سر ورق / ناول / درندہ۔ خورشید پیرزادہ

درندہ۔ خورشید پیرزادہ

قسط نمبر2

صبح کے سات بجے ہوٹل گرین اسٹار کے روم نمبر 305 کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے- اور دستک کے جواب میں دروازہ کھلنے پر ایک خوبصورت لڑکی مسکراتی ہوئی اندر آجاتی ہے-

”گڈ مارننگ سر-“

”گڈ مارننگ- آﺅ آﺅ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا- میرا نام راجہ نواز ہے- اور تمہارا کیا نام ہے؟-“ راجہ نواز نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا-

”جی میرا نام مسکان ہے-“

”بہت خوبصورت نام ہے- بالکل تمہارے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی اس مسکان کی طرح-کچھ چائے کافی لوگی-“

نو تھینکس سر- میں گھر سے پی کر چلی ہوں-“

”کیا پی کر آئی ہو-“ راجہ نواز نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا-

”جی- چائے پی کر آئی ہوں- “ مسکان نے وضاحت کی-

”مجھے تو یقین ہی نہیں تھا کہ گنجا پہلوان اتنی صبح صبح کسی کو بھیج دے گا- دراصل میرے پاس وقت کم ہے- مجھے تھوڑی دیر کے بعد مجھے ایک کام سے نکلنا ہے-“

”شکریہ سر-“

”کس بات کے لئے؟-“

”میری تعریف کرنے کے لئے-“ مسکان مسکرا کر بولی-

راجہ نواز نے مسکان کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور اپنے بیگ سے پچاس ہزار روپے نکال کر مسکان کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولا- ” یہ لو تمہاری فیس-“

مسکان نے چپ چاپ پیسے لے کر اپنے پرس میں رکھ لئے-

”تم کالج گرل ہو نا- میں نے گنجے پہلوان سے کہا تھا کہ کسی کالج گرل کو ہی بھیجے-“

”جی سر میں کالج گرل ہوں-“

”کیا کرتی ہو کالج میں؟-“

”کیا مطلب ہے سر؟-“ مسکان حیرت سے بولی- ”پڑھتی ہوں-“

”اوہ- میرا مطلب تھا بی اے کر رہی ہو – بی کام یا کچھ اور-“

”میں بی اے فائنل میں ہوں سر-“

”اس لائن میں کب سے ہو؟-“ راجہ نواز نے ایک اور سوال داغا-

”یہ میرا پہلا اسائنمنٹ ہے سر-“ مسکان نظریں جھکا کر بولی-

”مجھے جو بھی ملتی ہے- یہی کہتی ہے کہ میرا پہلا ہے-“ راجہ نواز نے طنز کرتے ہوئے کہا-

”سر میں دوسروں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتی- لیکن یہ واقعی میں پہلا تجربہ ہے-“

”تو کیا ورجن ہو تم؟-“

”نہیں- میرا ایک بوائے فرینڈ ہے-“

”ہوں— اس لائن میں مجبوری سے آئی ہو یا شوق سے؟-“

”میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتی سر-“ کہتے کہتے مسکان کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں- مگر جلد ہی اس نے خود کو سنبھال لیا- آج واقعی میں پہلی بار وہ ایسا کام کرنے نکلی تھی-

”اوکے ٹھیک ہے- اب وقت ضائع مت کرو-“

”اوکے سر-“ مسکان تابعداری سے بولی-

٭٭٭٭٭٭٭

”سر ہم نے پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی ہے- وہ جلد ہی پکڑی جائے گی-“ سب انسپیکٹر وحید ملک بو ل رہا تھا-

”مجھے پل پل کی رپورٹ دیتے رہنا- بہت پریشر ہے اوپر سے اس کیس میں-“ انسپیکٹر راحت چوہان بولا- سیریل کلر کا کیس اسی کے پاس تھا-

”آپ فکر نہ کریں سر- کیس تو حل ہو ہی چکا ہے- وہ بھی پکڑی ہی جائے گی-“

”عینی شاہد کے گھر پر کتنی پروٹیکشن بھیجی ہے-“

”سر دو حوالدار بھیجے ہیں-“

”ہوں—- اس نقاب پوش کا کچھ پتہ چلا کہ وہ کون ہے؟-“ انسپیکٹر راحت چوہان نے استفسار کیا-

”نہیں سر- ابھی کچھ پتہ نہیں چلا ہے- مگر ہم جلد ہی اس کا بھی پتہ لگا لیں گے-“

ِِ”ٹھیک ہے- میری جیپ لگواﺅ- میں ایک راﺅنڈ لگا کر آتا ہوں-“

”اوکے سر – ابھی لگواتا ہوں-“یہ کہہ کر وحید ملک جیسے ہی باہر جانے کے لئے پلٹا اس کا موبائل بجنے لگا-وحید نے فون آن کیا اور دوسری طرف سے بات سننے کے بعد انسپیکٹر چوہان سے بولا- ”سر ایمرجنسی 15 پر ابھی ابھی کسی نے فون کرکے بتایا ہے کہ ہوٹل گرین اسٹار کے روم نمبر 305 میں چھپی ہوئی ہے وہ حسین قاتلہ وردا شمی-“

”اوہ—- میں خود چلتا ہوں وہاں- چلو جیب نکالو-“ انسپیکٹر چوہان نے اٹھتے ہوئے کہا-

”اوکے سر-“ یہ کہتے ہوئے سب انسپیکٹر وحید ملک کمرے سے باہر نکل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

پندرہ منٹ بعد ہوٹل گرین اسٹار کے باہر پولیس کی جیب آکر رک رہی تھی- جیپ رکتے ہی انسپیکٹر چوہان‘ سب انسپیکٹر ملک کے ساتھ ہوٹل کے اندر داخل ہوا – اور استقبالیہ پر پہنچتے ہی پوچھا- ”روم نمبر 305 کس طرف ہے-“

”کیا بات ہے سر؟-“ استقبالہ نے گھبراتے ہوئے پوچھا-

”میں یہاں تمہارے سوالوں کا جواب دینے کے لئے نہیں آیا- روم دکھاﺅ-“ ایک تو انسپیکٹر راحت چوہان کے چہرے پر ویسے ہی پھٹکار تھی اوپر سے وردی اور کڑک آواز کا رعب- ریسپشنسٹ بیچارے کی تو حالت خراب ہونے لگی-

”آئیں سر میں خود آپ کو روم تک لے چلتا ہوں-“

”چل جلدی-“ چوہان نے کہا-

کچھ ہی دیر بعد انسپیکٹر چوہان سب انسپیکٹر ملک کے ساتھ روم نمبر 305 کے باہر کھڑا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

اندر کمرے میں لیپ ٹاپ پر فحش فلم چل رہی تھی- اور راجہ نواز بیچاری مسکان کے تاثرات دیکھ دیکھ کر مزے لے رہا تھا-

”کچھ سیکھا تم نے اس فلم سے-“

”جی سر-“

”گڈ- جتنا جلدی تم یہ سب سیکھ جاﺅ گی- اتنی ہی جلدی ترقی کرو گی-“

”میں آپ کا یہ مشورہ یاد رکھوں گی سر-“

”اسی میں تمہاری کامیابی ہے-“

اسی وقت دروازے پر دستک سنائی دی-

”کون آگیا اس وقت رنگ میں بھنگ ڈالنے- میں نے منع بھی کیا تھا کہ ڈسٹرب مت کرنا-“ راجہ نواز بڑبڑایا-

”کوئی گڑبڑ تو نہیں ہے نا سر-“ مسکان نے ڈرتے ہوئے پوچھا-

”فکر مت کرو- یہ ہوٹل بالکل محفوظ ہے- ضرور کوئی بے وقوف ویٹر ہوگا- تم مووی پر دھیان دو- میں دیکھتا ہوں کون ہے-“ راجہ نواز اٹھتے ہوئے بولا-

راجہ نوازنے جیسے ہی دروازہ کھولا‘ باہر پولیس کو دیکھ کر اس کے پسینے چھوٹنے لگے-

”کیا ہوا جناب- چہرے کا رنگ کیوں اڑ گیا ہمیں دیکھ کر-“ انسپیکٹر چوہان نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا-

”بات کیا ہے سر؟-“

”تمہارے ساتھ اور کون کون ہے؟-“ چوہان نے پوچھا-

”میری منگیتر ہے میرے ساتھ-“ راجہ نواز نے بات بنائی-

”کیا نام ہے اس کا؟-“ سب انسپیکٹر نے بھی تفتیش میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے پوچھ لیا-

”جی- مسکان-“

”ہوں—- مسکان— ٹھیک ہے مجھے تمہارا روم چیک کرنا ہے-“ چوہان نے روم کے اندر قدم رکھتے ہوئے کہا-

”لیکن انسپیکٹر صاحب بتایئے تو سہی کہ بات کیا ہے؟-“

”تھوڑی دیر میں سب پتہ چل جائے گا- فی الحال اپنی چونچ بند رکھو-“ چوہان نے اس پر مزید رعب ڈالتے ہوئے کہا-

جب چوہان کمرے میں آیا تب تک مسکان اپنے چہرے پر دوپٹہ لپیٹ چکی تھی-

”اے لڑکی- چہرہ دکھا ﺅ اپنا-“

”کیا بات ہے سر-“ مسکان نے دھیمی آواز میں پوچھا-

”سنا نہیں انسپیکٹر صاحب نے کیا کہا- چلو مکھڑا دکھاﺅ اپنا-“ وحید ملک کو بھی تو کچھ کہنا ہی تھا-

مسکان نے چہرے سے دوپٹہ ہٹا لیا-

”ارے سحرش آپ یہاں- آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟-“

”جی میں اپنے منگیتر سے ملنے آئی تھی-“

انسپیکٹر کا ماتھا ٹھنکا- اس نے لیپ ٹاپ میں جھانک کر دیکھا- اس میں ابھی بھی فحش فلم چل رہی تھی-

”تم ایک منٹ کے لئے میرے ساتھ باہر آﺅ-“ چوہان نے راجہ نواز سے کہا

”مگر آپ نے بتایا نہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے- انسپیکٹر صاحب-“ راجہ نواز نے پوچھا-

کمرے سے باہر آکر چوہان بولا- ”سچ سچ بتاﺅ تمہارا کیا رشتہ ہے اس لڑکی کے ساتھ-“

”سر میں نے بتایا نا کہ وہ میری منگیتر ہے-“

”اچھا—- اور کیا کرتی ہے تمہاری یہ منگیتر؟-“ چوہان نے ایک اور چبھتا ہوا سوال کیا-

”وہ بی اے فائنل میں ہے-“ راجہ نواز نے مسکان سے حاصل کی معلومات چوہان کے آگے اگل دیں-

”کون سے کالج میں؟-“

چوہان کے اس سوال نے راجہ نواز کو بوکھلا دیا- ”بھول گیا سر- پتہ نہیں-“

”اچھا — چلو یہ بتا دو کہ کہاں رہتی ہے تمہاری یہ منگیتر- اس کا ایڈریس تو یاد ہوگا نا تمہیں-“ چوہان کے لہجے میں طنز بھرا ہوا تھا-

”مگر آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں- کیا اپنی منگیتر کے ساتھ کہیں ملنا جرم ہے-“

اس کی بات کا جواب چوہان نے راجہ نواز کے چہرے پر ایک کرارا تھپیڑ رسید کرتے ہوئے دیا-تھپڑاتنی زور کا تھا کہ راجہ نواز کے کان سائیں سائیں کرنے لگے-

”اب سچ سچ بتاتے ہو یا دوں ایک اور کان کے نیچے-“ چوہان نے دوبارہ ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا-

”بتاتا ہوں- بتاتا ہوں سر- وہ —- وہ — – کال گرل ہے-“ ایک ہی تھپڑ نے راجہ نواز کے اوسان خطا کر دیئے تھے-

”کیا کہا-“ چوہان چونک پڑا- شاید اسے اس سچ کی امید نہیں تھی- وہ تو سوچ رہا تھا کہ شاید ان کا کوئی خفیہ چکر چل رہا ہے-

”سچ کہہ رہا ہوں سر- وہ لڑکی کال گرل ہے-“

”تم کہاں سے آئے ہو؟-“

”سر میں پنڈی سے آیا ہوں-“

”کب آئے تھے یہاں- اس شہر میں-“ انسپیکٹر چوہان کا تفتیش کرنے کا اپنا الگ ہی انداز تھا-

”میں رات کی فلائٹ سے آیا ہوں سر-“

”ملک صاحب-“ چوہان نے وحید ملک کو آواز دی کمرے میں موجود تھا-

”جی سر-“ ملک فوراً الٰہ دین کے جن کی طرح حاضر ہوتے ہوئے بولا-

”یہ لڑکی تو وہ نہیں ہے جس کی ہمیں تلاش تھی- کمرہ اچھی طرح سے چیک کر لیا نا تم نے- کوئی اور تو نہیں ہے نا اندر-“ چوہان نے پوچھا-

”جی سر میں نے کمرہ اچھی طرح چیک کر لیا ہے- اس لڑکی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے- اور ہاں سر چیکنگ کرتے ہوئے بیڈ کے تکیئے کے نیچے سے یہ ملا ہے -“ ملک نے ایک بڑا سا چاقو چوہان کے آگے کرتے ہوئے کہا-

”اتنے بڑے چاقو کو تکیئے کے نیچے رکھ کر کیا کر رہے تھے تم؟-“ چوہان نے راجہ نواز کو گھورتے ہوئے کہا-

”جی- وہ— میں— میں-“ راجہ نواز ہکلا کر رہ گیا-

”کیا میں میں لگا رکھی ہے بکرے کی اولاد-کیا مطلب ہے ایسا چاقو رکھنے کا-“

”سر میرا نصیب بہت خراب چل رہا ہے- ایک بابا نے بتایا کہ گردش اور بندش ہے- اسے دور کرنے کے لئے انہوں نے اس چاقو پر کوئی عمل پڑھ کر دیا تھا کہ میں اسے اپنے تکیئے کے نیچے رکھا کروں-“

”چھوٹے موٹے چاقو سے کام نہیں چل سکتا تھا کیا جو اتنا بڑا رکھنے کی ضرورت پیش آگئی-“ چوہان ابھی بھی مطمئن نہیں تھا-

”سر – بابا نے یہی دیا تھا- میں نے ان کا حکم سمجھ کر رکھ لیا-“

”ہوں— ملک جی ذرا ایک منٹ کے لئے ادھر تو آئیں-“ چوہان نے ملک کو آواز دی-

”جی سر-“ ملک بولا-

چوہان نے ملک کا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف لے جا کر بولا-” تم اسے تھانے لے جاﺅ اور ڈرا دھمکا کر چھوڑ دینا- اور ہاں- ایک پیٹی سے کم مت لینا- زیادہ تین پانچ کرے تو ڈرائنگ روم کی سیر کرا دینا سالے کو-“ چوہان نے ملک کو ہدایت دیتے ہوئے کہا-

”سر ایک بات کہوں- اگر برا نہ مانیں تو-“ ملک بولا-

ِ”ہاں ہاں کہو-“

”جس کالج گرل کا قتل ہوا تھا- اسی کی سہیلی ہے نا یہ لڑکی-“

”ہاں- تم نے ٹھیک پہچانا- یہ وہی ہے- تم اسے لے کر جاﺅ- میں ابھی یہیں رکوں گا-“ چوہان نے کہا-

”جی سر- سمجھ گیا- خوبصورت لڑکی ہے—- سر تھوڑا ہمارا بھی خیال کر لینا-“ ملک نے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا-

”پہلے مجھے تو سواری کرنے دو کہ گھوڑی کیسی ہے-“ چوہان ہنستے ہوئے بولا-

”اوکے سر- ٹھیک ہے سر- میں اس لفنگے کو لے کر تھانے جا رہا ہوں-“ ملک نے بھی ہنستے ہوئے کہا-

”اور ہاں- اس قاتلہ وردا کا کچھ بھی پتہ چلے تو مجھے فوراً فون کر دینا-“ چوہان نے اسے مزید ہدایت دی-

سب انسپیکٹر وحید ملک کو راجہ نواز کے ساتھ بھیج کر راحت چوہان واپس کمرے میں آیا اور کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر لیا-

”ہاں تو مس سحرش صاحبہ- تو کیا اب آپ سچ سچ بتائیں گی کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں-“ چوہان نے اپنی آواز میں مزید رعب شامل کرتے ہوئے کہا-

”سر میں نے بتایا نا کہ میں اپنے منگیتر سے ملنے آئی ہوں-“ سحرش یا مسکان نے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے کہا-

”مگر وہ تو آپ کا نام مسکان بتا رہا تھا-“

”مسکان— نہیں نہیں آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے- میرا نام تو سحرش ہے- یہ بات آپ بھی جانتے ہیں-“

”ہاں- ہوسکتا ہے کہ مجھے— یعنی انسپیکٹر راحت چوہان کو غلط فہمی ہوگئی ہو-“

”جی بالکل- آپ سے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہوگی-“

”مگر وہ تو یہ بھی کہہ رہا تھا کہ تم ایک کال گرل ہو-“ چوہان نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا-

”کیا؟-“ اب سحرش کے چہرے کا رنگ اڑنے لگا تھا-

”ہاں- اور تمہارے اس منگیتر نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نے تمہیں وقت گزارنے کے لئے پچاس ہزار روپے بھی دیئے ہیں-“

”یہ— یہ سب جھوٹ ہے-“

”پرس دکھاﺅ اپنا-“چوہان اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا-

”سر پلیز میرا یقین کیجئے- آپ تو جانتے ہیں نا کہ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں-“

”جانتا ہوں تب ہی تو اتنی نرمی سے پیش آرہا ہوں- ورنہ اب تک وہ ہو جاتا یہاں جو تم سوچ بھی نہیں سکتی تھیں- دکھاﺅ اپنا پرس-“ چوہان دوٹوک لہجے میں بولا-

”سر پلیز— ایسا کچھ نہیں ہے – جیسا آپ سوچ رہے ہیں-“

اس کی آناکانی دیکھ کر چوہان نے اس کے ہاتھ سے پرس چھین لیااور اسے کھول کر پچاس ہزار روپے کی گڈی باہر نکالتے ہوئے بولا- ”یہ کیا ہے؟—- تمہارے اس حسین بدن کا ایک دن کا کرایہ؟-“

”سر مجھے چھوڑ دیجئے – میں اپنی غلطی مانتی ہوں-“ سحرش روہانسی ہوگئی تھی-

”مجھ سے جھوٹ بھول کر کوئی بچ نہیں سکتا- تم کب سے اس دھندے میں ہو-“

”یہ میرا پہلا اسائنمنٹ ہے سر- ابھی بس کچھ دن پہلے ہی جوائن کیا ہے-“ سحرش کی نظریں زمین میں گڑھی جا رہی تھیں-

ِ”کس دلّے کا گرو پ جوائن کیا ہے تم نے؟-“

”گنجے پہلوان کے گروپ کو-“

”اچھا – گنجا پہلوان—- تو اس کمینے نے نئی چڑیا بھرتی کرلی اور ہمیں بتایا بھی نہیں-“

”سر— سر— میں یہ سب چھوڑ دوں گی- پلیز مجھے جانے دیں-“ سحرش نے گڑگڑاتے ہوئے کہا-

”دیکھو- ہماری رجسٹریشن فیس تو تمہیں دینی ہی پڑے گی-“ چوہان آنکھیں مٹکاتا ہوا بولا-

”میں سمجھی نہیں سر-“

”دیکھو اس شہر میں جو بھی جرم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے- اسے ہماری رجسٹریشن فیس دینی ہوتی ہے-“

”تو ٹھیک ہے- آپ یہ پچاس ہزار روپے رکھ لیں-“ سحرش نے اپنی جان چھڑانے کی غرض سے کہا-

”ہر جگہ پیسہ نہیں چلتا- مس سحرش صاحبہ-“

”پھر اور کیا چاہئے آپ کو-“ سحرش کچھ کچھ سمجھ رہی تھی اور کچھ کچھ اس کی سمجھ سے باہر تھا-

”کیسی ناسمجھی کی بات کر رہی ہو تم- قدرت نے اتنا حسین چہرہ اور اتنا شاندار بدن دیا ہے تم کو- یہ کب کام آئے گا-“ چوہان اس کے سراپے پر نظریں دوڑاتا ہوا بولا-

”سر میں اس کام سے آج بلکہ ابھی سے توبہ کرتی ہوں- ویسے بھی میں اپنی خوشی سے اس لائن میں نہیں آئی تھی-“

”وہ سب میں نہیں جانتا-تم نے ابھی قدم تو رکھا ہی ہے نا اس لائن میں تو فیس تو ڈیو ہو ہی گئی ہے- اگر فیس نہیں دینا چاہتیں تو جیل جا کر چکی پیسنے کی تیار شروع کر دو- چوائس تمہاری ہے- میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا-“

”کیا کرنا ہوگا مجھے؟-“ سحرش نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا-

”ارے کرنا کیا ہوگا— وہی جو تم اس نالائق راجہ کے ساتھ کرنے والی تھیں – وہی بس اور کیا-“

”ٹھیک ہے سر- اس کے بعد تو آپ مجھے چھوڑ دیں گے نا-“ سحرش نے امید بھرے لہجے میں کہا- بیچاری نے آج ہی اس کام میں قدم رکھا تھا اور آج سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے تھے-

”ہاں ہاں- اگر تم آج کے بعد اس لائن میں نہیں رہنا چاہوں گی تو کوئی تمہیں تنگ نہیں کرے گا— ویسے تو میں یہاں وردا کی تلاش میں آیا تھا- مجھے کیا پتہ تھا ایک اور ہیرا مل جائے گا-“

”کون وردا ؟-“ سحرش نے حیرت سے پوچھا-

”وہی – جس نے تمہاری سہیلی کو مارا تھا-“

”کیا؟— تو کیا وہ سیریل کلر ایک لڑکی ہے؟-“ چوہان کی بات سن کر سحرش کو حیرت ہو رہی تھی-

”ہاں— ویسے تم نے تفتیش میں زیادہ مدد نہیں کی تھی ہماری-“

”سر- مجھے جتنا پتہ تھا— میں نے بتا دیا تھا-“

ِِ”تم نے تو میرے منہ پر جانو دروازہ بھیڑ دیا تھا یہ کہہ کر مجھے پریشان مت کرو میں کچھ اور نہیں جانتی-“ چوہان نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا-

”سر اس وقت بار بار مجھ سے سوالات کئے جا رہے تھے- میں پریشان ہوچکی تھی-“ سحرش نے اپنی صفائی پیش کی-

”تم نے تو کسی آدمی کا ذکر کیا تھا- جبکہ یہ قاتل تو ایک لڑکی نکلی-“

”جب میں اور رضیہ ہال سے پروگرام دیکھ کر نکلیں تو ایک آدمی مسلسل ہمارا پیچھا کر رہا تھا- میں نے اس کی شکل دیکھی تھی- اگلے دن ر ©ضیہ کا خون ہوگیا- بس میں اتنا ہی جانتی تھی اور یہ سب میں نے پولیس کو بتا دیا تھا- اس سے زیادہ اور کیا بتاتی میں-“ سحرش نے دوبارہ اپنا بیان دوہراتے ہوئے کہا-

”ہو سکتا ہے وہی آدمی اس لڑکی کا مددگار نقاب پوش ہو- کیا تمہیں ابھی بھی اس کا چہرہ یاد ہے- “

”اب تو یادداشت میں ا س کا چہرہ کسی قدر دھندلا پڑ چکا ہے- ویسے بھی شام کا وقت تھا- وہ آدمی سامنے آجائے تو شاید پہچان لوں- ویسے یہ نقاب پوش کون ہے؟-“ سحرش نے جواب کے ساتھ ایک سوال بھی جڑ دیا-

”خبریں نہیں دیکھتی ہو کیا-“اسی وقت چوہان کا موبائل بجنے لگا- ”ایک منٹ- کسی کا فون ہے-“ چوہان نے پینٹ کی جیب سے فون نکالا”ارے پرویز بھائی- کہاں ہو یار تم- کل کئی بار تم کو فون کیا لیکن تم اٹھاتے ہی نہیں ہو-“

پرویز انسپیکٹر چوہان کا کلاس فیلو رہ چکا تھا –

”یار فون زیادہ تر دراز میں پڑا رہتا ہے- سنائی نہیں دیا ہوگا-“ دوسری جانب سے پرویز نے جواب دیا-

”ابے سالے مس کال تو دیکھی ہوگی نا میری- پھر بھی فون نہیں کیا تم نے-“

”سوری یار-“

”اور تم تو گھر پر بھی نہیں تھے – میں رات دو بجے نکلا تھا تیرے گھر کے آگے سے- اتنی رات کو کہاں تھے تم- کسی معشوقہ کے ساتھ تھے کیا-“

”ارے یار رات کو زیادہ پی لی تھی- ایک دوست کے گھر پر ہی پڑا رہا- ابھی گھر آیا ہوںاور تمہاری مس کال دیکھ کر ہی کال بیک کیا ہے-“ پرویز نے وضاحت دیتے ہوئے کہا-

”ابے تجھے ڈر نہیں لگتا کیا- شہر میں سیریل کلر گھوم رہا ہے-“

”تمہارے جیسے انسپیکٹر کے ہوتے ہوئے مجھے کس بات کا ڈر یار-“

”وہ تو ٹھیک ہے- ایک بات سن – تیرے لئے ایک بہت شاندار تحفہ ہے میرے پاس-“

”کیا بات کر رہے ہو یار- کیسا تحفہ؟-“

”تم ایسا کرو اپنے فارم ہاﺅس پر پہنچو- ساتھ میں مستی کئے بہت دن ہوگئے ہیں- آج خوب مزے کریں گے-“ چوہان نے لوفرانہ انداز میں کہا-

”اچھا سمجھ گیا- تو یہ تحفہ ہے- یعنی کالج کے دنوں کی یاد تازہ کرنا چاہتے ہو تم-“ پرویز نے ہنستے ہوئے کہا-

”یہ ہی سمجھ لو- اور ہاں تیرا برتھ ڈے بھی تو ہے نا- اچھا تُو ایسا کر فارم ہاﺅس پہنچ اور ہری ہری گھاس پر کھلے آسمان کے نیچے اچھا سا انتظام کرکے رکھ-“

”یہ سب کھلے آسمان کے نیچے کرو گے تم-“ پرویز بولا-

”تو کیا ہوا- تیرے نوکر رمضان کے علاوہ وہاں اور ہوگا ہی کون- خوب مستی کریں گے- بس اب دیر مت کر- جلدی پہنچنے کی کر یار-“

”اوکے جانی- میں ابھی کے ابھی نکلتا ہوں- اور کوئی حکم-“

”نہیں بس اتنا ہی کافی ہے-“ چوہان نے ہنستے ہوئے فون بند کر دیا-

”میرا کلاس فیلو تھا- بہت اچھا دوست ہے میرا- اور بہت پیسے والا بھی ہے-“

”سر—- تو پھر مجھے اجازت ہے- آپ تو برتھ ڈے منانے جا رہے ہیں-“

”میرے دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں تم بھی شامل ہو- چلو-“ چوہان نے اسے جھٹکا سا دیا-

جب سحرش کو انسپیکٹر کی بات سمجھ میں آئی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے- ”یا خدا- کہاں پھنس گئی میں- اب کیا کروں-“ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی-

تھوڑی ہی دیر بعد انسپیکٹر چوہان اپنی جیب میں سحرش کو بٹھائے پرویز کے فارم ہاﺅس کی جانب بڑھ رہا تھا-

”سر میرا برتھ ڈے پارٹی میں کیا کام- پلیز مجھے جانے دیجئے-“ سحرش التجا کرتے ہوئے بولی-

”کسی بھی پارٹی میں حسین لوگوں کا ساتھ ہو تو پارٹی کی رونق اور بڑھ جاتی ہے- تم فکر مت کرو تم بھی خوب انجوائے کرو گی-“ چوہان ڈرائیور کرتے ہوئے بولا-

ِ”سر پلیز مجھے جانے دیں- میں پہلوان کے گروپ سے آج ہی ناطہ توڑ لوں گی-“ وہ گڑگڑائی-

”ارے سحرش صاحبہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے- آج جنت دکھائیں گے ہم تم کو- تم تو بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو- اور کسی سے گھبرانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے- کیونکہ ہر جگہ پولیس کا ڈر ہوتا ہے نا- اور یہاں تو پولیس خود تمہارے پہلو میں موجود ہے-“ چوہان نے ایک بیہودہ سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا-

”میری ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا- کہاں تک جائز ہے-“

”اب غلطی کی ہے تو سزا تو ملے گی نا- ویسے میں سچ کہہ رہا ہوں- تم خود کو جنت کی سیر کرتا ہوا محسوس کرو گی- تم بس اپنے دل سے ہر قسم کے ڈر کو دور بھگا دو- ورنہ سارا مزا کرکرا ہو کر رہ جائے گا—- ویسے ایک بات تو بتاﺅ-“ چوہان نے شیطانی لہجے میں کہا-

”جی پوچھیں؟-“

”تم کال گرل کیوں بنیں؟-“

”اس کے لئے میرا بوائے فرینڈ ذمہ دار ہے-“ سحرش بولی-

”وہ کیسے؟-“

”میں اسے پیار کرتی تھی- اندھا پیار- اور اس نے میرے پیار کے اندھے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخصوص لمحات کی ویڈیو بنالی- مجھے کبھی شک بھی نہیں ہوا- ہر ملاقات پر وہ چپ چاپ ریکارڈنگ کر لیتا تھا-“

”اوہ- تو یہ بلیک میلنگ کا معاملہ ہے-“ چوہان نے سر ہلاتے ہوئے کہا-

”ہاں-ا س نے مجھے زبردستی کال گرل بننے پر مجبورکیاہے- اور بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ گنجے پہلوان کا پارٹنر ہے اور اسی طرح لڑکیاں پھنسا کر پہلوان کے گروپ میں شامل کرتا رہتا ہے-“

”بڑی دلچسپ کہانی ہے-“ چوہان ہونٹ سکوڑتے ہوئے بولا-

”یہ کہانی نہیں حقیقت ہے- میری جیسی کئی لڑکیاں یونہی محبت کے نام پر برباد ہوئی ہوں گی-“

”چھوڑو یہ سب- جو ہونا تھا وہ ہوگیا-“ چوہان نے لاپرواہی سے کہا-

”یہ سب سننے کے بعد بھی آپ مجھے پارٹی میں لے جائیں گے-“

”بالکل- گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا— مگر ہاں تمہارے بوائے فرینڈ کو سیدھا کرنے کی ذمہ داری میری ہے- اب خوش-“ چوہان کے چہرے پر گھناﺅنی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی-

”ہاں اس سے مجھے کچھ تو راحت ملے گی-“

”راحت ملے گی نہیں – راحت ملے گا— اور مل گیا ہے نا تجھے-“

”میں سمجھی نہیں-“ سحرش نے حیرت سے کہا-

”یہ لو دیکھو-“ چوہان نے اپنے سینے پر لگے ٹیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا- ”خود دیکھ لو میرا نام راحت ہے- راحت چوہان— ہا ہا ہا -“ چوہان ہنسے ہی چلا جا رہا تھا-

میں اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں-“ سحرش فرمائشی لہجے میں بولی-

”سب ہوجائے گا- سحرش صاحبہ- تم بس مجھے خوش کر دو— میں تمہیں خوش کرتا رہوں گا- وعدہ-“ چوہان سینے پر ہاتھ مارتا ہوا بولا-

”ٹھیک ہے-“ سحرش شکستہ لہجے میں بولی- ”لیکن یہ خوشی روزانہ تو نہیں دینی ہوگی نا-“

”اگر تم خود ہی چلی آﺅ گی تو میں کیا کہہ سکتا ہوں- مگر میں اپنے بارے میں بتا دوں کہ میں روزانہ نیا شکار پسند کرتا ہوں- میری نوکری بھی تو کچھ ایسی ہی ہے نا- نیا نیا مال ملتا ہی رہتا ہے-“ چوہان نے اسٹیئرنگ پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا-

اب ان کی جیب ایک سنسان سڑک پر دوڑ رہی تھی-

” یہ تو ہم شہر سے باہر آگئے ہیں-“ سحرش نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں-

”ہم فارم ہاﺅس پر جا رہے ہیں جانو— اور فارم ہاﺅس تو شہر سے باہر ہی ہوتے ہیں نا-“ چوہان نے جیسے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا-

”مجھے پارٹی میں کتنی دیر تک رکنا پڑے گا-“ سحرش نے پوچھا-

”ارے بھئی پارٹی ہے- دیر بھی ہو سکتی ہے- ہی ہی ہی – “ چوہان کے ہونٹوں پر وہی اس کی مکروہ ہنسی تھی-

کچھ منٹ کے بعد جیب ایک بڑے سے فارم ہاﺅس کے مین گیٹ پر آکر رک گئی- پرویز گیٹ پر ہی کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا-

جیب سے اترتے ہی چوہان نے پرویز کو گلے سے لگا یا اور بولا- ”ہیپی برتھ ڈے یار- ذرا غور سے دیکھ تیری سالگرہ کے لئے کیا پٹاخہ تحفہ لایا ہوں تیرے لئے-“

پرویز نے سحرش کو اوپر سے نیچے گھور کر دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی ہنسی ابھر آئی جسے دیکھ کر سحرش نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں-

”بول نا یار- کیسا لگا برتھ ڈے گفٹ-“ چوہان نے پرویز کا کندھا ہلاتے ہوئے پوچھا-

”کچھ کہنے لائق چھوڑا ہے تونے جو میں بولوں- ایک تو یہ لڑکی ویسے ہی بہت خوبصورت ہے اوپر سے یہ اس کا چوڑی دار سوٹ ستم ڈھا رہا ہے—- ابے لنگور تیرے ہاتھ کیسے لگی یہ حور-“ پرویز نے ہنستے ہوئے کہا-

”وہ سب چھوڑو- تم آم کھاﺅ گٹھلیاں مت گنو-“ چوہان بولا-

سحرش چپ چاپ سر جھکائے ان کی باتیں سنتی رہی- اس کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی-

”تمہارا نام کیا ہے؟-“ پرویز نے سحر ش کے پاس آکر پوچھا-

”سحرش-“ وہ سر جھکائے بولی-

”کیا کرتی ہو؟-“

”کالج میں پڑھتی ہوں-“ مختصر سوال کا مختصر جواب-

”تمہیں اندازہ بھی ہے کہ آج تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟-“

”کیا مطلب؟-“ سحرش چونکتے ہوئے بولی-

”ابے پرویز کے بچے چل اندر- ڈرا مت بیچاری کو- یہ بازاری لڑکی نہیں ہے- سمجھا کر-“ سحرش کے ڈر کو محسوس کرتے ہوئے چوہان نے دخل انداز ی کرتے ہوئے کہا-

”کیا بات ہے یار تیری- پھر تو سچ میں نایاب تحفہ ہے یہ- سچ بتا نا کہاں ملی یہ تجھے-“

”چھوڑ یار یہ سب باتیں- یہ بتاﺅ سارا انتظام کر لیا ہے کہ نہیں-“

”سب انتظام پورا ہے- کھلی ہوا میں- کھلے آسمان کے نیچے- کھانا پینا- بوتل شوتل- پانی وانی سب رکھوا دیا ہے-“

”اپنے نوکر سے کہہ دینا کہ دور ہی رہے- ہمیں ڈسٹرب نہ کرے-“

”یار تم تو جانتے ہی ہو اسے- وہ نزدیک پھٹکے گا بھی نہیں- ہم تینوں بالکل اکیلے ہوں گے- کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا-“یہ کہتے ہوئے پرویز نے سحرش کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری-

اس بار سحرش نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا اور چونک سی گئی- اسے لگا کہ اس نے اس چہرے کو کہیں دیکھا ہے- مگر کہاں- وہ انہی سوچوں میں ان کے ساتھ چلتی ہوئی فارم ہاﺅس کے اندر آگئی- اور یکایک جیسے اس کے دماغ میں بجلی سی کوندی- اسے یاد آگیا کہ یہی تو وہ آدمی ہے جو اس دن اس کا اور رضیہ کا پیچھا کر رہا تھا- وہ چوہان کے ساتھ چپک گئی-

”کیا بات ہے- ابھی سے میرا ساتھ اچھا لگنے لگا ہے کیا-“ چوہان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا-

”سر یہی ہے وہ آدمی-“ سحرش نے دھیمے لہجے میں کہا— جو اس دن میرا اور رضیہ کا پیچھا کر رہا تھا-“

”کیا مطلب؟-“ چوہان حیرانی سے بولا-

”‘مطلب یہ کہ پرویز ہی وہ آدمی ہے-“

”کیا بکواس کر رہی ہو- تمہیں ضرور غلط فہمی ہوئی ہے-“ چوہان اس کی بات پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھا-

”مجھے غلط فہمی نہیں ہوئی ہے- وہ آدمی پرویز ہی تھا-“ سحرش کا لہجہ کچھ بلند ہوگیا اور احساس ہونے پر اسے افسوس ہونے لگا اپنی بے وقوفی پر-

پرویز جیسے سب سمجھ گیا- وہ غصے سے بولا- ”سالی طوائف الزام لگاتی ہے مجھ پر-“

”کوئی بات نہیں پرویز- اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے- تم اپنا غصہ سنبھال کر رکھو- وقت آنے پر دل کھول کر نکال لینا-“ چوہان نے ہنستے ہوئے کہا-

”مگر اسے سبق تو ملنا چاہئے نا مجھ پر الزام لگانے کا-“

”فکر مت کر- ہم اسے ایسا سبق سکھائیں گے کہ ساری زندگی یاد رکھے گی-“ چوہان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

لان میں پرویز نے پورا انتظام کر رکھا تھا- اس نے تو پورا بیڈ ہی اٹھوا کر گھاس پر رکھوا دیا تھا-سحرش دونوں کے درمیان چل رہی تھی-

”واہ ری قسمت- میرے ایک طرف قاتل ہے اور دوسری طرف پولیس-“ وہ ہذیانی کیفیت میں بول رہی تھی- پرویز نے اچانک سحرش کو بالوں سے پکڑا اور اسے بیڈ پر پٹخ دیا اور اس کی چیخ نکل پڑی-

”مم مجھے واش روم جانا ہے-“ وہ ہراساں لہجے میں بولی-

اس کی اس بات پر چوہان نے جو بیہودہ مذاق کیا اس سے سحرش کی یہی خواہش تھی کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دھنس جائے-

”رمضان-“ پرویز نے اپنے ملازم کو آواز لگائی-

دوسرے ہی پل مکروہ چہرہ والا رمضان وہاں موجود تھا- ”جی صاحب-“

”میڈم کو واش روم تک لے جاﺅ-“

”جی بہت اچھا- آﺅ جی-“

سحرش اٹھی اور رمضان کے ساتھ چل پڑی- رمضان اپنے ہونٹ بھینچ کر ہنس رہا تھا-

”تم کس بات پر ہنس رہے ہو-“ سحرش نے چڑ کر کہا-

”تم نے کیا قیمت لگائی ہے اپنی-“

”ہے زبان سنبھال کر بات کرو- ایسا کچھ نہیں ہے جو تم سمجھ رہے ہو-“ سحرش نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا-

”تو کیا یہ سارا تماشہ فری میں کر رہی ہو-“ وہ پھر ہنسنے لگا-

”تمہیں اس سے کیا لینا- اپنے کام سے کام رکھو-“

”آپ بھی اپنا کام کرو- واش روم وہ سامنے ہے-“ اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے تم جاﺅ یہاں سے-“

”اگر فری میں لنگر بٹ رہا ہے تو ہم غریبوں کا بھی حق ہے-“ یہ کہتے ہوئے رمضان نے سحرش کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا- اور دوسرے ہی لمحے سحرش کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں رمضان کے چہرے پر چھپ چکی تھیں-

”اپنی اوقات میں رہو گندے آدمی-“

تھپڑ لگتے ہی رمضان جیسے پاگل سا ہوگیا اور دوسرے ہی پل اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر گراری دار چاقو نکال لیا- ”سالی تجھے پتہ نہیں ہے میں کون ہوں- کاٹ ڈالوں گا تجھے-“

سحرش بھاگ کر واش روم میں گھس گئی اور فوراً چٹخنی چڑھا دی- اس کی سانس پھولنے لگی تھی-

”باہر تو آﺅ گی نا؟-“ باہر سے رمضان کی آواز نے اسے او ر دہلا دیا-

”میں تمہارے مالک کو سب کچھ بتا دوں گی- وہ تمہاری کھال ادھیڑ دے گا-“ سحرش نے اسے ڈرانے کے لئے کہا-

”تم میرے مالک کو جانتی ہی کتنا ہو- ہی ہی ہی–“ رمضان ہنستے ہوئے بولا-

”اب تو مجھے پورا یقین ہوچلا ہے کہ وہی خونی ہے-“ سحرش بڑبڑانے لگی- ”اور ہو نہ ہو یہ نوکر بھی اس کے ساتھ شامل ہے- کیسے چاقو دکھا رہا تھا- یا خدا یہ مصیبت بھرا دن کب ختم ہوگا-“ یہ سب سوچتے ہوئے سحرش کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے-

کچھ دیر بعد جب سحرش کو لگا کہ اب رمضان باہر نہیں ہے تو اس نے دروازہ کھولا اور دروازہ کھول کر فوراً وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی-

”ارے اسے کیا ہوا- کیا چمگادڑوں نے کاٹ لیا جو ایسے بھاگی چلی آرہی ہے-“ چوہان بولا-

پرویز نے رمضان کی طرف دیکھا- رمضان کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ ابھری ہوئی تھی- ”صاحب ڈر گئی ہو گی اکیلے میں- میں نے کچھ نہیں کیا-“

”ٹھیک ہے- ٹھیک ہے- تم جاﺅ یہاں سے-“ چوہان نے کہا-

سحرش بھاگ کر چوہان کے پاس آئی اور بولی- ”اس نے مجھے چاقودکھا کر ڈرا یا تھا-“

”چھوڑو یہ سب باتیں- مذاق کیا ہوگا اس نے- یہ تو یونہی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭

”تم نے تو بے عزتی کروا دی میری- راجو یہ سب کیا ہے- پورا فرش گیلا کر دیا تم نے-“ مراد نے منہ بنا کر کہا-

”اس—-استاد—- یہ یہاں کیسے؟-“ راجو کے منہ سے الفاظ بڑی مشکل سے نکل رہے تھے-

”میں بتاتی ہوں- میں تمہارا خون کرنے آئی ہوں یہاں-“ وردا نے کہا-

”استاد یہ سب کیا ہو رہا ہے؟-“

”سمجھایا تھا نا میں نے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں- اب بھگتو-“

”نہیں استاد ایسا تو مت کہو-“ راجو ڈرے ہوئے لہجے میں بولا-

”کیوں کر رہے تھے ایسی الٹی سیدھی بکواس-“ وردا نے کہا-

”مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ یہاں ہو-“ راجو معصومیت سے بولا-

”تو کیا پیٹھ پیچھے کسی لڑکی کے بارے میں کچھ بھی بول دو گے-“ وردا کا غصہ ابھی بھی عروج پر تھا-

”غلطی ہوئی- معاف کردو مجھے-“ راجو گڑگڑایا-

”بس بہت ہوگیا- چھوڑو میرے دوست کو-“ مراد نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا-

”اپنے دوست سے کہو زبان پر قابو رکھا کرے- ورنہ کسی دن بھاری پڑے گا اسے-“

راجو چپ چاپ کھڑا سن رہا تھا- اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا-

راجو کو شش و پنج میں دیکھ کر مراد نے اسے ساری بات بتا تے ہوئے بولا- ”یہ ہے ساری کہانی- وردا کو پھنسانے کے لئے یہ اس قاتل کی ایک چال ہے – وہ بوکھلایا ہوا ہے کہ ہم اس کے ہاتھ کیسے بچ گئے-“

”مجھے تو پہلے سے ہی یقین تھا کہ اتنی حسی-“ راجو نے کہا-

وردا نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا- ”خبردار جو آگے کچھ بولے-“

”مم میرا مطلب تھا کہ آپ کیسے خون کر سکتی ہو- آپ کو تو چاقو چلانا بھی نہیں آتا ہوگا-“ راجو نے اپنی بات پوری کی-

”راجو تم باہر جاﺅ اور اچھی طرح چھان بین کر لو کہ باہر کہیں پولیس وغیرہ تو نہیں ہے- اور ہاں جانے سے پہلے پوچا اٹھا کر پہلے یہ فرش صاف کردو- اپنے کئے دھرے پر خود ہی پانی پھیرنا پڑتا ہے بھائی- ورنہ بڑی بدبو ہوجاتی ہے-“ یہ کہہ کر مراد خود بھی ہنس پڑا-

راجو نے پہلی بار فرش پر دیکھا- ”سوری استاد- پتہ نہیں کیسے ہوگیا یہ سب-“ اس کے لہجے میں شرمندگی کا عنصر نمایاں تھا-

”میں سمجھ سکتا ہوں- ایسی صورتحال میں کسی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے-“ مراد نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا-

راجو نے پوچا اٹھا کر کمرہ صاف کیا اور باہر نکل گیا- پندرہ بیس منٹ بعد وہ نئے کپڑے پہن کر دوبارہ حاضر ہوگیا- وردا اسے بدلے ہوئے کپڑوں میں دیکھ کر ہنسے بنا نہیں رہ سکی-

”پہلے ڈراتی ہو پھر ہنستی بھی ہو- اچھا نہیں کیا آپ نے میرے ساتھ- استاد کے سامنے کرکری کرا دی میری-“ راجو نے شکایتی لہجے میں کہا-

”تم نے بڑا اچھا کیا تھا میرے ساتھ- کیا کیا بک رہے تھے-“ وردا بولی-

”اچھا بس— راجو باہر کیسا ماحول ہے-“ راجو نے انہیں ٹوکا- اور اصل بات کی طرف آیا-

”استاد نکڑ پر پولیس کی جیپ کھڑی ہے-“ راجو نے انکشاف کیا-

”مگر مجھے ہر حال میں اپنے گھر والوں سے بات کرنی ہے-“ وردا بے چین سی ہو رہی تھی-

”ایسی بے وقوفی مت کرنا- پولیس فوراً تمہاری لوکیشن ٹریس کرکے تمہیں ڈھونڈ لے گی-“ مراد نے اسے سمجھایا-

”مگر جب میں نے کسی کا خون نہیں کیا تو میں کیوں یہاں ڈر کے بیٹھی رہوں-“ وردا اصرار کرتے ہوئے بولی-

”دیکھو پولیس کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ تم واقعی میں قاتل ہو یا نہیں- ان کو تو اس بات کی خوشی ہوگی کہ کیس حل ہوگیا بس- ہماری پولیس ایسے ہی کام کرتی ہے- اور ہوسکتا ہے تمہیں گرفتار کرکے کچھ کو ترقی اور کچھ کو انعامات بھی مل جائیں- میڈیا میں واہ واہ الگ ہوگی-“ مراد نے تفصیل کے ساتھ اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”ہاں میڈم- استاد ٹھیک کہہ رہا ہے- پہلے ہمیں یہ پتہ لگانا ہوگا کہ وہ عینی شاہد کون ہے؟-“

”یہ تم نے بالکل ٹھیک کہا راجو- اس کا پتہ لگانا بہت ضروری ہے- اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ کرنا ہوگا کہ اس کے پیچھے اس کا پلان کیا ہے-“

”سیدھی سی بات ہے- میڈم نے اسے دیکھا ہے- اور وہ اس کے چنگل سے نکل بھی آئی ہے- اب وہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کر رہا ہے- تم لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کیا کہ یہ سب کرکے وہ صاف بچ جائے گا-“ راجو نے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے کہا-

” مجھے لگتا تھا کہ تم لوگ صرف بیہودہ باتیں ہی کر سکتے ہو-“ وردا نے اسی توصیفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا-

”میڈم وہ تو میں استاد کے ساتھ رہ کر تھوڑا بگڑ گیا ہوں ورنہ پہلے میں بہت اچھا لڑکا تھا-“ تعریف سن کر راجو کچھ اور پھیل گیا-

”ابے کیا بول رہے ہو- میں نے بگاڑا ہے تمہیں- ایک دوں گا سارے دانت باہر-“ مراد نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا-

”سوری استاد- چمڑے کی زبان ہے- ذرا سی پھسل گئی- معاف کر دو- لیکن اگر تم لوگ سنو تو میرے پاس ایک دھانسو آئیڈیا ہے-“

”جلدی بولو-“ وردا فوراً بول پڑی-

”ہمیں اس عینی شاہد کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنا ہوں گے-“ راجو نے اپنی دانست میں ایک گولڈن آئیڈیا پیش کرتے ہوئے کہا-

”اتنا آسان نہیں ہوگا-“ مراد بولا-

”مراد ٹھیک کہہ رہا ہے-“ وردا نے بھی مراد کی تائید کرتے ہوئے کہا-

”ارے سنو تو سہی- عینی شاہد کے گھر پر کچھ نہ کچھ تو ایسا مل ہی جائے گا جس سے ہم ثابت کرپائیں کہ وہی قاتل ہے- جیسے کہ خنجر- خبروں کے مطابق ہر قتل میں ایک ہی جیسا خنجر استعمال ہوا ہے- مجھے یقین ہے کہ اس نے وہ خنجر کہیں تو چھپا کر رکھا ہو گا نا-“

راجو کی بات میں دم تھا لیکن اس کی بات شاید مراد کو متاثر نہیں کر سکتی تھی- ”مجھے تو یہ آئیڈیا بالکل پسند نہیں آیا-“

”لیکن ہمیں کچھ تو کرنا ہی ہوگا- یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا-“ وردا بولی-

”مگر وہ عینی شاہد یعنی قاتل کہاں رہتا ہے- کیا کرتا ہے- ہمیں کچھ پتہ نہیں ہے-“ مراد ابھی بھی متفق نہیں تھا-

”بھولو حوالدار کب کام آئے گا استاد-“ راجو نے ایک اور راستہ دکھاتے ہوئے کہا-

”وہ نکما کسی کام کا نہیں ہے-“ مراد نے اس بار بھی انکار میں سر ہلا دیا-

”مگر ایک بار ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے-‘ ‘ راجو اب بھی اپنی بات پر اڑا ہوا تھا-

”میرا خیال ہے راجو کچھ کچھ ٹھیک ہی کہہ رہا ہے- کوئی نہ کوئی راستہ تو نکل ہی آئے گا- ویسے بھی اس قاتل کو سزا دلوانا ہمارا فرض ہے- جو ہوگا دیکھا جائے گا-“ اس بار وردا کی بات میں عزم جھلک رہا تھا-

”تم دونوں کا جوش دیکھ کر مجھے بھی جوش آرہا ہے- ٹھیک ہے- ہم اس قاتل کو اس کے انجام تک ضرور پہنچائیں گے-“مراد کی اس بات پر دونوں کے چہرے کِھل اُٹھے-

”واہ- استاد نے کہہ دیا تو سمجھو کام ہوگیا- میڈم آپ اب بالکل بے فکر ہوجائیں- وہ درندہ اب نہیں بچے گا-“ راجو نے خوش ہو کر کہا-

”بس تو پھر تم یہاں وقت ضائع مت کرو- اور لگ جاﺅ اپنے مشن پر-“

”ابھی لو استاد- بس سمجھو یوں گیا اور یوں آیا- اچھی خبر کے ساتھ-“ راجو نے کہا اور تیزی سے باہر نکل گیا-

”کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا-“ وردا نیم دلی سے بولی-

”جب اس نے بول دیا ہے تو چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے- کام تو وہ کرکے ہی آئے گا-“

”اتنا یقین ہے تمہیں اس پر-“

”اس کی اس بات پر تو نہیں – لیکن اس بات پر ضرور یقین ہے کہ میری نظر میں خود کو سرخرو رکھنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے- یعنی کچھ بھی-“ مراد نے آخری جملے پر زور دیتے ہوئے کہا-

پھر وہ دونوں راجو کے انتظار میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے اور وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیںچلا- آخر مراد کو ہی احساس ہوا کہ راجو کو گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی ہے-

”کتنی دیر ہوگئی ہے راجو کو گئے ہوئے- پتہ نہیں کہاں رہ گیا-“

”تمہیں کیا لگتا ہے- اس حوالدار کو پتہ ہوگا ‘ اُس عینی شاہد کے بارے میں-“

”اسے پتہ تو ہونا چاہئے- ویسے تو وہ بہت نکما ہے- اگر اسے نہ بھی پتہ ہو تو مجھے حیرت نہیں ہوگی-“ مراد نے ہنستے ہوئے کہا-

”پھر کیسے پتہ چلے گا اس کے بارے میں-“ وردا بری طرح الجھی ہوئی تھی-

”پہلے راجو کو تو آجانے دو- پھر دیکھتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے-“ مراد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”مگر وہ حوالدار اس عینی شاہد کے بار ے میں راجو کو کیوں بتائے گا-“ وردا نے پوچھا-

”وہ سب راجو کا سردرد ہے-“ مراد نے جواب دیا-

اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی- مراد نے جیسے ہی دروازہ کھولا راجو سرپٹ اندر آگیا-

”استاد- سب پتہ چل گیا اس عینی شاہد کا مطلب اس قاتل کا-“ راجو کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا- جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر آیا ہو-

وردا چپ چاپ کھڑی سن رہی تھی-

”کون ہے- کہاں رہتا ہے- جلدی بتا-“ مراد سے رہا نہیں گیا-

”سہیل نام ہے اس کا وہ بس اسٹینڈ کے پیچھے جو کالونی ہے وہاں رہتا ہے- پورا ایڈریس لکھ کر لایا ہوں میں-“ راجو نے کہا-

”ارے واہ- اتنا کچھ کیسے بتا دیا اس نے-“ مراد کو حیرت ہو رہی تھی اتنی مفصل معلومات پر-

راجو نے ایک نظر وردا پر ڈالی اور بولا- ”چھوڑو نا استاد- پتہ تو چل گیا نا-میںنے اس سے کہا تھا کہ میرے ایک رپورٹر دوست کو انٹرویو لینا ہے اس کا-“

”پھر بھی وہ اتنی جلدی تو بتانے والا نہیں تھا- دماغ کی لسی کر دیتا ہے-“ مراد اسے گھورتا ہوا بولا-

”وہ – استاد- اب ان میڈم کے سامنے کیسے بولوں کہ اس نے ایک رات کے لئے نغمہ کی فرمائش کر دی ہے-“ راجو نے مراد کے کان میں کہا-

”کیا بات ہے- کوئی پرابلم ہے کیا؟-“ وردا نے پوچھا-

”وہ بھولو حوالدار کو نغمہ-“ راجو نے کہا اور اس کی بات کا مطلب سمجھ کر وردا نے اس کو بیچ میں روک دیا-

”ٹھیک ہے- ٹھیک ہے – جانے دو-“

”چلو استاد- اب چل کر اس اصلی قاتل کا پردہ فاش کرتے ہیں-“

”کیا مطلب- کیا میں تم دونوں کے ساتھ نہیں چلوں گی؟-“ وردا نے کہا-

”تم کیا کرو گی چل کر- پولیس تمہیں ڈھونڈ رہی ہے- اور وہاں خطرہ بھی ہوسکتا ہے-“ مراد نے اسے سمجھایا-

”نہیں- مجھے بھی چلنا ہی ہوگا- تم کیسے پہچانو گے قاتل کو- اسے میں نے بہت نزدیک سے دیکھا ہے-“

”ہاں استاد- بات تو ان کی بھی ٹھیک ہے- میڈم جی کا ساتھ ہونا بہت ضروری ہے-“ راجو نے وردا کی تائید کرتے ہوئے کہا-

”لیکن باہر نکلی تو پولیس کا خطرہ ہے-“ مراد شش و پنج میں تھا- وہ کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا تھا-

”اگر میڈم جی اپنا حلیہ بدل کر جائے تو-“ راجو نے اس بات کا حل بھی نکال لیا-

”وہ کیسے ہوگا-“ وردا فوراً پوچھ بیٹھی-

”نغمہ یہ کام اچھی طر ح سے کر سکتی ہے- بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہے وہ آپ کا پورا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دے گی- راجو نے نغمہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا-

”ہاں یہ ٹھیک رہے گا-“ مراد نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی-

”ٹھیک ہے- لیکن اس کے لئے بھی باہر تو جانا ہی پڑے گا نا-“ وردا نے کہا-

”میں اسے یہیں بلا لوں گا- اس کا باپ آج کل یہاں نہیں ہے- اسے آنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی-“ راجو نے اس کا بھی حل پیش کر دیا-

”تو پھر دیر کس بات کی ہے-“ وردا بولی-

٭٭٭٭٭٭٭

راجو نے نغمہ کو سارا قصہ سنا دیا اور اسے ان کی مدد کرنے کے لئے منا لیا-

”تم یہ سب کیوں کر رہے ہو- تمہارا دل تو نہیں آگیا اس لڑکی پر-“ نغمہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”ایسا کچھ نہیں ہے- وہ بیچاری مصیبت میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے-“ راجو بولا-

”کمال ہے- تیرے جیسا دل پھینک ایسی بات کر رہا ہے-“ نغمہ کو اب بھی اس کی نیت پر شک تھا-

”جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو- تیری قسم میں نے کسی اور لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا-“ راجو نے اسے اپنے طریقے سے شیشے میں اتارتے ہوئے کہا-”اب ہر لڑکی تم جیسی نشیلی تو نہیں ہوتی نا-“

”چل چھوڑ- تم تو ہر وقت مجھے بناتے رہتے ہو-“ نغمہ نے اٹھلا کر کہا- اور شاید بڑوں نے صحیح کہا ہے کہ تعریف ایک ایسا تیر ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا-

”ارے ہاں نغمہ ایک بات اور کہنی تھی-“ راجو کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا-

”اب کیا ہے؟-“

”تمہیں میری ایک اور مدد بھی کرنی ہوگی-“ راجو نے اس کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا-

”بتاﺅ اور کیا کروں اپنے پیارے راجو کے لئے- جان دے دوں-“ نغمہ نے راجو کا گال نوچتے ہوئے کہا-

”وہ بات یہ ہے کہ-“ راجو نے ہچکچاتے ہوئے کہا- ”تمہیں بھولو حوالدار کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنا ہوگا-“

”اپنے استاد کے آگے تو پروس چکے ہو مجھے- تمہیں شرم نہیں آتی- تم نے مجھے کوئی طوائف سمجھا ہوا ہے کیا-“ نغمہ غصے سے بولی-

”پاگل ہو کیا- دیکھو بس تھوڑی دیر کی تو بات ہے- تمہیں میرا یہ کام تو کرنا ہی ہوگا-“ راجو نے اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا-

”میں ایسا کچھ نہیں کروں گی-“ نغمہ اس کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھی-

”کیا اپنے راجو کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتی تم-“ راجو نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”تم نے شکل دیکھی ہے اس حوالدار کی- اسے تو کوئی کتیا بھی منہ نہ لگائے – اور میری تو بات ہی اور ہے-“ شاید نغمہ کو اپنے جیسے تیسے حسن پر بہت ناز تھا-

”یہی تو میں بھی کہتا ہوں کہ تیری تو بات ہی اور ہے- میری نغمہ جیسی تو اس دنیا میں کوئی ہو ہی نہیں سکتی-“ راجو دیکھ رہا تھا کہ اس کے مکھن لگانے سے نغمہ تھوڑا تھوڑا پھسلنے لگی تھی- ”اس سے ایک کام نکلوانا ہے- اور ظاہر اس کی قیمت تو چکانی ہی پڑے گی نا-“

”میں سوچ کر بتاﺅں گی-“ نغمہ نے ٹھنڈا پڑتے ہوئے کہا-”پہلے مجھے تمہارا پہلا کام تو کرنے دو-“

”ٹھیک ہے سوچ لو- مگر یہ بھی سوچ لو کہ اپنے راجو کے لئے تمہیں وہ کام بھی کرنا ہی پڑے گا- ارے تمہیں اس کی شکل سے کیا لینا دینا- بس اپنی آنکھیں بند کرلینا- اور سمجھ لینا تم سلمان خان یا شاہ رخ خان کے ساتھ ہو-“

”مجھے کسی خان سے کیا لینا- میں سوچ لوں گی اپنے راجو کے ساتھ ہوں-“

”چلو یہی سوچ لینا-“ خود کو بھولو حوالدار کی جگہ محسوس کرتے ہی راجو نے کراہیت سے کہا-

”تم بہت کمینے ہو؟-“ نغمہ نے ہنستے ہوئے کہا-

”تھینک یو میری جان-“ راجو نے بھی مسکرا کر جواب دیا-

”اچھا کب کرنا ہو گا تیرا یہ کام- صرف آج کا دن اور رات ہے میرے پاس- کل ابا آ جائیں گے-“

”تم رات کو نو بجے سے پہلے اس کے پاس پہنچ جانا-“

”چل ٹھیک ہے- ہائے تمہارا پیار پانے کے لئے مجھے کیا کیا کرنا پڑ رہا ہے-“ نغمہ نے راجو کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا-

”چلو یہ بات تو طے ہوگئی- اب اپنا سامان لو اور میرے ساتھ استاد کے گھر چلو-“ راجو نے اسے اصلی کام یاد دلاتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے‘ مجھے د س منٹ لگیں گے تیاری میں-“ نغمہ نے اٹھتے ہوئے کہا-

”تمہاری بہن نظر نہیں آرہی آج-“ راجو نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا-

”کالج گئی ہے-“

”آج تو بڑی جلدی چلی گئی-“ راجو کے لہجے میں ہلکا سا افسوس تھا-

”تمہیں کیا کام پڑ گیا میری بہن سے-“ نغمہ نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا-

”اس پر تو تم سے بھی زیادہ جوانی پھوٹی پڑ رہی ہے- کہیں کوئی ہاتھ نہ مار جائے-“

”بکواس بند کرو- اور چلو اب-“ نغمہ نے اسے ہلکا سا دھکا دیتے ہوئے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

ناول کا اگلا حصہ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے