بھری جائے۔ چلیے مسکراہٹ بھرے چند واقعات آپ کو بھی سناتا ہوں۔
ہماری تنظیم کے کچھ ممبران آنٹی کنیز فاطمہ کے باورچی خانے میں چھپے رہتے ہیں۔ اُن دنوں ڈاکٹر صاحب نے کسی وجہ سے آنٹی کنیز کو چائے منع کر رکھی تھی۔ مگر وہ باز نہ آتی تھیں اور دن میں ایک ، دو کپ پی ہی لیتی تھیں۔ ایک رات جب سب بچے وغیرہ سو گئے تو آنٹی کو چائے کی طلب ہوئی وہ چپکے سے اٹھیں اور باورچی خانے کا رُخ کیا۔پتیلی میں پانی ڈال کر چولہے پر چڑھا دیا۔ اب بندہ پوچھے کہ آنٹی آپ دودھ پیےں، دہی کھائیں تاکہ کچھ توانائی ملے۔ یہ سڑی ہوئی چائے پی کر جی جلانے کا کیا فایدا۔ خیر پتیلی چولہے پر چڑھ چکی تو ایک مخبر کاکروچ نے آکر خبر دی کہ آنٹی چوری چھپے چائے پینے کا پروگرام رکھتی ہیں لہاذا انھیں اس کام سے باز رکھا جانا چاہیے۔اس طرح ایڈونچر ہو جائے گا اور آنٹی کا بھلا بھی۔سب ممبر ان نے کمر کس لی۔آنٹی نے فرِج سے دودھ کی بوتل نکال کر چولہے کے قریب رکھی ہی تھی کہ ایک جانباز کاکروچ نے دوڑ لگائی اور ©”زُوووں“ کر کے بوتل کے پاس سے گزر گیا۔ آنٹی جی نے چیخ ماری اور چولہا جلتا چھوڑ کر کمرے کو بھاگیں۔ان کے میاں نے چیخ سنی تو گھبرا کر باورچی خانے کی جانب دوڑے۔ نتیجتاً دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا کر بیچ برآمدے میں دھڑام سے گرے۔ بچے بھاگ کرمدد کو پہنچے۔ اور جب آنٹی کی چوری کا علم ہوا تو انکل نے انھیںخوب آڑے ہاتھوں لیا اور بچوں نے بھی ان کا مذاق اڑایا۔
کچھ ایسا ہی ملک غلام فرید صاحب کے ساتھ ہوا۔ ملک صاحب زمیندار اور سخی انسان ہیں۔ان میں بس ایک ہی برائی ہے کہ بچوں پر سختی بہت کرتے ہیں۔ کسی بچے کی مجال نہیں کہ ان کے لان میں تھوڑی دیر کھیل کود لے۔جبکہ ہم کاکروچوں کو بچوں سے پیار ہے۔ لہاذا ایسے انسان کو مزا چکھانا تو بنتا تھا۔ شام کے بعد ملک صاحب لائٹیں جلا کر لان میںآبیٹھے۔ ان کے کچھ دوست بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ رات کی رانی کی بھینی بھینی خوش بو میںبڑی بڑی گپیں ہانکی جا رہی تھیں۔ ایسے میں منصوبے کے مطابق ہمارے ایک ٹیم ممبر نے پر پھیلائے اور سیدھا ملک صاحب کے ہاتھ پر جا بیٹھا۔ ملک صاحب ہڑبڑا کر اٹھے اور کپڑے جھاڑنے لگے۔اتنے میں ٹیم کا دوسرا ممبر اُن کی میز پر جا براجمان ہوا۔کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس وقت بجلی چلی گئی۔ملک صاحب کے دوست گھبرا کر اٹھے اور یہ کہتے ہوئے چلے دیئے ”ملک صاحب آپ کے لان میں تو کیڑے مکوڑے بہت ہیں۔یہاں بیٹھنا خطرے سے خالی نہیںہے۔ خدا حافظ۔“
بے چارے ملک صاحب بھی ہمیں صلواتیں سناتے ہوئے اندر کمرے میں چلے گئے۔ ہم نے قہقہ لگا کر کہا” اب آیا نا مزا ملک صاحب۔ آپ بھی تو بچوں کو لان میں کھیلنے نہیں دیتے ہیں۔“ مگر ملک صاحب تک ہماری آوازشاید نہ پہنچ سکی۔
سب سے زیادہ مزا تو اس دن آیاتھا جب ہم نے ایک نک چڑھی ٹیچر کو ڈرایا تھا۔ وہ ٹیچرصاحبہ بچوں کو چپٹیاں بہت لگاتی تھیں۔ایک دن کلاس روم میں آئیں تو سب بچوں کو شور کرنے کی وجہ سے سٹینڈ اپ کرا دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید سزا دینے کے لیے چپٹی اٹھاتیں ، ہمارا ایک ممبر بھاگ کر میز پر چڑھا اورمونچھوں کو تاﺅ دیتا ہوا چپٹی پر بیٹھ گیا۔ ٹیچر نے جونہی چپٹی کو ہاتھ ڈالا تو چیخ مار کر پیچھے ہٹیں اور پھر ڈر کے مارے کلاس روم سے نکل گئیں۔ بچوں نے خوشی میں نعرے لگائے ”کاکروچ زندا باد کاکروچ زندا باد۔“ ہمارے ممبر نے کلاس روم پر ایک فاتحانہ نگاہ ڈالی اور داد سمیٹتا ہوا بھاگ گیا۔
جب شرارتیں حد سے بڑھ جائیں تو پھر سزا بھی ملتی ہے۔یہی ہماری تنظیم کے ساتھ ہوا۔ ہماری کاکروچی شرارتوں سے تنگ آ کر لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں کیڑے مار سپرے کرانا شروع کر دیا۔اور اس طرح ہمارے بہت سے تنظیمی ساتھی ”شہیدِ شرارت“ ہو گئے۔
اب میں بھی چلتا ہوں ۔شاید آج میرے مالک مکان صاحب بھی سپرے کرانے والے ہیں۔ مگر آپ سوچیے گا ضرور کہ آخر آپ کاکروچوں سے خوف زدہ کیوں ہیں؟
٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

عالمی ادب سے انتخاب "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد "کیا تم …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    ابن آس محمد

    بچوں کے ادب میں ایسا عمدہ مزاح لکھنے والا ادیب نظر سے نہیں گزرا ۔۔۔۔۔۔۔تحریر ایسی دل چسپ کہ پڑھتے ہی جاو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقرے یوں کہ جیسے ڈھلے ڈھلائے ہوں ،ایسی چابک دستی ،ایسی روانی بچوں کے کسی ادیب کو نصیب نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک فقرے میں بھی مزاح کے نام پر پھکڑ پن محسوس نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ فضول کی سطحی اور گھٹیا قسم کی لچر زبان استعمال کر کے زبردستی ہنسانے کی کوشش کی گئ ۔۔۔۔معروف کی تحریر پڑھتے ہی بے ساختہ وااااااااااااااااااااااااااااااااااہ منھ سے نکلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاباش معروف ،تم واقعی بچوں کے ادب کے سب سے معروف ترین مزاح نگار ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لو یو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے