سر ورق / کہانی / ”گدھ“ ۔۔۔وسیم بن اشرف

”گدھ“ ۔۔۔وسیم بن اشرف

قسط نمبر 1

“اے چکنی کیا گُل کھلا کے آئی ہے ” ایک خرانٹ عورت رانو سے مخاطب تھی، رانو ہر ذی نفس سے بے خبر بیرک کی چھت کو گھور رہی تھی۔ “اے گلابو میں تیرے سے پوچھ رہی ہوں” قریب آ کر اس نے رانو کو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا، رانواس اچانک پڑنے والی افتاد سے گھبرا گئی۔ رانو نے آ ¶ دیکھا نہ تا ¶، اسے سوچوں کے گہرے سمندر سے نکالنے والی کے گال پر بائیں ہاتھ کا ایسا جھانپڑ مارا کہ وہ دو قدم دور جا کر سنبھلی۔

اری، تھپڑ وہ بھی بانو کو، اس کا نام شاید بانو تھا جس نے رانو کا آتے ہی انٹرویو شروع کر دیا تھا، “اے چکنی تو جانتی نہیں مجھے ” یہ کہتے ہی بانو نے لات گھمائی جورانو کے پیٹ میں لگی۔ وہ تکلیف سے دوہری ہو گئی، سیدھی ہونے سے پہلے ہی بانو نے اس کی چوٹی پکڑ کر جو زور کا جھٹکا دیا تو رانو کو دن میں تارے نظر آ گئے ۔ وہ بری طرح بوکھلا گئی، یہ کیا آفت اس پر ٹوٹ پڑی ہے ، رانو بھی دیہات کی پلی بڑھی تھی، موقع ملتے ہی بانو کو ایک اور تھپڑ جو رسید کیا اور اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا، اب بیرک میں باقاعدہ دھینگامشتی شروع ہو چکی تھی، کبھی رانو نیچے اور بانو اوپر، کبھی رانو کا پلڑہ بھاری اور بانو زمین بوس، دوسری قیدی عورتیں بیرک کی دیوار سے جا لگی تھیں اور تماشہ دیکھ رہی تھیں۔ پھر رانو کا جو دا ¶ چلا تو اس نے بانو کو اس زور کا دھکا دیا کہ وہ بیرک کے جنگلے سے بری طرح ٹکرائی اور اس کی پیشانی سے خون لکیر کی صورت میں بہتا اس کے رخسار تر کرتا گردن گیلی کر گیا،“ تیرا خون پی جا ¶ں تو بانو نام نہیں” وہ دھاڑی اور رانو کی طرف لپکی، رانو نے جھکائی دی تو اپنے ہی زور میں وہ دیوار سے زور سے جا ٹکرائی، چوٹ پر چوٹ کھانے سے وہ نیم پاگل ہو گئی اور ڈکراتی ہوئی بدمست گائے کی طرح پھر رانو کی طرف بڑھی، شور شرابہ سن کر جیل عملہ بید کی چھڑیاں لہراتا آیا، دروازہ کھولا اور بنا قصور پوچھے بانو کو کم مارا، رانو کو دھنک کررکھ دیا۔ بید کی چھڑیاں پے در پے پڑنے سے رانو کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں، دو چار بانو کو بھی پڑیں، تھوڑی دیر کی پٹائی نے سب شانت کر دیا، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بھی بید لہراتی پہنچ گئی، “یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے ” اس کا رعب اور دبدبہ دیدنی تھا، چھوٹا عملہ الرٹ کھڑا تھا، “میں پوچھتی ہوں یہ کیا اودھم مچا رکھا تھا؟” اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ چلائی، وارڈرز کو گھورا تو ایک لیڈی وارڈر نے کہا میڈم ہم بھی شور سن کر یہاں پہنچی تھیں، دیکھا تو آج آنے والی نئی قیدی رانو اور بانو گتھم گتھا تھیں، بانو کی پیشانی سے خون بہہ ہا تھا”۔

دونوں کو لا ¶ نہ ذرا میرے کمرے میں وہاں ان کی “خدمت” کرتی ہوں۔ وارڈرز نے سلیوٹ کیا، دونوں کو اپنے حصار میں لیکر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے کمرے کی طرف چل پڑیں، 2 لیڈی وارڈرز آگے ، پیچھے رانو، پھر دو وارڈرز اور پیچھے بانو، آخر میں بھی دو لیڈی وارڈرز، چھ اہلکاروں کی نگرانی میں انہیں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لایا گیا، رات کے 9 بجنے والے تھے ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کی چھان بین کی ضرورت بھی محسوس نہ کی اور رانو پر پل پڑی، بدمعاش، قاتلہ، آتے ہی ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ میں نے تو بڑی بڑی خرانٹ قیدیوں کو تیر کی طرح سیدھا کر دیا۔ تیری اوقات ہی کیا ہے ؟ رانو کے اوسان خطا ہو گئے ، وہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ یہ آتے ہی اس پر کیا عذاب نازل ہو گیا، پانچ چھ بید، دوچار تھپڑ کھانے کے بعد رانو کی آنکھیں چھلک پڑیں، بمشکل اس کے لب ہلے “بی بی صاحبہ یہاں بھی ناانصافی”۔

“ناانصافی، تو نے بانو کا سر پھاڑ دیا، تھپڑے مارے اس کے گال لال کر دئیے اور بات انصاف کی کرتی ہے ”۔ آفیسر نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

“میں نے کیا کیا” میں تو خاموش بیٹھی تھی، اسی نے بدتمیزی کی، جس سے بات بڑھ گئی، کیا میں اس کے ہاتھوں ذلیل ہوتی، مار کھاتی اس سے ، اس کے تلوے چاٹنے لگ جاتی”۔رانو بولی۔

“بھاشن نہ بھگار، جو ہوا وہ بتا”۔ آفیسر نے اسے ڈانٹا۔

“بی بی وہی بتا رہی ہوں۔ آپ افسر ہیں انصاف آپ خود کرنا، پہلے اس نے مجھے چکنی کہہ کر پکارا، میں نے جواب نہ دیا تو کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا، غصے میں میرا بھی ہاتھ چل گیا، اس نے بھی مارا اور میں نے بھی”۔

“ہوں! اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے ہنکارا ہوا اور حکم دیا رانو کو فی الحال دوسری بیرک میں بند کر دو وارڈرز اسے لے گئیں۔ بانو کمرے میں ہی رہ گئی، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے اسے گھور کر دیکھا۔

“تجھ سے دو روز بھی صبر نہ ہوا، آج ہی وہ جیل آئی اور تو اس سے بھڑ گئی، بانو اس طرح نہیں چلے گا، کسی نے اوپر شکایت کر دی تو میں انکوائریاں بھگتتی پھروں گی، تیرا کیا ہے تو دوسروں پر دھونس جما کر اپنا الو سیدھا کئے رکھے گی، یہ رانو ایک بدمعاش کا قتل کر کے آئی ہے اور تو نے پہلے ہی روز اس سے پنگا لے لیا، ہوش کے ناخن لے ، یہ نہ ہو جو چھوٹ میں نے تجھے دے رکھی ہے وہ واپس لے لوں، اور باقی کی قید تو مشقت کر کے گزارے ۔ جا چلی جا موقع محل، اونچ نیچ دیکھ کر قدم اٹھایا کر، سیر کو سوا سیر سے کبھی بھی واسطہ پڑ سکتا ہے ۔

بانو جیل کی غنڈی تھی، خواتین قیدی اس کے سائے سے بھی دور بھاگتی تھیں، افسروں کی آشیرباد سے اس نے وہاں اپنی دھاک بٹھائی ہوئی تھی، جیل کے باہر کئی بڑی شخصیات سے اس کے مراسم تھے ۔ قیدی عورتوں سے پیسے بٹورنا، زور زبردستی، سہولیات کے عوض رشوت لیکر جیل حکام تک پہنچانا اس کے “فرائض منصبی” میں شامل تھا، بدلے میں اسے جیل میں ہر سہولت میسر تھی۔

رانو کو دوسری بیرک میں پہنچا دیا گیا، یہ جیل میں اس کا پہلا دن تھا، پہلے ہی روز اس کے ساتھ جو بیتی یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ تو پہلے ہی ظلم و جبر سہتے ، زمانے کی ٹھوکریں اور اپنوں کے لگے گھا ¶ کھا کر یہاں پہنچی تھی، سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والی بات تی، جیل میں پہلے ہی دن جو کھیل کھیلا گیا وہ سمجھ نہ پائی تھی۔ وہ زندان میں تھی، پابہ ¿ زنجیر تھی، زمانے کی زنجیر توڑ کر زندگی کے زندان میں ایک جنگ لڑ کر بھی وہ بظاہر ہار گئی تھی لیکن دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں نے اس کو وجینا قرار دیا تھا، وہ اپنے جیسی کئی لڑکیوں کو یہ خاموش پیغام دے آئی تھی کہ سسک سسک کر مرنے سے جبر کے سامنے سرنگوں ہونے سے بہتر ہے ظلم کے سامنے سر اٹھا کر چلا جائے ، موت تو آنی ہے پھر روز روز مر کے کیوں جیا جائے ، اس نے بھی اپنے زور بازو سے ان بدمعاشوں کو وہ سبق سکھا دیا تھا کہ آئندہ کوئی اس جیسی لاچار رانو پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ہزار بار سوچے گا”۔ یہ سوچتے سوچتے اس کی پلکیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔ اس نے دیوار سے سرٹکا دیا۔ ٹانگیں پساریں، جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا تھا، جلد ہی اسے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا، سچ کہتے ہیں نیند سولی پر بھی آ جاتی ہے ۔

دوسرے روز منہ اندھیرے سب کو اٹھانے کا عمل شروع ہوا، یہ سب اس کے لئے نیا تجربہ تھا۔ زندان کی زندگی کا ہر دن اس کو نیا سبق پڑھا رہا تھا، گن گن کر قیدی عورتوں کو نکالا گیا، سارا دن ان سے مختلف کام کرائے جاتے رہے ، شام کو بھیڑ بکریوں کی طرح گنتی کر کے پھر بھانے میں بند کر دیا گیا، اسے یہ جیل بھی بھانہ ہی لگی تھی، روزانہ مشقت، بیماروں جیسا کھانا اور مچھروں سے بھری بیرک، خواتین، بچے ، شور شرابہ، رونا دھونا، مصائب و آلام، دکھڑے ، ماتم، یہ سب دیکھتے تین دن گزرے تو ایک رات ایک قیدی عورت اس کے پاس چلی آئی، دیکھنے میں ادھیڑ عمر لگتی تھی، لب کھولے تو لگا گویا پھول جھڑنے لگے ہوں، اتنا میٹھا لہجہ جیسے منہ سے شیرینی ٹپک رہی ہو۔

وہ قریب آئی اور بولی بیٹی، “نہ جانے کون سی خطا تجھے اس جہنم زار میں لے آئی ہے ۔ نصف شب کو تو میرے بسترے کے پاس آنا”، چند جملے کہہ کر وہ دوبارہ اپنی جگہ پر چلی گئی، بیرک کے باہر وارڈرز الرٹ تھیں، چکر پہ چکر لگا کر سب پر ایسے نظر رکھی ہوئی جیسے ان میں سے کوئی نظر بچا کر بھاگ کھڑی نہ ہو، حالانکہ اس زندان سے نکلنا مشکل تو کیا ناممکن تھا۔ رات آدھی بیت گئی، کسی شرمیلی دلہن کی طرح چاند نے بدلیوں کی چادر اوڑھ لی۔ بیرک کے سامنے درختوں کے سائے معدوم ہو گئے ، بیرک کے اندر اور باہر ہلکی روشنی والے بلب لگے ہوئے تھے ۔ نگران عملے کی ڈیوٹی تبدیل ہو چکی تھی، چاک و چوبند نئی وارڈرز نے را ¶نڈز شروع کر دئیے تھے ، رانو کو اس خاتون میں کچھ خاص نظر آیا تھا۔ نہ جانے کیوں اس کے لب و لہجے میں اسے اپنائیت محسوس ہوئی تھی، نصف شب کو اسی خاتون نے رانو کو دیکھا، دونوں کی نظریں چار ہوئیں، اس خاتون نے رانو کو خفیف سا اشارہ کیا، رانو غیر محسوس انداز میں کھسکتی ہوئی اس کے پاس پہنچ گئی۔ وہاں کسی اور کے لیٹنے کی گنجائش تو نہ تھی لیکن کچھ حرکت برکت سے انہوں نے جگہ بنا ہی لی، وارڈرز کی نظر ان پر نہ پڑی تھی، خاتون نے آہستہ سے پوچھا، “بیٹی کون سی افتاد آن پڑی جو تو اس بھری جوانی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے زنگ لگانے چلی آئی ہے ”۔

“میں آپ کو کیا کہوں؟ کس نام سے پکاروں۔؟”

“آپا کہہ لو”۔

آپ! پہلے آپ بتا ¶ آپ یہاں کیسے ؟

“بتا ¶ں گی اپنوں کے زخم بھی دکھا ¶ں گی، کچھ نہیں چھپا ¶ں گی؟”

“لیکن تم اتنی خوبصورت ہو، کس کے ستم کے تیروں کا نشانہ بنی ہو، یہ جیل نہیں عقوبت خانہ ہے ، دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے ”۔

“میں اپنے باپ کے پاپ کے نتیجے میں یہاں ہوں۔”

“میں کچھ سمجھی نہیں، مجھے اپناسمجھ تو تفصیل سے سب بتا ¶، شاید میں تمہاری کوئی مدد کر سکوں”۔

“آپ تو خود یہاں بے بس ہیں، میری کیا مدد کریں گی”

“اس کی فکر نہ کرو، اﷲ مسبب الاسباب ہے ”

“تو ٹھیک ہے آپا، نہ جانے کیوں مجھے آپ میں اپنی ماں کا عکس دکھتا ہے ، کل رات کو میری زندگی کے اوراق پڑھ لینا۔ جن پر جبر اور ظلم، کڑوے کسیلے ، حالات، دکھ بھرے واقعات کی تازہ داستان رقم ہے ۔ زمانے کے فرعونوں سے لڑتی لڑتی اس چاردیواری میں آئی ہوں۔ جسے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا، جیل کے بارے میں کسی سے سنا تھا نہ کبھی سوچا تھا نام پوچھ سکتی ہوں آپ کا؟

“ثمر نام ہے میرا، لیکن ہمیشہ بے ثمر ہی رہی،خیر تم مجھے آپا ہی کہنا، مجھے اس بے ثمر نام سے نفرت ہو گئی ہے ، کوئی مجھے ثمر کہے تو میرے اندر آگ کا الا ¶ روشن ہو جاتا ہے ، میں اندر ہی اندر بھسم ہونے لگتی ہوں”۔

“آپا زندگی تو میری بھی دہکتے کوئلوں جیسی ہے ، محبت نفرت میں بدلی، نفرت نے انتقام کو جنم دیا، انتقام پیار کو نگلنے لگا تو ہوس کے آسیب نے ایسا سحر پڑھ کر پھونکا کہ زندگی تتر بتر کر کے رکھ دی، میں نے اس آسیب کا قصہ تمام کردیا۔ لالچ نے خون کے رشتوں کو اندھا گونگا بہرہ کر دیا تو مجھ سے قتل ہو گیا”۔

“قتل” آپا بھونچکی رہ گئی۔

“ہاں آپا قتل”۔

“کسے قتل کیا؟”

“اسے جسے ظالم رسم ورواج اور مکروہ روایات کے علمبردار میرا سر تاج بنانا چاہتے تھے ، 55 سال کا بوڑھا سرتاج، ہونہہ”۔ اس نے نفرت سے ہونٹ سکیڑے ۔

“اس داستان الم کانقطہ نظرمجھے سنا ¶”۔ آپا اس کی باتیں سن کر بے تاب ہو گئی تھی۔

“کل سنا ¶ں گی اپنی زندگی کا نوحہ”۔ اب سوتے ہیں رانو یہ کہہ کر آپا کا جواب سنے بغیر کھسکتی ہوئی اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گئی۔

اگلا روز بھی معمول کے مطابق تھا۔ اس نے جیل میں قیدی اور حوالاتی عورتوں کی بے عزتی کرنے کے لئے انتہائی شرمناک ہتھکنڈوں کا استعمال دیکھا، اسے لگا جیسا زنانہ سٹاف احترام خواتین، عزت نفس، اخلاق اور شرافت کے اصولوں سے بے بہرہ ہے ۔ اس نے خواتین کو کرسیاں، بیڈ شیٹ، کڑھائی والی شالیں، ڈوپٹے ، کشن، ٹی کوزی کور، ٹی ٹرالی سیٹ، سینریوں والے فریم بھی بناتے دیکھا۔ کھلے ہاتھوں پیروں اور بھرپور جسم والی رانو کو بھی جیل کا مخصوص لباس پہنا دیا گیا تھا، اس لباس میں وہ یوں پھنس کر رہ گئی تھی کہ جسم کے بعض اعضاءبرانگیختہ کرنے کی حد تک نمایاں ہو گئے تھے ، شلوار ٹخنوں سے اوپر تھی، بازو بھی چھوٹے تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے اسے زبردستی لباس پہنایا گیا ہو اور حقیقت بھی یہی تھی اسے یہ لباس زبردستی ہی پہنایا گیا تھا، لگ رہا تھا جیل میں تمام خواتین کیلئے ایک ہی سائز کا لباس ہوتا ہے ۔

موقع پاتے ہی آپا اس کے قریب چلی آئی اور اسے دوسری عورتوں سے تھوڑا دور لے گئی۔

رانو یہ قتل تو نے اپنی آبرو اور جان بچانے کے لئے کیا ہے ناں، آپ نے تصدیق چاہی۔

“ہاں آپا”۔

“تو پھر تو زیادہ دیر جیل میں نہیں رہے گی”۔

“وہ کیسے ، رانو دیدے پھاڑے آپا کو تکنے لگی”۔

“تو قاعدہ قانون نہیں جانتی، اگر مناسب وکیل تیرا کیس لڑے تو اگلی پیشی پر تیری ضمانت اور چند مزید پیشیوں کے بعد تو باعزت بری ہو جائے گی”۔

“آپا گھرمیں چولہے آگ نہ گڑھے پانی، وکیل کون کرے گا”؟ وہ غمزدہ لہجے میں بولی۔

“اچھا میں کچھ کرتی ہوں، تو فکر نہ کر، میں تیری جوانی کو یہاں کی دیمک نہیں لگنے دوں گی، خیر سے چار دن یہاں کاٹ لے ، جب بھی تجھ سے ملاقات کیلئے کوئی آئے تو مجھے بتانا، آپا نے اسے تسلی دی۔

“مجھ سے کون ملاقات کے لئے آئے گا؟” وہ حیرت سے بولی

“کیوں، کیا اس جہاں میں تیرا کوئی نہیں”۔ آپا کو حیرانی ہوئی۔

“ہے آپا لیکن صرف سرور”۔

“سرور کون؟”

“وہی جس پر میں اور جو مجھ پر جان چھڑکتا ہے ”۔

“اوہ میں سمجھی!” آپ کے لبوں پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔

“چلو! جو بھی آئے اسے ایک خط دینا، جو میں کسی کے نام لکھوں گی، بس تیرا کام ہو جائے گا اور تو ان سلاخوں سے باہر ہو گی”، آپا نے اسے تسلی دی۔

“لیکن آپ سب یہ…. ”آپا نے اسے ٹوکا اور بات جاری رکھی “تجھے پریشان ہونے کی ضرورت ہے نا حیران ہونے کی، کبھی این جی اوز کا نام سنا ہے ؟”

“نہیں آپا یہ کیا چیز ہے ؟”

“چیز نہیں پگلی! آپا نے اسے ہلکی سی چپت لگائی۔ یہ ایسی تنظیمیں ہوتی ہیں جو سماج میں بھلائی کے کام کرتی ہیں اور کوئی معاوضہ نہیں لیتیں، ایسی ہی ایک تنظیم میں میرے جاننے والے اہم عہدیدار ہیں، تیرا ملاقاتی جب میرا خط ان تک پہنچائے گا تو وہ تھانے سے ایف آئی آرکی نقل لیکر وکیل کا بندوبست بھی کریں گے ، تیرا کیس بھی مفت لڑیں گے اور تو ایک دو ماہ میں ہی بری ہو جائے گی”۔

“آپا یہ آپ کیسے سہانے سپنے دکھا رہی ہیں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ اب تک اس جہنم میں کیوں جل رہی ہیں” وہ مخمصے کا شکار تھی۔

“سن میری بچی! سانپ کا ڈسا تو شاید بچ جائے ، لیکن انسان اتنا زہریلا ہے کہ اس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں”

“کیا اپنی مرضی سے ؟ آپا کی بات سن کر اس پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

“ہاں! کبھی آزاد فضا ¶ں میں ملاقات ہوئی تو تفصیل بتا ¶ں گی” آپا نے پیار سے اسے سمجھایا۔

“رانو بھی ششدر تھی کہ قیدی عورتوں پر بے پناہ سختی کے باوجود اس نے کسی کو بھی آپا سے بدتمیزی کرتے یا سخت رویہ اختیار کرتے نہیں دیکھا تھا،وہ سوچنے لگی آپا کی حقیقت کیا ہے ؟ شاید آپا کے نہ بتانے میں کوئی مصلحت تھی”۔

“اچھا سنو” آپا نے اسے سوچوں کے سمندر سے نکالا، یہ سب تبھی ممکن ہو گا جب تو مجھے اپنی ساری داستان سنائے گی، اور آج کی رات کا تو نے وعدہ بھی کر رکھا ہے ۔

“ہاں آپا آج کی رات میں تجھے وہ سب بتا ¶ں گی جو مجھ پر بیتی۔ دل میں پیوست ظلم کا ایک ایک تیر نکال کر سارے گھا ¶ تمہیں دکھا ¶ں گی۔ آپا تو سچ کہتی ہے انسان بہت زہریلا ہے ”۔

دن ڈھلنے لگا تو آواز پڑ گئی خواتین کو قطاروں میں بیرکوں میں جانے کا حکم ملا، ایک ایک کو گنتی کے بعد بیرکوں میں ٹھونس دیا گیا۔

٭……..٭

سردیوں کے دن تھے سورج ڈوبتے ہی رات کا راج ہو گیا، قیدی عورتیں، غلیظ بستروں پر میل سے اٹے کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی تھیں، جاگ رہی تھیں تو صرف رانو اور آپا، تھوڑی سردی بڑھی اور کچھ اندھیرا مزید گہرا ہوا تو رانو آپا کے کمبل میں تھی، رانو اپنی زندگی کے اوراق پلٹنے لگی۔

٭……..٭

احمد پورشرقیہ سے کوئی 20 میل کی دوری پر چولستان سے کچھ پہلے بمشکل 20 سے 22 گھروں پر مشتمل بستی آباد تھی۔ دس بارہ جھونپڑے ، سارے گھر کچے تھے ، چھوٹی چھوٹی دیواریں مکینوں کی غربت کو بے پردہ کئے رکھی تھی، کوئی مکان ایک کمرے کا، کسی کے دو تو شاید ہی کسی کے تین ہوں گے ، البتہ ہر گھر کا چھوٹا یا بڑا صحن ضرور تھا، کئی گھروں میں درختوں کی اٹھان اس قدر تھی کہ گویا دوسرے گھروں میں جھانک کر وہاں کی خیر خبر لے رہے ہوں۔اسی بستی میں دو گھر پختہ تھے ، ایک وہاں کے چودھری فواد کا اور دوسرا بدقماش، منشیات فروش، عورتوں کے شکاری اور بیوپاری، اوباش نذیرے کا، کئی مربع اراضی کا مالک چودھری فواد وہاں کا کرتا دھرتا تھا۔ پرے پنچایت کا سر پنچ وہ ہوتا،ہر کس و ناکس کی زندگی اس کے مرضی کے مطابق بسر ہوتی تھی، بستی کے بیشتر افراد تو اس کے کھیتوں میں ہی اپنا خون پسینہ ایک کر کے پیٹ کا جہنم سرد کرتے تھے ، کچھ بستی کے باہر محنت مزدوری کر کے روزی روٹی کا بندوبست کر لیا کرتے ۔ اس بستی سے ایک کلومیٹر دور بھی چند گھروں پر مشتمل ایک بستی اور تھی، کچے مکانوں کے مکینوں کا زمینوں، بھٹہ خشت پر مزدوری کر کے گزر بسر ہوتا۔ کچھ میلوں ٹھیلوں پر کھیل تماشے دکھا کرجسم اور روح کا ناطہ برقرار رکھے ہوئے تھے ، چند ایک ایسے بھی تھی جو چودھری کے ظالمانہ فیصلوں کی بھینٹ چڑھنے کے بعد بستی سے نکال دئیے گئے اور یہاں آ بسے تھے ۔ یوں یہاں دس پندرہ گھروں کی ایک بستی آباد ہو گئی تھی۔ یہاں بمشکل ہی کوئی مکان دو کمروں کا تھا ورنہ ایک کچا کمرہ، صحن اور صحن میں جانورباندھنے کے لئے لکڑی اور گھاس پھونس سے چھپر ڈال رکھے تھے ۔ جس گھر میں بھی نظر ڈالیں اس کی کل متاع دو تین چارپائیاں، ایک آدھ جستی ٹرنک یا پیٹی تھی، دونوں بستیوں میں کوئی سکول تھا نہ ہی ہسپتال، چودھری نے تو اپنی بستی تک سولنگ لگوا رکھی تھی تاکہ اس کی شاہی سواری آرام سے آ جا سکے ۔ دوسری بستی کے حالت اس قدردگرگوں تھی کہ سڑک تو دور کی بات انہیں پینے کا پانی بھی قریباً دو کوس دور سے گھڑوں میں بھر کر لانا پڑتا تھا۔زیرزمین پانی زہریلا تھا، ان کی پیاس بجھانے کا واحد ذریعہ وہاں سے گزرنے والی نہر تھی۔ اکثر اوقات یہ نہر خشک رہتی، تب مکین چودھری کے پا ¶ں پڑتے ۔ اس کی اجازت سے اس کی زمینوں پر نصب ٹیوب ویل سے کڑوا پانی بھر لاتے اور پیاس بجھاتے ۔ یہ اس زہریلے پانی کا شاخسانہ تھا کہ وہاں کے متعدد مکین یرقان کے موذی مرض کا شکار تھے ۔ چودھری اور نذیرے منشیات فروش کے گھروں میں بجلی تھی۔ باقی غربت کے مارے اس قابل ہی نہ تھے ، بجلی کا کنکشن لیتے اور بل بھرتے ۔ ان کے گھروں میں دو وقت کی روٹی پک جائے یہی بہت تھا۔ چند ایک کے پاس بکری، بھینس اورگائے یا باربرداری کے لئے گدھے تھے ۔

بستی کے آدھے سے زیادہ مکین چودھری فواد کے مقروض اور باقی کے سودخور نذیرے کے ڈسے ہوئے تھے ، وہی صبح، وہی شام، وہی کام۔ بس لوگ جی رہے تھے ، اس بستی میں شروع کا تیسرا گھر رانو کا تھا۔ دو کمرے ، صحن، گھر میں نیم کا درخت، کمرے کچے ، سامان اتنا کہ گزر بسر ہو سکے ، بوڑھا افیمی باپ، ماں، ایک بھائی جو صبح شہر جاتا، کسی موٹر مکینک کے پاس مزدوری کرتا اور رات گئے لوٹتا، رانو اور اس کی ماں چودھری کے کھیتوں میں کام کرتیں، بوڑھا گھر پڑا چارپائی توڑتا رہتا، یوں اس گھرانے کی گزر بسر ہو رہی تھی۔ چودھری کے ظلم اور نذیرے کی چیرہ دستیوں کے خلاف کسی کو آواز اٹھانے کی جرا ¿ت نہ تھی، دونوں اس قدر بااثر تھے کہ علاقے کی پولیس بھی ان کے ٹکڑوں پر پل رہی تھی، گاڑی خراب ہو گئی تو پیسے چودھری نے دے دئیے ، کسی کے بچے کی شادی ہوتی تو وہ چودھری کے در پر آ جاتا، قریبی پولیس چوکی میں کسی میز، کرسی یا پنکھے کی ضرورت پڑتی تو چودھری کام آتا، پھر یہ کیونکر ممکن تھا کہ چودھری کی مرضی و منشاءکے بغیر علاقے میں پرندہ بھی پر مار سکے ۔

بستی سے چونکہ صحرا کے قریب تھی اس لئے رات کا منظر بہت مسحورکن ہوتا تھا۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے پرندے جو سارا دن جھاڑیوں میں چھپے رہتے تھے باہر نکل آتے اور ان کے چہچہوں سے بستی کی فضاءمیں ایک رومانوی گونج پیدا ہو جاتی، افق کی سرخی خاکستری رنگ میں بدل جاتی۔ پھر آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگتا اور دن کے پرندے اور انسان شب باشی کے لئے گھونسلوں اور گھروں میں چلے جاتے اور ان کی جگہ رات کے پرندے اپنا راگ الاپنے لگتے یا پھر نذیرے کے کارندے مکروہ دھندے کا آغاز کرتے ، چاند نکل کر درختوں کی چوٹیوں سے سرکتا ہوا کھلے آسمان پر آ جاتا اور جب اس کی روشنی چھن چھن کر نیچے آتی تو زمین پر روشنی اور سائے مل کر عجیب نقش و نگار بناتے تھے پھر طلوع سحر کی گھڑیوں میں چڑیاں چہچہاتیں، فاختائیں امن کے سریلے گیت چھیڑتیں، کبھی کبھار کوئل کی کوک نغمہ سرا ہوتی، لہلہاتے کھیتوں کے آخر میں آسمان جھک کر زمین سے گلے ملتا تھا، یہاں باہمی محبتیں کچے گھروں کا خاصہ تھیں، گھنے درختوں کی مہربان چھا ¶ں سخت تپتی دوپہر کو یہاں کے مکینوں کے لئے نعمت سے کم نہ تھی، اس بستی کی بدقسمتی تھی کہ یہاں حرص و ہوس کی چودھری فواد اور نذیرے جیسی چمگادڑیں آزادانہ ہر طرف گھومتی پھرتی تھیں۔

٭…………٭

سردیوں کے دن تھے ، ایک دوپہر کو مچنے والے شور نے وہاں کے مکینوں کو حیران و پریشان کر دیا کہ نذیرے کے ڈیرے پر چوری کی واردات ہو گئی، بستی کے کسی مکین کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ چوروں کو مور پڑ گئے ہیں، لیکن نذیرے اور اس کے کارندوں نے یہ باور کرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کہ ڈیرے سے چور ایک ٹیپ ریکارڈر، ایک استری اور چند دوسری اشیاءچرا کر لے گیا ہے ، کھوجی کو بلایا گیا، کھرا ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ سرور ساربان کے دروازے پر رک گئے ، بجائے پولیس کارروائی کے نذیرے نے سرور ساربان کو اپنا ملزم قرار دے دیا، سرور اپنی غربت کی دہائیاں دیتا رہا، چور نہ ہونے کی یقین دہانیاں کراتے کراتے رو پڑا، غریب کے پاس ایک ہی سوفٹی تھی، اس جوتے کو کھوجی نے اتروا کر دیکھا، سرور کو چلنے کو کہا گیا، اس نے دو چار چکر لگائے ، کئی لوگوں نے دیکھا کہ جوتے کے تلوے کے نشان ہو بہو ویسے ہی تھے جیسے نذیرے کے ڈیرے سے سرور کے چھپر نما مکان تک آئے تھے ، نذیرے کے کارندوں نے دھونس اور دھاندلی سے سرور سے سامان کی برآمدگی کا مطالبہ کیا، “میرے خلاف الزام ہے ، میں نے چوری نہیں کی، میرے گھر کی تلاشی لے لو” سرور نے بے بسی سے کہا۔

“چور تو تو ہی ہے ، مان یا نہ مان، کھرا تیرے دروازے تک آیا، نشان بھی تیرے جوتوں کے ہیں، ہماری مان، سامان دے دے ورنہ پھر پولیس کا مہمان بننے کیلئے تیار ہو جا” نذیرا دھمکیوں پر اتر آیا۔

بات چودھری فواد تک پہنچ گئی، پنچایت بلا لی گئی، دو چارپائیاں، دو کرسیاں چودھری کے گھر کے وسیع و عریض لان میں موجود تھیں، کرسیوں پر چودھری فواد اور نذیرا فرعون بنے بیٹھے تھے ، چارپائیوں پر ان کے کارندوں کا قبضہ تھا، بستی کے چند بوڑھے زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے اور بائیں جانب مبینہ چور سرور ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔

“حالات و واقعات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ چوری تم نے کی ہے ” چودھری سرور سے مخاطب ہوا۔

“مائی باپ! اگر میں چور ثابت ہو جا ¶ں تو میرا سر آپ کے جوتے ، یہ مجھ پر الزام ہے ” سرور نے صفائی پیش کی۔ غریب شاید جانتا نہیں تھا کہ اندھوں کی بستی میں آئینہ کون خریدتا ہے ۔

“کھرا تمہارے گھر تک گیا، واردات میں جو جوتا چور نے پہنا وہ تم نے پہن رکھا ہے اور پھر بھی کہتے ہو کہ چور نہیں ہو”۔ چودھری بولا

“سرکار! یہ میرے خلاف کوئی سازش ہے ، میں تو صبح اپنا اونٹ لیکر نکلتا ہوں، دن بھر کبھی باربرداری، کبھی سواری، اور کبھی کھیل تماشہ دکھا کر چند روپے کما کر رات گئے گھر آ کر سو جاتا ہوں، مجھے کسی نے پھنسایا ہے ”۔ سرور نے بھینس کے آگے بین بجائی۔

“سنو بستی والو! سرپنچ چودھری فواد بولا “میں نہیں چاہتا بات پولیس تک جائے وہ اس کی کھال ادھیڑ کر رکھ دیں گے ، یہ وہ چوریاں بھی تسلیم کر لے گا جو اس نے کی بھی نہیں ہوں گی، نذیرا اس کو اپنا چور قرار دے رہا ہے اور یہ بضد ہے کہ چوری نہیں کی، رسم و رواج کے مطابق کھرا اس کے گھر تک نکلا ہے ، لہٰذا چور سرور ہی ہے ، سامان برآمد کرا دے تو سزا میں کمی کر دیں گے ورنہ اسے بستی سے نکال دیا جائے گا اور بطور جرمانہ اس کا گھر نذیرے کے حوالے کر دیا جائے گا” بستی کے کسی شخص کی مجال تھی جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا، سرور نے پھر اپنی صفائی پیش کرنا چاہی تو چودھری نے اسے بری طرح جھڑک دیا اور حکم دیا کہ کل وہ اپنا اونٹ لیکر بستی سے چلا جائے ۔

سرور دوسرے روز پنچایتی فیصلے کا پھندا گلے میں ڈالے بستی چھوڑ گیا اور ایک میل کے فاصلے پر دوسری بستی میں چلا گیا۔

رانو کو سارے واقعہ کا پتہ چلا تو چلا اٹھی، سرور چور نہیں ہے ، اسے پھنسایا گیا ہے ۔

“تو بڑی اس کی طرفداری کر رہی ہے ”۔ اس کا باپ بولا۔

“باپو، بات طرفداری کی نہیں، وہ محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے اونٹ کا پیٹ پالتا تھا، اس بستی میں پلا بڑھا، والدین کے مرنے کے بعد ورثے میں ملے اونٹ کو اس نے روزی روٹی کا ذریعہ بنایا، آج تک اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے بستی والوں کو کوئی شکایت ہوئی ہو، ایک دم سے وہ چور کیسے بن گیا؟” رانو نے اس کی صفائی دی۔

“چپ بیٹھی رہ” باپ نے ڈانٹا، “چودھری کے کانوں میں بھنک بھی پڑ گئی تو ہمارا جینا حرام کر دیں گے ”

“باپو! بات کچھ کچھ میری سمجھ آ رہی ہے ، تیرے کان اور آنکھیں بند ہیں میرے نہیں۔” اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

“رانو کی ماں اس چپ کرائے گی یا میں پھر….” باپ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

“رانو چل میری بیٹی کمرے میں جا، کیا ہوا، کس کے ساتھ ہوا، ہمیں اس سے کیا لینا دینا” ماں کے سمجھانے پر وہ خاموش ہو گئی۔

ساتھ والے گھر میں اس کی بچپن کی سہیلی اور ہم راز خالدہ رہتی تھی، وہ ماں کو بتا کر خالدہ سے ملنے چلی گئی۔

٭…………٭

رات کسی گناہگار کے دل کی طرح انتہائی تاریک تھی، آسمان گہرے سیاہ بادلوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا، طوفانی بارش نے ہرطرف جل تھل کر دیا تھا، دونوں بستیوں میں کئی مکان پانی سے بھر گئے ، چھتیں ٹپک پڑیں، غریبوں کے لئے رحمت بھی زحمت ثابت ہو رہی تھی، ایک طرف سردی دوسری طرف بارش، ہر طرف گھٹاٹوپ تاریکی کا راج تھا۔ بارش تھم گئی لیکن کچے راستوں پر آمدورفت انتہائی دشوار ہو کر رہ گئی تھی۔ سرور کے راستے میں تاریکیاں حائل تھیں نہ کسی سانپ بچھو کے خوف نے اس کا راستہ کھوٹا کیا، سرشام ہی خالدہ کے ذریعے رانو کا پیغام ملتے ہی وہ بے چینی سے رات کا انتظار کر رہا تھا، بارش بھی دونوں کے ارادوں میں رکاوٹ نہ بن سکی تھی، محبت کا جوش اور پیار کی لگن ہر خطرے کو دل و دماغ سے محو کر دیتی ہے ، رانو نے اسے دونوں بستیوں کے درمیان ٹیلے کے پیچھے ملنے کا پیغام بھجوایا تھا، اندھیرے رات میں وہ تیز تیز قدموں سے ٹیلے کی جانب جا رہا تھا۔ کئی بار اس کا پا ¶ں چھوٹے موٹے گڑھوں میں بھی پڑا، لیکن وہ سب سے بے پروا اپنی لگن میں چلا جا رہا تھا، اس سردی میں اس نے لنڈے کا ایک پھٹا پرانا سویٹر پہن رکھا تھا، دل میں جب محبت کا الا ¶ روشن ہو تو باہر کی سردی وجود پراثر نہیں کرتی، وہ دیوانہ وار ٹیلے کی جانب بھاگنے لگا، کسی پتھر کی ٹھوکر لگی تو شڑاپ سے پانی میں گرا، کپڑے کیچڑ میں لت پت ہو گئے ، اس نے وہیں پر جمع پانی سے کچھ کیچڑ صاف کیا اور پھر چل پڑا کہ کہیں رانو مایوس ہو کر واپس نہ چلی جائے ، ٹیلے کے قریب پہنچ کر اس نے دو تین بار آہستہ سے رانو، رانو پکارا۔ رانو ٹیلے کی اوٹ سے نکل کر سامنے آ گئی، سرور کو دیکھ کر اس کی ہنسی چھوٹ گئی، “میں تو سرور سے ملنے آئی تھی کسی بھوت سے نہیں” اس کی بات سن کر سرور نے رخ پھیر لیا “تو ٹھیک ہے بھوت واپس چلا جاتا ہے ” اس نے قدم اٹھایا ہی تھا کہ رانو نے پیار سے پکارا “اے سرور، تو بھوت بھی دکھتا ہے تو اچھا لگتا ہے ” دونوں یونہی چھیڑ چھاڑ کرتے گیلی ریت ہٹا کر خشک ریت پر بیٹھ گئے ۔ رانو نے سرور کا ہاتھ پکڑا اپنے سر پر رکھ لیا “کھا قسم میری اور بتا تو نے چوری کی یا نہیں”۔

“تیری قسم بانو! یہ جھوٹ ہے ، بہتان ہے ، مجھے بستی سے نکالنے کیلئے سازش کی گئی ہے ”۔

“مجھے پتہ ہے لیکن میں ایک بار تجھ سے یقین دہانی چاہتی تھی”

“کس نے کیا یہ سب؟”

“میں جانتی ہوں، تو بھی غور کرے تو سب سمجھ جائے گا”۔

“تمہارا مطلب نذیرا؟”

“صرف نذیرا نہیں بلکہ چودھری کا بیٹا نواز بھی اس سازش میں ملوث ہو گا”

“مگر کیوں اور کس لئے ؟” سرور کو حیرانی ہو رہی تھی۔

“بڑا بھولا ہے تو بھی، جب سیانوں نے کہہ دیا کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے ، تو تیری اور میری محبت کی تھوڑی بہت خبر تو کسی کو ہو گی ناں،’۔

“کھل کر بتا، بات میرے پلے نہیں پڑ رہی”

“مٹی کے مادھو سن، جب میں اماں کے ساتھ اوردوسری عورتوں کے ہمراہ چودھری کے کھیتوں میں کپاس کی چنائی کے لئے گئی تھی تو نواز بہانے سے میرے قریب آیا اور عشق جھاڑنے لگا، میں نے سخت لہجہ اپنایا تو پتا ہے اس نے کیا جواب دیا تھا؟”

“مجھے کیا پتہ تو ہی بتا”۔

“اس نے کہا تھا ہم چودھریوں سے تو ساربان اچھے ہیں جو دودھ ملائی کھاتے ہیں” بات آئی تیرے کھوپڑے میں یا نہیں۔

“ہوں تو یہ بات ہے ، اس کا مطلب ہے باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہم میں دوریاں پیدا کی گئیں” اس نے غصیلے لہجے میں کہا۔

“کیا ہم دور ہو گئے ہیں” رانو مصنوعی غصے سے بولی۔

“نہیں بلکہ چاہت میں اور شدت آ گئی ہے ” وہ محبت بھرے لہجے میں بولا۔

“اس کا مطلب ہے میرا جوتا چرا کر کسی کو پہنا کر نذیرے کے ڈیرے سے میرے گھر تک لایا اور لے جایا گیا، پھر جوتا صحن میں رکھ کر چوری کا ڈرامہ رچا کر مجھے بستی بدر کر دیا گیا، دیکھ لوں گا میں ان بدقماشوں کو” سرور کا چہرہ سردی میں بھی تپتپانے لگا تھا۔

“نہ، بے وقوفی نہیں کرنی، اب تک چند ایک کو پتہ ہے پھر پورا جگ ہماری محبت کا ویری ہو جائے گا” رانو نے اسے سمجھایا، اچھے وقت کا انتظار کر، رانو تیری ہے اور تیری ہی رہے گی چاہے جان نہ چلی جائے ”۔

“جھلی کہیں کی، جان جانے کی بات پھر نہ کرنا، تو جانتی ہے میں تیرے بغیر نہیں جی سکتا، رانو! زندگی گزرے گی تو تیرے سنگ، نہیں تو محبت کے دشمنوں پر زندگی تنگ کر دوں گا، بغاوت پر اکسایا گیا تو پھر دشمنی کی آگ میں سب جھلسیں گے ” سرور جذباتی ہو رہا تھا۔

رانو نے اسے پیار سے چپت لگائی، “تیرے مغز میں میری بات نہیں بیٹھی، میں کہہ بھی رہی ہوں کہ کچھ وقت کیلئے خاموشی سادھ لے ، اپنے کام سے کام رکھ، مناسب موقع ملتے ہی میں خود ماں سے بات کروں گی”۔

“اور وہ تیرا باپو، وہ کسی جلاد سے کم تو نہیں”

“شرم کر میرے باپ کو جلاد کہہ رہا ہے ، افیون کے نشے نے اسے ناکارہ کر دیا ہے ، اس کی فکر نہ کر، ہاں بھائی رکاوٹ نہ ڈالے تو ہماری شادی کو کوئی نہیں روک سکتا”۔

“تو پھر ملا ہاتھ اور کروعدہ کہ مریں گے تو ساتھ اور جئیں گے تو ساتھ” سرور نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

“مریں ہمارے دشمن، رانو نے اس کا ہاتھ لیا، اور پھر جلدی سے چھڑا کر بولی “خود بھی مرے گا مجھے بھی مروائے گا، سویرا ہونے میں دیر کتنی ہے ، چل اٹھ چلیں، اندھیرا ہمارا رازدار ہے ”۔

٭…………٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے