سر ورق / ناول / عورت زاد ۔ امجد جاوید

عورت زاد ۔ امجد جاوید

قسط نمبر2

وہ سیدھی ڈی ایس پی کے پاس گئی ۔ وہ اس وقت گھر پر تھا۔ اس نے جاتے ہی کہا

” سر جی ۔! کیا اس میڈم کا یہی قصور تھا کہ وہ آپ کے پاس آ گئی تھی ۔اس نے پولیس سے مدد چاہی تھی ؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی معصوم بیٹی کو اٹھا لیا گیا؟“اس پر ڈی ایس پی خاموش رہا ، پھر غصے میں کانپتے ہوئے بولا

”ایک منٹ ٹھہرو۔“ یہ کہہ کر اس نے سیل فون نکالا اور انسپکٹر سے ساری بات کہہ کر بولا،” ایک تویہ پتہ کرو کہ دفتر میںان کا مخبر کون ہے؟ دوسرا فوراً وہ لڑکی بازیاب کرو، کوئی سمجھوتہ نہیں، جانتے ہو وہ یہاںکے کالج کی لیکچرار ہے ، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“یہ کہہ کر اس نے سیل فون بند کر دیا۔ پھر انہیں انسپکٹر رفاقت سے ملنے کو کہا۔ وہ فوراً تھانے آ ئی تو پولیس پارٹی تیار تھی ۔ وہ ان کے ساتھ میڈم سمیرا کے گھر چلے گئی ۔ کچھ دیر تفصیل سننے کے بعد انسپکٹر رفاقت وہاں سے نکلا تب تک اس کے پاس کافی نفری آ گئی تھی ۔ وہ لوگ دو جگہ سے بندے پکڑ کر تھانے چھوڑ آ ئے تھے ۔

اس وقت سورج ڈوب رہا تھا ، جب انہیںمعلوم ہوا کہ لڑکی کہاں ہو سکتی ہے ۔ جیسے ہی انسپکٹر رفاقت کو پتہ چلا ، اس نے ڈی ایس پی کو فون کیا۔ پھر وہ سیدھا سردار مٹھن خان کے ڈیرے پر جا پہنچا۔ نینا اس کے ساتھ ہی تھی ۔ گیٹ پر انہیں روک لیا گیا۔

” سردار سائیں کی اجازت کے بغیر تم لوگ اندر نہیں جا سکتے ہو ؟“ گیٹ پر موجود ایک لحیم شحیم بند ے نے کہا تو وہ بولا

” جاﺅ پھر کہو سردار کو ، بتاﺅ انسپکٹر رفاقت آیا ہے۔“

اس نے انٹر کام کا رسیور اٹھایا اور اندر کسی کو بتایا ۔ پھر تھوڑی دیر بعد سن کر بولا،” جاﺅ ، لیکن ہتھیار ادھر رکھ کر جاﺅ ۔“

 انسپکٹر رفاقت نے سنا اور ڈی ایس پی کو کال کر دی ۔اسے ساری صورت حال بتائی تو ہدایات لے کر گیٹ پر کھڑے بندے سے بولا” سردار سے کہہ دینا میں واپس جا رہا ہوں لیکن جلدی آ ﺅں گا۔“ یہ کہتے ہی وہ مڑ گیا اور تھوڑی فاصلے پر جا کر مختلف لوگوںکو فون کرنے لگا۔

نینا یہ سب دیکھتے ہوئے تڑپ رہی تھی ۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ایسا کیا کرے کہ اُڑ کر ڈیرے کے اندر چلی جائے اور سائرہ کو نکال کر لے آ ئے ۔ وہ مضطرب سی انسپکٹر رفاقت کے پاس گئی اور بڑی لجالت سے پوچھا

” سر جی ، یہ کیا ہے ہم ایسے ہی ….“

” یہ وہ بڑے لوگ ہیں جو ہم پر حکومت کرتے ہیں ، ہم عوام بے غیرت ہیں جو ایسے حرام زادوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔ یہ عوام کے گھروں سے ان کی بیٹیاں اٹھا لیں اور ہم ان کے ڈیرے کے اندر نہیںجا سکتے ۔ لعنت ہے اس سسٹم پر ۔“ اس نے بے ساختہ کہاتو وہ تڑپ کر بولی

” سر کیا ہم ناکام ہو جائیں گے ۔“

” نہیں، میں ان بہن …. کو انہی کے بِل سے نکالتا ہوں ۔ شہر میں ان کے گماشتے تھانے پہنچ چکے ہیں اور وہاں ان کی چھترول ہو رہی ہے ۔وہ بک رہے ہیں ، کتنی دیر چھپیں گے یہ ؟“ اس نے غصے میں بے ساختہ مغلظات بکتے ہوئے کہا۔

 وہ تھانے کے ساتھ رابطے میںتھا، اسے پل پل کی خبر مل رہی تھی ۔ دس سے زیادہ لوگ تھانے میںلا کر لٹا لئے تھے اور ان کے ورثاءانہیںبچانے کی کوشش میںتھے ۔ زیادہ وقت نہیںگذرا تھا کہ اندر سے چار پانچ بندے تیزی سے باہر آ ئے ۔ ان میںسے ایک بڑی عمر کا تھا، اس نے آتے ہی ایک سانس میں کہتا چلاگیا

” اُو سر جی ہمیں تو پتہ ہی نہیںتھا کہ آ پ ہیں ۔انسپکٹر رفاقت آ ئے تو اس کے لئے ڈیرے کادروازہ نہ کھلے یہ ناممکن ہے سر آ ئیں۔“

” لڑکی کہاں ہے؟“ اس نے کوئی تاثر لئے بغیر پوچھا تووہی ادھیڑ عمر آ دمی بولا

” اند ر ہے ، آ ﺅ نا۔“

”دیکھ لو ….؟“ انسپکٹر رفاقت نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا تو وہ بولا

” ٹھیک کہہ رہا ہوں۔“

اس نے کہاہی تھا کہ انسپکٹر رفاقت نے وائرلیس پر پیغام دے دیا کہ وہ سردار مٹھن خان کے ڈیرے کے اندر جا رہا ہے ۔اس نے ادھیڑ عمر آ دمی کو باور کرا دیاکہ وہ ڈیوٹی پر ہے اور اسکا محکمہ جانتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اپنے لوگوں کے ساتھ اندر چلاگیا ۔

اندر کا منظر وحشت ناک تھا۔بڑا سارا صحن جہاں ختم ہوتا تھا، وہیں سے دالان شروع ہوتا تھا۔ اس کے بعد کہیںکمرے تھے ۔ اس دالان کے پاس ایک لڑکی فرش پر ڈھیر تھی ۔ نینا کی نگاہ جیسے ہی اس پر پڑی، وہ پہچان گئی یہ توسائرہ ہے ۔ اس کی حالت اس قدر خستہ تھی کہ پہلی نگاہ میں پہچانی ہی نہیں جا رہی تھی ۔ وہ تیر کی مانند اس تک پہنچی ۔ اس نے جا کر سائرہ کا چہرہ اٹھایا۔ وہ ہونقوں کی مانند اسے دیکھ رہی تھی ، جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو ۔اس کا چہرہ ناخنوں سے چھدّا ہوا تھا۔ گردن پر سرخ دھبے تھے ، جیسے کسی کتے نے اپنی خباثت دکھائی ہو۔ اس کے کپڑے گریبان سے پھٹے ہوئے تھے ۔ وہ اپنا جسم ڈھاپنے کی کوشش میںسمٹی ہوئی تھی۔وہ پاگلوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی ۔جیسے اس کچھ بھی سمجھ میں نہ آ رہا ہو ۔

” تم ٹھیک ہو سائرہ بولو پلیز ۔“ نینا نے لرزتے ہوئی آواز میںپوچھا تو سائرہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر پاگلوں کی طرح بولی

” نہیں ،ان کتوں نے مجھے چیر پھاڑ کر کھا لیا ہے ۔ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیںرہی۔ میں گندی ہو گئی ہوں ، تم پرے ہٹ جاﺅ ۔“ اس نے ہذیانی انداز میںکہا۔

 ایسے میں اسی کے پیچھے دالان میں ایک نوجوان ظاہر ہوا ، اس کے ساتھ تین لڑکے مزید بھی تھے۔ وہ نوجوان زیادہ تروتازہ اور امیر دکھائی دے رہاتھا۔ اس نے انتہائی سختی سے کہا

” تم اپنی ماں کو سمجھاتی نا کہ تھانے جانے سے کچھ نہیں ہو تا ، اب جاﺅ یہاں سے، شکر کرو میںنے تمہیں مارا نہیں، ورنہ میں زندہ نہیںرکھتا کسی کو ۔“

نینا نے سنا تو اس کے دماغ میں ایک الاﺅ اٹھ گیا ۔ غصے سے ماﺅف ہوتے دماغ میں وہ بے ساختہ بولی

” تم کون ہو بے غیرت؟“

” زبان سنبھال اُو دو ٹکے کی پولیس والی۔“ اس نوجوان کی بجائے اس کے قریب کھڑے ایک شخص نے کہا جو شکل سے ہی نوکر دکھائی دے رہاتھا۔

” تم تو دو ٹکے کے بھی نہیںہو کتے ۔“ نینا نے اس کی آنکھوںمیںدیکھتے ہوئے کہا

” واہ ۔! سلامت خان واہ ،پہلی بار کسی پولیس والی کی جرات دیکھی ہے کہ وہ خان فرحان کے سامنے بولے ۔“ اس نوجوان نے تالی بجاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا اور دو قدم آ گے بڑھ آ یا۔پھر اپنے گن میں سے گن لے کر بولا ،” شکر کرو، میں نے اسے مارا نہیںتھا، ایویں بس اپنا بستر گرم کیا تھا،اور چھوڑ دیا کہ پولیس والوں کو اس کی ضرورت ہے ، لیکن اب نہیں ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے چشم زدن میں گن سیدھی کی اور فرش پر پڑی مدہوش سائرہ پر فائر کر دیا ۔ بلاشبہ وہ گولی اسے لگ جانی تھی ، لیکن نینا اپنی جگہ سے یوں اچھلی تھی کہ اُڑتی ہوئی اس کے ہاتھ پر جا پڑی ، جس سے نشانہ خطا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مدہوش سائرہ کا ردعمل یوں تھا کہ جیسے اسے کوئی خبر ہی نہ ہوکہ اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے ۔وہ ہوش و حواس سے بے گانہ پڑی ہوئی تھی ۔ خان فرحان کی گن گر چکی تھی ۔اسی لمحے انسپکٹر رفاقت نے اونچی آواز میںکہا

” بہت ہو چکا،بند کرو یہ ڈرامہ چھوٹے خان ۔“

” ہوں ، میں بند کروں یہ ڈرامہ ، ارے ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے ۔ اب دیکھو۔“

” میں اب بھی سمجھا رہا ہوں چھوٹے خان ۔“ انسپکٹر رفاقت نے کہا تو خان فرحان سے سلامت خان نے کہا

” خان جی آپ اندر چلیں، میں دیکھتا ہوں ۔“

” نہیں، یوںنہیں،“ اس نے غصے میں یوں کہا جیسے خود پر قابو نہ ہو ۔ تبھی سلامت خان نے ان تینوں نوجوانوں کی طرف دیکھ کر کہا

” آپ ہی لے جائیں خان جی کو اندر ۔“

ان تینوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر ایک نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا

” یہ تو خان کا فیصلہ ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔“

 ” دیکھ ، یہ پولیس والی بھی کیا کم خوبصورت ہے ، اس کے ابھی کپڑے اُتار اور اِدھرہی اُتار، اسے دیکھتے ہیں، جتنی یہ خوبصورت ہے اس کا جسم بھی اتنا ہی خوبصورت ہوگا۔“اس نے مڑ کر اپنے دوستوں سے پوچھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دئیے ، تبھی ایک نے کہا

” ہاں خان ، ہے تو خوبصورت ، یہ اس سے زیادہ رسیلی لگ رہی ہے۔ کیوں ناآج یہی سہی ۔“

” ہاں، ذرا نہلا دھلا کر چمکا لیں گے ۔“ اس نے کہا تواس کے حواری دوستوں نے زور دار قہقہ لگادیا۔ اس پر انسپکٹر رفاقت آ گے بڑھا اور اس نے سائرہ کو اٹھا نے کا اشارہ کیا۔ تبھی خان فرحان نے اونچی آواز میںکہا،” نہیں انسپکٹر، ان دونوں میں سے ایک کوچھوڑ کر جانا ہو گا تمہیں، اب یہ میری ضد ہے ۔“

” خان جی چلیں نا اندر میں بتاتاہوں نا آ پ کو۔“ سلامت خان نے التجا سے کہا تو وہ بولا

” اور یہ میرا حکم ہے کہ اس پولیس والی کے کپڑے اُتارو، ابھی اسی وقت ، ورنہ تم میں سے کوئی نہیںرہے گا، جلدی ۔“

اس کے حکم پر چند گن مین نینا کی جانب آ گے بڑھے ۔ پولیس والے اسے بچانے کے لئے لپکے تو وہاں پر موجود سیکورٹی والوں نے اپنی گنیں ان پر تان لیں۔وہ ایک لمحے کے لئے گھبر اگئی ۔پولیس والے اپنی جگہ ساکت ہو گئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر انسپکٹر رفاقت نے آگے بڑھتے ہوئے مصالحانہ انداز میں کہا

 ” دیکھ ۔! چھوٹے خان ، میں اس وقت ڈیوٹی پر ہوں، میں اس لڑکی کو بازیاب کرنے آ یا ہوں، اندر جاﺅ، اور مجھے میرا کام کرنے دو۔“

” تم مجھے نہیں جانتے ہو ، اور نہ میری ضد سے واقف ہو ، جاﺅ ، اور اس پولیس والی کو چھوڑ جاﺅ ۔“ اس نے حقارت سے کہا پھر گھور کر رُکے ہوئے سیکورٹی والوں کو دیکھا ، وہ آ گے بڑھ کر نینا کو پکڑنے لگے، نینا بے بس ہو چکی تھی۔ سلامت خان آگے بڑھا اور اس کے پاس گیا۔ اس کے گریبان میںہاتھ ڈالا ، اور اس کا گریبان چاک کر دیا۔ اسی لمحے اس کے پیچھے کھڑے ایک گن مین نے اسے گردن سے پکڑ کر دھکا دیا ۔وہ فرش پر جا پڑی ۔ اس کے سر کی ٹوپی وہیں کہیںگر گئی ۔

” اس کی قمیض پھاڑو سلامت خان۔“ خان فرحان کا حکم گونجا ۔ اس نے آ گے بڑھ کر نینا کی قمیص پکڑ کر پھاڑ دی ۔ نینا کا ا و پری سفید اُجلا بدن، گہری نیلی وردی کی دھجیوں میں سے جھانک رہا تھا۔” اب اس کی شلوار بھی۔“ اس کا حکم پھر گونجا ہی تھا کہ ایک ٹھنڈی سی آواز گونجی

” کیا کرتے ہو بیٹے ، ایسے خواہ مخواہ ضد نہیں کرتے ، یہ انسپکٹر اپنا کام کر رہاہے ، اسے کرنے دو۔“

اس ٹھنڈی آواز کے ساتھ ہی ایک ادھیڑ عمر شخص نمودار ہوا ۔ وہ سردار مٹھن خان تھا، جو اسی وقت وہاں آ گیا تھا۔ درمیانے قد کا ، سرخ سپید چہرہ، اس کے چہرے پر خاص بات اس کی اوپر کو اٹھی ہوئیں نوک دار خشخشی مونچھیں تھیں ۔ سفیدکرتا اور شلوار پہنے ہوئے تھا۔ اس کے کاندھے پر لنگی نما چادر تھی۔ اس کے یوں کہنے پر سیکورٹی والے ایک دم پیچھے ہٹ گئے ۔ وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہوا چند قدم آ گے آ یا اور انسپکٹر رفاقت سے مخاطب ہوکر بولا،” لے جاﺅ، اس بے چاری لڑکی کو لے جاﺅ۔ ادھر رستے میں بے ہوش پڑی تھی۔ میرے آ دمی اسے اٹھاکر لے آئے ہیں۔ ورنہ یہ بے چاری وہیں مر جاتی۔“

” سردار جی ۔! آپ کے بیٹے نے بہت….“

” وہی سنو ، جو میںکہہ رہا ہوں۔ یہی بات تم نے ایف آ ئی آر میںبھی لکھنی ہے نا، میں اسی لئے تمہیںبتا رہا ہوں ۔ اب ایسا کر جلدی سے چلا جا، اس بے چاری لڑکی کو کسی ہسپتال میں داخل کروا۔ تم بھی تلاش کرو ، ہم بھی وہ مجرم ڈھونڈتے ہیں، جنہوں نے اس بے چاری پر ظلم کیا، میںنے ڈی ایس پی سے بات کر لی ہے ۔“ اس نے یہ کہا، چند لمحے انسپکٹر رفاقت کے چہرے پر دیکھا پھر مڑ کر واپس چلا گیا۔خان فرحان اپنے دوستوں کے ساتھ ، اس کی باتوں کے دوران ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔ انسپکٹر رفاقت نے کوئی بات نہیںکی ۔ نینا نے خود کو سمیٹا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس کے دماغ میں جو بے بسی کا دکھ تھا، وہ سلگنے لگا۔ وہ سائرہ کے پاس گئی اور اسے اٹھاکر ڈیرے سے چل دی ۔ آگ کا شعلہ اس کے دماغ میںبھڑک اٹھا تھا ۔ اس نے اپنا آپ اپنے آنچل میںچھپا لیا تھا۔

 انسپکٹر رفاقت غصے سے زیادہ دکھ سے بھرا ہوا تھا۔ ڈی ایس پی وہیںموجود تھا۔ اسے دیکھ کر وہ دکھ بھرے لہجے میںبولا

” سر ۔! میں ایف آئی آر نہیں، اپنا استعفی لکھوں گا، مجھے یہ نوکری نہیں کرنی۔“

” نہیں، تم ابھی اپنا غصہ ان پر نکال لو جو اس میڈم کو تنگ کرتے رہے ہیں، انہیں لے آئے ہیں۔ پہلے تم ایف آئی آر درج کراﺅ پھر جاﺅ اور اس بچی کو ہسپتال داخل کرا آﺅ ۔“ ڈی ایس پی نے کافی حد تک نرم لہجے میںکہا

” نہیں سر، میں….“

” جو کہہ رہا ہوں نا وہ کرو، بعد میں تم جو کہو گے وہی گا، تھوڑی سی عقل برتو۔ان کے جسم پر نشان چھوڑو،میںبیٹھا ہوں ادھر۔“ ڈی ایس پی نے کہا ۔نینا کو معلوم تھا کہ ایف آئی آر کے بعد وہ سائرہ کا میڈیکل کروانا چاہتے ہیں۔ وہ بھی ساتھ جانے کو تیار تھی۔ ایف آئی آر درج ہو گئی ۔ اتنے میں میڈم سمیرا آ گئی ۔ اس کی حالت پاگلوں کی طرح تھی ۔ اس کی ایسی حالت کیوں نہ ہوتی ، جس کی ایک اکلوتی بیٹی کو بھیڑیوں نے چیر پھاڑ کر رکھ دیا ہو۔

 کیسی یہ زمین ہے اور کیسا اس کا قانون ہے ، ایک بے غیرت شخص نے بڑے آرام سے ان پولیس والوں کو سمجھا دیا تھا کہ ایف آ ئی آر کیسے درج کر نی ہے ۔ قانون کی دھجیاں یوں اڑائی جاتی ہیں؟ اس میں ایک استاد کی یوں تو ہین ہی نہیں اس پر ظلم بھی کیا جائے گا ، نینا سے برداشت نہیںہو رہا تھا۔ میڈم سمیرا آ ئی اور کچھ کہے بنااپنی بیٹی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے یوں تکنے لگی ، جیسے وہ پہلی بار دیکھ رہی ہو ۔وہ اس کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی یوں جیسے اس کے زخموں کواپنے بدن پر محسوس کر رہی ہو ۔ پھر اس نے بڑی نرمی سے سائرہ کو اٹھاتے ہوئے بولی

” آﺅ چلیں، اب ہم یہاں نہیں رہیں گے ۔“ یہ لفظ کسی تیر کی طرح نینا کے سینے میںپیوست ہو گئے ۔ وہ بے ساختہ آ گے بڑھی تو میڈم سمیرا نے ہاتھ کے اشارے سے وہیںروکتے ہوئے کہا،” وہیں رُک جاﺅ، آ گے مت بڑھنا، میں نے سوچا تھا ، پولیس تحفظ دیتی ہے ، جب پولیس ہی ناکارہ ہے تو کسی کا کیا دوش ۔ ہم پہ ظلم ہو اکوئی بات نہیں، تم بھی کبھی اپنی صورت نہ دکھانا ۔“ میڈم کا لہجہ اس کا جگر چھلنی کر گیا۔ وہ ساکت ہو گئی تھی ۔ ڈی ایس پی نے جب اسے جاتے ہوئے دیکھا تو کہا

” میڈم ، ایف آئی آر درج کرنی ہے اور ….“

” جو حفاظت نہ کر سکے، وہ انصاف کیادلاسکتا ہے ۔یہ زمین اب انسانوں کے لئے نہیں رہی ۔“ یہ کہہ کر وہ سائرہ کو لے چل دی ۔باوجود شدید خواہش کے وہ ایک قدم بھی آ گے نہ بڑھا سکی ۔ سبھی بے دست و پا، وہیںکھڑے رہ گئے ۔

ڈی ایس پی چلاگیا توانسپکٹر رفاقت اپنا غصہ وہاں پکڑے ہوئے ملزموں پر اتارنے لگا۔ جبکہ نینا وہاں سے نکلی اورپولیس لائین میں اپنی بارک جا پہنچی ۔ اس نے کپڑے بدلے تو وہاں موجود ہر لڑکی کو پتہ چل گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوچکا ہے۔آپی فوزیہ نے زبردستی اسے کھلانا پلانا چاہا مگر اس کا جی نہیںچاہا۔ وہ ایک کونے میںجا بیٹھی ۔وہ رونا چاہتی تھی ، مگر رو نہیںپا رہی تھی ۔ آنسو اس کی پلکوں پر خشک ہو چکے تھے ۔ اسے بار بار خان فرحان کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ کس قدر غرور اور رعونت کے ساتھ اس نے سائرہ پر گولی چلائی تھی ۔ اس کا دماغ پھٹنے لگا۔ ا س کا دل چاہا کہ ابھی اٹھے اور اس بے غیرت سانپ کا سر اپنے ہاتھوں سے کچل دے ۔ لیکن وہ بے بس تھی۔

ساری رات بیت گئی ۔ وہ اسی طرح چارپائی کے ساتھ لگی فرش پر بیٹھی خود سے سوال کرتی رہی ۔ کیا ظلم کے لئے کمزور ہی ہوتے ہیں؟ہاں کمزوروں پر ہی ظلم ہوتا ہے ۔ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ طاقت ور کیوںنہیں؟ یہ مظلوم ہی ہے جو ظالم کو جنم دیتا ہے ۔ظالم کے ظلم ہی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر بے غیرت ، کمینہ اور ننگ ِانسانیت ہے ۔ وقت کا احساس ہی نہ ہوا ۔ابھی ملجگا اندھیرا تھا۔اس کا فون بج اٹھا۔انسپکٹر رفاقت کی کال تھی ۔ اس نے فوری طور پر اسے تھانے بلایا تھا۔

جس وقت وہ تھانے پہنچی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔سامنے دوچارپائیاں پر سفید چادر سے ڈھکے دو جسم پڑے تھے۔انسپکٹر رفا قت نے اشارے سے کیا کہ اس لاش کا منہ دیکھے ۔ اس نے ڈرتے ڈرتے کپڑا ہٹایا تو وہ تاب نہ لاسکی ۔ جلے ہوئے چہرے، مسخ ہو چکے تھے۔اگر وہ ان کے ساتھ نہ رہی ہوتی تو شاید وہ انہیںپہچان بھی نہ پاتی۔ وہ میڈم سمیرا کی لاش تھی ۔ وہ میٹھی نیند سو چکی تھی ۔ وہ میڈم کا چہرہ دیکھتے ہوئے جم کر رہ گئی ۔اس کے کانوں میں میڈم کے کہے یہ لفظ گونج گئے کہ ” آﺅ چلیں، اب ہم یہاں نہیں رہیں گے ۔“ اس کی ہمت نہیںپڑ رہی تھی کہ وہ سائرہ کی لاش دیکھے ۔ اس کے قریب کھڑی ایک اہلکار نے سائرہ کے چہرے سے بھی کپڑا ہٹا دیا۔وہ معصوم بھی اس دنیا کے ظلم کا شکار ہو کر یہاں سے جا چکی تھی ۔ نینا سے دیکھا نہ گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیر چھا گیا۔ اس کا سر گھوما اور وہ وہیں گر گئی ۔وہ ہونقوں کی طرح یہ سب دیکھتی رہی جیسے بندہ سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے ، لیکن اس کی عقل سمجھ ماﺅف ہو جاتی ہے۔ وہیں اسے پتہ چلا کہ ان دونوں ماں بیٹی کو کچھ لوگوں نے قتل کیا ہے؟ یہ ساری کاروائی وہاں موجود ایک چوکیدار نے دیکھی تھی ۔ وہ لوگ تھے جو ایک کار میں سے نکلے تھے ۔ وہ گھر کی چار دیواری پھلانگ کر اندر کود گئے ۔ چند منٹ بعد ہی ایک دم اندر سے فائرنگ کی آواز یںآ نا شروع ہو گئیں ۔ چوکیدار اکیلا ان کا مقابلہ نہیںکر سکتا تھا۔ اس نے واویلا کیا، لوگوں کو بلانے کے لئے بھاگا،اس کے واویلے پر لوگ اپنے گھروں سے نکل بھی آئے لیکن اس وقت تک وہ حملہ آور باہر آ چکے تھے ۔وہ اطمینان سے کار میںبیٹھے اور وہاں سے چل پڑے ۔وہ گلی سے نکلے نہیںتھے کہ گھر کو آ گ لگ گئی ۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے ان دونوں کو باہر نکالا ،لیکن یہ کوشش انہیںبچا نہ سکی۔ اس وقت تک وہ دونوں ماں بیٹی اس جہاں سے جا چکی تھیں۔ اس قدر بھیانک موت ؟ کیا قصور تھا ان کا ۔ یہی قصور تھا کہ وہ اس جنگل میں رہ رہی تھیں۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ قانون کے رکھوالے؟بے غیرتی انسانی آبادی میں دندناتی پھر رہی ہے؟

میڈم سمیرا اور سائرہ کو دفنا دینے کے دو دن بعد تک وہ پوری طرح ہوش میں نہیں آئی ۔ انسپکٹر رفاقت اس کی حالت سمجھ رہا تھا۔ اس لئے اس نے نینا کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔ وہ اپنے گھر گاﺅں آ گئی۔ جہاں اس کے پاس سوائے سوچوں کے اور کچھ نہیںتھا۔اسے سب سے زیادہ غصہ مٹھن خان کے بیٹے فرحان پر آ رہاتھا۔ کس قدر رعونت سے وہ اس کے کپڑے اتار دینے کی بات کر رہا تھا۔ عام حالات میں ایک پولیس والا کسی بندے کو بات نہیںکرنے دیتا، گالیاں بک دے، تھپڑ ماردے ، غریب آ دمی سہہ جاتا ہے ۔ لیکن مٹھن خان جیسے لوگوں کے سامنے یہی پولیس والے بھیگی بلی کی مانند خاموش رہتے ہوئے ان کی تابعداری کرتے ہیں۔

یہ اس معاشرے کی منافقت ہے یا کہ حکمران طبقوں کی بے غیرتی کہ عوام کو انسان نہیں سمجھتے اور خواص کے بے دام غلام ہوتے ہیں۔وہ جتناسوچتی، اتنا ہی اس کا دماغ خراب ہوتا، دوسری طرف سائرہ کا معصوم چہرہ جب بھی اسے یاد آتا تو ڈیرے پر ہونے والا ظلم اسے جھنجوڑ کے رکھ دیتا۔وہ ایک دم سے انتقام لینے کا سوچتی۔ اس کا جی چاہتا کہ وہ ان سب کو شوٹ کر دے ، انہیں بھی اسی طرح اذیت دے کر مار ہے ، جیسے انہوںنے سائرہ اور میڈم سمیرا کو قتل کیا تھا۔ لیکن وہ بے بسی کی انتہا پر تھی ۔ایک غریب مجبور لڑکی، جسے اپنی روٹی پوری کرنے کے لالے پڑے ہوئے تھے ۔ وہ نوکری کرے تو اسے یونہی جینا تھا، سر جھکا کر ہر طرح کی بے عزتی کا سامنا کرنا تھا، انسپکٹر رفاقت میں تھوڑی غیرت تھی ،اس نے استعفی دے دیا تھا ۔ وہ ایک معمولی کانسٹیبل ، جس کی کوئی شنوائی ہی نہیں تھی ۔ وہ اپنی بے عزتی پر کروائے یا پھر ہر قسم کی اذیت ختم کرنے کے لئے سوائے خود کشی کے دوسرا کوئی راستہ نہیںہے۔ وہ مر جائے گی تو کوئی جھنجھٹ نہیں رہے ۔ ہر نیا دن اس کے اندر یہی سوچ مضبوط کرتا چلا گیا۔وہ بہت اذیت ناک دن تھا۔ اس کے اندر کی وہ لڑکی غیرت سے مر رہی تھی۔یہ سوچ روز بروز اس قدر پختہ ہو چلی جارہی تھی کہ اسے خود لگتا تھا کہ بس کسی ایک دن اس نے خودکشی کر لینی ہے۔

وہ دوپہر کا وقت تھا۔ اس نے نہاکر نیا جوڑا پہنا اور اپنی ماں کے پاس چلی گئی ۔ماں نے اسے سر سے پاﺅں تک دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا

” بیٹی، یہ تم تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو؟“

” ماں ، اب تودل کرتا ہے ، بہت دُور کہیں چلی جاﺅں ، جہاں سے پھر کبھی واپس نہ آﺅں۔“

ماں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، پھر منہ دوسری طرف کر کے بولی

” جب بیٹوں کا بوجھ بیٹیاں اٹھا لیں، تو انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، انہیں مر ہی جانا چاہئے۔“

ماں کی بات اور اس کے حسرت بھرے لہجے پر وہ چونک گئی ۔اسے ایک دم سے خیال آیا کہ اس بوڑھی ماں ، بیمار بھائی کا کون ہے ؟ یہ تو مجبور ہیں۔ چھوٹا بھائی جو مزدوری کر رہا ہے ، وہ تو خود کو سنبھال لے گا، وہ ان کی مجبوری کا بوجھ برداشت نہیں کر پائے گا۔ وہ بھی اگر انہیںچھوڑ گیا تو؟ وہ اس سے آ گے سوچ نہ سکی ۔ وہ گڑبڑا گئی۔تبھی اس نے بات بناتے ہوئے کہا

” میرا تبادلہ بھی تو ہو سکتا ہے، چوبیس گھنٹے کی نوکری کہیںبھی کرنا پڑ سکتی ہے ، مجھے گولی بھی لگ سکتی ہے، ہمارا واسطہ مجرموں سے ہوتا ہے ۔“

” بیٹا۔! موت موت کافرق ہوتا ہے، موت برحق ہے ، اسے ناحق نہ بناﺅ، اس خدا کے پاس جاﺅ، تو سرخرو ہوکر ، وہ بڑا بے نیاز ہے۔“ ماں نے دھیمے لہجے میں ایسی حوصلہ افزا بات کی کہ وہ باقی سارا دن یہی سوچتی رہی۔

اسی شام اس نے فیصلہ کرلینا کہ وہ واپس پولیس لائین چلی جائے گی۔

بارک نمبر تین میںموجودلڑکیاں اس سے یوں ملیں جیسے وہ اسی کی منتظر ہوں۔آپی فوزیہ نے جہاں اسے بہت حوصلہ دیا۔ وہاں نئے راستے بھی دکھائے ۔ اس نے بہت ساری معلومات بھی دیں۔ اُس رات نینا کو بہت دیر بعد نیند آ ئی تھی۔ وہ بستر سے اٹھی اور اپنے کوارٹر کے باہر آ کر بیٹھ گئی ۔چاندنی رات میں آنگن میںدھری چار پائی پر وہ بہت دیر تک سوچتی رہی ۔ کوئی بھی سرا ہاتھ نہیں آ یا سوائے خیال کے۔ وہ بے بس ہے ، مجبور ہے اور کمزور ہے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور اٹھ کر اندر چلی گئی ۔

خ….خ….خ

اس دن وہ عدالت میںتھی۔ایک ملزم عورت کے بیان کروانے کے لئے اس کی ساتھ میںڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ وہ ایک بینچ پر ملزم عورت کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ ایک کانسٹیبل بھی کھڑا تھا۔ لوگ آ جارہے تھے۔ اچانک اسے زور دار قہقہ سنائی دیا ۔ اس نے لاشعوری طور پر ادھر دیکھا۔ملک زاہد عدالت سے باہر آرہا تھا۔ اس کے ساتھ کئی پولیس والے تھے۔وہ قہقہ وہی لگا رہا تھا۔وہ لوگ کسی خوشی کی خبر پر خوش تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ یا کہ وہ خوشی کیا ہو سکتی ہے ۔اچانک ہی اسے اپنی گزری ہو ئی زندگی وہ لمحات سارے کے سارے یاد آ گئے ۔ وہ آنکھیںبھر کر اسے دیکھتی رہی ۔ایک لمحے کے لئے اس کے اندر یہ خواہش اٹھی کے وہ اس کے پاس جا پہنچے ، اسے بتائے کہ میرے ساتھ کیاظلم ہو چکا ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ ٹھٹک گئی ۔ وہ تو اسے بھلا چکی ہے۔ ملک زاہد نے تو اسے یاد کیا ہوگا، شاید کالز بھی کی ہوں گی۔ اب وہ قصہ پارینہ ہے۔ وہ جا کر بھی بتائے کہ میں کون ہوں تو وہ یقین نہ کرے ۔اس کے ساتھ کھڑا کانسٹیبل آ گے بڑھ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد ملک زاہد کو پولیس کی گاڑی میںبٹھا دیا گیا، وہ موجود لوگ بھی ادھر اُدھر ہوگئے ۔ اس کا ساتھی کانسٹیبل بھی واپس آ گیا۔ اس نے یونہی تجسس میںپوچھا کہ کون تھا اور کیا بات تھی تو اس کے ساتھی کانسٹیبل نے جواب دیا۔

” یہ ملک زاہد ہے ، اس نے اپنے ایک دشمن کو مارنے کی کوشش کی تھی ۔ وہ مرا نہیںزخمی ہو گیا تھالیکن کل وہ مر گیا ہے ۔ یہ لوگ اسی کی خوشی منا رہے تھے ۔ ‘ ‘

” کیا نام تھا زخمی کا ؟“

” چوہدری پرویز، بڑا نامی بندہ تھا۔“ اس نے تو یونہی سر سری سے انداز میںکہا تھا لیکن اس کے اندر سے خوشی کی لہر پھوٹی ، جس نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک حسرت سی اس کے دل میںاٹھی تھی۔وہ دل مسوس کر بیٹھ گئی ۔ وہ اپنی خوشی بھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی تھی ۔ پھر اس نے ملزمہ کے بیان کروائے ،عدالت سے تھانے آئی اور پھر بارک چلی گئی ۔ اس کے ذہن سے ملک زاہد نہیںنکلا۔ وہ شام بھی یونہی سوچوں میں گز ر تی چلی جارہی تھی کہ اچانک وہ ایک خیال سے ٹھٹک گئی ۔پھر وہ سوچتی چلی گئی ۔

ایک وقت تھا، جب اس نے ملک زاہد کو استعمال کر کے اپنا مقصد پورا کر لیاتھا۔مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی کوئی انسانیت کی خدمت نہیں کر رہے تھے کہ افسوس کیا جاتا۔ اسے پھر اسی لیڈی کانسٹیبل کی بات یاد آگئی کہ” ایک بات یاد رکھنا، تلوار اور بندوق دونوں ہی ہتھیار ہیں ۔لیکن تلوار بندوق کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ یاد رکھنا۔“ وہ اس بات کو سمجھ گئی تھی ۔

اس معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی ۔ بہت سارے اچھوں میںبظاہر اچھے ، بڑے بڑے کریہہ وجود سڑاند مارتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سارے بروں میں کہیںکہیں اچھے لوگ بھی پڑے ہیں۔ اسی طرح کوئی صرف چھری جیسا ہے ، کوئی خالی بڑھکیں مار کر بدمعاشی قائم رکھے ہوئے ہیں، کئی بہن بدمعاش ہیں جو عورتوں کو آ گے کر کے ان کے پیچھے بدمعاشی کرتے ہیں، کئی تلوار جیسے ہیں ، کوئی خنجر ہے اور کوئی گن جیسے ۔ مقابلہ ایک جیسے کا ہی ہوتا ہے اورجو بھاری ہوتا ہے ، وہ جیت جاتا ہے وہ طاقت ور ہوتا ہے ، یہ طاقت جیسی بھی ہو ،چوہدری پرویز اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے تو کوئی دوسرا کیوں نہیں؟یہ خیال پھیلتا چلاگیا ۔ رات گئے تک اس نے سوچ لیا کہ اسے لوگوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کر لڑوانا نہیں، چند لوگوں کو اپنا دوست بنانا ہے ، جو کہیں بھی اس کے کام آ سکیں، پھر دیکھا جائے گا۔ اب یہ کھیل صرف زبان کا تھا، جس کی بنیاد میں یاداشت اور ذہانت ہی کا کام تھا ۔ وہ یہ سب سوچ کر مسکرا دی ۔ نجانے کتنے دنوں بعد وہ مسکرائی تھی ۔

خ….خ….خ

قسط نمبر 1 کے لئے لنک

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے