سر ورق / کہانی / آدھا ادھورا …اختر عباس

آدھا ادھورا …اختر عباس

          یونیورسٹی سے واپسی پراس کا جسم ہی نہےں روح بھی تھکی ہوئی تھی ۔ آنکھےں کسی گہرے غار جیسی ہو رہی تھےں اور ہونٹ پیاسی دھرتی کی طرح سوکھے اور خشک۔ اسے اپنے 10 سالہ بےٹے کے انتظار کا احساس نہ ہوتا تو شاید اپنے دفتر میں ہی آ نکھےں بند کر کے لےٹ رہتا ۔ وہ اپنا بایاں ہاتھ حسب معمول پےنٹ کی جےب میں ڈالے اور دائےں ہاتھ میں کار کی چابیاں پکڑے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا جب اچانک لڑکوں کے ایک گروپ نے اسے گھےر لیا ۔ وہ اپنے طلبہ کی آنکھوں میں چھپی حےرت ، ہونٹوں پر آئے سوالوں اور جملوں میں دبی حسرتوں کو پڑھنے پر قادر تھا ۔ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہوئے اسے تےسرا سال تھا ۔ یہ تےن سال کسی صحرا کو عبور کر کے نخلستان میںآکے ڈیرہ ڈالنے جےسے تھے ۔ اس نخلستان میں اس نے صرف ٹھنڈک پائی ہی نہےں ، بانٹی بھی خوب ۔ ٹیچر کہا کرتے

تھے ، احسان الٰہی کسی بند گلی جےسے ہےں۔ طلبہ کا خیال اس کے بالکل برعکس تھا۔ ایک جملہ ۔۔۔۔ایک لفظ اور کبھی ایک نگاہ ہی تعارف کی لفٹ کا وہ بٹن بن جاتی ہے جسے دباتے ہی پلک جھپکتے ہی تعلقات کی بلند و بالا عمارت کی ساری منزلیں طے ہو جاتی ہےں۔

          تےن سال پہلے کا وہ دن خوب روشن تھا ۔ احسان الٰہی نے ےونیورسٹی جوائن کرتے ہی بےچلر ہوم لےنے کی بجائے ایک سےنئر پروفےسر کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا۔ اس کی وجہ اس کا بےٹا تھا ۔ صرف 7 سال کا ظہیر احسان۔ اس نے سوچا تھا یونیورسٹی جاﺅں گا توپےچھے بچے کی فکر نہےں ستائے گی اور وہ بھی گھر میں محفوظ اور مطمئن ہوگا ۔ پروفےسر رضی کے پانچ بچوں میں سے 3بچے ظہیر کے ہم عمر نہ سہی ہم جولی ضرور بن سکتے تھے ۔ بیچلر ہوم کے چند روز ہی اس کے لےے ڈراﺅنے خواب کی دوسری قسط جےسے تھے۔ ایک روز ظہیر اس کی غیر موجودگی میں دودھ کی پوری دےگچی اپنے اوپر گرا چکا تھا اور دوسری بار بجلی کا کرنٹ لگوا کر اس کی آدھی جان نکال چکا تھا۔ تےسری بار ایسا صدمہ سہنے کا وہ اپنے اندر حوصلہ نہےںپا رہا تھا ۔ وہ جان گےا تھا کہ انسانی حوصلے چٹانوں جےسے نہےں ہوتے ۔ چٹانےں پہاڑی سلسلوں میںہی اچھی لگتی ہےں ۔انسانی بستےوں میں دلوں کی توڑ پھوڑ ان کی برداشت اورظرف سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔

          اسی شام وہ پروفےسر رضی کے گھر اسی پریشانی کے حل کے لےے موجود تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ مسئلہ پیدا ہی تب ہوتا ہے جب اس کا حل ملنے والا ہو ۔ جےسے بادل گرجتے ہی تب ہیں جب برسنے والے ہوں۔ بن برسے گزرنے والے بادل اور حل نہ ہونے والے مسئلے اور طرح کے ہوتے ہےں۔ ان سے بارش کی توقع لگانے اور حل کے لےے ٹکرےں مارنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی ان کی خبر نہ ہو تو بصےرت کس کام کی ۔ حادثے سے بہت دن پہلے اسے لگنے لگا تھا کہ یہ دھرتی اب اس کے لےے ماں جیسی نہےں رہی ۔ گرم ہو کر اس قدر تپنے لگی ہے کہ ننگے پاﺅں چلنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ اور ہوا بھی اےسے ہی۔ وہ زمین جو پہلے اس کا پسےنہ جذب کرنے سے پہلے راز اُگل دےتی تھی، اپنی معدنیات کے خزانے تک رسائی آسان کر دےتی تھی، اس روز جب وہ سروے آف پاکستان کی ٹیم کے ساتھ بلوچستان کے ضلع چاغی کی پہاڑیوں پر ایک کھدائی کا معائنہ کر رہا تھا، جانے اسے کیا سوجھی۔ اس نے ایک اسسٹنٹ سے مشےن کا کنٹرول لیا اور خود ڈرل کرنے لگا ۔ اسے بہت امید تھی کہ آج جب زمین اپنا سےنہ کھولے گی تو اس میں اےسے اےسے راز ملےں گے کہ ملک کی قسمت سنورجائے گی۔ مگر اس کی نوبت ہی نہ آسکی ۔ مشےن کے بلےڈ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا تھا، یا انجن میں خرابی ہوئی تھی ۔ وہ اچانک بے قابو ہو کر اس کے ہاتھ سے چھوٹی اور اسے اپنی لپےٹ میں لے کر بہت بری طرح سے گھومی اور پھر اسے لےتی ہوئی ایک قرےبی کھڈ میں جا گری۔ وہی دھرتی تھی جو اس کے اشاروں پر سونا اُگلتی تھی اب اس کے جسم سے ابلتے خون کو کس قدر اطمینان سے پئے جارہی تھی ۔ ہسپتال میں اسے دوسرا دن تھا جب ڈاکٹروں کے بتائے بغےر ہی وہ جان گےا کہ باقی زندگی اسے ایک ہاتھ کے ساتھ گزارنی ہوگی۔ بایاں ہاتھ اس کے جسم کے ساتھ باقی نہ رہا تھا۔ جب وہ اپنے دائےں بازو سے اس ادھ بچے بازو کو ہلا رہا تھا تو ڈاکٹر اپنے سٹاف کے ساتھ اچانک ہی اندر داخل ہوا ۔اس کے تےن فیلڈ آفےسر ہی نہےں ریجنل ڈائریکٹر بھی ہمراہ تھا ۔ ڈاکٹر کے بولنے سے پہلے ہی باس بولا تھا ۔ احسان الٰہی ! کچھ نہےں ہوا تم پہلے کی طرح ٹھیک ہو جا ﺅ گے ۔ تمہارا کٹا ہوا بازو بالکل محفوظ ہے آپریشن کے ذرےعے جوڑدیا جائے گا ۔ تب احسان الٰہی دکھ اور تکلےف کے سارے احساسات کو ایک دم بھلا کر بولا تھا۔

          سر ! جب کوئی بغےر سوال کے وضاحتےں کرنے لگے تو کم ہی سچ ہوتا ہے ۔ یہ میرا ماننا ہے ۔ تجربہ بھی ، مشاہدہ بھی اور قول بھی ۔ رویّے ہوں ، باتےں ، مشورے یا سوال سب کے ساتھ ایک بےرو مےٹر لگا ہوتا ہے جو بغےر وجہ کے وضاحت پر فوراً کھٹک جاتا ہے ۔ ایک جھوٹ کو چھپانے والے دس جھوٹوں کو وہ آسانی سے ٹرےس کر لےتا ہے۔

          تبھی تو کہتے ہےں جھوٹ مت بولو ۔ جھوٹوں میں لکھے جاﺅ گے ۔

          ٹھیک کہتے ہےں آپ احسان الٰہی ۔ رےجنل ڈائریکٹر نے فوراً ہی شکست مان لی تھی۔

          بچپن میں میری ماں بنٹے گولیاں کھیلنے سے منع کرتی تھیں ۔ ایک روز خوب کھیلا اور گھر آنے سے پہلے ہاتھ منہ مل مل کر دھو لیا ۔ آتے ہی سلام بعد میں کیا اور ہاتھ پھیلا کر ماں سے کہا دیکھو ! اب تو میں قےنچے نہےں کھیلتا ۔ تب اس نے ےہی بات کہی تھی کہ بےٹا بغےر سوالوں کے وضاحت اکثر جھوٹے لوگ ہی دےتے ہےں اب اپنے ہاتھوں کو دیکھو ۔ تےرے ناخن تیری اپنی زبان کی نسبت کوئی اور کہانی کہہ رہے ہےں۔ تو ناخنوں کے اندر سے مٹی نکالنا جو بھول گےا تھا ۔ آج میں تےرا جھوٹ سن کر چھپا بھی لوں مگر تےرا اپنا جسم نہےں چھپا رہا۔

          کوئٹہ سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے لاہور ۔۔۔۔ گھنٹوں کا سفر اس نے ایک سال میں طے کیا تھا ۔ سفر کی اس رفتار کا تعلق اسی مٹی سے تھا جہاں اس کی بیوی نے جنم لیا تھا ۔ اسے حادثے کی خبر نہےں دی گئی ۔ احسان الٰہی کو یاد تھا کہ جب وہ اسلام آباد ائر پورٹ پر اُترا تو بیوی سے زےادہ معصوم سے بچے نے توتلی زبان سے پوچھا تھا ۔ ”دیدی تےا ہوا ۔“ ( ڈیڈی کیا ہوا)

          ” کچھ نہےں بچے ! ابو کے چوٹ لگی ہے۔“ باپ کی بجائے ماں نے جواب دیا تھا۔

          بےتے دنوں کی باتےں کبھی مکئی کے دانوں ایسی ہوتی ہےں جو دل کی گرم رےت میں اپنے آپ بھنی جانے لگتی ہےں ۔ کچھ گرمی سے پھول جاتی ہےں اور کچھ سخت ہو کر دانے کی شکل اختےار کر لےتی ہےں۔ احسان الٰہی کو اپنی بیوی مکئی کے بھنے دانوں میں آئے کسی پتھر کے اس روڑ کی طرح لگتی تھی جو منہ میں آکر سارے ذائقے او ر مزے کو ہی خراب کر جا ئے ۔ بری یادیں ہمیشہ سلگتے انگاروں جیسی ہوتی ہےں ۔ وقت بے وقت کوئی نہ کوئی چنگاری ان سے اڑتی اور سلگتی رہتی ہے ۔ کبھی دامن جلاتی ہےں اور کبھی دامن دل ۔ احسان الٰہی کی تو پوری کتابِ زندگی جل اٹھی تھی۔ جہاز کی پشت سے ٹیک لگائے احسان الٰہی نے سوچا تھا ۔ وہ گھر جا کر اپنی بیوی اور بےٹے کو یہ خبر فوراً نہےں سنائے گا ۔ آہستہ آہستہ تےار کر کے بتائے گا ۔ زندگی کے اس مشکل مرحلے میں جب کہ وہ اندر سے خود بے حد دکھی اور ڈرا ہوا تھا اور اسے اپنا ڈر اور دکھ چھپانے اور ہنسی کو چہرے پر سجانے کے لےے دگنی محنت کرنی پڑ رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے سوچا تھا گھر جا کر کسی روز وہ اکیلے کمرے میں خود سے اس دکھ پر روئے گا۔ بوجھ کم ہوگا ۔ کچھ آنسوﺅں میں بہہ جائے گا ۔ ۔۔ کچھ کو وہ بھول جائے گا۔ ائرپورٹ سے گھر کے لےے رخصت ہوئے تو بیوی اور بچہ اس کے دائےں بائےں بےٹھ گئے۔ بیوی بات کرنے سے زیادہ ناراضی بھری خود کلامی میں بول رہی تھی۔

          ”آپ دوبارہ کوئٹہ مت جائےے گا ۔ بیوی نے ذرا روکھا سا منہ بنا کر کہا تھا۔ ادھر ہم اکیلے رہتے ہےں ۔ امی لوگ کتنی بار آکر پوچھ سکتے ہےں۔ آپ کو وہاں جا کر ہماری فکر ہی نہےں ہوتی ۔۔۔۔ اب آئے ہےں تو چوٹ لگوالائے ہےں ۔ جو خوشی کے چار دن اکٹھے گزارنے ہوتے ہےں اب آپ وہ کمرے میں لےٹ کر گزارےں گے، نہ کسی پارٹی میں جائےں گے نہ کسی دوست کی طرف ۔میرا کیا قصور ہے۔ ساری سوشل لائف ہی ختم ہوگئی ہے ۔۔۔۔ میری زندگی صرف انتظار میں ہی کٹے گی کیا ؟

          احسان الٰہی کو جھٹکا سا لگا ۔ اس کا خیال تھا یہ تعلق اور ساتھ تو اےسا ہے کہ طوفانوں میں بھی ہمت بندھاتا ہے، مشکل میں پار لگاتا ہے ۔ عمر بھر کاتعلق کوئی کچے دھاگے سے تھوڑا بندھا ہوتا ہے ۔۔۔۔ وہ باقاعدہ بدمزہ ہوا تھا۔ منہ بنا کر بولا ۔۔۔۔ ”بابا! میں کوئی سےر سپاٹے کے لےے تو نہےں جاتا نا۔۔۔۔ جب جب ٹور ہوتا ہے تم لوگوں کی خوشی کے لےے ہی تو اتنی دور جاتا ہوں ۔۔۔۔ کماتا ہوں ۔۔۔۔ تحفے لاتا ہوں ۔۔۔۔۔ آدھا ۔۔۔۔“ وہ بات نامکمل رہ گئی ۔ اچانک پےچھے سے آنے والے ایک ٹرک نے اتنے زو ر سے ٹکر ماری تھی کہ گاڑی الٹ کر سڑک سے نےچے جا گری ۔۔۔۔ ڈرائےور سب سے پہلے باہر نکلا، اس نے پہلے صاحب کو نکالا ۔ بیوی اس دوران اپنے روتے بےٹے کو گاڑی سے نکال کر سےنے سے لگائے خود بھی سہمی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ احسان الٰہی کا ہاتھ جس بڑی سی پٹی میں لٹکا کر سےنے سے باندھا ہوا تھا وہ نےچے گر چکی تھی اور احسان الٰہی کا آدھا بازو بے آسرا لٹکا ہوا تھا۔

          ”اوہ نو ۔۔۔“ بیوی نے بےٹے کو قرےباً زمین پر پٹخ ہی ڈالا تھا ۔۔۔” اوہ نو ۔۔۔۔ احسان الٰہی ۔۔۔۔ تمہارا بازو ۔۔۔ آدھا رہ گیا۔۔۔ ادھورا ۔“

           اس نے بے ےقےنی سے اپنا سر تھام لیا۔

          ڈرائےور گاڑی کا معائنہ کر رہا تھا ۔ جانے کے لےے متبادل انتظام کی سوچ رہا تھا۔ احسان الٰہی کا جسم اس ٹکر سے پھر سے دردوں کی آماجگاہ بن گےا تھا۔ اسے بےٹھنے کو آرام دہ جگہ کی تلاش تھی ۔۔۔۔ مگر اس کے کانوں میں بیوی کی

 ”اوہ نو ۔۔۔۔“ گونج رہی تھی۔” تم آدھے ادھورے رہ گئے“ والا جملہ زہر میں بجھے تےروں کی طرح بار بار لگ رہا تھا۔

          ”نہےں۔۔۔۔ میں اپنی دوستوں ، عزیزوں کو کیا منہ دکھاﺅں گی، ایک ٹنڈے آدمی کے ساتھ ۔۔۔ کےسے جاﺅں گی ۔ او نو ۔۔۔“

 اس کا بس نہےں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر گزرے۔

          ”سوری احسان الٰہی ۔۔۔۔ سوری!میں نے تو ابھی زندگی شروع کی ہے۔ ایک کٹے پھٹے ادھورے آدمی کے ساتھ نہےں گزار سکتی ۔ ۔۔ میری خوشی ۔۔۔۔ میرا فخر ۔۔۔۔سب رخصت ہو چکا۔ میں کس کس کے آگے وضاحت کرتی پھروں گی ،کس کس کو سمجھاﺅں گی کہ میں نے شادی ایک صحےح سلامت بندے سے کی تھی ۔۔۔۔ یہ حادثہ بعد میں ہوا ۔۔۔۔ مےرے ماں باپ نے تو ایک اچھے مستقبل کی امید پرایک مکمل آدمی سے بےاہا تھا ۔ وہ ادھورا ہو گےا تو میرا کیا قصور۔ اوہ خدایا ۔۔۔۔ یہ مےرے ساتھ ہی کیوں ہوا ۔۔۔۔ وائے می ۔۔۔۔ وائے می۔“

و ہ تکلےف سے بے قابو ہو رہی تھی۔

          احسان الٰہی کی کتابِ زندگی کے وہ سارے ورق جو ابھی پلٹنے تھے اور جس میں اس نے اپنی بیوی کی مددسے اس امید او ر ےقےن کے باب لکھنے تھے ۔ وہ اس کے سامنے پھٹتے چلے گئے ۔۔۔۔

ابھی وہ گھر سے دور تھے اور پھر گھر سے دور ہی رہ گئے۔

          وہ گھر اکیلا پہنچا ۔۔۔۔ دفتر کے ڈرائےور نے صاحب کے کہنے پر بےگم صاحب کو الگ سے ٹیکسی کروا کے دی تھی تاکہ وہ اپنی ماں کے گھر جا سکے ۔ اس نے ایک ٹُنڈے کے ساتھ جانے اور ساتھ رہنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

          کبھی کبھی ہوتا ہے اےسے،جب تربےت صرف اپنی ضرورت، خوشی اور ذات کے حوالے سے ہوئی ہو ۔۔۔۔ تو ےہی طرز عمل ہو سکتا ہے احسان الٰہی کو یہ بات سمجھنے میں زیادہ دن نہےں لگے۔ اس کی بیوی کے والدےن اپنی بیٹی کے مکمل ساتھ تھے۔ اس کی باتےں ان کے منہ سے زیادہ دلائل کے ساتھ سن کر احسان الٰہی سُن ہی رہ گےا تھا ۔۔۔۔ اسے لگا صدموں نے اس کا گھر اور دَر دیکھ لیا ہے۔ اب وہ کوئی بھی صدمہ سہہ سکتا ہے اور کسی بھی بڑے سے بڑے صدمے کی توقع کر سکتا ہے۔ ابھی لیہ میں بسے اپنے والدےن اور بہن بھائےوں کو اس نے اپنے حادثے اور بیوی کے روےے سے پیدا ہونے والے سانحے کی خبرنہ کی تھی ۔۔۔۔ وہ کےسے بتاتا کہ ا س نے اپنے ماں باپ سے ضد کر کے اپنے سے مختلف اور بہتر نظر آنے والے جن لوگوں کے ہاں شادی کروائی تھی ۔۔۔۔ وہ تکلےف کے دنوں کو کس قدر تکلےف د ہ کر گئے ہیں ۔۔۔۔ یہ کب خبر ہوتی ہے کہ دور سے پھول جیسے نظر آنے والوں کے ساتھ اس قدر کانٹے بھی ہوںگے۔

          جس روز رشتہ ٹوٹا اور اس کا بےٹا اسے یہ کہہ کر تھما دےا گےا کہ ایک دیہاتی اور قصباتی افسر کا بےٹا ہے ۔ ہماری بےٹی کے کیرئےر اور خوشیوں میں رکاوٹ بنے گا ۔ نہ کوئی بحث ہوئی ، نہ مقدمہ ہوا ، نہ دلیل نہ وکیل ۔۔۔۔۔

وہ جانے لگے تو احسان الٰہی نے دل مضبوط کر کے صرف ایک بات پوچھی تھی ۔

          ”انکل! آپ لوگ کس درخت کا پھل کھاتے رہے ہو۔“

          زہر سے بجھے اس سوال کی انکل کو سمجھ بھی آئی یا نہےں، انہوں نے ہنس کر جواب دیا۔

          ”میاں! تم کیا سمجھو ۔ ہم آج کے لوگ ہےں ۔ ہمارے تو گھر کا بچہ بچہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہے ۔ تمہاری طرح لیہ کے ٹاٹ سکولوں سے اٹھ کر اسلام آباد نہےں آ بسے ۔۔۔۔ ہمیں اپنی زندگی جےنا ہے ۔ ہماری اپنی ترجیہات ہیں۔ چاہے تم ہمیں کٹھور سمجھو ۔ ہم اسے حقےقت پسندی کہتے ہےں۔زندگی خیالوں سے نہےں حقےقت پسندی سے اچھی گزرتی ہے۔“

          احسان الٰہی نے اس لمحے کے دکھ کو اس دن اپنی شکست کا عنوان بنانے کی بجائے ہتھےار بنانے کا فےصلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔ یونیورسٹی ۔۔۔۔ اس کے ذہن کے پردے پر ہتھوڑے سے چلنے لگے ۔ وہ خود بھی یونیورسٹی سے پڑھا تھا تب تو کسی نے بے وفائی ، بد عہدی اور خود غرضی کوسمجھ داری، روشن خیالی اور حقےقت پسندی کا نام نہےں دیا تھا۔

          وہ پھر رو دےنے والے انداز میں بڑایا ۔” سب سے پہلے ۔۔۔۔اپنا آپ ۔۔۔۔ سب سے پہلے اپنی خوشی ۔۔۔۔ وہ بھی نامکمل اور ادھورے وجود سے دور ۔۔۔۔ اسلام آباد سے لاہور آنے، موزوں مصنوعی ہاتھ بنوانے اور یونیورسٹی جوائن کرنے میں اسے ایک سال سے کم وقت لگا ۔۔۔۔ ڈاکٹر رضی اس کے استاد ہی نہےں رہنما بھی تھے ۔۔۔۔ انہوں نے اسے سکھایا تھا ۔

          ”اگر ناکامی کو کامےابی میں بدلنا ہے تو پہلے یہ ماننا سیکھو کہ تمہاری اپنی غلطی کہاں ہے ۔ منصوبہ بندی غلط تھی یا حکمت عملی ۔۔۔۔ اپنی کوتاہی نہےں مانو گے تو صرف دوسروں کواِلزام دو گے، عمر بھر مزید ناکامیوں کو گلے لگاتے رہو گے ۔ پھر ایک دن انہی کے بوجھ تلے دفن ہوجاﺅ گے۔“

          تبھی تو پہلی کلاس میں آتے ہی احسان الٰہی نے ایک محبت بھری نگاہ سب پر ڈالی تھی ۔۔۔۔ جیالوجی کی کلاس آخر تک بھری ہوئی تھی۔

          ”پتھروں سے واسطہ پڑے یا پتھر دلوں سے زندگی کا سفر رکتا نہےں، رکنا بھی نہےں چاہےے “ سامنے بےٹھے طلبہ و طالبات اپنے نئے استاد سے اس طرح کے کسی جملے کی توقع نہےں کر رہے تھے۔۔۔۔

          پتھروں کی باتےں پڑھتے ، کرتے اور لکھتے ہوئے وہ زندگی کو کہیں پےچھے چھوڑ آئے تھے ۔۔۔۔ کیرئےر ، کامےابی ، شادی، خوشی ۔۔۔۔ بس ےہی ان کا محور تھا ۔ ےہی مرکز ۔۔۔۔” آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی زندگی کی ویلیوز کیا ہےں۔“

 اکثر نے جواب دےا۔ ”ہماری زندگی کی بڑی ویلیو ہے۔“

          وہ ہنس دیا تھا ۔۔۔۔ نہےں بابا نہےں ۔۔۔۔ وہ ویلیو نہےں دوسرے والی ۔۔۔۔ جس کے ساتھ جےتے ہیں۔ جو سانسوں کی طرح انسانوں کے اندر جےتی ہےں۔ جن کی ہم آپ قدر کرتے ہےں اسے ویلیو دےتے ہےں۔ جن کے بغےر جی نہےں سکتے، اور جن کے پاس وہ نہ ہوں ان کے ساتھ بھی جی نہےں سکتے۔“

          جب لیکچر ختم ہوا تو طلبہ و طالبات نے اسے گھےر لیا تھا ۔ Sir! You are wonderful پہلے دن ، پہلے ہی لیکچر نے ہماری سوچوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک لڑکی بولی تھی ۔

          ” سر آج سے قبل ہم نے کبھی سوچا بھی نہےں تھا کہ ہر زندگی کی کچھ قابل قدر ویلیوزہونی چاہئےں۔ دوسروں سے بہتر، دوسروں سے مختلف۔“

          دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب کا ہیرو بن گےا تھا ۔ جب وہ پوچھتا کہ ویلیوز کےسے بنتی ہےں تو کوئی یہ نہ کہتا کہ دوسروں کو دیکھ کر ۔ اب ایک ہی جواب ملتا تھا ”یہ Attitude سے بنتی ہیں اور Attitude بنتا ہے Belief سے۔“

          وہ اپنے ہر لیکچرمیں Belief کو بہتربنانے اور اس پر بات کرنے کا موقع ڈھونڈہی لےتا ۔ اور اس قد ر غےر محسوس انداز میں بات ہوجاتی کہ سننے والوں کی دل و نگاہ کی دنیابدل جاتی اور انہےں خبر بھی نہ ہوتی کہ ایسا کب اور کےسے ہوا؟

          اسی دوران اسے ایک ماہ کے لےے ملائشیا جانے کا موقع ملا ۔ واپسی پر اس نے صرف ایک بات کو ہائی لائٹ کیا تھا جو اس کے پروفےسر تنکور حیم نے کہی تھی کہ تمہارے ملک سے آنے والے مسلمان طالب علموں اور ہمسایہ ملک کے مسلمان طالب علموں کا فرق صرف ویلیوز (Values) کا ہے ۔ یہ 90 فی صد چےٹ کرتے ہےں اور وہ 90 فی صد چےٹ نہےں کرتے ۔۔۔۔ اِن کا فوری اور وقتی کامےابی کے حصول پر سارا زور ہوتا ہے ۔ اس کے لےے خوشامد ۔ جھوٹ اور غلط بےانی سے لے کر پرانے ٹرم پیپرز ،اسائنمنٹس کو اپنے نام سے چھپوانے سے شروع ہوتے ہےں ، دھوکے کو چالاکی ، خوشامد کو حکمت عملی اور جھوٹ کو ذہانت کا نام دےتے ہےں ۔ عملی طور پر جب زندگی میں آتے ہیں تو اپنوں ہی کے لےے نہےں غےروں کے لےے بھی سخت ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہےں ۔ صرف اپنی ذات ، اپنی خوشی اور اپنے کیرئےر کا سوچتے اور سب کو روندتے جاتے ہےں ،نتےجتاً ہر محبت ، ہر خیر خواہی سے محروم ہوتے جاتے ہےں۔“

          بات مکمل ہوئی تو احسان الٰہی نے بڑے دکھ سے پوچھا تھا ”کیا ہم ہمیشہ ہی اپنوں کے ہاتھوں دکھ اٹھاتے رہےں گے؟“

          ”قطعی نہےں ۔۔۔۔۔ کتنی بلند آواز کلاس سے آئی تھی ۔احسان الٰہی کے دل کی کلی کِھل سی گئی تھی ۔ اسے لگا جےسے دل پر لگے داغوں اور رکھے بوجھ میں کمی ہونے کا وقت آگےا ہے ۔

          ”سر ! آپ سے ایک بات پوچھوں ۔“ پچھلی سےٹوں پر بےٹھی سعدیہ نے ہمت کی تھی ۔۔۔۔” ضرور“ احسان الٰہی کی مسکراہٹ نے اس کا حوصلہ بڑھاےا تھا ۔۔۔۔ ”آپ گئے کسی کام سے تھے ۔ جیالوجی کے حوالے سے سٹڈی اور سیمپوزیم میں شرکت کے لےے، آپ نے کوالالمپور دیکھا ہوگا ۔ ملائشیا کی ترقی ، سڑکیں لوگ ، عمارتےں ، پھل کیا کچھ نہ دیکھا ہوگا مگر آپ نے ہم کو جو بات بتائی ہے ان سب منظروں سے مختلف ،جےسے پورے سفر میں آپ کی نگاہ اور توجہ اسی پر رہی ہو ۔۔۔۔۔اپنی ویلیوز پر ۔۔۔۔ اپنے Belief پر ۔۔۔ ا س کے حوالے سے کمی محسوس ہوئی تو اس قدر دکھی بھی ہوئے اور دکھ ہم تک پہنچا یا۔وہ ایک دم سے خاموش ہوگئی تھی۔

          ”اس کی وجہ ۔۔۔۔ اس کی وجہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے۔“

           احسان الٰہی نے لمبا سا سانس لیا ۔

          ”یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے جو پائےلو کو ٹیلود نے لکھی۔

          ایک تاجر نے اپنے بےٹے کو خوشی کا راز جاننے کے لےے اپنے ہاں کے سب سے زےادہ دانش مند آدمی کے پاس بھےجا ۔ متواتر چالیس دن صحرا میں چلنے کے بعد نوجوان آخر کار ایک پہاڑ کی چوٹی پہ واقع ایک خوبصورت محل میں پہنچا ۔ ےہی وہ جگہ تھی ۔ جہاں وہ دانش مند رہتا تھا ۔ جس کی اسے تلاش تھی ۔

          نوجوان جب قلعہ کے مرکزی کمرے میں داخل ہوا جو تمام سرگرمیوں کی آماجگاہ تھا تو بجائے اس کے کہ اس کی ملاقات یہاں ایک بزرگ آدمی سے ہوتی، اس نے دیکھا تاجر آ جا رہے ہےں ایک طرف کونے میں بےٹھے ہوئے کچھ لوگ گفتگو میں مصروف ہیں، سازندوں کا ایک چھوٹا سا گروہ میٹھی دھنےں بجا رہا ہے اور ایک میز اس علاقے کے مروجہ قسم قسم کے کھانوں سے آراستہ تھی۔ دانش مند مختلف لوگوں سے یکے بعد دےگر باتےں کر رہا تھا ۔ اس نے نوجوان کی آمد کی وجہ سنی اور پھر اس نے نوجوان سے کہا”فی الحال تومےرے پاس خوشی کا راز آشکار ا کرنے کے لےے وقت نہیں ہے۔ اس دوران تم محل کا ایک چکر لگا آﺅ اور ٹھیک دو گھنٹے بعد دوبارہ ملنے کے لےے ےہےں آ جانا ۔ اور ہاں اس دوران ایک چھوٹا سا کام بھی کرنا“، دانش مند نے کہا اور پھر ایک چھوٹی سی چمچ نوجوان کو تھما کر اس میںزےتون کے تیل کے دو قطرے انڈیل دےے ۔ ”سےر کے دوران تم اس بات کا خیال رکھنا کہ تیل گرنے نہ پائے۔“اس نے یاد دلایا۔

          نوجوان نے اپنی آنکھوں کو چمچ پر جمائے ہوئے محل کی سےڑھیوں پر اترنا چڑھنا شروع کیا ۔ دو گھنٹے گزرنے کے بعد جب وہ کمرے میں دانش مند کے سامنے حاضر ہوا تو اس نے پوچھا”۔۔۔۔ مےرے کھانے کے کمرے میں لٹکے ہوئے دیوار گےر ایرانی قالےن کےسے لگے ۔ مےرے باغ میں غور کیا باغبان نے کس محنت سے دس سال میں اسے دنیا کا بہترےن باغ بنا دیا ہے اور ہاں مےرے کتب خانوں کی ترتےب اورخوب صورتی کے ساتھ ساتھ کتابوں کے موضوعات اور جلدوں کی نفاست کیسی لگی !۔ ۔۔۔“ نوجوان یہ سن کر بوکھلا گےا ۔ اسے بڑی شرمندگی سے اعتراف کرنا پڑا کہ اس نے تو ان میں سے کسی بھی چےز کی طرف دھیان نہیں دیا ۔ اس کی تو ساری توجہ صرف چمچ اور اس میں پڑے تیل پہ مرکوز رہی کہ کہیں وہ چھلک نہ جائے۔

          ”اچھا ۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہواہے، اب تم واپس جاﺅ اور مےرے محل کی اس چھوٹی سی کائنات کے عجوبوں کا پھر سے مشاہدہ کرو ۔ کیونکہ ہم تو کسی آدمی پر اس وقت تک اعتماد نہےں کرتے جب تک اس کے گھر سے اچھی طرح واقف نہ ہو جائےں۔ “ نوجوان نے اطمےنان کا سانس لیا اور دوبارہ محل کی سےر پر نکل کھڑا ہوا ۔ اس بار اس نے دیواروں اور چھتوں ، پر آوےزاں فنون لطےفہ کے تمام شاہکاروں اور شہ پاروں کی طرف خوب توجہ کی ۔ باغات ، پھولوں ، کہساروں اور کیاریوں کے حسن کو بغور دیکھا اور واپسی پر تمام تفصیلات سے دانش مند کو آگاہ کیا ۔

          ”اچھا مشاہدہ ہے ۔“ دانش مند نے کہا ”مگروہ تیل کے دو قطرے کہاں ہیں جو میں نے تمہارے سپرد کےے تھے، وہ مجھے لوٹا دو۔“ ۔۔۔ نوجوان نے گھبرا کر اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جس میں پکڑا ہوا چمچ جانے کب کا خالی ہو چکا تھا۔

          ”دیکھو !“ داناﺅں کے دانا نے کہا’

’ تم کو صرف ایک ہی نصےحت کرتا ہوں ۔ خوشی کا راز یہ ہے کہ تم دنیا کے تمام عجوبوں کو دیکھو مگر چمچ میں موجود تیل کے قطروں کو کبھی فراموش نہ کرو۔“

          کہانی سن کر سعدیہ ایک دم سے کھڑی ہوگئی تھی ۔

           ”You are perfect man sir”

 ایک مکمل اور آئےڈیل ۔۔۔ ہمارے لےے آپ ہی دانا ﺅں کے دانا ہیں۔

          احسان الٰہی کے چہرے پر مسکراہٹ یوں پھیلی تھی جےسے آسماں پر مشرق تا مغرب قوس و قزح پھیلی ہو ۔

          ”پکی بات !“

 اس نے سعدیہ کی آنکھوں میںآنکھےں ڈال کے پوچھا تھا ۔۔۔ اور اگر میں وجود سے آدھا ادھورا ہوا تو کیا تب بھی!

          اگلے لمحے احسان الٰہی نے تےن سال بعد اپنا بایاں ہاتھ پہلی بارجےب سے نکال لیا تھا وہ ہاتھ جسے تےن سال سے وہ کامےابی سے سٹائل بنائے ہوئے تھے، اس خوف اور ڈر سے چھپائے ہوئے تھا کہ کہیں کسی روز کوئی طالب علم ہی اس کو ٹنڈانہ کہہ دے ۔

” یہ دیکھو ۔۔۔۔“

اس کی آواز کسی درد میں ڈوبی چیخ کی طرح تھی ۔۔۔۔

”ایک آدھا ادھورا آدمی کےسے آئےڈیل ہو سکتا ہے! جھوٹ مت بولو حقےقت کو مانو ۔ حقےقت کا سامنا کرو ۔۔۔۔ لوگ مےرے ساتھ اچھاوقت گزار سکتے ہیں ۔۔۔۔ کیا مےرے ساتھ جیا بھی جا سکتا ہے۔ ایک آدھے ادھورے کے ساتھ۔“

           ان کے دائےں ہاتھ میں وہ مصنوعی ہاتھ تھا جو انہوں نے اپنے بائےں ہاتھ سے الگ کیا تھا۔۔۔۔ کلاس میں خاموشی اتنی مکمل تھی جتنی ہو سکتی ہے، نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب ۔۔۔۔احسان الٰہی تیزی سے کلاس روم سے نکل گئے تھے۔۔۔۔

  یونیورسٹی سے واپسی پر ان کا جسم ہی نہےں روح بھی تھکی ہوئی تھی۔ آنکھےں کسی گہرے غا ر جیسی ہو رہی تھےں۔ اور ہونٹ پیاسی دھرتی جےسے ،انہیںلگا آج وہ ایک بار پھر چاغی کے پہاڑ کی کسی دوسری کھوہ میں جا گرے ہےں ۔ پہلے گرے تو بیوی کھودی تھی، آج بہت سے محبت کرنے والے طالب علموں سے محرومی حصے میں آئی، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ابھی وہ گاڑی سے تھوڑی دور تھے جب اچانک لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک بڑے گروپ نے انھےں گھیر لیا تھا۔

          ان کی باتوں اور سانسوں اور سسکیوں میں کیا تھا انھےں خبر نہےں ہوئی۔ احسان الٰہی کو صرف ےہی پتا چل سکا کہ ان کے بائےں ہاتھ میں جان پڑتی جا رہی تھی۔ اس پر ثبت ہونے والے ہر بو سے اور گرنے والے ہر آنسو کا پیغام انھےں بہت اچھی طرح سمجھ آ رہا تھا۔

[کہانی کار اختر عباس افسانوں کے تین مجموعے پھٹا ہوا دودھ ،خاموشی پیچھے شور اور سلگن کے علاوہ بچوں اور بڑوں کے لئے اکیتیس کتابیں لکھ چکے ہیں ،وہ ملک کے ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹہنشل آئیڈیاز کے چیف انسپائیرنگ افیسر ہیں انہیں نافتخار ادب ایوارڈ کے علاوہ یو بی ایل لٹریری ایکسیلینس ایوارڈ بھی مل چکا ہے ]

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے