سر ورق / یاداشتیں / الف لیلہ۔ خان آصف۔ سید انور فراز

الف لیلہ۔ خان آصف۔ سید انور فراز

تحریر: سید انور فراز

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

خان آصف

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

کہتے ہیں دنیا بڑی ظالم ہے اور لوگ بے وفا ہیں، شاعر و ادیب اس ظلم اور بے وفائی کا اکثر شکار ہوتے ہیں، ان کا دور عروج اگر قابل دید ہوتا ہے تو زوال باعث عبرت۔

ہم ایسے بے شمار شاعروں اور ادیبوں سے ذاتی طور پر واقف رہے ہیں خصوصاً ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشنز سے طویل وابستگی کے دوران میں ہم نے بہت سے لوگوں کا عروج و زوال دیکھا، آج جس شخصیت کی یاد تازہ کرنا چاہتے ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ اپنے وقت کے نابغہ ءروزگار لوگوں میں سے ایک ہےں بلکہ ہمارے لیے صرف قابل احترام ہی نہیں ، دل کے نہاں خانے میں ان کی تصویر نقش ہے

ایک صورت ہے تصور کے نہاں خانے میں

اپنی تصویر کوئی بھول گیا ہو جیسے

ممکن ہے لوگ خان آصف کا نام بھول گئے ہوں، وہ خان آصف جن کی تحریر کبھی جاسوسی ڈائجسٹ، پاکیزہ ڈائجسٹ اور اخبار جہاں کی جان سمجھی جاتی تھی، خان آصف نے جاسوی ڈائجسٹ میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی تھی، انہوں نے چاروں معروف ائمہ ءکرام کے سوانح لکھے جس کا آغاز امام مالکؒ سے ہوا اور اختتام امام اعظم امام ابو حنیفہ پر۔

سسپنس ڈائجسٹ میں الیاس سیتہ پری صوفیائے کرام کے واقعات ضیا تسنیم بلگرامی کے نام سے لکھا کرتے تھے، اس طرز کی کہانیوں کا آغاز سب سے پہلے سب رنگ ڈائجسٹ نے کیا تھا لیکن ائمہ پر لکھنے کی ابتدا خان آصف سے ہوئی۔

خان صاحب کیا تھے؟ اور کیا نہیں تھے؟ یہ بڑا مشکل اور پیچیدہ سوال ہے،اس کا جواب مختصر اور آسان نہیں ہے کیوں کہ ہمیں بھی خان صاحب کو جاننے اور سمجھنے میں برسوں لگ گئے مگر پھر بھی ہم یہ دعوی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے ہر رنگ اور ہر ادا سے واقف ہیں۔

رہ و رسمِ شناسائی

یہ شاید 1974 ءکا ذکر ہے، لکھنے پڑھنے کے علاوہ ہمارا ایک شوق شطرنج بھی رہا ہے اور اس زمانے میں یہ شوق اپنے عروج پر تھا، انہی دنوں ہمارے ایک قریبی دوست نے(ہم انہیں اپنے ابتدائی زمانے کے اساتذہ میں شمار کرتے ہیں) ہم سے کہا کہ ایک صاحب تم سے شطرنج کھیلنا چاہتے ہیں ، ہم نے پوچھا کون؟ تو جواب ملا ”خان آصف“۔

ہم نے حیرانی سے نیاز صاحب کو دیکھا اور پوچھا ”کون خان صاحب؟“(نیاز صاحب نہایت تعلیم یافتہ ، ادب، شعر، تاریخ اور مذہب و فلسفہ پر عبور رکھنے والے ہمارے بزرگ دوست اور استاد ہیں، الحمداللہ بقید حیات ہیں)

”ارے! تم نہیں جانتے، بھئی وہ جو داستان ڈائجسٹ نکالتے ہیں، یہاں قریب ہی ان کا دفتر ہے اور اکثر چائے پینے ادھر بھی آجاتے ہیں، ہم نے تمہارا ذکر کیا تو انہوں نے تمہارے ساتھ شطرنج کھیلنے کا شوق ظاہر کیا“واضح رہے کہ اپنے منہ سے اپنی تعریف اچھی نہیں لگتی لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگ ہمارے کھیل کی تعریف کرتے تھے۔

داستان ڈائجسٹ ہمارے زیر مطالعہ رہتا تھا، ہم بہت خوش ہوئے اور نیاز صاحب سے کہا کہ لے آئیں خان صاحب کو کسی روز اور اس طرح خان آصف سے ہمارے مراسم کا آغاز ہوا، خان صاحب کی شطرنج تو واجبی سی تھی لیکن اس کے علاوہ ان کے اور ہمارے بعض دیگر شوق مشترک نکلے مثلاً وہ مچھلی کے شکار کے بھی شوقین تھے ، انہیں اکلٹ سائنسز سے بھی خصوصی دلچسپی تھی، شاعری، ادب ، فلم اور موسیقی پر بھی خان صاحب کی گہری نظر تھی، غالباً 1968 عیسوی میں روزنامہ حریت کراچی سے وابستگی کے دوران میں خان صاحب نے انڈین فلم انڈسٹری کی مکمل تاریخ قسط وار لکھی تھی ، نتیجے کے طور پر اب یہ روزانہ کا معمول بن گیا تھا کہ خان صاحب رات 10 بجے اپنا دفتر بند کرکے ہماری طرف نکل آتے، عموماً ان کے ساتھ ان کے ساتھی رائٹرز، کاتب وغیرہ ہوتے، ابتدا میں اکثر اظہر کلیم ، سردار سلیم، عشرت انجم، شکیل صدیقی وغیرہ سے پہلی ملاقات ہماری خان صاحب کے ذریعے ہی ہوئی ،سب بیٹھ کر چائے پیتے اور پھر خان صاحب کے ساتھ شطرنج کی بساط جم جاتی۔

داستان ڈائجسٹ اس زمانے میں کوئی بہت بڑا اور کثیر الاشاعت پرچا نہیں تھا لیکن خان صاحب کی گزر اوقات اسی پر تھی،وہ ان دنوں عزیزہ آباد میں کسی جگہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے، بعد میں ان کے چھوٹے بھائی اطہر شاہ خان نے نارتھ ناظم آباد میں اپنا مکان لے لیا تو خان صاحب بھی وہیں منتقل ہوگئے تھے۔

شطرنج کے علاوہ شعر و ادب اور خصوصاً ڈائجسٹوں سے ہماری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے خان صاحب سے تعلقات مزید گہرے ہوتے چلے گئے ، اکثر ڈائجسٹوں کی خوبیوں اور خامیوں پر گفتگو ہوتی، مختلف کہانیوں کے حوالے سے رائے زنی کی جاتی، خاص طور پر سلسلے وار کہانیاں موضوعِ بحث رہتیں لیکن درحقیقت اس کے علاوہ بھی دنیا بھر کے موضوعات زیر بحث رہتے، ہمارے اور خان صاحب کے علاوہ ان نشستوں کے مستقل ارکان میں نیاز صاحب (نیاز الدین احمد خان) نعیم خانزادہ، سردار سلیم شامل تھے ، البتہ کبھی کبھی بعض دور سے آئے ہوئے دیگر افراد بھی شامل ہوجاتے۔

ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں

اگر یہ کہا جائے کہ داستان ڈائجسٹ خان آصف تنِ تنہا نکالا کرتے تھے تو یہ غلط نہیں ہوگا کیوں کہ ان کے دفتر میں، ان کے علاوہ کوئی دوسرا باقاعدہ ملازم خال خال ہی دیکھنے کو ملتا تھا، غالباً 1978 ءمیں سرفراز نام کا ایک لڑکا مستقل طور پر ان کے پاس کام کرتا رہا، خان صاحب پرچے کے بہت سے کام خود ہی انجام دیا کرتے، تاریخی کہانی، تصوف کا مضمون، کوئی سلسلے وار کہانی خود ہی لکھتے، ایک مستقل سلسلہ سرحد کا بیٹا (دلیپ کمار کی سرگزشت) انہوں نے برسوں لکھی اور کبھی مکمل نہ ہوئی ، پروف ریڈنگ خود کرتے، اکثر پیسٹر غائب ہوجائے تو کاپی پیسٹنگ بھی خود کرتے، اس کے بعد کاغذ کی خریداری سے پرنٹنگ کے مراحل تک اور بعد ازاں ڈسٹری بیوشن کے معاملات بھی خود ہی دیکھتے۔

خان صاحب کا اصل نام آصف شاہ خان تھا، ان کے والد فیروز شاہ خان رام پور میں ایک بڑے زمیں دار تھے، برصغیر کی تقسیم کے بعد حالات نے کروٹ بدلی، بھارت سے جاگیردارانہ سسٹم ختم کردیا گیا، ریاستیں ختم کردی گئیں، اس کے نتیجے میں بہت سے مسلمان جو ریاستوں میں رہتے تھے، پریشانیوں کا شکار ہوئے، خان صاحب کی تاریخ پیدائش 23 فروری 1940 تھی، انہوں نے رام پور ہی سے نمایاں پوزیشن میں گریجویشن کیا، ابتدا ہی سے شاعری، ادب اور فلم سے دلچسپی تھی، ساتھ ہی فلموں میں کام کرنے کا شوق بھی عروج پر تھا لہٰذا قسمت آزمائی کے لیے بمبئی چلے گئے اور کہتے ہیں کہ بمبئی بڑا ہی بے مروت اور ظالم شہر ہے۔

بمبئی اور پاکستان یاترا

اپنے بمبئی میں قیام کے دوران میں پیش آنے والے واقعات اکثر سناتے رہتے تھے، فلم انڈسٹری میں خان صاحب کے آئیڈیل اداکار دلیپ کمار تھے اور موسیقار نوشاد، خان صاحب خود بھی بڑے وجیہ اور ایک باوقار پرسنالٹی کے مالک تھے،بمبئی میں قیام کے دوران انہوں نے بہت کوشش کی کہ انہیں کوئی کام مل سکے،بالکل آخری دنوں میں ان کی رسائی بی آر چوپڑا کے اسٹوڈیو میں جناب اختر الایمان تک ہوگئی، اختر صاحب بی آر چوپڑا کے اسٹوڈیو میں اسٹوری اور اسکرپٹ سیکشن کے انچارج تھے لیکن اسی دوران میں کوئی ایسا واقعہ ہوا جو خان صاحب کو فوری طور پر رام پور واپس آنا پڑگیا، اس طرح ان کی بمبئی یاترا ہر اعتبار سے ناکام ہی رہی،اس کے بعد ہی ان کی شادی ہوگئی اور ہمیں نہیں معلوم ، نہ کبھی انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کیوں اور کن وجوہات کی بنیاد پر آئے۔

ہمارا اندازہ ہے کہ پہلی بار وہ اس زمانے میں کراچی آئے جب فضل احمد کریم فضلی کی فلم ”ایسا بھی ہوتا ہے“ زیر تکمیل تھی، انہوں نے فضلی صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ کام بھی کیا، شاید بمبئی سے ناکام واپسی کے بعد وہ پاکستان کی فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کرنا چاہتے تھے لیکن کسی بات پر فضلی صاحب سے اختلاف ہوا اور وہ ان کے یونٹ سے علیحدہ ہوگئے اور دوبارہ رام پور واپس چلے گئے،خان صاحب نے ابراہیم نفیس صاحب کی فلم دل والے کے گیت بھی لکھے تھے، خدا معلوم اس فلم کا کیا ہوا اور یہ کس دور کی بات ہے ۔

دوسری مرتبہ ان کی واپسی غالباً اس زمانے میں ہوئی جب سب رنگ ڈائجسٹ کا اجرا ہورہا تھا، خان صاحب سے شکیل عادل زادہ کے بہت اچھے مراسم تھے، سب رنگ کے کسی ابتدائی شمارے کے ٹائٹل پر خان صاحب کی ایک نظم بھی شائع ہوئی تھی اور یقیناً یہ 1969ءکی بات ہوگی۔

دوبارہ کراچی آکر خان صاحب روزنامہ حریت کے میگزین سیکشن سے وابستہ ہوگئے تھے لیکن وہ خود کو وہاں ایڈجسٹ نہیں کرسکے، حقیقت یہ ہے کہ وہ خود کو کہیں بھی ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے، ہم نے بہت کم لوگ ایسے دیکھے جن سے خان صاحب کے تعلقات و مراسم ہمیشہ اچھے رہے ہوں، اس کی بڑی وجہ ان کی انا تھی اور سونے پر سہاگا گہرا مذہبی لگاو ¿ تھا جس پر وہ کسی صورت کبھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے،شعر و ادب اور شوبزنس میں بھلا مذہب اور مذہبی نظریات کا کیا کام؟ شاید اسی وجہ سے وہ بمبئی میں بھی ایڈجسٹ نہ ہوسکے ہوں۔

بمبئی میں جس مشہور اداکار سے خان صاحب کی اچھی انڈراسٹینڈنگ ہوسکی وہ مرحوم شیخ مختار صاحب تھے جنہوں نے مشہور فلم ”نور جہاں“بنائی تھی، وہ خود بھی خاصے مذہبی آدمی تھے اور کبھی بھی انڈین فلم انڈسٹری میں اپنا کوئی خاص مقام نہ بناسکے ، برسوں پہلے یعنی تقسیم ہند سے قبل ڈائریکٹر محبوب خان کی فلم ”روٹی“ میں ایک مرکزی کردار ادا کرکے وہ مشہور ہوئے تھے اور بعد میں ان کی وجہ شہرت فلم نور جہاں بنی جو انڈیا میں بری طرح فلاپ ہوگئی، جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں وہ پاکستان آگئے اور اپنی فلم کے پرنٹ بھی ساتھ لے آئے، اپنی اسلام پسندی کے سبب کسی طرح جنرل ضیاءتک رسائی حاصل کی اور اپنی فلم نور جہاں کی پاکستان میں نمائش کے لیے اجازت نامہ حاصل کرلیا، اس طرح یہ فلم پاکستان میں بھی ریلیز ہوئی۔

خان صاحب شیخ مختار کی بہت تعریف کرتے تھے،شاید اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ دونوں نظریاتی طور پر خاصے ہم آہنگ تھے لیکن ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ شیخ مختار کے پاکستان آنے کے بعد خان صاحب نے کبھی ان سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔

شوبزنس اور صحافت و ادب میں شوقِ شراب و شباب ہمیشہ نمایاں رہا ہے،بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس شرعی عیب سے پاک رہے،خان صاحب بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک تھے جب کہ اکثریت اس کے برعکس تھی، پھر بھلا خان صاحب سے اکثریت کے گہرے مراسم کیسے استوار ہوتے لیکن اس کی وجہ بھی یک طرفہ ہے ، ہماری اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے لوگ خان صاحب کے اس لیے زیادہ قریب نہیں ہوسکے کہ وہ بہت مذہبی ذہن رکھتے تھے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ خان صاحب خود ایسے لوگوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور ان سے زیادہ تعلقات بڑھانا بھی پسند نہیں کرتے تھے ورنہ ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ بعض مواقع پر ایسے لوگوں نے خان صاحب کی مدد کی ہے جو قطعاً مذہبی نہیں تھے اور مذکورہ شرعی عیب بھی رکھتے تھے۔

ستّر کی دہائی

1970 ءپاکستان میں الیکشن کا سال تھا اور ”دائیں بائیں“ کی نظریاتی سیاست عروج پر تھی، دائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں میں جماعت اسلامی ، جمیعت العلمائے اسلام، جمعیت العلمائے پاکستان نمایاں تھیں تو بائیں بازو کی پارٹیوں میں پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی (ولی خان گروپ)، عوامی لیگ کا نام سرفہرست ہے، مسلم لیگ کا شمار نہ دائیں میں تھا نہ بائیں میں۔

اصل معرکہ آرائی جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں جاری تھی، دونوں جماعتوں کے صحافتی ونگ بھی میدان میں تھے، جماعت اسلامی کو سپورٹ دینے کے لیے کراچی سے روزنامہ جسارت جاری کیا گیا جس کے پہلے ایڈیٹر عبدالکریم عابد صاحب تھے، اس اخبار میں خان صاحب کو روزانہ ایک قطہ اور ہفتہ وار ایک سیاسی نظم لکھنے کی ذمے داری مل گئی اور اس طرح انہیں اپنے شاعرانہ ٹیلنٹ کے بھرپور اظہار کا موقع ملا۔

اس زمانے میں روزنامہ جنگ میں رئیس امروہوی صاحب روزانہ قطہ اور ہفتہ وار ایک نظم لکھا کرتے تھے اور رئیس صاحب کی قادرالکلامی ہر شک و شبے سے بالاتر ہے لیکن جب خان آصف نے روزنامہ جسارت میں قطہ نگاری شروع کی تو خود رئیس صاحب نے کہا ”میرا جانشین آگیا ہے“

افسوس صد افسوس خان صاحب کے کہے ہوئے قطہات اور نظمیں جو بلاشبہ یادگار ہیں، اب کہیں دستیاب نہیں، کم از کم ہماری معلومات کے مطابق کیوں کہ خود خان صاحب کے پاس بھی اس کا کوئی ریکارڈ نہ تھا۔

الیکشن 1970 کے نتیجے میں مغربی پاکستان سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی تھی جب کہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ تھی، اس الیکشن میں جماعت اسلامی کو تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑا، پورے پاکستان سے وہ صرف چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی جن میں سے دو کراچی کی تھیں۔

الیکشن کے بعد 1971 ءمیں کیا ہوا، یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور پھر 1972 ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، جسارت ”بھٹو مخالف“ اخبارات میں سرفہرست تھا اور جسارت میں لکھنے والے کالم نگار یا قطہ نگار بھی بھٹو حکومت کے سخت ترین نقاد تھے، نتیجے کے طور پر حکومت نے اخبار اور دیگر لکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا، شاید خان صاحب کو قبل از وقت کوئی قدرتی آگاہی حاصل ہوئی اور اسی دوران میں روزنامہ جسارت کے اُس زمانے کے مدیر صلاح الدین صاحب سے ان بن شروع ہوگئی، خان صاحب کسی بدمزہ ماحول میں کام کر ہی نہیں سکتے تھے لہٰذا اخبار بند ہونے سے پہلے ہی استعفا دے کر گھر آگئے، اس طرح جیل جانے سے بچ گئے، اب پھر غمِ روزگار کا عذاب مسلط ہوگیا۔

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا امجد جاوید  کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر …

3 تبصرے

  1. Avatar
    ملکہ افروز روہیلہ

    بہت عمدہ سلسلہ ہے انور فراز صاحب سے ماضی میں اچھی یاد اللہ رہی ہے جب انہوں ے سرگزشت کا جیل نمبر نکالا اس وقت ہم محمد صلاح الدین کے رسالے تکبیر میں تھے ان کی فرمائش پر ایک انٹرویو کی شکل میں پہلے صلاح الدین صاحب سے جیل یاترا کی تفصیلات جمع کیں پھر انور فراز صاحب کی رہنمائی میں اسے کہانی کی شکل دی انور فراز صاحب ادب و صحافت کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی یادیں پڑھ کر ہم اپنے ماضی کے ان حالات کو آپنے سامنے چلتا پھرتا دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں

  2. Avatar
    ملکہ افروز روہیلہ

    بہت عمدہ سلسلہ ہے انور فراز صاحب سے ماضی میں اچھی یاد اللہ رہی انتہائی افسوسناک اور شرمناک اسی لیے تو قومی یک جہتی فقدان ہے جب انہوں ے سرگزشت کا جیل نمبر نکالا اس وقت ہم محمد صلاح الدین کے رسالے تکبیر میں تھے ان کی فرمائش پر ایک انٹرویو کی شکل میں پہلے صلاح الدین صاحب سے جیل یاترا کی تفصیلات جمع کیں پھر انور فراز صاحب کی رہنمائی میں اسے کہانی کی شکل دی انور فراز صاحب ادب و صحافت کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی یادیں پڑھ کر ہم اپنے ماضی کے ان حالات کو آپنے سامنے چلتا پھرتا دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں

  3. Avatar
    سعید احمد سلطان

    بہت عمدہ انتخاب اور تحریریں شامل کی جا رہی ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے