سر ورق / ناول / کفن باندھ رہاہے۔۔۔ شبیہہ مظہر رانجھا

کفن باندھ رہاہے۔۔۔ شبیہہ مظہر رانجھا

قسط نمبر 2

عثمان بھاگتا ہوا آیا اور امی کو کہتا آئیں آنٹی میں آپکو مولوی صاحب سے ملواﺅں،جن سے ہم تینوں بہن بھائیوں نے قرآن

پاک کی تعلیم حاصل کی ہے،وہ دونوں ہم دونوں کو لے کر مسجد کے صحن سے اندر چلے گئے،بڑے بڑے محرابی دروزے تھے اور ہم لوگ

ان کے بیچ کھڑے بلکل چھوٹے چھوٹے انسان لگ رہے تھے،عابدہ امی کو لے کر مولوی صاحب کے پاس سلام کے لیے چلی

گئی،عثمان اس لیے نہ گےا کیونکہ اس نے شارٹس پہن رکھے تھے،بیچارہ کوکنگ کرتا سیدھا ادھر ہی آگےا تھا،وہ لوگ جا کر قاری

صاحب سے باتیں کرنے لگیں اور عثمان چشمہ لگائے ہوئے او کر انکو دیکھ رہا تھا،اتنے میں عابدہ نے ہاتھ کے شارے سے ہم لوگوں

کی کوئی بات کی،عثمان ڈر کے پیچھے ہو گےا میں تو مہمان تھی آرام سے کھڑی رہی،اتنے میں مولوی صاحب کی جانب سے ایک بچہ

بلانے آیااس نے کہا عثمان بھائی آپکو قاری صاحب بلا رہے ہیں،وہ بیچارہ ڈرنے لگامیں نے کہا کچھ نہیں ہوتا پاگل،خیر ٹانگیں

سکوڑتاہوا قاری صاحب کے پاس چلا گےا،کچھ دیر ان سے بات ہوئی اور وہ لوگ واپس مُڑے عثمان لمبی لمبی پھلانگتا ےہ جا وہ جا،اس

حرکت سے ہم لوگ بہت ہنسے،کافی دیر چہل قدمی کرتے رہے اور وہ ہمیں مون کے انٹرویو کی باتیں سناتا رہا کہ کیسے ایک نیوز پیپر

میں ایڈ دیکھ کے اس نے اپلائی کیا،جب گھر آئے تو انکل اورمون گھر موجود تھے،کوئی آےا ہوا تھا،اور کسی مسئلے پہ بات کر رہے

تھے،مون کے لیئے تےراکی کا بندوبست کرنا تھا،آج جو غائب رہا تھا تو وہ اپنی شاپنگ کے لیے گیا ہوا تھا،جو جاگرز چاہئے تھے وہ لیکر

آیا تھا،سوکس،چرمی بیگ،کنگھی،شیونگ سامان،نیل کٹر،اور اسطرح کی دیگر اشیائ،وہ سامان رکھ رہا تھا اور عثمان سیٹ کر رہا تھا،میں

نے چھیڑا او ہوتو آج سے بھائی صاحب نے صابن تولیہ وکھرا کر لیا ہے؟مسکرانے لگا،تب میں نے کہا،اب اپنی سُستیاں ختم کر

دینا،یہ جو سوچ سوچ کے بولتے ہو ناںآہستہ آہستہ،لیزی ہوتا ہے بندہ اسطرح،تیز تیز بولا کرو سُنا ہے فوج والے وقت کے بڑے

پابند ہوتے ہیں،جی بلکل آج مجھ پہ وقت ہے ایسا ،میں آپکی سن رہا ہوں۔اور کچھ؟اسکی آنکھوں میں شرارت تھی،میں نے بھی کہا

ہاں ہاں ٹھیک ہے اور سنو،ہمیشہ ایمانداری سے رہنابے ایمانی والا افسر مت بننا،اب کے جواب دیا باجی آپکو پتہ ہے جس کے

اندر جو ہوتا ہے اس نے وہی نکالنا ہے،میرے اندر اچھائی ہو گی تو وہی کروں گا،اسی طرح بُرائی ہوئی تو وہ بھی ضرور ظاہر ہو گی،ہاں یہ

تو ٹھیک کہا تم نے،ہماری ماﺅں نے بے ایمانی تو ہماری سرشت میں پیدا ہی نہیں ہونے دی،اُن دنوں ہاتھ دیکھنے کا شغل بھی چلتا

تھا،ان لوگوں کوپتہ تھا،عابدہ اپنا ہاتھ لے کے میرے پاس آبیٹھی،میں اسکا ہاتھ دیکھ کے پریشان سی ہو گئی،لائینز عجیب سی تھیں،

عجیب کٹی پھٹی باریک زنجیردار بہرحال میں نے کسی سے ذکر نہ کیا،ایسے ہی گپ لگاتے رہے ہم ،یہ لوگ اپنے بچپن کی باتیں،سکول

کے قصے سناتے رہےمجھ سے ان تینوں کی طرح ہر کسی کی جلدی دوستی کی وجہ یہ ہے کہ میں مقابل یا دوست کو بھرپور سنتی ہوں،اپنی کم اور

اگلے کی ذیادہ سنتی ہوں یہ ہی وجہ ہے کہ دوست اٹیچ ہو جاتے ہیں،رات بھر الوﺅں کی طرح جاگنے سے صبح ذرا لیٹ جاگے،ہم لڑکیوں

نے تو سُستی کر دی لیکن میں نے دیکھا کہ وہ دونوںبھائی جلدی سے اٹھے وضو کیا اور ادھر فرش پہ ہی جائے نماز بچھا کے قضا نماز ادا

کی،یہ بات بہت پسند آئی مجھے کیونکہ نماز چھوٹ جائے تو کون اتنی فکر سے پڑھتا ہے،۔۔۔اس کے بعد مون تو پھر باہر نکل گےا،اور

عثمان میرے سر ہو گےا چلیں باجی شیر شاہ سوری پارک چلتے ہیںوہاںبڑے کنویں بھی ہیں pixبنائیں گے،ہم نکل پڑے،کچھ تو

قدرتی حسن،اور کچھ حکومت نے صحیح توجہ دی ہے،علی الصبح فوارے بہہ رہے تھے،تازہ پھولوں کی خوشبوروح کو سرشار کر رہی تھی،صبح

صبح یہاں واک کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا،جب پہنچے تو عثمان ہمیں سیدھا کنویں پہ لے آیا،اُف اتنا کھلا اور گُھپ اندھیرا کہ ڈر لگتا تھا

اندر جھانکتے ہوئے بھی، میں نے ہونٹوں کے اطراف ہاتھ رکھ کر ذرا سا او کر اتنی زور سے آواز لگائی اور وہ آواز اندھیروں میں گُم ہو

کر تھوڑی دیر بعد واپس ہمارے پاس لوٹ آئی کتنی بار ہم نے ایویں چیخیں ماریں،تو عثمان نے کہا رہنے دو یہ نہ ہو کوئی سیکیورٹی والا آ

جائے کہ ادھر کیا مسئلہ ہے،پھر ہم تصویریں بنانے لگے،عثمان مجھ سے کبھی کوئی پوز کروائے کبھی کوئی،ایک گوڑے کا ماڈل تھا پیارا

سا،اس کے پاس سب نے تصویریں بنائیں،عثمان تو آنکھ بچا کر اس کے اوپر سوار ہو گیاجلدی سے اسکی تصویربنائی اور وہ اتر گےا،پھر

پھولوں کے باغیچے میں ،گھر واپسی تک جہاں کوئی اچھا سین نظر آتا ہم تصویریں بنانے لگتے اس دن سنڈے تھا عابدہ نے رستے سے

اخبار خریدا،پڑھتے پڑھتے ہم گھر پہنچ گئے،سب سے پہلا جو سین تھا وہ یہ کہ مون باہر احاطے میں جھاڑو لگا رہا تھا،اندھا دُھند صفائیاں

لگا ہوا تھا کرنے،میری دیکھ کے ہنسی چھوٹ گئی،اوئے لیفٹینینٹ صاحب آج ماسی چھٹی پہ ہے؟میں نے مذاقاًکہا تو کہتا باجی وہ تو رکھی

ہوئی نہیں آج سنڈے ہے ناں تو صفائی کی میری باری ہے،عثمان بھائی نے مشین لگانی ہوتی ہے،اور امی کوکنگ کر لیتی

ہیں۔۔۔۔میں نے تحسین بھری نظروں سے دیکھا اور کچھ بھی نہ کہا،مبادا نظر نہ لگ جائے،ناشتے کے بعد امی نے کہا کہ ٹائم سے

نکلیں اتنے میں عثمان تصویریں کمپیوٹر میں کر کے دکھانے لگا اچھی تھیں۔زندگی کتنی جلدی ماضی بنتی جاتی ہے ابھی ہم ادھر پارک میں

انجوائے کر رہے تھے اور ابھی ہم ماضی کی ےادیں بنا کے کمپیوٹر کی سکرین پہ دیکھ بھی رہے تھے نہ جانے زندگی کی صحیح حقیقت کیا

ہے؟انسان کہیں ڈوبتا ہے اور کہیں ابھرتا ہے،کہیں موجود ہوتا ہے اور کہیں غائب ہوتا ہے،خلیل جبران نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے زندگی کی حقیقت ےا موت کی کی حقیقت کو کچھ ایسا محسوس کیا کہ ایک ٹرین اپنا سٹیشن چھوڑتی ہے تو سب کہتے ہیں کہ ٹرین چلی گئی اب

دوسرا سٹیشن ہے جہاں ٹرین نے پہنچنا تھا ادھر لوگ انتظار میں تھے وہاں شور مچ جاتا ہے ٹرین آ گئی زندگی کا

بھی یہ ہی حال ہے ثابت ہوا کہ زندگی ادھر بھی موجود ہے ہمیشگی والی ،اور ادھر بھی موجود ہے عارضی والی،اس اِدھر اور اُدھر کے درمیان فرق صرف موت ہی ہے،کیونکہ ایک جگہ حاضری کے دوران ہی چھوڑ کے دوسری جگہ حاضر ہونا پڑتا ہے،بندہ ایک وقت

میں دو جگہ کیسے لے سکتا ہے؟میری اس سے پہلے کہ سوچیں مزید گہری ہوتیں امی جان نے کہا کہ تیاری کرو شبیہہ ٹائم سے پہنچ جائیں

یہ نہ ہو کہ اِدھر سے دیر سے نکلیں تو اُدھر دیر سے پہنچیں،اس بات سے میرے خیالات کو مزید تقویت ملی،کہ جتنا جلدی اِدھر سے غائب

ہوں ےا رخصت، اُدھر اتنی جلدی ابھریں گے ہم،اُف میرے خدا! یہ ہونا اور نہ ہونا کیا ہوتا ہے؟میرا اس فلسفے کو سوچ سوچ کے دماغ درد کرنے لگا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم تقریباً11بجے ادھر سے اجازت لے کر نکلے،مون اور عثمان دونوں مسجد کے مقابل روڈ پہ ہمیں سی آف کرنے آئے تھے،ہیں۔

پارک میں جاتے سمے عثمان کے اور کپڑے تھے اب اس نے نیا جوڑا زیب تن کر رکھا تھا ،carryکافی دیر سے چلی تھی دونوں اسکے

 چلنے تک میرے پاس کھڑے رہے،عثمان نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہو ئے مجھے کہا باجی اس سائیڈ پہ دیکھیں یہ آرمی والوں کی

بلڈنگ ہے میں نے بائیں جانب دیکھا تو ایک اچھی بلڈنگ سامنے تھی،کہتا جب مون آفیسر بن جائیگا اور شادی کی عمر کو پہنچے گا تو اس

جگہ اسکی شادی کریں گے یہاں آفیسرز کے فنکشنز ہوتے ہیں،مون چپ رہا جیسے سعادت مند بچے،میں اسے چھیڑنے لگی اوہو،لگتا

ہے شادی کے خواب ابھی سے دیکھنے شروع کر دئیے ہیں بھئی ظاہر ہے مُنڈا فوج میں ہو گےا ہے،اب تو کُڑی کوئی ڈھونڈنی چاہیئے۔او

نیئں باجی آپ تو بس۔۔۔یہ عثمان کو تو اور کوئی بات ہی نہیں آتی،میں اور عثمان اسکی حالت دیکھ کے مسکرا رہے تھے،اتنے میں

carryچل پڑی،ہم لوگوں نے جلدی سے ہاتھ ملائے اور وہ لوگ چل پڑے میں مون کو دیکھ رہی تھی ماشااللہ قدکاٹھ والا

خوبصورت جوان ہے لیکن جب ٹریننگ میں ہو گا تو پتلاہوجائے گا،ہماری فیملی میںکافی لوگ آرمی میں ہیں وہ سبھی ایک بار تو بالکل

سوکھتے ہیں پھر تقریباًاسی لیول پہ رہتے ہیں،ہم سفر میں بھی مون کی باتیں کرتے رہے،وہ بھی رابطے میں رہا میسج کر کے پوچھتا رہا

کہ کہاں پہنچے ہیں،گاڑی موٹروے پہ پہنچی تو اسے کچھ سکون ہوا کہ اب یہ لوگ پہنچ جائیں گے۔

            والدین کا نعم البدل اس جہان میں کوئی بھی نہیں، آج ایک حسِین ےاد نے دل پھر سے آبادکیا ہے،میری امی سہیلیوں جیسی ہیں،ہمیشہ سے بچوں کی جائز بات مان لینے والی،اور اولاد کو خود خوشیاں دینے والی،لیکن

اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دوں کہ جہاں سختی برتنی ہو وہاں تو ہماری مجال بھی نہیں،انھوں نے بہت نپا تلا سا اندازِ تربیت رکھا ہے اولاد

کا،ہوا یہ کہ موٹروے پہ جب کلر کہار پہنچے تو سر سبز پہاڑیاں اور خوبصورت مناظر دیکھ کے میں مچل گئی،یہ وادی شروع سے مجھے پسند

ہے میں نے جھجکتے ہوئے امی سے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ادھر اُتر جائیں ؟میرا سیَر کرنے کو من کر رہا ہے،امی نے کہا واہ میں سیر

ہی تو کی ہے، میں نے کوشش جاری رکھی،امی جینے وقت دیکھا تو ابھی دن کا ایک بجا تھا،وہ چپ ہوئیں تو میں نے پھر کنوِنس کیا کہ

پلیز ہم ایک گھنٹے کے لیئے رک جاتے ہیںگھر فون کر دوں گی امی نے نیِم رضا مندی سے کہا کہ جو ہم نے پورا کرایہ دیا ہوا ہے وہ نقصان نہیں؟میں نے کمال ڈھٹائی سے کہا ۔نہیں بلکہ اسکے بدلے ہم اتنی سیر بھی تو کریں گے،کہہ کے کن اکھیوں سے امی جان کو

دیکھا تو چہرے پر کوئی خاص ناراضگی کے آثار نظرنہ آئے پھر تومیں شروع ہو گئی امی جان مان جائیں نہ پلیزاسٹاپ آنےوالا ہے پلیز

پلیز۔۔۔ٹھیک ہے لیکن زیادہ رکنا نہیں ہے،انھوں نے کہا تو میں خوش ہو گئی،اوکے ٹھیک ہے ہم ایک گھنٹے کے اندر گھوم کے واپسی

کی راہ لیںگے،ساتھ ہی میں نے اپنا پرس کندھے پہ لٹکایا،اور کنڈکٹر نے کہا کہ کلرکہار کس نے اترنا ہے؟امی نے اشارے سے بتایا

کہ ہم نے،حیران ہو کہ کہتا آپ نے تو بھلوال جانا تھا،ہم نے کہا ہمارا ارادہ چینج ہو گیا ہے،بہرحال ہم سٹاپ پہ اتر گئے،کیا موسم

تھا،عجیب جادوئی ماحول،میں تو اترتے ہی کھو گئی،ایک رِکشہ لیا اور اسے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ھُو باہوؒکے دربار پہ لے جائے

میں تو منظروں کے چارم میں کھوئی ہوئی تھی جیسے بندہ ٹرانس میں ہو،سر سبز میدان اور انکے اطراف میں پہاڑ،صاف ستھرے

علاقے،کہیںکہیں گھر،اور مری کی طرح پہاڑوں پہ آبادیاں،مساجد،ہسپتال،شاپس،اور وزیٹرز،واہ کلر کہار کی کےا بات ہے،بڑا سا

ایک دروازے کی طرح چوکھٹا تھا،سبز بیلوں سے ڈھکا،جہاں جعلی حروف میں لکھا تھا welcom to kalar kahar vallyہم جب اس دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ایک جا دوئی دنیا کا گمان ہوا،خوشبووﺅں سے معطر فضا،سبزے سے ڈھکے

نظارے،صاف اور چمکتی کالی سڑکیں،دو رویہ اونچے درخت،خاموشی ہی خاموشی،ہم دونوں ہی سرشار تھے،وہ بھی نیچر پسند ہیں اور

 میں بھی،وہ بھی لکھاری ہیں اور میں بھی،پہلے بھی متعددبار کلرکہار آنا ہوا تھا لیکن اتنا لطف آج ہی آیا تھا،افسانوی ماحول سے گزرتے

ہوئے ہم دربار پہنچ گئے، حدود شروع ہوتے ہی گا ڑی سے ہم اترگئے،میں پیدل ہر جگہ دیکھنا چاہتی تھی،ایک پتلی سی سڑک اوپر جا

رہی تھی دونوں طرف دوکانیں سجی ہوئی تھیں،کچھ آگے گئے تو لنگر تقسیم ہو رہا تھا،آج سے پہلے میں نے یہ جگہیں نہیں دیکھی

تھیں،پہاڑوں کے دامن میں اندر کیطرف پہاڑ کے شیڈ کے نیچے بیٹھا ایک آدمی سالن ڈال کر دےرہا تھا،گاڑیاں بھر بھر کر زائرین کی

آرہی تھیں،اوپر جانے والی ڈھلوان سڑک پہ چڑھے تو چڑھا نہ گیا بمشکل اوپر پہنچے تو۔۔۔۔۔۔واہ،کیانظارہ تھا بہت اچھی ہَوا چل

رہی تھی،ٹھنڈی،خنک،خراماں،نیند آنے والی ہو گئی،پر جیسے ہی سامنے ہُوباہوؒ کا دربار دیکھا،شوق ِدیدار امنڈ آیا،ہم داخلی دروازے

سے صحن میں آئے تو سفید رنگ کے موروں نے استقبال کیا،کیا بات ہے،لفظوں میں قدرت کی صناعی بیان کرنا بہت مشکل ہے، مور

گھوم رہے تھے اور زائرین بھی۔وضو کیا،دربار کے اندر گئے سلام کیا،فاتحہ پڑھی اور سورہٰ یٰسین پڑھی،مناجاتیں جو دل میں تھیں وہ

خودبخود امنڈ آئیں،پھر میں اندر کی عمارت دیکھنے لگی،بہت خوبصورت پچی کاری ہوئی تھی،اس پہاڑی علاقے میں یہ محنت اور

 کاریگری دیکھ کرکام کرنے والوں کو داد دینے کو جی چاہتا ہے،ساتھ ہی دُور سے آنےوالے زائرین کے آرام کے لیے برآمدہ بنا ہوا

تھا،امی کو ادھر لِٹا دیا،پھر خیال آیا کہ گھر تو بتایا ہی نہیں،باہر آ کر میں نے نمبر ڈائل کیا وہ لوگ پریشان تھے کہ ہم ابھی تک پہنچے نہیں میں

نے بتایا کہ ہم کلرکہار رُک گئے ہیں، اورنہ پوچھیں کہ بہنوں نے کیا صلواتیں سنائیں،گھبرا کے فون بند کر دیا،ادھر اُدھر دیکھا کہ کوئی

میری طرف متوجہ تو نہیں، دِل سے نہیں کی آواز آئی اور میں نے سینے سے طویل سانس خارج کی اور آکسیجن سے بھر پور تازہ ہوا کو

ناک سے اندر کھینچا۔۔۔مجھے ےاد ہے جب فیملی کے ساتھ آئے تھے تب بہت مزہ آیا تھا،لیکن اب سکون آرہا تھا،اور اپنے من میں

ڈوبنے کا موقع مل رہا تھا،ایک جھیل ہے یہاں،جسے نمکین پانیوں کی جھیل کہاجاتا ہے،عموماًبھری رہتی ہے لیکن خشک بھی خود ہی ہو

جاتی ہے،لوگ مزے سے کشتی رانی بھی کرتے ہیں،مجھے لگا کہ گھوڑے بھاگتے ہوئے آرہے ہیں،ٹاپوںکی آواز نزدیک آ رہی

تھی،محسوس ہو رہا تھا کہ میں ظہیرالدین بابر کے زمانے میں ہوں،وہ اپنی فوج کو کابل سے لے کر جب دہلی روانہ ہورہا تھا تو رستے

میں کلرکہار ٹھہراتھا ،یہاں کا موسم اور آب و ہوا اسے پسند آئی،اس نے اپنا stayبڑھا دیا،اور باغِ صفا کے نام سے ایک باغ

بنوایا،جو آج بھی آب و تاب سے موجود ہے،بابر نے ایک چبوترہ بنوایا جس پہ بیٹھ کر وہ اپنی سپاہ کو خطاب کیا کرتا،اور ایک تاریخی

جملہ کہا،؛کلر کہار ایک دِلکش جگہ ہے جسکی ہَوا بہت اچھی ہے خوبصورت نظاروں کے ساتھ،؛۔۔۔چوآسیدن شاہ دربار نزدیک ہی

ہے،سیدن شاہؒایک بزرگ ہوئے ہیں،مشہور ہے کہ عالم چنّا نے اس مزار پہ سفیدی کی تھی۔۔۔دوسری سائیڈ پہ جہلم کے علاقے

میں کٹاس کا قلعہ ہے جس میں شِیوا کا ٹمپل ہے اور چوآسیدن شاہ میں راج ٹمپل ہے۔جو کہ بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں اور

ان ٹمپلز کے ساتھ قدیم داستانیں جُڑی ہیں،کلر کہار کو ایک اور اعزازبھی حاصل ہے اسکے ایک گاﺅں چک مصری میں وہ پہاڑیاں ہیں

جِن کا پتھر انڈیا میں تاج محل میں استعمال ہوا ہے،یہ علاقہ تاریخ کے حوالے سے مالامال ہے،کلر کہار کا ایک گاﺅں ؛نارومی: سَیر کے

لئے بہترین ہے،عبدالقادر جیلانیؒکا مزار بھی سنا ہے کہ یہاں ہی ہے،۔۔۔۔میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں ایسی مگن تھی کہ کافی

وقت بیت گیا،سورج کی کرنیں اب مٹیالی ہُوا چاہتی تھیں،میں خوبصورت ماضی سے نکلی اور واپس برآمدے کی طرف پلٹ آئی،امی

جان بھی جاگ گئی تھیںانھیں پانی پلایا ساڑھے تین ہوئے تھے امی کہنے لگیں کہاں چلی گئی تھی تم؟میں نے کہا کہیں نہیں،یونہی فون

کر رہی تھی گھر،چلو چلیں آہستہ آہستہ،تم تو گھومنے نکلی تھی،امی نے کہا اورمیں نے سہارا دے کر انکو اٹھایاہم دربار کی بیک سائیڈ سے

اترنے لگے پتھر کی سیڑھیاں تھیں جو لوگوں کے چڑھنے اور اترنے سے بے حد ملائم ہو چکی تھیں اور خوامخواہ پھسلنے کا اندیشہ تھا ہم سنبھل

کے اترنے لگے، کافی سارا نیچے آ کے میں نے امی کا ہاتھ تھامنے کو مُڑ کے دیکھا تو حیران رہ گئی کیونکہ ہم بہت نیچے اتر آئے تھے اور

دربار بہت دور لگ رہا تھا،سڑک پہ اترنے کے بعد امی کو ایک اور فرمائش کر دی، چائے پینی ہے،میں امی جان کی ڈانٹ سننے کو تیار

تھی لیکن آج پاﺅں اٹھا ہوا تھا،ہاں میں بھی تھک گئی ہوں،دیکھو کسی فیملی کیبن میں چائے کا ارینج ہو تو،خلافِ توقع جواب سن کر میں نے غور سے دیکھا تو وہ مسکرا دیں،مجھے ڈانٹ نہیں پڑی تھی،یہ سڑک جانی پہچانی تھی قدرے بلندی پہ پٹھان بھائیوں کا ہوٹل نظر

آیاامی کی توجہ کرائی تو ہم ادھرچل پڑے،پوچھنے پہ پتہ چلا کہ چائے مل جائے گی،ہم ماں بیٹی مخصوص راستوں سے اوپر گئے تو بھئی واہ

کیا ماحول تھا،دربار کی بلندی سے یہ ہوٹل نظر آرہا تھا لیکن یہ اس قدر خوبصورت اور اچھا ہو گا مجھے اندازہ نہ تھا،لگتا تھا کسی پہاڑی کو

برابر کر کے یہاں ہوٹل اور دکانیں بنائی گئی ہیں،یہ کوئی وی آئی پی ہوٹل نہ تھے بلکہ یہاں کے قدرتی ماحول نے چارچاند لگارکھے

تھے،لیڈیز کیبن میں بیٹھے،بڑی بڑی کھڑکیاں جن میں موٹی اورمضبوط سلاخیں لگی ہوئی تھیں،ان میں سے کراس ہو کے ہوا بہت تیز

آرہی تھی،سامنے خوبصورت پہاڑوں کے دلپسندمناظر اپنی شان دکھا رہے تھے،اُف اتنی اچھی اور کڑک چائے کہ بس۔۔ساری

تکان دور ہو گئی،ٹیبل اور کرسیاں نیلے رنگ کے پاینٹ سے مزّین تھیں لیکن کلر اترنے کی وجہ سے بھدی ہو رہی تھیں،میں سادہ سے

کمرے کا جائزہ نھی لے رہی تھی اور چائے کا لطف بھی اٹھا رہی تھی،امی کے ٹہوکہ دینے سے میں نے چائے جلدی ختم کی اور باہر آگئے

ہم،اوپر کھڑے ہو کے میں نے پھر ایک بار طائرانہ نظر ڈال کر منظروں کو نگاہوں میں قید کیا اور پھیپھڑوں میںاچھی طرح تازہ ہوا

بھری اور نیچے سڑک کی طرف لپکی کیونکہ امی بہت نیچے چلی گئی تھیں ،اس بار نہ شاپنگ کی نہ پارک گئی نہ جھیل پہ،لیکن جو لطف ان

 مناظر سے میں لینا چاہتی تھی وہ مجھے حاصل ہو گیا تھا، گاڑی آئی اور اس میں سوار ہو کے ہم اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے،

     جون کی 21تاریخ کو میری سالگرہ تھی سبھی بہت جوش خروش سے مناتے ہیں،وِش بھی بہت سے لوگ کرتے

ہیں میری برتھ ڈے اسلئے سبکو ےاد ہوتی ہے کہ شروع سے منائی جاتی ہے ابو بہت خوشی سے مناتے ہیں۔آج بھی رات 12بجے سے

پہلے ہی کزنوں اور دوستوں کے مقابلے لگے ہوئے تھے کہ پہلے کون وش کرتا ہے،مجھے نیند آرہی تھی لیکن جاگنا ضروری تھا کیونکہ سب

کے مقابلے دھرے رہ جاتے اگر میں ہی سو جاتی،20منٹ رہ گئے تھے 12بجنے میں،اور میں نیند سے بے حال،فاطمہ فریش تھی

فونز وہ ہی رسیو کر رہی تھی،2,3منٹ رہ گئے 12بجنے میں،تو اس نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا،میں آنکھیں مَلتے ہوئے اٹھ گئی،12پہ

سُوئی آئی اورمیری پیاری اور عزیز دوست نادیہ کا فون آگیا،وہ جیت گئی تھی،سب سے پہلے اس نے مجھے وِش کیا،بلکہ گا کر وش

کیا،اتنے میں ایک آپی کا میسج آیا،3,4فون ایکٹو کر کے رکھ دئیے تھے سب کے فون آنے لگے نشاط کی فرینڈز،فاطمہ کی فرینڈز

میری اپنی فرینڈز،کزنزسب نے راتوںرات وش کر دیا،سیکنڈز کے حساب سے میسج آرہے تھے،جواب دے دے کر میری انگلیاں

شل ہو گئیں،تب سارے فون سائلنٹ لگا کے میں رات 2بجے سو گئی، کچھ دیر ہی ہوئی تھی سوئے ہوئے کہ فاطمہ نے جگا دیا ،اذانیں

ہو رہی ہیں نماز کی تیاری کرو اور فون بھی چیک کرو ،بار بر سکرین چمک رہی ہے،میں بمشکل جاگی فون دیکھا تو مون کے میسج آرہے

تھے وہ مجھے وش کر رہا تھارات تو میرے ذہن میں نہیں تھا کہ کون کون وش کررہا ہے لیکن اب اسکے سالگرہ مبارک کے میسج آئے تو شکوہ

در آیا،میں نے لکھا کہ ساری دنیا وش کر کر کے سو گئی اور تمھیں اب یاد آئی ہے باجی کی،اسکا جواب آیاباجی 12بجے تو سارے ہی وش

کرتے ہیں،اس وقت آپکو کس نے وش کیا؟میں نے کہا بونگے اس وقت تم ہی جاگ رہے ہو،باقی دنیا تو سوئی ہوئی ہے،اس کا

replyآیا،جو آج بھی پوری طرح مجھے ےاد ہے،کہ باجی 12 بجے تو سارے ہی وش کرتے ہیں،اور تہجدیا فجر کے وقت آپکو جو وش

کرے گا وہ صرف © ©؛مون؛ہی ہو گا میں اس پیارے وقت پہ آپکو بہت سی دعاﺅں کے ساتھ سالگرہ کی مبارک دیتا ہوںاور دعاگو

ہوں کہ اللہ ہزاروں برتھ ڈے منانے کا موقع دے،ہمیشہ خوش رہیں آباد رہیں،دل کی خواہشیں پوری ہوں۔اور ۔۔۔۔۔۔۔

نہ جانے اس لڑکے نے کیا کیا دعائیں دے ڈالیں، میرے پاس الفاظ ختم ہو گئے کہ میں اسکو کیا جواب دوں ،کافی دیر میرے میسج نہ

گئے تو مون نے فِیل کیا اور وجہ پوچھی تو میں نے کہا پیارے لڑکے !میں کیا کہوں، تم نے میرا مان بڑھایا ہے،آج مجھے معلوم ہوا ہے

کہ ہمارارشتہ معمولی نہ ہے،تم اتنی اچھی سوچ رکھتے ہو،کچھ دیر ہم بہن بھائی یوں ہی بات کرتے رہے اس کے بعد وہ بھی اور میں بھی

 نماز کے لیے اٹھ گئے،دن میں یہ ہی کالز والا سلسلہ جاری رہا ایک بڑا فنکشن ارینج کیا،مون نے سہ پہر پھر فون کیا سالگرہ کی مبارک

دی امی اور دیگر سب سے بات کی،

     بھائی احتشام کی شادی آ گئی اندھا دھند تےاریوں میں لگ گئے،اس کے چند ماہ بعد میری شادی ہو گئی ،اور زندگی

نئی طرز پہ بسر ہونے لگی، نئے رشتے ،نئے لوگ ،نئی جگہ اور شبیہہ کا دل ۔یوں تو سبھی اچھے تھے لیکن اپنی جنت کا پُر بہار موسم میری آنکھ

کے منظروں سے کیسے نکلتا؟بہن بھائیوں کے پھول چہرے،گلاب باتیں ،رُباب ےادیں مجھے چپکے چپکے رلاتی اور میں تڑپ

جاتی،ماں باپ کی ذات کی گھنیری چھاﺅں ےاد آتی تو جیون ساتھی کے پیار کے باوجود مجھے یوں لگتا کہ آزمائشوں کی کڑی دھوپ میں

ہوں،سچ کہتے ہیں لڑکی کے لئے شادی کے بعدماں باپ سے بچھڑنا ایک عظیم آزمائش ہے،میکے سے سُکھ کے گلابی بادل اوڑھ کے

آئی تو خاوند نے بھی کبھی پریشان نہ کیا۔لیکن یہ گلابی دن کب ڈھلے مجھے خبر ہی نہیں دی گئی میری شادی کے بعد ابو جان بیمار ہو گئے

انکے پاﺅں میں تو کب سے درد تھا لیکن اگنور کرتے رہے،کبھی کبھار زخم بن جاتا تو خود ہی علاج بھی کر لیتے،لیکن مرض بڑھ رہا تھا امی

کے مشورے سے شوگر چیک کروائی تو 450تک آئی،درد پاﺅں کے انگوٹھے میں تھا کسی ناہنجار ڈاکٹر نے کہا پیپ پڑ گئی ہے،ناخن

نکالنا پڑے گا ،وہ نکال دیا،مزید حالت خراب،وقت گزرا لیکن آرام نہ آےا،سرجن سے چیک اپ کراےا تو اس نے کہا کنڈیشن ایسی ہے

کہ انگوٹھا کاٹنا پڑے گا،مجھے پتہ چلا تو میں روﺅں ،ادھر میری ساس بیٹے کے پاس ہالینڈ چلی گئی،میں زیادہ دن کے لیے نہیں جا سکتی

تھی ابو جی کے پاس،ایک دن کے لیئے گئی صرف پتہ کرنے،اُف میرے خدا،ابو جان کا درد برداشت کر کرکے رنگ زرد ہو گیا

تھا،کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ لاہور لے جاتے ہیں،وہاں ابو کے دوست ہیں جو اچھے ڈاکٹر تک رہنمائی

کرسکتے،میں گھر آگئی لیکن ابو کو لاہور لے گئے،بہت ٹینس تھی رورو کے کوئی حال نہ تھا،فون پہ پل پل کی خبر لیتی،چونکہ خاندان

میںاس سے پہلے شوگر کا مسئلہ کسی کو نہیں تھا تو سمجھ نہیں تھی کہ ہم کریں کیا،اوپر سے عطائی ڈاکٹرز کے ناقص علاج،خیر سب سے پہلے

شوگر نارمل کی گئی پھرچیک اپ کے بعد ادھر بھی انگوٹھے کی کنڈیشن کے پیشِ نظر کہا گےا کہ کاٹنا پڑے گا،ہم سب نے بھی یہ ہی

مناسب سمجھا کیونکہ مسئلہ بڑھ سکتا تھا۔۔۔اور ایک دن میرے پیارے ابو جان کے پاﺅں کا انگوٹھا آپریٹ کر کے کاٹ دیا گیا،کافی

عرصہ بیڈ ریسٹ ہوئی،کیونکہ بدپرہیزی سے زخم spoiledہو سکتا تھا،ہسپتال سے چھٹی ہوئی گھر آئے اور شاپ پہ جانے کو

تےار۔کیونکہ انھیں نظر آرہا تھا ،گھر کے حالات بہت ڈاﺅن ہو رہے تھے اندر سے امی بھی پریشان تھیں رشتہ دار عزیز وں کے ہاں ملنا

ملانا نہ ہونے کے برابر تھا ،دو شاپس کے مقدمے بھی چل رہے تھے اور ابو جان کے بستر پہ آنے سے ہر کام رک سا گیا،ابو نے کسی کی

ایک نہ سنی اور پاﺅں پہ پٹی کر کے علی کو کہتے شاپ پہ چھوڑ آﺅ کیونکہ لوگ کہنے لگے تھے کہ اب تو مظہر بیکار ہو گےا ہے دوکانیں کسی وقت

بھی چھِن جائیں گی،علی بھی بڑا ہو رہا تھا اور اپنے منہ سر والا ہونے لگا ،ان سب حالات کے پیشِ نظر ابو جان نے گھر آتے ہی کمر

باندھ لی،ساتھ ساتھ علاج بھی چلتا رہااور اللہ کریم کا کرنا ہوا کہ حالات اپنی ڈگر پہ آنے لگے،میں اپنے گھر تھی،بہت کچھ مجھ سے

چھپا جاتے لیکن میرا ذہن اپنوں میں اٹکا ہوتادوستوں وغیرہ کا کسے ہوش رہتا ہے ایسے حالات میں،نادیہ سے پراپررابطہ تھا کبھی کبھی

مون کے میسج آجاتے،آج بھی وہ بات کر رہا تھا،باجی کیا حال ہے بھلوال میں سب کیسے ہیں؟میں نے بتاےا کہ ابو جی کا آپریٹ ہوا

ہے،وہ پریشان ہو گےا،کہتا میں فاطمہ کو میسج کروں تو وہ جواب نہیں دیتی نوشی بھی یہ ہی شکائیت کر چکی تھی جب اسے پرابلم کا پتہ چلا

توحیران وپریشان۔کیونکہ وہ خاندان سے کٹ ہی تھا،کمال ہے کسی نے بتاےا ہی نہیں انکل اسقدر بیمار رہے ہیں،میں فون کروں گا

گھر،علی کیا کر رہا ہے آجکل؟میں نے بتاےا کہ میٹرک کیا ہے اس نے اب سوچ رہے ہیں ابو کا ہاتھ بٹائے اور پرائیویٹ سٹڈی کرے

ابو کا تو دل تھا کہ اسکی کوئی جاب ہو جاتی،تو وہ بے فکر ہو جاتے،احتشام تو بال بچے کے ساتھ زندگی میں سیٹ ہے،کہتا اللہ کرم کرے

گا،کافی تسلی دی مجھے ،میرا دل ہلکا ہو گےا،پھرمیں نے گڈ نائیٹ کہہ کر فون آف کر دیا۔

 میں بھلوال تھی غالباًکسی کزن کی شادی اٹینڈکر کے گھر آئے تھے،مون کا فون آیا،باجی کدھر ہیں آپ؟میں بھلوال ہوں

خیریت؟وہ شائدچل رہا تھا سانس ہلکا سا پھولا ہوا تھا اسکا،ہاں جی خیریت ہے،آپ علی کے ڈاکومنٹس مجھے صبح بھجوا سکتی ہیں؟میں نے حیران ہوتے ہوئے کہاکہاں،کیوں اور تم کدھر ہو؟میں بہاولپور ہوںآرمی میں کچھ ویکنسی آئی ہیں ادھر علی کے کاغذ جمع کرانے

ہیں،اسکی 12تصویریں،ب فارم یا آئی ڈی کارڈ کی کاپیاں،ڈومیسائل وغیرہ تیار کر دیں اور آنٹی انکل سے ذکر کریں میںکچھ دیر تک

فون کرتا ہوں،ساتھ ہی فون آف ہو گےا،میں نے نشاط کو کہا علی کے کاغذ چیک کرومکمل ہیں ؟ابو امی کو بتایا کہ مون کی کال آئی ہے علی

کی جاب کے لیئے بات کرتا ہے،امی جُزبُز سی ہوئیںلیکن ابو خوش ہوئے مون کو دعائیں دینے لگے،امی بھی میرے اصرار پہ مان

گئیں( علی امی کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہے)علی سے پوچھاتو اسے بھی اعتراض نہ تھا،سب ایگری ہوئے تو میں نے مون کو فون لگاےا اس کو بتاےا کہ امی ابو علی کو ٹرائی کرانا چاہتے ہیں،کہتا بس پھر مجھے کاغذ بھیجیں میںبہاولپور سے اسے اپلائی کراﺅں گا ،اور علی کو

مردان جانا پڑے گا،وہاں انٹرویو ،فزیکل ٹیسٹ،میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ ہوں گے اور باجی میری کوشش ہے کہ علی کی جاب ہو جائے ہر

جگہ میں ہیلپ کروں گا لیکن میڈیکل ٹیسٹ میں میری دال نہیں گلے گی، میں نے شکریہ ادا کیا اور رسمی کلمات کے بعد فون بند ہو

گےا،باقی کاغذات تو مکمل تھے بس تصویریں نہیں تھیں صبح بنوا کے آےا،جو جو مون نے کہا تھا سب شاپنگ علی نے کر لی،اوراس نے

کہا کہ پہلے واہ جانا ہے،وہاں سے ایک اور لڑکا بھی مردان جا رہا ہے اس کے ساتھ واہ سے آگے سفر کرنا ہے،امی کا حوصلہ نہیں پڑ رہا

 تھا،علی ذرا چھوٹا بھی تھا اور سفر بھی اتنی دور کا نہیں کیا تھا اس نے،امی نے کہا کہ میں واہ تک اس کے ساتھ جاﺅں گی ہم لوگوں نے کہا

ٹھیک ہے،شام کو نکلناتھا،امی جان کی طبیعت بھی آج ناساز تھی اور اوپر سے سفر۔۔۔لیکن ہم روک نہیں سکتے تھے،کیونکہ وہ کبھی نہ

رکتیں،دن میں علی کے ڈاکومنٹس میںنے مون کو sendکر دئیے تھے،امی لوگ عشاءکے وقت نکلے ،اور تو سب ٹھیک تھا بس امی

کی صحت بارے میں پریشان تھی ،ساری رات بار بارفون کروں میں، 2,3بجے پہنچے،رستے میں کوئی مسئلہ ہو گےا تھا،تب جا کے سکون

آیا صبح میں نے چھ بجے ہی فون کر دیا علی کے نمبر پہ،خلافِ توقع وہ لوگ جاگ رہے تھے،میںنے بھی جلدی کرنے کا کہا اور فون بند

کر دیا،گھر کی روٹین چل رہی تھی لیکن مجھے امی لوگوں کا انتظار تھا،علی کی پریشانی تھی،ناشتے کے بعد پھر فون کیا،وہ لوگ ناشتے کے بعد

فری تھے اور منتظر تھے کہ کب وہ لڑکا گھر سے نکلے گا اور یہ بھی ادھر سے نکلیں گے،میں نے مون سے رابطہ کیا اور اسے ساری بات

بتائی،مون نے اس لڑکے سے رابطہ کیا،اور مجھے تسلی دی کہ اس نے ذرا دور سے آنا ہے کچھ دیرمیں پہنچ جائے گا،میں نے علی کو بتاےا کہ

اب پریشانی وغیرہ آئے تو گھبرانا نہیں اسکو قابو کرنا سیکھو،کافی دیر تسلی دیتی رہی،پھر کال ڈراپ کر دی،اور دعائیں مانگنے لگی،ابو چلے

گئے بہنیں بھی کالجز وغیرہ میں چلی گئیں،نو بجے کے قریب رابطہ کیا تووہ فیض آباد اڈے پہ پہنچ رہے تھے،عثمان نے علی کوسارے

ضروری نمبرز لکھ دیئے تھے،اور وقت سے بہت پہلے ہی اڈے پہ چھوڑ گےا،شائد اسے کہیں جانا تھا،امی بھی ہمراہ تھیں وہ بھلوال سے

علی کو اکیلے نہیں آنے دے رہی تھیںتو اب کےسے اسے انجان جگہ پہ اکیلے چھوڑ جاتیں۔بہت کٹھن لمحات گزر رہے تھے آخیر

ایک اجنبی نمبر سے علی کو 11,12بجے کال آئی،اس نے رسیو کی تو ادھر سے بولنے والے کا نام نادر تھا،تعارف کے بعد لوکیشن پوچھی

اور وہ علی کے پاس پہنچ گےا،امی جان نے اس لڑکے کو بھی یہ ہی کہا کہ علی چھوٹا ہے اور انجان بھی ،اسکا خیال رکھنا،پھر وہ لوگ امی جان

کی دعاﺅں کے سائے میں رخصت ہوئے،علی کو میں نے یہ ہی نصیحت کی تھی کہ کسی بھی صورت میں تمھارا نمبر آف نہیں ہونا

چاہئے،کچھ یہ بھی فکر کہ مردان اتنی دور اور ملکی حالات بھی ناساز،بہرحال امی جان گھر آ گئیں اور ہم سب علی کے لئے دعاگو،مون بھی

رابطے میں تھا ادھر پہنچ کے علی کافی مشکل محسوس کرے کیونکہ اس نے کبھی زندگی کا ©؛یہ روپ؛نہیں دیکھا تھا،گھاس پہ سونا،کھانے

پینے میں مشکل،رات ےا تہجد وقت اٹھا دیا جانا،اور فزیکل پریکٹس وغیرہ،جب لڑکوں کے باقاعدہ ٹیسٹ شروع ہوئے تو علی سے

انھوں نے لَیٹر مانگا،جو اپلائی کرنے کے لئے تھا،لیکن وہ لیٹر اسکے پاس نہیں تھا،اس نے مون کی بجائے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپی

جان وہ لیٹر نہ ہوا تو مجھے ایڈمٹ نہیں سمجھا جائے گا اور میں بغیر انٹرویو کے بغیر واپس آ جاﺅں گا(میرا بہت لاڈلا بھائی ہے اور اسکی

خواہشیں پوری کرنا مجھے اچھا لگتا ہے)میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ابھی مون سے بات کرتی ہوں تم پریشان نہ ہو بلکہ انجوائے کرو

جاب ہو گئی تو ٹھیک ورنہ پریشانی کس بات کی؟یہ ایک تجربہ ہے زندگی کا ،لیٹر آ جائے گا تب جی جان لگا کے محنت کرنا،ابھی دباﺅ میں

آنے کی ضرورت نہیں،وہ کافی فریش ہو گےا میری بات سے،سوچنے لگی کہ آخرکیا بات ہے، میں خود پریشان سی ہو گئی کہ باقی لڑکوں

کے پاس لیٹر ہے تو علی کے پاس کیوں نہیں،بہاولپور سے لیٹر آنا تھا اور مون کے اوپر مجھے پورا بھروسہ تھا وہ بات پہ کھڑا اترنے والا

لڑکا تھا لاپرواہی؟نہیں۔میں نے خود ہی اپنی سوچ جھٹک دی،اور مون کو میسج کیا،اورلیٹر کا پوچھا،اسکا جواب سُن کر میں

مزید پریشان ہو گئی،لیٹر تو اس نے پوسٹ کر دیا تھا،اور مون نے کہا کہ کم از کم آج سپانسر لیٹر ضرور مل جانا چاہئے،میں نے علی کو کال

 لگائی اور پوچھا علی لیٹر ملا؟وہ پریشان تھا اور کہتا نہیں ملا،انھوں نے اندراج کرنا ہے لڑکوں کا،اور جن کے پاس لیٹر ہیں انکا ہو رہا

ہے،میرے پاس سپانسر لیٹر نہیں ہے اسلئے انھوں نے علیحدہ نکال کے بٹھا دیا ہے،آپی جان اب کیا ہو گا آپ مون بھائی سے کہو ناں

جلدی لیٹر بھیجیں،میںنے علی کو کہا کہ لیٹر توبہاولپور سے نکل چکا ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ آج ہر صورت میں تمھارے تک پہنچ جائے

گا،مایوس ہونے لگا تو میں نے کہا مون کیا کر سکتا ہے اتنی دور سے،مردان ہیڈ کوارٹر میں تو رابطہ کر سکتا ہے لیکن لیٹر تو رستے میں کہیں

ہے،وہ کیسے پتہ چلے گا ؟علی سے بات کرتے کرتے میں خود کلامی سی کرنے لگی،کیونکہ میں گہری سوچ میں تھی،اور اچانک ہی میں

نے علی کو کہا ایک منٹ فون بند کر میں بعد میں بات کرتی ہوں،کہتا کیا ہوا؟

 میں نے کہا تیرے لیٹر کو سرچ کرنے کا ایک آئیڈیا ذہن میں آیا ہے،دعا کر میں کا مےاب ہو جاﺅں،ساتھ ہی میں نے فون بند کر کے

اپنی دوست افسانہ کو کال کی، عابدہ نے بتایاکہ جب نوال پیدا ہوئی میں آپریشن روم میں تھی،نرس نے مبارک دی اور باہر کھڑے

پاپا کو بتایاکہ آپکی بیٹی کے ہاں بیٹی نے جنم لیا ہے۔مبارک ہو،پاپا کسی سے فون پہ بات کر کے ہٹے ہی تھے کہ نرس کو کہتے سٹاف پلیز

ذرا ٹی وی تو لگا دو،وہ حیرت سے دیکھنے لگی اور ٹی وی آن کر دیا،روم میں آکر کہتی کہ یہ آپکے پاپا ہیں؟میں نے کہا جی میرے پاپا ہیں،

حیرت ہے انکو آپکی بیٹی کی خوشی نہیں ہوئی،میں نے بتایا تو یہ بار بار ٹی وی آن کرنے کا کہتے رہے،ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی کہ پاپا

اندر آئے اور فُل دروازہ کھول کر مجھے سامنے چلتا ہوا ٹی وی دکھانے لگے،سکرین پہ مون کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا،میں بے اختیار

خوش ہو اٹھی،آہا آج تو مون کی پاسنگ آﺅٹ ہے،پھر پاپا نے سسٹر کو مخاطب کیا بیٹا مجھے اپنی بیٹی کے گھر رحمت کی بہت خوشی ہے،اللہ

اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے،لیکن آج میرے بیٹے کا تربیتی کورس مکمل ہوا ہے جو سکرین پہ آیا ہے وہ ہی میرا بیٹا ہے۔یہ سن کر نرس

بھی بہت خوش ہوئی اور دعائیں دینے لگی۔

نوال سے پہلے بھی عابدہکا ایک بیٹا ہوا تھا وہ کچھ دن زندہ رہا تھا اسکی طبیعت خراب ہی رہتی تھی،ایک دن بچے کی طبیعت زیادہ خراب

تھی، عابدہ لوگ گاﺅں آئے ہوئے تھے،آنٹی ،عثمان اور بھائی شفقت(عابدہ کا شوہر)بچے کو ہسپتال لے کے گئے ہوئے تھے، عابدہ

کی کنڈیشن ٹھیک نہیںتھی،مون اور وہ گھر ہی تھے،عجیب سوگوار سا ماحول تھا۔ایک دم عابدہ کی ریڑھ کی ہڈی میں ٹیس سی اٹھی،بہت

عجیب سی حالت تھی،اس کے من میں نہ جانے کیا بات آئی کہ مون کو کہتی جلدی جلدی صفائی کر لیتے ہیں پتہ نہیں کیسی خیر خبر

آئے،مون نے یہ سن کر عابدہ کے سر پہ پیار کیا کوئی بات نہیں باجی ،سب ٹھیک ہو جائے گا پریشان نا ہوں آپ،مگر عابدہ کو اسکی طفل تسلیاں مطمئن نہ کر سکیں،اچانک اسکے پیٹ میں کچھ عجیب سا ہواجیسے spinnerچل رہا ہو،کچن میں کھانا بنانے آئی تو ادھ موئی سی

ہو کے کرسی پہ ڈھے سی گئی،درد کی شدید لہر اٹھی اور پیٹ سے ہوتی ہوئی رانوں میں چلی گئی،تکلیف کے عجیب دوراہے پہ کھڑی تھی

وہ،آنسو بہنے لگے لیکن درد کم ہونے میں نہیں آرہا تھا،اس نے تڑپ کے اپنے ہاتھ گھٹنوں پہ رکھ لیے،کیونکہ درد چلتا ہوا گھٹنوں میں

آگیا تھا،وہ ضبط کی آخری حدوں پر تھی،اچانک دل بجھ گیا ماتھے پہ پسینہ نمودار ہوا اور بے جان ہو گئی گھٹنوں میں درد پھنس گیا تھا،بہت بری حالت تھی کوئی پل تھا کہ اسکا دھیان اپنے بیٹے باذل کی طرف چلا گیا،یہ خیال آتے ہی اسکی کیفیت جنونی سی ہو

گئی۔درد کے باو جود کچن سے باہر بھاگی،کمرے میں آکر مون کو کہنے لگی،مجھے لگتا ہے اچھی خبر نہیں آئے گی،میرا دل بیٹھا جا رہا ہے

وہ ابھی تک آے کیوں نہیں،تم فون کیوں نہیں کرتے،بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے عابدہ نان سٹاپ بولے جا رہی تھی،مون پریشان سا اسکا منہ

دیکھ رہا تھا،اس دوران عابدہ کے گھٹنوں سے نکل کر درد پنڈلیوں اور ٹخنوں میں پہنچ گیا اسے درد چلتا ہوا باقاعدہ محسوس ہو رہا تھا،اتنے

میں داخلی دروازہ کھلااور بھائی شفقت نے بچہ بازوﺅں پہ اٹھاےا ہوا تھا،ساتھ عثمان ،آنٹی رضیہ اور گاﺅں کے دو تین لوگ داخل

ہوئے،عابدہ منٹ کے ہزارویں حصے میں بھاگ کے شفقت کے پاس آئی اور بچے کو اپنے بازوﺅں میں لینا چاہا،جب وہ بھاگی تو

حیرت انگیز طور پر اسکی ٹانگوں میںسے درد غائب ہو چکا تھا،شفقت میرا باذل دے دو، ٹھیک ہو گیا ہے ناں؟میں کب سے بے چین

ہو رہی تھی تم جانتے ہو ناں ہمارے بیٹے کے لئے میں کتنی بے چین تھی،بھائی شفقت نے اسے ساتھ لپٹا لیا،عثمان بھی عابدہ کو لپٹ

گےاباجی باذل چلا گیا،عابدہ نے اسکی بات سنی تو شفقت کا بازو جھٹک کر باذل کی طرف آئی اور اسکے منہ سے کپڑا ہٹا دیا،ماں نے

بیٹی کو ساتھ لپٹا لیا ،میری جان !تیرا باذل اب اس دنیا میں نہیں رہا،ساتھ ہی بھائیوں نے عابدہ کو پکڑا اور اندر لے گئے۔

 آج نوال کے دو برس بعد اللہ نے عابدہ کو پھر سے بیٹا دیا تھا،سب بہت خوش تھے،بچہ بہت خوبصورت تھا نام حسنین رکھا گیا،اچھا

خاصا صحت مند تھا عابدہ ابھی ہسپتال میں تھی جاب بھی چل رہی تھی لیکن اس نے ڈلیوری کے لئے چھٹی لے رکھی تھی،اس دن موسم

خوشگوار تھا،عابدہ کو اس دن شفقت بھائی ہسپتال کے دالان میں لے آئے کہ ذرا کھلی فضا میں گھوم لے،حسنین کے پاس عثمان

تھا،باہر آکر عابدہ کو اچھا لگ رہا تھا وہ سنگی بینچ پہ بیٹھی لوگوں کو دیکھ رہی تھی،جن میں مریض بھی تھے اور مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے

ان کے گھر والے بھی تھے،آسمان گاڑھا لاجوردی دِکھ رہا تھا،سرکاری سڑکوں کے کناروں پر لگے ہوئے سَرو کے لمبے درختوں پر

 چڑیاں پُھدکتی پھر رہی تھیں اچانک عابدہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں لہر اٹھتی محسوس ہو ئی،اس لہر نے اسکی جان نکال لی،ایسے لگ رہا تھا

کہ کوئی چھُریوں سے اسکی ریڑھ کی ہڈی میں کَٹ لگا رہا ہے،پھر اچانک اس نے پےٹ پکڑ لیا،،او میرے خدا!مجھے یہ کیا ہو گیا

ہے،ایسا تو پہلے بھی ہوا تھا،وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک بھائی شفقت کی نظر اس پہ پڑی،وہ اس کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھ کے

پریشان ہو گئے،وہ اس کی طرف بڑھے ہی تھے،کہ عابدہ نے کہا آپ اندر جاﺅ پتہ کر کے آﺅ سب ٹھیک ہے نا،عابی اندر سب ٹھیک

ہے ابھی تو ہم باہر آئے ہیں،تم ٹھیک نہیں لگ رہی اس طرح کرو۔۔۔۔شفقت میں کہہ رہی ہوں اندر جاﺅ،عابدہ نے دھاڑ کر کہا

،اتنے میں درد کولھوں سے نکل کر رانوں میں پھیل گیا،وہ زرد چہرے اور حیرت انگیز نظروں سے اپنی کانپتی ٹانگوں کو دیکھ رہی

تھی۔۔۔نہیں جو میں سوچ رہی ہوں وہ نہیں ہونا چاہیے،وہ بڑبڑا رہی تھی،شفقت نے اس کے سر پہ تھپکی دی تو وہ پھر بولی شفقت

پلیز آپ اندر جاﺅ ناں،دیکھو،ایک بار جا کے پھر آ جانا میں کچھ نہیں کہوں گی،وہ مِنت کر رہی تھی ،تھوڑی دیر بعد گھٹنوں اور پھر پنڈلیوں

سے درد سرائیت کرتا گیا اور ساتھ ساتھ اس کا دل بھی تیز دھڑکنے لگا، ابھی دونوں میں بحث جاری تھی کہ اسے عثمان کا چہرہ نظر آیا وہ

پریشان سا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا،شفقت،شفقت ذرا عثمان کو بلانا،شفقت عثمان کی طرف بڑھا،اتنے میں عثمان نے بھی ان دونوں

کودیکھ لیا،عابدہ کو لگا جیسے درد ابھی ابھی ٹخنوں سے نکل گیا ہے،لیکن ٹانگیں بری طرح بے جان تھیں،اس سے رہا نہ گیا اور خود بھی چلتی

 ہوئی اس کی طرف بڑھنے لگی،عثمان عجیب سی نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا،کیا ہوا عثمان؟بولتے کیوں نہیں،مجھے کوئی بُری خبر نہ

سنانا،کہتے کہتے عابدہ کا گلا رندھ گیا،اور عثمان نے لپک کر اسے گلے لگا لیا،وہ بِلک رہی تھی عثمان وہ نہیں رہا ناں؟وہ چلا گیا ہے

ناں؟شائد وہ بے ےقینی کی کیفیت میںجھوٹے یقین کو شامل کر رہی تھی،کہ شائد عثمان اس کی بات کو جھٹلا دے،باجی وہ چلا گیا ہے ہم

پھر برباد ہو گئے،عثمان نے کہا اور عابدہ کی دھاڑ نکل گئی۔۔۔۔،وہی وقت پھر دوہرایا گیا وہی لوگ وہی موت،وہی منظر،اور یہ سب

پھر بکھر گئے۔اسکی ممتا کو دو بار تازیانہ لگ چکا تھا،وہ مجروح سی روح کے ساتھ جینے لگی،مون کو خبر نہیں تھی،وہ تو عید پہ بھی گھر نہ آ سکتا

تھا،تو اب کیسے آتا،لیکن وہ عابدہ کا باذل ضرور تھا،جب بھی آتا اسے بیٹوں کی طرح ملتا،کبھی سر گود میں رکھ لیتا کبھی بھائی بن

جاتا۔سارے رشتے اس سے تھے۔

    میرے خاندان میں بیٹیوں سے محبت مثالی ہے،بڑی ہو ےا چھوٹی،بیٹی لاڈلی ہوتی ہے،جسکی ایک مثال میں خود

ہوں،ابا کی آنکھوں کا تارا بنی رہتی ہوں،میری شادی کے بعد ابا کی محبت میں اضافہ ہی ہوا ہے،وہ بہت جلد مجھ سے اداس ہو جاتے

ہیں ،جبکہ مائیں ذرا strict ہوتی ہیں،کیونکہ وہ درسگاہ ہوتی ہیں ۔بلکل اسی طرح عابدہ کا حساب تھا،وہ میری طرح پہلوٹھی کی

ہے لیکن لاڈلی بھی وہ ہی ہے ویسے بھی وہ اکلوتی ہے۔۔۔اسکی جاب بھلوال میں تھی۔وہ سرکاری سکول میں ٹیچر تھی لیکن ایک اور جگہ

اس نے اپلائی کیا ہوا تھا،آج اسکا انٹرویو تھا،اس کے بعد اسے واہ کینٹ جانا تھا،پاپا اسے لینے آئے ہوئے تھے،فجر کی انتہائی صبح

کیپٹن (مون )کی اسے کال آئی،باجی کدھر ہو؟میں بھلوال ہوں تم سناﺅ کدھر ہو؟میں بہاولپور ہوں آج میری یونٹ ضربِ عضب

کے لئے moveکر رہی ہے اس نے بتایا اور حال احوال پوچھ کر فون بند کر دیا،عابدہ نے نماز پڑھی اور سکول کی تےاری کی،ادھر

سے آ کر واہ جانے کی تےاری کرنے لگی،پاپا اور نوال بھی ریڈی تھے،یہ لوگ سکائی ویز کی گاڑی پہ بیٹھے اور موٹر وے پہ آ گئے،ایک

مصروف دن گزارنے کے بعد دماغ ذرا فری ہوا تو سوچا فون دیکھ لوں آن کیا تو ےاد آےا آج مون نے موو کرنا تھا،اسکو میسج کیا،وہ بھی

آن لائن تھا۔اکثر سب سے پہلے میسج ہوتا،کدھر ہو؟اسکا replyآیا میں موٹروے پہ ہوں،مجھے تب ےاد آیا کہ آج تو مون کی ےونٹ

نے موو کرنا تھا،میں نے پاپا کوبتاےا،ساتھ ہی میسج ٹائپ کرنے لگی،کیا،موٹروے پہ؟کہاں؟سالٹ رینج پر،جواب آیا تو میں بہت

خوش ہوئی،پاپا کو بتاےا کہ مون موٹروے پہ ہے،اس سے مِلیں؟پاپا کہتے نہیں نہیں،ادھر کیسے ملنا ہے،رہنے دو،اللہ خیر سے

پہنچائے،جب گھر آئے گا تب مل لیں گے۔میں نے جھنجھلا کر پاپا کو دیکھا،میسج کیا ہم بھی موٹروے پہ ہیں،اس نے حیرت سے

پوچھا،باجی تم موٹروے پہ کیا کر رہی ہو؟میں نے طنز کیا،اے سی ٹائم چلانا شروع کر دیاہے،صحیح بتاﺅ،اسکا جواب آیا تو میں نے

لکھا،انٹرویو دیا ہے،کچھ دن فری تھی تو امی کے پاس ملنے جا رہی ہوں،پاپا لینے آئے ہیں،اسکی کال آ گئی ایک تو تم اور تمہارے

انٹرویوز،عثمان بھی یہ ہی کرتا رہتا ہے،ےار کبھی میرے لیول پہ بھی پہنچو نا،ساتھ ہی اس کی ہنسی کی آواز میرے کانوں میںپڑی،میں

نے بُرا نہیں منایا،کیونکہ میں اس سے ملنے کا کہنے والی تھی،ورنہ اس نے منع کر دینا تھا،مون میرے ویر۔۔۔۔۔اتنے میں بہت سی

فوجی گاڑیاں ہماری گاڑی کے پاس سے گزریں ،میں نے بتاےا کہ ہم بھی سالٹ رینج کے ایریے میں ہیں،مجھے بڑی حسرت ہے نا کہ

میں اپنے ویر کووردی میں دیکھوں، تو تم مجھے ملو ناں،میں نے ڈرتے ڈرتے کہا تو کہتا باجی کیا بچوں والی بات کرتی ہو،تمہاری گاڑی

نہ جانے کہاں ہے ،رہنے دو جب گھر آﺅں گا تو مل لینا،نہیں مُونے مجھے ملو ،مجھے نہیں پتہ،میں ضد کرنے لگی پاپا مجھے اشارے سے منع

کریں لیکن میںکب منع ہونے والی تھی،میں بحث بھی کر رہی تھی اور کھڑکی سے باہر بھی جھانک رہی تھی،وہ منع کر رہا تھا،فوجی گاڑیاں

گزریں تو میں حسرت سے دیکھوں کہ میرا بھائی بھی نظر آئے،میں نے پوچھا کہ تم صرف اتنا بتا دو کہ کیسی گاڑی میں ہو؟اس نے کہا

کہ گولڈن اور گرین کلر کی ڈبل ڈیکرہے، ایک گاڑی پاس سے گزری تو میں نے کہا اس طرح کی ایک گاڑی پاس سے گزر تو رہی

ہے،پیچھے بہت سے آرمی کے جوان ہیں،اور اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ ایک گھنے بالوں والا شائد کوئی افسر بیٹھا ہے،میں نے

ساری نشانیاں بتائیں تو مون کا بھر پور قہقہہ بلند ہوا وہ کتنی دیرہنستا رہا،میں زچ ہو گئی مون میں کچھ غلط کہہ گئی ہوں؟وہ بمشکل اپنی ہنسی

روک کے کہنے لگا پاگل لڑکی!سارے فوجیوں کو دیکھا،گاڑی بھی دیکھی اور جو آفیسر بیٹھا ہوا ہے اسے نہیں پہچانا؟ساتھ ہی پھر ہنسنے لگا

میں چیخی،مونے وہ آفیسر تم ہو؟؟؟اس خوشی سے میری ضد میں شدت آ گئی،مون اپنی گاڑی روک،میں نے ملنا ہے،مجھے نہیں

پتہ،پھر نیم دِلی سے رضا مند ہوا،اچھا ملتے ہیں لیکن کیسے؟میں نے اپنی گاڑی کی ساری نشانیاںبتائیںاور کہا کہ تم کَٹ مار کے

سامنے اپنی گاڑی کو سڑک کے درمیان آڑی کر کے کھڑی کرنا اور ہماری گاڑی رکے گی تو میں بھاگ کے تمھیںمل لوں گی،اچھا کچھ

منٹ انتظار کرو اور ہاں میرے پا س زیادہ وقت نہیں ہے،بس ملوں گا اور چلا جاﺅں گا،میں نے بولا ٹھیک ہے ٹھیک ہے،ساتھ ہی

جوش سے پاپا کو بتانے لگی،کہ تھوڑی دیر میں کیا ہونے والا ہے،پاپا سخت ناراض ،کہ یہ تم اچھا نہیں کر رہی،میں نے اگنور کرتے ہوئے

 کہا او میرے سادہ سے پاپا جان!کچھ نہیں ہوتا وہ کونسا ہمیں روز روز ملتا ہے،آج آپکی بات نہیں ماننی،پاپا بے بسی سے چپ کر کے

 بےٹھ گئے،اتنے میں بلکل میری خواہش کے عین مطابق چمکتی ہوئی ڈبل ڈیکر آرمڈ گاڑی نے ہمیں اوور ٹیک کر کے کچھ آگے جا کے

بریک لگائی اور سڑک کے درمیان گھوم کر آڑی کھڑی ہو گئی،فون آن تھا ،ٹھیک ہے نا؟آواز آئی اور پاپا جو میری کب سے مخالفت کر

رہے تھے سب سے پہلے اٹھے اور پھلانگتے ہوئے نیچے اتر گئے۔ڈرائیور سمیت سواریاں بھی پریشان ہو گئیںسر گوشیاں اونچی ہوئیں تو

آرمی والوں کو دیکھ کے سب کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے،میں نے یہ سب دیکھا اور اگنور کر کے تیزی سے نیچے اترنے لگی،نظریں

فوجی گاڑی پر تھیںپاپا انکی گاڑی میں گردن کافی آگے جھکا کر مون کو ڈھونڈ رہے تھے،اتنے میں وہ گاڑی کی ونڈو کھول کر تیزی سے

باہر نکلااور مجھے اشارے سے کہا اندر ہی رہو،لیکن میں نے تو اتنی ضد کی تھی میں کیسے رُکتی،نوال کو لے کے نیچے اتر آ ئی وہ پاپا کو ملا اور

تیزی سے میری طرف بڑھا،میں دیکھ کر دم بخود رہ گئی،میرے اللہ !میرا ویروردی میں اتنا خوبصورت لگتا ہے؟ میں نے نظروں ہی

نظروں داد دی اور نظر اتاری وہ چیتے کیطرح لمبے لمبے ڈگ بھرتا میری طرف بڑ ھا نوال بے اختےار توتلی زبان میں بولی،جنرل

شاب۔۔۔۔مون نے اسکی یہ بات سنی تو اسے اپنے لمبے اور مضبوط بازوﺅں میں اٹھا کر سینے سے لگا کربولا ،اوئے غور سے دیکھ

،میں جنرل شاب ہوں؟پھر اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگا ،چل ناں لاڈیاں کریں،پھر ایک دم نوال بولی،مون ماموں؟وہ

ہنس پڑا اور مجھے بھی ساتھ لگا کے سر پہ پیار کیا،مُونے یونیفارم میں تجھے دیکھنے کی بہت خواہش تھی،آج پوری ہو گئی ہے،سچ تجھ پہ وردی بہت سجتی ہے، اللہ پاک تیری عزت بنائے رکھے،میری بات کا جواب نہیں دیا اور حال احوال پوچھنے لگا،،پاپا کے ساتھ کچھ دیر

گفتگو کی پھر کچھ ےاد آیا تو میری طرف گھوما تجھے باجی کہا تھا ناں کہ اندر چلو،میں گاڑی کے اندر آ کر ملوں گا،میں نہیں چاہتا کہ آرمی

والوں کے سامنے اپنی فیملی سے ملوں،میں ایک ذمہ دار آفیسر ہوں،میں نے اگنور کرتے ہوئے کہا او ہو،چھوڑو ناں،ایسے مل کر کتنا

انجوائے کیا ہے،ساتھ ہی اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی اور کہتا کہ بس ،اب میں چلوں؟تمھاری خواہش تو پوری ہو گئی ناں،اب

مجھے نہ روکنا،اتنا ہی ٹائم تھا میرے پاس ،میں نے بے دلی سے کہا ٹھیک ہے جاﺅ،اور ہاں بہت شکریہ،میری بات ماننے کیا،ہنس پڑا

اور ساتھ ہی کہتا گھر آکر تجھے بتاﺅں گا،میں نے الوداعی پیار کیا اسے اور کہا اپنا بہت خیال رکھنا،پاپا اور نوال کو ملا اور اسی چیتے جیسی

تیزی سے چھلانگیں لگاتا چمکتی ڈبل ڈیکر کی فرنٹ سیٹ پہ جا بیٹھا تب میں نے غور کیا کہ غیر محسوس انداز میں سکیورٹی نے ہتھیاروں کا

رُخ ہماری جانب کر رکھا تھا،بعد میں پاپا نے بتاےا کہ جب وہ نیچے اتراتھا تو سیکیورٹی نے ہتھیار تانے تو مون نے اشارہ کیا تھا کہ نیچے

ہی رکھیں،لیکن پھر بھی انکا رُخ غیر محسوس انداز میں ہماری طرف ہی تھا،اب وہ اجنبی سا لگ رہا تھا،سپاٹ اور کسی بھی جذبے سے

عاری میں اور پاپا سکائی ویزمیں داخل ہوئے تو ڈرائیور اونچی آوز میں بڑبڑا رہا تھا،پاپا اور میں کوئی جواب دئے بغیر اپنی سیٹ پہ جا

بیٹھے،لوگوں سے رہا نہ گےا کسی نے پوچھا یہ فوجی کون تھا؟میں نے فخر سے اونچی آواز میں کہا یہ کیپٹن عمرفاروق ہے اور میرا بھائی

ہے،سب نے مون کی بہت تعریف کی،ایک اور آنٹی بولی بیٹا پانچ دس منٹ اور بھائی سے بات کر لیتی ڈرائیور کوبہت تکلیف ہو

رہی تھی،کوئی اور بولا اپنی دفعہ پانچ منٹ کا کہہ کر گھنٹہ گھنٹہ گاڑیاں کھڑی رکھتے ہیں،میں نے کہا اگر میں پردیسی بھائی کو ملی ہوںتو کسی

کو کیا مسئلہ ہے، ؟سب نے کہا تم نے ٹھیک کیا ہے بیٹا ،ڈرائیور بھی ٹھنڈا ہو گےا،اتنے میں مون کی گاڑی سیدھی ہو کرآگے بڑھنے لگی،

ہمارے ڈرائیور نے سپیڈ بڑھا ئی اور مون کے پاس سے گاڑی زن سے اُڑ کے آگے چلی گئی،میں کتنی دیر اسکی گاڑی کو او کر دیکھتی

 رہی۔بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوئی،پاپا میں سرشار سے گھر پہنچے اطلاع تو فون پہ پہلے ہی دے دی تھی پھر بھی گھر پہنچتے ہی میں

نے شور مچانا شروع کر دیا امی امی دیکھیں ہم مون سے مل کر آئے ہیں عثمان میں تم سے ذیادہ لکی ہوں،میں نے اپنے بھائی کو وردی

میں دیکھا ہے،میںنے اسے موٹروے پہ روکا تھا،پاپا بتائیں نا انکو،وہ ابھی پانی پی رہے تھے،اور میں شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہ

لوں،امی آپکو کیا بتاﺅں قسم سے اتناخوبصورت لگ رہا تھا،مجھے ڈر ہے کہ نظر ہی نہ لگ جائے اسے،جہاں mile stoneلگا ہے

ناں چکری 35کلو میٹر،ادھر ملے تھے ،اب جب بھی وہاں سے گزرا کروں گی مجھے مون کے ساتھ کی گئی ملاقات ےاد آئے گی اور فخر ہوا

کرے گا اور میں۔۔۔۔۔۔عثمان نے موبائل میری آنکھوں کے سامنے لہرایا،میں نے پوچھا کیا ہے؟مسکرا کر کہتا کچھ دیر میں واہ

کینٹ کے پاس سے گزرنے والا ہے اور ہم بھی ملنے والے ہیں ،میں نے حیران ہو کر پہلے امی کو پھر عثمان کو دیکھا،ہیں سچی؟امی آپ

بتائیں پورا،وہ بولنے لگیں تو عثمان کہتا مون نے کال کیا ہے،کہ کچھ ٹائم تک ادھر سے گزرے گا،صرف پانچ منٹ کا وقت ہوگا،امی کو

مجھ سے مِلوا دواپنی گاڑی تو ورکشاپ ہے اب اس کے دوست کی گاڑی ہائر کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں میں بہت خوش ہوئی مون

اچانک سے ہمیں خوشیاں دے رہا تھاعثمان گاڑی کا ارینج کرنے چلا گیا کیونکہ پتا نہیں ملاقات کس جگہ متوقع تھی دیر سویر ہو سکتی

تھی،امی بھی تےار ہونے لگیں عثمان اور عاصم بھی سٹاپ پہ تھے پاپا امی کو سٹاپ پہ ہی لے گئے کیونکہ مون نے کہاتھا کہ صرف پانچ

منٹ ہی ملیں گے جیسے ہی چھٹا منٹ لگے گا میں نکل جاﺅں گامیں اور نوال ٹی وی دیکھنے لگے کھانا امی نے بنا دیا تھا پاپا مسجد چلے گئے

میرا رابطہ مسلسل عثمان سے رہا مون بھی عثمان سے conectتھا،یہ لوگ کچھ دیر میں ملنے والے تھے میرا ایک ایک پل مشکل سے

گزر رہا تھا میں چاہتی تھی کہ وہ لوگ جلدی سے مون سے مل کے آئیں پھر ہم سب اکھٹے ہو کے اپنی اپنی باتیں شئیر کریں،مجھے

دونوں پارٹیاں اب میسج کا جواب نہیں دے رہی تھیں تھوڑی دیر تک پاپا بھی مسجد سے آگئے کھانے کا پوچھا تو منع کر دیا کہ وہ لوگ آ لیں

پھر مل کر کھائیں گے،ساتھ والے کوارٹر سے آنٹی آئی امی سے ملنے،میں نے ساری بات بتائی وہ بھی بہت خوش ہوئیں مون ویسے

بھی اپنے پراﺅں کا چہیتا تھا ،یہاں سب جاب کے سلسلے میں رہتے ہیں کوئی کہاں سے ہے کوئی کہاں سے،چونکہ واہ کینٹ ایک اسلحہ

ڈپو سینٹر ہے اسلئے یہاں فیکٹری کے ورکرز فیملی سمیت رہتے ہیں ،سو تعلیمی ادارے بھی اچھے سٹیبلش ہیں،انھی تعلیمی اداروں میں سے

ایک میں میرے پاپا کی جاب ہے اسلئے ہم بھی عرصہ دراز سے یہاں مقیم ہیں رشتہ دار،برادری بھی یہ ہی لوگ ہیں،جو کہ وقت کے

ساتھ ساتھ ثابت ہوتا گےا ۔۔۔۔میرے فون پہ میسج ٹون بجی تو میںخیالات کی دنیا سے باہر آ گئی،دیکھا تو عثمان کا میسج تھا،وہ لوگ

بئیریر پہ پہنچ چکے تھے اور تقریباً 5,7منٹ میں گھر پہنچنے والے تھے،میں نے جلدی سے کھانا ارینج کیاکیونکہ ٹائم کافی ہو چکا تھا اور

انھیں بھی بھوک لگ رہی ہو گی میرے اندازے کے مطابق وہ لوگ اسی وقت پرپہنچے میں توبے صبروں کی طرح سوال کروں امی

کےسے ملا وہ؟عثمان پہلے تم پہنچے کہ مون؟امی نے پانی پیا اور کہنے لگین عابدہ ہم یہاں سے نکلے تو میں نے عاصم سے کہا بیٹا گاڑی تیز

بھگاﺅ کہیں ہم لیٹ نا ہو جائیں وہ ہمارا اتنا ہی انتظار کرے گا جتنا اس نے کہہ دیا ہے اس کے بعد وہ نکل جائے گا،اللہ بھلاکرے اس

بچے کاگاڑی بہت تیز لے کر گےا تھا،عثمان کا رابطہ تھا مون سے،جب ہم ٹیکسلا کے نزدیک پہنچے تو مون کی گاڑی پورے طمطراق سے

 سڑک پہ پہلے سے موجود تھی۔ہماری گاڑی نزدیک پہنچی تو اس نے فون پہ عثمان سے کہا گاڑی ادھر ہی روک دو،اور امی کو باہر نہ

 نکلنے دینا میں خود آرہا ہوںملنے،میں نہیں چاہتا کہ میری ماں کے چہرے سے آرمی والے متعارف ہوںعثمان نیچے اترا اور مجھے بیٹھے

رہنے کا کہامیری نظریں مون کی گاڑی پہ تھیں،وہ چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور تیزی سے ہماری طرف آیا اپنے شیر کو دیکھ کر میں تو ہر

بات بھول گئی،نیچے آئی تو عثمان مجھے تنبیہی نظروں سے دیکھ رہا تھامیں نے کہا اسے کہہ دو کہ ماں اپنے کیپٹن بیٹے کا خود نیچے اتر کر

استقبال کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ اس عزت احترام کے لائق ہے اتنے میں مون ہمارے پاس آگےا،میں نے اسکا ماتھا چوما اور سینے

سے لگا لیا،اس نے جھک کر میرے پاﺅں چھوئے اور بولا امی آپ کیوں باہر آئی ہیں؟آپ میری ماں ہیں میں آپ کے باہر آنے کو

مناسب نہیں سمجھتا، میں نے کہا میرے بیٹے میں تمھارے لئے نہیں ایک آرمی آفیسر کے احترام کے لئے باہر آئی ہوں،تا کہ تجھے دادِ

شجاعت دے سکوںوہ حال احوال پوچھتا جاتا اور رسٹ واچ پہ نظر ڈالتاجاتا،میرا شیر وردی میں اتنا پیارا لگ رہا تھا،یہ چوڑے

شانے،ان پہ سجے ہوئے پھول،لمبا تڑنگا قد کاٹھ،بارعب چہرہ،میرا مون بائیس،تئیس برس کا نوجوان نہیں بلکہ اٹھائیس یا تیس

برس کا میچور آفیسر لگ رہا تھا جو عام حالات میں بھی یوں چوکنا تھا گویا دشمن پہ جھپٹنے کو تیار،میری کیپٹن عمر کے چہرے سے نظر ہی نہیں

ہٹتی تھی اور عابدہ جیسے تم نے بتاےا تھا کہ سیکیورٹی والے الرٹ کھڑے تھے،بلکل اب بھی ایسا ہی تھا،عثمان سے ،عاصم سے باتیں کرتا

رہا اور پھر جیسے ہی گھڑی میں چھٹا منٹ شروع ہوا مون نے کہا امی اب اجازت دیں،میرا دل تو بھر ہی نہیں رہا تھا،لیکن یہ بھی پتہ

تھا کہ وہ نہیں رکے گامیں نے بہت سا پیار اپنے بیٹے کو کیا،بہت سی دعائیں دیں اور وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا اپنی چمکتی ہوئی فوجی

گاڑی کی طرف لوٹ گےا،تھوڑی دیر بعد عاصم کا فون بجا،وہ پشتو میں بات کر رہا تھا،(پٹھان ہے)میں نے پوچھا بیٹا کس کا فون

تھا؟کہتا آنٹی مون کی کال ہے کہہ رہا ہے امی کو جلدی اندر بٹھاﺅ اور گاڑی زن سے لے کر نکل جاﺅ،ہم تمھارے بعد موو کریں

گے،اتنے میں،میں سیٹ پہ بیٹھ چکی تھی مون نے شائد اسلئے پشتو میں بات کی تھی کہ امی مائنڈ نہ کر جائیں لیکن میں نے کہا کہ بیٹا میں

ماں ہوں اور مون جتنا بھی بڑا افسر بن جائے وہ بیٹا تو میرا ہے،میں بطور ماں حکم دیتی ہوں کہ گاڑی آہستہ چلاﺅ،تا کہ میں اپنے مون

کو دیر تک دیکھ سکوں،عاصم نے بے بسی سے عثمان کی طرف دیکھا تو عثمان نے بھی یہ ہی کہا کہ یار ذرا آہستہ ہی رکھو ۔مون کی گاڑی

ابھی ادھر ہی کھڑی تھی عاصم نے گاڑی بڑھائی اور آہستہ آہستہ ہم مون کے بالکل پاس سے گزرے وہ فرنٹ پر بیٹھا بظاہر موبائل پہ

مصروف نظر آرہا تھا لیکن ہماری گاڑی اسکے پہلو سے گزری تو موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر ہاتھ ہلکا سا اٹھا کر الوداعی طور پر ہلا

دیا،اور پھر ہماری گاڑی اس سے آگے بڑھ گئی،جب ہم سڑک پر رواں ہوئے تو اسکی گاڑی بھی حرکت میں آگئی،اور پھر اسطرح وہ

وادی ¿ تِیرہ کا مسافر اپنی منزل کی گَردِ پا ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر12

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر12 ”یہ کیا ہوگیا—- ہم کیا جواب دیں گے ان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے