سر ورق / ناول / دوڑ۔ممتا کالیا

دوڑ۔ممتا کالیا

قسط نمبر 2

اشتہاری ایجنسی کا سارا نیٹ ورک خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کی وجہ سے، کئی دنوں سے راجُل کے اندر جو سوال جنم لے رہے تھے، ان پر وہ ابھیشیک کے ساتھ بات کرنا چاہتی تھی۔ پر ابھیشیک جب بھی گھر آتا، لمبی چوڑی باتوں کے موڈ میں ہرگز نہ ہوتا۔ بلکہ وہ چڑچڑا سا ہی لوٹتا۔ اس دن وہ کھانا کھا رہے تھے۔ ٹی وی چل رہا تھا۔ خبروں سے پہلے ”اسپارکل“ ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار نمودار ہوا۔ اس کی کاپی ابھیشیک نے تیار کی تھی۔

 انکور چلایا،”پاپا کا ایڈ، پاپا کا ایڈ۔“

یہ اشتہار آج پانچویں بار آیا تھا،پر وہ پوری توجہ سے دیکھ رہے تھے۔ اشتہار میں ایک پارٹی کا منظر تھا، جس میں ہیرو کے کچھ کہنے پر ہیروئن ہنستی ہے۔ اس ہنسی پر ہر دانت سے موتی گرتے ہیں۔ ہیرو انہیں اپنی ہتھیلی پر روک لیتا ہے۔ سارے موتی جمع ہو کر ”اسپارکل“ ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب بن جاتے ہیں۔ اگلے شاٹ میں ہیرو ہیروئن تقریباً بوسہ لینے جیسے ہو جاتے ہیں۔

ابھیشیک نے کہا،”راجُل کیسا لگا ایڈ؟“

” بس ٹھیک ہی ہے۔“راجُل نے کہا۔ اس کی کمزور سی آواز سے ابھیشیک کا مزاج اکھڑ گیا۔ اسے لگا راجُل اس کے کام کو زیرو دے رہی ہے،”ایسی شمشان گھاٹ جیسی آواز میں کیوں بول رہی ہو؟“

”نہیں، میں سوچ رہی تھی، اشتہارات کتنی مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ کسی کے ہنسنے سے پھول جھڑتے ہیں نہ موتی، پھر بھی محاورہ ہے کہ لکیر پیٹ رہا ہے۔“

”سچائی تو یہ ہے کہ ماڈل لینا بھی اسپارکل استعمال نہیں کرتی ہے۔ وہ مخالف کمپنی کاٹِکّو استعمال کرتی ہے۔ پر ہمیں سچائی نہیں، پروڈکٹ بیچنی ہے۔“

”پر لوگ تو تمہارے اشتہاروں کو ہی سچ مانتے ہیں۔ کیا یہ ان کے لئے یہ دھوکہ نہیں ہے؟“

” بالکل نہیں۔ آخر ہم ٹوتھ پیسٹ کی جگہ ٹوتھ پیسٹ ہی دکھا رہے ہیں، گھوڑے کی لید نہیں۔ تمام ٹوتھ پےسٹوں میں ایک سی چیزیں پڑی ہوتی ہیں۔ کسی میں رنگ زیادہ ہوتا ہے کسی میں کم۔ کسی میں جھاگ زیادہ، کسی میں کم۔“

”ایسے میں کاپی رائٹرکی اخلاقیات کیا کہتی ہیں؟“

”او شٹ۔ سیدھا سادہ ایک پروڈکٹ بیچنا ہے، اس میںتم اخلاقیات اور حقیقت جیسے بھاری بھرکم سوال میرے سر پر دے مار رہی ہو۔ میں نے آئی۔آئی۔ایم میں دو سال بھاڑ نہیں جھونکا۔ وہاں سے مارکیٹنگ سیکھ کر نکلا ہوں۔ آئی کین سیل اے ڈیڈ رےٹ (میں مردہ چوہا بھی بیچ سکتا ہوں) ۔یہ سچائی، اخلاقیات سب میں کلاس چہارم تک مورل سائنس میں پڑھ کر بھول چکا ہوا ہوں۔ مجھے اس طرح کی ڈوز مت پلایا کرو، سمجھیں؟“

راجُل من ہی من میں اسے گالی دیتی، برتن سمیٹ کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ ابھیشیک منہ پھیر کر سو گیا۔ اگلے دن پون آیا۔ وہ انکور کے لئے چھوٹا سا کرکٹ بیٹ اور گیند لایا تھا۔ انکور فوری طور پر بالکنی سے اپنے دوستوں کو آواز دینے لگا،”شبّو، رنجھن، جلدی آﺅ، بیٹ بال کھیلنا ہے۔“

ابھیشیک ابھی آفس سے واپس نہیں آیا تھا۔ راجُل نے دو گلاس کولڈ کافی بنائی۔ ایک گلاس پون کو تھما کر بولی،”تمہیں اشتہارات کی دنیا کیسی لگتی ہے؟“

”بہت اچھی، جادو بھری۔ راجُل، ملک کی ساری حسین لڑکیاں اشتہاروں میں چلی گئی ہیں، تبھی راجکوٹ کی سڑکوں پر ایک بھی حسینہ نظر نہیں آتی۔“

” الٹی سیدھی چھوڑو، سیریئسلی بولو،تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ مارکیٹنگ کے لئے بنائے جانے والے اشتہار جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔“

”مجھے ایسا نہیں لگتا۔ یہ تو مہم سازی ہے، اس میں سچ اور جھوٹ کی بات کہاں آتی ہے؟“

تبھی ابھیشیک بھی آ گیا۔ آج وہ اچھے موڈ میں تھا۔ اسکے ٹوتھ پےسٹ والے اشتہار کو بہترین اشتہار کا ایوارڈ ملا تھا۔ اس نے کہا،”راجُل، کل تم مجھے کنڈےم کر رہی تھیں، آج مجھے اسی کاپی پر ایوارڈ ملا۔“

” مبارک ہو۔“ پون اور راجُل نے ایک ساتھ کہا۔

”کل تو تم لعنتیں دے رہی تھیں۔ میری پر دادی کی طرح بول رہی تھیں۔“

”جب ایتھکس کی یعنی اخلاقیات کی بات آئے گی ،میں پھر کہوں گی کہ اشتہارجھوٹ بولتے ہیں۔ پر اب ایسا نہیں ہے کہ صرف تم ایسا کرتے ہو، سبھی ایسا کرتے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔“

”عوام کو آگاہی اور معلومات بھی تودیتے ہیں۔“پون نے کہا۔

”پر ساتھ میں عوام کی توقعات اور امیدوںکو بڑھا کر انکے پیسے بھی تو برباد کرواتے ہیں۔“راجُل نے کہا۔

” ہاں، ہاں، آج تک میں نے ایسا اشتہار نہیں دیکھا جو کہتا ہو یہ چیز نہ خریدیں۔“ابھیشیک نے کہا،” اشتہارات کی دنیا خرچ اور فروخت کی دنیا ہے۔ ہم خوابوںکے سوداگر ہیں، جو چاہے مارکیٹ جائے، خواب اور امیدوںسے بھری ٹیوب خریدلے۔ یہ اشتہاروں کا ہی کمال ہے کہ ہمارے تین افرادوالے گھر میں تین طرح کے ٹوتھ پیسٹ آتے ہیں۔ انکور کو دھاریوںوالا ٹوتھ پیسٹ پسند ہے، تمہیں اُس مزے والا اور مجھے سانس کی بو دور کرنے والا۔ ٹوتھ پیسٹ تو پھر بھی غنیمت ہے،تم کو معلوم ہے ڈٹرجنٹ کے اشتہاروں میں اور بھی اندھیر مچی ہے۔ ہم لوگ سونا ڈٹرجنٹ کی ایڈ فلم جب شوٹ کر رہے تھے تو سیورس کے کلین ڈٹرجنٹ سے ہم نے بالٹی میں جھاگ بنائے تھے۔ کلین میں سونا سے زیادہ جھاگ پیدا کرنے کی طاقت ہے۔“

پون نے کہا،”بے شک مارکیٹ کی معاشیات میں اخلاقیات جیسا لفظ لا کر، راجُل،تم صرف کنفیوژن پھیلا رہی ہو۔ میں نے اب تک پانچ سو کتابیں تو مینجمنٹ اور مارکیٹنگ پر پڑھی ہوں گی۔ ان میں اخلاقیات پر کوئی چیپٹر نہیں ہے۔“

اسٹیلا ،ڈمےلو انٹرپرائز کارپوریشن میں برابر کی پارٹنر تھی اور اس کی کمپنی گوجر گیس کمپنی کو کمپیوٹر سپلائی کرتی تھی۔ پہلے تو وہ پون کے لئے کاروباری خطوط پر محض ایک دستخط بھر تھی، پر جب کمپیوٹرکے دو ایک مسئلے مسائل سمجھنے، پون شلپا کے ساتھ اس کے آفس گیا، تو اس دبلی پتلی   ہنس مکھ لڑکی سے اس کا اچھا تعارف ہو گیا۔

اسٹیلا کی عمر مشکل سے چوبیس سال تھی، پر اس نے اپنے والدین کے ساتھ آدھی دنیا گھوم رکھی تھی۔ اس کی ماں سندھی اور باپ عیسائی تھا۔ ماں سے اسے گوری رنگت ملی تھی اور باپ سے تراشہ ناک نقشہ۔ جینز اور ٹاپ میں وہ لڑکا زیادہ اور لڑکی کم نظر آتی۔ اسکے آفس میں ہر وقت گہما گہمی رہتی۔ فون بجتے رہتے، فیکس آتے رہتے۔ کبھی کسی فیکٹری سے بیس کمپیوٹر کا ایک ساتھ آرڈر مل جاتا، کبھی کہیں کانفرنس سے بلاوا آ جاتا۔ اس نے کئی معاون رکھے ہوئے تھے۔ اپنے کاروبار کے ہر پہلو پر اسکی کڑی نظر رہتی۔

اس بار پون اپنے گھر گیا ،تو اس کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے نئے شہر اور کام کے بارے میں گھر والوں کو بتاتے وقت کئی بارا سٹیلا کا ذکر کر گیا ہے۔ سگھن بی ایس سی کے بعد ہارڈ ویئر کا کورس کر رہا تھا۔ پون نے کہا،”تم اس وقت میرے ساتھ راجکوٹ چلو، تمہیں میں ایسے کمپیوٹر ورلڈ میں داخلہ دلاو ¿ں گا کہ تمہاری آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔“

سگھن نے کہا،”جاﺅںگا تو حیدرآباد جاو ¿ں گا، وہ تو سائبر سٹی ہے۔“

”ایک بار تم انٹرپرائز جوائن کرو گے، تو دیکھو گے وہ سائبر سٹی سے کم نہیں۔“

ماں نے کہا،”اس کو بھی لے جاو ¿ گے تو ہم دونوں بالکل اکیلے رہ جائیں گے۔ ویسے ہی سینئر سٹیزن کالونی بنتی جارہی ہے۔ سبھی کے بچے پڑھ لکھ کر باہر جاتے جا رہے ہیں۔ ہر گھر میں، سمجھو، ایک بوڑھا، ایک بوڑھی، ایک کتا اور ایک گاڑی بس یہی رہ گیا ہے۔“

”الہ آباد میں کچھ بھی بدلہ نہیں ہے ماں۔ دو سال پہلے جیسا تھا ویسا ہی اب بھی ہے۔ آپ بھی راجکوٹ چلی آو ¿۔“

”اور تیرے پاپا؟ وہ یہ شہر چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں ہےں۔“

پاپا سے بات کی گئی۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ”شہر چھوڑنے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے بیٹے۔ اس سے اچھا ہے تم کسی ایسی کمپنی میں ہو جاو ¿ جو آس پاس ہی کہیں ہو۔“

” یہاں میرے لائق کام کہاں، پاپا۔ زیادہ سے زیادہ نینی میں نورامنٹ کی مارکیٹنگ کر لوں گا۔“

”دہلی تک بھی آ جاو ¿ تو اچھا ہے، دہلی آنا جانا بالکل مشکل نہیں ہے۔ رات کو پریاگراج ایکسپریس سے چلو، سویرے دہلی میں۔ کم از کم ہر ماہ تم کو دیکھ تو لیں گے۔ یا کلکتے آ جاو ¿۔ وہ تو بگ سٹی ہے۔“

”پاپا، میرے لئے شہر اہم نہیں ہے، کیریئر اہم ہے۔ ابھی کلکتے کو ہی لیجئے۔ کہنے کو میٹروپولیٹن ہے ،پر مارکیٹنگ کے نقطہ نظر سے بالکل لدّھڑ۔ کلکتہ میں پروڈیوسرز کی مارکیٹ ہے، کنزیومرزکی نہیں۔ میں ایسے شہر میں رہنا چاہتا ہوں جہاں کلچر ہو نہ ہو، کنزیومر کلچر ضرور ہو۔ مجھے ثقافت نہیں، صارفین چاہئےں، تبھی میں کامیاب رہوں گا۔“ اسکے ماں باپ کو پون کی باتوں نے افسردہ کر دیا۔ بیٹا اس امید کو بھی ختم کئے دے رہا تھا ،جس کی ڈور سے بندھے بندھے وہ اسے ٹائمز آف انڈیا کے دہلی ایڈیشن کے پیپر ڈاک سے بھیجا کرتے تھے۔

رات جب پون اپنے کمرے میں چلا گیا، راکیش پانڈے نے بیوی سے کہا،”آج پون کی باتیں سن کر مجھے بڑا دھکا لگا۔ اس نے تو گھر کے طور طریقوں کو بالکل ہی چھوڑ دیا۔“

 ریکھا دن بھر کے کام سے تھکی تھی،” پہلے تمہیں اندیشہ تھا کہ بچے کہیں آپ کی طرح پرانی سوچ والے نہ بن جائیں۔ اسی لیے اسے ایم بی اے کرایا۔ اب وہ حقیقت پسندانہ بن گیا ہے کہ تو تکلیف ہو رہی ہے۔ جہاں جیسی نوکری کر رہا ہے، وہیں کی سوچ تو اختیار کرے گا۔“

 ”یعنی تمہیں اس کے رویے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔“راکیش حیران ہوئے۔

 ”دیکھو، ابھی اسکی نئی نئی نوکری ہے۔ اس میں اسے پاو ¿ں جمانے دو۔ گھر سے دور جانے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بچہ گھر بھول گیا ہے۔ کس طرح میری گود میں سر رکھ کر دوپہر کو لیٹا ہوا تھا۔ ایم اے، بی اے کرکے یہیں جوتیاں چٹخاتا رہتا، تب بھی تو ہمیں پریشانی ہوتی۔“

ریکھا کے چچا کا لڑکا بھی ناگپور میں مارکیٹنگ منیجر تھا۔ اسی لئے اس کو تھوڑا بہت اندازہ تھا کہ اس فیلڈمیں کتنا سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ وہ ایک بیکار سے اسکول میں ٹیچر تھی۔ اس کےلئے بیٹے کی کامیابی فخر کا ذریعہ تھی۔ اس کی ساتھیوں کے بچے پڑھائی کے بعد طرح طرح کی جدوجہدوں میں لگے تھے۔کوئی آئی۔اے۔ایس، پی۔ سی۔ایس کے امتحانوں کو پار نہیں کر پا رہا تھا، تو کسی کو بینک کا امتحان ستا رہا تھا۔ کسی کا بیٹا بہت سے انٹرویوز میں ناکام ہونے کے بعد کسی لت میں پڑ گیا تھا ،تو کسی کی بیٹی ہر سال پی۔ایم ۔ٹی میں اٹک جاتی۔ زندگی کے پچپن ویںسال میں ریکھا کو یہ سوچ کر بہت اچھا لگتا کہ اس کے دونوں بچے پڑھائی میں اول رہے اور انہوں نے خود ہی اپنے کیریئر کی سمت متعین کر لی۔ سگھن ابھی چھوٹا تھا، پر وہ بھی جب اپنے کیریئر پر غور کرتا، تواس کو شہروں میں ہی امکانات نظر آتے۔ وہ دوستوں سے مانگ کر ملکی و غیر ملکی کمپیوٹر جرنل پڑھتا۔ اس کا زیادہ وقت ایسے دوستوں کے گھروں میں گزرتا جہاں کمپیوٹر ہوتا۔

راکیش بولے،”تم سمجھ نہیں رہی ہو۔ پون کے بہانے ایک پوری کی پوری نوجوان نسل کو پہچانوں۔ یہ اپنی جڑوں سے کٹ کر جینے والے لڑکے سماج کی کیسی تصویر تیار کریں گے۔“

”اور جو جڑوں سے جڑے رہے ہیں، انہوں نے ان سترسالوں میں کون سا بدلاﺅ کر دیا ہے۔ تمہیں اتنی ہی تکلیف ہے تو کیوں کروایا تھا پون کو ایم بی اے۔ گھر کے برآمدے میں دکان کھلوا دیتے، ماچس اور صابن بیچتا رہتا۔“

”تم مورکھ ہو، ایسا بھی نہیں لگتا مجھے، بس میری بات کاٹناتم کو اچھا لگتا ہے۔“

”اچھا اب سو جاو ¿۔ اور دیکھو، صبح پون کے سامنے پھر یہی بحث مت چھیڑ دینا۔ چار روز کے لیے بچہ گھر آیا ہے، راضی خوشی رہے، راضی خوشی جائے۔“

ریکھا نے رات کو تو بیٹے کی حمایت کی، پر اگلے دن اسکول سے گھر واپس آئی، تو پون سے اس کی کھٹ پٹ ہو گئی۔ دوپہر میں دھوبی کپڑے استری کر کے لایا تھا۔ آٹھ کپڑوں کے بارہ روپے ہوتے تھے، پر دھوبی نے سولہ مانگے۔ پون نے سولہ روپے دے دیے۔ پتہ چلنے پر ریکھا اکھڑ گئی۔ اس نے کہا، ”بیٹے، کپڑے لے کر رکھ لینے تھے، حساب میں اپنے آپ کرتی۔“

 پون بولا،”ماں کیا فرق پڑا، میں نے دے دیے۔“

ریکھا نے کہا،”ٹورسٹ کی طرح تم نے اسے من مانے پیسے دے دیے، وہ اپنا ریٹ بڑھا دے گا ،تو روز بھگتنا تو مجھے پڑے گا۔“

پون کو ٹورسٹ لفظ پتھر کی طرح چبھ گیا۔ اس کے سنہرے بالوں والا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا،”ماں، آپ نے مجھے ٹورسٹ کہہ دیا۔ میں اپنے گھر آیا ہوں، ٹور پر نہیں نکلا ہوں۔“

شام تک پون کچکچاتا رہا۔ اس نے باپ سے شکایت کی۔ باپ نے کہا،”یہ نہایت بے سروپا سی بات ہے۔ تم کیوں پریشان ہو رہے ہو۔ تمہیں پتہ ہے تمہاری ماں کی زبان بے لگام ہے۔ چھوٹی سی بات پر سخت سی بات جڑ دیتی ہے۔“

نوکری لگ جانے کے ساتھ ہی پون بہت نازک مزاج ہو گیا تھا۔ اسے آفس میں اپنے تسلط اور پاورکی یاد آئی،”دفتر میں سب مجھے پون سر یا پھر مسٹر پانڈے کہتے ہیں۔ کسی کی ہمت نہیں کہ میرے حکم کی خلاف ورزی کرے۔ گھر میں کسی کو اپنی مرضی سے میں چار روپے نہیں دے سکتا۔“

ریکھا سہم گئی،”بیٹے، میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ میں تو صرف یہ کہہ رہی تھی کہ کپڑے روز استری ہوتے ہیں، ایک بار ان لوگوں کو زیادہ پیسہ دے دو، تو یہ بالکل سر چڑھ جاتے ہیں۔“اور بھی چھوٹی چھوٹی کتنی ہی باتیں تھیں، جن میں ماں بیٹے کا نقطہ نظر کافی مختلف تھا۔

پون نے کہا،”ماں، میرا جنم دن اس بار یوں ہی نکل گیا۔ آپ نے فون کیا پر گریٹنگ کارڈ نہیں بھیجا۔“

ریکھا حیران رہ گئی،”بیٹے گریٹنگ کارڈ تو باہری لوگوں کو بھیجا جاتا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری سالگرہ ہم کس طرح مناتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح میں مندر گئی، اسکول میں سب کو مٹھائی کھلائی، رات کو تمہیں فون کیا۔“

”میرے تمام کولیگزہنسی اڑا رہے تھے کہ تمہارے گھر سے کوئی گریٹنگ کارڈ نہیں آیا۔“

ماں کو لگا انہیں اپنے بیٹے سے محبت کرنے کا کوئی نیا طریقہ سیکھنا پڑے گا۔ مشکل سے پانچ دن ٹھہرا پون ۔ ریکھا نے سوچا تھا اس کی پسند کی کوئی نہ کوئی ڈش روز بنا کر اسے کھلائے گی۔ پر پہلے ہی دن اس کا پیٹ خراب ہو گیا۔

پون نے کہا،”ماں، میں لیمونیڈ کے سوا کچھ نہیں لوں گا۔ دوپہر کو تھوڑی سی کھچڑی بنا دینا۔ اور پانی کون سا استعمال کرتے ہیں آپ لوگ؟“

”وہی جو تم پیدائش سے پیتے آئے ہو، گنگا جل آتا ہے ہمارے نل میں۔“ریکھا نے کہا۔

”اس کے بعد سے اب تک گنگا جی میں نہ جانے کتنا پاخانہ پیشاب شامل ہو چکا ہے۔ میں تو کہوں گا یہ پانی آپ کے لئے بھی مہلک ہے۔ فلٹر کیوں نہیں لگاتے؟“

”یاد کرو، تم ہی کہا کرتے تھے فلٹر سے اچھا ہے ہم اپنے جسمانی نظام کی مزاحمتی طاقت میں اضافہ کریں۔“

"وہ یہ سب فضول کی جذباتی باتیں تھیںماں۔ تم اس پانی کی ایک بوند اگر خوردبین کے نیچے دیکھ لو تو کبھی نہ پیو۔“

 پون کو اپنی جنم بھومی کا پانی راس نہیں آ رہا تھا۔ شام کو پون نے سگھن سے بارہ بوتلیں منرل واٹر منگوایا۔ باورچی خانے کے لئے ریکھا نے پانی ابالنا شروع کیا۔ نل کا پانی زہر آلود ہو گیا۔ ملک میں پردیسی ہو گیاپون۔

طبیعت کچھ سنبھلنے پر اس نے اپنے پرانے دوستوں کی تلاش کی۔ پتہ چلا کہ زیادہ تر یاتوشہر چھوڑ چکے ہیں یا اس قدر روکھے اور اجنبی ہو گئے ہیں کہ ان کے ساتھ دس منٹ بِتانا بھی سزا برابر ہے۔

پون نے دکھی ہو کر پاپا سے کہا،”میں ناحق اتنی دور آیا۔ سگھن سارا دن کمپیوٹر سینٹروں کی خاک چھانتا ہے۔ آپ اخبارات میں لگے رہتے ہیں۔ ماں صبح کی گئی شام کو لوٹتی ہیں۔ کیا ملا مجھے یہاں آ کر؟“

”تم نے ہمیں دیکھ لیا، کیا یہ کافی نہیں؟“

”یہ کام تو میں انٹرپرائز کے سیٹلائٹ فون سے بھی کر سکتا تھا۔ مجھے لگتا ہے یہ شہر اب ہر گز وہ نہیں جسے میں چھوڑ کر گیا تھا۔“

”شہر اور گھر رہنے سے ہی بستے ہیں، بیٹا۔ اب اتنی دور ایک نامعلوم مقام کو تم نے اپنا ٹھکانہ بنایا ہے۔ پرائی زبان، پرائے پہناوے اور پرائے کھانے کے باوجود وہ تمہیں اپنا لگنے لگا ہے۔“

”سچ تو یہ ہے پاپا جہاں ہر ماہ تنخواہ ملے، وہی جگہ اپنی ہوتی ہے اور کوئی نہیں۔“

”صرف پیسوں سے زندگی نہیں کٹتی پون، اس میں تھوڑا سا فلسفہ، تھوڑی سی روحانیت اور ڈھیر ساری جذباتیت بھی پنپنی چاہئے۔“

”آپ کو پتہ نہیں دنیا کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اب مذہب، فلسفہ، اور روحانیت زندگی میں ہر وقت رسنے والے پھوڑے نہیں ہیں۔ آپ سرل مارگ کے کیمپ میں کبھی جا کر دیکھئے۔ چار پانچ دن کا کورس ہوتا ہے، وہاں جا کر آپ مےڈیٹےشن کیجیے اور چھٹے دن واپس اپنے کام سے لگ جائیے۔ یہ نہیں کہ ڈی سی بجلی کی طرح ہمیشہ کے لئے اس سے چپک جائیے۔“

” تم نے تو ہر چیز کی پیکیجنگ ایسی کر لی ہے کہ جیب میں سما جائے۔بھگتی کے کیپسول بنا کر بیچتے ہیں آج کل کے یہ مذہبی رہنما۔ صبح صبح ٹی وی کے تمام چینلز پر کوئی نہ کوئی گرو، پروچن دیتا نظرآتاہے۔ پر ان میں وہ بات کہاں جو شنکرآچاریہ میں تھی یا سوامی وویکانند میں۔“

”ہر پرانی چیز آپ کو بہترین لگتی ہے، یہ آپ کی نظر کا قصور ہے، پاپا۔ اگر ایسا ہی ہے تو جدید چیزوں کا آپ استعمال بھی کیوں کرتے ہیں، پھینک دیجئے اپنا ٹی وی سیٹ، ٹیلی فون اور ککنگ گیس۔ آپ نئی چیزوں کامزہ بھی لوٹتے ہیں اور ان پر تنقید بھی کرتے ہیں۔“

”پون، میری بات صرف چیزوں تک نہیں ہے۔“

”مجھے پتہ ہے۔ آپ روحانیت اور مذہب پر بول رہے تھے۔آپ کبھی میرے سوامی جی کو سنیے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے یہی سمجھایا ہے کہ مذہب جہاں ختم ہوتا ہے، روحانیت وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ آپ بچپن میں مجھے شنکر آچاریہ جی کا لیکچر سمجھاتے تھے۔ میرے کچھ پلے نہیں پڑتا تھا۔ آپ نے زندگی میں مجھے بہت کنفیوز کیا ہے، پر سرل مارگ میں بالکل سیدھی، سچی، حقیقت پسندانہ باتیں بتائی جاتی ہیں۔“

والد مجروح نظروں سے دیکھتے رہ گئے۔ ان کے بیٹے کی شخصیت میںمادیت، روحانیت اور حقیقت پسندی کی کیسی سہ رخی دھارا بہہ رہی ہے۔

راجکوٹ آفس سے پون کے لئے ٹرنک کال آئی کہ پیر کو وہ سیدھا احمد آباد آفس پہنچے۔ تمام مارکیٹنگ منیجروں کی اعلی سطحی ملاقات تھی۔ پون کا من اچانک جوش سے بھر گیا۔ گزشتہ گذرے پانچ دن پانچ سالوں کی طرح گزرے تھے۔ پرجاتے جاتے وہ گھر والوں لئے بہت جذباتی ہو گیا۔

”ماں، آپ راجکوٹ آنا۔ پاپا، آپ بھی۔ میرے پاس بڑا سا فلیٹ ہے۔ آپ کوذرا بھی دقت نہیں ہوگی۔ اب تو کک بھی مل گیا ہے۔“

”اب تیری شادی بھی کر دیں، کیوں۔“ریکھا نے پون کا من ٹٹولا۔

”ماں، شادی ایسے تھوڑے ہی ہوگی۔ پہلے تم میرے ساتھ سارا گجرات گھومو۔ ارے وہاں میرے جیسے لڑکوں کی بڑ ی مانگ ہے۔ وہاں کے گجراتی لڑکے بڑے دبکو کھِسّوسے ہوتے ہیں۔ میرا تو پاپا جیسا قد دیکھ کر ہی لٹو ہو جاتے ہیں سب۔“

”کوئی لڑکی دیکھ رکھی ہے کیا؟“ریکھا نے کہا۔

”ایک ہو تو نام بتاو ¿ں۔ تم آنا ،تمہیں سب سے متعارف کرا دوں گا۔“

”پر شادی تو ایک ہی کرنی ہوتی ہے۔“

پون ہنسا اوربھائی کو لپٹاتا ہوا بولا،”جان ٹماٹر، تم کب آو ¿ گے۔“

”پہلے اپنا کمپیوٹر بنا لوں۔“

”اس میں تو بہت دن لگیں گے۔“

"نہیں بھیا، ممی ایک بار دہلی جانے دیں تو نہرو پیلس سے باقی کے سب لوازمات لے آو ¿ں۔“

”لے یہ ہزار روپے تو رکھ لے کام آئیں گے۔“

میٹنگ میں حصہ لینے والے تمام اراکین کو پریسیڈنسی میں ٹھہرایا گیا تھا۔ دو دنوں کے چار سیشنوں میں مارکیٹنگ کے تمام پہلوو ¿ں پر کھل کر بحث ہوئی۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ ایندھن جیسی ضروری چیز کو بھی” آپشنل کنزیومر کونٹین“کے زمرے میں رکھ کر اس کے پھیلاو ¿ اور ترقی کا پروگرام تیار کیا جا رہا تھا۔ بہت سی ایندھن کمپنیاں میدان میں آ گئیں تھیں۔ کچھ کثیر القومی تیل کمپنیاں ایل۔پی۔جی یونٹ کھول چکی تھیں، کچھ کھولنے والی تھیں۔ دوسری طرف کچھ صنعت کاروں نے بھی ایل۔پی۔جی بنانے کے حقوق حاصل کر لئے تھے۔ اس سے مقابلہ تو بڑھ ہی رہا تھا۔ کاروباری صارفین بھی کم ہو رہے تھے۔ نجی صنعتکار موٹا بھائی نانوبھائی ،اپنے تمام کارخانوں میں اپنی پیداشدہ ایل۔پی۔جی ہی استعمال کر رہے تھے۔ جبکہ پہلے وہاں جی۔جی۔سی۔ایل کی سلنڈر گیس جاتی تھی۔ کثیر القومی کمپنی کی فطرت تھی کہ شروع میں وہ اپنی مصنوعات کی قیمت بہت کم رکھتی ہے۔ جب اس کا نام اورمعیار لوگوں کی نگاہوں میں چڑھ جاتے ہیں،تووہ آہستہ سے اپنا دام بڑھا دیتی ہے۔ جی۔جی۔سی۔ایل کے مالکان کے لئے یہ سب تبدیلیاں سردرد پیدا کر رہی تھیں۔ انہوں نے صاف طور پر کہا،”گزشتہ پانچ سال میں کمپنی کو ساٹھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ ہم آپ سب کو صرف دو سال دیتے ہیں۔ یا توخسارہ کم کیجیے یا اس یونٹ کو بند کیجئے۔ ہمارا کیا ہے، ہم ڈینم بیچتے تھے، ڈینم بیچتے رہیں گے۔ پر یہ آپ لوگوں کافیلیئرہوگا کہ اتنی بڑی بڑی ڈگریاں اور تنخواہ لے کر بھی آپ نے کیا کیا۔ آپ اسٹڈی کیجیے ایسا کیا ہے، جو اےسّو اور شیل میںہے اور جی۔جی۔سی۔ایل میں نہیں۔ وہ بھی ہندوستانی ملازمین سے کام لیتے ہیں، ہم بھی۔ وہ بھی وہی لال سلنڈر بناتے ہیں اور ہم بھی۔“

نوجوان منیجروں میں ایم۔ڈی کی اس تقریر سے کھلبلی مچ گئی۔ ایل۔پی۔جی محکمے کے حکام کے چہرے اتر گئے۔ اختتامی سیشن شام سات بجے ختم ہوا۔ تب بہتوں کو لگا جیسے یہ ان کی الوداعی تقریب بھی ہے۔

 پون بھی تھوڑا اکھڑ گیا۔ وہ اپنی رپورٹ بھی پیش نہیں کر پایا کہ سوراشٹر کے کتنے گاو ¿ں میں اسکے یونٹ نے نئے آرڈرلئے اور کہاں کہاں سے دیگر کمپنیوں کونکال باہر کیا۔ رپورٹ کی ایک کاپی اس نے ایم ڈی کے سکریٹری گائیک واڑ کو دے دی۔

راجکوٹ جانے سے پہلے ابھیشیک سے بھی ملنا تھا۔ انوپم اس کے ساتھ تھا۔ انہوں نے گھر فون کیا۔ پتہ چلا ابھی دفتر سے نہیں آیا۔

وہ دونوں آشرم روڈ اس کے دفتر کی طرف چل دیے۔ انوپم نے کہا،”میں تو گھر جا کر سب سے پہلے اپنا بایو ڈیٹا اپ ٹو ڈیٹ کرتا ہوں۔ لگتا ہے یہاں سے چھٹی ہونے والی ہے۔“

 پون ہنسا،”کثیر القومی کمپنیوں سے جدوجہد کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ ان میں خود گھس جاو ¿۔“

انوپم نے خوشی کا اظہار کیا،”واہ بھائی، یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔“

ابھیشیک اپنا کام سمیٹ رہا تھا۔ دوستوں کو دیکھ چہرہ کھل اٹھا۔

”گزشتہ بارہ گھنٹے سے میں اس بھوت پریت کے آگے بیٹھا ہوں۔“اس نے اپنے کمپیوٹر کی طرف اشارہ کیا،” اب میں اور نہیں جھیل سکتا۔ چلو کہیں بیٹھ کر کافی پیتے ہیں، پھر گھر چلیں گے۔“

وہ کافی ہاو ¿س میں اپنے مستقبل سے زیادہ اپنی کمپنیوں کے مستقبل کی فکر کرتے رہے۔ابھیشیک نے کہا،” پرائیوٹ سیکٹر میں بدترین بات یہی ہے، نتھینگ از آن پیپر۔ ایم ڈی نے کہا خسارہ ہے تو ماننا پڑے گا کہ خسارہ ہے۔ پبلک سیکٹر میں ملازم سر پر چڑھ جاتے ہیں، پائی پائی کا حساب دکھانا پڑتا ہے۔“

پھر بھی پبلک سیکٹر میں بیمار یونٹس کی تعداد بےشمار ہے۔ نجی شعبے میں ایسا نہیںہے۔“

ابھیشیک ہنسا،”مجھ سے زیادہ کون جانے گا۔ میرے پاپا اور چچا دونوں پبلک سیکٹر میں ہیں۔ آج کل دونوں کی کمپنیاں بند پڑی ہیں۔ پر پاپا اور چچا دونوں بے فکر ہیں۔ کہتے ہیں لیبر کورٹ سے جیت کر ایک ایک پیسہ وصول کر لیں گے۔“

ابھیشیک کی کمپنی کی ساکھ اونچی تھی اور ابھیشیک وہاں پانچ سال سے تھا ،پر کام کی وجہ سے عدمِ ِتحفظ کا احساس اسے بھی تھا۔ یہاں ہر دن اپنی کامیابی کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ کئی بار کلائنٹ کو پسند نہ آنے پر اچھی بھلی کاپی میں تبدیلیاں کرنی پڑتیں، تو کبھی پوراپروجیکٹ ہی کینسل ہو جاتا۔ تب اسے لگتا وہ ناحق تشہیر کے کام میں پھنس گیا، کوئی سرکاری نوکری کی ہوتی تو چین کی نیند سوتا۔ پر پٹری تبدیل کرنا ریلوں کے لئے ناممکن ہوتا ہے، زندگی کے لئے ناقابل ِ عمل۔ اب یہ اس کی جانی پہچانی دنیا تھی، اسی میں جدوجہد اور کامیابی مضمر تھی۔ ابھیشیک نے ڈیلائٹ سے چلی پنیر پیک کروایا کہ گھر چل کر کھانا کھائیں گے۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئے دیکھا راجُل اور انکور باہر جانے کے لئے بنے ٹھنے بیٹھے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی وہ چہک کر بولے،”آہا، آپ آ گئے۔ چلو آج باہر کھانا کھائیں گے۔ انکور شام سے ضد کر رہا ہے۔“

ابھیشیک نے کہا،”آج گھر میں ہی کھاتے ہیں، میں سبزی لے آیا ہوں۔“

راجُل بولی، "تم نے صبح وعدہ کیا تھا کہ شام کو باہر لے چلو گے۔ سبزی ریفریجریٹر میں رکھ دیتے ہیں، کل کھائیں گے۔“

راجُل تالے لگانے میں مصروف ہو گئی۔ ابھیشیک نے پون اور انوپم سے کہا،”سوری یار، کبھی کبھی گھر میں بھی کاپی غلط ہو جاتی ہے۔“

تینوں تھکے ہوئے تھے۔ پون نے تو اٹھارہ سو کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔ پر راجُل اور انکور کا جوش ٹھنڈا کرنا، انہیں بیدردی لگی۔

اسٹیلا اور پون نے اپنی جنم پتریاں کمپیوٹر سے میچ کیں، تو پایا چھتیس میں سے چھبیس گن ملتے ہیں۔ پون نے کہا،”لگتا ہے تم نے کمپیوٹر کو بھی رشوت دے رکھی ہے۔“

اسٹیلا بولی،”یہ پنڈت تو بغیر رشوت کے کام کر دیتا ہے۔“ کشش، دوستی اور دلجوئی کے بیچ کچھ دیر کے لیے، انہوں نے یہ بھلا ہی دیا کہ اس رشتے کے دور رس نتائج کس پرکار بیٹھیں گے۔

اسٹیلا کے والدین آج کل شکاگو گئے ہوئے تھے۔ اسٹیلا کے ای میل لیٹر کے جواب میں انہوں نے ای میل سے مبارکباد بھیجی۔ پون نے والدین کو فون پر بتایا کہ اس نے لڑکی پسند کر لی ہے اور وہ اگلے ماہ یعنی جولائی میں ہی شادی کر لیں گے۔

پانڈے خاندان پون کی خبر پر گم سم رہ گیا۔ نہ انہوں نے لڑکی دیکھی تھی، نہ اس کا گھر بار۔ ہنگامی طور پر ان کے دماغ میں سب سے پہلے شک پیدا ہوا۔ راکیش نے بیوی سے کہا،”پنّو کے دماغ میں ہر بات فتور کی طرح اٹھتی ہے۔ ایسا کرو، آپ ایک ہفتے کی چھٹی لے کر راجکوٹ ہو آو ¿۔ لڑکی بھی دیکھ لینا اور پنّو کو بھی ٹٹول لینا۔ شادی کوئی چار دنوں کا کھیل نہیں، ہمیشہ کا رشتہ ہے۔ انٹر سے لے کر اب تک درجنوں دوستیں رہی ہیں پنّو کی، ایسا جھٹ پٹ فیصلہ تو اس نے کبھی نہیں کیا۔“

”تم بھی چلو، میں اکیلی کیا کر لوں گی۔“

”میں کیسے جا سکتا ہوں۔ پھر پنّو سب سے زیادہ تمہیں مانتا ہے، تم ہو آﺅ۔“

 راستے بھر ریکھا کو لگتا رہا کہ جب وہ راجکوٹ پہنچے گی ،تب پو ن تالی بجاتے ہوئے کہے گا،”ماں، میں نے یہ مذاق اسی لئے کیا تھا کہ تم دوڑی چلی آﺅ۔ ویسے تو تم آتی نہیں۔“

اس نے اپنے آنے کی خبر بیٹے کو نہیں کی تھی۔ دل میں اسے حیران کرنے کا جوش تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ اسے پریشان نہ ہونا پڑے۔ احمد آباد سے راجکوٹ ،بس کاسفر اسے بھاری پڑا۔ تیز رفتار ی کے باوجود تین گھنٹے آرام سے لگ ہی گئے۔ ڈائری میں لکھے ایڈریس پر جب وہ اسکوٹر سے پہنچی تو چھ بج چکے تھے۔ پون تبھی آفس سے واپس آیا تھا۔ انوپم بھی اس کے ساتھ تھا۔ اسے دیکھ کر پون خوشی سے پاگل ہو اٹھا۔ بانہوں میں اٹھا کر اس نے ماں کو پورے گھر میں نچا دیا۔ انوپم نے جلدی سے خوب میٹھی چائے بنائی۔ تھوڑی دیر میں اسٹیلا بھی وہاں آ ن پہنچی۔

پون نے اسکا تعارف کرایا۔ اسٹیلا نے ہیلو کیا۔ پون نے کہا،”ماں، اسٹیلا میری بزنس پارٹنر، لائف پارٹنر، روم پارٹنر تینوں ہے۔“

انوپم بولا،” ہاں، اب جی۔جی۔جی۔ایل چاہے بھاڑ میں جائے۔ تم تو انٹرپرائز کے سلیپنگ پارٹنر بن گئے۔“

اسٹیلا نے کہا،” پون ڈارلنگ، جتنے دن میم یہاں ہیں ،میں مسز چھجنانی کے یہاں سوﺅںگی۔“

اسٹیلا رات کے کھانے کا انتظام کرنے باورچی خانے میں چلی گئی۔ پھر پون اس کو چھوڑ نے مسز چھجنانی کے گھر چلا گیا۔ پون کو کچھ کچھ اندازہ تھا کہ ماں سے بات کرنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ اس نے انوپم کو ثالث کی طرح ساتھ بٹھائے رکھا۔

بارہ بجے انوپم کا صبر ختم ہو گیا۔ اس نے کہا،”بھائی میں سونے جا رہا ہوں۔ صبح آفس بھی جانا ہے۔“

کمرے میں اکیلے ہوتے ہی ریکھا نے کہا،”پنّو یہ بیکار سی لڑکی تجھے کہاں مل گئی؟“

پون نے کہا،”تمہیں تو ہر لڑکی بیکار نظر آتی ہے۔ اس کا لاکھوں کا کاروبار ہے۔“

”پر لگتی تو دو کوڑی کی ہے۔ یہ تو بالکل تمہارے لائق نہیں۔“

”یہی بات تمہارے بارے میں دادی ماں نے پاپا سے کہی تھی۔ کیا انہوں نے دادی ماں کی بات مانی تھی، بتائیے۔“

 ریکھا کا پوراوجود اذیت سے بھر اٹھا۔ اس کا اپنا بیٹا، اب کل کی اس چھوکری کا مقابلہ اپنی ماں سے کر رہا ہے اور ان سب باتوں کا غلط استعمال کر رہا ہے جو گھر کا فرد ہونے کی وجہ سے اس کے پاس ہیں۔

”میں نے تو ایسی کوئی لڑکی نہیں دیکھی ،جو شادی سے پہلے ہی شوہر کے گھر میں رہنے لگے۔“

"تم نے دیکھا کیا ہے ماں؟ کبھی الہ آباد سے نکلو تو دیکھوگی نہ۔ یہاں گجرات، سوراشٹر میں شادی طے ہونے سے پہلے لڑکی مہینے بھر سسرال میں رہتی ہے۔ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے طور طریقے سمجھنے کے بعد ہی شادی کرتے ہیں۔“

”پر یہ سسرال کہاں ہے؟“

”ماں،ا سٹیلا اپنا کاروبار چھوڑ کر تمہارے قصبے میں تو جانے سے رہی۔ اس کا ایک ایک دن قیمتی ہے۔“

 ریکھا بھڑک گئی،”ابھی تو یہ بھی طے نہیں ہے کہ ہم اس رشتے کے حق میں ہیں یا نہیں۔ ہماری رائے کا تمہارے لئے کوئی مطلب ہے یا نہیں۔“

”بالکل ہے تبھی تو تمہیں خبر کی، نہیں تو اب تک ہم نے سوامی جی کے آشرم میں جا کر شادی کر لی ہوتی۔“

”بالکل غلط بات کر رہے ہو پنّو، یہی سب سنانے کے لئے بلایا ہے مجھے۔“

”اپنے آپ آئی ہو۔ بغیر خبر دیے۔ تمہارے ارادے بھی مشکوک تھے۔ تمہیں میرا ٹائم ٹیبل پوچھ لینا چاہئے تھا۔ مان لو اگر میں باہر ہوتا۔“

ریکھا کو رونا آ گیا۔ پون پر ناخوشگوار حقیقت کا دورہ پڑاتھا، جس کے تحت اس نے اپنی شکایتوں کے ترشول سے اسے زخمی کر دیا۔

”میں صبح واپس چلی جاو ¿ں گی، کوئی ڈھنگ کی گاڑی نہیں ہوگی، تو مال گاڑی میں چلی جاو ¿ں گی پر اب ایک منٹ تیرے پاس نہیں رہوں گی۔“

 پون کی سختی کا بند ٹوٹ گیا۔ اس نے ماں کو بانہوں میں بھرا،”ماں، کیسی باتیں کرتی ہو۔ تم پہلی بار میرے پاس آئی ہو، میں تمہیں جانے دوں گا بھلا۔ گاڑی کے آگے لیٹ جاو ¿ں گا۔“

دونوں روتے رہے۔ پون کے آنسو ریکھا کبھی جھیل نہیں پائی۔ چوبیس سال کا ہونے پر بھی اس کے چہرے پر اتنی معصومیت تھی کہ ہنستے اور روتے وقت بچہ لگتا تھا۔ جذباتیت کے انہی لمحات میں ماں بیٹا بن گئی اور بیٹا ماں۔ پون نے ماں کے آنسو پونچھے، پانی پلایا اور تھپکاتھپکا کر ٹھنڈا کیا۔

صبح تیز موسیقی کی آواز سے ریکھا کی نیند ٹوٹی۔ ایک لمحے کو وہ بھول گئی کہ وہ کہاں ہے۔ ”ہو رام جی میرا پیا گھر آیا“ سی ڈی سسٹم پر پورے والیوم پر چل رہا تھا اور انوپم باورچی خانے میں چائے بنا رہا تھا۔ اس نے ایک کپ چائے ریکھا کو دی،”گڈ مارننگ۔“پھر اس نے موسیقی کا والیوم تھوڑا کم کیا،” سوری، صبح مجھے خوب زور زور سے گانا سننا اچھا لگتا ہے۔ اور پھر پون بھیا کو اٹھانے کا اور کوئی طریقہ بھی تو نہیں۔ آرام سے پونے نو تک سوتے رہتے ہیں اور نو بجے اپنے آفس میں ہوتے ہیں۔“

”صبح چائے ناشتہ کچھ نہیں لیتا؟“

”کسی دن ا سٹیلا بھابھی ہمارے لئے ٹوسٹ اور کمپلان تیار کر دیتی ہیں۔ پر زیادہ تر تو ایسے ہی بھاگتے ہیں ہم لوگ۔ لنچ ٹائم تک پیٹ میں نقارے بجنے لگتے ہیں۔“

چاول میں کنکر کی طرح رڑک گیا پھر اسٹیلا کا نام۔ کہاں سے لگ گئی یہ بلا میرے بھولے بھالے بیٹے کے پیچھے، ریکھا نے اداسی سے سوچا۔

”ہٹو آج میں بناتی ہوں ناشتا۔“

باورچی خانے کی پڑتال کرنے پر پتہ چلا ہے کہ ٹوسٹ اور دودھ کے سوا کچھ بھی بننا ممکن نہیں ہے۔ تھوڑے سے برتن تھے جو جوٹھے پڑے تھے۔

”ابھی بھرت آ کر کرے گا۔ آنٹی آپ پریشان مت ہوں۔ بھرت کھانا بنا لیتا ہے۔“

”پون تو باہر کھاتا تھا۔“

”آنٹی، ہم لوگ کا ٹائم گڑبڑ ہو جاتا تھا۔ موسی لوگ کے یہاں ٹائم کی پابندی بہت تھی۔ ہفتے میں دو ایک دن بھوکا رہنا پڑتا تھا۔ کئی بار ہم لوگ ٹور پر رہتے ہیں۔ تب بھی پورے پیسے دینے پڑتے تھے موسی کو۔ اب تینوں کا لنچ باکس بھرت پیک کر دیتا ہے۔“

تبھی بھرت آ گیا۔ پون کی پرانی جینز اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے یہ بیس بائیس سال کا لڑکا تھا جس نے سر پر پٹکا باندھ رکھا تھا۔ انوپم کے بتانے پر اس نے نمستے کرتے ہوئے کہا،”پون بھائی نی با آوی چھے۔“( پون بھائی کی ماں آئی ہیں۔)

غضب کی تیزی تھی اس میں۔ کُل پون گھنٹے میں اس نے کام سنبھال لیا۔ روٹی بنانے سے پہلے وہ ریکھاکے پاس آ کر بولا،”با تمے کےٹلا روٹلی کھاتو؟“(ماں، تم کتنی روٹی کھاتی ہو؟)

یہ سیدھا سا جملہ تھا پر ریکھا کے دل پر ڈھیلے کی طرح پڑا۔ اب بیٹے کے گھر میں اس کی روٹیوں کی گنتی ہوگی۔ اس نے جل بھن کر کہا، ”ڈیڑھ۔“

”وے (دو) چلے گا۔“کہہ کر بھرت پھر باورچی خانے میں چلا گیا۔ اس دوران پون نہا کر باہر نکلا۔

ریکھا سے رہا نہیں گیا۔ اس نے پون کو بتایا۔ پون ہنسنے لگا،”ارے ماں، تم تو پاگل ہو۔ بھرت کو ہمیں لوگوں نے کہہ رکھا ہے کہ کھانا بالکل برباد نہ کیاجائے۔ ناپ تول کر بنائے۔ اس کوہر ایک کا اندازہ ہے کہ کون کتنا کھاتا ہے۔ گھر کھلا پڑا ہے، تم جو چاہو بنا لینا۔“

ریکھا کو لگا کہ اس ناپ تول کے پیچھے ضرور اسٹیلا کا ہاتھ ہوگا۔ اس کا بیٹا تو ایسا حسابی کبھی نہیں تھا۔ خود یہ جم کر برباد کرنے میں یقین کرتا تھا۔ ایک بار ناشتا بنتا، دو بار بنتا۔ پون کو پسند نہ آتا۔ شہزادے کی طرح فرما دیتا،”آلو کا ٹوسٹ نہیں کھائیں گے، آملیٹ بنائیں۔“ابھی آملیٹ تیار ہوتا تووہ دانت صاف کرنے باتھ روم میں گھس جاتا۔ دیر لگا کر باہر نکلتا۔ پھر ناشتا دیکھتے ہی بھڑک جاتا،”یہ انڈے کی ٹھنڈی لاش کوئی کھا سکتا ہے؟ مالتی پراٹھے بناﺅ، نہیں تو ہم اب جا رہے ہیں باہر۔“گھر کی پرانی خدمت گزار مالتی میں ہی اتنا برداشت تھا کہ ریکھا کی غیر موجودگی میںپون کے نخرے پورے کرے۔ کبھی بغیر کسی اطلاع کے تین تین دوست ساتھ لے آتا۔ سارا گھر ان کی مہمان داری میں لگ جاتا۔

پون نے کہا،”بھرت، میرا لنچ پیک مت کرنا، دوپہر میں میں گھر آ جاو ¿ں گا۔“پردوبارہ ریکھا سے کہا،” ماں کیا کروں، آفس جانا ضروری ہے، دیکھو کل کی چھٹی کی جگاڑ کرتا ہوں کچھ۔ تم میرے پیچھے ٹی وی دیکھنا، سی ڈی سن لینا۔ کوئی دقت ہو تو مجھے فون کر لینا۔ سامنے پٹیل آنٹی رہتی ہے، کوئی ضرورت ہو تو ان سے بات کر لینا۔“تبھی اسٹیلا پھولوں کا گلدستہ لئے آئی۔

”گڈ مارننگ، میم۔“اس نے گلدستہ ریکھاکو دیا۔ اس میں چھوٹا سا گفٹ کارڈ لگا تھا،”اسٹیلا پون کی جانب سے۔“

پھولوں کے بجائے ریکھا اس کی چٹ کوبغور دیکھتی رہی۔ پون تاڑ گیا۔ اس نے کہا،”ماں یہ ہم دونوں کی طرف سے ہے۔“اس نے گفٹ کارڈ میں قلم سے اسٹیلا اور پون کے درمیان کوما لگا دیا۔

ریکھا کو تھوڑی پریشانی محسوس ہوئی۔ اس نے دیکھا کہ ا سٹیلا کے چہرے کے بھاﺅ تھوڑے بدلے ہیں۔

اسٹیلا نے اپنا لنچ باکس اور آفس بیگ اٹھایا،”بائی، سی یو ان دی ایونگ میم، ٹیک کیئر۔“

اسی کے پیچھے پیچھے پون، انوپم بھی گاڑی کی چابی لے کر نکل گئے۔

اکیلے گھر میں بستر پر پڑی ریکھا دیر تک خیالوں میںمگن رہی۔ درمیان میں خواہش ہوئی کہ راکیش سے بات کرے پر ایس۔ٹی۔ڈی کوڈ ڈائل کرنے پر ادھر سے آواز آئی،”یہ سوِدھا تمارے فون پر نتھی چھے۔“فون کی ایس۔ٹی۔ڈی کی سہولت پر الیکٹرانک تالا تھا۔ ایک بار پھرریکھا کو لگا اس گھر میں اسٹیلا کا کنٹرول بہت گہرا ہے۔

 ریکھا کے تین دن کے قیام میں اسٹیلا صبح شام کوئی نہ کوئی تحفہ اس کے لئے لے کر آتی۔ ایک شام وہ اس کے لئے آبھلا (شیشے) کی کڑھائی کی خوبصورت چادر لے کر آئی۔ پون نے کہا،”جیسے پیر شاہ پر چادر چڑھاتے ہیں ویسے ہم تمہیں منانے کو چادر چڑھا رہے ہیں، ماں۔“

”پیر اولیاءکے مزار پر چادر چڑھاتے ہے، مجھے کیا مردہ مان رہے ہو؟“

”نہیں ماں مردہ تو انہیں بھی نہیں سمجھا جاتا۔ تم ہر اچھی بات کا برا مطلب کہاں سے ڈھونڈ لاتی ہو۔“

”پر تم خود سوچو۔ کہیں کانچ کی چادر بستر پر بچھائی جاتی ہے۔شیشے پیٹھ میں نہیں چبھ جائیں گے۔“

ا سٹیلا نے ان دونوں کا ڈائیلاگ سنا۔ اس نے پون کی ٹانگوں پر ہاتھ مارا،”آئی گوٹ اِٹ۔ میم اسے وال ہینگنگ کی طرح دیوار پر لٹکا لیں۔ پوری دیوار کور ہو جائے گی۔“

پون نے تعریفی نظروں سے اسے دیکھا،”تم جینیس ہو، سلی۔“

چادر پلاسٹک بیگ میں ڈال کر ریکھا کے سوٹ کیس کے اوپر رکھ دی گئی۔

ریکھا کو رات میں یہی خواب بار بار آتا رہا کہ اس کے بستر پر شیشوں والی چادر بچھی ہے۔ جس کروٹ وہ لیٹتی ہے اس کے بدن میں شیشے چٹ چٹ ٹوٹ کر چبھ رہے ہیں۔

اس نے صبح پون سے بتایا کہ وہ چادر نہیں لے جائے گی۔ پون اکھڑ گیا،” پتہ ہے ہمارے تین ہزار گفٹ پر خرچ ہوئے ہیں۔ اتنی قیمتی چیز کی کوئی قدر نہیں آپ کو؟“

ریکھا کو لگا اگر اس وقت وہ تین ہزار ساتھ لائی ہوتی تو منہ پر مارتی اسٹیلا کے۔ اس نے کہا،”پنّو، اس لڑکی سے کہنابل بنا کر رکھ لے ہر چیز کا، میں وہاں جا کر پیسے بھجوا دوں گی۔“

”تم کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرو گی۔ وہ جو بھی کر رہی ہے، میری مرضی سے، میری ماں کے لئے کر رہی ہے۔ اب دیکھو وہ آپ کے لئے راجدھانی ایکسپریس کا ٹکٹ لائی ہے، یہاں سے امداباد وہ اپنی ایسٹیم میں خود آپ کو لے جائے گی۔ اور کیا کرے وہ، ستی ہو جائے۔“

”ستی اور ساوتری کے گن تو اس میں نظر نہیں آرہے، بہترین کےئرسٹ بھلے ہی ہو۔“

”وہ بھی ضروری ہے، بلکہ ماں وہ زیادہ ضروری ہے۔ تم تو اپنے آپ کو تھوڑا بہت رائٹر بھی سمجھتی ہو، اتنی دقیانوس کب سے ہو گئیںکہ میرے لئے چراغ لے کر ستی ساوتری تلاش کرنے نکل پڑیں۔ وی آر میڈ فار ایچ اَدر۔ ہم اگلے ماہ شادی کر لیں گے۔“

”اتنی جلدی۔“

”ہمارے ایجنڈے پر بہت سارے کام ہیں۔ شادی کے لئے ہم زیادہ سے زیادہ چار دن خالی رکھ سکتے ہیں۔“

”کیا سول میرج کروگے؟“ریکھا نے ہتھیار ڈال دیئے۔

”سوامی جی سے پوچھیں گے۔ ان کا کیمپ اس وقت ان کے اہم آشرم، منپکّم میں لگے گا۔“

”کہاں؟“

”مدراس سے تیس پینتیس میل دور ایک جگہ ہے، ماں۔ میں تو کہتا ہوں آپ وہاں جا کر دس دن رہو۔ آپ کی تکلیفیں، پریشانیاں، بے وجہ چڑنے کی عادت سب ٹھیک ہو جائیں گی۔“

”میں جیسی بھی ہوں ٹھیک ہوں۔ کوئی بیکار بیٹھی نہیں ہوں، جو آشرموں میں جا کر رہوں۔ نوکری بھی کرنی ہے۔“

”چھوٹی سی نوکری ہے تمہاری چھوڑ دو، چین سے جیو ماں۔“

”اسی چھوٹی سی نوکری سے میں نے بڑے بڑے کام کر ڈالے پنّو، تو کیا جانتا نہیں ہے؟“

”پر آپ میں جیون درشن کی کمی ہے۔ا سٹیلا کے ماں باپ کو دیکھو۔اپنی لڑکی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے وہ جو بھی کرے گی، سوچ سمجھ کر کرے گی۔“

تلملا گئی ریکھا ۔ بیٹیاں پرائی ہو جاتی ہےں، یہ تو اس نے دیکھا تھا، پر بیٹے پرائے ہو جائیں، وہ بھی شادی سے پہلے۔

”یہ تیرا آخری فیصلہ ہے؟“

” ہاں ماں۔ سوامی جی نے بھی اس رشتے کے لیے او کے کر دیا ہے۔“

”اپنے پاپا کو پوچھا تک نہیں اور سب طے کر لیا۔“

”ان سے میں فون پر بات کر لوں گا۔ ویسے سوامی جی سب کے سپر پاپا، وہ سوچ سمجھ کر حامی بھرتے ہیں۔ انہوں نے بھی اس ڈیل پر مہر لگا دی۔“

”ڈیل کا کیا مطلب ہے۔ تم ابھی شادی جیسے رشتے کی سنجیدگی نہیں جانتے۔ شادی اور کاروباردو مختلف چیزیں ہیں۔“

”کوئی بھی نام دو، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اگلے ماہ آپ چوبیس کو مدراس پہنچو۔ سوامی جی کی سالگرہ کے موقع پر چوبیس جولائی کو بڑا شاندار جلسہ ہوتا ہے، کم از کم پچاس شادیاں کراتے ہیں سوامی جی۔“

”اجتماعی شادی؟“

 ”ہاں۔ ایک گھنٹے میں سب کام مکمل ہو جاتا ہے۔“سرجری کے عمل کی طرح بیٹے نے سب کچھ مقرر کر رکھا تھا۔ پہلے بیٹے کو لے کر گھر والوں کے ارمانوں کے لئے اس میں کوئی گنجائش نہیں تھیں۔

ماں نے آخری دلیل دی،”تو کھرماس میں شادی کرے گا۔ اس میں شادیاں ممنوع ہوتی ہیں۔“

پون نے پاس آ کر ماں کے کندھے کو پکڑ لیا،” ماں میری پیاری ماں، یہ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی کہ ہم لوگ ان باتوں میں یقین نہیں کرتے۔ سلی کے ساتھ جب بندھن میںبندھ جاو ¿ں وہی میرے لئے مبارک مہینہ ہے۔“

مجروح دل اور خالی دماغ لئے ریکھا لوٹ آئی۔ شوہر اور چھوٹے بیٹے نے جو بھی سوال کئے، ان کا وہ کوئی مناسب جواب نہیں دے پائی۔

”میرا پنّو اتنا کیسے بدل گیا۔“وہ آہیں بھرتی رہی۔

پون نے فون پر ماں کی با حفاطت واپسی کی خبر لی۔ سگھن سے ای میل ایڈریس لیا اور دیا اور اپنے پاپا سے بات کرتا رہا،”پاپا، آپ اپنی شادی یاد کرو اور ماں

کو سمجھانے کی کوشش کرو۔ میں لڑکی کو ڈِچ (دھوکہ) نہیں کر سکتا۔“

تیسری اور آخری قسط اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

پچھلی قسط اس لنک پر کھولیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے