سر ورق / مکالمہ / اردو ادب کانواب! …محمد یاسین صدیق

اردو ادب کانواب! …محمد یاسین صدیق

(70 )کی دہائی سے 2016تک ۔ادب کے فلک پرچمکنے والا۔سورج۔بالاخرموت کے افق میں غروب ہوگیا۔زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے ۔محی الدین نواب ۔عہدِرواں کی ایک قدآور اور معتبر شخصیت۔جودیوتاجیسی لازوال تخلیق کے بعدامرہوگئے ۔ان کی ”دیوتا“دنیاکی طویل ترین کہانی۔جس نے مسلسل 33برس قارئین کواپنے سحرمیں جکڑے رکھا۔بلاشبہ وہ لاکھوں دلوں میں دھڑکن کامقام رکھتے تھے ۔دیوتاکے علاوہ ان کی ان گنت تخلیقات ناقابلِ فراموش ثابت ہوئیں۔آدھاچہرہ۔کچراگھر۔ایمان کاسفر۔مسیحا۔اجل نامہ ۔پتھر ۔مقدر۔اوراس جیسی ہزاروں تخلیقات ۔وہ ماہرِنباض ِدوراں تھے ۔معاشرے کے ہرپہلوپران کی گہری نظرتھی۔معراج رسول صاحب کی قیامت کی نظرنے اس ہیرے کودریافت کیا۔اورنواب صاحب نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سسپنس ڈائجسٹ کوچارچاندلگادئے ۔ان کے لکھنے کا ایک مخصوص انداز تھا ۔انہوں نے ٹیلی پیتھی کواس دورمیں متعارف کروایاجب کوئی اس سے متعلق جانتاتک نہیں تھا ۔فرہادعلی تیمورآج بھی قلب وذہن کے نہاں خانوں میںچاندکی طرح روشن ہے ۔اورپھردیوتاکے کرداروں کاجھرمٹ۔اس چاندکے اردگردٹمٹماتے ہوئے ستاروں کی طرح تھا۔ٹیلی پیتھی۔ یعنی دوسروں کے دماغ میں گھس کر ان کی سوچ پڑھ لینا۔انہیں اپناتابع کرلینا۔اس کے علاوہ نواب صاحب انسانی جذبات و احساسات سے آشنا ہیں۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو انتہائی مہارت ومشاقی سے بیان کیا ہے ۔راقم الحروف کی خوش قسمتی کہ ان کی زندگی کے آخری ایام میں ان سے فون پرمفصل گفتگواوران کی حالاتِ زندگی جاننے کاشرف حاصل ہوا۔برسوں سے یہ خواہش تھی کہ ان سے ملاقات ہو سکے ۔آخر ان سے میراغالباََ 26 نومبر 2015 کو صبح دس سے بارہ بجے کے درمیان موبائل فون پر طویل مکالمہ ہوا ۔جسے میں نے ریکارڈ کر لیا۔یہ کوئی باقاعدہ انٹریو نہیں تھا ۔بس کچھ ان کی کچھ میری دل کی باتیں تھیں ۔آج جب میں اسے کمپوز کر رہا ہوں تو اردو ادب کانواب اس دنیا میں نہیں رہا ۔بروزہفتہ، 6 فروری 2016کو86 برس کی عمر میں اردو ادب کادیوتااس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا ۔ یوں تو انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک کہانیاں لکھی ہیں ۔لیکن ان کی اصل پہچان دیوتا ہی ہے جوگئینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے ۔(اس بارے متضاد رائیں ہیں کچھ کہتے ہیں کہ یہودیوں اور امریکیوں کے خلاف مواد ہونے کی وجہ سے ریکارڈ بک میں شامل نہیں ہے )
دیوتا کا جادو تین نسلوں کے سر چڑھ کر بولتا رہا ۔میں انہیں اردو ادب کا نواب کہوں گا ۔اس لیے کہ یہ ان کی خواہش تھی ۔ان کی خواہش اس لیے تھی کہ ان کی والدہ محترمہ کی خواہش تھی ”میرے بیٹے کو نواب صاحب کہا جائے “اپنے اس واقع کو وہ اپنے ہر انٹریو میں دہراتے رہے وقت مقررپر میں ان کا نمبر ملایا ۔میرا دل بے ترتیب اندازمیں دھڑک رہاتھا ۔انہوں نے کال ریسیو کر لی ۔جس کے لیے میں نے برسوں دعائیں کیں تھیں وہ لمحہ آ چکا تھا ۔لیکن اب ہمت نہیں پڑ رہی تھی بات کروں تو کیسے کروں ۔اب تک میں نے کافی انٹر یو کیے تھے ۔بڑی شخصیات سے بھی بات کر چکا تھا ۔لیکن یہ تو محی الدین نواب تھے ۔سونیا اور فرہاد جیسے کردار تخلیق کرنے والے ۔مجھے سونیا کی ذہانت یاد آئی ۔اور ساتھ ہی یہ سوچ کہ اس کردار کو تخلیق کرنے والا کس قدر ذہین ہو گا ۔رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی ۔
اس دوران وہ اب تک دو بار ” اسلام علیکم “کہہ چکے تھے ۔میں نے اٹک اٹک کر ”و علیکم السلام “ کہا ۔میں خود محسوس کر رہا تھا کہ لفظ میری دسترس میں نہیں ہیں۔میں نے بدقتِ تمام کہا۔
”میں یاسین صدیق بات کر رہا ہوں“ ۔میری آواز کپکپا رہی تھی ۔
اپنے پسندیدہ ترین مصنف سے بات کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا تھا ۔جس نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر کیا تھا ۔جس سے میں بہت محبت کرتا تھا ۔ میں نے لرزیدہ لہجے میں کہا۔
”میں نے چند دن قبل آپ سے بات کی تھی آپ نے 26 تاریخ صبح دس بجے کا وقت دیا تھا ۔“اتنا کہہ کر میں خاموش ہو گیا ۔
”جی بولیں “ان کی آواز آ ئی۔میرے تو ہاتھ پاوں پھول گئے ۔بہت سے سوال ذہن میں تھے ۔لیکن زبان تک آنے کا یارا نہ تھا ۔اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو محی الدین نواب صاحب کال ہی ڈس کینکٹ کر دیں ۔وہ اتنے فری کہاں ہوتے ہوں گے کہ میرے بولنے کا انتظار کرتے رہیں ۔پھر شائد ان سے بات نہ ہو پائے ۔برسوں کا خواب اب پورا ہونے جا رہا ۔یہ کم ہمتی پچھتاوا نہ بن جائے ۔

OOO
میں نے عقیدت و محبت کے جذبات سے کپکپاتی ہوئی آواز میں پہلاسوال کیا۔
” ایک طرف آپ کی نصابی تعلیم صرف میٹرک ہے ۔دوسری طرف ہم دیوتا کو دیکھتے ہیں ۔جس میں آپ نے ایسی ایڈوانس سائنس ،سائنسی و نفسیاتی اصطلاحات ۔۔۔۔“
میں جو کہنا چاہتا تھا ۔جو پوچھنا چاہتا ۔وہ کہا نا گیا ۔آواز کہیں گلے کے اندر ہی پھنس کر رہ گی ۔
”آپ گھبرائیں نہیں کھل کر پوچھیں ۔“انہوں نے حوصلہ بڑھایا تو میں نے سوال مکمل کیا ۔
”اتنی تھوڑی تعلیم ہونے کے باوجود آپ نے اتنا علم حاصل کیا کہ پی ایچ ڈی کرنے والے آپ کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں “
سوال مکمل کرکے مجھے اطمینان ہوا ۔سوچ نگر کا شہزادہ یقیناًمیری حالت سے آگاہ ہو چکا تھا ۔تبھی تو انہوں نے کہا ۔
”میں آپ کا سوال سمجھ گیا ہوں ۔اس کا میں تفصیل سے جواب دیتا ہوں ۔پہلے اپنے بارے میں بتائیں ۔میرا انٹریو کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔“
یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ میرا ہی انٹریو کرنا شروع کر دیں گے ۔
”یہ تو صرف آپ سے بات کرنے کا ایک بہانہ ہے “میں نے عذرپیش کیا ۔”مجھے آپ سے محبت ہے ۔عقیدت ہے ۔میں جن سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں ان میں سے ایک آپ ہیں ۔میں آپ کی آواز سننا چاہتا تھا ۔برسوں اس بارے سوچاہے ۔“
میں نے بات مکمل کر کے ایک طویل سانس لی ۔ انہوں نے فوراں دوسرا سوال کر دیا۔
”اچھا میرے علاوہ آپ اورکس کس سے متاثر ہیں “؟
میں نے اپنی پوری زندگی پر نظر دوڑائی ۔بہت سے ایسے بلند پایہ ادیب تھے جن سے میں متاثر تھا ۔کسی سے کم کسی سے زیادہ لیکن سب سے زیادہ جن سے متاثر ہی نہیں مرعوب بھی تھا ۔میں نے ان کے نام لے دئیے ۔
”ایک جی خواجہ شمس الدین عظیمی ہیں ۔ دوسرے شکیل عادل زادہ ہیں ۔“
”میرے انٹریو کا کیا کریں گے آپ ؟کسی اخبار کو یا میگزین میں شائع کروائیں گے ؟“
”نہیں سر۔ میں ایک کالم لکھوں گا ۔یہ انٹریو کی طرح شائع نہیں ہو گا ۔ایک کالم ہو گا۔ جس میں میں اپنی محبت کا اظہار کروں گا ۔اصل میں ۔۔میں خود ۔۔اب کہانیاں لکھنا چاہتا ہوں۔“
میں ایک ثانیے کو رکا ۔اپنی آواز پر قابو پایا اور دل کی بات کہہ دی ۔
”میں ۔آپ سے بہت زیادہ متاثر ہوں ۔کلاس نہم سے میں نے دیوتا پڑھنا شروع کیا ۔اب جب خود کہانیاں لکھنے کا فیصلہ کیا ,تو سوچا آپ سے رہنمائی لے لوں ۔اس کے علاوہ ۔۔۔“
میں نے سوچا میں میں ہی بولتا جا رہا ہوں ۔یہ بے ادبی تو نہیں ہے ۔مجھے ان کی باتیں سننی چاہیے ۔میری خاموشی پر انہوں نے کہا
”بولیں ۔۔میں سن رہا ہوں “
میرا دل ڈوب رہا تھا ۔ میں نے سوچا۔لاکھوں لوگ انہیں چاہنے والے ہیں ۔وہ ہر کسی سے تو بات نہیں کر سکتے نا ۔ان کے انداز سے لگ رہا تھا جیسے ۔وہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔پہلے سمجھنا چاہتے ہیں کہ مجھ سے بات کرنی بھی چاہئے کہ نہیں ۔ایسا ہی ہے ۔اس لیے وہ بات کہہ دینی چاہیئے جو پھر نہیں کہی جا سکے گئی ۔میں نے کہا ۔
”میرا مقصد یہ بھی تھا کہ آپ کو بتا سکوں کہ مجھے آپ سے محبت ہے ۔عقیدت ہے ۔میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔مزید سیکھنا چاہتا ہوں ۔کہ میں کیسے ایک نامورلکھاری بن سکتا ہوں ۔اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہو گا ۔آپ کی رہنمائی چاہیے تاکہ کل میں اس پر فخر کر سکوں کہ ۔آپ نے میری رہنمائی کی تھی ۔مجھے آپ سے بات کرنے کا شرف حاصل ہے “
میں بولنے پر آیا تو بولتا چلا گیا ۔مجھے محسوس ہوا کہ ضرورت سے زیادہ بول گیا ہوں ۔ایک دم میں چپ ہوگیا-وہ مدبرانہ لہجے میں گویاہوئے –
”اچھا ۔۔میں سمجھ گیا آپ کیا چاہتے ہیں ۔آپ نے جو پوچھا ہے ۔میں نے اتنا علم کہاں سے یا کیسے حاصل کیا ہے ۔ کہ دیوتا جیسی
کہانی لکھی ۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ،آپ جب زندگی کے عملی میدان میں آتے ہیں تو ۔ہمارے ارد گرد واقعات جو ہو رہے ہوتے ہیں ۔جنہیں ہم پڑھتے ہیں ۔سنتے ہیں ۔یا دیکھتے ہیں ۔ان واقعات کو ہم کانوں سے سنتے ہیں ۔آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔دل سے محسوس کرتے ہیں ۔روح کی گہرائیوں سے اس پر غور و فکر کرتے ہیں ۔یہ دنیا کی یونیورسٹی ہے ۔جہاں ہم علم یا تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔۔۔اب دیکھیں اب آپ میرا انٹریو کر رہے ہیں ۔تو ایک مشاہدے سے گزر رہے ہیں ۔مطالعے سے گزر رہے ہیں ۔علم حاصل کر رہے ہیں ۔میں نے جتنا علم حاصل کیا ہے وہ سب اس دنیا کی یونیورسٹی سے حاصل کیا ہے “
”جی میں سمجھ گیا“
لمحاتی توقف کے بعدوہ دوبارہ بولے ۔”میٹرک کرنے کے بعد بھی میں نے علم کا حصول جاری رکھا ۔میرے اندر علم کو حاصل کرنے کی لگن تھی ۔ مجھے جو بھی ذرائع میسر آئے میں نے ان سے علم حاصل کیا ۔“
OOO
اب میرے اندر خود اعتمادی لوٹ آئی تھی ۔اور اس میں یقینانواب صاحب کا ہی ہاتھ تھا ۔میں نے پوچھا۔
”جس وقت آپ نے دیوتا میں ٹیلی پیتھی کا ذکر شروع کیا ۔ یعنی دیوتا لکھنی شروع کی ۔اس وقت اس علم کے بارے میں بہت کم لوگ آگاہ تھے ۔دیوتا کا پلاٹ ۔اس علم کے بارے میں نالج ۔پھر ایک صرف ٹیلی پیتھی ہی نہیں جادو،ہپناٹزم ،مارشل آرٹ ،دنیا کے بہت سے ممالک کی ثقافت ،رسم و رواج ۔جتنا آپ نے لکھا اتنا پڑھنا ایک فرد کے لیے مشکل ہے “
چند لمحوں بعد ان کی گمبھیرآواز سنائی دی ۔
”ٹیلی پیتھی پر انگریزی زبان میں تو بے شمار کتابیں شائع ہو چکی تھیں ۔میں نے اردو زبان میں بھی چند کتابوں کا مطالعہ کیا تھا ۔انہی کے مطالعہ سے فیض یاب ہوا ہوں ۔ان دنوں رئیس امروہوی صاحب مابعد الطبعیات اور ٹیلی پیتھی پر مضامین لکھ رہے تھے ۔میں نے اس موضوع کو پکڑلیا ۔اس کے علاوہ ہم لوگ راتوں رات کوئی غیر معمولی علم سیکھنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں ۔یہ خیال بھی تھا ۔میں کچھ خاص کرنا چاہتا تھا ۔اور اس بارے سوچتا رہتا تھا ۔سب سے بڑی وجہ یہ تھی“
”دیوتا پر اعتراض بھی ہوئے تھے بلکہ آپ کو اسلام آباد طلب بھی کیا گیا تھا؟“
”ہاں یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے ۔ دیوتا پر اعتراض تھا کہ ۔رائیٹر کفر بکے جا رہا ہے ۔دلوں کے حال تو صرف اللہ تعالی جانتا ہے ۔مجھے اسلام آباد بلایا گیا ۔میری بجائے معراج رسول صاحب گئے ۔انہوں نے مجھے کہا ۔آپ رہیں میں جاتا ہوں ۔وہ گئے اور اولیاءاللہ کی ۔اسلامی اسلاف کی مثالیں دے کر ان کو مطمئن کر آئے “
”کوئی ایسا فرد جس سے آپ ملے ہوں جس نے ٹیلی پیتھی سیکھی ہو ۔یا آپ نے خود اس علم کو حاصل کیا ہو“
انہوں نے جیسے میرا ذہن پڑھ لیا کہنے لگے ۔
”ایسا نہیں ہے ۔میں نے ایسا پڑھا ہے ۔تجربہ ہے ۔مشاہدہ ہے ۔اپنے بزرگان دین کے بارے میں ہم جانتے ہیں ۔اور یہ سچ ہے کہ ۔جب ہم آپ ان کے پاس اپنی کوئی پریشانی لے کر جاتے ہیں ۔تو وہ بنا پوچھے بتا دیتے ہیں ۔صرف ہماری صورت دیکھ کر کہ بچو۔۔تیرے ساتھ یہ پریشانی ہے ۔تیرے ساتھ یہ مصیبتیں ہیں ۔ایسے بے شمار واقعات ہیں “
وہ سانس لینے کو رکے تو میں نے کہا ۔
”جی بالکل ایسے بے شمار واقعات ہیں “
نواب صاحب نے اپنی بات جاری رکھی ۔
”یہ ۔یہ قدرتی دین ہے ۔خداداد صلاحیت ہے ۔اللہ اپنے نیک بندوں کو غیر معمولی صلاحیتیں دیتا ہے ۔ٹیلی پیتھی ،تنویمی عمل ،مسمریزم۔۔ہپناٹائز۔۔یہ سب غیرمعمولی علوم ہیں ۔اب اس پر یورپ میں باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں ۔بلکہ کئی ملکوں میں اس کی تعلیم دی جاتی ہے ۔“
”جی بالکل بلکہ پاکستان میں بھی سلسلہ عظیمہ میں جس کے سربراہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ہیں ۔اس ادارے میں باقاعدہ اس علم کی تعلیم دی جا رہی ہے ۔آپ ان کو جانتے ہوں گے “
”جی ۔جی ۔ بالکل ۔ان کا ادارہ میرے گھر کے قریب ہی ہے ۔میں جانتا ہوں “
”میں نے بابا جی (خواجہ شمس الدین عظیمی ) کی لکھی ہوئی کتاب ”ٹیلی پیتھی سیکھے “ کا مطالعہ کیا ہے ۔سر میں کیا بتاوں ۔اس دن سے جب سے آپ سے بات ہوئی ہوئی میں کتنا خوش تھا ۔اور آج کتنا کنفیوز تھا “
”کنفیوز کیوں “ان کے لہجے سے میں نے جانا کہ وہ جانتے ہیں میں کنفیوز کیوں ہوں ۔
”میرے لیے یہ معمولی بات نہیں کہ آپ کے ساتھ گفتگو کا شرف حاصل کر رہا ہوں ۔میری یہ خوش قسمتی ہے ۔کہ ایسا ہوا کہ میں نے فیصلہ کیا اب مجھے کہانیاں لکھنی ہیں ۔پہلے تو میں کالم نویسی کر رہا تھا ۔پھر مجھے امجد جاوید صاحب ،سید بدر سعید صاحب نے کہا کہ کہانیاں لکھو ۔میں نے سوچا ان رائیٹر پر ایک ایک کالم پہلے لکھنا چاہیے جن سے متاثر ہوں ۔میں آپ سے اتنا زیادہ متاثر ہوں کہ بات کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔“
صحافت میں آپ کیا کرتے ہیں ۔کیا کام کرتے ہیں ۔
ایک دو اخبارات کی نمائندگی ہے ۔فری لائنسر کالم لکھتا ہوں ۔بہت سے اخبارات کو ای میل کر دیتا ہوں ۔چند ایک میں شائع ہو جاتے ہیں ۔
ویسے آپ کی تعلیم کیا ہے ؟
نصابی تعلیم ۔۔آپ سے زیادہ ہے جی“ ۔میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔میری اس بات پر انہوں نے قہقہہ لگایا ۔کافی دیر تک ہنستے رہے ۔پھر پوچھا ”کتنی زیادہ ہے مجھ سے ؟“
”صرف چار کلاس “
”مزید تعلیم حاصل کیوں نہیں کی “
”حالات نے اجازت نہیں دی ۔۔۔ویسے ۔۔۔۔میں علم حاصل کر رہا ہوں “
”شاباش “ انہوں نے شفیق لہجے میں کہا۔
OOO

لمحاتی توقف کے بعدمیں نے اگلاسوال کیا۔
”سر ورزش تو آپ اب بھی کرتے ہوں گے ؟ ۔آج کل صحت کیسی ہے آپ کی ؟۔سنا ہے آپ نے یو گا میں مہارت حاصل کی ہے ۔؟“
وہ بدستورمتمحل لہجے میں بولے -”میں جوانی میں یوگا میں مہارت حاصل کر رہا تھا ۔اور کم از کم اڑھائی سے تین منٹ تک سانس روک لیتا تھا ۔اب میری عمر 85 سال سے زائد ہو چکی ہے ۔اب بڑھاپے اور بیماریوں نے مجھے کمزور کر دیا ہے ۔اس کے باوجود کئی بار ایسا ہوا کہ میری سانسیں رک گئیں ۔پھر واپس آ گئیں ۔اللہ کا کرم ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یوگا کی پریکٹس کی وجہ سے اب بھی اپنی صحت کو سنبھالے ہوئے ہوں ۔“
وہ ایک لمحے کو رکے پھر مجھے نصحیت کی ۔
”میرا مشورہ ہے آپ یوگا کی مشقیں پابندی سے کریں اس کے بہت فوائد ہیں“
”آپ کو پڑھ کر بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح میں نے بھی یوگا کی کتابیں خریدیں ۔کبھی کبھار مشق بھی کر لیتا ہوں ۔چالیس سکینڈ سے ایک منٹ تک سانس روک لیا کرتا ہوں ۔“
”میں نے سنا ہے آپ دمہ کے مریض ہیں ؟“
”دمہ کا مریض میں اپنی غلطی کی وجہ سے ہوں ۔شروع جوانی سے میں چین سموکر تھا ۔ایک کے بعد ایک سگریٹ سلگا لیتا تھا ۔جس کا نتیجہ آج مجھے بھگتنا پڑ رہا ہے ۔سگریٹ کے علاوہ میں نے کوئی نشہ نہیں کیا -بڑھاپا ویسے بھی بیماریوں کا گھر ہوتا ہے ۔اب مجھ میں اتنا اسٹیمنا نہیں رہا ۔آج کل ایک بیماری آتی ہے ۔وہ جاتی ہے تو دوسری چلی آتی ہے ۔بیماریوں کا سلسلہ ہے – اب میں زیادہ پڑھنے لکھنے کے قابل نہیں ہوں ۔بس مار وی لکھ رہا ہوں کسی نا کسی طرح۔“
”فرہاد علی تیمور کی موت کے ساتھ دیوتا کا اختتام ہو گیا ۔لیکن فرہاد علی تیمور کی دوسری ساری فیملی توزندہ تھی ۔سونیا ،پارس ،علی تیمور ،کبیریا،وغیرہ وغیرہ ۔سر ایک بات کہوں ۔“میں نے مودب لہجے میں کہا۔
”ہاں ہاں بولیں “انہوں نے نرم لہجے میں کہا۔
”آپ کو ماروی کی بجائے دیوتا کے دوسرے کرداروں پر لکھنا چاہئے تھا ۔اب بھی آپ ماروی کا اختتام کر کے ایسا کر سکتے ہیں ۔“
حسب سابقہ انہوں نے خندہ پیشانی سے سوال سنا اور جواب دیا ۔
”یہ صرف آپ ہی نہیں مجھ سے اور بہت سے بھی پھر ادارے (سسپنس) والے بھی کہہ رہے ہیں بلکہ ضد کر رہے ہیں۔ٹیلی پیتھی کا کوئی نیا سلسلہ شروع کروں۔ایک بار پھر چونکا دوں ۔میں اس پر سوچوں گا ,لیکن اب ایسامشکل لگتاہے ۔میری انگلیاں کپکپاتی ہیں ۔بہت مجبوری ہے ۔ خیردیکھتے ہیں ۔“
”سر سنا ہے آپ کہانی ریکارڈ کرواتے ہیں ۔ایسے ہی بس ریکارڈ کروا دیں۔“میں نے اصرارکیا۔
وہ بولے ۔”آپ کو کیا پتہ ۔اب جب میں ریکارڈنگ کرواتا ہوں ۔تو الفاظ سننے والوں کی سمجھ میں نہیں آتے ۔“
”اس وقت سر مجھے آپ کا ایک ایک لفظ سمجھ آ رہا ہے ۔ما شا اللہ آپ کی آواز سے لگتا ہی نہیں ہے کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں ۔“
”آپ سے تو میں ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہا ہوں ۔اس کا آپ کو علم نہیں ہے کہ ۔جب کہانی لکھتا ہوں تو کتنی تیز رفتاری سے لکھتا ہوں ۔یا ریکارڈ کرواتا ہوں ۔خیالات کی ایک روانی ہوتی ہے۔وہ جب تیز رفتاری سے بولتا ہوں تو الفاظ گڈ مڈ ہو جاتے ہیں ۔“
میں ان سے وہ سوال نہیں کرنا چاہتا تھا جن کے جواب پہلے سے مجھے معلوم تھے ۔ا س لیے میں نے اپنی طرف سے منفرد سوال کیا جو میرے لیے پچھتاوے کا سبب بھی بنا ۔میں نے پوچھا تھا ۔
”سر ماروی کا ہیرو مراد عرف فرہاد تو ما شا اللہ ہے ہی نمازی ۔فرہاد علی تیمور نے بھی آخری عمر میں جا کر نماز پڑھنی شروع کر دی تھی ۔اپنے بارے میں بتائیں کب سے پابندی سے نماز ادا کر رہے ہیں“
”سچ یہ ہے کہ میں پابندی سے نماز ادا نہیں کر پاتا ۔اس کی وجوہات ہیں ۔کئی سال سے بواسیر کا مریض ہوں ۔اس کے علاوہ ۔۔۔۔“
وہ خاموش ہو گئے ۔مجھے ندامت کااحساس ہوا۔شایدمجھے ایسا سوال کرنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ۔چند سکینڈ کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئے ۔تو میری جان میں جان آئی ۔
”میں قرآن پاک ،احادیث ﷺ کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں ۔میں نے اللہ کا شکر ہے کہ سمجھ کر قرآن پڑھا ہے ۔تفسیروترجمہ کے ساتھ۔اور اسے اپنی کہانیوں میں بیان بھی کرتا رہتا ہوں ۔“
میری نظروں کے سامنے بابا فرید واسطی کا ادارہ اور اس ادارے کے نگران گھوم گئے ۔
OOO
”آپ بالخصوص دیوتا اور اب ماروی میں بھی ۔اس سے قبل مسیحا میں بھی ۔ایک الگ ریاست ، ملک یا بستی ،بساتے رہے ہیں ۔ جو ناقابل تسخیر ہو ۔جہاں اسلامی قانون نافذ ہوں ۔انصاف فورا مہیا ہو۔عوام کے ایک ایک فرد کی تربیت ہو رہی ہو۔دیوتا میں تو کئی بار بستی بسائی بھی ایک بار وہ ٹارٹر غلبا ، شہزادی ثباتہ کا ملک کوہ قاف میں ۔اس کے بعد سونیا کی بستی وغیرہ ۔پھر بابا جی کا ادارہ ۔ایسا ملک یا ادارہ بنانے کا آپ خواب دیکھتے رہے ۔“
”ہاں ایسا ہی ہے ۔آپ کا تجزیہ درست ہے ۔آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے ۔اس کا مطلب ہے آپ نے مجھے غور سے پڑھا ہے ۔“
پھر وہ کھوئی کھوئی آواز میں بولے ۔
”قیام پاکستان کے وقت بہت دکھ بھرے حالات و واقعات دیکھنے میں آئے ۔جن کو بیان کرتے ہوئے ۔ان کا تذکرہ کرتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔سب سے بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ ۔اتنی قربانیاں دے کر جس ملک کو حاصل کیا وہ اس وقت کیا ہے ؟کہاں کھڑا ہے ؟کن نالائقوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے ۔ہمارے ملک کی بیٹی ناکردہ گناہوں کی وجہ سے امریکہ میں قید ہے ۔دوسری طرف ان کے ملک کا جاسوس یہاں قتل کرتا ہے ۔اسے رہا کر دیا جاتا ہے ۔کیا ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہم اپنی ماوں بیٹیوں کو ان کے حوالے کر دیں ۔ وہ ہمارے ملک میں آ کر قتل وغارت کرتے پھریں اورہم تماشا دیکھتے رہیں ۔“
یہ کہہ کر نواب صاحب نے اتنے جذباتی اور غصے کے انداز میں پاکستانی سیاست دانوں ۔راہنماوں اور خاص کر عوام کی شان میں وہ قصدہ پڑھا ۔جسے میں ملفوف الفاظ میں لکھوں تو بد دیانتی ہوگی ۔اس لیے میں اس کو حذف کر رہا ہوں ۔ویسے آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ہمارے جیسیے ”بے حس عوام “ کی وجہ سے ہمارے ملک میں ایسے رہنما حکومت کرتے ہیں جو اس ملک میں صرف حکومت کرنے آت ہیں ۔جن کا اس ملک میں نہ کاروبار ہے ۔نہ اولاد ہے ۔نہ مستقل رہائش ہے ۔ نواب صاحب تھوڑی دیر خاموش ہوئے ۔اور پھر کہنے لگے ۔
”میرا اور آپ کا فرض ہے کہ ہم اپنی قوم کی غیرت کو جگائیں ۔اپنی تحریروں کے ذریعے ۔ہماری غیرت اس وقت جاگے گی جب ہم اپنی تہذہب و تمدن کو ۔اپنے اخلاق کو ۔اپنے دینی معاملات کو سمجھیں گے ۔سب سے پہلے غیرت مند بنو ۔غیرت مند بننے کے لیے ضروری ہے ہمیں اپنی زبان سے محبت ہونی چاہئے ۔آپ کسی بھی ملک چلے جائیں وہ اپنے ملک میں آنے والوں کے ساتھ ہمیشہ اپنی زبان میں بولیں گے ۔“
جی ۔آپ بالکل درست بات کر رہے ہیں ۔چین، جاپان، فرانس۔امریکہ اس کی مثال ہیں ۔انہوں نے اپنی زبان میں دنیا بھر کا علم منتقل کیا ہے ۔
”آپ صحیح کہہ رہے ہیں ہمارے ہاں اس کا الٹ ہے عدالت سے لے کر سکول و گھر میڈیا تک ۔ہم بدیشی زبان بولتے ہیں ۔ان کا کلچر اپناتے ہیں ۔ہر معاملہ میں یہ ہی حال ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے ؟“
”جی یہ تو ہے “میں نے کہا اور پھر اپنی بات جاری رکھی ”سر ۔ایسا ہماری ذہنی غلامی کی وجہ سے اور احساس کمتری کی وجہ سے ہے ۔ہمارے ہاں کہا جارہا ہے کہ سائنس کی زبان انگلش ہے ۔اس لیے اس کا سیکھنا ضروری ہے ۔حالانکہ سائنس علم ہے ۔علم جاننے کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی بھی زبان میں ہو ۔کبھی یونانی زبان میں تھا ۔پھر عربی ،فارسی اور آجل کل انگلش کو سائنسی زبان کہا جاتا ہے ۔“
”دنیا کی تیسری بڑی زبان اردو ہے ؟“ان کے لہجہ سوالیہ تھا ۔میں نے جواب دیا
”نہیں جی ۔دنیا کی دوسری بڑی زبان اردو ہے ۔اگر اردو اور ہندی کو ایک ہی زبان سمجھا جائے تو ویسے ان کے رسم الخط میں فرق ہے “
یہ کہہ کر میں خاموش ہو گیا ۔تب ان کی جذبات سے مغلوب آوازابھری۔
”میں اکثر ایسا سوچتا رہتا ہوں ۔میری سب سے بڑی خواہش ہے یہ ۔ایسا کیا کروں کہ میری قوم کے لوگ بیدار ہو جائیں انہیں اپنی زبان سے ۔اپنی ثقافت سے ۔اپنے ملک سے پیار ہو جائے ۔کچھ ایسا لکھوں جس پر عمل کریں ۔ یاد رکھیں اگر ہم اپنی زبان بولیں گے ۔اپنا کلچر و ثقافت اور خاص کر دین اپنائیں گے تو ہمارا وقار بڑھے گا ۔“
OOO
”آپ نے کتنے ممالک کی سیاحت کی ؟۔ دنیا بھر کے بہت سے ممالک ، دنیا کی سیاست اور حالاتِ حاضرہ اور مختلف ممالک کی سیاست و معاشرت ، تہذیب و ثقافت کو آپ نے دیوتا میں بیان کیا ہے ۔دیوتا میں تو آپ سال بھی لکھتے رہے ہیں کہ فرہاد علی تیمور اس سال اس ملک میں گیا تھا مثلا لبنان ۔فلسطین ۔اور ایسے بہت سے ممالک کے بارے میں آپ نے لکھا“
میرے سوال پرانہوں نے دلچسپی ظاہرکی اوراپنے مخصوص لہجے میں بولے ۔
”آپ کویہ سن کر حیرانی ہو گی کہ میں صرف دوملکوں کو جانتا ہوں اب آپ تین کہہ سکتے ہیں ۔بھارت جہاں میں پیدا ہوا ۔بنگلہ دیش جہاں میں نے پرورش پائی ۔اور یہ پاکستان ۔ان کے علاوہ میں نے کوئی چوتھا ملک نہیں دیکھا ۔لیکن جو معلومات ان ممالک کی گلیوں کے بارے میں ۔ان کے ہوٹلوں کے بارے میں ۔۔۔“
”جی حیرت ہے ۔“میں نے قطع کلامی کی۔
”تو ان ممالک ,وہاں کی گلیوں ،ہوٹلز کے بارے میں،ان کا طرز معاشرت ۔وہاں کی زبان ۔رسم و رواج ۔اہم عمارات ۔کمال ہے سرکیسے لکھا“؟
”میں نے مطالعہ کیا ۔تصور میں دیکھا ۔میں نے ان سب کے بارے میں رئیل لکھا ۔میں نے بھر پور مطالعہ کیا ۔آپ لکھنا چاہتے ہیں اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک شخص کتنا ۔پڑھتا ہو گا ۔کتنا مطالعہ کرتا ہو گا ۔جو اتنی معلومات کا ذخیرہ جمع کیا ہے ۔پھر لکھتا ہے ۔اس سے ہی نام بنایا ہے ۔عزت شہرت حاصل کی ۔یہ جذبہ رکھیں گے ۔تو کامیابی ہوگی ۔“
میں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا ۔
”سر سب تو آپ نے لکھ دیا ۔کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ۔۔۔میں ایک لمحے کو رکا ۔چشم تصور سے نواب صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ۔انہوں نے کہا ۔
”ایسا نہیں ہے ۔“میں نے اپنی بات جاری رکھی ۔اب نیا رائیٹر کیا لکھے گا ۔میں نے بہت سے لکھاری پڑھے ہیں ۔اب بھی ان کو پڑھ رہا ہوں ۔وہ سب لکھا دہرا رہے ہیں ۔کچھ نیا تو چند ایک رائیٹر ہی لکھ رہے ہیں “
بعض رائیٹر تو ایک لڑائی کا پورا پورا سین وہی قلم بند کر دیتے ہیں اپنی کہانی میں جو آپ نے دیوتا میں لکھا ہے ۔رومانس ۔مناظر تک ۔ چھوٹے چھوٹے فقرات وغیرہ کا تو شمار نہیں ہے ۔جو چرا رہے ہیں ۔ایک کہانی بڑی پسند کی جارہی ہے آج کل وہ شکاری اور بازی گر ہوبہوکاپی ہے “
”کون سی کہانی؟ “
میں نے کہانی کا نام بتایا ۔تو وہ خاموش رہے ۔میں نے مزید کہا ۔اس کہانی میں کرداروں کے نام تک بدلنے کا تکلف نہیں کیا گیا ۔نئے ریڈر جنہوں نے پرانا ادب نہیں پڑھا ان کے لیے تو نئی ہے ہمارے جیسے ناسٹیلجیا کے ماروں کو وحشت ہوتی ہے ۔
نواب صاحب نے میری اس بات کا جواب دینے کی بجائے کہا ۔
”بحرحال میرا مشورہ ہے بلکہ نصحیت ہے مطالعہ کریں ۔علم حاصل کرنے کے لیے مطالعہ ۔خاص کر سفر ناموں کا مطالعہ کریں ۔ان سے بہت معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔پھر خود کو کسی ایک ادارے سے یا اخبار سے منسلک کریں ۔فری لائنسر نہ بنیں۔پھر پہچان بنے گی ۔“
انہوں نے بات بدلی تو میں نے بھی بدل دی اور سوال کیا ۔
”سر اپنی پہلی کہانی کے بارے میں بتائیں کب لکھی تھی؟ کہاں شائع ہوئی تھی؟ نام کیا تھا اس کا ؟اور معاوضہ کیا ملا تھا ؟“
”وہ 50 روپے اب تک میرے ذہن سے چپکے ہوئے ہیں ۔“وہ بولے ۔”یہ 1953 کی بات ہے ۔کراچی سے ایک رسالہ ماہنامہ رومان شائع ہوتا تھا ۔اس میں شائع ہوئی تھی ۔اس وقت اول انعام ملا تھا میری کہانی کو ۔“ان کے لہجے میں پہلی تحریرکے پہلے انعام کی خوشی محسوس ہورہی تھی ۔وہ کہہ رہے تھے ۔
”اس وقت کے حساب سے 50 روپے کی بہت اہمیت تھی ۔ چار آنے کا ایک کلوگرام گوشت آتا تھا ۔وہ بھی بکرے کا ۔اب حساب آپ خود کر لیں ۔
(میں نے دل ہی دل میں حساب کیا ایک روپے کا 4 کلو گوشت ۔50 روپے کا ۔200 کلو ۔آج کل بکرے کا گوشت 600 روپے کلوہے ۔یا حیرت ۔ اس وقت آج کے حساب سے ایک انعامی کہانی کے ایک لاکھ روپے ملے تھے )اس دوران نواب صاحب کہہ رہے تھے ۔
”اس سے میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی ۔وہ 50 روپے مجھے اڑا کر لاکھوں تک لے گئے ۔کہانی کا نام تھا ”ایک دیوار ۔ایک شگاف “ یہ کہانی اب میرے پاس موجود نہیں ہے ۔“
اپنے پچپن کے بارے میں بتائیں کچھ ۔کیسے گزرا کوئی ناقابل فراموش واقعہ ؟
میرے دادا مصور تھے اور والد ریلوے میں انٹیریئر ڈیکوریٹر ۔ وہ کمال کے فن کار تھے ۔ میں نے ان سے مصوری سیکھی ۔ ریل میں جب کسی راجا، مہاراجا، وائسرائے گورنر یا اور بڑی شخصیت وغیرہ نے سفر کرنا ہوتا تو انھیں مامور کر دیا جاتا۔
”بچپن میں شرارتی تو ہوں گے ؟“
”میں شرارتی ہرگز نہیں تھا بلکہ دوسرے بچوں کی شرارتوں کا نشانہ بنتا۔ وہ بڑا سنہرا دور تھا،نہ جانے کہاں جا چھپا؟ تب ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑی بڑی خوشیاں ڈھونڈتے تھے ۔
خاص واقعہ یہ ہے ۔اس واقعہ نے پوری زندگی میرا پیچھا کیا “میں ہم تن گوش ہو گیا ۔
”ایک بار میں شام کو گھر پہ تھا کہ میرے سنگی ساتھی مجھے کھیل کے لیے بلانے آئے ۔ انھوں نے آواز دی ”نواب!“ میری والدہ ناراض ہوئی، انھوں نے بچوں سے کہا کہ آپ اسے ” نواب صاحب“ کہہ کر کیوں نہیں پکارتے “
”ماں کا جذبہ دیکھیں ۔ان کی محبت دیکھیں ۔اس وقت میری عمر آٹھ نو سال تھی ۔یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی ۔میں نے ایسا کام کرنا ہے ۔کہ لوگ مجھے نواب صاحب کہیں۔کوئی اے نواب نہ کہے ۔ماں کی دعائیں تھیں بلکہ ہیں۔جو آج مجھے ایک زمانہ نواب صاحب کہہ کر پکارتا ہے ۔“
”یہ ماں کی دعا کے علاوہ آپ کی محنت کا بھی نتیجہ ہے ۔“
”بے شک محنت بھی میں نے کی ۔لیکن میری زندگی کی کامیابیوں میں ماں کاکرداربہت زیادہ ہے ۔“
میں دل ہی دل میں ماں کے عظیم رشتے کو سراہے بنا نہ رہ سکا ۔ 85 سال کی عمر میں نواب صاحب اپنی ماں کو یاد کر رہے تھے ۔
”والدہ کی وفات کب ہوئی “
”پاکستان بننے کے تین برس بعد ۔جب پاکستان بنا تو میں سولہ سترہ برس کا تھا ۔میں 6 ستمبر 1930 کو پیدا ہوا تھا “
”کچھ تعلیم کے بارے میں بتائیں کہاں حاصل کی ؟“
”میٹرک میں نے سید پور بنگال میں قائد اعظم سکول میں کیا تھا ۔ ۔ تب تقسیمِ ہند ہو گئی اور بنگال کا وہ حصہ جس میں ہم مقیم تھے ، بھارت کے حصے میں آیا۔ سو ہمیں وہاں سے بے سروسامانی کے عالم میں نکلنا پڑا۔ ہم آگ اور خون کے دریا میں تیر کر مشرقی پاکستان چلے گئے ۔“
”آپ تو فرار ہو کر پاکستان آئے تھے نا“
”بالکل میں سیدھے راستے سے پاکستان نہیں آیا بلکہ فرار ہو کر پاکستان آیا۔ میرے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکے تھے ۔“
”مشرقی پاکستان میں آپ کیاکرتے تھے ۔یعنی کام یا کوئی نوکری ملازمت وغیرہ؟“
”میں نے عملی زندگی کا آغاز مصوری سے کیا ۔فلموں کے پوسٹر اور بینرز بنایا کرتا تھا ۔میں وہاں لکھتا بھی رہا اور فلمی صنعت میں ملازم بھی رہا۔
میں نے وہاں دو فلمیں لکھی تھیں”جنم جنم کی پیاسی“ اور ”باون پتے “۔ بنگال میں حالات بگڑ رہے تھے -وہاں اردو جرم بن رہی تھی۔ میں نے آخر کار لاہور آنے کا فیصلہ کر لیا۔ “
”لاہور کب آئے تھے ؟“
”میں 1970 میں فلم سٹار دیبا کی مدد سے ہوائی جہاز میں ڈھاکے سے لاہور آ گیا تھا۔میں دیباخانم کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری دامے ، درمے قدمے ، سخنے بہت مدد کی۔“
”آپ لاہور میں کس جگہ رہے تھے ؟۔
”لاہور میں میں اچھرہ میں تھا ۔رحمان پورہ ۔وہاں میں پانچ برس رہا ۔“
”آپ نے دیبا خانم کے نام سے رومانی،اصلاحی ناول لکھے ۔اس زمانے میں رضیہ بٹ،ناز کفیل گیلانی،سلمہ کنول،حمیدہ جبیں کے ہوتے ہوئے الگ پہچان بنائی ۔“
” لاہور میں ،میں نے بڑا کڑا وقت گزارا۔ بڑے رسالے نئے ادیب کو کس طرح قبول کرتے ہیں، سب لوگ جانتے ہیں۔
تب میں نے ”دیبا خانم“ کے نام سے بہت سے ناول لکھے اور بہت مقبول ہوئے “
”سسپنس ،جاسوسی کی طرف کیسے آنا ہوا ؟“
”ان دنوں میں دیبا کے نام سے ہی لکھ رہا تھا ۔اور لاہور میں مقیم تھا ۔اپنے ایک دوست کبیرہ بیگ جاسوسی میں لکھا کرتے تھے کے کہنے پر ماہنامہ پاکیزہ میں ”پاکیزہ “نام کا ناول لکھا ۔دس یا بارہ اقساط ۔اس سے معراج رسول صاحب کو میری اہمیت کا اندازہ ہوا ۔وہ میرے پاس لاہور آئے ۔رہائش ،اوراچھے معاوضے کا معاہدہ ہوا ۔اس طرح میں اس ادارے میں آیا “
” آپ کس مصنف سے متاثر ہیں“؟ ۔
جب میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا ۔تو ان دنوں کرشن چندر سے متاثر تھا ۔ان سے طنزیہ طرز سیکھی۔سعادت حسن منٹو سے انسانی نفسیات ۔عصمت چغتائی ۔احمد ندیم قاسمی ایسے بہت سے رائیٹر ہیں۔کس کس کا نام لوں ۔جن کو پڑھ کر میں نے لکھنا سیکھا ۔یعنی وہ میرے روحانی استاد تھے ۔
اگاتھا کرسٹی ،ٹیگور، اقبال اور غالب ، عمر خیام، ایچ جی ویلز اور اوہنری۔ان ادبا نے مجھے متاثر کیا ۔بلکہ لکھنے کی طرف راغب کیا۔
”آپ نے فلموں کیلئے کہانیاں بھی لکھیں؟
”ہاں ۔جو ڈر وہ مر گیا ۔حسینوں کی بارات وغیرہ
میںنے کہا-”جو ڈر گیا وہ مر گیا ۔یہ فلم تو میں نے دیکھی ہوئی ہے ندیم اورنیلی مرکزی کردارہیں۔“
انہوں نے جواب دیا-”ہاں یہ اچھی فلم تھی ,لیکن فلمی دنیا مجھے اچھی نہیں لگی ۔اور مجھے تو یہ ٹی وی بھی اچھا نہیں لگتا ۔کہانی کا کیا سے کیا بنا دیتے ہیں ۔ایک دو ڈرامے میں نے ٹی وی کے لیے بھی لکھے ۔زیادہ میں نے ڈائجیسٹوں کے لیے ہی لکھا ۔“
”آپ سے معاوضہ کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔میں نے سنا آپ ہر ماہ اچھے وقتوں میں 3 لاکھ تک کما لیتے تھے ۔بلاشبہ آپ پاکستان کے مہنگے ترین رائیٹر ہیں ۔ پوچھنا تھاکتنے مہنگے ہیں ؟“جیسے سوال کیے جائیں عام طور پر ویسے ہی جواب ملتے ہیں ۔اس بات کا میرا تجربہ تھا ۔اس لیے میں ہلکے پھلکے انداز میں سوال کر رہا تھا ۔تاکہ وہ خوش ہو کر جواب دیتے رہیں ۔لیکن میرے اس سوال میں نہ جانے کیا تھا جو ان کو اداس کر گیا ۔ان کا لہجہ بھی اداس سا تھا ۔
” افسوس ہے کہ ۔ہمارے ملک میں کتابیں پڑھنے والے کم ہیں ۔ دوسرے ملکوں میں کتاب کی اہمت کو سمجھا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں ڈائجیسٹ میں لکھنے والوں کو ادیب نہیں سمجھا جاتا ۔“
”اک یہ بھی المیہ ہے سر “
”میں ان کو ادیب نہیں مانتا جو ایسا سمجھتے ہیں ۔“وہ بولے ۔پاکستان میں پڑھنے والے کم ہیں۔اسی حساب سے رسائل جو بھی چھپتے ہیں ان کی تعداد بھی کم ہوتی ہے ۔ خدا کا شکر ہے ۔سسپنس اور جاسوسی دنیا کے ہر ملک میں جاتے ہیں ۔ان کی اشاعت بھی بہت زیادہ ہے ۔میں نے بہت نام ،اورپیسے کمائے ۔فی کہانی کے پچاس ہزار ۔کبھی چالیس ہزار تک مل جاتے تھے ۔کچھ پبلشر سے بھی مل جایا کرتے ہیں ۔اللہ کا شکر ہے بہت اچھا گزارہ ہو جاتا ہے ۔“
اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا۔
”ماروی کیسی لگی آپ کو ؟“
میرے دل میں آیا میں ان کو بتا دوں مجھے تو بہت اچھی لگی ہے ۔لیکن بہت سے ایسے ہیں جن کو پسند نہیں ہے ۔پھر میں نے سوچا سب کی اپنی اپنی پسند ہوتی ہے ۔انہوں نے میری پسند پوچھی ہے ۔میں نے اپنی پسند بتا دی ۔
”بہت اچھی ہے ۔جی ماروی لیکن وہ جو آپ سے دیوتا کی بات ہوئی اسے نہ بھول جائیے گا ۔ماروی کا کب اختتام ہو گا ۔بتا سکتے ہیں آپ ۔“
”آگے جا کر ماروی مزید زبردست ہو جائے گی ۔اس کا اختتام ۔اگلے سال کے دسمبر تک تو لکھی ہوئی ہے ۔اب زیادہ لکھا نہیں جاتا ۔جتنا وقت ملتا ہے میں ماروی کو آگے بڑھا دیتا ہوں ۔‘میری ایک عادت ہے ۔میں بھی کہانی شروع کروں اسے مکمل کر کے پھر دوسری کو شروع کرتا ہوں ۔“
”سر وہی بات جو پہلے بھی کر چکا ہوں ۔کہ دیوتا پر لکھیں ۔سونیا سے آپ کہانی کی ابتدا کر سکتے ہیں ۔بے شک ماروری کے اختتام کے بعد لکھئے گا ۔“
”آگے جا کر ماروی اتنی تیزی سے نکلے گی کہ آپ کہیں گے اس کا اختتام نہیں ہونا چاہیے “
”وہ تو ٹھیک ہے سر ۔آپ کو اپنے سب کردار پسند ہیں آپ کی تخلیق جو ہیں ۔لیکن ہم کو دیوتا اور اس کی فیملی پسند ہے ۔آپ کانام بھی دیوتا کی وجہ سے بنا ۔اور اسی وجہ سے آپ کو یاد رکھا جائے گا ۔“
”یہ بات تو درست ہے آپ کی ۔ آپ نے اتنا اصرار کیا ہے تو میں وعدہ کرتا ہوں ۔اس پر سوچوں گا ۔بلکہ کوئی قدم بھی اٹھاوں گا ۔سونیا کے بیٹے کا کیا نام تھا انہوں نے اچانک مجھ سے پوچھا “
”کبیریا “
”میں کوشش کروں گا کبریا کو فرہاد کی جگہ لے کر آوں “
”دیٹس پرفیکٹ سر ۔,,میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا-
OOO
”میں نے آپ کے بہت سے انٹرویوز پڑھے ہیں ۔سبھی سوالات کے جوابات کا مجھے علم ہے ۔آپ کی نجی زندگی مکمل اندھیرے میں ہے “
”میں اپنی نجی زندگی کے بارے میں زیادہ بولناپسندنہیں کرتا۔اس میں کچھ تلخ باتیں بھی ہیں ۔کچھ شیریں بھی ہیں ۔کچھ ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جن کا اثر میرے بچوں پر پڑ سکتا ہے ۔ویسے اتنا بتا دیتا ہوں میں نے تین شادیاں کیں ہیں ۔پہلی شادی سید پور بنگال میں کی تھی ۔اس سے اولاد ہے ۔ما شا اللہ میرے پوتے پوتیاں ۔نواسے نواسیاں بھی ہیں ۔پھر جب حالات اچھے ہوئے تو دوسری شادی کراچی میں کی ۔تیسری بھی کراچی میں ہی کی ۔سب بیویوں سے اولاد ہے ۔میں نے ان کو الگ الگ مکانات میں رکھا ۔
کوئی سونیا آئی ہے آپ کی زندگی میں ۔۔۔؟
میرے اس سوال کا جواب انہوں نے ایک طویل ہنسی کی صورت میں دیا ۔
اور بھی بہت کچھ انہوں نے اپنے بارے میں بتایا مگر وہ آف دی ریکارڈ باتیں ہیں، یہاں رقم کرنامناسب نہیں-
OOO
اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ میں محی الدین نواب صاحب کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔لیکن بات میرے پلے نہیں پڑ رہی تھی ۔موبائل میں سائیں سائیں کی آواز آ رہی تھی ۔میں پریشان ہو گیا ۔ان سے کیسے ذکر کرتا کہ آپ اپنی بات روک دیں ۔شائد موبائل کے سگنل نہیں آ رہے تھے ۔ایسے ہی دو منٹ گزر گئے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا ۔ایک بات تھوڑا حوصلہ دے رہی تھی کہ ان کی گفتگو میں ریکارڈ کر رہا ہوں بعد میں پوری توجہ سے سنو گاتو سمجھ آ جائے گی ۔ایک خیال عودکرآیا۔ اگر ریکارڈنگ میں بھی سمجھ نہ آئی تو ۔پھر میں نے کال ڈس کینکٹ کر دی ۔اب یہ ہوا کہ میں ان کو کال ملا رہا تھا اور وہ مجھے ۔دونوں طرف نمبر بزی جا رہا تھا ۔چار پانچ کوشش کرنے کے بعد میں نے صبر کر لیا ۔پھر تین منٹ گزر گئے ۔میں نے کال دوبارہ ملائی ۔ جیسے ہی انہوں نے ” اسلام علیکم “کہا میں نے معذرت چاہتے ہوئے کہا ”وہ اصل میں آپ کی آواز کٹ کٹ کر آ رہی تھی ۔اس لیے میں نے کا ل ڈس کنیکٹ کر دی تھی ۔ کہنے لگے ” میں مسلسل آپ کو کال ملا رہا تھا “
۔۔” میں بھی “
اس کے بعد چند ثانیے کی خاموشی رہی ۔ہم دنوں ایک ساتھ ہی گویا ہوئے ۔ایک طرف میں کہہ رہا تھا ۔” میں نے آپ سے پوچھا تھا ۔۔۔“۔دوسری طرف نواب صاحب کہہ رہے تھے ۔
”میں اس بات کی وضاحت کر رہا تھا کہ ۔۔۔۔“ میں خاموش ہو گیا تاکہ وہ بات جاری رکھ سکیں ۔شائد انہوں نے بھی ایسا ہی سوچا ہو انہوں نے بھی اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔ وہ بھی خاموش ہو گئے ۔ایک دو لمحے ایسے ہی گزرگئے ۔اس کے بات پھر ہم دنوں نے ایک ساتھ ہی بات شروع کی ۔۔۔اپنے اس عمل پر ہم دونوں ہنسے اور خوب ہنسے میں نے غور سے ان کی ہنسنے کی آواز سنی- ۔ہنستے ہوئے ان کو کھانسی آئی میں نے چپ سادھ لی ۔۔تھوڑی دیر بعد وہ کہہ رہے تھے ۔
”اگر آپ زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں ۔زندگی کو جیتنا چاہتے ہیں ۔اچھی طرح جینا چاہتے ہیں ۔تو ۔۔تو جس کام سے بھی منسلک ہیں اسے اوڑھنا بچھونا بنا لیں ۔اس کے علاوہ کچھ اور نہ کریں ۔کچھ اور نہ سوچیں ۔مکمل یکسوئی سے محنت کریں ۔فضول دوست نہ بنائیں ۔اب میری طرف دیکھیں میری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میں وقت ضائع نہیں کرتا ۔ایسا کوئی دوست نہیں ہے جس کے ساتھ فضول وقت گزاروں ۔اس بات پر عمل کریں وہ سب کام چھوڑ دیں ۔ایسا کریں ایک لسٹ بنائیں ۔ان خواہشات کو جو پوری نہیں ہو سکتی ختم کریں اور فضول جہاں وقت گزارتے ہیں اسے چھوڑ دیں ۔“
وہ خاموش ہو گئے ۔میں نے سمجھا انہوں نے اپنی ختم کر لی ہے ۔میں دوسرا سوال تیار کیے بیٹھا تھا ۔ابھی میں نے بولنے کا ارادہ ہی کیا تھا ۔کہ ان کی آواز آئی ۔”سنیں “۔۔”جی “۔۔”کیا نام بتایا تھا آپ نے “؟
۔میں نے بتایا ۔۔”یاسین صدیق“ ۔۔
”یاسین آپ کی عمر کیا ہو گی“؟
۔”۔37 سال ۔“۔
وہ دوبارہ گویا ہوئے ”میں کہہ رہا تھا ۔پہلے ایک ٹارگٹ بنائیں ۔نصب العین طے کریں ۔اس کے بعد کا کام یہ ہے کہ ہر وہ کام ،عادت ،دوست چھوڑ دیں ۔ہر ہر وہ چیز چھوڑ دیں جو وقت ضائع کر رہی ہو ۔مجھے دیکھیں میں نے بہت پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا ۔پھر ایک بات اور ہے ۔۔۔۔“وہ کہتے کہتے رک گئے ۔لمحاتی توقف کے بعدوہ گویاہوئے – ”میرے کہنے کا مقصد ہے فضول کام چھوڑنا ۔آوٹنگ پر جانا ۔سیر کرنا ۔ورزش کرنا ۔عبادت کرنا فضول نہیں ہے ۔میں اب بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ۔چند دوستوں کے ساتھ ۔پوتے پوتیوں کے ساتھ آوٹینگ یا تفریح پر جاتا ہوں ۔۔“
”جی سر میں سمجھ رہا ہوں ۔۔“ میں نے جلدی سے کہا ۔انہوں نے اپنی بات وہیں سے شروع کی جہاں چھوڑی تھی ۔”میں خاندان میں کوئی تقریب ہو ۔اس میں شرکت نہیں کرتا ۔بہت کم کرتا ہوں “
پھر وہ ٹھہہر ٹھہر کر بولے ۔مجھے محسوس ہوا کہ وہ اس بات پر بہت زور دے رہے ہیں ۔انہوں نے ایک ایک لفظ الگ الگ ادا کیا اور کہا ”میں وقت کو بالکل ہی ضائع نہیں کرتا ۔۔اگر آپ وقت ضائع کر رہے ہیں تو اپنے آپ سے دشمنی کر رہے ہیں ۔“اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے ۔
میں بھی خاموش ہی رہا ۔پھر وہ خود ہی بتانے لگے
”میں لکھنے پڑھنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتا ۔صرف چار پانچ گھنٹے سوتاہوں ۔میں نے پوری زندگی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا آپ مطالعہ کریں ۔لکھیں ۔سوچیں کہ سب سے الگ کیسے لکھ سکتے ہیں ۔اپنا لکھنے کا ایک انداز بنائیں ۔جو پہچان بن جائے ۔انداز بیاں ۔میرا مشورہ ہے سفر نامے زیادہ سے زیادہ پڑھیں ۔آج کل کمپیوٹر کا زمانہ ہے ۔معلومات کا حصول آسان ہے ۔ہمارے دور میں بڑی مشکل تھی ۔سلسلہ وار لکھیں کوئی ناول ۔اس پر محنت کریں ۔کسی ایک ادارے سے منسلک ہو جائیں ۔جاسوسی والوں سے بات کریں ۔“
”جاسوسی والے نئے رائیٹر کو کہاں موقع دیتے ہیں ۔؟“میں نے کہا تو وہ فورا بولے
”ایسا نہیں ہے آپ کی تحریر میں دم ہو گا تو وہ موقع دیں گے “
میرے تمام سوال مکمل ہو چکے تھے ۔مجھے اور کچھ نہیں پوچھنا تھا ۔لیکن میں چاہتا تھا ۔ان سے بات جاری رہے ۔لیکن کیسے جاری رکھوں ۔سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ہمارے درمیاں خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا ۔میں اجازت مانگنے والا ہی تھا کہ انہوں نے پوچھا ۔
”آپ کام کیا کرتے ہیں ؟“
”جی میں ایک الیکٹرونس کی دکان پر سیلز مین ہوں “
کتنا عرصہ ہو گیا اس کام کو کرتے ہوئے ؟
ایک سال ہو گیا ہے ۔اس سے پہلے میں ایک کالج دی امپیرئل میں ایڈمن تھا۔“
انہوں نے لمبی ’ہوںں“ کی پھر پوچھا ”کالم نویسی کتنے عرصے سے کر رہے ہیں ؟“
”تین چار سال میں بڑے نامور کالم نویسوں کا ریسرچر رہا۔پھر اس کام کو چھوڑ دیا ۔دو سال خود کالم لکھے ۔اب اس کام کو بھی چھوڑ رہا ہوں ۔
اب میں کہانیاں لکھنا چاہتا ہوں ۔“
”میرا موبائل نمبر کیسے ملا “
” کہانیاں لکھنے سے پہلے میں نے سوچا ان سب پر ایک ایک کالم لکھوں جو زندہ ہیں ۔خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جن جن سے میں متاثر ہوں ۔ جو میرے روحانی استاد ہیں ۔میں نے جب لسٹ بنائی تو سرفہرست آپ کا نام تھا ۔میں نے فیس بک پر موجود دوستو سے پوچھا تو آپ کا نمبرڈااکٹر عبد الرب بھٹی سے ملا ہے “
”ڈاکٹر عبد الرب بھٹی بہت اچھے رائیٹر ہیں“
”جیسے آپ اپنے حالات بتا رہے ہیں ۔کافی مشکل ہوگی آپ کو اپنا نام بنانے کے لیے ۔خود کو کہانیوں کے لیے وقف کریں گے تو ممکن ہو گا- “
اب تک میں ان سے ان گنت سوال پوچھ چکا تھا ۔اب مزید سوال کرنا مناسب نہیں تھا کیونکہ آغازکلام سے پہلے وہ بتا چکے تھے کہ ان کی طبیعت کچھ ناساز ہے ۔میں نے سوچا اور پھر کچھ یوں سوال کیا ۔
”سر میں نے سوچا تھا بلکہ لکھا تھا یہ سوال کہ آپ کے بہترین دوستوں کے بارے میں پوچھو ں گا ۔لیکن میں نے یہ سوال آپ سے نہیں کیا “۔
اس سوال پر ان کی ہنسی سنائی دی ۔کہنے لگے ۔”آپ نے اب پوچھ ہی لیا ہے تو بتا دیتا ہوں ۔ویسے اس سوال کا کیا جواب دوں ؟۔بہت سے دوست ہیں۔کچھ ایسے لوگ ہیں۔ جو میرے برے وقت میں میرے کام آئے ۔ جن کی وجہ سے آج میں اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل بھی ہوا ہوں ۔ ان میں سے چند ایک تو مرحوم ہو چکے ہیں ۔
ان میں ایک اسد اللہ صاحب تھے 1970 میں دیکھ لو کتنا سستا زمانہ تھا مجھے چار ہزار روپے دئیے تھے ۔اور کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں تو اردو کے اتنے پڑھنے والے نہیں ہیں آپ پاکستان(لاہور) جائیں ۔وہاں لکھنے کا کام کریں ۔اللہ آپ کو ترقی دے گا ۔اس طرح میں پاکستان پہنچا ۔اور یہاں آکر کام شروع کیا ۔
”سر وہ اسد غالب تو نہیں تھے ۔۔۔۔ ؟ “
میرے اس سوال پر وہ کھل کھلاکر ہنسے ۔
کیا آپ کے یہ دوست بقیدِ حیات ہیں ؟
”نہیں وہ اب وفات پا چکے ہیں ۔بہت ہی اچھے انسان تھے ۔ان دنوں بنگلہ دیش یعنی ڈھاکہ سے لاہور ہوائی جہاز کا کتنا کرایہ تھا ۔معلوم ہے ؟ انہوں نے مجھ سے پوچھا ۔میں اس سوال کا کیا جواب دیتا ۔خاموش ہی رہا ۔مجھے علم ہی نہیں تھا اس زمانے میں کتنا کرایہ تھا ۔پھر خود ہی بتایا ۔
”صرف 225 روپے ۔اور میرے دوست نے مجھے چار ہزار دئیے تھے ۔دیکھیں اس وقت میرے پاس 225 روپے کی حیثیت نہیں تھی ۔اس زمانے کے حساب سے اب کرایہ 10 ہزار ہے ۔
یہ تھی محی الدین نواب صاحب سے میری آخری گفتگو–چندہی دنوں بعدیہ روح فرساخبرملی کہ افلاکِ ادب کاشمس غروب ہوگیا,مجھے یقین نہیں ہورہاتھا,لیکن موت سے کس کورستگاری ہے -دنیامیں ایک یہی توعمل ہے جوکنفرم ہے -برحق ہے -کل نفسً ذائقہتہ الموت ۔لیکن جانے سے پہلے کچھ ایساکام کرجاناچائیے کہ آپ لوگوں کی سوچ اورفکرمیں زندہ رہیں۔جیسے نواب صاحب زندہ ہیں۔اپنی کہانیوں میں،تحریروں میں،لفظوں میں،اوران گنت قارئین کے دلوں میں،ربِ عظیم ان کی مغفرت فرماکردرجات بلندکرے ۔۔آمین
اسے کہتے ہیں بے مہری عالم کاصلہ
مرگئے ہم توزمانے نے بہت یاد کیا
۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

طاہر جاوید مغل سے مکالمہ ۔۔ سیف خان

      ایک شام طاہر جاوید مغل کے ساتھ (انٹرویو و تعارف) سیف خان …

3 تبصرے

  1. Muhammad Kabir Abbasi

    انتہائی دلچسپ گفتگو،کئی بار پڑھ چکا مگر ہر بارالگ ہی مزہ دیتی ہے۔سب سے خاصبات اس انترویو کی یسین بھائی کا انداز بیان ہے۔

  2. عتیق الرحمان

    بہت شاندار
    اچھا لگا محی الدین نواب صاحب کے بارے میں مطالعہ کر کے
    میں بھی کافی عرصہ قبل سسپنس پڑھتا رہا ۔ دیوتا کے بھی کافی حصے پڑھے تھے یہ غالبا 1992 سے 1995 یا اس سے کچھ عرصہ بعد تک پڑھتا رہا ۔ بلاشبہ فرہاد علی تیمور کی کہانی بہت جاندار ہوتی تھی ۔ جس کا انتظار ہوتا تھا ۔ طاہر جاوید مغل ،۔ علیم الحق حقی اور چند دیگر کہانی نویسوں کو تو میں سسپنس کے سٹال پر ہی پڑھا کرتا تھا ۔ پھر کراچی جانے سے قبل ہی علیم الحق حقی صاحب سے تعلق بن گیا اور ان سے تمام معلومات ملتی رہیں ۔ بعد میں مطالعے کے موضوعات ہی بدل گئے ۔ اب تو گزشتہ پندرہ بیس سال سے شائد چند ایک ہی کہانیاں پڑھی ہوں گی ۔

  3. نیر فہیم خان

    بہت خوبصورت مکالمے محی دین نواب کو میں نے بھی بچپن میں پڑھا ہے میرے نانا دیوتا کے اتنے شائق تھے ان کو زبانی قسط یاد ہوتی تھی جب آنکھوں کا آپریشن ہوا تو پڑھ نہیں سکتے تھے ہم بچوں سے سنا کرتے تھے اگر ہم جان بچانے کے لیے ایک آدھ صفحہ پلٹ دیتے تو فورا پہچان جاتے محی الدین نواب بہت زبردست رائٹر تھے اللہ ان کی مغفرت کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے