سر ورق / کہانی / ”گدھ“ …وسیم بن اشرف

”گدھ“ …وسیم بن اشرف

قسط نمبر2

دونوں نے ایک دوسرے کو مر مٹنے والی نگاہوں سے دیکھا اور اپنے اپنے راستے پر ہو لئے ۔

شیراز نے نفرت اور غصہ سے رانو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “مجھے لگتا ہے تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی، تو اس چور ساربان سے اب بھی ملتی ہے ”۔

سر جھکائے چپ چاپ بیٹھی رانو ایک دم سے بولی

“یہ تجھ سے کس نے کہا؟ کسی پیر فقیر یا سادھو سنت نے تیرے کان میں کچھ پھونک دیا ہے ”

“بکواس کرتی ہے میں تجھے ٹوٹے ٹوٹے کر کے پھینک دوں گا” وہ پھنکارتے ہوئے بولا، اسی اثناءمیں ماں اور باپو آ گئے ۔

“اماں اس کو سمجھا لو، یہ ہر وقت میرے پیچھے پڑا رہتا ہے ، ایسا نہ ہو میں اپنی جان دے دوں” رانو منہ بسورنے لگی۔

“بات کیا ہے ؟” باپو نے پوچھا۔

“یہ اب بھی اس ساربان سے ملتی ہے ”

“یہ جھوٹ بولتا ہے باپو”

“باپو! یہ کوئی گل کھلائے گی، ہمیں سر اٹھانے کے قابل بھی نہ چھوڑے گی”

“اچھا تو جا کام پر دیر ہو جائے گی” باپو نے اسے ڈانٹا۔

“ٹھیک ہے باپو میں جاتا ہوں جس دن کوئی چاند چڑھا دیا ناں تو یاد کرے گا” تو شیراز پا ¶ں پٹختا چلا گیا۔

“سر پر چڑھا رکھا ہے تو نے رانو کو” ماں نے باپ بیٹی کو زہرآلود نظروں سے گھورا اور پھر، بات آئی گئی ہو گئی۔

٭…………٭

اگلے روز ابھی دن چڑھا ہی تھا کہ نذیرے کا کارندہ رانو کے گھر آیا، اﷲ رکھا کو بلایا اور نذیرے کا پیغام دیا کہ آج دوپہر کو اس سے ملے ۔ “پہنچ جا ¶ں گا” اﷲ رکھا نے جواب دیا، کارندہ چلا گیا۔ دوپہر کو رانو کا باپو اﷲ رکھا نذیرے کے ڈیرے پر پہنچ گیا، نذیرا اسے علیحدگی میں لے لیا، ایک نوکر سے چائے لانے کو کہا اور اﷲ رکھا کو مخاطب کر کے کہنے لگا

“اﷲ رکھا تو جانتا ہے اب تک کتنے پیسے مجھ سے سود پر لے چکا ہے ، اور کئی ماہ سے سود بھی نہیں دیا”۔

“نذیرے بھائی میں پڑھا لکھا تو ہوں نہیں، آپ ہی بتا دو” اﷲ رکھا نے پوچھا۔

“تھوڑے تھوڑے کر کے ایک لاکھ لے چکا ہے تو۔ اور سود ملا کر ڈیڑھ لاکھ سے اوپر بنتے ہیں” نذیرے کے لبوں پر مکروہ مسکراہٹ تھی۔

اﷲ رکھا کا رنگ پیلا پڑ گیا، اتنی رقم وہ لے چکا تھا، جوئے اور افیم نے سارا پیسہ نگل لیا تھا۔

“نذیرے بھائی! میں تیرے آگے ہاتھ باندھتا ہوں، میرے گھر والوں کو پتہ نہ چلے ، میں تیری رقم لوٹا دوںگا”۔ وہ گڑگڑایا۔

“کیسے لوٹائے گا، تیرے گھر میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں، ہاں اگر تو میری ایک بات مان لے تو سارے پیسے چھوڑ دوں گا۔ نذیراصل بات کی طرف آتے ہوئے بولا۔

“کک، کون سی بات؟ اﷲ رکھا کوتعجب ہو رہا تھا کہ نذیرے جیسا کمینہ اتنی بڑی رقم معاف کرنے کے عوض کون سی بات منوانا چاہتا ہے ۔

“رانو کی شادی مجھ سے کر دے ” نذیرے نے جیسے بم پھوڑ دیا ہو۔ اﷲ رکھا کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔

“یہ کیا کہہ دیا ہے تو نے نذیرے بھائی”۔

“اس میں حرج ہی کیا ہے ؟”

“تو میری عمر کا ہے ، رانو تو ابھی 25 کی بھی نہیں ہوئی”

“میں سودا نہیں کر رہا،شرعی بات کہہ رہا ہوں”

“نہن، نہیں، نہیں، رانو، شیراز، اس کی ماں کوئی بھی میری نہیں مانے گا۔ وہ مجھے گھرسے نکال دیں گے ”۔

“دیکھ لے ! سوچ لے ، ورنہ ڈیڑھ لاکھ، میرے پاس ایک ایک پیسے کا حساب اور تیرے انگوٹھے لگے کاغذ اورگواہ موجود ہیں” سب کچھ بیچ کر بھی تو میرے پیسے ادا نہیں کر پائے گا۔

“میں کچھ سوچتا ہوں” اﷲ رکھا کے اوسان خطا ہو رہے تھے ، پیسے لیتے وقت اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ وقت بھی آئے گا! بیوقوف جانتا نہ تھا نذیرا جس کی گندی نظر ایک عرصہ سے رانو پر تھی وہ تو اسے پھانستا رہا تھا، پیسے بھی دیتا، وہی پیسے واپس لیکر اسے افیم بیچتا، اس کے اڈے پر جوا ہوتا، اور اس سے پیسے لیکر اس کے اڈے پر ہار جاتا” نذیرا اسے بدھو بناتا گیا اور وہ بنتا گیا۔

“سن میں تجھے ایک تجویز بتاتا ہوں” نذیرا کہنے لگا، اﷲ رکھا کے کان کھڑے ہو گئے ، نذیرا اسے دھیرے دھیرے کچھ بتانے لگا، وہ سر ہلاتا رہا، چائے پینے کے بعد نذیرے نے چند کاغذ منگوائے جن پر کچھ لکھا ہوا تھا،اﷲ رکھا کو کیا پتہ کہ ان پر کیا لکھا ہے ، جہاں جہاں نذیرے نے کہا وہ انگوٹھے لگاتا گیا، بات طے ہو گئی۔ نذیرے نے بوڑھے کو برے طریقے سے پھانس لیا تھا، اسے واپسی کے وقت 5 ہزار روپے دئیے ، اﷲ رکھا کے چہرے پر اب اطمینان تھا، غیرت اور بے غیرتی کافرق وہ مٹا چکا تھا، ڈیڑھ لاکھ میں وہ بیٹی بیچ چکا تھا، نذیرے کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔

٭…………٭

معاہدے کے مطابق اﷲ رکھا نے ٹھیک ایک ماہ بعد رانو کو نذیرے کے نکاح میں دے دینا تھا۔

 تین ہفتے آناً فاناً گزر گئے ، دسمبر کا آخری عشرہ تھا، رانو، شیراز، اس کی ماں اور باپو روکھی سوکھی کھا چکے تو اﷲ رکھا نے یہ بتا کر سب کو حیران کر دیا تھا کہ اس نے رانو کا رشتہ طے کر دیا ہے اور اسی مہینے کے آخر میں رخصتی ہے ، سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا، رانو کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، حوصلہ کر کے بولی باپو! “یہ تیرا فیصلہ ہو گا، میرا نہیں، کسی سے شادی نہیں کروں گی میں’ اس سے تو بہتر تھا تو مجھے دیوار میں چنوا دیتا”۔

“تو اپنا منہ بندھ رکھ، جو کر رہا ہوں تیرے بھلے کیلئے کر رہا ہوں” شیراز سے رہا نہ گیا بولا “باپو تو نے اکیلے ہی اتنا بڑا فیصلہ کر لیا، کون ہے وہ؟”

“نذیرا بھٹے والا”۔

سب کو زور کا جھٹکا لگا، ایسے لگا اﷲ رکھا نے نام نہیں بتایا بلکہ ان کو آگ کے الا ¶ میں دھکا دے دیا ہو۔

“باپو! تیرا دماغ تو نہیں چل گیا، اس بدنام زمانہ سے بیٹی بیاہے گا، اس 50 سال کے بھیانک بوڑھے سے ، اس منشیات فروش اور سودخور سے ” شیراز سے غصہ ضبط نہیں ہو رہا تھا، ماں اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔ بالآخر حواس میں آتے ہوئے بولی “تو میرے سر کا سائیں ہے تو رانو میرا خون ہے ، نہ جانے تو کیا کرتا پھرتا ہے ، اپنی چارپائی اٹھا اور جا کسی درخت کے نیچے بچھا کر دن رات افیم کھایا کر، دماغ تو تیرا اویسے ہی ٹھکانے پر نہیں ہے ، اب جو تو نے رانو کے بارے میں کوئی بات کی تو ہم تجھے اس گھر سے دھکے دے کر نکال دیں گے ، شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ، دنیا سنے گی تو ہم سب پر تھو تھو کرے گی”۔ ماں نے دل کا غبار نکالا۔

رانو کمرے میں بیٹھی تھی، آنسو رکنے کا نام نہ لے رہے تھے ، شیراز نے ایک قہرآلود نظر باپو پر ڈالی اور گھر سے نکل گیا، ماں روکتی رہ گئی، باپ کی اس بے غیرتی پر اسے کسی پل چین نہ آ رہا تھا، جوان خون تھا اسے محسوس ہو رہا تھا کہ غربت سے تنگ باپ کے اس فیصلہ نے زہریلے خنجر کی طرح اس کے دل پر گھا ¶ لگایا ہے ، اسے کچھ سجھائی نہ دیا تو بے دھڑک، ہر خوف و ڈر کو بالائے طاق رکھ کر نذیرے کے ڈیرے کی طرف چل دیا، دو روز قبل ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث ابھی بھی کہیں کہیں کیچڑ تھا، اسے لگا باپو نے رانو، ماں اور اس کے منہ پر بھی بے غیرتی کا کیچڑ مل دیا ہے ”۔

نذیرے کے ڈیرے کے مرکزی دروازے پر کھڑے بندوق بردار نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا،“ کہاں منہ اٹھائے جا رہا ہے ’؟”۔

“نذیرے سے ملنا ہے ”

“احترام سے نام لے ، چودھری نذیر بول”

“چودھری ہو گا تمہارا، مجھے کھانے کو نہیں دیتا”

“جا بول اسے جا کے اﷲ رکھا کا بیٹا آیا ہے ”

“اگر نہ بولوں تو”

“تو مجھے دوسرا راستہ آتا ہے ” شیراز پھنکارا۔

اس سے پہلے کہ بات بڑھتی ایک کار آ کر رکی، نذیرا بڑی شان سے اترا، “کیا لفڑا ہے ”؟ اس نے چوکیدار اور شیراز کو تنا ¶ کی حالت میں دیکھ کر پوچھا۔

“آپ سے ملنے آیا ہے لیکن بدتمیزی کر رہا تھا جناب! چوکیدار بولا۔

“یہ وقت تو نہیں ہے کسی سے ملنے کا خیر تو اسے سٹور کے ساتھ والے کمرے میں لے جا” نذیرا رعب سے بولا۔

“جا بھئی بیٹھ، میں اپنے مہمانوں کی تھوڑی خاطر داری کر کے آتا ہوں” نذیر بولا۔

کار میں دو خواتین اور ایک لڑکا پچھلی سیٹ پر براجمان تھے ۔ شیراز نے جلتے کڑھتے ایک گھنٹہ انتظار کیا تب نذیرے کو آتے دیکھا۔ اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ کمینہ پی پلا کر آیا ہے ۔

“ہاں بول کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ جو میرا وقت برباد کرنے آ گیا” نذیرے نے نفرت سے ہونٹ سکوڑتے ہوئے کہا۔

“کیا پٹی پڑھائی ہے تو نے میرے باپ کو، کیوں ہمارا آشیانہ جلانے پر تل گیا، کیا بگاڑا ہے ہم غریبوں نے تیرا” شیراز نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔

“سیدھی بات کر جو میری کھوپڑی میں بھی آئے ، بجھارتیں نہ بجھا” نذیرا بھی ہتھے سے اکھڑ گیا۔

“تو میری بہن کے قابل ہے ؟” ہم غریب ہیں، بے غیرت نہیں” معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے تیرے جیسوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ہم، ہماری غربت کو ہماری کمزوری نہ سمجھ، دوبارہ میری بہن کا نام بھی لیا تو بستی والے وہ ہوتا دیکھیں گے جو اس سے پہلے انہوں نے نہ دیکھا ہو گا” شیراز کا غصہ عروج پر تھا۔

“ذرا چھری تلے سانس تو لے بچہ” نذیرے کے بھدے لبوں پر وہی مکروہ مسکراہٹ تھی جو اس کے بدنما چہرے کو اور بھیانک بنا دیتی تھی۔

“اچھو، اچھو” اس نے کسی ملازم کو پکارا۔

“جی مائی باپ” ملازم بھاگتا ہوا آیا، بات سن، نذیرے نے اس کے کان میں کچھ کہا، وہ چلا گیا، دس منٹ بعد 20,15 کاغذ اٹھائے آ گیا، نذیرے کو تھمائے اور چلا گیا، نذیرے نے وہ کاغذ شیراز کے سامنے میز پر پھینک دئیے اور بولا “دیکھ ان کو، پڑھ ان کو، پھر بات کرنا”

“میں کیا پڑھوں؟ کیا ہے یہ سب؟” شیراز نے کاغذات کو گھورتے ہوئے کہا۔

“تیرا باپ میرا ڈیڑھ لاکھ کا مقروض ہے ، اس نے سودا کیا ہے میرے ساتھ، ڈیڑھ لاکھ کے عوض بیٹی کے رشتے کا، نہیں یقین، تو لے جا، کسی وکیل سے پڑھوا لے ’ میں نے کوئی زور زبردستی نہیں کی” شیراز کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا، اسے اپنا باپ گدھ لگا جو مردار کھاتا ہے ۔

“اگر تم لوگوں کو یہ سب نہیں منظور تو پھر فیصلہ پنچایت میں ہو گا؟” شیراز کے سینے میں انگارے دھک رہے تھے ، دماغ میں خوفناک خیالات کا بسیرا تھا۔

سرور ساربان کو رانو نے ملاقات کر کے سب بتا دیا تھا۔

“ہم اس بدقماش کے پیسے لوٹا دیں گے ” سرور نے بڑے عزم سے کہا، مجھے گا ¶ں بدر کرنا بھی اسی سازش کا حصہ تھا، خیر، میں اپنا اونٹ بیچ دوں گا۔ باقی کی ادائیگی کیلئے وقت لے لیں گے ”

“کیا میرے گھر والے تیری اس قربانی کو قبول کر لیں گے ، میں مر جا ¶ں گی، کنویں میں چھلانگ لگا دوں گی، رانو تیری نہیں ہو گی تو پھر کسی کی بھی نہیں ہو گی” اس کی آنکھیں نم اور لہجہ جذباتی تھا۔

“پگلی کہیں کی، رب سب کا ہے ، کچھ نہیں ہو گا۔میں کچھ نہیں ہونے دوں گا، سرور جان تو دے دے گا لیکن یہ برداشت نہیں کرے گا کہ تیرے وجود کو کوئی اوباش چھوئے ” جا رانو، گھر جا، ہوں تو ساربان لیکن کر دوں گا جان قربان، تیری آن ، بان، شان، مان، سمان پر حرف نہیں آنے دوں گا”۔ وہ جذباتی لہجے میں کہہ رہا تھا۔

٭…………٭

رانو نے گھر آ کر ماں سے بات کی، ماں نے شیراز کو بتایا، تینوں خاموش بیٹھے تھے ، اﷲ رکھا نے انہیں جس دلدل میں دھکا دیا تھا وہ اس میں ڈوبنا نہیں چاہتے تھے ، بے بسی کی آگ انہیں جھلسائے دے رہی تھی۔ شیراز نے سرور ساربان کی پیشکش پر غور کیا، وہ جانتا تھا کہ سرور اور رانو ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور یہ بھی اسے خوب معلوم تھا کہ سرور میں اس نے کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی تھی، چوری کے الزام میں سرور کو بستی بدر کرنا بھی اب اسے اسی سازش کا ایک حصہ لگ رہا تھا، نذیرے منشیات فروش نے انہیں ایک ایسے جال میں جکڑ دیا تھا بظاہر جس سے رہائی ناممکن نظر آ رہی تھی، لیکن ساربان کا احسان انہیں اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا تھا، بالآخر اس نے خود سرور سے ملنے کا وعدہ کیا، اگلے ہی روز وہ سرور سے ملا، سرور نے اسے احترام سے اپنے چھپر نما گھر میں اکلوتی چارپائی پر بٹھایا، محبوبہ کا بھائی آیا تھا، احترام تو واجب ہو گیا تھا،

“سرور ہوشیار رہنا” شیراز نے کہا ہمارا واسطہ جن سے پڑا ہے وہ بڑے عیار اور مکار ہیں۔ اپنا اور اپنے اونٹ کا خاص خیال رکھنا۔ وہ اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پہلے پنچایت ہو جائے ، پھر سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے ”۔

دونوں کے پیار کا دشمن دوست بن کر آیا تھا، سرور کے دل میں ٹھنڈک سی پڑ گئی تھی، اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب تو خود کو بھی بیچنا پڑا تو بیچ ڈالے گا لیکن شیرازاور اس کے گھر والوں کی ان جرائم پیشہ کے آگے نظریں نہیں جھکنے دے گا، دونوں نے کچھ اہم فیصلے کئے اور شیراز گھر چلا آیا۔

٭…………٭

دسمبر کی 28 تاریخ تھی، دھوپ نے ہر چیز کو روشن کر رکھا تھا لیکن دل سیاہ تھے تو ان کے جو سر پنچ اور اس کے ساتھی تھے ، جنہوں نے من مرضی کا فیصلہ ٹھونس کر غریب کی عزت کو اپنے کوٹھوں کی زینت بنانا تھا، غلیظ لوگوں کی کوٹھیاں بھی کوٹھے ہی ہوتے ہیں، جہاں وہ خود بھی غلاظت کا ناچ ناچتے ہیں اور دوسروں کا تماشہ بھی دیکھتے ہیں۔

منظر چودھری کی کوٹھی کا لان تھا، دسمبر کی دوپہر کی دھوپ سکون دے رہی تھی، لان میں 2کرسیاں، ایک بنچ، تین چارپائیاں بچھی ہوئی تھی۔ ایک کرسی پر چودھری فواد بڑے طنطنے سے پھیل کر بیٹھا تھا، دوسری کرسی پر بستی کا نام نہاد معزز بوڑھا بیٹھا تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ چودھری کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے ، بنچ پر نذیر کے حواری اور ایک چارپائی پر شیراز اس کا باپ اور ان کے دو تین حامی بیٹھے تھے ۔ بستی کے کچھ لوگ آلتی پالتی مارے گھاس پر بیٹھے تھے ۔

“ہاں تو نذیر بتا کیا معاملہ ہے ؟” چودھری نے پنچایت کا آغاز کیا۔ نذیر نے اﷲ رکھا کے وقتاً فوقتاً ڈیڑھ لاکھ قرض لینے ، اور پھر قرض معافی کے عوض بیٹی کا نکاح اس سے کرنے کی تفصیل بتا دی، ساتھ ہی کاغذوں کا ایک پلندہ بھی چودھری کے آگے رکھ دیا۔

“اﷲ رکھا تم کیا کہتے ہو؟” وہ کیا کہتا، خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھا رہا، شیراز باپ کے دفاع میں بولا “چودھری صاحب! ہمارے باپو سے جوکرتوت سرزد ہوئے ، اس کی سزا اولاد کو کیوں دی جائے ، باپو نے سب قبول کر لیا، ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں، اس کے ساتھ ایک التجا کرتے ہیں”

“بولو، کیا کہنا چاہتے ہو؟” چودھری نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ہم نذیرے کے ڈیڑھ لاکھ لوٹا دیں گے ’ اپنی بہن فروخت نہیں کریں گے ”

“کیسے لوٹا ¶ گے ؟”

“ہمیں ایک ماہ کا وقت دیدیں”

“نذیرے تم کیا کہتے ہو؟”

“چودھری صاحب ایک ماہ بہت زیادہ ہے ’ یہ میری رقم لوٹا دیں، میں ان کو معاف کر دوں گا لیکن ایک شرط پر”۔

“ٹھیک ہے اپنی شرط بتا ¶”

“انہیں ادائیگی کے بعد یہ بستی بھی چھوڑنا پڑے گی ورنہ کسی بھی وقت کوئی لفڑا ہو جائے گا”

“تم انہیں کتنے دن کی مہلت دینا چاہتے ہو؟”

“صرف 5 دن”

“یہ ظلم ہے ، صرف 5 دن” شیراز کا ایک حامی بولا۔

“مدعی 5 دن کا کہتا ہے اور ملزم ایک ماہ مانگتے ہیں’ تو فیصلہ ہم کر دیتے ہیں” چودھری بولا

“آپ سرپنچ ہیں، آپ کا فیصلہ سب کو قبول ہو گا” عدم قبولیت پر وہ سزا کا حق دار ہو گا” ملی جلی آوازیں گونجیں۔

“ٹھیک ہے ! 10 دن کا وقت دیتا ہوں، اﷲ رکھا کے گھر والے اس دوران رقم کا بندوبست کر لیں بصورت دیگر اسی سودے پر عملدرآمد ہو گا جو اﷲ رکھا نذیرے سے کر چکا ہے ” چودھری نے کمینگی کا مظاہرہ کر دیا۔ طوہاً کرہاً یہ فیصلہ سب کو قبول کرنا پڑا، پنچایت ختم ہو گئی۔

چودھری اور نذیرے نے گہری چال چلی تھی، 10 دن میں وہ ڈیڑھ لاکھ تو کیا 10 ہزار کا بندوبست بھی نہ کر سکتے ! سراسر گھاٹے کا فیصلہ تھا، فریقین میں ایک کادل بلیوں اچھل رہا تھا اور دوسرا پریشانیوں کی مالا گلے میں ڈالے ، کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر آ گیا۔

٭…………٭

سرور نے رانو کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ اگلے 10 پندرہ روز کہیں نہیں آئے جائے گی، رانو نے اس کے ہاتھ کو بوسا دے کر وعدہ کیا تھا کہ جیسے وہ کہے گا اسی طرح کرے گی، اس نے چھپ کر کانچ کی ایک بوتل کہیں سے ڈھونڈ کر اسے توڑا اور کمرے میں کپڑوں کے نیچے چھپا دیا تھا۔ اس کے پیچھے اس کی یہی سوچ پنہاں تھی کہ اگر برا وقت نہ ٹلا تو اپنی جان تو لے ہی سکتی ہے ، عزت گنوانے سے بہتر ہے سرور اور گھر والوں کو ایک بے جان جسم دے جائے جس پر گندگی کا ایک دھبہ بھی نہ ہو، اجلے کفن میں اجلا جسم ہی اس کے گھر والوں کی عزت کو قائم رکھ سکتا تھا۔

٭…………٭

آج پھر بادل جوبرسے تو رکنے کا نام نہ لیا، جگہ جگہ کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، غریبوں کے جھونپڑے اور مکان ٹپک پڑے ، نذیرا ایک کمرے میں بیٹھا کھڑکی کھولے موسم سے لطف اندوز ہو رہا تھا، ام الخبائث بھی پاس پڑی تھی، اس کا سر چڑھا گرگا لطیف بھی قریب بیٹھا تھا۔ اس کے پا ¶ں دبا رہا تھا،

“سائیں! بڑی زوردار تجویز ہے میرے ذہن میں، سانپ بھی مر جائے گالاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی”

“اگر تیرا مشورہ کام کا نہ ہوا تو لاٹھی ٹوٹے نہ ٹوٹے تیرا ایک آدھ ہاتھ پیر ضرور توڑ دوں گا” نذیرا ترنگ میں بولا۔

“سائیں، سننے سے پہلے تو سزا نہ سنائیں” وہ گڑگڑایا۔

“اچھا اب بک جو بکنا ہے ”

“نہ سائیں، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں” پھر وہ نذیرے کے قریب ہوا اور بڑبڑانے لگا۔

“شاباش او لطیفے ” نذیرے نے زور کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا۔ محبت کے اس تھپڑ سے لطیف زمین پر گرتے گرتے بچا۔

واہ سائیں، تیریاں تو ہی جانے ” نذیرے نے اسے سوکا ایک نوٹ دیا اور حکم دیا پا ¶ں ذرا زور سے دبائے ۔

٭…………٭

سرور اور شیراز میں پھر ایک طویل ملاقات ہوئی، دونوں اونٹ لیکر منڈی گئے ، 90 ہزار ریٹ لگا، دونوں بیوپاری سے سوچ بچار کا وقت لیکر واپس آ گئے ، شیراز اپنے مالک کے پاس بھی گیا، اسے تمام بات بتا دی، مالک نے رحم کھاتے ہوئے اسے 10ہزاربطور قرض دینے کا وعدہ کیا، جو اس کی تنخواہ میں سے کٹتا رہے گا۔ ایک لاکھ ہو چکے تھے ، 50ہزار کے بندوبست کی کہیں آ س امید نظر نہیں آ رہی تھی، لوہے کو لوہا کاٹتا ہے ، سازشیوں کو سازش سے مات دی جاتی ہے ، دونوں نے گھنٹوں کی ملاقات میں ایک بے عیب منصوبہ بنایا جس پر مشکل ترین وقت میں عمل کرنا تھا۔ کھولتا ہوا جوان لہو اور غربت، تخریب کاری کو جنم دے رہی تھی، چودھری فواد یا نذیرا بدمعاش، دونوں میں سے کسی ایک کو اس جوڑی کے ہاتھوں لٹنا تھا، لیکن یہ سب انہوں نے رانو سے پوشیدہ رکھا تھا۔

٭…………٭

ادھر دارو کے دھندے کا بادشاہ نذیرا اﷲ رکھا سے ایک خفیہ ملاقات کر رہا تھا، اس نے 10ہزار اﷲ رکھا کے ہاتھ پر رکھے ، آنے والے وقت میں اس کے نشہ پانی کا وعدہ کر کے محلول سے بھری چھوٹی سی شیشی اسے دی۔ اﷲ رکھا سر ہلاتا رہا اور شیشی دھوتی کی ڈھب میں مضبوطی سے اُڑس لی اور گھر کی راہ لی۔

٭…………٭

رات نصف سے زیادہ گزر چکی تھی، ایک کمرے میں شیراز، رانو، ان کی ماں بے سدھ سو رہے تھے دوسرے اندھیرے کمرے میں اﷲ رکھا جاگ رہا تھا، لالچ اور بے غیرتی کے نشے نے نیند کو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور بھگا رکھا تھا، وہ ننگے پا ¶ں چارپائی سے اترا، آواز پیدا کئے بغیر دوسرے کمرے کا دروازہ ہلکے سے کھولا، شیشی والا سارا محلول وہ رات کو سالن میں انڈیل چکا تھا۔ بہانے سے اس نے کھانا نہیں کھایا، جن تینوں نے کھایا تھا، وہ بے ہوشی کے عالم میں پڑے تھے ، چند منٹوں کے بعدبیرونی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، اﷲ رکھا دھیرے سے بیرونی دروازے پر گیا، کواڑ کھولے ، ڈھاٹا باندھے چار آدمی کھڑے تھے ۔

“سب ٹھیک ٹھاک ہے ” وہ بولا، میں کمرے میں جا رہا ہوں، تم بھی اپنا کام کر کے نکلنے کی کرنا، کوئی دیکھ نہ لے ۔

چاروں اندر آ گئے ، ایک ہٹے کٹے آدمی نے آگے بڑھ کر رانو کو کندھے پر ڈالا۔ پھر وہ دبے پا ¶ں گھر سے نکل گئے ، لالچ کی پٹی اﷲ رکھا کی آنکھوں سے نہ اتر سکی تھی۔ اس نے ایک لاکھ 60 ہزار میں رانو کو نذیرے کی“ دلہن” بنا کر رخصت کر دیا تھا۔

٭…………٭

رانو کو ہوش آیا تو وہ یکبارگی تڑپ کر اٹھ بیٹھی، حواس ذرا ٹھکانے پر آئے تو ماحول کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ یہ ایک سجا سجایا کمرہ تھا، اس نے بار بار آنکھوں کو ملا، وہ بدبدائی “یہ کیسا سپنا ہے مالک” اور پھر دم بخود رہ گئی نذیرا اس کے سامنے ہی کمرے کے کونے میں کھڑا اسے تکے جا رہا تھا وہ مکروہ ہنسی ہنسا۔

“چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہو گا” اس نے اپنی مونچھوں کو تا ¶ دیا، تیرے باپو نے تجھے مجھ سے بیاہ دیا ہے ، نوٹ کھرے کئے ہیں اس نے ، تو میری زرخرید ہے ، رانو لرز کہ رہ گئی، سہمی نظروں سے نذیرے کی طرف دیکھ کر گھگیاتے ہوئے کرب کے ساتھ ہاتھ جوڑ کر بولی

“میرے کو چھوڑ دے چاچا، تم میرے باپ کی عمر کے ہو، جانے دے مجھے ، زندگی بھر تیرا احسان نہیں بھولوں گی، رحم کر میرے پر، ترس کھا مجھ بدنصیب پر”۔

“پاگل تو نہیں ہو گئی، کب سے تیرے لئے تڑپ رہا ہوں، ہاتھ آئی لکشمی کو جانے دوں” وہ شیطانی ہنسی ہنستا ہوا اس کی طرف بڑھا۔

“ساربان کی دلہن بننا چاہتی تھی نا، سب جانتا ہوں، آج ہم دونوں سہاگ رات منائیں گے ”

“دور ہٹ’ رانو کی آنکھوں میں خون اتر آیا، میں سرور کے لئے جان پہ کھیل جا ¶ں گی”

وہ پیچھے ہٹ رہی تھی لیکن نذیرا نشے میں دھت آگے بڑھ رہا تھا۔

“تو میری بیوی ہے ، نکاح بھی ہو جائے گا”، وہ بہکی بہکی باتیں کرتا رانو کے نزدیک ہوتا چلا گیا۔

بس اور آگے نہ بڑھنا، خدا قسم….

“چپ رہ کمی کمین” جابر، ظالم، بدمعاش نذیرا اسے اپنی جانب گھسیٹتے ہوئے بولا، دور دور تک تیرا نوحہ سننے والا کوئی نہیں، رانو نے اسے زور کا دھکا دیا اور دروازے کی طرف لپکی، دروازہ باہر سے بند تھا، وہ گھبرا کر زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی، کھولو دروازہ کھولو، خدا کے لئے ، رحم کرو، دروازہ کھولو” وہ چیخ رہی تھی، لیکن صدا بہ صحرا، اس کی آواز کون سنتا، وہ تو آبادی سے دور ایک بھٹہ خشت پر ایک کمرے میں تھی، جہاں دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہ تھا، وہ بھاگ جانے کی جدوجہد میں پاگل ہوئی جا رہی تھی کہ پیچھے سے نذیرے نے دبوچ لیا، دونوں میں دھینگامشتی شروع ہو گئی، رانو نے بھی جان پر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا، نذیرے نے تیز پھل والا چاقو نکالا اور اس کی نوک رانو کے سینے میں چبھو دی، رانو کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔

“سیدھی طرح بات مانتی ہے یا اتاروں چاقو سینے میں’ وہ گرجا۔

“مر جا ¶ں گی لیکن اپنی عزت پہ حرف نہیں آنے دوں گی” وہ حلق پھاڑ کر چیخی۔

“چپ رہ” نذیرے نے چاقو پر تھوڑا سا دبا ¶ بڑھایا، ساتھ اس کے گال پر زور سے گھونسا مارا”۔

رانو نے دانت بھینچ کر ایک زوردار دھکا دیا، نذیرا چھرے سمیت دور جا گرا، رانو بھوکی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی، اس کھینچاتانی میں چاقو رانو کے ہاتھ لگ گیا، اس نے ایک پل ضائع کئے بغیر پورے زور سے چاقو اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ایک دل دوز چیخ، خون کا ابلتا فوارہ، رانو نے اس پر ہی بس نہ کی چاقو نکالا اور اس کے سینے میں گھونپ دیا، دو تین وار کئے ، نذیرے کا سینہ چاک ہو گیا، کسی ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکراتا، ہاتھ پا ¶ں مارتا، لوٹنیاں لگاتا زندگی کی بازی ہار گیا، کمرے کا دروازہ زور زور سے پیٹا جانے لگا، رانو بھی خون میں لت پت تھی۔

“کون ہے اندر، دروازہ کھولو، دروازہ اب پیٹ جانے لگا” رانو نے چیختے ہوئے کہا دروازہ باہر سے بند ہے ، میں یہاں قید ہوں، پھر دروازہ باہر سے کھلا، چار پولیس والے اندر گھس آئے ، ان کے ہاتھوں میں ٹارچیں تھیں، اندر کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“کون ہو تم؟ یہ کون ہے ؟’ کس کو قتل کر دیا” ایک پولیس والا بولا، پتہ نہیں وہ رات کو گشت پر تھے یا پھر نذیرے کی حفاظت پر مامور تھے ۔ حالات بگڑتے دیکھ کر آ دھمکے تھے ، لیکن نقشہ بدل چکا تھا۔

“یہ میری عزت لوٹنے کی کوشش کر رہا تھا، چھرے کی نوک میرے کلیجے پر رکھ کر مجھے برباد کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اپنی آبرو بچانے کے لئے اسی بدقماش کا اسی کے چھرے سے انت کر دیا” یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

٭…………٭

رانو کی ساری، امنگیں، آرزوئیں اور تمنائیں خاک اور خون میں لتھڑ کر رہ گئیں، اس کی مسرتوں پر اس کے بے رحم باپ کی کمینگی کا کفن پڑ چکا تھا۔ پولیس نے 302 کا کیس بنا دیا، سرور، شیراز، اس کی ماں، آنکھوں میں آنسو اور چہروں پر بدحواسیاں لئے بیٹھے تھے ، رانو ملزموں کے کٹہرے میں بت بنی کھڑی تھی۔

سرکاری وکیل نے جرح شروع کی۔

“تم نے نذیر احمد کو جان بوجھ کر قتل کیا”

“اس کا جواب میں دے چکی ہوں، رانو نے اسے نفرت سے دیکھا، بار بار مجھ کو کیوں دکھ دیتے ہو۔

“تم نے قانون کو کیوں ہاتھ میں لیا”

“قانون تب کہاں تھا جب وہ مجھے اپنے ہاتھوں میں لے رہا تھا”

“یہ میرے سوال کا جواب نہیں’ ’تم نے ایک انسان کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں، تم نے بہت بڑا جرم کیا، قانون اور انصاف کی توہین کی”، سرکاری وکیل دلائل کم دے رہا تھا گرج زیادہ رہا تھا، شاید چودھری فواد نے اچھی خاصی “سرمایہ کاری” کی تھی، اس سے قبل کہ وکیل وہی گھسے پٹے دلائل دہراتا رانو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بولی

“حضور! بڑے صاحب، مائی باپ، میں غریب، ان پڑھ، جاہل، قانون تو نہیں جانتی، لیکن جب مجھ پر ظلم ہو رہا تھا، جب ایک بھیڑیا میرے جسم پر اپنے پنجے گاڑنے والا تھا، اس وقت یہ پولیس والے کہاں تھے ؟ جب مجھے اغوا کیا گیاتب یہ کہاں تھے ؟ میری عزت کا جنازہ نکلنے لگا تو یہ کہاں گشت کر رہے تھے ؟ میں چیخی، چلائی، دہائی دی، لیکن اس منشیات فروش، عورتوں کے شکاری اور بیوپاری کو رحم آیا نہ کسی نے میری چیخ و پکار پر کان دھرے ’ جب اس بھیڑیے نے میرے سینے میں چاقو کی نوک چبھوئی تو میری سسکاریاں کسی نے نہیں سنیں، کمرہ اندر سے نہیں باہر سے بندھ تھا، میرا وار چل گیا، میں نے اس ناسور کو ختم کر دیا تو پولیس بھی عین اسی وقت “انصاف کا علم” بلند کرنے آ پہنچی۔ اگر کمرہ اندر سے بند ہوتا تو میں اس کو قتل نہ کرتی بلکہ بھاگ نکلتی۔ یہ پولیس والے بھی اس سے ملے ہوئے تھے ، صاحب! مائی باپ، انصاف آپ کریں۔ میں نے اپنی آبرو بچائی ہے ، اپنے دفاع میں وار کیا تھا ۔ حضور! شاید آپ کو میری بات بری لگے ، اگر ان پولیس والوں کی بہن بیٹی یا آپ میں سے کسی کی آبرو کسی غنڈے کے ہاتھوں پامال ہو تو کیا آپ خاموش بیٹھے رہیں گے ، قانون کی مدد کا انتظار کریں گے ؟ بتائیں حضور؟” عدالت میں جیسے سب کوسانپ سونگھ گیا تھا، اس سے پہلے کہ سرکاری وکیل کچھ بولتا وہ پھر دکھی لہجے میں بولی اگر سزا دینی ہے تو میرے اس پاپی باپ کو دو اور دنیا کے ایسے تمام باپوں کو سولی چڑھا دو جو اپنی بیٹیوں کا سودا کرتے ہیں” اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے ۔

“آرڈر آرڈر….” جج نے سب کو متوجہ کیا اور کہا کہ“ کیس کی باقاعدہ سماعت سے قبل ملزمہ کو وکیل کرنے کا قانونی حق ہے ”۔

لیکن حضور! اپنے گھر میں تو ایک روز کھانا پکتا ہے اور دو روز پیاز یا گڑ سے روٹی کھانا پڑی ہے ” وہ جج سے مخاطب تھی۔

“اگر تم وکیل نہ کر سکی تو ریاست تمہیں وکیل فراہم کرے گی، جج نے اسے 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت برخاست کر دی”۔

لیڈی پولیس نے اسے ہتھکڑی پہنائی اور جیل پہنچانے کے لئے گاڑی کی طرف لیکر چل پڑی، اسی دوران جب ضروری قانونی کارروائی ہو رہی تھی تو ماں اور بھائی شیراز کو اس سے بات کرنے کا موقع مل گیا، رانو فکر نہ کرنا، ہم وکیل کریں گے چاہے کچھ بھی ہو، ایک کونے میں سرور کھڑا تھا اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، وہ ٹکٹی باندھے رانو کو تکے جا رہا تھا، وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وکیل کیسے کرنا ہے ؟، بستی میں یہ بات پھیلی تو سب غنڈے نذیرے پر تھو تھو کر رہے تھے اور رانو کے بہادری کے گن گا رہے تھے ، ایک شیطان سے سب کو امان مل گئی تھی، اگر کوئی بحالت مجبوری چہرے مہرے سے خوشی کا اظہار نہیں بھی کر رہا تھا تو دل میں ضرور خوش تھا کہ ایک گناہگار سے تو مکینوں کو نجات ملی۔

٭…………٭

آپا رانو کی کانٹوں بھری کہانی سن کر دل میں بہت دکھ محسوس کر رہی تھی، نہ جانے روزانہ حوا کی کتنی بیٹیاں، کاروکاری، کالا، کالی، ونی اور دیگر مکروہ رسموں کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں، وہ دل میں اٹل فیصلہ کر چکی تھی کہ رانو کو ہر صورت باعزت بری کرائے گی، وہ سمجھ گئی تھی کہ کیس بہت کمزور ہے ، اس نے اپنے دفاع میں قتل کیا تھا، اغوا بھی ملزم نے کیا، ٹھکانہ بھی اس کا، مجرمانہ حملہ بھی اس نے کیا، دروازے کی چٹخنی بھی باہر سے اس نے لگوائی، ایک دو چھتر تھانے میں لگتے تو اس کا باپ بھی سب بک دیتا کہ اس نے نذیرے سے مل کر کیا گل کھلایا تھا، اگلے روز آپا نے ایک طویل خط لکھا اور رانو کے حوالے کرتے ہوئے اسے سمجھا بھی دیا کہ شیراز اور سرور کو کیا کہنا ہے ۔

٭…………٭

ایک دو روز بعد شیراز، اس کی ماں اور سرور تینوں اس سے ملاقات کو آئے ، رانو نے حال احوال کے بعد وہ خط انہیں دیا اور انہیں سب سمجھا بھی دیا، یہ آپا کا جیل میں اثرورسوخ ہی تھا کہ خط لکھنے سے پہنچانے تک کوئی ملازمہ رکاوٹ نہیں بنی تھی، دوسرے روز ہی بہاولپورکی ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم کے وکیل نے جیل پہنچ کر وکالت نامے پر اس کے انگوٹھے لگوائے ۔

کیس کی باقاعدہ سماعت کے پہلے ہی روز رانو کے وکیل کے سامنے سرکاری وکیل کی ایک نہ چلی، عدالت نے پچاس پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض اس کی ضمانت منظور کر لی، اس روز سبھی خوش تھے ، بس ایک معمہ تھا تو آپا کاکر دار؟ اسی روز روبکار جیل پہنچی اور شام کو اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

٭…………٭

دن ڈوب چکا تھا، ملتان جیل سے رہائی کے بعد وہ اڑھائی سے تین گھنٹے وکیل کی کار میں سفر کر کے بستی پہنچے تھے ۔ ایک پرچہ نذیرے اور رانو کے باپ کے خلاف بھی درج ہو چکا تھا۔ پولیس نے بہت کوشش کی تھی کہ یہ ایف آئی آر درج نہ ہو لیکن رانو کے وکیل ارشد ایڈووکیٹ نے عدالت سے رجوع کیا، عدالت کے حکم پر نذیرے کے خلاف اغوا، حبس بے جا، قتل کی کوشش، عزت لوٹنے کا مقدمہ درج ہوا اور رانو کے باپ کے خلاف نذیرے کا ساتھ دینے ، ان سب کو کھانے میں بے ہوشی کی دوا دینے اور بیٹی بیچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

چودھری فواد نے اس دوران کئی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن جب اس نے دیکھا کہ ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم کی لیگل ٹیم سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے تو اس نے دم دبا کر روپوش ہونے میں عافیت سمجھی۔ اس لیگل ٹیم نے رانو سے مشورہ کیا تھا کہ وہ لوگ چاہیں تو اس معاملے میں نام نہاد سرپنچ چودھری فواد کو بھی گھسیٹ لیتے ہیں، لیکن رانو نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس کے کرموں کی سزا رب اسے دے گا، ایک نہ ایک روز وہ ضرور رب کی پکڑ میں آئے گا، رانو کے باپ کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا، اسے بھی اس کے سیاہ کرتوتوں کی سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔

٭…………٭

بمشکل چار پیشیوں کے بعد عدالت نے رانو کو باعزت بری کر دیا۔ سبھی کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے ۔ ماں نے رانو کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما، شیراز نے بھی بہن کا ماتھا چومتے ہوئے کہا تو ایک بہادر بہن ہے ، ہمیںتم پر ناز ہے ۔ جان پر کھیل گئی لیکن عزت پہ حرف نہ آنے دیا، پھر ازراہ مذاق کہنے لگے بیچارے سرور کا اونٹ دو بار بکتے بکتے بالآخر بچ ہی گیا، رانو کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ سرور نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے من میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ اب اسے اور رانو کو ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

٭…………٭

کوئی ایک ماہ بعد رانو نے ماں، بھائی اور سرور کو ساتھ لیا، ملتان جیل میں آپا سے ملاقات کرنے ، شکریہ ادا کرنے اور لڈو دینے گئی، جیل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہاں تو آپا نام کی کوئی قیدی یا حوالاتی نہیں۔

“میرے ساتھ ہی تو 6 نمبر بیرک میں تھی”۔ رانو حیرت سے بولی۔

“لیکن اب نہیں ہے ” جیل ملازمہ کا جواب تھا۔

“میں آپا کی بات کر رہی ہوں” رانو کو شدید حیرت ہورہی تھی۔

“میں آپا ثمر کی بات کر رہی ہوں” رانو ملاقات پر بضد تھی۔

“تھوڑی دیر بعد جیل ملازمہ واپس آئی اور کہا

“آپا ثمر اب جیل میں ہے نا اس دنیا میں”

“ان تینوں کو حیرت کا جھٹکا لگا، رانو کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔

پھر تینوںاداسی کے عالم میں اپنی کچی بستی کی جانب لوٹ گئے ، رانو محسوس کر رہی تھی آپا کو وہ کبھی نہیں بھول پائے گی، آپا نہ ہوتی تو نہ جانے وہ کہاں ہوتی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے