سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے قہقہے۔۔ مزاحیہ شاعری

اس ہفتے کے قہقہے۔۔ مزاحیہ شاعری

ڈاکٹر مظہر عباس رضوی

وہ نقش پا تو نہیں نقشِ پان چھوڑ گیا

کہاں کہاں مرا قاتل نشان چھوڑ گیا

تھیں پانچوں انگلیاں اس کی محبتوں کی گواہ

وہ میرے چہرے پہ اک داستان چھوڑ گیا

ہے اپنا حال بھی اس بھوکے شخص کی مانند

کباب کھا گیا جو، سادہ نان چھوڑ گیا

ہے شکر اُس سے ملاقات کھُل کے ہو نہ سکی

سنا کے چار سو اشعار جان چھوڑ گیا

نہیں ہے فکر کہ برباد کر گیا سب کچھ

خوشی ہے اس کی وہ میرا مکان چھوڑ گیا

ہیں پیچھے کتے تو لڑکی کا ابا سامنے ہے

کہاں پہ مجھ کو مرا مہربان چھوڑ گیا

الٹ پلٹ کے زمیں کو کئے پلاٹ الاٹ

نہ ہاتھ آ سکا یوں آسمان چھوڑ دیا

سہانا وقت نہیں کھا نہ بادلوں کا فریب

دھواں بسوں کا کوئی کارون چھوڑ گیا

کمایا جتنا تھا وہ دے کے صورتِ تاوان

میں تائیوان سدھارا دکان چھوڑ گیا

ہمارا حلق میں کھانا اٹک اٹک سا گیا

کہ بل سے پہلے ہمیں میزبان چھوڑ گیا

دعائیں دے گی ظرافت تجھے نوید ظفرؔ

مزاح و طنز کا اک ارمغان چھوڑ گیا

مشاعرے وہاں ہوتے تھے اسقدر مظہرؔ

’’کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا‘‘

ہاشم علی خان ہمدم

راز کھلتے ہیں کہاں ہم پہ پری خانوں کے

ہم تو بندے ہیں سیاست کے نہ ایوانوں کے

اپنی دستار اتاریں بھی تو کس کو سونپیں

سر ہی گنجے ہیں مرے عہد میں سلطانوں کے

جو کھلا دے اسے جینے کی دعا دیتے ہیں

وہ بھی شوقین ہیں چائے کی طرح کھانوں کے

پاپ میوزک میں سناتے ہیں زنانہ چیخیں

یوں بدلتے ہیں وہ انداز بھی دو گانوں کے

دیکھنا سننا یہاں سب کا ہے گونگوں جیسا

کان بہروں نے لگا رکھے ہیں عجب کانوں کے

شوخ ساقی نے سیاہ لینس لگا رکھے تھے

کس کی آنکھوں سے پتے پوچھتے میخانوں کے

اک گداگر نے عجب کہہ کے پریشان کیا

کام آتے ہیں مسلماں ہی مسلمانوں کے

دال روٹی پہ گزارہ ہے ہمارا ورنہ

دام اچھے ہیں ابھی شہر میں انسانوں کے

کم سے کم خون کا سودا نہیں کرتے صاحب !

کام انساں سے تو اچھے ہیں نا حیوانوں کے

مست رہتے ہیں بھرے شہر میں شیشہ پی کر

برگری ناز ہیں اس دور میں دیوانوں کے

کوک پیتے ہیں لنڈھاتے ہیں ڈیو کی بوتل

بڑھ گئے دام جو ساقی ترے پیمانوں کے

میں بھی تو اپنے علاقے کا ملک ہوں ہمدمؔ

ووٹ کیوں پڑتے نہیں ہیں مجھے ایوانوں کے

شاہین فصیح ربانی

شادی کا کارڈ اس لیے آیا نہیں ہنوز

مانا دلہن غریب کا تایا نہیں ہنوز

ترکیب سہل تو ہے خیالی پلاؤ کی

لیکن جناب ہم نے پکایا نہیں ہنوز

اپنی سزا کا کیسے تعین کریں گے ہم

احباب نے قصور بتایا نہیں ہنوز

کرتے ہیں لوگ یوز بہت کمپنی کا نیٹ

کیوں یہ پوائنٹ اس نے اٹھایا نہیں ہنوز

آیا ہوں دے کے ناپ نئے پینٹ کوٹ کا

دعوت پہ گرچہ اس نے بلایا نہیں ہنوز

مالک مکان آئے تو مرغی کھلاؤں گا

دینے کو میرے پاس کرایہ نہیں ہنوز

اٹھا ہے شورِ واہ سرِ انجمن فصیح

ہم نے غزل کا شعر سنایا نہیں ہنوز

عرفان قادر

دل میں ہمارے روز ہی دلبر لگا کے آگ

پٹرول پھینکتا ہے وہ اس پر، لگا کے آگ

پہلے ہی اُس کے ہاتھ میں ماچس نہ دیجیے

بستی جلا نہ دے کہیں بندر، لگا کے آگ

باقی کرپشنوں کا رہے کوئی نا ثبوت

جلوا کے راکھ کر دیئے دفتر، لگا کے آگ

دونوں طرف اگرچہ ہیں حوّا کی بیٹیاں

معصوم بن ہی جاتی ہیں اکثر لگا کے آگ

آپس میں ایک دوسرے سے سب ملے ہوئے

لڑواتے ہیں عوام کو رہبر لگا کے آگ

کوئی نہ اُس پہ شک کرے، شاید اسی لیے

وہ پی رہا ہے دیکھ لو، فیڈر، لگا کے آگ

انسانیت بھسم ہے کی یوں ذات پات نے

’’تُو اونچی ذات کا ہے‘‘، ’’ تُو شودر‘‘، لگا کے آگ

شعلے اُگل رہی ہے تری آتشیں زباں

جاری ابھی تلک ہے یہ ٹر ٹر، لگا کے آگ

بھڑکائے گا خود آدمی، یہ جانتا نہ تھا

شیطان ہے کھڑا ہوا ششدر لگا کے آگ

پہنچے گی تیرے گھر کے بھی اندر ضرور وہ

بچ پائے گا نہیں کبھی باہر لگا کے آگ

نویدظفرکیانی

حُسن کیسے ہو مسخّر سوچیں

کوئی منتر، کوئی جنتر سوچیں

ناچ تگنی کا نچا دیتی ہیں

یوں گھما دیتی ہیں میٹر سوچیں

کیوں زمانے کا چلن ہے اُلٹا

شاخ سے اُلٹا لٹک کر سوچیں

کوئی انسان بنے کیوں لوٹا

کچھ سیاست کے مچھندر سوچیں

جب تصرف میں ہے دیوارِ سخن

تھاپئیے صورتِ گوبر سوچیں

کسی انگنائی میں گھُس جاتی ہیں

چن چڑھائیں گی نیا شر سوچیں

جس قدر شادی شدہ ہیں اب کے

صدر ممنون سے بن کر سوچیں

میں تو پنڈی میں کہیں اٹکا ہوں

اور جا پہنچیں پشاور سوچیں

جب زمیں پاؤں تلے کی کھسکے

قوم کے واسطے لیڈر سوچیں

اپنے بارے میں نہ سوچے انساں

تو کیا ان کے لئے ڈنگر سوچیں

آپا دھاپی کا زمانہ ہے ظفرؔ

خود کو دیکھیں یا وہ مجھ پر سوچیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محمودہ۔۔۔سعادت حسن منٹو

محمودہ سعادت حسن منٹو مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے