سر ورق / افسانہ / بہت دیر کی مہرباں آتے آتے… وسیم بن اشرف

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے… وسیم بن اشرف

لندن کی کہر سے نکلنے کے بعد پیرس کی نکھری نکھری دھوپ بہت ہی پیاری لگی تھی۔ شبانہ کا پیرس کا یہ پہلا سفر تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اگرچہ فرانسیسی زبان نہ آنے کی وجہ سے کچھ پریشان بھی تھی۔ یہاں انگریزی میں بات چیت کرنے والے شکل سے ملتے تھے اور جو یہ زبان جانتے بھی تھے وہ اس کے بولنے سے پرہیز کرت تھے۔ ہوٹل کے کا¶نٹر پر وہ لڑکی بڑی شستہ انگریزی بول رہی تھی۔ اس کے پگھلے تابنے جیسے بال کچھ کچھ جانے پہچانے لگتے تھے۔ سرخ ہونٹ، جو مسکراتے مسکراتے سکڑ کے چھوٹے سے خوب صورت دہانے میں بدل جاتے تھے، ان ہونٹوں کو میں پہلے بھی مسکراتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ یہ آواز پہلے بھی کانوں میں رس گھول چکی تھی۔
”آپ کا نام؟“ وہ شفاف نیلی آنکھوں سے مجھے اور شبانہ کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔ شبانہ نے اس کے سوال کا جواب دیا۔
کوئی چار سال پہلے کی بات ہے، میں جنیوا میں خزاں کے حسن سے متاثر ہو کر رات کو سٹیشن پہنچا۔ صبح کو مجھے مارسیلز پہنچ کر بمبئی کے لئے جہاز پکڑنا تھا۔ یورپ میں کئی سال گزارنے کے بعد یہ آخری رات ٹرین کے سفر میں کٹنی تھی۔ طبیعت بڑی جذباتی سی ہو رہی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ خوب باتیں کروں۔ سوئٹزرلینڈ میں ریلیں ٹھیک وقت پر چلتی ہیں۔ نو بجے ٹرین پلیٹ فارم پر داخل ہو چکی تھی۔ میں سوٹ کیس اٹھائے ڈبے کی گیلری سے ہوتا ایک کیبن پر رکا۔ ایک طرف ملٹری اوورکوٹ اوڑھے کوئی بے خبر سو رہا تھا اور دوسری طرف کھڑکی کے پاس ایک خوب صورت سی نازک اندام لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کے بال تانبے کی طرح دمک رہے تھے۔
”یہاں کوئی اور تو نہیں بیٹھا ہے؟“ میں نے دروازے کے پاس اپنا اوورکوٹ لٹکاتے ہوئے اس سے پوچھا۔
”میں انگریزی بالکل نہیں جانتی“ اس نے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ فرانسیسی میں جواب دیا۔
”اور مجھے فرنچ بالکل نہیں آتی“۔ انگریزی میں جواب دیتے ہوئے اس کے قریب بیٹھ گیا۔
ٹرین ایک ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ چل پڑی اور پھر تیز رفتاری سے جنیوا کے مضافات سے گزرنے لگی۔ کھڑکی سے باہر دوڑتی ہوئی ریل کے ساتھ ساتھ اندھیرا تھا اور اس خاموش اندھیرے میں سوئٹزرلینڈ کی سوئی ہوئی وادیاں، پہاڑیاں اور جھیلیں خواب کا سا منظر پیش کر رہی تھیں۔ میں دیر تک اس اندھیرے کو دیکھتا رہا۔ پھر مجھ خیال آیا کہ شاید یہ لڑکی یہی سمجھ رہی ہو کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ اس خیال کے آتے ہی میں نے واقعی اس کی طرف دیکھا۔ نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل تھیں، اس کے ریشمی بال رخساروں پر جھکے ہوئے تھے۔ اونگھتے اونگھتے اس نے اپنا سر میرے کاندھے سے ٹکا دیا، اور پھر ایک دم چونک کر اٹھ بیٹھی۔ میں نے اشارے سے کہا کہ وہ میرے کاندھے پر سر رکھ کر سو سکتی ہے۔ وہ مسکرائی۔ اس کے ہونٹوں کی سرخی پھر سکڑ کر ایک غنچے میں بدل گئی۔ دھیمی دھیمی سی مہک اس کے بالوں سے آتی رہی اور وہ مسکراتی ہوئی سوتی رہی۔ رات گہری ہوتی گئی۔ ریل کے پہیوں کی تال سے ہمارے جسموں کی حرکت ہم آہنگ ہو گئی۔ میں نے اپنا اوورکوٹ دروازے کے پاس سے اتار کر احتیاط سے اس پر ڈال دیا مجھے خیال آیا کہ سوتے وقت انسان بچوں سے کس قدر مشابہہ ہو جاتا ہے۔ کئی گھنٹے یوں ہی گزر گئے۔ ایک سٹیشن پر ٹرین رکی تو نیلی یونیفارم پہنے گارڈ ہمارے ڈبے میں آیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس لڑکی کو اگلے سٹیشن پر ایک دوسری گاڑی پکڑنی ہے اور لڑکی نے جگانے کی درخواست کی تھی۔ گارڈ کے جگانے سے پتہ چلا کہ اس کا نام لیزا تھا۔ ٹرین پھر چل پڑی۔ لیزا کی نیلی آنکھوں سے اب نیند غائب تھی مگر اب بھی وہ میرے کاندھے پر سر رکھے حالات کا جائزہ لے رہی تھی۔ میرے دبیز اوورکوٹ سے خود کو ڈھکا پا کر وہ مسکرائی۔ غنچہ کھلنے لگا۔ لیزا نے مجھ سے کچھ کہا۔ میں خاموش رہا۔ کیا کہتا۔ وہ کافی دیر تک آہستہ آہستہ فرانسیسی میں مجھ سے باتیں کرتی رہی۔ پھر اس کا سٹیشن آ گیا۔ میں نے ٹرین سے سوٹ کیس اتارنے میں اس کی مدد کی، پلیٹ فارم پر اترنے سے پہلے لیزا نے الوداعی انداز میں ہاتھ ملایا اور پھر کچھ سوچ کر میرے رخسار پر آہستہ سے پیار کیا۔ ٹرین چلنے تک لیزا پلیٹ فارم پر کھڑی رہی۔
رات کی ٹھنڈی ہوا میں اس کے بال بکھر رہے تھے۔ ریل چلی تو ہم دونوں نے ہاتھ ہلا کر ایک دوسرے کو رخصت کیا۔ میں جب اپنے کیبن میں واپس آیا تو میرا اوورکوٹ وہیں رکھا تھا۔ جہاں کچھ دیر پہلے وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ ایک دم تنہائی کا احساس ہوا لیزا ہم سفر تھی، مگر ہم زبان نہ تھی۔ پھر بھی ایک طرح کا ساتھ تھا۔ صبح کو جب مارسیلز پر میں اوورکوٹ پہن رہا تھا تو ایک دھیمی دھیمی سی مہلک آئی۔ چند سنہرے بال کوٹ پر لگے ہوئے تھے۔ ہندوستان لوٹتے ہوئے جہاز پر کئی بار مجھے لیزا کا خیال آیا، اس رات کا خیال آیا جب وہ میرے شانے سے سر ٹکائے سو رہی تھی، اس کی آواز یاد آئی اور اس کے فرانسیسی لب و لہجہ کی مٹھاس۔ کون جانے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی۔ زندگی کی گہماگہمی میں، میں پھر اس واقعہ کو بھول سا گیا۔ بعض باتیں، بعض اوقات، بعض لوگ ہر وقت یاد نہیں رہتے مگر جب وہ یاد آتے ہیں تو ان میں بڑی لذت آمیز شدت ہوتی ہے۔ اب اتنے برسوں بعد یہاں پیرس کے اس ہوٹل میں مجھے اچانک جنیوا سے مارسیلز تک کا ریل کا سفر پوری تفصیل سے یاد آگیا۔
شبانہ میری بیوی، لیزا کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی اور میں کئی سال پہلے گزری ہوئی ایک رات کو یاد کر رہا تھا جو ٹرین سے باہر دوڑتی ہوئی پیچھے کی طرف جا رہی تھی، ان ریشمی بالوں کی مہک کو یاد کر رہا تھا جو میرے کاندھے پر بکھرے تھے، ان سرخ ہونٹوں کے لمس کو اپنے رخسار پر محسوس کر رہا تھا جو مجھ سے الوداع ہو رہے تھے۔
میں اور شبانہ خوب پیرس گھومتے تھے۔ لیزا روز صبح ہمارا ایک مخصوص مسکراٹ سے استقبال کرتی تھی۔ ہر شام ہم سے سیاحت کی باتیں سنتی تھی۔ ہم روز ہوٹل سے باہر جانے سے پہلے اس سے مشورہ کرتے کہ کہاں کہاں جانا چاہیے۔ ہم بڑی سی کشتی میں سارے دریا کی سیر کرتے، پھولوں سے لدے ہوئے درختوں کو سین کے پانی پر جھکا ہوا دیکھتے، آئفل ٹاور کی بلندی سے پیرس کی خوبصورتی کا جائزہ لیتے۔ جس صبح ہمیں لندن جانا تھا، لیزا مجھے کا¶نٹر پر نظر نہیں آئی۔ ہم نے اپنا سامان باندھ لیا۔ ہم ڈائننگ ہال میں اپنی مخصوص میز پر بیٹھے ناشتہ ختم کر رہے تھے کہ شبانہ کو خیال آیا کہ و اپنا پرس کمرے میں بھول آئی ہے۔ وہ لفٹ کی طرف بڑھ رہی تھی کہ مجھ لیزا قریب سے گزرتی نظر آئی۔ اس نے بہت خوبصورت ہلکے نیلے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ بالکل اس کی آنکھوں جیسا شفاف رنگ، اس کے بال بڑے اہتمام سے سنورے ہوئے تھے۔
”لیزا“ میں نے آہستہ سے آواز دے کر اسے بلایا۔
”آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہو گیا؟ میں نے تو کبھی نہیں بتایا۔ اس ن حیران ہو کر پوچھا اور قریب آ گئی۔
”اس رات جب گارڈ نے تمہیں جگایا تھا تب مجھے تمہارے نام کا پتہ چل گیا تھا“
”آپ نے اتنے برس تک وہ سفر یاد رکھا! میں تو صرف اپنے آپ کو جذباتی سمجھتی تھی“
”اس رات میں بھی بہت جذباتی تھا۔ یورپ میں میری وہ آخری رات تھی۔ آ¶ تم ہمارے ساتھ بیٹھ کر کافی پیو۔ اب تھوڑی دیر میں ہم لوگ واپس جانے والے ہیں“۔
”مجھے معلوم ہے“ وہ میرے سامنے بیٹھ گئی۔ اس رات اگر ہم ایک دوسرے کی زبان سمجھ سکتے تو شاید آپ یورپ میں اور ٹھہر جاتے۔ وہ رات آخری رات نہ ہوتی۔ لیزا کی آنکھیں کچھ عجب انداز سے نرم سی ہو گئی تھیں جیسے وہ کوئی سہانا خواب بیان کررہی ہو۔
”یہ میں نے بھی اکثر سوچا ہے۔ اچھا یہ تو بتا¶ کہ اس رات اپنے سٹیشن پر اترنے سے پہلے تم کیا کہہ رہی تھیں“
”مجھے آپ بہت اچھے لگے تھے۔ کتنے گھنٹے میں آپ کے کاندھے پر سر رکھے سوتی رہی یا سوئی بنی رہی۔ ہم دونوں تقریباً اکیلے تھے۔ رات تھی، مگر آپ نے میری تنہائی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی۔ بڑے پیار اور شفقت سے اپنا اوورکوٹ مجھے اڑھا دیا۔ آپ چاہتے تو نیند کے بہانے ہی قریب آ جاتے۔ یہ بات مجھے بہت پیاری لگی تھی۔ میں نے کتنے سارے لوگوں کو یہ واقعہ سنایا۔ ہزاروں مرتبہ اس اندھیری رات کو یاد کیا جب جنیوا کے اسٹیشن پر آپ کیبن میں آ کر میرے قریب بیٹھے تھے۔ مجھے بہت افسوس رہا کہ ہم ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے۔ صرف اسی لئے میں نے انگریزی سیکھی ہے کہ پھر کبھی آپ سے ملاقات ہو گی تو دل کھول کر باتیں کروں گی“ لیزا اپنی ایک بکھری ہوئی لٹ کو سنوارنے کے لئے رکی‘ ”اس سفر کے وقت بھی کیا آپ شادی شدہ تھے؟“
”نہیں لیزا۔ جب تو میں شبانہ کو جانتا بھی نہ تھا۔ ہماری شادی کو تو ابھی ایک سال ہوا ہے“
”میں اس رات آپ سے فرانس میں رک جانے کے لئے کہہ رہی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ آپ میرے ماں باپ سے ملیں۔ میں پیرس آپ کو اس طرح گھماتی کہ آپ کو اس شہر سے عشق ہو جاتا۔ وہ بے باکی سے میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔
”اگر کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو پھر اس کے شہر کے گلی کوچوں سے بھی عشق ہوجاتا ہے مگر لیزا ہمیں پیرس میں رہتے ہوئے اتنے دن ہو گئے ہیں، تم چاہتیں تو اپنے ماں باپ سے ملا سکتی تھیں، پیرس دکھا سکتی تھیں“ میں نے شبانہ کو لفٹ سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ اسے اپنا پرس مل گیا تھا۔
”اب تو بہت دیر ہو چکی ہے“ وہ شبانہ کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔ ان نیلگوں آنکھوں میں جیسے رشک کی چمک تھی۔
”چلیئے، اب دیر ہو رہی ہے“ شبانہ ہمارے قریب آ کر بولی۔ اس کو ہوائی جہاز اور ریل چھٹنے کا ہمیشہ خدشہ لگا رہتا تھا۔ میں ناشتہ کا بل ادا کرنے کے لئے بیرے کو بلاتا ہوں۔
”رہنے دیجئے“ لیزا مجھ سے خلوص کے ساتھ کہنے لگی۔ ”یہ بل میں ادا کروں گی۔ آپ پیرس پھر ضرور آئیے گا“ وہ بظاہر ہم دونوں سے مخاطب تھی مگر اس کی آنکھیں میرے کاندھے پر رکی ہوئی تھیں جیسے وہاں ایک سوئی ہوئی حسین سی لڑکی کا سر دیکھ رہی ہو جس کے بال تانبے کی طرح دمکتے ہوں۔
”آپ کی دعوت کا شکریہ“ شبانہ لیزا کی مہمان نوازی سے متاثر تھی۔ ”آپ فرانسیسی لوگ اجنبیوں سے بھی کس قدر اچھی طرح پیش آتے ہیں“
”ہم ضرور آئیں گے“ میں نے میز سے اٹھتے ہوئے کہا۔ ”شرط یہ ہے کہ تم اپنے ماں باپ سے ہمیں ملا¶۔ ہمیں اپنے ساتھ پیرس دکھا¶“
لیزا خاموش رہی، سوچ میں ڈوبی ہوئی اس کی آنکھیں اس کے لباس سے کہیں زیادہ گہری لگ رہی تھیں۔
ہمارا سامان ٹیکسی میں رکھا جا چکا تھا۔ میں نے شبانہ کیلئے ٹیکسی کا دروازہ کھولا۔ اتنے میں لیزا ہوٹل کی سیڑھیاں اتر کر ہمارے نزدیک آ چکی تھی۔
”مجھے آپ کی شرطیں منظور ہیں۔ اب کی بار آپ پیرس آئیں گے تو یہ سارا شہر میں آپ کو خود دکھا¶ں گی، اپنے ماں باپ سے ملا¶ں گی“
سرخ موٹی کلیوں جیسی مسکراہٹ اس کے چہر پر پھر پھیلنے لگی تھی۔ ہم ہاتھ ملا کر رخصت ہو گئے۔ شبانہ ٹیکسی روانہ ہوتے ہی پوچھنے لگی کہ ذرا سی بات سوچنے میں اس لڑکی نے اتنی دیر کیوں لگائی؟
میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے