سر ورق / کہانی / اپنے جیسے حصہ دوم عروسہ وحید

اپنے جیسے حصہ دوم عروسہ وحید

                ”اے نور میرے ساتھ بازار تو چل میں نے کچھ سامان لینا ہے۔“ اماں نے کہا

                ”نہیں امی میں نہیں جاﺅں گی آپ سحر کو ہی لیں جائیں نور۔“ جو اپنے ہاتھوں پر نیل پالش لگا رہی تھی بولی

                ”اس سے میں نے کہا تھا مگر اس کے سر میں درد ہے۔ چل میری بچی مجھے کچھ سوٹ بھی خریدنے ہیں اور تمہاری چوائس تو کپڑوں کے معاملے میں بڑی اچھی ہے ۔“

                ”ٹھیک ہے امی میں تیارہوکے آتی ہوں۔“ نور بیزاری سے بولی

                نور اور اماں بازار چلی گئیں۔ اُن کے ابو صبح ہی آفس میں چلے گئے تھے ۔گھر میں سحر اکیلی تھی ۔موسم بڑا سہانا تھا اور سحر کمرے میں بیٹھے بیٹھے بور ہو چکی تھی اوراس سے بھی زیادہ بوریت کی بات یہ ہوئی کہ کیبل بھی چلی گئی وہ اُٹھ کر باہر آ گئی ۔لان میں ٹہلتے ہوئے اُس کی نظر کاسنی پھولوں والی بیل پر پڑی جس کی شاخیں ادھر اُدھر بکھری پڑی تھی۔ اُس نے سوچا، چلو اس کو ہی باندھ دوں ابھی وہ بیل باندھنے کے لیئے رسی تلاش کر رہی تھی کہ دروازے پر بیل ہوئی اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے سدرہ کا بھائی شانی تھا۔

                ”کیا کام ہے ؟“سحر نے دروازے پرسے ہی پوچھا

                ”وہ باجی آپ کے گھر میں ٹماٹر ہے میری باجی مانگ رہی ہے ۔“سحر کو اچانک غصہ آ گیا۔

                ”زہر ہے تمہاری باجی کے لیے لینی ہے ۔“

                ”ارے نہیں باجی وہ تو آپ ہی رکھےں۔“ وہ نیولے کے منہ والے شانی کے جواب دیا۔”میری باجی تو ٹماٹر مانگ رہی ہیں اپنے منہ پر لگانے کے لیے۔وہ کیا ہے نہ باجی میری امی میری خالہ کے گھر گئی ہے اور وہ فرج کو تالا لگا کر گئی ہے۔“

                ”کیوں تالا کیوں لگا کر گئی ہے“ سحر نے حیرانگی سے پوچھا، اس کی رگِ تفتیش پھڑک اُٹھی تھی۔

                ”وہ اس لئے باجی کہ میری باجی ساری سبزیاں منہ پر اور سارے پھل منہ میں ڈال لیتی ہے۔ارے باجی اللہ کے نام پر مجھے ٹماٹر دے دو مجھے دیر ہو رہی ہے۔“ وہ فقیرانہ انداز میں کہنے لگا چاہے اُس کا انداز ہی ایسا نہ ہو پر سحر کو تو ایسا ہی لگا ۔

                ”نہیں ہے ٹماٹر اپنی بہن سے کہواپنے منہ پر کوئی تیزاب ڈالے ،ٹماٹر اُس کے منہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، چلو بھاگو یہاں سے۔“ سحر نے اُسے بھگا دیا اور دورازہ بند کر دیا اور دوبارہ سے بیل کو باندھنے کے لیئے رسی تلاش کرنے اندر چلی گئی وہ ابھی بیل باندھنے کےلیئے سڑھی پر چڑھی ہی تھی کہ دوبارہ بیل ہوئی ۔ اُسے سخت کوفت ہوئی ۔ضرور اُس کالی چڑیل کا بھکاری بھائی ہو گا مجھے نہیں پتا جو بھی ہو گا خود ہی باہر سے دفعہ ہو جائے گا وہ دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی بیل پھر سے ہوئی اور مسلسل ہونے لگی۔وہ مزید کوفت کا شکار ہوگئی ۔

                ”اُہو کون ہے ۔۔۔کون ۔۔۔دیکھو اب آگئے سے کوئی زبان بھی نہیں چلا رہا۔“

وہ غصے سے نیچے اُتری اور دروازے پر گئی ۔سامنے شانی کھڑا تھا اور اُس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ پکڑی ہوئی تھی

                ”یہ کیا ہے؟“ سحر حیران ہوئی کیونکہ اِن لوگوں کے گھر سے بھی کوئی چیز آ سکتی ہے؟

                ”وہ باجی سامنے والے گھر سے ایک لڑکا آیا تھا ،وہ دے کر گیا ہے، بیچارہ کب سے بیل بجا رہا تھا لیکن کوئی باہر ہی نہیں آیا، وہ تومیری باجی کھڑکی سے دیکھ رہی تھی تو اُنہوں نے مجھے بھیج دیا۔ویسے میں دیکھ لوں اس میں کیا ہے ؟“وہ ندیدوں کی طرح پلیٹ کو دیکھنے لگا

                ”نہیں۔۔۔!“ سحر نے جلدی سے اُس کے ہاتھ سے پلیٹ لی۔

                ” اُس وقت تو آپ نے دروازہ نہیں کھولا تھا ،وہ تو اچھا ہوا کہ میری باجی نے دیکھ لیا اور مجھے بھیج دیا ورنہ وہ واپس لیں جاتا۔“اس نے اپنا حق جتایا

                ” تمہاری باجی کو تو ویسے بڑا شوق ہے پرائے لڑکے تاڑنے کا۔ اُس کی بچپن کی عادت ہے۔ ہم جب بچپن میں سکول جاتی تھیں تو ساری لڑکیوں کا گروپ ایک طرف اور تمہاری باجی اکیلی لڑکوں کے گروپ میں جا رہی ہوتی تھی ۔ارے وہ تو شروع سے ہی ایسی ہے۔“ یہ سُن کر شانی کی آنکھیں مینڈک کی آنکھوں کی طرح باہر نکل آئی

                ”میں باجی سے جا کر پوچھتا ہوں۔“ شانی جانے لگا

                ”ارے نہیں نہیں میں تو مذاق کر رہی تھی۔“سحر جانتی تھی یہ بات شانی کے ذریعے سدرہ تک اور سدرہ سے خالہ زرینہ تک اور خالہ زرینہ سے اماں تک پہنچ جاتی اور پھر اُس کی وہ عزت افزائی ہوتی کہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی

                ”ارے یہ دیکھو، اس میں تو بریانی ہے ۔“سحر نے پلیٹ اُٹھا کر دیکھی ،”چلو مل کر کھاتے ہیں۔چلو ایسا کر تے ہیں میں تمہیں دے دیتی ہوں تم گھر جاکر کھا لینا اور بعد میں پلیٹ واپس کر جانا ٹھیک ہے شاباش بہت اچھا بچہ ہے۔“ اچانک سحر کے لہجے میں شہد ٹپکنے لگا اور وہ ضرورت سے زیادہ میٹھی ہو گئی ۔شانی اُس کے رویے سے حیران اور پریشان بریانی لے کر چلا گیا۔سحر نے نہ چاہتے ہوئے بھی آدھی بریانی دینی پڑی ۔اُس کے جانے کے بعد سحرنے خود پر لعنت بھجی ،اگر بکواس نہ کرتی تو آدھی بریانی بچ جاتی ۔بریانی جانے کا اُسے شدید دُکھ تھا۔

                امی اور نور سامان سے لدے ہوئے تقریباً گھر پہنچے تھے نور نے آتے ہی ایک ٹھنڈا گلاس پانی کا مانگا پانی پیتے ہی اُس کے سحر کو بتایا

                ”ارے سحر بازار میں ہمیں آنٹی نفیسہ ملی تھی۔“نور نے پرجوش ہو کر بتایا تووہ عام سے لہجے میں بولی

                ” اس میں کون سی بڑی بات ہے وہ کوئی شیری رحمن تو نہیں ہے جو تم ایسے بتا رہی ہو ،ہم ایک ہی محلے میں رہتے ہیں، اگر مل بھی گئی تو کونسی قیامت آ گئی ہے۔“

                ”ارے پاگل لڑکی۔۔۔“ نور بولی،” آنٹی نفیسہ نے اپنے گھر میں قرآن خوانی کروانی ہے۔ وہ ہمارے گھر کہنے باقاعدہ خود آتیں مگر ہم اُن کو بازار میں ہی مل گیئے تھے ۔ اُنہوں نے خاص تاکید کی ہے کہ ہم دونوں تو لازمی آئیں ۔اور اُنہوں نے ایسا ایک بار نہیں تقریباً چار بار کہا ہے ۔سچی بڑے اچھے اخلاق کی مالک ہیں اور بہت ہی پیاری اور اچھی آنٹی ہیں۔“

                ”تم اتنا بڑھ بڑھ کے آنٹی کی تعریفیں کیوں کر رہی ہو اور وہ تمہیں کیوں اچھی لگی ہے اور کون سی اچھا ئی اُس نے تمہارے ساتھ کر دی ہے۔“سحر آنکھوں میں شرارت لے کر بولی

                ”بکواس نہ کیا کرو۔“ نورنے سحر کو گھورا

                ” اور ہاں آج اُن کے گھر سے بریانی بھی آئی تھی شانی لیکر آیا تھا کہنے لگا ایک نوجوان لڑکا دینے آیا تھا۔ کہیں اس وجہ سے آنٹی تمہیں اچھی تو نہیں لگی ۔“سحر نے اُسے مزید تپایا۔

                ”بکواس بند کرو خبیث لڑکی تمہارا تو دماغ ہی اُلٹا ہے۔ میں نے تو اُن کے اخلاق کی وجہ سے اُن کو اچھا کہا تھا اور تم ہو کے بکواس کیے جا رہی ہو۔اور ویسے بھی بریانی تو وہ تمہیں دینے آیا تھا۔“ نور نے طنزیہ نظروں سے سحر کو گھورا

                ”ایسے مجھے بھلا کیوں دے گا وہ بلکہ اُس نے باقاعدہ تمہارا نام لیا تھا کہ نور ہے میں اُس کےلیئے بریانی لایا ہوں ۔لیکن میں نے اُس سے کہا نہیں جی نور تو نہیںہے وہ بازار گئی ہے۔ وہ بیچارہ افسردہ ہو گیا اور پلیٹ شانی کو پکڑا کر خود اُلٹے قدم لوٹ گیا۔اُس بیچارے کو کیا پتا تھا جس کے لئے وہ بریانی لایا ہے وہ تو سڑکوں کی خاک کھانے گئی ہے۔“ سحر نے ہونٹوں پر مسکراہٹ لا کر نور کو مزید تپایا۔تو وہ غصے سے بولی

                ”بکواس بند کرو چھچھوری لڑکی تمہیں کسی سے بات کرنے کی ذراتمیز نہیں ہے ۔دیکھنا ایک دن تمہاری یہ فضول بہتان باندھنے والی بکواس کی وجہ سے کوئی تمہارے منہ میں تیزاب ڈال دے گا اور تم گونگی بنی اوں آں کرتی پھروں گی۔ تمہارا منہ کالا کر کے تمہیں گدھے پر بیٹھائیں گئے اور جہاں بھی جاﺅ گی سب تمیں پاگل پاگل کہہ کر پتھر ماریں گئے اور سب تم سے کراہت کھائے گئے اللہ کریں تم جہنم میں جاﺅ دوزخیوں کا تم پیپ پیﺅوہاں پر تمام دوزخی تم سے بات کرنا بھی پسند نہ کریں۔ وہ تمہیں موٹی بھدی بدصورت کہہ کرپکار یں ۔بس اکیلی ہی وہاں پر جلنا مرنا۔توبہ ایک تو اتنی گرمی اوپر سے اس منحوس کی بکواس“ نور بولتے بولتے ہانپنے لگی تو اُٹھ کر جانے لگی۔پیچھے سے سحر نے آواز دی۔

                ” جاﺅ جا کر کچھ کھا لو آخر خالی پیٹ کب تک لڑوں گی۔ جاﺅ بریانی میں نے کھا لی ہے صرف ہڈیاں بچی ہیں ۔وہ میں نے تمہارے لئے کوڑے والی باسکٹ میں رکھی ہیں کھا لو وہاں سے اُٹھا کر تمہیں اُن کی شدید ضرورت ہے ۔“

                ”لعنت ہو تمہاری شکل پر کیڑے پڑے تمہیں بس اللہ کریںتمہاری شکل لومڑی جیسی ہو جائے ۔“نور بد دعائیں دیتی ہوئی اندر چلی گئی اورسحر اُن کی لائی ہوئی شاپنگ دیکھنے لگی

                                ززز

                ”اے باہر کوئی پتا کرو کب سے بیل ہو رہی ہے۔“ اماں نے آواز دی سحر دروازہ کھولنے گئی۔دروازے پر آنٹی نفیسہ تھی ۔سحر نے اُن کو دیکھ کر سلام کیا ۔جس کا جواب بہت پیار سے دیا گیا سحر اُنہیں لیکر اندر آئی

                ”ارے کون ہے۔“ اماں نے پوچھا

                ”آنٹی نفیسہ ہے۔“ سحر نے جواب دیا

                ”ارے نفیسہ کیسی ہو تم؟“اماں نے پوچھا

                ”میں بالکل ٹھیک ہوں، تم کیسی ہو حلیمہ۔“آنٹی نفیسہ نے پیار سے پوچھا

                ”اللہ کا شکر ہے میں بالکل ٹھیک ہوں۔“اماں نے جواب دیا ۔سحر اُن کے لئے جوس لانے کیچن میں چلی گئی ۔آنٹی نفیسہ کی آواز سن کر نور بھی باہر آ گئی

                ”ارے کیا حال ہے نور بیٹا۔۔۔؟“ آنٹی نفیسہ نے بڑے پیار سے پوچھا

                ”میں اچھی ہوں آنٹی“ اس نے آہستہ سے کہا

                ”وہ تو مجھے پتا ہے کہ تم بہت ہی اچھی ہو ۔“آنٹی نے اُسے بڑی پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اور سحر جو آنٹی کے لیئے جوس لے کر آ رہی تھی اُس نے اُن کا آخری فقرہ سُن لیا اور نور کی طرف شرارت سے دیکھا

                ”یہ لیں آنٹی جی۔“ سحر نے جوس کا گلاس آنٹی کی طرف کیا

                ”لو بیٹا اتنے تکلف کی کیا بات تھی۔“

                ”ارے اس میں تکلف کی کیا بات ہے پیﺅ ۔“اماں بولی

                ”اچھا مجھے تم سے ایک کام تھا۔ اُسی سلسلے میں آئی ہوں۔“ آنٹی نفیسہ بولی

                ”ہاں ہاں بولو۔“ اماں نے اپنائیت سے کہا

                ”وہ مجھے ایک نوکرانی کی ضرورت ہے۔ آپ مہربانی کر کے مجھے ایک کام والی ڈھونڈ دیں ۔سچی جب سے ہم اس گھر میں شفٹ ہوئے ہیں سارا کام مجھے اکیلی کو کرنا پڑتاہے ۔صفائی برتن کھانا کپڑے سب مجھے ہی کرنا پڑتاہے۔ میرے جوڑوں اور ٹانگوں میں شدید درد رہتا ہے ۔چلو میں کھانا تو بنا لیا کروں گی لیکن برتن کپڑوں اور صفائی کے لئے مجھے کوئی ماسی ڈھونڈ دو۔“

                ”ہاں آنٹی ہمارے محلے میں ایک کام والی ماسی آتی تو ہے ۔وہ اکثر گھروں میں کام کرتی ہے وہ کام بہت صفائی اور نیت سے کرتی ہے لیکن۔۔۔۔“سحر بولی

                ”لیکن کیا؟“ آنٹی بولی

                ”لیکن وہ پیسے منہ مانگے لیتی ہے۔ آپ کو تو پتا ہے جس طرح ہمارے ملک میں چینی آٹے اور بجلی کا بحران ہے، اُسی طرح نوکرانیوں کا بھی بحران آتا جا رہا ہے ،اُن کے سو سو نخرے ہوتے ہیں۔“

                ”ہاں بیٹا تم ٹھیک کہتی ہو لیکن اُسے جلدی سے کام پر لگا دو ۔میں اُسے منہ مانگی اجرت دینے کو تیار ہوں تم فکر نہ کرو بس میری اِن کپڑوں برتنوں اور صفائی سے جان چھوٹ جائے ۔“

                ”ٹھیک ہے نفیسہ ۔“اماں بولی ،”میں آج ہی اُس سے بات کرتی ہوں اور شام کو تمہارے گھر بھیج دوں گی۔“

                ”شکر ہے اللہ تعالیٰ کا یہ مسلہ تو حل ہوا۔“آنٹی نفیسہ خوش ہو کر بولی

                ”لیکن آنٹی ایک اہم بات ۔۔“سحر بولی

                ”وہ کیا۔۔۔؟‘ آنٹی حیران ہو کر بولی

                ”آنٹی وہ بہت ہی خرانٹ عورت ہے ،کن سوئیاں لینے کی اُسے بہت بری عادت ہے اور اُس کا ایک بہت ہی بے ہودہ شوق ہے، اُسے نصیبو لال بہت پسند ہے اورکام کرتے ہوئے وہ اُس کے گانے گلا پھاڑ کر گاتی ہے اور تو اور ایک نمبر کی ندیدی اور نظر باز ہے وہ چمگادڑ کے جیسی آنکھ والی عورت اگرکسی کا نیا کپڑا پہنا ہوا دیکھ لے اور اُسے پسند آ جائے تو فوراً کہتی ہے اللہ کرے یہ پھٹے اور میرا ہو جائے ۔اوراگر ذرا سی اُس پر سے نظر ہٹاﺅ تو فرج کی صفائی بھی اُتنی ایمانداری سے کرتی ہے جتنی فرش کی ۔بڑی چغل خور ہے وہ پکے منہ والی خرانٹ عورت ،بس آنٹی اُس سے کام کروایا اور چلتا کیا اور زیادہ منہ مت لگائیں گا پھر وہ ٹھیک رہے گی۔“

                ”اچھا بیٹا میں تمہاری ہدایت پر عمل کروں گی ،پر تم شام کو اُسے بھیج ضرور دینا بس مجھ سے اورکام نہیں ہوتا، میری تو اب ایک ہی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اچھی سی بہویں دے دیں میں سارا کچھ اِن کے سپرد کر کے خود آرام کروں گی۔“

                ”ہائیں یہ بہولانے کے خواب دیکھ رہی ہیں یا نوکرانیاں؟“ سحر نے سوچا

                ”اللہ کرے خوبصورت اور خوب سیرت بہویں ملیں۔“نفیسہ نے دونوں لڑکیوں کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

                ”اچھا اب میں چلتی ہوں مجھے دوپہر کے کھانے کی تیاری کرنی ہے ۔“وہ جاتے ہوئے بھی شام کو ماسی بھیجنے کی تاکید کرنا نہ بھولی۔سحر اُن کو دروازے پر چھوڑ کر آگئی ۔اماں اپنے کمرے میں چلی گئی اور لڑکیاں بھی اپنے کمرے میں آ گئیں۔

                ”ارے نور تم نے دیکھا۔“ سحر نے کہا

                ”کیا ؟“ نور بولی

                ”ارے یہ آنٹی نفیسہ کیسے نوکرانی لانے کے لیئے بے چین ہو گئی تھی ۔وہ اُس کے منہ ،ناک ، کان مانگے دام بھی دینے کو تیار ہو گئیں تھیں۔ مجھے تو یہ اتنی سیدھی نہیں لگتی جتنی بنتی ہے ۔کافی ہڈحرام اور مکار سی آنٹی ہے اوردیکھا بہویں لاﺅں گی اور آتے ہی اُن پر ساری ذمہ داری سونپ دوں گی۔ ارے بہویں نہ ہوئی کہولو کا بیل ہو گئیں۔اچھی بھلی ہیں کہیں سے لنگڑا تو نہیں رہی تھیں مجھے تو یہ کوئی ڈرامہ ہی لگتی ہیں۔“سحر کہتی چلی گئی                       ”بس بھی کرو“ نور اُکتاہٹ سے بولی۔” تمہیں کوئی پسند آتا بھی ہے یا نہیں ہر کوئی تمہیںبُرا لگتاہے۔ ہرکسی میں تم کیڑے نکال لیتی ہو۔ ایسا کیا کہہ دیا بیچاری آنٹی نے جو تمہیں اتنا بُرا لگ گیا ہے ۔اور تم خود اتنی ہڈحرام ہو تمہیںاتنا کام کرنا پڑے تو تمہیں پتا چلے بیچاری نے ایک ماسی ہی تو رکھنی ہے اور تم ہو کہ اُن کے پیچھے ہی پڑ گئی ہو۔ آخر بگاڑا کیا ہے اُنہوں نے تمہارا جو تم اتنی گرم ہو رہی ہو ۔“

                ”ایک منٹ ایک منٹ ۔۔۔“سحر حیرانگی سے بولی

                ”تم آنٹی نفیسہ کی اتنی طرف داری کیوں کر رہی ہو؟ کہیں کچھ دال میں کالا تونہیں۔ اُس دن تم آنٹی کو اچھا اچھا کہہ رہی تھی اور آج وہ تمہیں اچھی اچھی کہہ کر چلی گئیں بتاﺅ آخر کیا کھچڑی پک رہی ہے تم دونوں کے ببیچ، تمہارے لیئے تو بریانی بھی آتی ہے، بڑے واری صدقے جاتی ہے تم پر کہیں تمہیں بہو بنانے کا ارادہ تو نہیں اُس آنٹی چال باز کا“۔ سحر نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا

                ”بکواس بندکرو منہ پھٹ عورت کہیںکی۔“ نور اچانک غصے سے بولی ،”میںنے سوچا نہیں تھا تم اتنی گھٹیا اور گری ہوئی ہو سکتی ہو۔ہر وقت تمہارے منہ پر بکواس ہوتی ہے تم ہر کسی کی برائی کرتی ہوجو خود بُرا ہوتا ہے وہ دوسروں کو بھی اپنے جیسا سمجھتاہے۔“

                ”اُوئے زیادہ اُڑو مت، تم بڑی معصوم بنتی ہو پھاپھا کٹنی نہ ہو تو اور ویسے تمہیں ساس کا اتنا بُرا لگ گیا، حیرت کی بات ہے۔“ سحر نے ذرا بھی خفت محسوس نہ کی ۔

                ”بکواس بند کرو ۔“نور نے اپنے دائیں جانب پڑی کتاب اُٹھا کر سحر کے منہ پر ماری۔سحر نے بھی اپنا جوتا اُٹھا کر نور کے منہ پر مارا۔دونوں میں زبردست لڑائی شروع ہو چکی تھی۔ اُن کے ہاتھ میں جو بھی آیا اُٹھا کر ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیا۔باہر خالہ زرینہ چینی مانگنے آئی تھیں اوراُن کی ساری آوازیں باہر سُنائی دے رہی تھیں۔ اماں اُس کے سامنے بہت شرمندہ ہوئی۔ اُسے فارغ کرکے وہ لڑکیوں کے کمرے میں آئی۔

                ”یااللہ میںکیا کروں اِن کا ،یہ مجھے سکون سے جینے نہیں دیں گی ۔یہ میری موت کا باعث بنے گی۔“لڑکیاں اپنی لڑائی بھول کر اماں کو دیکھنے لگیں جن کے تیور خطرناک حد سے بھی زیادہ خطرناک تھے۔ آج میں تم دونوں کو نہیں چھوڑوں گی۔ اماں نے اپنی چپل اُتاری اور اُن دونوں کو مارنا شروع کر دیا۔” آنے دو تمہارے باپ کو میں اُن کو بتاﺅگی کہ کیا چڑیلیں پیدا کی ہیں۔ آج فیصلہ ہو کر ہی رہے گا ۔اِن کو پتا تو چلے کہ یہ سارا دن کیا ڈارمے کرتی ہیں۔ تم دونوں کی ہر وقت لڑائی ہوتی اور لڑائی کی معقول وجہ بھی نہیں ،میں ہر دفعہ چپ کر جاتی ہوں کہ بچیاں ہیں خود ہی سمجھ آ جائے گی لیکن یہ خرانٹیں سمجھتی ہی نہیں ہیں۔ اور آج تو تم لوگوں نے حد کر دی اُس بڑے پیٹ والی حرام خور زرینہ کے سامنے شرمندہ کر دیا، کیسے کھی کھی کر کے جا رہی تھی بھکارن کہیں کی ۔آج جو مرضی ہو جائے میںبتاﺅ گی تمہارے باپ کو کہ یہ کیا گل کھیلا رہی ہیں اور یہ دن بدن بدلحاظ ہوتی جا رہی ہیں اور اب تو محلے والوں کے سامنے بھی یہ حیا نہیں کرتیںاور گز گز کی زبان اُن کے سامنے چلتی ہیں ۔ا ُنہیں پتا تو چلیں کہ اُن کی یہ لاڈلیاں کیسی اُن کی نیک نامی بنا رہی ہیں۔“ اماں روتے ہوئے باہر چلی گئی ۔نور بھی غصے سے دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔اچانک گھر کا ماحول سرد ہو گیا تھا۔

                                ززز

                شام کو جب حبیب صاحب آئے تو اُنہوں نے دونوں لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا۔اُن کے آتے ہی اماں شروع ہو گئی۔

                ”دیکھوں کیسی میسنیاں گھونیاں بنی بیٹھی ہیں جیسے اِن کے منہ میں زبان ہی نہیں ہے اور صبح کیسے منہ پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے کو صلواتیں سُنا رہی تھیں“لڑکیاں بالکل چُپ تھیں،” دیکھو۔۔ ۔دیکھو اِن کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو اِن خبیث روحوں کو۔۔۔پوچھئے اِن سے کہ اِن دونوں نے کیوں میری زندگی ہروقت برباد کی ہوئی ہے۔ ہر وقت اِن کی لڑائی ہوتی ہے اِن کے نزدیک دنیا کا اہم ترین کام لڑائی ہے ۔ہر وقت جنگی حالات نافذ کیے رکھتی ہیں ۔ارے یہ بہنیں ہیں یا ڈائینے ذرا جو اِن میں اتفاق ہو۔“ اماں کا بولتے بولتے سانس پھول گیا۔لڑکیاں منہ کو تالا لگائے بیٹھی رہیں۔ حبیب صاحب بالکل خاموش تھے اچانک بولے

                ”دیکھو، آج تم دونوں نے مجھے تمہاری ماں کے سامنے شرمندہ کر دیا ہے وہ ہر بار مجھ سے تم لوگوں کی شکایت کرتی مگر میں ٹال جاتا“لڑکیاں شرمندہ ہو گئیں۔”ذرا سوچو اگر آپ آپس میں لڑیں گی تو کل کو باہر کا کوئی آکر تم لوگوں پر حاوی ہو جائے گا ۔لڑائی کوئی اچھی بات نہیں ہے اس سے گھر کا سکون خراب ہوتا ہے اور آس پڑوس والے کیا سوچیں گئےں۔ دیکھو بیٹا تم میرا غرور ہو اور میرے غرور کو ٹوٹنے مت دینا، چلو شاباش اب آپس میں گلے ملو اور اپنی ماں سے معافی مانگو۔“ لڑکیاں ایک دوسرے کے گلے لگ گئی اور پھر اماں کو منانے لگی لیکن اماں کا موڈ کسی طور پر ٹھیک ہونے کو نہیں آ رہا تھا۔لڑکیوں نے مدد کے لئے باپ کو دیکھا۔

                ”اچھا بیگم اب کی بار معاف کر دو آئندہ میں اِن کو ایسی سزا دوں گا کہ یہ یاد رکھےں گی۔“ابا اپنی آنکھوں میں مصنوعی غصہ لے کر بولے ۔”دیکھو، تم دونوں میری بات غور سے سُنو،یہ میری آخری وارننگ ہے اگر اب تم نے اپنی ماں کو تنگ کیا تو میں تمہیں آدھی رات کو اُٹھا کر سلطان راہی کی فلم فُل والیوم کر کے دیکھاﺅں گا یاد رکھنا۔“

                ”کیا ۔۔۔!“دونوں کی آنکھیں باہر آنے کو تھیں،” نہیں نہیں ابو ہم کبھی نہیں لڑیں گی اور امی کو بھی تنگ نہیں کریں گیں ۔“یہ سزا سُن کر اُن کا حال بُرا ہو گیا

                ”اچھا بیٹا تم دونوں اب جا کر کھانا وغیرہ کھاﺅ میں تمہاری اماں کو سمجھاتا ہوں ۔“لڑکیاں اُٹھ کر باہر چلی گئیں۔

                ”دیکھا آج پھر آپ نے بات مذاق میں اُڑا دی او راُن کو اور شیر کر دیا۔“ اماں ناراضگی سے بولی

                ”ارے بیگم سلطان راہی کی فلم کو آپ مذاق سمجھ رہی ہے۔ ارے اُن کی فلموں نے تو بڑے بڑوں کو سبق سکھایا ہے یہ تو پھر بھی معصوم بچیاں ہیں ۔دیکھا نہیں کیسے اُن کا رنگ فق ہو گیاتھا ۔کیسے اُن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے ۔کیسی ڈر گئی تھی بیچاری اُن کے نام سے ہی۔“

                ”ہاں ہاں اور چھوٹ دیں اُن کو“ اماں غصے میں بولی،”بجائے اِن کو سمجھانے کے اُنہیں اور بگاڑ رہے ہیں۔ میں کہتی ہوں انہوں نے ساری زندگی یہاں نہیں بیٹھنا اگلے گھر جانا ہے کچھ تو اُنہیں تمیز سیکھائیں۔“اماں دکھی لہجے میں بولی

                ”ارے بیگم یہی تو دن ہے اُن کے ہنسنے کھیلنے کے ۔اور باقی سب اللہ پر چھوڑ دو وہ سب بہتر کرنے والا ہے۔ اچھا بیگم ٹی وی تو آن کرو دیکھے ملک کے کیا حالات ہیں۔“

اماں نے ٹی وی آن کیا سامنے اماں کا فیورٹ نیشنل جیو گرافک چینل موجود تھا۔وہاں پر بہت سارے مگر مچھ بکھرے پڑے تھے۔

                ”دفعہ کرو بیگم اس چینل کو“ حبیب صاحب اُکتاہٹ سے بولے” نیوز لگاﺅ“

                ”نیوز۔۔۔ ہر وقت مرنے مرانے کی خبریں آتی ہےں“ اماں بیزاری سے بولی

                ”ارے بیگم اِن مگر مچھوں کو دیکھ کر مجھے اپنے کولیگ ہمدانی کی یاد آ جاتی ہے بالکل ویسی ہی آنکھیں ہیں اُس کی اور نیت بھی اِن مگر مچھوں جیسی ہے اوروہ ہمارا بوس جس کی بیوی کی شکل اُودبلاﺅ سے ملتی جلتی ہے وہ کمینہ زن مریدخود اُسی کی اپنی شکل سانپوں جیسی ہے وہ اُس ہمدانی کی بڑی مانتا ہے اُس کی چھپکلی جیسی بیٹی کا رشتہ اُس ہمدانی کے بیٹے جس کے کان کھڑے ہو جائیں تو پورا گدھا لگے اتنا لمبا منہ ہے اُس کے بیٹے کا توبہ توبہ دیکھتے دیکھتے آنکھیں تھک جائیں مگر منہ ختم نہ ہواور وہ ہمارا بوس اتنا شوق ہے اُسے حرام کھانے کا کہ حلال طریقے سے کمائی ہوئی چیز اُسے ہضم ہی نہیں ہو گی گدھ کی طرح مردوں کا مال ڈھونڈتا رہتا ہے خبیث کہیں کا۔“

                ”ارے بس بھی کریں “اماں مزید کوفت کا شکا رہو ئی،” خدا کا خوف کریں کوئی ایسے بھی کسی کواُلٹے ناموں سے پکارتاہے توبہ۔میں بھی کہوں آپ کی شیطان بیٹیاں باپ پر گئی ہیں یا شیطان باپ بیٹیوں پر گیا ہے ۔تم باپ بیٹیاں کبھی نہیں سدھر سکتے آخر خون جو ایک ہوا ۔“وہ توبہ تونہ کرتی باہر چلی گئی۔

                                                ززز

                آج آنٹی نفیسہ کے گھر قرآن خوانی تھی۔

آنٹی نفیسہ اماں کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی جب وہ دونوں باہر آئی تو بہت خوش لگ رہی تھی۔لڑکیاں حیران کہ اِن کو کیا ہو گیا ہے ۔اماں گھر آئی تو اُن کا موڈ خلاف معمول بہت خوشگوار تھا وہ بات بے بات مسکراتی تھی اور حیرت کی بات یہ کہ وہ دونوں لڑکیوں سے بھی بڑے پیار سے پیش آر ہی تھی ۔اماں کا اُن سے شفقت بھرا رویہ ہضم نہ ہوا تو انہوں نے لڑنا شروع کر دیا۔اُس پر بھی انہوں نے بڑے پیار سے کہا کہ بیٹا تم اب بڑی ہو گئی ہو بات بے بات نہ لڑا کرو چلو شاباش اچھی لڑکیاں میرا کہا مانو اور آپس میں اتفاق سے رہو وہ کہتے ہوئے کچن میں چلی گئی۔

                ”ارے یہ کیا؟“نور کی آنکھیں باہر آنے کو تھیںیہ میری پیاری امی نہیں ہو سکتی کہیں کسی نے کوئی جادو تونہیں کر دیا میری معصوم ماں پر۔“

                ”ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے۔“ سحر نے نور کی ہاں میں ہاں ملائی ،”جب سے امی آنٹی نفیسہ کے کمرے میںگئی اور پھر باہر آئی ہیں اُن کی تو خوش اخلاقیاں ہی ختم نہیں ہو رہیں۔محلے کی عورتوں سے بھی ضرورت سے زیادہ خوش ہو کر مل رہی تھیں اور اُس عیارسدرہ کو اتنی دُعائیں دی جتنی کبھی ہمیں بھی نہ دی ہوں اور وہ ٹیڑھی آنکھوں والی صائمہ جس کے منہ سے اتنی گندی بو آتی ہے کہ جب وہ سانس لیں اور ساتھ بیٹھا بندہ اپنی سانس کھو دیںاُس کے ساتھ بھی گلے ملی اپنی جان کی پروا کیسے بغیر۔آخر اِن کو ہو کیا گیا ہے ۔“

                ”مجھے تو لگتا ہے اُس آنٹی نفیسہ نے اماں کو تعویذ پلائے ہیں ۔دیکھا تھا جب اماں اُس کے کمرے سے باہر آئی تھی تو کیسے اُن کے چہرہ معصوم لگ رہا تھا اور اُسی مکار آنٹی نفیسہ کی شکل پرکیسی خباثت ٹپک رہی تھی ۔کیا کر دیا ہے اُس جادوگرنی نے میری معصوم اماں کو۔“ سحر چلائی

                ”آئے ہائے پھر دورا پڑگیا تمہیں سحر۔“ نور نے اپنا ماتھا پیٹا

                ”تم کیوں اُس بیچاری آنٹی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہو بلکہ نہا دھو کر بلکہ فرش دھو کر بلکہ برتن دھو کر اور کپڑے بھی دھو کر ،اگر اماں خوش اخلاقیاں دکھا رہی ہیں تو اس میں بیچاری آنٹی نفیسہ کا کیا قصور ہے ۔“

سحر کی آنکھیں پھیل گئی

                ”یا اللہ مجھے تو لگتاہے اُس خرانٹ اور مکار عورت نے تمہیں بھی تعویذ پلائے ہیں اسی لئیے تم اُس بڈھی کی طرف داریاں کر رہی ہو۔“ سحر رو دینے کو تھی

                ”تم ہو ہی بدتمیز“ نور بولی،” تم یہ سوچنے کی بجائے کہ امی کو کیا ہو ا ہے تم بے پر کی ہانکیں جا رہی ہو ۔“

                ”اُس کھوسٹ کا بھوت تم پر سوار ہو چکا ہے ۔“سحر غصے سے بولی

                ” دفعہ دور تم تو ہو ہی پاگل لڑکی تم سے کوئی پاگل ہی مقابلہ کر سکتاہے میں تو نہیں کر سکتی ۔“نور یہ کہتے ہوئے باہر چلی گی۔اور سحر سر پکڑ کر رہ گئی ۔

                                ززز

شام کو حبیب صاحب گھر میں آئے تو اماں اُنہیں لیکر کمرے میں چلی گئی ۔کھانا کھاتے ہوئے حبیب صاحب نے اماںسے کہا

                ”کیا ہوا بیگم آج بڑی خوش ہو؟کوئی خاص وجہ ہے کیا؟“

                ”ہاں خاص تو ہے“ اماں بولی

                ”پھر مجھے بھی بتاﺅ“ حبیب صاحب بولے

                ”ہاں وہ آج نفیسہ کے گھر قرآن خوانی تھی۔ اُس نے مجھے اپنے بیٹوں سے ملایا ۔عباد اور حماد وہ بہت ہی پیارے لڑکے ہیں۔ اتنے تمیز دار اور سلجھے ہوئے کہ کیا بتاﺅں آپ کو۔ ہاں اور ایک اہم بات ۔وہ نفیسہ نے نور اور سحر کا رشتہ مانگا ہے اپنے بیٹوں کے لئے۔میرا تو دل چاہا اُسی وقت ہاں کر دوں، پر میں نے سوچنے کا موقع مانگا ہے اور میں آپ کے بنا کوئی فیصلہ کر سکتی ہوں بھلا۔اُن لڑکوں کی نئی نئی جاب شروع ہوئی ہے اور اب یہ لوگ ہمیشہ کے لئے یہاں سیٹل ہو چکے ہیں ۔اگر یہ رشتہ ہو جائے تو بہت اچھا ہو گا ۔بیٹیاں آنکھوں کے سامنے رہے گی۔اُنہوں نے کل شام تک کا سوچنے کو کہا ہے آپ لڑکوں سے مل لینا پھر کوئی بات آگے کریں گئے“ اماں خوش ہو کر بولیں۔اس پر حبیب صاحب کچھ نہ بولے تو ایک دم پریشان ہو گئیں۔” آپ چُپ کیوں ہو گئے ہیں۔“ اماں یک دم سنجیدہ ہوگئیں۔

                ”ارے نہیں بیگم میں لڑکوں سے مل لوں گا پھر بات آگے بڑھائیں گے۔ بس اللہ تعالیٰ سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔“ حبیب صاحب نے دل کی گہرائیوں سے دُعا کی۔

                                ززز

                اگلی شام کو حبیب صاحب اوراماں آنٹی نفیسہ کے گھر گئے۔

جب وہ لوگ واپس آئے تو بہت خوش تھے اوراماں کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔آتے ہی اُنہوں نے دونوں کو بُلایا اور اُن کو جی بھر کر پیار کیا۔

                ”اماں آپ اتنی اچھی کیسی ہو گئی۔‘ سحر بے یقینی سے بولی

حبیب صاحب بھی نفیسہ کے بیٹوں سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے وہ جیسے داماد چاہتے تھے وہ بالکل ویسے ہی تھے

                ”میں ابھی آتا ہوں۔“ حبیب صاحب کہہ کر کمرے میںچلے گئے

                ”اماں بتائیں نہ آپ اتنی اچھی کیسے ہو گئی ہیں ۔“ سحر پھر بولی

                ارے میری بچی ایک ماں سب سے زیادہ تب خوش ہوتی ہے جب اُس کی بیٹیوں کے رشتے طے ہوتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ تو اُس وقت خوش ہوتی ہے جب رشتے اچھی جگہ پر طے ہوتے ہیں اورہم تمہارے رشتے نفیسہ کے بیٹوں کے ساتھ طے کرکے آئیں ہیں۔آج جمعہ ہے اور اتوار کو تم لوگوں کا نکاح ہے ۔رخصتی ایک ماہ بعد ہو گی کیونکہ نفیسہ کا شوہر ایک ماہ بعد کویت سے آئے گا۔“

                ”کیا ۔۔۔!“دونوں لڑکیوں کی آنکھیں باہر آنے کو تھی، ”اماں آپ نے ہم سے تو پوچھا ہوتا“ سحر بولی

                ”اے اب ہمیں تم سے پوچھ کر یہ فیصلے کرنے ہیں نا مراد کہیں کیں‘۔‘ اماں پہلے والی خطرناک اماں بن گئی ۔”میں زبان کاٹ کر ہاتھ پر رکھ دوں گی جس نے زیادہ بکواس کرنے کی کوشش کی تو ۔“اماں ترش لہجے میںکہتی ہوئی اندر چلی گئی ۔لڑکیاں ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگیں

                ”دیکھا میں نہ کہتی تھی اُس چالاک کھوسٹ بڑھیا نے اماں کے کان بھرے ہیں ۔“سحر شدید غصے میں تھی ۔”اور تم اتنی چُپ کیوں بیٹھی ہو؟“ سحر نے نور کی طرف شکی نظروں سے دیکھا۔”کہیں تمہیں پہلے سے تو خبر نہیں تھی مجھے پکا یقین ہے تمہیں خبر ہو گی اس وجہ سے اُسکی بڑھ بڑھ کر ہمدردیاں کرتی تھیں یعنی میرا شک بالکل ٹھیک نکلا ۔“سحرنے نور کو گھورا۔

                اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا کیوں نہ پارلر جا کر ہم اپنی شکلوں پر توجہ دیں۔ آخر ہمارا نکاح ہونا ہے اتوار کو ۔“نور اطمینان سے بولی

                ”تمہیں بڑا شوق ہے نکاح کروانے کا ۔جب وہ ہڈحرام عیار بڑھیا سارا سارا دن تم سے نوکرانیوں کی طرح کام کروائے گی تب تم کو پتا چلے گا اُس خرانٹ عورت کا ۔“سحر نے نور کو ڈرایا۔نورنے اُس کی کسی بات کو خاطر میں نہ لا یا اور باہر چلی گئی

                                ززز

                اور آخر اتوار والے دن دونوں لڑکیوں کا نکاح ہو گیا۔سحر حبیب سے وہ مسز حماد بن گئی اور نور حبیب سے وہ مسز عباد بن گئی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ دونوں لڑکیوں نے اپنے مجازی خُداﺅں کو نہیں دیکھا تھا اور مجازی خُداﺅں نے بھی اپنی دولہنوں کو نہیں دیکھا تھا۔

اماں اور آنٹی نفیسہ بہت خوش تھی۔

                                                ززز

                ”تم کیا سوچ رہے ہو۔“ عباد نے حماد سے پوچھا

                ”میںیہ سوچ رہاہوں کہ میری بیوی تمہاری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہو گی۔“ حماد نے اطمینان سے جواب دیا

                ”ایسے ہی میری بیوی زیادہ خوبصورت ہو گی۔“ عباد پیچھے رہنے والوں میں سے نہیں تھا

                ”تمہاری بیوی کی شکل بلی جیسی ہو گی۔“ حماد بولا

                تمہاری بیوی کی شکل مکوڑے جیسی ہو گی ۔“عباد نے فوراً جواب دیا

                تمہاری بیوی کی آنکھیں ٹیڑھی ہونگی اور اُس کی ناک بھی بہتی ہو گی اور وہ کان بھی صاف نہیں کرتی ہو گی ۔“حماد چہرے پر فتح مندی کے اثرات لیئے ہوئے بولا

                اوئے تمہاری بیوی کے منہ پر ہزاروں بلکہ لاکھوں بلکہ کڑوڑوں بلکہ اربوں کی تعداد میںکیل مہاسے چھائیاں اور داغ دھبے ہونگے اور تمہاری بیوی تو دانت بھی صاف نہیں کرتی ہو گی اور اُس کی آنکھیں بھی بھینگی ہو گیں اب کیا کہتے ہو ۔“عباد نے حماد کو دیکھا ۔

                ”تمہاری بیوی چڑیل ہو گی وہ بھی الٹے پاﺅں والی۔“ حماد غصے سے بولا

                ”اور تمہاری بیوی ڈائن ہو گی وہ بھی سفید بالوں والی۔“ عباد بھی غصے میں آ گیا دونوں نے آپس میں لڑنا شروع کردیا۔کسی نے کہا دولہے آپس میں کسی بات پر لڑ رہے ہیں

نفیسہ بیگم نے سُنا تو ان کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے وہ بھاگتی ہوئی اپنے بیٹوں کے پاس گئی اور اُنہیں گھورتے ہوئے کہا

                ”کیا بدتمیزی کر رہے ہو تم دونوں شرم کرو تم دولہے بنے ہو اوریہاں بھی تمہاری لڑائی اور لڑائی بھی کیسی گھٹیا بات پر ہو رہی ہے، کچھ تو خدا کا خوف کرو ۔کیوں میری عزت کا جنازہ نکالنے پر تلے ہو۔ کبھی تو اتفاق کر لیا کرو آخر تم دونوں بھائی ہو قصائی نہیں ہو جو ہر وقت ایک دوسرے کو ذبح کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہو۔“ نفیسہ بیگم نے لڑکوں کے لیتے لیئے۔ رنگ تو اُن کا اُس وقت اُڑا جب اُنہوں نے اپنے پیچھے کھڑی حلیمہ (یعنی اماں ) کو دیکھا تو بیچاری شرمندہ ہر گئیں

                ”ارے تم یہاں کھڑی ہو اور میں تمہیں وہاں ڈھونڈ رہی تھی۔“نفیسہ نے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولا تو اماں نے اُن کو روک دیا اور کہا،” کوئی بات نہیں بچے ہیں میری بیٹیا ں بھی آپس میں ایسے ہی کرتی ہیں اورجہاں پیار ہوتا ہے وہاں لڑائی بھی ہوتی ہے۔“ اماں نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے لے گئیں۔نفیسہ نے اپنے بیٹوں کو گھورا اور وہاں سے چلی گئی

                                ززز

                دولہا اور دولہنوں کو سٹیج پر لا کربٹھایا گیا۔سب نے ہی اُن چاروں کی جوڑی کی تعریف کی تھی اور وہ چاروں لگ بھی تو بڑے خوبصورت رہے تھے۔

                ”ارے یہ کیا۔“نور بولی ۔”یہ تو وہی باندر ہیں جو پارک میں اپنی عقل نہ ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔“ نور کی آنکھیں حیرت سے کھُل گئی اور وہ یہ بھی بھول گئی کہ وہ دلہن بنی ہے

                ”ارے یہ بھی تو وہی باندریاں ہیں جن کو دوسروں کے بارے میں برے ریمارکس دینے کی بری عادت ہے ۔“عباد نے غصے سے کہا

                ”میں تو پہلے ہی خلاف تھی اس شادی کے تم ہی بڑا اٹھلاتی پھرتی تھیں اب بھگتوں اِن باندروںکو۔جن کو میں دومنٹ برداشت نہیں کر سکی اب اُن کو ساری زندگی برداشت کرنا پڑے گا۔“ سحر تو اپنے آپے سے باہر ہو گئی اور وہ بھی بھول گئی کہ وہ نئی نویلی دولہن ہے۔

                ”ارے اُوعباد کے بچے کتنا کہا تھا کہ ایک دفعہ لڑکیاں دیکھ لیتے ہیں مگر تم نہیں مانے اور پھنس گئے ہم اِن نک چڑھیوں کے بیچ اگر لڑکیاں دیکھ لیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی

                ”ہاں ہاں ہم بھی تم باندروں کو دیکھ لیتی تو ہماری زندگی خراب ہونے سے بچ جاتی نصیب پھوٹ گئے ہمارے۔“ سحر بولی

                ”چُپ کو شکارن کہیںکی۔۔“عباد غصے سے بولا

                ”اور تم چھچھوندر کہیں کے ۔“سحر نے اُلٹا جواب دیا

                ”تم موٹے ناک والی۔“ اب عباد نے نور سے کہا

                ”اور تم نے اپنے ہونٹ دیکھے ہیں دھاگے جیسے پتلے اور مکار ۔“

وہ چاروں آپس میں لڑ رہے تھے پھر وہ معرکے ہوئے کہ ایک دم شادی حال میدان جنگ میںتبدیل ہو گیا۔اُن کی دھاڑوں اور چنگھاڑوں سے درودیوار لرزنے لگے۔اماں اور آنٹی نفیسہ کا برا حال تھااُن کو جگہ نہیں مل رہی تھی کہ وہ اپنا منہ کہاں چھپائے ۔اچانک سحر نے عباد سے پوچھا

                ”چلو جو ہونا تھا وہ ہو گیا ، مجھے یہ بتاﺅ اس دن ہمارے ریمارکس کیسے تم لوگوں کو معلوم ہوئے؟“

                ”اس نے بتایا تھا۔“ عباد نے سامنے کھڑے شانی کی جانب اشارہ کیا۔

                یہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی سب کچھ۔۔۔ ہم نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا۔“حماد نے ہنستے ہوئے کہا۔

تبھی ان چاروں کا قہقہہ فضامیں بلند ہو گیا۔

یہ کبھی نہ بھولنے والی تقریب تھی۔ان سب سے کوئی خوش ہو نہ ہو حبیب صاحب بہت خوش تھے کیونکہ جیسے وہ داماد اپنی بیٹیوں کے لیئے چاہتے تھے وہ بالکل ویسے”اپنے جیسے“تھے ۔اُنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اُن کی حقیقی خوشیوں کی دُعا کی اور اللہ سے اُن کی جوڑی کو سلامت رہنے کی دُعا کی اور وہ ہمیشہ پیار سے رہےں۔

                ززز

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے