سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلیٰ۔۔۔ سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلیٰ۔۔۔ سید انور فراز

(قسط نمبر 3)

زیر تحریر الف لیلیٰ ہزار رنگ اور پہلو رکھتی ہے کیوں کہ یہ صرف ہماری آپ بیتی ہی نہیں ہے، جگ بیتی بھی ہے،ہماری اپنی آپ بیتی تو بہت ہی مختصر اور ناقابل ذکر ہے لیکن ہم نے جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارا وہ یقیناً غیر معمولی اور اہم تھے، ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، آج وہ اگرچہ ہم میںنہیں ہےں لیکن ان کی یادیں ، ان کی باتیں اور ان کے کارہائے نمایاں ناقابل فراموش ہیں، اس الف لیلیٰ کا آغاز ہم نے خان آصف سے اس لیے کیا کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے خود ہماری زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور ایک طویل وقت ان کے ساتھ گزرا۔

ہمارے احباب نے اس سلسلے کو سراہا لیکن ساتھ ہی یہ شکایت بھی کی کہ ہم شاید بہت جلدی میں ہیں، بہت سی تفصیلات سے گریز کر رہے ہیں، ہمیں طوالت کی فکر نہیں کرنی چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔

یہ ضرور ہے کہ بہت سے واقعات کو تفصیلاً بیان کرنے سے ہم نے گریز کیا ہے،ہمارا خیال تھا کہ عام پڑھنے والے ایسی تفصیلات سے بور ہوں گے،خصوصاً ڈائجسٹوں کے قارئین تو صرف ڈائجسٹ سے متعلق ہی جاننا چاہتے ہیں لیکن احباب کے مشوروں کی روشنی میں یہی بہتر خیال کیا کہ بہت کچھ ایسا بھی ہے جو ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے نامانوس ہوسکتا ہے لیکن دیگر حلقوں کے لیے یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگا، مثلاً ہماری ناظم آباد کی نشستیں، ہمارے بزرگ دوست محترم خالد خُلد ایڈیٹر ویکلی بلٹز کراچی اور فائق مرزا کے دفتر میں مستقل بیٹھک جہاں ہر طرح کے لوگ آتے اور اظہار خیال کرتے تھے، خاصی اہم اور یادگار تھیں جہاں بڑی معلوماتی اور دلچسپ بحث ہوا کرتی تھی، ہم نے ایک مختصر وقت روزنامہ صداقت اور پھر نوائے وقت میں گزارا ہے،خاصے دلچسپ واقعات اس حوالے سے بھی ذہن میں کلبلاتے رہتے ہیں، مناسب ہوگا کہ اس کا اظہار بھی کیا جائے لیکن موقع محل کی مناسبت سے۔ہماری یادداشتوں میں ان تمام شخصیات کا ذکر ہوگا جن سے ہمارا تھوڑا یا زیادہ رابطہ رہا ہے اور وہی موقع ان سے متعلق باتوں اور واقعات کے بیان کے لیے مناسب ہوگا، آج کی نشست میں سب سے پہلے ہم کراچی کے اس علاقے کا ایک مختصر تعارف پیش کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم نے بچپن اور جوانی کے اچھے برے ایام گزارے۔

ناظم آباد

مرحوم دلی کے بارے میں خدائے سخن میر تقی میر کے جو خیالات تھے وہی ناظم آباد کے بارے میں ہمارے ہیں، گویا آج کا ناظم آباد ایک اجڑا دیار ہے ورنہ اسی ناظم آباد میں اپنے وقت کے منتخب لوگ بستے تھے، ہم نے جب اس بستی میں قدم رکھا تو ہماری عمر تقریباً 8 سال تھی اور یہ 1957 ءکی بات ہے،بے شک اس وقت ناظم آباد میں ہر طرف دھول اڑا کرتی تھی لیکن یہ ایک بڑی رنگ برنگ آبادی تھی، مختلف شبہ ہائے زندگی سے متعلق اہم افراد کا تعلق کسی نہ کسی دور میں ناظم آباد سے رہا، قریب ہی ایسٹرن فلم اسٹوڈیو اور سائٹ ایریا ہونے کی وجہ سے اس بستی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی تھی، پاکستان کے نامور آرٹسٹ اداکار لہری ، اداکار آزاد ، محمد علی، زیبا، اداکارہ ترنم ، موسیقار لعل محمد، اداکار ندیم اس بستی کے باسی رہے ہیں، شاعروں کا شمار خاصا مشکل ہے، چند مشہور ناموں میں صبا اکبر آبادی، اقبال صفی پوری، انور شعور،مشفق خواجہ، سحر انصاری، خواجہ رضی حیدر، حنیف اسعدی ، عبید اللہ علیم، انور سن رائےو عذرا عباس، مولانا ماہر القادری، انور دہلوی اور ان کے صاحب زادے اظہار حیدری کے نام اس وقت ذہن میں آرہے ہیں لیکن یہ کوئی مکمل فہرست نہیں ہے،معراج رسول صاحب نے جب جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز کیا تو وہ بھی ناظم آباد میں جناب حنیف اسعدی کے قریب ہی رہتے تھے، اس حوالے سے ایک بھرپور مضمون کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر ہماری نظر سے گزرا تھا جس میں ناظم آباد کا بھرپور تعارف اور اس بستی میں رہنے والے بے شمار غیر معمولی افراد کا تذکرہ تھا، یقیناً حضرت عقیل عباس جعفری نے اسے محفوظ کرلیا ہوگا۔

گولیمار یعنی گلبہار کے اختتام سے ناظم آباد کی حدود کا آغاز ہوجاتا ہے،یہاں کبھی ایک چورنگی ہوا کرتی تھی اور بعد میں ایک انڈر پاس بھی بن گیا تھا ، اس کے ساتھ ہی ملا احمد حلوائی کی دکان اور اس کے قریب ہی ایک بڑا بک اسٹال تھا، بک اسٹال کے مالک کا نام اب یاد نہیں رہا لیکن اخبارات و جرائد سے وابستہ پرانے افراد کو یاد ہوگا کیوں کہ وہ صاحب تقریباً تمام مدیران و پبلشرز سے رابطے میں رہتے تھے، گولیمار سے سیدھی سڑک چورنگی کو کراس کرتی ہوئی جناح کالج تک جاتی ہے جب کہ چورنگی سے دائیں ہاتھ پر مڑجائیں تو لیاقت آباد ڈاک خانہ پہنچ جائیں گے اور اگر بائیں جانب مڑ جائیں تو اورنگی نالا عبور کرکے بڑا بورڈ یا پاک کالونی پہنچ جائیں گے، اگر اس چورنگی سے دائیں طرف لیاقت آباد جانے والے راستے پر مڑجائیں تو چند قدم پر واقع دکانوں میں ابن صفی بی اے صاحب کا آفس تھا، اپنے زمانہ ءطالب علمی میں جب ہم نے صفی صاحب کو پڑھنا شروع کیا اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ یہیں چورنگی پر کہیں بیٹھتے ہیں تو ہم انہیں صرف دیکھنے کی خاطر کبھی کبھار اُدھر نکل جاتے تھے ۔

چورنگی سے اگلا اسٹاپ پٹرول پمپ کہلاتا تھا ، یہاں گورنمنٹ اسکول اور کالج اور بعد ازاں اس کے برابر ہی غالب لائبریری تعمیر ہوئی، یہاں ایک پیٹرول پمپ تھا جس کے عقب میں ماضی کی ایک اداکارہ ترنم کی رہائش تھی، پیٹرول پمپ کی چورنگی سے دائیں ہاتھ پر مڑجائیں تو سیدھی سڑک لیاقت آباد 10 نمبر تک پہنچتی ہے، اسی سڑک پر چوراہے کے قریب ہی ناظم آباد تھانہ ہے جس کے عقب میں طویل عرصے تک انور سن رائے اپنی بیگم عذرا عباس کے ساتھ مقیم رہے اور تھوڑا سا لیاقت آباد کی طرف آگے بڑھیں تو ایک مشہور کیفے لاروش ہوا کرتا تھا ، اس کے عقب میں عبیداللہ علیم رہا کرتے تھے۔

پیٹرول پمپ سے اگلا اسٹاپ ہادی مارکیٹ کہلاتا تھا،یہیں پر طویل عرصے سے تادم تحریر ملک کے نامور آرٹسٹ انعام راجا مقیم ہیں اور اب بھی یہاں سے کہیں اور جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

پیٹرول پمپ سے بائیں جانب جانے والی سڑک سیدھی سائٹ ایریا پہنچتی ہے لیکن درمیان میں 2 نمبر اسٹاپ سے دائیں طرف مڑ کر آپ سیدھے پاپوش نگر پہنچ جائیں گے،ہم پاپوش نگر کو بھی ناظم آباد کی ایکسٹینشن ہی سمجھتے ہیں، 2 نمبر اسٹاپ ایک ایسا مقام ہے جسے اُردو اسپیکنگ اور پشتو اسپیکنگ آبادی کا سنگم کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، اس اسٹاپ پر کسی زمانے میں ایک ایرانی ہوٹل ہوا کرتا تھا جس کا نام کیفے سبحان تھا ، سب طرح کے لوگ اس ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے اور یہ 24 گھنٹے کھلا رہتا تھا، ہماری بھی بے شمار راتیں اس ہوٹل میں گزری ہیں اور ہمارے ساتھ بہت سی مشہور شخصیات نے اس ہوٹل کی چائے پی۔کیفے سبحان سے دوسری گلی میں عزیزیہ مسجد ہے اس مسجد سے چند قدم آگے سینئر صحافی سید صفدر علی صفدر مقیم تھے اور مزید اسی گلی میں تھوڑا آگے بڑھ جائیں تو میٹرو چینل کے روح رواں عامر صاحب کے والد کی رہائش تھی اور دوسری منزل پر ہمارے محترم استاد اور دوست نیاز الدین احمد خان رہائش پذیر تھے، نیاز صاحب طویل عرصہ روزنامہ جنگ میں گزارنے کے بعد اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں، ایسے کثیر المطالعہ ہم نے کم کم دیکھے ہیں، انہوں نے ہمیں نت نئی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دی اور پھر ان کتابوں پر تبادلہ ءخیال بھی نیاز صاحب سے ہی ہوتا تھا، نیاز صاحب کی بیگم صفورا خیری کا تعلق برصغیر کی خیری فیملی سے ہے،ان کی والدہ نے خواتین کا مشہور رسالہ ”عصمت“ دہلی سے جاری کیا تھا، خیری فیملی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، علامہ راشد الخیری اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

عزیزیہ مسجد سے اگلی گلی سیدھی ریلیکس سنیما تک جاتی تھی اور اس سنیما کے عقبی حصے میں ایک پارک تھا ، پارک کے دائیں جانب جناب اقبال صفی پوری صاحب کا شاندار مکان تھا، اقبال صاحب اسی پارک میں سالانہ نعتیہ مشاعرے منعقد کیا کرتے تھے،اس پارک سے کچھ پہلے داستان ڈائجسٹ کا دفتر ہوا کرتا تھا، پارک کے بائیں طرف خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی رہائش اور آستانہ تھا، خان صاحب اور عظیمی صاحب روزنامہ حریت میں ساتھ کام کرچکے تھے لہٰذا دونوں کے درمیان برادرانہ مراسم تھے،عظیمی صاحب سے ہماری پہلی ملاقات خان آصف صاحب ہی نے کرائی تھی۔

 بڑا میدان کی طرف مڑنے والی سڑک پر بالکل ابتدا میں دائیں ہاتھ پر ایک مٹھائی کی دکان تھی اور اس کے آگے فٹ پاتھ پر ماموں اخبار والے کا بک اسٹال مشہور تھا، یہ بک اسٹال اور ماموں بھی ہماری زندگی میں خاصے اہم رہے ہیں، اس بک اسٹال پر اس زمانے کے تقریباً تمام ہی ڈائجسٹوں کے مالکان و مدیر آیا کرتے تھے، ارد گرد رہنے والے اکثر شاعر و ادیب یا فلم و تھیٹر سے متعلق افراد بھی اس اسٹال پر نظر آتے تھے، ہماری ماموں سے دعا سلام فلمی،ادبی اور ڈائجسٹ پرچوں کی وجہ سے ہوئی،اس زمانے میں ہمارے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ اپنے پسندیدہ اخبار و رسائل خرید کر پڑھیں، اسٹال پر پہنچ کر کوئی پرچا اٹھالیا اور کھڑے کھڑے ورق گردانی شروع کردی، ماموں 8 بجے شب کھانا کھانے اپنے گھر جایا کرتے تھے،شاید انہوں نے بھی اندازہ لگالیا تھا کہ ہم گاہک نہیں ہےں، کھڑے کھڑے مفت میں مزے لیتے ہیں، آخر ایک دن انہوں نے ہم سے کہا کہ میاں میں گھر جارہا ہوں، آپ کو جو بھی پڑھنا یہاں بیٹھ کر اطمینان سے پڑھیں اور اگر کوئی گاہک آئے تو اس سے بھی نمٹ لیں، اس طرح گویا ہماری لاٹری نکل آئی، ماموں کی واپسی عموماً رات 11 بجے سے پہلے نہیں ہوتی تھی، ماموں بھارتی فلموں کے دیوانے تھے اور خود بھی سہگل اور پنجکج ملک کے گانے گایا کرتے تھے، جب کبھی موڈ میں ہوتے تو اپنی گلوکاری سے ہمیں بھی فیضیاب کرتے، ماموں کے انتقال کو برسوں بیت گئے، آج اسی مقام پر ان کے سب سے بڑے صاحب زادے کا فٹ پاتھی بک اسٹال ہے۔

اسی اسٹال سے چند قدم آگے ایک دودھ ، لسی اور چائے کا ہوٹل ہوا کرتا تھا، کیفے عباس جو آج بھی ہے، اس کے بالمقابل ایک الیکٹرک اسٹور تھا جو بعد ازاں ”شہنائی میوزک ہاو ¿س“ میں تبدیل ہوگیا، اس کے مالک معین الدین ہمارے عزیز ترین دوستوں میں سے تھے کیوں کہ ان کے اور ہمارے کئی شوق مشترک تھے یعنی میوزک ، شطرنج اور مچھلی کا شکار اور اسی جگہ ہم نے خان آصف صاحب کے ساتھ شطرنج کی پہلی بازی کھیلی تھی، بعد ازاں اسی دکان میں یا دکان کے سامنے پڑی ہوئی بینچوں پر جو چائے کے ہوٹل والوں کی تھیں خان صاحب یا دیگر افراد کے ساتھ بیٹھک رہتی، مختلف اوقات میں اس بیٹھک کی جگہ تبدیل ہوتی رہی۔

عزیزان من! کیفے سبحان سے ماموں کے بک اسٹال تک اور تھوڑا آگے بڑھ کر شہنائی میوزک ہاو ¿س تک یا اس سے بھی آگے ممتاز نہاری تک کیسے کیسے لوگ نظر آتے تھے ، یہ سب اب ماضی کا قصہ ہے ایک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ان شاءاللہ اس حلقہ ءیاراں کے بہت سے واقعات اور دلچسپ باتیں ہماری یادداشتوں میں آتے رہیں گے۔

یکم اپریل 1981 ءکو ناظم آباد سی روڈ آپریشن شروع ہوا اور میئر کراچی عبدالستار افغانی نے تجاوزات کا خاتمہ کر ڈالا جس کے نتیجے میں اس پورے علاقے کا نقشہ ہی بدل گیا، اب ہماری نشتیں کبھی کسی کوئٹہ ہوٹل میں ہوتیں یا جناب خالد خُلد کے دفتر میں، خالد صاحب بہت سینئر صحافی تھے اور اخبار جہاں کے آغاز میں اس پرچے سے وابستہ رہے تھے بعد ازاں انہوں نے ”بلٹز کراچی“ کے نام سے ایک ہفت روزہ کا آغاز کیا اور آخر عمر تک اسی پر گزر بسر کرتے رہے،سخت مذہبی مزاج رکھتے تھے ، مختلف اوقات میں ان کے دفتر میں مختلف لوگ انہیں اسسٹ کرتے رہے اور صحافیانہ داو ¿ پیچ سیکھتے رہے، شام سات بجے ہی سے ان کے دفتر میں لوگوں کا آنا جانا شروع ہوجاتا تھا اور پھر رات بارہ ایک بجے تک محفل جاری رہتی، دنیا کا کون سا موضوع ایسا تھا جو اس محفل میں زیر بحث نہ آتا ہو اور کیسے کیسے لوگ دور دراز سے آکر شرکت کرتے، اگر خالد صاحب کے گھر سے اسی گلی میں سیدھے عباسی شہید اسپتال کی طرف سفر شروع کردیں تو درمیان میں مشفق خواجہ صاحب کا مکان آجاتا ہے جس کی تین منزلیں تھیں اور ان میں 13 کمرے تھے، 12 کمروں میں کتابیں اور ایک کمرے میں مشفق خواجہ اور ان کی بیگم رہائش پذیر تھے، اتوار کے علاوہ کوئی ان کے گھر پر نہیںجاسکتا تھا اور اتوار کو بھی مخصوص لوگ ہی حاضری دیا کرتے تھے، رات کا کھانا کھانے کے بعد خواجہ صاحب گھر سے نکلتے اور عباسی اسپتال کراس کرتے ہوئے نارتھ ناظم آباد تک پیدل مارچ کرتے، یہ ان کا برسوں کا معمول تھا، ایک مرتبہ شاید حلقہ ءارباب ذوق کی نشست میں خواجہ صاحب آئے ہوئے تھے ، ان دنوں سجاد میر نے کار لے لی تھی اور انہیں گھر تک چھوڑنے کی پیشکش کی تو خواجہ صاحب نے صاف انکار کردیا اور گرومندر سے ناظم آباد تک پیدل ہی روانہ ہوگئے۔

ناظم آباد کے کچھ چائے خانے صرف شاعروں کے لیے مخصوص تھے، ان میں سے ایک بڑا میدان پر بھی تھا جسے ایک صوفی صاحب چلاتے تھے ، صوفی ان کا تخلص تھا ، وہ باقاعدہ طور پر اہل تصوف میں سے نہیں تھے،پورا نام ہمیں کبھی معلوم نہیں ہوا، ہمارے ایک دوست ظہیر قریشی سے بہت مراسم تھے، وہی ہمیں ان کے چائے خانے میں لے گئے تھے اور پھر اکثر وہاں جانا آنا ہوتا رہا، علاقے کے غیر معروف شعرا کی تعداد وہاں زیادہ ہوتی تھی، مسلم زیبائی ، نگار فاروقی، واصل دہلوی، مہدی نجمی اور بہت سے نام جو اب ذہن میں نہیں رہے، اس محفل میں جو شعر سنے وہ بھی کبھی یاد نہیں رہے، سوائے ایک شعر جو واصل دہلوی کا ہے اور کمال ہے

بہت سے راستے آتے ہیں یوں تو دل کی طرف

رہِ خلوص سے آو ¿ تو فاصلہ کم ہے

واصل دہلوی نہایت مرنجان مرنج تھے اور نحیف آواز میں بات کرتے تھے، بعض مرتبہ ان کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے کان آگے بڑھانا پڑتا تھا، ان کے حالات یا غربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بڑا میدان میں ایک ٹھیلے پر صبح کے وقت حلوہ پوری کا ناشتہ لگایا کرتے تھے، عجیب لوگ تھے، ہم نے انہیں ہمیشہ خوش، مطمئن اور ہنستے مسکراتے دیکھا۔

خالد خُلد صاحب کا دفتر تو صحافت و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہمہ وقت دستیاب تھا ہی تقریباً یہی صورت حال ناظم آباد تھانے کے عقب میں انور سن رائے کے ڈرائنگ روم کی تھی، شاعر، ادیب، نقاد یہاں آتے جاتے رہتے تھے اور انور کا دروازہ کسی کے لیے بھی بند نہیں تھا، لاہور سے نثری نظم کے شاعر و نقاد مبارک احمد صاحب کراچی آتے تو انور کے ڈرائنگ روم ہی میں ڈیرا ڈال لیتے تھے ، یہ نشستیں اکثر رات رات بھر جاری رہتیں،ہم نے یہاں اردو ادب کے مشہور لوگوں کو دیکھا اور سنا، افتخار جالب، قمر جمیل، انیس ناگی، احمد ہمیش، جمال احسانی، سراج منیر، احمد فواد، محمد علی صدیقی، منیر نیازی، فاطمہ حسن ، عشرت آفریں، الغرض کون تھا جو اس ڈرائنگ روم میں نہ آیا ہو۔

ایک بار ہمیں بڑا زبردست جھٹکا لگا، جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو دیکھا، خاصی بڑی تعداد معروف لوگوں کی موجود ہے،ذکاءالرحمن اور جمال احسانی نمایاں تھے اور ایک خاتون اپنا مقالہ پڑھ رہی تھیں، سال ہمیں یاد نہیں لیکن یہ واقعہ سارا شگفتہ کی ناگہانی موت کے بعد کا ہے،شاید 1985-86 کا ، مقالہ پڑھنے والی خاتون ہو بہو سارا شگفتگہ نظر آرہی تھیں اور ہم آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ سارا نہیں ہے،جب مقالہ ختم ہوا تو عام بحث و مباحثہ شروع ہوگیا، بعدازاں چائے وغیرہ کا دور چلا اور جب سب رخصت ہوگئے تو ہم نے انور سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟کیا سارا زندہ ہوگئی؟ حسب معمول انور نے بڑے بزرگانہ انداز میں ہمیں دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں تم بڑے احمق ہو اور پھر صرف اتنا کہا کہ یہ پروین راو ¿ ہے، روحانی بانو کی بہن۔

بعد میں پروین سے بہت اچھے مراسم رہے اور آج تک ہیں ، اب تو موصوفہ نے خود پر وہ بڑھاپا طاری کیا ہے کہ بیان سے باہر ہے لیکن اس روز ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا کہ پروین راو ¿ سارا شگفتہ نہیں ہے،ایک موقع پر ہم نے ان سے سرگزشت کے لیے روحی بانو کی سرگزشت بھی لکھوائی کیوں کہ یہ کام صرف وہی کرسکتی تھیں، روحی بانو ان کی قریبی عزیز ہیں لہٰذا جتنا وہ روحی بانو کے بارے میں جانتی ہیں ، کوئی دوسرا نہیں جانتا۔

 پہلی بار جب وہ روحی کی سرگزشت لکھ کر لائیں تو ان کا انداز وہی روایتی سا تھا، ہم نے انہیں گائیڈ کیا کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور دوسری بار انہوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا، آج کل وہ بچوں کی مفت تعلیم کے حوالے سے ایک این جی او چلا رہی ہیں جس کا آغاز انہوں نے ”ایک روپیہ اسکول“ کے نام سے کیا تھا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

4 تبصرے

  1. پرویز بلگرامی

    ایسا لاجواب کہ شروع کرو تو ختم کرنے کے بعد تشنگی میں اضافہ ہی محسوس ہو اور اگلی قسط کا انتظار بڑھ جائے۔

  2. dilchacp hay ,rawan hay ,maloomati hay.

  3. بھائی انور فراز صاحب ،،، آپکی تحریر نے گویا ایک تیر میرے سینے میں مارا کے ہائے ہائے۔۔۔ آپکی ان محفلوں میں کسی حد تک میرا بھی گزر رہا ہے خصوصآؐ ناظم آباد کے مشہور سیف اللہ خان کے نادریہ ہوٹل کے تقریباؐ ساتھ ہی واقع ‘شمبے کے ہوٹل’ پہ میں بھی کبھی کبھی جابیٹھتا تھا حالانکہ نوخیزی کا زمانہ تھا اور نیم شب کی محافل میں جانے کی اجازت نہ تھی لیکن صاحب جنوں کے سو بہانے ۔۔۔ آپنے اپنی ان محفلوں کے چند اور رفیقوں کا تذکرہ نہیں کیا جن میں ایک شب خیز نامی ایک شاعر صآحب اور آصف نامی ترقی پسند نوجوان بھی ہوا کرتا تھا ۔۔۔ چائے خانے کی ان نشستوں میں کبھی کبھی الیس شاکر بھی شریک ہوا کرتے تھے جو کہ ان دنوں اپنی خستہ حال سی 70 ہنڈا بائیک پہ آہا کرتے تھے اورجو ان دنوں نہایت بونگے سے معلوم ہوتے تھے – ایک صاحب سیفی اور ایوب نام کے بھی تھے جو آپکے محلے ہی کے رہائشی تھے اور صحافی ہونے کے دعویدار تھے ۔۔۔ ان دنوں کے ناظم آباد کا تذکرہ تو بجائے خود نظمیہ صنف شہر آشوب کا موضوع ہے ۔۔۔ یہ اسی خرابے کی چنگاریاں تھیں کہ یادوں کے الاؤ کو روشن کرگئیں اور میں نے پہلے ساتوین قسط جیسے ہی پڑھی اسی نشست میں سابقہ شھ اقساط بھی پڑھ ڈالیں اور ایمان کی بات یہ ہے کہ سیرابی نہ ہوئی اور تشنگی ہل من مزید کی متقاضی ہے اور دل میں العطش العطش کی صدائیں بلند ہوئی جاتی ہیں ۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے