سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹ کی الف لیلہ۔ سید انور فراز

ڈائجسٹ کی الف لیلہ۔ سید انور فراز

ڈائجسٹ کی الف لیلہ۔۔۔۔۔ سید انور فراز

خان آصف۔۔۔۔۔

ہمیں نہیں معلوم کہ خان صاحب کے ذہن میں ڈائجسٹ نکالنے کا آئیڈیا کب اور کیسے آیا؟ ایک بار اس حوالے سے گفتگو ہوئی تو ان کا کہنا یہی تھا کہ میں ان گھٹیا اور کمتر درجے کے لوگوں کے ساتھ یا ان کی ماتحتی میں کام نہیں کرسکتا، اس حوالے سے خان صاحب کا اصل جملہ یہاں کوٹ نہیں کیا جاسکتا، اپنے ابتدائی زمانے میں یعنی 1978 ءتک خان صاحب اپنی گفتگو میں آغا حشر کاشمیری سے کم نہیں تھے، عالم جوش میں ہوش کھوبیٹھتے تھے اور پھر ان کی زبان پر اپنے حریفوں اور مخالفین کے لیے ہر قسم کے الفاظ رواں ہوسکتے تھے گویا انہیں ”مغلظات“ کے شعبے میں بھی ایک خاص مقام حاصل تھا،ایسی ایسی نت نئی تراکیب وضع کرتے کہ سننے والا اَش اَش کر اُٹھتا۔

خان صاحب نے داستان ڈائجسٹ کے ڈکلیریشن کے لیے درخواست بھیج دی لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب پریس اینڈ پبلیکشن آرڈیننس جیسا کالا قانون موجود تھا اور کوئی نیا ڈکلیریشن حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا، سندھ انفارمیشن میں ایک ڈائریکٹر انفارمیشن کی قسمت میں خان صاحب کی وہ تمام مغلظات لکھی گئی تھیں جو بقول خان صاحب ان کا حق تھا، خان صاحب کافی عرصے تک سندھ انفارمیشن کے چکر لگاتے رہے، آخر ایک دوست نصیر ترابی نے مدد کی اور داستان ڈائجسٹ کا ڈکلیریشن مل گیا، اس طرح ایک نئے پرچے کا آغاز ہوا، اس زمانے میں سب سے کثیرالاشاعت سب رنگ ڈائجسٹ تھا، اس کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ اور پھر الف لیلیٰ ڈائجسٹ۔

بدلتا ہے رنگ آسماں

1978 ءتک داستان ڈائجسٹ نے اپنا ایک مقام بنالیا تھا لیکن اسی زمانے میں بھارتی ویزا کھل گیا اور خان صاحب کے دل کا سب سے بڑا زخم لہو دینے لگا وہ چاہتے تھے کہ اپنے والد صاحب کو پاکستان لے آئیں کیوں کہ وہاں وہ اکیلے رہ گئے تھے، اس کے لیے دو صورتیں ان کے سامنے تھیں، ایک اُبھرتے ہوئے ڈائجسٹ کو اپنے احباب جو یقیناً قابل بھروسا تھے ، پر چھوڑ جائیں یا پھر داستان ڈائجسٹ کو بند کرکے انڈیا چلے جائیں،خیال رہے کہ یہ وہ دور تھا جب خان صاحب کا داستان ڈائجسٹ کامیابی کے مراحل طے کر رہا تھا اور وہ معاشی طور پر بہتر پوزیشن میں تھے یہاں تک کہ ایک بار کہنے لگے کہ فلم بنائی جائے اور جو کچھ بمبئی میں رہ کر سیکھا اور تجربات حاصل کیے ان کا اظہار کیا جائے ، خان صاحب پاکستان کی فلم انڈسٹری اور پاکستانی فنکاروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے،فلم انڈسٹری کا کوئی بھی شعبہ ہو وہ بھارت کو پاکستان پر فوقیت دیا کرتے، البتہ کچھ نام ایسے تھے جن کے وہ معترف تھے مثلاً موسیقار خورشید انور، فلم ڈائریکٹر ہمایوں مرزا، مسعود پرویز وغیرہ، حد یہ کہ وہ میڈم نور جہاں کو بھی اعلیٰ درجے کی گلوکارہ تسلیم نہیں کرتے تھے، البتہ مہدی حسن کے زبردست مداح تھے۔

خان صاحب نے دوسرے آپشن پر عمل کیا، حالاں کہ ہمارا اور دیگر احباب کا اصرار یہ تھا کہ پرچے کو نکلتے رہنا چاہیے مگر خان صاحب نے دفتر کو تالا لگایا اور چابی ہمارے حوالے کی، دفتر میں تقریباً 10 رِم کاغذ موجود تھا، ہمیں بھی ان دنوں نیا نیا پبلیشنگ کا شوق ہوا تھا، ایک چھوٹی سی کتاب پاکٹ بک سائز میں چھاپنے کی تیاری تھی،خان صاحب نے ہمیں اجازت دی کہ آپ یہ دس رم کاغذ استعمال کرسکتے ہیں اور خود رام پور روانہ ہوگئے۔

انڈیا میں خان صاحب کا قیام طویل سے طویل تر ہوتا گیا، اس کی وجوہات ان کی واپسی پر سامنے آئیں، والد صاحب سخت بیمار ہوگئے تھے، مزید یہ کہ ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی کرانا ضروری ہوگیا تھا، قصہ مختصر یہ کہ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ انڈیا میں گزار کر 1980 ءمیں خان صاحب کی واپسی ہوئی،اب صورت حال یہ تھی کہ پھر وہی دشت وہی خارِ مغیلاں!

دوبارہ دفتر میں رنگ و روغن ہوا اور داستان ڈائجسٹ کا ایک بار پھر آغاز کیا گیا،اس عرصے میں پرانی ٹیم بکھر چکی تھی، لے دے کر ایک سردار سلیم صاحب اور خان زادہ نعیم دستیاب تھے جو بہت اچھے مترجم تھے،قسط وار سلسلے ڈیڑھ سال پہلے جہاں رکے تھے وہیں رکے ہوئے تھے، اس زمانے میں داستان ڈائجسٹ کی ایک مقبول سلسلہ وار کہانی ”اپسرا“ تھی اور دوسری ”صدیوں کا بیٹا“

صدیوں کا بیٹا

جب صدیوں کے بیٹے کا ذکر آگیا ہے تو یقیناً ڈائجسٹ پڑھنے والے چونک اٹھے ہوں گے کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاسوسی ڈائجسٹ میں ایم راحت لکھتے رہے ہیں تو پھر اسی نام سے داستان ڈائجسٹ میں کیوں شائع ہورہا تھا؟

اس دلچسپ حقیقت اور تنازع کا اظہار بھی ضروری ہے جس پر اس زمانے میں خاصا ہنگامہ ہوا، خان صاحب کے کوئی مترجم دوست شاید عشرت انجم کے ہاتھ ایک انگلش ناول لگا جس کی کہانی وہی تھی جو صدیوں کا بیٹا کی کہانی ہے یقیناً ایم اے راحت صاحب نے اسی کہانی کو تھوڑی سی ترمیم و اضافے کے ساتھ جاسوسی ڈائجسٹ میں شروع کیا تھا، خان صاحب نے ”اصلی صدیوں کا بیٹا“ کے دعوے کے ساتھ یہ ناول داستان میں شائع کرنا شروع کردیا جس پر جاسوسی ڈائجسٹ میں ایم اے راحت صاحب نے ایک سخت نوٹ خان صاحب کے خلاف لکھا اور پھر جوابی نوٹ خان صاحب نے لکھا، اس طرح خان صاحب اور ایم اے راحت صاحب کے درمیان اور مزید یہ کہ خان صاحب اور معراج صاحب کے درمیان خاصی بدمزگی ہوئی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ صدیوں کا بیٹا کون لکھے کیوں کہ عشرت انجم صاحب کہیں لاپتا تھے، بہر حال یہ ذمے داری کسی اور کے سپرد کی گئی اور اپسرا لکھنے کی ذمے داری ہم نے قبول کی لیکن صورت حال یہ تھی کہ خان صاحب کی مالی حالت خاصی کمزور تھی، دو دو تین تین مہینے پرچا شائع نہیں ہوتا تھا، انہی دنوں کاغذ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جو خان صاحب کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا لہٰذا ایک شمارے میں ادارتی صفحے پر خان صاحب نے اپنے شاعرانہ اظہار میں حکومت سے شکوہ کیا، اس کا ایک شعر ہمارے ذہن میں رہ گیا ہے

لکھنا ہی مقدر ہے بہر رنگ لکھیں گے

کاغذ نہ ملے گا تو سرِ سنگ لکھیں گے

تجھ سے بھی دل فریب ہےں غم روزگار کے

1981ءمیں بالآخر صورت حال یہ ہوگئی کہ داستان ڈائجسٹ بند کرنا پڑا اور روزگار کے مسائل زیادہ پریشان کن ہوگئے، خان صاحب کا روزانہ کا معمول یہ تھا کہ رات 8,9 بجے تک ہمارے پاس آجاتے اور پھر دیگر لوگ بھی آتے جاتے رہتے، اس طرح یہ نشست رات 2,3 بجے تک جاری رہتی، کبھی کبھی ہم لوگ خالد خلد صاحب کے دفتر میں جابیٹھتے جو قریب ہی تھا، وہ بھی ایک ہفت روزہ بلٹز کے نام سے نکالا کرتے تھے،سہیل امتثال صدیقی اور آفاق فاروقی اس ویکلی پرچے سے وابستہ تھے، آفاق فاروقی کا تعلق سکھر سے تھا اور میدان صحافت میں یہ ان کا پہلا قدم تھا، یہیں سے ہماری اور خان صاحب کی ان سے شناسائی ہوئی، آج آفاق فاروقی امریکا میں ہیں اور پاکستان پوسٹ اردو کے نام سے ایک کامیاب ویکلی پرچا نکال رہے ہیں۔سہیل امتثال صدیقی مشہور شاعر و نقاد جناب قمر جمیل کے بھانجے ہیں اور آج کل کسی چینل پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

1981 ءمیں بے روزگاری کا عفریت ہم پر بھی مسلط ہوا، ان دنوں نوائے وقت کراچی میں ضیا شاہد ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھے اور ان کے ایک قریبی دوست میاں محبوب جاوید میگزین ایڈیٹر تھے جن کی دوستی سہیل امتثال صدیقی اور راشد نور سے تھی، جناب قاسم محمود بھی کچھ دنوں کے لیے روزنامہ نوائے وقت میں آگئے تھے، سہیل نے ہمیں محبوب جاوید صاحب سے ملوایا اور پھر نوائے وقت کے ادبی پیج میں ہمارا عمل دخل شروع ہوگیا اور ہمارے ذریعے سے خان صاحب بھی مختصر عرصے کے لیے نوائے وقت میں کرکٹ پر لکھنے لگے، نوائے وقت ہی میں ہم نے پاکستان میں پہلی بار محترم قاسم محمود صاحب کی فرمائش اور حوصلہ افزائی پر ڈیلی ایسٹرولوجیکل کالم شروع کیا جس کا عنوان ”آج کے امکانات“ تھا ۔

یہ سلسلہ تقریباً ایک سال جاری رہا، یہی وہ زمانہ ہے جب مشہور نثری نظم کی شاعرہ سارا شگفتہ کا داخلہ روزنامہ نوائے وقت میں ہوا اور میاں محبوب جاوید کا ”شوقِ کنٹروورسی“ عروج پر پہنچا، اس کے نتیجے میں سارا شگفتہ کی وہ آپ بیتی لکھی گئی جو اس کے مجموعہ ءکلام میں بعدازمرگ شامل کی گئی اور آج بھی لوگ اسے پڑھ کر سارا کی مظلومیت پر آنسو بہاتے ہیں، اس آپ بیتی کے اصل مصنف میاں محبوب جاوید تھے۔

کرکٹ اور خان

جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا تھا کہ خان صاحب ایک ہزار رنگ شخصیت کے حامل تھے تو کرکٹ بھی خان صاحب کا ایک رنگ تھا، انہوں نے خود تو کبھی کرکٹ نہیں کھیلی لیکن کرکٹ کے دیوانے تھے اور اس دیوانگی کے بھی عجیب رنگ تھے جن میں نمایاں ترین انڈیا دشمنی تھا، پاکستان کرکٹر میں وہ عمران خان اور جاوید میانداد کے مداح تھے،کرکٹ کا میچ شروع ہوتا تھا تو خان صاحب آفس بند کردیا کرتے تھے اور پانچ دن کے لیے اپنے گھر میں بند ہوجاتے، میچ ٹی وی پر دیکھتے اور کمنٹری ریڈیو سے سنتے، اگر ہم یہ کہیں کہ کرکٹ سے دلچسپی کی بیماری ہمیں خان صاحب ہی سے لگی تو غلط نہیں ہوگا، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب خان صاحب کو پہلے نوائے وقت میں اور پھر ویکلی محور میں کرکٹ پر لکھنا پڑا، اس سلسلے میں ان کے لکھنے کا اپنا ہی ایک مخصوص انداز تھا جس کا اظہار سب سے پہلے انہوں نے دلیپ کمار کی سرگزشت ”سرحد کا بیٹا“ میں کیا، داستان ڈائجسٹ میں یہ سلسلہ وار کہانی طویل عرصہ تک شائع ہوتی رہی اور کبھی ختم نہ ہوئی، ایسا ہی کچھ کرکٹ میں بھی ہوا، نوائے وقت میں جو کرکٹ کی سرگزشت شروع کی گئی وہ شاید کبھی ختم نہ ہوتی، اگر اسی دوران میں خان صاحب دوبارہ ڈائجسٹوں کی طرف نہ چلے جاتے، اسی طرح محور میں خان صاحب نے عمران خان کی سرگزشت ”پرنس آف پیس“ کے نام سے شروع کی مگر اس کے بعد محور بند ہوگیا، اس طرح یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔

نئی معرکہ آرائی

یہ تو طے ہوگیا تھا کہ اب ڈائجسٹ نکالنا خان صاحب کے لیے ممکن نہیں رہا ہے لہٰذا فیصلہ ہوا کہ فری لانس رائٹنگ کو ذریعہ ءمعاش بنایا جائے لیکن کہاں اور کیسے؟خان صاحب نے جب تک ڈائجسٹ نکالا، اپنے تمام معاصرین سے چشمک جاری رکھی اور اب وہی لوگ خان صاحب کے سامنے اپنا سرِ پُرغرور بلند کیے کھڑے تھے، سب رنگ کے شکیل عادل زادہ ان کے بڑے قدر دان تھے اور دونوں کے تعلقات بظاہر بہت اچھے تھے، بہ باطن کا ذکر رہنے دیں مگر سب رنگ کا اپنا حال یہ تھا کہ کوئی نہیں بتاسکتا تھا کہ سب رنگ کا آئندہ شمارہ کب آئے گا؟ دوسرے نمبر پر 80 ءکی دہائی میں سب سے بڑا اور مضبوط ادارہ جاسوی ڈائجسٹ پبلی کیشن تھا جس کے تینوں پرچے سسپنس، جاسوسی ڈائجسٹ اور ماہنامہ پاکیزہ کثیر الاشاعت تھے اور وقت کی پابندی سے شائع ہوتے تھے، تیسرا ادارہ محترم مشتاق احمد قریشی کا نئے اُفق پبلکی کیشن تھا جو نئے افق کے علاوہ ، نیا رُخ اور ماہنامہ آنچل شائع کر رہا تھا، اس زمانے میں جناب ایچ اقبال کا الف لیلیٰ تنزلی کا شکار تھا اور وہ ایک نیا پرچا غالباً ”نئی نسلیں“ ڈائجسٹ سائز کے خلاف ذرا بڑے سائز میں نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔

ایچ اقبال بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن سے خان صاحب کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے اور ہم نے کبھی ایچ اقبال کی زبان سے بھی خان صاحب کے خلاف کوئی بات نہیں سنی، اگر ہم یہ کہیں کہ ایچ اقبال (ہمایوں اقبال بلگرامی) ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں پرانے وقتوں کی شرافت و وضع داریوں کا نمونہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، یہ بات ہم اپنے ذاتی تجربے اور ان سے اپنے قریبی دیرینہ تعلق کی بنیاد پر بھی کہہ رہے ہیں۔

ایچ اقبال صاحب کے نئے پرچے کے لیے خان صاحب نے لکھا، کیا لکھا، یہ ہمیں اب یاد نہیں لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ ایک روز خان صاحب جب ہمارے پاس آئے تو بڑے خوش تھے ، کہنے لگے ”شیخ ! ایچ اقبال خاندانی آدمی ہے“(خان صاحب ہمیں اکثر ”شیخ“ کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ اکلٹ سائنس کے شعبے میں ہمارے معترف تھے۔

ہم نے پوچھا ”خیریت تو ہے خان صاحب؟“

انہوں نے بتایا کہ وہ جو نیا پرچا نکال رہے ہیں اس کے لیے میں نے ایک کہانی یا شاید تصوف کا مضمون لکھ کر دیا تھا ، آج جب ملاقات کے لیے گیا تو بہت تعریف کی اور کہا کہ خان صاحب آپ نے کمال کردیا اور پھر ایک چیک میرے حوالے کیا اور کہا ”خان صاحب! یہ آپ کی تحریر کا معاوضہ ہر گز نہیں ہے، بس میری طرف سے نذرانہ سمجھ کر قبول کرلیجیے، کاش میرے حالات زیادہ بہتر ہوتے تو میں اس سے بھی زیادہ جو ہوسکتا تھا وہ کرتا“

بلاشبہ خان صاحب کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی کیوں کہ وہ بھی ایسے ہی وضع دار اور شریف النفس انسان تھے، خان صاحب اس بات پر بھی خوش تھے کہ اس طرح ایک ذریعہ ءمعاش شروع ہوگیا ہے لیکن ایچ اقبال صاحب کا نیا پرچا خاصی تاخیر کا شکار ہوا اور جب وہ آیا تو اس وقت تک خان صاحب ایچ اقبال سے بہت دور جاچکے تھے۔

ڈایجسٹ الف لیلہ ابھی جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 : اعجاز احمد نوابا

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 4 تحریر : اعجاز احمد نواب بیسویں صدی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے