سر ورق / کہانی / سلگن … اختر عباس

سلگن … اختر عباس

          ماسی بشیراں انڈہ پھینٹ رہی ہے اور مجھے لگ رہا ہے اس برتن میں انڈہ نہیں میرا وجود پھینٹا جا رہا ہے ۔غصہ زیادہ ہو یا بے بسی دونوں ہی صورتوں میں انسانی وجود اسی طرح پھینٹا جاتاہے۔

          تھوڑی دیر پہلے میں نے گھر کے ملازموں میں تنخواہیں بانٹی ہیں ۔مہینے بھر کا سودا سلف لانے کے لےے پیسے دئیے ہیں ۔دھوبی کے بل ،دودھ والے کا حساب، اخبار والے کے پیسے ۔۔۔۔سبھی ادا کر دیئے ہیں ۔یہ سارا بوجھ اتار کے اصولی طور پر تو مجھے یوں شانت ہو جانا چاہئے تھا جیسے گرد بھرے پتوں سے لدے درخت کو بارش کی پہلی پھوار دھو دیتی ہے۔ہلکا اور آسودہ کر دیتی ہے۔

          مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ صرف ایک نگاہ نے سب کچھ زیروزبر کر دیا ہے۔ میری اپنی ماں کی نگاہ نے یہ کام کیا ہے۔ سردیوں اور سرد ہواو ¿ں کا سیدھا اثر نئی کونپلوں اور پھلدار پودوں کے پھلوں پر ہوتا ہے۔ ان پہ ایک نامہربان سرد رات بھی بہت بھاری پڑ جاتی ہے ۔ پالے سے ساری نمو مار دیتی ہے۔ نئی بڑھوتری کے امکان مٹا دیتی ہے۔ یہ پالا مارے پودے پھرکبھی پھل نہیں دے پاتے ۔پروان کیا چڑھتے وہیں گچھو مچھو ہو جاتے ہیں ۔

          جیسے جیسے سکول جانے کاوقت قریب آرہا ہے۔میں سوچ رہی ہوں کیا اس بھرے پرے گھر پر اب کبھی بہا ر نہیں اترے گی ۔کیا اب خزاں ہی یہاں مستقل بسیرا کرے گی اور ان سوکھے پتوں جیسے ناگوار رویوں کے ساتھ ہی جینا پڑے گا۔ میری ماں کی نگاہوں میں ناگواری ہمیشہ بوچھاڑ کی صورت رہتی ہے۔وہ اپنے انتخاب اور ہدف کو ڈھونڈتی اور بدلتی رہتی ہیں ۔ اتفاق کہئے یا سوئے اتفاق کہ میں جو ان کی سب سے بڑی مداح اور حامی تھی اور ان کے ہر کام کی توجیح ڈھونڈا کرتی تھی ۔اب خود کو کتنی دیر سے سمجھا نہیں پا رہی۔ دکھ او رتکلیف سے اب میرا اپنا سانس پھول رہا ہے۔ آپ کو کیسے بتاو ¿ں کہ میرے ماضی کے کتنے سال اس دکھ سے بھرے ہیں ۔

          تذکرہ نہ کیا جائے تواس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتاکہ دکھ کا وہاں سے گزر ہی نہیں ہو ا ۔ یا کسی درد نے دل میں قیام نہیں کیا ۔میرا تو دل بھی اس دکھ سے لبا لب بھرا ہے۔اسی دکھ میں صبح ہوتی ہے اوراسی میں شام ۔یہ ایسی قید ہے جس سے رہائی ممکن نہیں ۔اس کی اونچی دیواریں میری اپنی ہی ماں کی بنائی ہوئی ہیں ۔اس کی اتنی محنت کا حاصل یہ دیواریں میں کیونکر توڑ سکتی ہو ں ۔ پیار ے ابو میں آپ کا کیا کروں ؟ میں آپ کے اس آدھے اور پورے گھرکو کیا کروں ۔جس میں جا بجا مکڑی کے جالے لگے ہوئے ہیں ۔

          جب جب سکول سے لوٹ کر آتی ہوں مجھے ان جالوں میں ایک بڑی سی مکڑی نظر آتی ہے۔ میں نے پہلی بار یہ جالا کب دیکھا ،اب تو یاد بھی نہیں ۔ہاں وہ دن ضرور یاد ہیں جب اپنے ابو کو ایک جالے کے پاس کھڑے روتے دیکھا تھا۔میرا کتنا جی چاہا تھاکہ بھاگ کر ان سے لپٹ جاو ¿ ں ، ان کے سینے میں چھپ جاو ¿ں ،ان کے دکھ اور تکلیف کو چن لوں اور رونے نہ دوں ۔پھر یہ سوچ کر رونے دیاکہ سنا ہے رونے سے اندر کا غبار دُھل جاتا ہے۔ دل کو تھوڑا سکون آجاتا ہے۔ میں دھیرے دھیرے چلتی ان کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی۔ممکن ہے یہ بہانہ ہو ، میرا خیال ہو اور ابو کو دل سے پیار کرنے کی خواہش کبھی اتنی زور آور ہوئی ہی نہ ہو کہ اس پر عمل ہوتا۔

          ابو کیا ہوا؟ میں نے بہت مان سے پوچھا تھا۔ انہوں نے میری طرف دیکھے بنا کہا ۔بچے !کچھ بھی تو نہیں ۔بس پڑھتے پڑھتے اس کا خیال آگیا ۔ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی اس میں لکھا تھا”ان کی مثا ل مکڑی سی ہے۔ وہ بھی ایک طرح کا گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں میں مکڑی کا گھر ہی کمزور ہوتاہے۔ یہ جس چیز کو خداکے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو ۔خدا اسے جانتاہے۔“ سورة عنکبوت کی یہ آیت تھی جس نے انہیں اندر باہر سے دھواں دھواں کر دیا تھا۔

          وہ گھرجو میں نے تمہاری ماں کے لےے بنایا تھاوہ بھی تو اس جالے کی طرح بودا اور کمزور ثابت ہوا۔ بس اس میں ایک ہی تار باقی ہے بچے! او روہ ہو تم ۔۔۔۔ تم میرے یقین اور بے یقینی ۔۔۔۔امید اور ناامیدی کے درمیان ایک تار عنکبوت بن کر اس لےے لٹکتی رہو گی کہ تم سے ابو نے پیار کیا ہے۔“

          ” پاپاپلیز ! “میں زور سے بڑبڑائی تھی ۔

          جی بی بی جی !ماسی بشیراں نے گھبراکر میری طرف دیکھا ۔و ہ جانے کب سے ناشتہ لےے میرے سامنے کھڑی تھی جی۔بی بی جی آپ کا ناشتہ کہاں رکھوں۔ سکول سے دیر ہو رہی ہے آپ کو۔ وہ میرے جواب کا انتظار کئے بغیر بول رہی تھی۔ بڑی بی بی کو کمرے میں ہی ناشتہ کروا دیا ہے جی !

          ہور حکم !

          میں ناشتہ کئے بغیر ہی سکول آگئی ہوں ۔یہ سٹی سکول کئی سالوں سے میری زندگی میں ہے ۔بے شک یہ شہر کے مہنگے سکولوں میں سے ایک ہے مگر مجال ہے اس کی آبادی میں کبھی کمی ہوئی ہو۔میں عام طور پر جلدی سکول آنے کی عادی ہوں۔پہلے اس لےے کہ مجھے کسی کی ڈانٹ نہ سننی پڑے اور اب اس لےے کہ مجھے کسی کو ڈانٹنانہ پڑے۔ آپ ٹھیک سمجھے ہیں ۔پہلے میں یہاں پڑھا کرتی تھی۔ اب پڑھنے والوں کو سنبھالتی ہوں ۔ ان کو سنبھالنے سے فرصت ملے تو پڑھا بھی دیتی ہوں ۔میری کلاس کے اکثر بچے بڑے عجیب ہیں۔ ان کا گھر جانے کو دل ہی نہیں کرتا۔کلاس ختم ہوجائے تو کھیلنے لگتے ہیں ۔کھیلنے کو منع کریں تو کسی کونے میں آنکھیں موندے اُونگھتے نظر آئیں گے۔

          وہ گھروں کو جائیں بھی تو کیسے ۔ان کو لانے لے جانے والی ویگنیں تو ہیں نہیں کہ وقت پر آجائیں ۔یہ بڑے گھروں کے بچے ہیں ۔ ان کو پک کر نے والے بھی بڑے لوگ ہیں ۔کبھی کسی کی مما آتی ہیں تو کبھی کسی کے پاپا۔ایسا بھی ہو اہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کی ذمہ داری سمجھ کر سکول آنا ہی بھول گئے او ربچوں کو رخصت کرنے کی ڈیوٹی کی وجہ سے مجھے کئی کئی گھنٹے ان کے انتظار میں سلگنا پڑا۔

          یہ سلگن بھی کئی طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک ٹھنڈی میٹھی ہوتی ہے ،بس رُلا دیتی ہے۔ ایک کڑوی کسیلی ہوتی ہے ،سلگا دیتی ہے، اندر سے دہکا دیتی ہے ۔ایک سلگن ایسی بھی ہوتی ہے جو لمحوں میں جھلسا دیتی ہے ، آگ لگا دیتی ہے ۔سلگن کوئی بھی ہو اور کیسی بھی ہو نہ من کو راحت ملنے دیتی ہے نہ تن کو ۔بس سلگائے جاتی ہے۔ آنسو چھلکائے جاتی ہے، ۔ جھلسائے جاتی ہے۔

          وہ ایک جھلسی ہوئی دوپہر تھی۔جب ایک کالے کوٹ والے صاحب ہمارے گھر آئے ۔یہ کئی مہینوں بعد ہو ا تھا کہ کسی مہمان نے ہمارے گھر کی بیل بجائی ہو ۔ابو کے مہمان اس لےے نہیں آ سکتے تھے کہ امی انھیں ہی نہیں ان کے مہمانوں کو بھی بہت گھٹیا او رگنوار سمجھا کرتی تھی۔ مسکرا کے ملنا تو درکنار وہ پاس سے گزر بھی جائیں تو آنے والے کو اپنے کانوں کی فکر پڑ جاتی جو ان کے آتے جاتے کہے جملوںکے باعث کبھی سرخ ہوتے اور کبھی گرم ۔امی کے مہمانوں کو یہ گھر اپنے گھروں سے چھوٹا ، اس کا آرام اپنے گھروں سے تھوڑا اوراس کے باسی اپنے لوگوں سے چھوٹے لگتے تھے۔ ایسے میں امی کی زبان بہت کاٹ دار ہو گئی تھی۔

          ”دو دو ٹکے کے کالے کوٹ پہن کر آ جاتے ہیں ملنے!میرے والد تو اپنے نوکروں کو ایسے ردی کوٹ پہننے کو نہ دیتے۔“ دروازہ کھولنے سے پہلے یہ ارشادات مہمان کے کانوں تک پہنچ چکے تھے ۔ دروازہ کھلا تو ایک مسکراتا ہوا چہرہ طلوع ہوا۔ ”میڈم !یہ میر ا پروفیشنل کوٹ ہے ۔ پانچ ہزار روپے میں اسے H.Karim Bukhsh سے خریدا تھا۔ آپ کہیں تو رسید پیش کردوں ۔آج تک فائل میں لگی ہو ئی ہے۔“ امی نے مڑ کر انہیں دیکھا تھا۔ بلکہ گھورا تھا۔ کسی نے ان کی بات کا اس قدر بر محل اور بر موقع جواب کب دیا ہوگا۔

          ”کون ہو تم۔۔۔۔؟“امی نے بڑے تکبر اور بدتمیزی سے سوال کیا تھا۔

           ”خاتون !میں عمر ،تجربے اور رتبے میں آپ سے بڑ ا ہوں ۔یہ طرز گفتگو مناسب نہیں ۔کاش آپ نے کسی پڑھے لکھے اور مہذب خاندان میں آنکھ کھولی ہوتی تو آپ کی زبان میں کسی قد ر نرمی اور زندگی میں راحت ہوتی۔ “

          ”میرے والد اس شہر کے بڑے رو ¿سا میں سے ہیں، کسی بھول میں مت رہےے ۔ آپ جیسے دودو کوڑی کے کئی وکیل ان کے ذاتی ملازم ہیں ۔جسے آپ ملنے آئے ہیں اس کو پہلی ملازمت میرے والد نے ایک سیمنٹ فیکٹری میں لے کر دی تھی تب اس ٹٹ پونجیئے کو کو ئی جانتا بھی نہیں تھا۔ آج بڑابنا پھرتا ہے۔ دانش ور ۔ وہاں رہتا تو آج جنرل مینیجر ہوتا ۔ممکن ہے میرے والد اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔“

          ”ثمن بی بی !میرا خیا ل تھا کہ تکبر حماقت ہی کی ایک قسم ہے مگر آج پتہ چلا اگر دونوں مل جائیں تو ان کا جادودو آتشہ ہوجاتاہے۔ پھر یہ زبان سے فوارے کی طرح پھوٹتا ہے ۔بوند بوند نہیں گرتا۔ چھینٹے اڑاتاہے ۔پٹخ پٹخ کر متکبر کو گراتاہے۔ او رگرائے چلا جاتاہے۔ بڑی ہمت ہے عبدالقدیر صاحب کی ۔ آپ جیسی خاتون کے ساتھ اتنے سال رہ لیا ۔

          آج بھی وہ مجھے منع کرتے ہی رہ گئے کہ خود مت جائیے ۔ڈاک سے بھجوا دیںیا کسی ہرکارے کے ہاتھ ۔مگر میں نے سوچا خود چل کر بات کر تا ہوں ۔شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے ۔ پر آپ دوسروں کو زخم دے کر اپنی انا کو خوراک دیتی ہیں ۔آپ کو کوئی کیا سمجھائے۔ “

          میں صوفے پر ہاتھ رکھے یہ سب سن رہی تھی ۔ میر ا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ کسی ڈر اور خو ف سے نہیں ۔ صدمے سے،بے بسی سے، ایک دو بار میری سہیلیاں آئی تھیں ۔مما نے انہیں کھلانے پلانے اور حال احوا ل پوچھنے کی بجائے اپنا اور اپنے خاندان کی امارت کا اس قدر تذکرہ کیا کہ میری دوستیں بے مزہ ہو کر اٹھ گئیں۔ پھر کبھی میرے گھر نہ آنے کے لےے ۔

          ”ایڈووکیٹ صلاح الدین نام ہے میرا ۔عبدالقدیر صاحب میرے کلائنٹ ہی نہیں ،پرانے دوست بھی ہیں ۔ایک سیلف میڈ اور مہذب انسان کے طور پر انہیں ایک دنیا جانتی ہے۔ مگر میں نے انہیں ایک متوازن اور احسان شناس آدمی پایا ہے۔

          انھوں نے آپ کی خواہش اور مطالبے کے مد نظر اس گھر کا آدھا حصہ آپ کے نام کر دیا ہے اور باقی کا آدھا حصہ آپ کی بیٹی ملیحہ کے نام ہو گا ۔ آپ کو اپنی مرضی کا حصہ چننے کا بھی حق دیا گیا ہے۔ اس دستاویز پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی آپ دونوں کے درمیان میاں بیو ی کا رشتہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ ملیحہ اس گھر میںرہے گی اور اسے تمام عمر بغیر کسی مطالبے کے اپنی او رگھر کی ضرورت کے تمام اخراجات ملتے رہیں گے ۔ آج سے گھر کی چابیاں اس کے حوالے ہوں گی ۔ آئندہ سے نوکروں ،ملازموں اور لین دین کے تمام معاملات کی مختار وہی ہوگی ۔ اسی کی بات مانی جائے گی ۔“

          ”گڈ!“امی نے جلدی سے سائن کردئیے تھے۔” تواس جاہل نے بالآخر گھر پر میر ا حق مان ہی لیا ۔ یہ میری زندگی کا نیا تجربہ ہو گا۔“ وہ بڑبڑائی تھیں ۔”جی جی!“ اصلاح الدین ایڈووکیٹ زیر لب مسکرائے ۔ ”خاتون !برا مت مانئے گا آپ کو اس نئے تجربے میں لگے گا کہ خدا نے آپ دونوں کو اکٹھا کرنے کے تجربے کے اثرات اتنے بگڑے ہوئے دیکھے ہیں کہ اس نے تجربے کی بساط ہی لپیٹ دی ہے۔“

           وہ انکل چلے گئے تو میرا خیال تھا امی بہت دل سے روئیں گی ۔ دکھی ہوں گی۔ عمر بھر کا رشتہ تھا ٹوٹ گیا ۔ جہاں کبھی اتنے تعلق رہے ہوں وہاں وہ بنیاد ہی نہ رہے تو دل پر کیا بیتتی ہو گی۔ مگر ان کا ایک ہی تبصرہ تھا۔”خس کم جہاں پاک۔ میرے سات بھائی ہیں ۔دیکھنا کیسے پلکوں پہ بٹھاتے ہیں ۔“ پھر فون کے ڈائل گھومنے لگے۔ امی نے یہ خبر ہر جگہ دے کر داد چاہی ۔ تب انہیں اندازہ ہو ا کہ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ گیا ہے۔

          انہی دنوں میں مس امبر سے ٹکرائی تھی۔ میرے لےے تو ابر کا ٹکڑا تھیں ۔ ایسی مہربان جیسے پیاسی دھرتی اور سوکھی دراڑوں میں اُگے کسی پودے کو اچانک کہیں سے مہربا ن سا پانی میسر آجائے ۔ میں نے ایک روز ان سے پوچھا تھا۔ ”مس!یہ بروکن ہوم کیا ہوتا ہے۔“ انھوں نے بڑے غور سے میری طرف دیکھااور پھر دھیرے دھیرے سے رو دیں ۔ تب تو مجھے یہ بھی علم نہیں تھاکہ روتی دوست کو تو گلے لگا کر چپ کرایا جاسکتاہے، کوئی مس روپڑے تو کیا کرتے ہیں ۔ مس امبر نے اپنے پرس سے ایک چھوٹی سی کتاب نکالی ۔ اس پر قرآن پاک لکھاتھا۔ اس میں سے انہوں نے سورة عنکبوت نکالی ۔ انہی دنوں میرے ابو مجھے سیر کروانے لے گئے تھے۔ چھوٹی سی عمر کے اتنے بڑے تجربے سے میں دوچار ہو چکی تھی کہ یہ بوجھ میری برداشت سے زیادہ تھا۔ میں نے کہا ابو !ہمیں آپ کی ضرورت ہے ۔ وہ بولے نہیں بیٹے یوں نہیں کہتے ۔ رشتے ضرورتوں سے تو نہیں پہچانتے ۔ نہ یہ ضرورتوں سے بنتے ہیں اور نہ ضرورتوں کی تکمیل سے جڑے ہی رہتے ہیں ۔ محبت اور خدمت نہ ہو تو ایسی کوئی ایلفی ایجاد نہیں ہوئی جو کسی رشتے کو جوڑ سکے۔

          ہمارے گھر ملازموں او رکام کرنے والوں کے علاوہ مہینوں کوئی نہیں آتاتھا۔ تبھی تو مجھ پر بھید کھلا کہ غم او رخوشی سے بے نیازی بھی ایک کیفیت ہے جو ان دونوں سے بے نیاز ہونے پر حاصل ہوتی ہے۔ پھر نہ کسک رہتی ہے نہ جلن۔ چبھن بھی ہو تو وقتی سا درد ہو تا ہے۔ پھر دکھ درد۔۔۔۔خوشی سب ختم ہو جاتے ہیں۔ میری ماں بڑے امیرگھر کی بیٹی تھی ۔ وہ عمر بھر اس سے بھی بڑے گھر کے خواب دیکھتی رہی ۔ اسے گھر والوں نے یہ خواب دیکھنے دیا بلکہ شاید سبھی سب مل جل کر اسے یہی خواب دکھاتے رہے۔ یہیں سے وہ تکبر اور لالچ خیا ل کے راستے ان کے ذہن میں جابسا جس کو دنیا کا کوئی پلاس ، کوئی زنبور اکھاڑ نہیں سکتا۔

          آپ کو میں نے یہ تو بتا ہی دیا ہے کہ علیحدگی کے بعد میرے ابو کم ہی گھر آئے ۔ جب آتے تواسکول سے میرے ساتھ ، سیدھے میرے ہی کمرے میں۔ نہ کوئی مطالبہ نہ کوئی فرمائش ۔نہ کوئی گلہ نہ کوئی شکوہ ۔ تبھی میں نے کہا تھا ابو!کوئی آپ کا کیا کرے۔ وہ بولے بیٹے ! ایک گھر میں نے بھی بنا یا تھا ۔ اس یقین کے ساتھ کہ یہ مکڑی کے گھر سے مضبوط ہوگا۔ یہاں رہنے والوں کے تعلق کی مضبوطی ہوگی ۔

           مگر سال ہا سال بعد دیکھا تو محسوس ہو ایہ تومکڑی کے گھر جیسا ہی نکلا ۔ ممکن ہے جب اللہ نے انسانوں کے بیچ محبت اور م ¶دت اتاری ہو کچھ لوگ دونوں ہاتھوں سے لے رہے ہوں گے۔ میرے جیسے کچھ لوگ ہوں گے جو کچھ اور سوچ رہے ہوں گے اور اپنی الٹی ہتھیلیوں کو سیدھا کر کے اس دولت اور نعمت کو سمیٹنے سے ہی محروم رہے ہو ں گے ۔ “

          میں نے اس روز پہلی بار اپنے ابو کا سر اپنی گود میں رکھاتھا۔ ان کے ماتھے پر ڈھیر سار اپیار کیا تھا ۔ ان کے بالوں میں انگلیاں پھیری تھیں ۔ ان آنکھوں پر دھیرے دھیرے مساج کیا تھا۔ اس دوران وہ بند آنکھوں سے دھیمے دھیمے مسکراتے رہے۔ پھر بولے۔ بچے میری بات مانو گے ۔ میں نے گھبر اکر کہا پاپا پلیز! میرا آپ کے علاوہ ہے اور کون؟ اور کس کی مانوں گی میں ۔ پر آپ مجھے بچے نہ کہیں، اب میں بڑی ہو گئی ہوں ۔ آپ کا گھر سنبھالتی ہوں ۔ ساراحساب کتاب رکھتی ہوں ۔ سکول جاتی ہوں۔ بچوں کو سنبھالتی ہوں ۔

          بولے !دیکھ چندا!!میرے من میں تو کب کی نہ لگن رہی نہ جلن رہی۔ ایک تعلق نبھانا چاہا سالوں نبھاتارہا۔ پر دوسرا ساتھ نہ دے تو تانگے میں جوتے گھوڑے جیسا حال ہو تاہے، نہ دلکی چال چلا جاتا ہے نہ دوسرا ٹھیک سے چلنے دیتا ہے۔ ہاں گردن پر زخم بڑے گہرے آتے ہیں۔ چونکہ روزآتے ہیں اس لےے گھاو ¿بن جاتے ہیں ۔

          دیکھ تو ایسا کچھ نہ کرنا۔ کون جانے میں کل تیرے پاس ہوں نہ ہوں۔ رہوں نہ رہوں ۔ کوئی تجھے مجھ تک آنے دے، نہ آنے دے۔ کل تیری شادی ہوگی۔ نئی زندگی ہوگی، نیاساتھ ہوگا۔ اگر اپنے پاپا کی بیٹی ہو توہمارے باباجی کی ایک بات یاد رکھنا ۔اپنے میاں کو بادشاہ جاننا ۔ بادشاہ ہی کہنا ۔ بادشاہ کہو گی تو سلطنت دل کی مالک بنو گی ۔ ملکہ کہلاو ¿گی۔ اور جو تو نے اس رشتے کی ناقدری کی۔ اپنے آپ کو بڑا جانا ۔ باپ کے روپے پیسے اور گھر کو ، گھر کی چیزوں کو اہم جانا ۔ اپنے میاں کو چھوٹا اور دولت کو بڑا مانا تو اسے نوکر سمجھو گی ۔ بس یہ سوچ لینا،اسے نوکر سمجھو گی تو نوکرانی کہلاو ¿گی ۔ کبھی خیر نہ پاو ¿گی ۔ خالی ہاتھ رہ جاو ¿گی۔ میرے مولا کو یہ سب بہت ناپسند ہے ۔ وہ کہتا ہے سمندر میں انگلی ڈبو کر نکالو تو جتنا پانی انگلی کی پور پر لگے وہ تمھاری کل دنیا ہے اور یہ دے کر مےرے خزانے میں کمی نہےں آتی۔ تو بھلا قطرہ بھر پانی پر کیا اترانا۔ اس پر کیا تکبر کر نا۔

          میری قسمت دیکھئے کہ چھوٹی سی عمر میں اتنے بڑے سارے گھر کی آدھی مالکن بنی ۔ ابو کے سارے بنک اکاو ¿نٹس میں حصہ دار ٹھہری۔ دوسرا گھر جس میں وہ اکیلے رہاکرتے تھے، وہ بھی میرے ہی نام تھا۔ او رمیری ماں کہا کرتی تھی۔ بیٹی تو بہت قسمت والی ہے۔ تیرے پاس اتنی دولت جائیداد ہے جو اس گھر میںآئے گا۔ تیرا غلام کہلائے گا۔ میری عمر کی لڑکیاں کہانیاں پڑھتی ہیں ۔ ریڈیو سنتی ہیں ۔ نئے گیتوں کی دھنوں کو گنگناتی ہیں اور میں اکثرخالی وقت میں اس پل کو یاد کرکے روتی ہو ں جب میرے پاپا میری گود میں سر رکھے سو رہے تھے۔ ان کی آنکھوں پر میرا ہاتھ گیا تو یوں لگا جیسے رو رہے ہیں ۔ میں بے قرار ہو کر انہیں پیار کر نے کو جھکی تھی ۔ اور عین اس لمحے ان کا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر یوں گرا جیسے کوئی چھت سے گرتا ہے۔ میں تو چیخ بھی نہ سکی ۔ کوئی دلاسا دینے والا نہ ہو، چپ کروانے والا نہ ہو تو ساری چیخیں اندر ہی رہ جاتی ہیں اور عمربھر سلگاتی ہیں ۔

          یہ سلگن بھی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ٹھنڈی میٹھی کہ بس رُلا دیتی ہے۔ ایک کڑوی کسیلی جو سلگا دیتی ہے ۔ اندر سے دہکا دیتی ہے۔ ایک سلگن ایسی بھی ہوتی ہے۔ جو لمحوں میں جھلسا دیتی ہے۔ آگ لگا دیتی ہے۔ مجھ غریب پر تو یہ ساری مہربان ہیں ۔ پل پل میرے ساتھ رہتی ہیں ۔ آنسو چھلکاتی ہیں ۔ اور اس عالم میں کہ انھیں پونچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا ۔

          ماسی بشیراں ہر روز ناشتے میں آملیٹ بناتے ہوئے انڈہ پھینٹتی ہے او روہ کیا انڈہ پھینٹتی ہے، میراہی وجو د پھینٹا جاتا ہے۔ غصہ زیادہ ہو یا بے بسی دونوں ہی صورتوں میں انسانی وجود اسی طرح پھینٹا جاتا ہے۔

[کہانی کار اختر عباس افسانوں کے تین مجموعے پھٹا ہوا دودھ ،خاموشی پیچھے شور اور سلگن کے علاوہ بچوں اور بڑوں کے لئے اکیتیس کتابیں لکھ چکے ہیں ،وہ ملک کے ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹہنشل آئیڈیاز کے چیف انسپائیرنگ افیسر ہیں انہیں نافتخار ادب ایوارڈ کے علاوہ یو بی ایل لٹریری ایکسیلینس ایوارڈ بھی مل چکا ہے ]

٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے