سر ورق / کہانی / دودھ والا ۔۔۔محمد ندیم اختر

دودھ والا ۔۔۔محمد ندیم اختر

                عبیرہ اور افرا چلتے چلتے رک گئیں تھیں ۔

                گلی کی نکڑ پر ہی بخاری صاحب دودھ والے سے اس بات پر جھگڑا کر رہے تھے کہ گذشتہ کئی دنوں سے دودھ میں پانی زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے دودھ گاڑھا نہیں ہوتا ۔ بس آج اپنا حساب چکتا کرو اور وہ نیا دودھ والا لگوا لیں گے ۔سکول جاتے ہوئے عبیرہ اور افرا اس لیے رکی تھیں کہ کل رات ہی عبیرہ کی امی بھی دودھ والے کا گلہ کر رہی تھیں کہ بارہا شکایت کرنے کے باوجود دودھ والے پر اثر نہیں ہو ا اور دودھ دن بدن پتلا ہونے لگا ہے ۔ عبیرہ کی امی اس کے ابو جان سے کہہ رہی تھیں کہ کیوں نہ دودھ والا ہی بدل لیا جائے ۔ ابوجان نے بھی امی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔

                یہ ایک دودھ والا تھا جو نزدیکی گاﺅں سے آتاتھا ۔ پورا محلہ اسی دودھ والے سے دودھ لیتا تھا ۔ شروع شروع میں تو اس کا دودھ گاڑھا ہوتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی دودھ میں پانی ملانے لگا ۔ جس کی وجہ سے دودھ پتلا ہونے لگا ۔ پچھلے دنوں گھر میں ابو جان کے مہمان آئے ہوئے تھے ۔ امی جان نے چائے بنا کر ڈرائنگ روم میں بھیجی ۔ مہمانوں کے جانے کے بعد ابو جان غصے میں تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ چائے کا بالکل ذائقہ نہیں تھا ۔ بے ذائقہ چائے کی وجہ سے انہیں مہمانوں کے سامنے شرمندگی اٹھا پڑی ۔ وہ امی جان پر برس رہے تھے ۔ امی جان نے اس دن بھی دودھ کا رونا رویا کہ اس میں بھلا ان کا کیا قصور قصور تو دودھ والے کا ہے جوروزانہ کہنے کے باوجود دودھ پتلا دے کر جارہا ہے ۔ اس پتلے دودھ سے چائے بھی بے ذائقہ ہی بنتی ہے ۔

                سکول سے چھٹی کے بعد جب عبیرہ گھر پہنچی تو اس نے اپنی امی کو بتایا کہ آج صبح وہ نکڑ والے بخاری صاحب دودھ والے سے دودھ پتلا ہونے کی وجہ سے جھگڑا کر رہے تھے ۔

                ”ہم نے بھی آج اس دودھ والے کو جواب دے دیا ہے ۔ بلکہ اس سے دودھ کا حساب کر کے چکتا کر دیا ہے ۔ “امی نے ایک نئی خبر دی ۔

                ”اس کا مطلب اب نیا دودھ والا ڈھونڈا جائے گا۔ “عبیرہ نے جھٹ سے پوچھا ۔

                ”ڈھونڈا کہاں ہے ،وہ بھی مل گیا ۔ آج دوپہر میں پتہ چلا کہ پورے محلے میں جہاں وہ دودھ والا دودھ دیتا تھا سب نے ہی آج اس کا حساب چکتا کر دیا ہے ۔ وہ تو اللہ بھلا کرے بخاری صاحب کا ان کے ایک جاننے والے تھے جو نزدیکی گاﺅں خیر پور سادات سے دودھ دینے شہر میں آتے ہیں ۔ بخاری صاحب کے توسط سے اب وہ دودھ والا اس محلے میں بھی دودھ دیا کرے گا۔ “امی نے دوسری خبر دی ۔

                ”اس کا مطلب اب دودھ گاڑھا ملا کرے گا۔ پھر اسے کاڑھنے کے بعد جب اس پر بلائی آئے گی تو وہ میں کھاﺅں گا۔ “عبیرہ نے زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے کہا ۔

                ”ہاں نہ صرف میری گڑیا بلائی کھائے گی بلکہ ہم نے تو ایک کلو دودھ اضافی بھی لگوا لیا ہے ۔ سوچا خالص دودھ ہوگا تو اس کا دہی بنا کر مکھن نکالا کریں گے ۔ مکھن بھی تو میری گڑیا رانی کو اچھا لگتا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔!چلو شاباش یونیفارم تبدیل کرو ،کھانا کھاﺅ اور سو جاﺅ ۔ پھر اٹھ کر ہوم ورک بھی کرنا ہوگا۔ “امی نے پچکارتے ہوئے عبیرہ کو کہا ۔ عبیرہ حسب معمول یونیفارم تبدیل کر کے ہاتھ منہ دھونے کے بعد کھانا کھاکر کمرے میں لیٹ گئی اور خواب خرگوش کے مزے لینے لگی ۔

                محلے میں اب خیرپور سادات گاﺅں کا دودھ والا ہی دودھ ڈالتا تھا ۔ اس کا دودھ واقع خالص اور گاڑھا تھا ۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر بلائی کی موٹی تہہ جم جاتی ۔ امی اتنی موٹی بلائی کی تہہ دیکھ کر کہتی تھیں کہ جب امی جان کے گھر گاﺅں میں اپنی بھینسیں ہوتی تھیں تو بھی اتنی موٹی بلائی نہیں دیکھی تھی ۔ لیکن یہ دودھ تو کچھ زیادہ ہی خالص لگتا ہے ۔ محلے والے خوش تھے اور بخاری صاحب کو دعائیں بھی دیتے تھے ۔

                ٭٭٭

                عبیرہ اور افرا دونوں کہنے کو خالہ زاد بہنیں تھیں لیکن دونوں کی دوستی بھی اپنی مثال آپ تھی ۔ دونوں اپنے سکول کی ہونہار طالبات تھیں ۔ سکول میں چاہے تقریری مقابلہ ہو یا ڈرائنگ ،پی ٹی شو یا کوئز مقابلے دونوں کی جوڑی بہت مقبول تھی۔ سکول میں ان کے بہت سے کارنامے بھی بہت مشہور تھے ۔ جیسے ایک بار انہوں نے لنچ چور پکڑے تھے ۔جو طالبات کے بیگوں سے لنچ بکس چرا کر غائب ہوجاتے تھے ۔ ایسے ہی ایک بار انہوں نے اس شرارتی بچے کو پکڑوایا تھا جو اکثر اوقات سکول میں کسی نہ کسی ٹیچر کے ساتھ شرارت ، شرارت بھی ایسی کہ ٹیچر ز کو اپنی کلاس کے سامنے شرمندگی اٹھا نا پڑتی ۔ لیکن وہ شرارت کرنے والا کبھی سامنے نہیں آیا تھا ۔ اس شرارتی بچے کو بھی انہوں نے ہی پکڑوایا تھا ۔ ایسے ہی محلے میں ان کے بہت سے کارنامے زندہ مثال تھے ۔ انہی کارناموں کی وجہ سے انہوں نے ایک دن اپنے گروپ جس میں عبیرہ ، افرا اور عبیرہ کا بھائی مہد،اور کسی مشکل مشن میں عبیرہ کا چاچو شکیل جو ان کا ساتھ دیتا تھا ۔ اس گروپ کو” مشن اسکوارڈ“ کا نام دے رکھا تھا ۔ عبیرہ اس ”مشن اسکوارڈ“ کی لیڈرتھی ۔

                چھٹی کا دن تھا ۔ افرا دوپہر میں عبیرہ کے گھر جمع تھے ۔ کمرے میں بیٹھے بیٹھے مہد بولا ۔

                ”ارے بھئی !ہمارا سکوارڈ کچھ خاموش ہے ۔ نیا کارنا مہ کرنے کا موڈ نہیں یا کوئی کارنامہ رہ ہی نہیں گیا ۔ “

                ”ہاں !بھئی میں بھی کل یہ ہی سوچ رہی تھی کہ کافی دن ہوگئے کوئی مشن نہیں ملا ۔ کوئی ہماری بلے بلے ہی ہو جائے ۔ “افرا شوخ انداز میں بولی ۔

                ”دوستو!کیوں پریشان ہو رہے ہو۔ آج آپ سب کو بلانے کا مقصد یہ تھا کہ میری نظر میں ایک مشن ہے ۔ یہ مشن ہماری نہ صرف زندگیوں کو بدل ڈالے بلکہ بہت سی زندگیوں کو بچانے میں اپنا کردار اداکر ے گا۔ “

                ”زندگی بچاﺅ مشن ….کیا ہم ڈاکٹر بننے جارہے ہیں ۔ ؟“عبیرہ کی بات سن کر مہد جھٹ سے بولا ۔

                ”وہ اپنے انکل بخاری ہیں نا !“اس سے پہلے کہ عبیر ہ کچھ اور بولتی افرا فٹ سے بولی ۔

                ”کیا ہوا انکل بخاری کو ….کیا ہوا ان کی زندگی کو خطرہ ہے “ایک تو پوری بات سنتے نہیں ہو اور اپنی ہی مارے جارہے ہو ۔ پوری بات تو سن لیں ۔ عبیرہ نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے بولی ۔ ”تو میں کہہ رہی تھی کہ پچھلے ہفتے انکل بخاری کو کالایرقان ہوا ۔ جب دودن بعد پتہ چلا کہ وہ انکل بخاری کے گھر کے سامنے جو نیلے گیٹ والا گھر ہے ۔ وہ رشدی صاحب کا ہے ۔ نہ صرف رشدی صاحب کالے یرقان کے مریض ہوئے بلکہ ان کا تو پورا کنبہ ہی کالے یرقان میں مبتلا ہے ۔ بات یہاں نہیں رکتی بلکہ ہمارے ہمسائے میں انکل خان اور ان کی بڑی بیٹی بھی کالے یرقان کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ ابوجان بتارہے تھے ۔ یہ مرض ابھی اسی محلے میں پھیل رہا ہے ۔ محلے کے سب لوگ بہت پریشان ہیں ۔ کیوں کہ یہ مرض جان لیوا ہوتا ہے ۔ ابو جان یہ بھی بتارہے تھے کہ محلے والوں نے سپلائی کا پانی لیبارٹری ٹیسٹ بھی کرایا ہے لیکن یہ پانی صاف ہے ۔ “

                ”پانی بھی صاف ہے ۔ محلے میں گندگی بھی نہیں ہوتی ۔ ایک ماہ پہلے تک صحت مند محلے کو کس کی نظر لگ گئی ۔ ؟“افرا پریشانی سے بولی ۔

                ”دودھ والے کی نظر لگ گئی ہے ۔ “

                ”میں سمجھی نہیں ….دودھ والے کی نظر کیسے لگ سکتی ہے ۔ “افرا عبیرہ کی بات سن کر بولی ۔

                ”دیکھو میں سمجھاتی ہوں ۔ “عبیرہ نے افرا اور مہد کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا ۔ عبیرہ کی باتوں میں وزن تھا ۔ جو دونوں بہن بھائی اس کی بات سن کر سوچنے لگے ۔

                ”اس کا مطلب یہ مشن سکوارڈ کا زندگی بچاﺅ مشن پہلے والے تمام مشنوں سے تھوڑا مشکل ہے ضرور لیکن اگر ہم کامیاب ہوگئے تھے تمغہ جرات تو بنتاہے ۔ “مہد شوخی ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔

                ”لیکن ہم وہاں تک پہنچے گے کیسے ؟“افرا بولی ۔

                ”اس سلسلے میں چاچو شکیل کو بھی اس مشن میں شامل کرنا ہوگا۔ “

                مشن کے اگلے مرحلے میں شکیل چاچو کو بھی اس مشن سے متعلق بتایا گیا ۔ وہ بچوں کی بات سن کر پہلے حیران ہوئے کہ ان کا دھیان اس طرف کیوں نہیں گیا ۔ کیونکہ عبیرہ کی باتوں میں وزن تھا ۔ تمام تر شکوک و شبہات اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے ۔ کہ محلے کو دودھ والے کی نظر لگی ۔ جو جان لیوا بیماری وبا کی طرح پورے محلے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔

                ”ایک منصوبے کے تحت ہم اس گاﺅں تک پہنچ سکتے ہیں ۔ ہمار ا ٹارگٹ بھی وہ ہی گاﺅں ہے ۔ “مہد شوخا ضرور تھا لیکن ہمیشہ ایسا نقطہ ڈھونڈ کر لاتا کہ واقعی اسے داد دینے کو جی چاہتا تھا ۔ آج بھی اس نے اپنے کلا س فیلو راشد کا بتایا جو گاﺅں خیر پورسادات کے زمیندار چوہدری حاکم علی کا بیٹا تھا ۔ مہد نے کہا وہ کل رازدارانہ طریقے سے راشد کو بھی اس مشن میں شامل کرے گا۔ گھر میں ہم راشد کے گاﺅں سیر کا بہانہ کر کے جائیں گے ۔ اگلے منصوبے پر کام اس کے گاﺅں میں جاکر ہی کیا جائے گا۔

                پہلے تو شاید گھر والے بچوں کو راشد کے گاﺅں سیر کرنے کی اجازت نہ دیتے لیکن جب شکیل نے حامی بھری کہ وہ ان بچوں کے ساتھ ہی چوہدری حاکم علی کی دعوت پر راشد کے گاﺅں جائے گا۔ تو گھر والے فورا بچوں کی ضد کے سامنے گھٹنے ٹیک گئے ۔ مہد نے راشد کو اپنے مشن میں رازدارانہ طریقے سے شامل کیا تھا ۔ راشد نے بھی اپنے ابو چوہدری حاکم علی سے اجازت لے لی تھی کہ وہ اپنے دوستوں کو اپنے گاﺅں بلاکر اپنی زمینیں دکھانا چاہتا ہے ۔ راشد کے ابو نے نہ صرف راشد کو اجازت دے دی تھی بلکہ مہمانوں کو شہر سے لانے کے لیے اپنی گاڑی دینے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔

                اپنے منصوبے کے مطابق وہ سب لوگ راشد کے گاﺅں خیر پور سادات جانے کو تیار تھے ۔ گاڑی ان کے گھر کے باہر ہارن دے رہی تھی ۔ گھر والوں نے انہیں الوداع کہا ۔ گاڑی انہیں لے کر شہر کی سڑکوں کو چھوڑتی ہوئی ۔ گاﺅں کی جانب رواں دواں تھی ۔ شہر سے نکلتے ہی سڑک ٹوٹی ہوئی تھی ۔ سڑک کے کنارے پر اینٹوں کے بھٹے جن کی چمنیوں سے دھواں آسمان کو چھو رہا تھا ۔ اینٹوں کے بھٹے ختم ہوئے تو کھجوروں کے باغات شروع ہوگئے ۔ اسی دوران گاڑی نے موڑ کاٹا اور گاڑی پکی سڑک سے کچے راستے پر سفر کرنے لگی ۔ گاڑی جہاں سے گزرتی تھی اس کے ارد گرد مٹی وگرد کا غبار اٹھتا تھا ۔ عبیرہ نے گاڑی کے پچھلے شیشے میں مڑ کر دیکھا تھا پیچھے صرف دھول تھی جو گاڑی گزرنے پر اپنے پیچھے چھوڑ آئی تھی ۔ پیچھے دھول اور سامنے ونڈ سکرین کے پار کچے پکے مکانات کی ایک بڑی آبادی تھی ۔ آبادی کے شروع میں ہی اونچی دیواروں والی حویلی تھی ۔ گاڑی کا رخ اسی حویلی کی جانب تھا ۔ یہ حویلی چوہدری حاکم علی کی تھی کیونکہ حویلی کے دروازے پر ہی راشد اوربہت سے لوگ کھڑے تھے جو شاید شہر سے آنے والے مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے ۔ چوہدری حاکم علی اور گاﺅں کے دیگر لوگوں نے گرم جوشی سے راشد کے ننھے منے مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا ۔دوپہر کا وقت ہونے کو تھا ۔ راشد کے گھر میں راشد کی امی اور راشد کی چھوٹی بہن فاطمہ بھی تھی ۔ دوپہر کے کھانے میں انواع و اقسام کے دیسی لذیذ کھانے موجود تھے ۔ انہوں نے سیر کو کھانا کھا یا ۔ کھانے کے دوران چوہدری حاکم علی اپنے بچپن کے قصے بھی ساتھ ساتھ سناتا رہا ۔ جیسے وہ لوگ ان کے مہمان بن کر گاﺅں دیکھنے آئے ہیں ایسے ہی وہ ایک اپنے بابا کے ساتھ شہر دیکھنے ان کے دوست کے گھر گئے تھے ۔

                ”اچھا بھئی آپ لوگ اب بیٹھ کر اپنی آنٹی سے باتیں کرو ۔ میں نے ذرا ایک پنچائیت میں جانا ہے ۔ شام میں ملاقات ہوگی ۔ میں نے دینو چاچا کے ذمے لگا دیا ہے ۔ شام میں آپ لو گ راشد اور دینو چاچا کے ساتھ زمینوں پر چلے جانا ۔ ہماری ملاقات رات کے کھانے پر ہوگی ۔ “چوہدری حاکم علی اٹھنے ہوئے بچوں سے اجازت لی ۔

                ”انکل اس گاﺅں میں سخاوت علی نام کا ایک بندہ ہے ۔ ؟“

                ”ہاں بیٹا !آپ کیسے جانتے ہو۔ “چوہدری حاکم علی نے حیرانی سے پوچھا ۔

                ”انکل وہ ہمارے محلے میں دودھ دے کر آتا ہے ۔ “عبیرہ بولی ۔

                ”ہاں وہ واقعی دودھ کا کام کرتا ہے ۔ وہ ایک سال پہلے ہی ہمارے گاﺅں میں آیا تھا ۔ جب آیا تو بہت پریشان تھا ۔ دوسرے ضلع کا رہنے والا تھا ۔ اس کا بھائی کسی فراڈ کیس میں ملوث تھا ۔ جس کی وجہ سے پولیس اور گاﺅں والے اسے اور اس کے گھر والوں کو آئے روز تنگ کرتے تھے ۔ وہ روز روز پولیس کے چھاپوں سے ڈر کر بھاگ آیا تھا ۔ ہم نے ہی اسے اسی گاﺅں کے آخر پر ایک کوٹھا خالی تھا وہ اسے رہنے کے دیا تھا ۔ ہماری زمینوں پر بھی کبھی کبھار کام کر جاتا ہے ۔ ورنہ اس کا گذر بسر دودھ بیچ کر ہی ہوتا ہے ۔ لیکن وہ تو کہتا تھا وہ دودھ شہر میں صرف ہوٹلوں پر سپلائی کرتا ہے ۔ اس نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ وہ شہر میں گھر وں پر بھی دودھ دینے لگا ہے ۔ “

                ”انکل ہم سخاوت انکل سے بھی ملیں گے ۔ وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہو گا۔ “عبیرہ نے منصوبے کے مطابق اپنی بات کہہ ڈالی ۔

                ”راشد بیٹا زمینوں کی سیر سے واپسی پر سخاوت کے گھر پر اپنے مہمانوں کو ملواتے آنا ۔ “چوہدری حاکم علی کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئے ۔

                ابھی تک وہ اپنے منصوبے کے مطابق عمل کرتے ہوئے ، اپنے مشن کو آگے بڑھا رہے تھے ۔ عبیرہ کو یقین تھا وہ زندگی بچاﺅ مشن کو بخوبی انجام دے دیں گے ۔ شام کو دینو چاچا اور راشد کے ساتھ ان کی زمینوں پر چلے گئے ۔ گندم کی فصل ہری بھری تھی ۔ ابھی چھوٹی تھی ۔ چوہدری حاکم علی کے ڈیرے پر بھی کھجوروں کے کچھ درخت نظر آئے ۔ زمینوں پر ٹیوب ویل چل رہا تھا ۔ ٹیوب ویل سے نکلا صاف شفاف پانی بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔ گرم موسم میں بھی یہ پانی یخ ٹھنڈا تھا ۔ ٹیوب ویل کے ساتھ ہی جامن کا درخت تھا جس پر پکے ہوئے جامن صاف نظر آرہے تھے ۔ دینو چاچا نے تازہ پکے ہوئے جامن اتار کر دیے ۔ جنہیں سب نے مزے مزے سے کھایا ۔ مغرب کا وقت ہونے کو تھا جب دینو چاچا نے انہیں واپسی کا کہا لیکن وہ تھوڑا سا ملگجا اندھیرا چھا جانے کے انتظا ر میں تھے ۔ انہوں نے کچھ وقت اور وہیں گزارا جب دیکھا کہ اب سخاوت کے گھر پہنچے تک اندھیرا مکمل چھا جائے گا تو انہوںنے واپسی کا ارادہ کیا ۔ منصوبے کے مطابق آبادی کے نزدیک پہنچ کر راشد نے دینو چاچا سے کہا کہ وہ گھر جا کر کھانا تیار کرائیں ۔ میں انہیں سخاوت سے ملوا کر ابھی آتا ہوں ۔

                سامنے کچی چار دیواری تھی ۔ لکڑکا بوسیدہ سا دروازہ اور دروازہ پر ٹاٹ کا پردہ لٹک رہا تھا ۔ یہ سخاوت کا گھر تھا ۔ انہوں نے جب دروازے پر دستک دی تو کافی دیر تک دروازہ نہ کھلا ۔ جب شکیل چاچو نے ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو دروازے کے اوپر کنڈے میں تالا لٹک رہا تھا ۔ اس کا مطلب تھا کہ سخاوت گھر پر نہیں ہے ۔

                ”ارے یہ تو مشن اور بھی آسان ہو گیا ۔ “عبیرہ خوشی سے بولی ۔ گھر کی چاردیواری چھوٹی تھی ۔ جیسے پھلانگنا آسان تو نہیں لیکن مشکل بھی نہیں تھا ۔ گاﺅں کی راتیں اندھیری ہوتی ہیں ۔ اندھیرا مکمل چھا چکا تھا ۔ شکیل ان میں چونکہ سب سے بڑا تھا ۔ اس نے ہی دونوں ہاتھ دیوار کی منڈیر رکھے اور ایک جھٹکے سے وہ دیوار کے اوپر تھا ۔ اسے اندر پھیلانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ سامنے ہی لالٹین کی رو میں کیمیکل کی بوریاں ،واشنگ پاﺅڈر ،کوکنک آئل کے ٹین پڑے تھے ۔ ان کے ساتھ ہی بڑے بڑے ٹب پڑے تھے جن میں دودھیا رنگ کا مادہ صاف نظر آرہا تھا ۔ سخاوت شاید ابھی کام کرتے کرتے گھر کو تالا لگا کر کہیں کام سے گیا تھا ۔ شکیل واپس اپنی جگہ پر کود گیا ۔ دیوار سے اتر کر اس نے اندر والا منظر جو اس نے دیکھا تو من و عن بتا دیا ۔

                ”اس کا مطلب عبیرہ کا شک درست ثابت ہوا ہے ۔ “راشد بولا ۔

                ”شک تو درست ثابت ہو گیا ۔ چور بھی اپنے سازوسامان سمیت پکڑا گیا ہے ۔ لیکن اب ان ثبوتوں کے ساتھ چور کو پکڑا کیسے جائے ۔ “افرا بولی

                ”ایسا کریں ابھی فورا یہاں سے گھر جاتے ہیں اس سے پہلے کہ سخاوت واپس آجائے اور اسے کوئی شک گزرے ۔ یہ سارا معاملہ میں اپنے ابا جان کو بتاتا ہوں ۔ “راشد نے اگلے مسئلے کا حل بتایا ۔

٭٭٭

                چوہدری حاکم علی ان کی ساری بات سن کر پریشان سے ہوئے اور کچھ سوچنے لگے ۔ پھر ان سب کو اپنے ساتھ آنے کو کہا ۔ وہ سب لوگ چوہدری حاکم علی کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھ گئے ۔ ان کا خیال تھا چوہدری حاکم علی سیدھا سخاوت علی کے گھر جائیں گے ۔ لیکن ان کی گاڑی کا رخ سخاوت کے گھر کی بجائے کسی اور جانب تھا ۔ گاﺅں سے تھوڑے سے فاصلے پر ہی ایک پولیس چوکی تھی ۔ چوکی انچارج اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا ۔ یہ سارا معاملہ چوکی انچارج کو بتایا تو چوکی انچارج جو پہلے چوہدری حاکم علی کی قدر کرتا تھا ۔ وہ اپنے دوسپاہیوں کے ساتھ ان کے ساتھ چل پڑا ۔ جب یہ لوگ سخاوت کے گھر کے نزدیک پہنچے تو اس وقت تک سخاوت بھی گھر آچکا تھا ۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر سخاوت علی دروازے سے باہر نکلتے ہی چوہدری حاکم علی ،بچوں اور پولیس کو دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔

                ”چوہدری صاحب خیر یت ہے ؟“سخاوت علی گھبرائی ہوئی آواز میں بولا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا ۔ چوہدری حاکم علی اس دکھیلتا ہوا اس کے صحن میں داخل ہو چکا تھا ۔ ساتھ مشن اسکوارڈ اور چوکی انچار ج سمیت دونوں پولیس والے بھی اندر داخل ہو چکے تھے ۔ شکیل نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔ بالکل ویسا ہی سامنے تھا۔ مصنوعی طریقے سے دودھ بنایا جارہا تھا ۔ سخاوت علی سمجھ چکا تھا کہ اس کی چوری پکڑی جاچکی ہے ۔ وہ جو کئی مہینوں سے مکروہ دھندا کر رہا تھا ۔ اس کا بھانڈا آج پھوٹ چکا ہے ۔ اس نے ایک پولیس والے کو دھکا کر بھاگنے کی کوشش کی تو عبیرہ جو کہ پوری توجہ اس پر مرکوز کیے ہوئے تھی اس نے اپنے بایا ں پاﺅں سخاوت علی سامنے کر دیا ۔ ہلکی سی ضرب سے وہ لڑکھڑا کر صحن میں ہی چاروں شانے چت پڑا تھا ۔ سخاوت علی کو گرفتار کر لیا گیا ۔ کیمکل سے بنایا جانے والا دودھ اور مصنوعی دودھ میں استعمال ہونے والا سارا سامان بھی پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ چوہدری حاکم علی نے اپنی گاڑی کے ذریعے سخاوت علی کو پولیس والوں کے ساتھ شہر کے تھانے میں لے جایا گیا ۔ ساتھ مشن اسکوارڈ کی ٹیم تھی ۔ تھانے دار بچوں کی کارکردگی دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو کل سخاوت علی کا کیس عدالت میں جائے گا جہاں اس جسمانی ریمانڈ لے کر اس سے باقی گینگ کا بھی پتہ چلا یا جائے گا۔ دوسرا وہ ڈی پی او صاحب سے سفارش کریں گے ۔۔ وہ آپ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے آپ کی بہادری پر آپ کو کوئی اعزاز بھی دلایا جائے ۔

                چوہدری حاکم علی ،راشد اور مشن اسکوارڈ کی ٹیم اب گاﺅں جانے کی بجائے سیدھے عبیرہ کے گھر آئے ۔ اتنی رات گئے ۔ عبیرہ کے گھر والے انہیں دیکھ پہلے تو پریشان ہوئے ۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ انہوں نے آج کیا معرکہ مارا ہے تو عبیرہ کے امی ابو نے سب کو اپنے گلے سے لگا لیا ۔

                ”عبیرہ بیٹا آپ کو کیسے شک ہوا کہ کالا یرقان پھیلنے کے پیچھے مضر صحت دودھ ہے ۔ “چوہدری حاکم علی نے عبیرہ سے پوچھا ۔

                ”انکل ایک دن میں نے دیکھا کہ ہماری مانو بلی جو بہت شوق سے دودھ پیتی تھی ۔ میں اس کے سامنے پیالے میں دودھ رکھا تو اس نے دودھ سونگھا ضرور لیکن پیا نہیں ۔ پھر اسی دن امی نے بتایا کہ دودھ گرم کرنے پر جتنی گاڑھی بلائی آتی ہے اتنی گاڑھی بلائی تو ان کے گاﺅں میں ان کے بھینسوں کے خالص دودھ کی بھی نہیں ہوتی تھی ۔ بس یہ دو نقطے تھے ۔ جس سے مجھے شک ہوا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔ “

                ”لیکن یہ تو ساری دال ہی کالی نکلی ۔ “افرا کی بات پر سب لوگ قہقہہ مار کر ہنسنے لگے ۔ اگلے دن ہی ایک نئی خبر سب کی منتظر تھی کہ سخاوت علی اکیلا اس مکررہ دھندے میں ملوث نہیں تھا بلکہ یہ ایک گروہ تھا ۔ جو مختلف علاقوں میں مضر صحت دودھ تیار کرتا تھا اور شہروں میں مہنگے داموں فروخت کرتا تھا ۔ ایک ہی رات میں پولیس کی مار نے سخاوت علی سے مکروہ دھندا کرنے والے گروہ کا پتہ پوچھ لیا تھا ۔ اگلے دن یہ خبر پورے شہر میں پھیل چکی تھی اور گھر گھر پر مشن اسکوارڈ کا چرچا تھا ۔ پھر واقعی ایک دن انہیں بذریعہ دعوت نامہ شہر کے بڑے ہال میں ایک تقریب میں مدعو کیا گیا ۔ جہاں شہر کی انتظامیہ اور شہر کے لوگ مشن اسکوارڈ کی ٹیم سے ملنے کے لیے بے چین تھے ۔ ڈی پی او اور ڈی سی او نے اپنے ہاتھوں سے ان کے سینوں پر تمغہ اعزاز لگایا ۔اس تمغہ اعزاز پر جہاں مشن اسکوار ڈکی ٹیم خوش تھی وہاں سب ہی خوشی سے نہال ہو رہے تھے ۔

٭٭٭

(اگلے شمارے میں پڑھنا نہ بھولیے گا ”مشن اسکوارڈ “ کا دوسرا کارنامہ )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے