سر ورق / کہانی / ہر کام اپنے وقت پر … تنزیلہ یوسف

ہر کام اپنے وقت پر … تنزیلہ یوسف

"علی بیٹا! کھانا کھالو۔” امی نے علی کو آواز دی جو کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔
"امی مجھے بھوک نہیں۔” مصروف سے انداز میں جواب دیا اور پھر سے گیم کھیلنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"علی بیٹا! بازار سے سامان تو لادو۔” امی نے کچن سے علی کو آواز دی۔
"امی پلیز! گیم کھیلنے دیں ناں، میں نے عمر سے شرط لگائی تھی کہ گیم کے سارے لیول پورے کروں گا۔”
اور امی کو اس کی بات پر غصہ تو بہت آیا مگر کچھ کہا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔ وہ پلے گروپ سے ہی پوزیشن لیتا آیا تھا۔ پانچویں جماعت میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر اس کے ابو نے اسے کمپیوٹر لے دیا۔ نت نئی گیمز سی ڈیز بھی لاکر دیں۔ علی اب زیادہ تر گیمز ہی کھیلتا رہتا۔ پڑھنے کی طرف اس کا دھیان پہلے سے کم ہوگیا اور کم ہوتے ہوتے یہ دھیان بالکل ہی ختم ہوگیا۔ اب تو یہ حال تھا کہ کھانے پینے سے زیادہ اسے گیم کھیلنے کی فکر ہوتی۔ اسکول میں سہ ماہی امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ اسے اس کی کوئی پریشانی نہ تھی۔ اس کا خیال تھا کہ جیسے پہلے ہر بار اس کی پوزیشن آتی ہے اسی طرح اس بار بھی وہی پوزیشن لے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ نے اسے کمپیوٹر کیوں لے کر دیا ہے؟” رات کے کھانے کے بعد علی کی امی نے جاوید صاحب سے شکوہ کیا۔
"کیوں بھئی! کیا ہوا؟” جاوید صاحب صبح کے گھر سے نکلے، رات گئے لوٹتے۔ انھیں ساری صورت حال کا علم نہ تھا۔
"علی اب ہر وقت گیمز کھیلتا رہتا ہے۔ کوئی کام کہو تو صاف انکار کردیتا ہے۔ نہ کھانے پینے کا ہوش، نہ پڑھنے کا پتہ، ایسا نہ ہو کہ اس کے رزلٹ پر اس کا اثر پڑے۔” علی کی امی نے اس کے ابو کو ساری بات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا۔
"ہونہہ۔۔۔ ہے تو پریشانی کی بات، میں کچھ سوچتا ہوں۔” جاوید صاحب نے ہنکارا بھرتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"علی بیٹا! ذرا یہاں آؤ۔” جاوید صاحب نے علی کو آواز دی۔ آج وہ جلدی دکان سے واپس آگئے تھے۔
"جی ابوجان آپ نے بلایا۔” علی ان کے پاس آکر بولا۔
"ادھر دیکھو میں آپ کے لیے کیا لایا ہوں۔” علی کے ابو نے ایک چھوٹا سا بیگ دکھایا۔
"اس میں کیا ہے ابوجان؟” علی متجسس ہوتے ہوئے بولا۔
"ارے بھئی کھول کر تو دیکھو” جاوید صاحب اس کی بےتابی سے مزہ لیتے ہوئے بولے۔
"ارے ےےےے اتنی ساری کہانیوں کی کتابیں” علی نے بے ساختہ خوشی کا اظہار کیا۔
"اس میں کچھ اور بھی ہے آپ کے لیے۔”
علی نے دیکھا تو اسے ان کتابوں میں ایک ڈائری بھی نظر آئی۔
"علی بیٹا! میں چاہتا ہوں آپ اپنے ہر کام کا وقت مقرر کرلو۔ ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے۔ اگر سورج دن کی بجائے رات کو نکلے تو سوچو کیسا لگے گا؟” جاوید صاحب نے علی سے سوال کیا۔
"ابو جان یہ تو بڑا ہی عجیب ہوگا اگر سورج دن کی بجائے رات کو نکلے۔”
"اسی لیے میں آپ کے لیے ٹائم ٹیبل ڈائری لے کر آیا ہوں۔ آپ اس ڈائری میں اپنے اٹھنے، سکول جانے، کام کرنے، نمازوں اور کھیلنے کے اوقات لکھوگے اور ان کی سختی سے پابندی بھی کرو گے۔”
"شکریہ ابو جان آپ میرے لیے اتنی اچھی کہانیوں کی کتابیں اور ٹائم ٹیبل ڈائری لائے اب میں اس کی سختی سے پابندی بھی کروں گا۔”
"میں اب آپ سے اتوار کے روز پورے ہفتے کی روٹین کے بارے میں پوچھوں گا۔ مجھے امید ہے آپ اپنا ہر کام وقت پر کروگے۔” جاوید صاحب نے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن علی نے اپنے ہرکام کا وقت اس ٹائم ٹیبل ڈائری میں درج کرلیا۔ شروع میں اسے تھوڑی مشکل ہوئی۔ ہر وقت کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے کی عادت نے وقتی مشکل کھڑی کردی تھی، مگر آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہوگیا۔ علی کی امی نے بھی اس میں مثبت تبدیلی محسوس کی۔
اتوار کے روز حسب وعدہ وہ جاوید صاحب کو اپنی ہفتے بھر کی کارکردگی سے آگاہ کررہا تھا۔ اس کے ابو اس کی اس تبدیلی سے مطمئن اور خوش دکھائی دیتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے ہفتے جاوید صاحب علی کے جماعت انچارج سے ملے۔ علی کے ماہانہ ٹیسٹ ہوئے تھے۔ ان کی فائل لینے جاوید صاحب خود اس کے اسکول گئے۔ اس کے ٹیچر نے بھی اس میں آنے والی مثبت تبدیلی کا ذکر کیا۔
علی اپنی جماعت میں پہلے کافی لاپرواہی برتنے لگا تھا، مگر ڈائری کے بنائے گئے شیڈول کے مطابق ہر کام وقت پر کرنے سے خاطر خواہ کامیابی سامنے آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"علی بیٹا آپ نے اپنے اندر کیا تبدیلی محسوس کی؟” جاوید صاحب نے علی سے پوچھا۔
"میں نے یہ سیکھا کہ کوئی بھی کام کرنے کا ارادہ مضبوط ہو تو کامیابی حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ میں پہلے بے کار میں وقت ضائع کررہا تھا، جس سے میرا اسکول کا بہت سا کام وقت پر ہونے سے رہ جاتا اور جماعت میں شرمندگی الگ اٹھانا پڑتی، امی بھی کسی کام کو کہتیں تو میں انکار کردیا کرتا، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اب آپ کو یا امی کو میری وجہ سے پریشانی نہ ہو۔” علی نے مضبوط ارادے کے ساتھ کہا۔
"شاباش میرے بچے! یہی وہ بات تھی جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا تھا۔” ابو نے علی کے سر پر ہاتھ پھیرا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 کولڈ فیئر …  شبیہہ مظہر رانجھا… پہلا حصہ

                                                 کولڈ فیئر  شبیہہ مظہر رانجھا،بھلوال پہلا حصہ COLD FEAR  میں نے آج تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے