سر ورق / کہانی / حفاظت۔۔ عبدالرشید فاروقی

حفاظت۔۔ عبدالرشید فاروقی

رات کسی گناہ گار کے دل کی مانند سےاہ تھی۔
درختوں کودےکھ کر ےوں محسوس ہوتاتھا، جےسے لمبے لمبے دےو سینہ تانے کھڑے ہوں۔ہوا بند تھی، حبس ساہورہاتھا۔ہرطرف ہوکاعالم تھا۔ کبھی کبھار کسی جانورکی آواز ماحول مےںبے چےنی سی بپاکرجاتی تھی۔
رخ زےب کے چہرے پر پریشانی اور فکرمندی کے آثار تھے۔ خوف ودہشت سے اس کی حالت بہت پتلی ہورہی تھی اور کچھ اسی قسم کی کےفےت عادل کی تھی،البتہ گلفام بالکل نارمل دکھائی دے رہاتھا…وہ تےنوں سوالےہ انداز سے مےری جانب دےکھ رہے تھے…مےںان کی نظروں کامفہوم سمجھ رہا تھا،لےکن مےں اس وقت اےسی پوزےشن مےں نہےں تھاکہ انہےں جواب دےتا…شاےدوہ لوگ بھی مےری مجبوری جان رہے تھے، ےہی وجہ تھی کہ منہ سے کوئی لفظ نہےں نکال رہے تھے۔ مےںنے اشاروں سے انہےںآگے بڑھنے کو کہا ۔انہوںنے مےری بات پر عمل کےااور ہم چاروں اےک بار پھر خاموشی سے آگے بڑھنے لگے۔
مےں ان سے آگے چل رہا تھااوروہ تےنوں فرمابردار بچوں کی مانند مےرے پےچھے آرہے تھے۔مےری نگاہےںاندھےرے کوچےرتی ہوئی آگے جانے والوں کابدستورتعاقب کررہی تھیں…وہ تعداد مےںچارتھے ،لےکن طاقت اوراسلحہ کے لحاظ سے ہم سے بڑھ کر تھے۔ہم پچھلے پانچ گھنٹے سے مسلسل اُن کا تعاقب کررہے تھے…وہ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے، آخراس جنگل مےںگھس آئے تھے اورہمےںبھی مجبواًاِن کے پےچھے آنا پڑا تھا…ہماری خوش قسمتی تھی کہ اُن لوگوں کوابھی تک تعاقب کا شبہ نہےں ہواتھا۔وہ بے فکری سے اپناسفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ ڈر اور خوف نہےں تھالےکن زےادہ فکر مجھے اپنے ساتھےوںکی تھی۔
رخ زےب اورعادل کچھ پرےشان سے ہورہے تھے، البتہ گلفام نارمل تھااورقدرے پرجوش بھی ۔شاےد اس کی وجہ ےہ تھی، وہ اس سے پہلے بھی مےرے ساتھ اس قسم کے حالات سے گزرچکا تھا ،جبکہ رخ زےب اور عادل کے لےے ےہ پہلا موقعہ تھا۔مےںنے دےکھا، وہ چاروں اےک بڑی سی چٹان کے قرےب پہنچ کر رُک چکے تھے…مےںنے بھی اپنے ساتھےوں کورُکنے کااشارہ کےا۔
ہمار ے درمےان قریباً تےس گزکا فاصلہ تھا۔وہ بڑے غور سے چٹان کے اےک حصے کوٹھونک بجاکر دےکھنے مےں مگن تھے،مےں اور مےرے ساتھی لمبی لمبی جھاڑےوں کی اوٹ مےں چھپے، ان کو دےکھ رہے تھے…مےں کافی دےر سے نوٹ کررہا تھا کہ عادل مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتاہے ،مگر موقع کی نزاکت دےکھتے ہوئے کرنہےں پا رہاتھا،مےںاس کے قرےب گےا اور کان مےں سرگوشی کرتے ہوئے بولا:
”ابھی کوئی بات نہےں کرنا…لگتا ہے، منزل آگئی ہے…تھوڑی دےر اور انتظار کرلوپےارے ۔“مےری بات سن کر وہ مطمئن ہوگےا۔
ہم اےک بار پھر ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔وقت آہستہ آہستہ بےت رہاتھا…وہ چاروں جانے چٹان کے ساتھ کےاکررہے تھے۔ اندھےرا تھا۔اس لےے ہم کوئی چیز واضح دےکھ نہےں پارہے تھے۔پھر اچانک گڑگڑاہٹ سی گونج اُٹھی …ہم نے چونک کردےکھا… چٹان مےںاےک چھوٹا سا دروازہ نمودار ہوچکاتھا۔ان چاروں نے احتےاط سے اِدھر اُدھرد ےکھااورپھر چٹان مےںگھستے چلے گئے۔ ان کے اندرداخل ہوتے ہی دروازہ غائب ہوگےا۔
”اوہ …آخرےہ جان لےواتعاقب ختم ہو ہی گےا۔“مےرے منہ سے بے اختےار نکلا۔
”عمران !اگر ہماراشک درست نہ ہواتو؟“عادل نے اپنے خدشے کا اظہار کےا۔
”شک …نہےں بھئی…مجھے ےقےن ہے، انکل ےوسف کوان ہی لوگوں نے اغوا کیا ہے اور مےں توےہاں تک کہہ سکتا ہوں، اغوا کرکے انہےںےہےں لاےاگےاہے۔“مےںنے کہا۔
”مےرابھی ےہی خےال ہے…لےکن سوال ےہ ہے، اب ہم کےاکرےںگے؟“رخ زےب نے کہا۔
”جدوجہد…ڈےڈی کواِن ظالم درندوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لےے …ےقےن کرو، مےرا دل کرتاہے، مےںاِن لوگوں کاخون پی جاﺅں۔“گلفام نے غصے سے کہا۔
”ہماری حالت تم سے مختلف نہےںہے ،لےکن فی الحال ہم اےسا نہےں کرسکتے اور وےسے بھی ہم آدم خورےاڈرےکولا ٹائپ کی چےزےں نہےں ہےں۔“عادل کے چہرے پر مسکراہٹ رےنگ گئی۔
”ساتھےو!ہم ان لوگوں کے مقابلے مےں بہت کمزور ہےں…ہرلحاظ سے…لےکن ہمےں ہمت اور حوصلے سے کام لےناہوگا ۔ےادرکھو! اگر ہم نے ہمت اورحوصلے کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑاتواےک وقت اےسا ضرور آئے گا جب انکل ےوسف ہمارے ساتھ ہوںگے۔“مےںنے کہا تو تےنوںتائےد میں سر ہلانے لگے۔
”اب آپ سب اپنے ہتھےار چےک کرلےں کےونکہ ہمےں اس چٹان کے اندرداخل ہونا ہے۔“
پھر ہم نے اپنے اپنے ہتھےار چےک کےے…مےرے پاس جدےد رےوالورتھا… اس کے علاوہ پنسل ٹارچ، بوٹ کی ایڑی میں موجود ننھا مگر تےزدھار چاقو اوررسی کا اےک گولا۔اسی قسم کا سامان مےرے دےگرساتھےوں کے پاس بھی تھا۔
ہم نے اپنے ریوالورنکال کر ہاتھوں مےں پکڑ لےے اور پھر آہستہ آہستہ چٹان کی جانب بڑھنے لگے۔ابھی ہم نے چند قدم ہی اُٹھائے ہوں گے کہ ا چانک ہمارے سروںپر قےامت ٹوٹ پڑی۔
رخ زےب،عادل اورگلفام سرتھامے گرتے چلے گئے…وہ بے ہوش ہوگئے تھے …اور مےں…مےںان سے پےچھے کےسے رہ سکتا تھا۔ مےں بھی ان کے پےچھے پےچھے اندھےروں کی وادی مےںچلا گےا۔
O
ہوش آےا توہم نے خودکو رسےوں سے جکڑے پاےا۔
ان لوگوں نے ہم چاروں کو مختلف ستونوں سے باندھ رکھاتھا۔ ہمارے ریوالور، پنسل ٹارچیز اور رسّی کے گولے غائب تھے۔ البتہ ایڑیوں میں ننھے منّے چاقو موجود تھے۔ وہ شاےد کوئی کمرہ تھا…زےادہ بڑانہےںتھا، لےکن ہوا کاانتظام خوب تھا۔ ہم خودکو تروتازہ محسوس کررہے تھے۔ کمرے مےںاےک روشن دان تھا۔ غالباًہوااسی کے ذرےعے اندرآرہی تھی ےاپھرکوئی اورراستہ بھی ہوگا…ہم چاروں ابھی کمرے کاجائزہ لے رہے تھے کہ قدموںکی چاپ سنائی دےنے لگی…شاےدکوئی آرہا تھا۔
ہم نے اےک دوسرے کی طرف دےکھا:
”کہےں ہمارامشن اُدھورانہ رہ جائے۔“عادل بولا۔
”اﷲہمیشہ حق والوں کاساتھ دےتاہے، اس لےے تمہےںفکرمند نہےں ہونا چاہےے۔ اﷲ کومنظورہواتوہم انکل کوآزاد کرالے جائےں گے۔“
اسی وقت دروازہ اےک جھٹکے سے کھلااور بھےانک صورت کا مالک اےک نوجوان اندرداخل ہوا۔وہ ہمےں دےکھ کر مسکراےااور بولا:
”تم لوگوں کوہوش آگےا۔“
”نہےں…ہم ابھی تک بے ہوش ہےں۔“رخ زےب نے آنکھےں گھمائےں۔
”کےا مطلب۔“وہ زورسے چونکا۔
”تمہےں دکھائی نہےں دےتاکےا۔“رخ زےب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
نوجوان نے اُسے گھورا ،پھر اس کے قرےب جاکر آہستہ سے بولا:
” پاگل آدمی!مےںاب تک اےک سو آدمےوں کو بے دردی سے قتل کرچکاہوں…اسی وجہ سے مےرے ساتھی مجھے ’موت‘ کہتے ہےں۔“اس کا لہجہ بہت خوف ناک تھا۔
”تم مجھے نہےں جانتے …مےں تم جےسوں کے لےے عزرائےل سے کم نہےںہوں۔“رُخ زیب نے سرد لہجے مےں کہا۔
”تم لگتے توبہادرہو،لےکن ےہاں تمہاری ایک نہےں چل سکتی۔“وہ مسکراےا۔
”ےہ تو وقت آنے پرمعلوم ہوگا،پہلے توتم ےہ بتاﺅ، انکل ےوسف کوتم نے کہاں قےد کررکھاہے؟“
”کون ےوسف؟“
”وہی جنہےں تم لوگوں نے کافی عرصہ پہلے، ڈےفنس کے علاقے سے اغوا کےا تھا۔“
”اوہو…توتم انجےنئر ےوسف کی بات کررہے ہو۔“اس نے چونک کر کہا۔
”ہاں…تم نے ان کوکہاں رکھ چھوڑا ہے۔“
”تم ان کے کےا لگتے ہو؟“
”وہ ہمارے اس دوست کے ڈےڈی ہےں۔“عادل نے مجھ سے پہلے ہی کہہ دےا۔
”کس کے؟“
”سبز شرٹ والے کے۔“
”اچھا، لےکن تم لوگوں کوکےسے علم ہوا، ےوسف کوہم نے اغوا کےا ہے اور تواور تم ہمارے ٹھکانے پر بھی پہنچنے مےں کامےاب ہوگئے، کےسے؟“
”ہم اےک ہوٹل مےںبےٹھے انکل ےوسف کی گمشدگی کے بارے باتےں کررہے تھے، اچانک اےک جملہ سن کر چونک پڑے۔ہمارے ساتھ والی مےزپر تمہارے چارساتھی بےٹھے چائے پی رہے تھے۔وہ جملہ ان مےں سے کسی اےک کے منہ سے شاےد غےر ارادی طور پر نکل گےاتھا۔ہمارے کان کھڑے ہوگئے…اور اس طرح ہم تمہارے ان چاروں ساتھےوں کاتعاقب کرتے ہوئے جنگل مےں پہنچ گئے…جہاں سے تم نے ہمےں بے ہوش کرکے پکڑلےا۔“مےںنے تفصےل سے بتاےا۔
”وہ جملہ کےا تھا؟“
”تمہارے ساتھی ہماری باتےں سن رہے تھے کہ بے ساختہ تمہارے اےک ساتھی کے منہ سے ےہ جملہ ادا ہوگےا کہ ارے ےہ تو ےوسف کے عزےز لگتے ہےں۔ےہ جملہ اداکرکے اس نے جلدی سے ہونٹ بھےنچ لےے تھے…شاےد اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگےا تھا اور جب وہ فارغ ہو کر ہوٹل سے نکلے تو ہم نے ان کا تعاقب شروع کردےا۔“مےںنے اسے بتاےا۔
”ہوں…تو ےہ بات ہے، ہم بھی حےران تھے، ہمارے اس خفےہ ٹھکانے پر تم لوگ کےسے پہنچ گئے۔“اس نے گہراسانس لےتے ہوئے کہا۔
”تم لوگ کون ہواورمےرے ڈےڈی کو اغوا کرنے کا مقصد کیا ہے ؟“گلفام نے پوچھا۔
”ےہ با ت تمہےںبات جلد معلوم ہوجائے گی۔ابھی تم آرام کرو…تھوڑی دےربعدتمہےں کھانا مل جائے گا۔“ےہ کہہ کر وہ نوجوان چلاگےااور ہم اےک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ طرح طر ح کے خےالات اور وسوسے ہمارے ذہنوں مےںآرہے تھے۔
”عمران !ےہ لوگ کون ہوسکتے ہےں؟“
”اﷲبہتر جانتاہے،بہرحال مےںکسی نتےجے پر پہنچنے کی کوشش کررہاہوں۔“مےںنے جواب دےا۔
”کہےںےہ ڈاکووغےرہ تو نہےں ہےںاورڈےڈی کو اس لےے تواغوا نہےں کےا کہ تاوان حاصل کرسکےں۔“گلفام نے کہا۔
”تمہاری بات مےں وزن ہے۔“
”مےراخےال ہے،ےہ لوگ تخرےب کارہےںاور دشمن کے اےجنٹ ،انکل سے کوئی غےرقانونی کام کروانے کے لےے انہےں اغوا کرلائے ہےں ۔“ رخ زےب نے اپنا خےال پےش کےا۔
”ہوسکتاہے، تمہارا خےال درست ہو۔“
”جب کہ مےراخےال ہے، ےہ انکل کے دشمن ہےں۔“عادل نے کہا۔
”تمہاری بات درست نہےں کےونکہ مےںجانتاہوں، ڈےڈی کی کسی سے دشمنی نہےں تھی۔“گلفام نے جلدی سے کہا۔
عےن اسی وقت دروازہ اےک جھٹکے سے کھل گےا۔ہم نے چونک کر دےکھا۔تےن ہٹے کٹے اورہاتھی کی مانند پلے ہوئے آدمی ہاتھوں مےں کلاشن کوفیں لےے کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر چٹانوں کی سی سختی تھی۔
”تم نے ےہاںآکر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے۔ تم ےہاںسے زندہ بچ کر نہ جاسکوگے۔“سب سے آگے والے آدمی نے سخت لہجے مےں کہا۔
مےںنے ناگواری سے اس کی طرف دےکھااوربولا:
”کےا تم ےہی بات بتانے کے لےے آئے ہو۔“
”ہم تمہےں بہت کچھ بتانے کا ارادہ رکھتے ہےں،پہلے کھانے سے فارغ ہولو۔“اس نے دانت نکالتے ہوئے کہا،پھر اپنے ساتھےوں سے مخاطب ہوکربولا:
”راجواوربالے، ان لوگوں کوآزا دکردو…مےں ان پر نظر رکھتا ہوں۔“
”بہتر ٹےڈی ۔“راجونے ادب سے کہا۔
پھردونوں نے اپنے ہتھےار اےک طرف رکھے اورآگے بڑھ کرہمےں آزاد کرنے لگے۔جب وہ ہم چاروں کو کھو ل چکے تواےک آدمی ہاتھوں مےں کھانے کی ٹرے اُٹھائے اندرداخل ہوا۔راجواوربالے نے ہمےں کھولنے کے بعد کلاشن کوفیں دوبارہ اُٹھا لی تھےں اوراب ٹےڈی کاساتھ دےنے لگے تھے۔
”جانی!باس سے جاکر کہہ دےنا، ہم تھوڑی دےر مےںان لوگوں کولے کر آتے ہےں۔“ٹےڈی نے کھانا لانے والے سے کہا۔
اس نے کھانے کی ٹرے اےک طرف رکھی اور اچھا کہتاہواچلاگےا۔اب ٹےڈی مےری طرف متوجہ ہوا اوربولا:
”آرام سے کھانا، پھر تمہےں باس کے پاس پہنچاےاجائے گا۔“
مےںنے اپنے ساتھےوں کی طرف دےکھا۔انہوںنے سر ہلادےے کہ ابھی کھانا کھاتے ہےںبعدمےں کچھ کرےںگے اورپھر ہم زمےن پر بےٹھ کر کھانا کھانے لگے۔کھانے کے دروان وہ تےنوں کلاشن کوفیں لےے ہمارے سروں پر کھڑے رہے۔جب ہم کھانا کھاچکے تو ٹےڈی بولا:
”ہمارے آگے آگے چلو…باس تمہارا انتظارکررہاہے۔“
ہم نے خاموشی سے قدم بڑھادےے۔
”مختلف راہ داریوں سے ہوتے ہوئے، وہ ہمےں اےک بڑے ہال نماکمرے مےںلے آئے۔ہم نے دےکھا،کمرے مےں اےک طرف صوفہ پڑاہواتھا،اس پر لمبی مونچھوںوالااےک بھےانک شکل کاآدمی براجمان تھا۔ہمےںدےکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھےل گئی… ٹےڈی وغےرہ نے ہمےں اےک طرف قطار کی صورت مےں کھڑاکردےا۔
”باس !ےہ وہ لوگ ہےں جوراجو گروپ کا تعاقب کرتے ہوئے جنگل والے ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے۔“ٹےڈی اتنا کہہ کر باس کے جواب ےا ردّعمل کاانتظار کرنے لگا۔باس اُٹھ کرکھڑہوگےااور پھراےک اےک قدم اُٹھاتاہواہمارے قرےب آگےا۔وہ قرےب آکر بڑے غورسے مجھے دےکھنے لگا، جےسے قصاب کسی بکرے کاجا ئزہ لےاکرتاہے۔وہ چند لمحے کھڑا مےرا جائزہ لےتارہا،آخربولا:
”لگتاتو جی دار ہے۔“اس کی آواز مےںشےر جےسی گرج تھی اور آنکھوں مےںسانپ جیسی چمک۔
”آپ درست کہہ رہے ہےںباس۔“ٹےڈی نے اپنے باس کی تائےد کی۔
”مجھے بتاےاگےا ہے ،تم ےوسف مزرا کے عزےز ہوااورتمہارے بےچ اس کا بےٹا بھی ہے۔“
”مےںان کابےٹاہوں…اورےہ تےنوں مےرے دوست ہےں۔“گلفام نے اطمےنان سے کہا۔
”تم نے ہمارے انکل کو اغوا کےوں کےا؟“عادل نے کہا۔
”ہم نے انہےں اغوا نہےں کےا،بلکہ اسے تو بڑے آرام سے، گاڑی مےں بٹھاکر لائے ہےں۔“باس نے پرسکون انداز مےں کہا۔
”کسی کوزبردستی اس کی خواب گاہ سے اُٹھالانے کو،تم آرام سے لانا کہتے ہو۔“گلفام نے جل کر کہا۔
”ےہی بات ہے۔“باس ہولے سے مسکراےا۔
”لےکن سوال توےہ ہے، تم نے اےسا کےوںکےا؟“رخ زےب نے آنکھےں نکالیں۔
”ہاں!ےہ سوال اہم ہے۔“
”اورتم اس کا جواب شاےد نہیں دو گے۔“ مےںنے باس کی آنکھوں مےں جھانکتے ہوئے کہااور اےسا کرتے وقت مجھے ایک جھٹکا سا لگا ۔ مےں نے جلدی سے نگاہےں نےچی کرلےں۔نہ جانے اس کی آنکھوںمےں کےا تھا۔مےں اپنے بدن مےں سردی کی لہرسی محسوس کررہا تھا۔
”نوجوان!آیندہ مےری آنکھوںمےں جھانکنے کی کوشش مت کرنا…ورنہ پچھتاﺅگے۔“
”بہتر،لےکن تم نے مےرے سوال کاجواب نہےں دےا۔“مےںمسکرایا۔
”اےسی بات نہےں…مےںتمہےں ضرور بتاﺅںگا…سنو!دراصل مےں ےوسف مرزا سے اےک کام لےنا چاہتاہوں۔“باس مسکرایا۔
”کےسا کام ۔“ہم نے حےرت سے اسے دےکھا۔
”ےہاں ایک اڈا تعمیر ہو رہا ہے، ےوسف مرزا کواسی سلسلہ مےںےہا ں لاےاگےا ہے کےونکہ مےںجانتاہوں…وہ ملک کا ذہےن ترےن انجےنئر ہے اور مجھے اڈے میں کچھ خاص تعمےر کرانا تھا، اس کے لیے اےک اےسے ہی آدمی کی ضرورت تھی۔“باس نے کہا۔
”اورجوںہی اڈے میں وہ خاص تعمیر ہوگی…ہم ےوسف مرزا کو آزاد کردےں گے۔“ٹےڈی نے ہنستے ہوئے کہا۔
”تاکہ وہ تمہےں قانون کے حوالے کر دیں…! تم ایسا نہےں کروں گے۔ کام نکلوانے کے بعد، تم انکل کو قتل کر دو گے ،ہےں نا۔“
”تمہارا خیال غلط ہے۔ ہم ایسا نہےں کریں گے۔“
” ©ہم تمہاری باتوں پر اعتماد نہےں کر سکتے۔“
”نہ کرو، تمہاری مرضی۔ بہرحال اتنا طے ہے، ہم تم لوگوں کو ضرور ہلاک کر دیں گے۔“
”زندگی اور موت اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارا ایمان ہے جو رات قبر میں آنی ہے، وہ قبر سے باہر کسی صورت نہےں آئے گی۔“ میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔
میرا ذہن تےزی سے کام کررہا تھا۔ اگر ان لوگوں نے دوبارہ ہمےں قےد کردےاتوپھرشاےد ہماراآزاد ہونا،ناممکن نہےںتومشکل ضرورہوجانا تھا ، اس لےے مےرے ذہن مےں طوفان سے اُٹھ رہے تھے۔
”نوجوانو!جان لو، ہم غےرمسلم ہےں۔“باس زور سے ہنسا۔
”اورتمہارا تعلق دشمن ملک کی خفےہ ایجنسی سے ہے۔“
مےرا جملہ سن کر انہوںنے اےک دوسرے کی طرف دےکھااورپھر باس مسکراتے ہوئے کہنے لگا:
”اس مےں کوئی شبہ نہےں کہ تم ذہےن ہواورذہےن لوگ مجھے زہرلگتے ہےںےاےوں جان لو کہ ذہےن دشمن مجھے اےک آنکھ نہےں بھاتے اور جو چیز مجھے اےک آنکھ نہ بھائے…مےںاس کا وجود زےاد دےربرداشت نہےں کےا کرتا…لہٰذا تم خود کومرنے کے لےے تےارکرلو…اب سے چند گھنٹے بعد تمہاری زندگےوں کے چراغ گل کردئےے جائےں گے۔“باس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی لےکن آواز بہت سرد تھی۔
مےںنے اپنے ساتھےو ںکی طرف دےکھا۔گلفام کے علاوہ کسی کے چہرے پر کوئی تاثرنہےں تھا۔اس کے چہرے پر خوف وپرےشانی کے آثارآہستہ آہستہ نماےاں ہورہے تھے۔ےہ بات باس نے محسوس کرلی۔گلفام کی بدلتی ہوئی حالت مجھے حےران کےے دے رہی تھی۔رخ زےب اورعادل بھی حےرت سے اس کامنہ تک رہے تھے۔
”گلفام !تمہےںکےاہوگےاہے؟“مےںنے بے چےن ہوکر پوچھا۔اس نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا، پھر بولا:
”مجھے عقل آگئی ہے…مےں تم لوگوں کامزےد ساتھ نہےںدے سکتا…تم اپنے ساتھ مجھے بھی مرواڈالوگے۔“
گلفام کے منہ سے ےہ الفاظ سن کر مجھے حےرت کا اےک شدید جھٹکا لگا۔عادل اور رخ زےب کی حالت مجھ سے مختلف نہ تھی۔
”ےہ تم کےاکہہ رہے ہو…تم ہوش مےں توہو۔“عادل نے چلاکرکہا۔
”چلانے کی ضرورت نہےں،مےںنے فےصلہ کرلےاہے، مےں تم لوگوں کامزےد ساتھ نہےں دوںگا…دوسرے الفاظ مےں خواہ مخواہ موت سے نہےںکھےلوںگا۔“اس کے لہجے سے نفرت چھلک رہی تھی۔
”اوہ!لےکن ہم تو تمہارے ڈےڈی کی خاطر…“رخ زےب نے کہنا چاہامگرگلفام نے اس کی بات درمےان سے اُچکتے ہوئے کہا:
”ےہ تم لوگوں کا فےصلہ تھا کہ ڈےڈی کوتلاش کےاجائے۔ مےں نے شروع ہی سے تمہاری مخالفت کی تھی، اس وجہ سے کہ کہےں ڈےڈی کوتلاش کرتے ہوئے خودموت کے منہ مےںنہ چلے جائےں اوردےکھ لو…اےسا ہی ہوا ہے…باس ہمےں چند گھنٹے بعد قتل کردےںگے۔“
”تم پاگل ہوگئے ہو۔“عادل چےخ پڑا۔
”ہاں!مےںپاگل ہوگےاہوں۔“گلفام مسکراےا۔پھر باس سے مخاطب ہوا:
”باس !آپ ان لوگوںکو ہلاک کردےںاور مجھے واپس جانے دےں۔“
باس جواس صورت حال سے خاصا حےران دکھائی دے رہا تھا،گلفام کی بات سن کر چونک پڑا۔اس کے ساتھےوں کا بھی براحال تھا۔ وہ سب حےران تھے۔
مجھے گلفام پر بے تحاشہ غصہ آرہا تھا۔ہم اس کی خاطر کٹھن سفر کر کے اس علاقے مےں آئے تھے۔ ہمےں ےہ بھی معلوم تھا ،موت کسی بھی وقت ہم پہ جھپٹ سکتی ہے اورگلفام نے نےکی اورہمددری کا ےہ صلہ دےاتھا ہمیں۔غصے کی شدت سے مےراچہرہ سرخ ہوگےا تھا۔
باس نے باری باری ہماری طرف دےکھااور پھر گلفام سے مخاطب ہوکر بولا:
”اگر تم واقعی ان سے الگ ہوگئے ہوتو مےں تم سے وعدہ کرتا ہوں، اڈے میں اس خاص تعمےر کے بعد ےوسف مرزا اور تمہےں واپس جانے دوںگا۔“
”مےری ےہی خواہش ہے۔“گلفام نے خوش ہوکرکہا۔
اور اسی خوشی مےں اس نے اپنا ننھا سا چاقو جیب سے نکال کر باس کودے دےا۔جانے اس نے کب یہ چاقو جوتی کی ایڑی سے نکال کر جیب میں رکھ لیا تھا۔باس نے مسکراتے ہوئے وہ چاقو پکڑلےا۔
”یقینا ان کی جیبوں میں بھی ایسے ہی چاقو ہوں گے، ذرا ان کی تلاشی تو لو۔“
ٹےڈی نے آگے بڑھ کر ہماری جیبوں میں ہاتھ ڈال دےے۔ لیکن ان میں چاقو ہوتے تو اسے ملتے!
”گلفام !تم نے ہمےںدھوکا دےاہے۔“رخ زےب اس کا ےاپلٹ پر دل برداشتہ تھا۔
”مےںنے اپنی جان بچائی ہے، تم جانتے ہو،بے موت مرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔“گلفا م مسکراےا۔
”تم نے کہا تھا،ہمارا جینا مرنا ایک ساتھ ہوگا۔“عادل نے اُسے ےاددلاےا۔
”ہاں،لےکن وہ مےراجذباتی فےصلہ تھا۔“
”تم۔“عادل تےزی سے گلفام کی طرف بڑھا۔
باس چےخ پڑا:
”خبردار!ذراسی بھی حرکت کی تو بھون کر رکھ دےے جاﺅگے۔“عادل ےہ سن کر جہاں تھا، وہےں ساکت ہوگےا۔
”عمران! تم خاموش کےوں ہو؟“رخ زےب مجھ سے مخاطب تھا۔
”رخ زےب !قصور اس کا نہےں،غلطی ہماری تھی ،ہم دوستی کی خاطر اس کے ساتھ چل پڑے تھے۔ تم اب اس سے مزےد کوئی با ت نہ کہنا۔“مےںنے کہا۔مےری آنکھوں مےں آنسو آگئے تھے۔
”انہےں زےروروم مےںلے جاکر بندکردواورجب میں کہوں، انہےں گولےوں سے بھون دےنا۔“باس کی آوازگونجی۔
”چلوبھئی چلو…“ٹےڈی نے ہمےں اشارہ کےااور ہم تےنوں ان آگے لگے وہاں سے چل دےے۔چلتے چلتے مےںنے گھوم کر دےکھا۔گلفام کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور مجھے ےوں محسوس ہورہا تھا، جیسے وہ مذاق اُڑا رہا تھا۔
”سیدھے چلو۔“ٹےڈی کی گرج دار آواز سن کر مےںآگے بڑھنے لگا۔
O
مےںبے چےنی سے اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا۔مجھے ےقےن نہےںآرہاتھا کہ گلفام نے ہم سے غداری کی ہے اور وہ بھی جان بچانے کے لےے۔ غصے کی شدت سے مےں بار بار مٹھےاں بند کر رہاتھا اور کھول رہا تھا۔
عادل اوررخ زےب اےک کونے مےں بےٹھے تھے۔ان کی حالت بھی مجھ سی تھی۔
”عمران !گلفام ہماراکتنا اچھا دوست تھا …مجھے تواب تک ےقےن نہےں آرہا، اس نے ہم سے غداری کی ہے۔“عاد ل نے کہا۔ اُس کے لہجے میں دُکھ ہی دُکھ تھا۔مےں نے رُک کر اس کی طرف دےکھا۔
”اس نے ہمدردی کا ےہ صلہ دےا ہے، اپنی جان بچانے کی فکر ہے اُسے ہم یہاں پڑے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔“ رُخ زےب نے جل کر کہا۔
”اس نے ہمارے ساتھ جوکےا سوکےا لےکن وہ لوگ زندہ اسے بھی نہےں چھوڑےں گے۔“مےںنے مسکراتے ہوئے کہا۔
”اب ہماراکےاہوگا،کےا ہم واقعی ہلاک کردےے جائےںگے ؟“عادل کے لہجے سے پرےشانی عےاں تھی۔
”مےرے دوست!پرےشان ہونے ےا گھبرانے کی ضرورت نہےں ہے۔اگر ہماراوقت آگےا ہے تو دنےا کی کوئی طاقت ہمےں موت کے منہ سے بچانہےں سکتی اور اگر اﷲ نے ہمےں زندہ رکھناہے تو کوئی طاقت اےسی نہےں جو ہمےں مار سکے،لہٰذا ہم لوگوں کوپرےشان ہونے کی ضرورت نہےں…جوہوگا اﷲ کی مرضی سے ہوگا۔ہمےں دُعا کے ساتھ ساتھ ےہاں سے نکلنے کی تدبےر بھی کرنی چاہےے، کیا خیال ہے؟“مےںنے کہا۔
”ہاں !تمہاری بات درست ہے ،ہمےں تمام خدشوں اور وسوسوں کو اےک طرف ڈال کر ےہاں سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہےے۔“رخ زےب نے کہا۔
”توپھرنکالواپنے جوتوں سے چاقو۔“مےںنے کہااورپھر ہم نے اپنے اپنے چاقو نکال کر ہاتھوںمےں لے لےے۔ اﷲ کا شکرہے کہ دشمنوں نے ہمارے جوتے چےک نہےں کئے تھے…
”ان ننھے منے چاقوﺅں سے ہم کےاکرسکتے ہےں؟“رخ زےب نے کمرے کی چھت کاجائزہ لےتے ہوئے کہا۔
”ےہ چاقوہمارے بہت کام آئےںگے، تم اےسا کرو،ارے!!“اچانک مےرے ذہن مےںاےک زوردار ترکےب آئی ۔دونوں نے چونک کر مےری طرف دےکھا۔پھر انہوں نے بے ےک وقت پوچھا:
”کےاہوا؟“
”مےرے ذہن مےں اےک ترکےب آئی ہے۔“
”کےا…؟“عادل نے بے چےنی کامظاہرہ کیا۔
”ہمےں اس روشن دان کے ذرےعے سے نکلناہے۔“
”ارے! اےسا ممکن ہے۔“وہ مےری ترکےب سمجھ گئے تھے۔پھرہم اپنی ترکےب پرعمل کرنے لگے۔عادل مضبوط جسم کامالک تھا ،لہٰذا اسے گھوڑابنانے کے بعد رخ زےب اس کے اوپر بےٹھ گےااورمےںرخ زےب کے کندھوں پرسوار ہوگےا۔عادل کے کہنے پر رخ زےب آہستہ آہستہ کھڑا ہوگےااور جب وہ پورکھڑاہواتومےںبھی کھڑاہوگےا اورپھر ےہ دےکھ کر ہماری خوشی کی اتنہانہ رہی کہ مےر ے ہاتھ روشن دان تک بڑی آسانی سے پہنچ رہے تھے۔
”مبارک ہو…مےرے ہاتھ روشن دان تک پہنچ رہے ہےں۔“خوشی ومسرت سے مےرا انگ انگ جھوم جھوم گےا۔
”اﷲ کا احسان ہے، اب جلدی سے سلاخےں کاٹ دو…اُمےدہے، تمہےں ےہ کام کرتے ہوئے کوئی دقت نہےں ہوگی۔“رخ زےب نے کہا۔
مےرے ہاتھ تےزی سے سلاخےں کاٹنے لگے۔آخرپندرہ منٹ کی کوشش کے بعد، مےں سلاخےں کانٹے مےں کامےاب ہوگےااور اےسا اس لےے ہوا تھا کہ چاقو بہت تےز تھے اور پھر ہم لوگوںنے خصوصی طورپر بنوائے تھے۔
”مےں نے سلاخےں کاٹ لی ہےں۔“مےںنے اپنے دوستوںکو خوش خبری سنائی۔
”کےا تم آسانی سے باہر جاسکتے ہو؟“رخ زےب نے پوچھا۔
”ہاں اور مےں دےکھ رہاہوںکہ روشن دان کے نےچے بڑی بڑی گھاس ہے،اگر چھلانگ لگاﺅں تو چوٹ نہ لگے۔“مےںنے باہرکاجائزہ لےتے ہوئے کہا۔
”توپھر دےر کاہے کی …کودجاﺅ۔“
”اچھا…اﷲ حافظ…مےں کوئی بندوبست کرکے تمہےں ےہاں سے نکال لوںگا…ان شاءاﷲ۔“
مےںنے کہااور اﷲ کا نام لے کر روشن دان سے باہرچھلانگ لگادی۔گھاس چونکہ بہت بڑی بڑی تھی ۔اس لےے کود نے سے کوئی زےادہ اونچی آواز پےدانہ ہوئی۔مےںاُٹھ کر بےٹھ گےا اوراردگردکاجائزہ لےنے لگا۔مےں اس وقت گھنے جنگل مےں تھا۔طرح طرح کے درخت منہ اُٹھائے کھڑے تھے۔مےںنے اندازہ کےا کہ اس وقت ےہی کوئی دن کے دس ےا گےارہ بج رہے ہوںگے۔گھاس سے نکل کر مےں اےک بڑے درخت کے پاس آکرکھڑا ہوگےا۔مےری نگاہےں تےزی سے اردگرد کے ماحول کاجائزہ لےنے مےں مصروف تھےں،لےکن قرےب قرےب مجھے اےسی کوئی شے دکھائی نہےں دی جس کی مددسے مےںاپنے دوستوں کوآزاد کراتا۔اےک خےال مجھے پرےشان کےے دے رہا تھا کہ اگر پےچھے کوئی دشمن مےرے دوستوں کی طرف آنکلا توکےاہوگا۔ےہی سوچ کر مےں تےزی سے اِدھر اُدھر گھومنے لگااورپھر آخردس منٹ کی تلاش کے بعد مجھے اےک رسی کاگولامل گےا۔گولے کے ملنے سے ظاہر ہورہاتھا کہ قدرت مےری مددکررہی تھی ورنہ اس جنگل مےںرسی کے گولے کاکےاکام۔مےںنے دےکھا،رسی بہت مضبوط اور نائیلون کی تھی۔رسی لے کر مےںروشن دان کے نےچے آگےااورپھر قرےب پڑاہواچھوٹاسا پتھر اُٹھاکررسی کے اےک سرے پر باندھنے لگا۔پتھر کوباندھنے کے بعد مےںنے اﷲ کانام لے کر رسی کوگھماکر روشن دان کی طرف چھوڑامگرپتھر روشن دان مےںنہ جاسکا۔مےںنے اےک بار پھر کوشش کی لےکن اس بار بھی مجھے ناکامی کا سامناہوا۔مےںنے ہمت نہ ہاری اور مسلسل کوشش کرنے لگااوربالاخر چھٹی کوشش مےں پتھر روشن دان سے ہوتاہوا کمرے مےں چلاگےا۔جب مےںنے محسوس کےا کہ رسی کو کسی نے پکڑ لےاہے تو مےںنے اےک ہلکاسا جھٹکا دےا۔جواب مےں بھی جھٹکا محسوس ہوا اورمےرے چہرے پر مسکراہٹ پھےل گئی۔مےںنے اِدھر اُدھر دےکھا۔قرےب ےادورکوئی نہےں تھا۔اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد مےںنے عادل کو آواز دی:
”عادل …عادل…رسی کھےنچو۔“
”اچھا۔“
عادل کی طرف سے جواب آےااور پھروہ رسی کھےنچنے لگا۔رسی کافی موٹی اور مضبوط تھی۔ مےراپروگرام تھاکہ اسے ڈبل کرلےاجائے تاکہ بعد مےںکوئی دقت نہ ہو۔عادل رسی کھنچتارہااورجب مےںنے محسوس کےا کہ اب رسی ڈبل ےعنی دوہری ہوسکتی ہے تو مےںنے اسے مزےد کھنچنے سے منع کردےا۔اِدھر شاےد وہ مےری ترکےب ےاارادہ جان گئے تھے۔ مےںنے دےکھا، پتھر روشن دان سے ہوتا ہوا با ہرآگےا۔مےںنے بڑھ کر پتھر پکڑلےااورپھر اسے رسی سے الگ کرکے اےک طرف پھےنک دےا۔اب مےںنے دوہری رسی کو لے کر قرےب میں موجود درخت سے مضبوطی سے باندھ دےا۔ پھرٹھےک پانچ منٹ کے بعد وہ مےرے ساتھ موجودتھے۔
”اﷲ کا احسان ہے، اس نے ہمیں اِس قید سے نجات دلائی۔“ میں نے رسّی واپس کھینچتے ہوئے کہا۔
”عمران! ہم آزاد تو ہوگئے ہےں لیکن گلفام …وہ ظالم لوگ انکل یوسف اور اُسے ہلاک کر دیں گے۔ دشمن ملک کے غنڈوں سے کسی بھلائی کی اُمیدرکھنا بے وقوفی ہے۔“ رُخ زیب نے کہا۔
”لیکن اس نے تو ہمیں دھوکا دیا ہے۔“ عادل نے تےز لہجے میں کہا۔
”جان تو ہر ایک کو پیاری ہوا کرتی ہے۔ بہرکیف! وہ ہمارا دوست ہے اور گروپ کا ایک رُکن بھی، پھر ےہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ سب اس کی کوئی چال ہو۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”چال۔“ دونوں نے دہراےا۔
”ہاں! تمہےں یاد نہےں، ہےروئن والے معاملے میں بھی اس نے بالکل ایسا ہی ڈراما کیا تھا۔ عین وقت پر اس نے پانسہ پلٹ دےا تھا۔“ میں نے انہےں یاد دلایا۔
”ہوں! اےسا تو ممکن ہے ، لیکن…“
”لیکن ویکن کچھ نہےں، میرا دل کہتا ہے، ضرور یہی بات ہے ورنہ وہ ہمارامخلص دوست ہے اور تمہےں وہ واقعہ ےاد نہےں جب ہم اےک جنگل مےں بھٹک گئے تھے۔ اےک شےر نے مجھ پر اچانک حملہ کردےاتھا…ےہ گلفام ہی تو تھا جس نے اپنے آپ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، مےری جان بچائی تھی۔اب بھی وہ کےوں ہمےں الگ چھوڑنے لگا۔“
مےںنے انہےں اےک اوربات ےاد دلائی اور سچ توےہ ہے کہ آزادہونے کے بعد مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہورہا تھا کہ گلفام نے کوئی چال چلی ہے۔
”اگرایسا ہے ،تب وہ بہت ذہین ہے۔“رخ زےب مسکراےا۔
”وہ واقعی بہت ذہین ہے، اس مےں کوئی شبہ نہےں۔“
اچانک باس کی آواز سن کر ہم تےز ی سے پےچھے گھومے اوردنگ رہ گئے۔باس اپنے ساتھےوں کے ہمراکھڑاتھا۔اس کے لبوںپر اےک شرےر مسکراہٹ موجود تھی۔ہم نے بے بسی سے اےک دوسرے کی جانب دےکھا۔
”تمہارے دوست نے واقعی چال چلی تھی اور ہم اس کی چال مےں آبھی گئے تھے لےکن اس ٹےڈی نے اس کا سارامنصوبہ خاک مےں ملا دےا۔“باس نے ٹےڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”اوہ…ےہ بہت براہوا۔“عادل کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
”تمہارے لےے ورنہ ہمارے لےے تو بہت ہی اچھا ہواہے…اگراےسا نہ ہوتا توتم لوگ ےقےناےہاںسے فرار ہوگئے ہوتے اور تمہارا فرار ہماری بدبختی کے مترادف ہوتا۔خےر،اب تم لوگ ہمارے واسطے کوئی مسئلہ کھڑا نہےںکرو گے کےونکہ ہم ابھی تمہارا کانٹا نکال رہے ہےں۔“اتنا کہہ کر باس نے اپنے ساتھ کھڑے ٹےڈی اور اس کے دوساتھےوں کی طرف دےکھا۔ اس سے پہلے کہ وہ انہےں کوئی ہداےت دےتا۔عادل بول پڑا:
”باس !ہمارادوست اس وقت کہاںہے؟“
”وہ اپنے باپ کے پاس ہے…انہیںاتنالوہا پہناےا گےاہے کہ ہلنے کے قابل بھی نہےں ہےں۔“باس کالہجہ بہت خوفناک تھا۔
”باس !اتناجان رکھوکہ تم ہمےں ہلاک نہےںکرسکوگے،کےونکہ…“مےںنے بات اُدھوری چھوڑدی۔
”کےوں کہ…کےا؟“باس ہنسا۔
”کےونکہ ہم تمہےں اس قابل ہی نہےں چھوڑےںگے کہ تم ہمےں ہلاک کرسکو۔“مےںنے اچانک چےختے ہوئے کہا۔
باس اور اس کے تےنوں ساتھی گھبرااُٹھے۔مجھے اسی لمحے کا انتظار تھا۔مےںنے اس موقع سے فائدہ اٹھاےااور کلاشن کوفوں کی پروانہ کرتے ہوئے باس پر چھلانگ لگادی۔اِدھر مےر ے دوستوںنے بھی ےہی کارروائی کی تھی۔وہ لوگ ےہ سمجھ رہے تھے کہ ہم گنوں کے ہوتے ہوئے ان پرحملہ نہےں کرےںگے ،لہٰذا وہ بے خبری مےں مارکھاگئے۔مےںنے باس کودھکادےتے ہوئے ٹےڈی سے گن چھےن لی۔ گن جونہی مےرے ہاتھوں مےںآئی۔مےںاُچھل کر کھڑاہوگےا۔
O
”خبردار!اب تم کوئی حرکت نہےں کروگے۔“مےری آواز سن کر رخ زےب نے ٹےڈی کے ساتھےوں کوچھوڑ دےا۔
باس جو زمےن پر گرچکاتھا،اُچھل کرکھڑاہوگےا۔ٹےڈی اور اس کے دوساتھےوں نے بھی اےسا ہی کےا۔وہ چاروں خونخوارنظروںسے مجھے دےکھ رہے تھے۔ان کے ہتھےاران کے ہاتھوں سے نکل کر دور جاگرے تھے،ےہ دےکھ کرمےںنے اپنے ساتھےوںسے کہاکہ وہ ہتھےار اُٹھالےں۔انہوں نے اےسا ہی کیا۔اب صورت حال ےہ تھی کہ اکٹھی تےن کلاشن کوفوںکا رُخ ان کی طرف تھااور ان کے چہروں پر ہوائےاں اُڑ رہی تھےں۔البتہ باس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ تھی۔
”مےںنے کہا تھا، ہم تمہےں اس قابل نہےں چھوڑےں گے کہ تم ہمارا کچھ بگاڑ سکو۔“
” ہم تمہےں عام نوجوان سمجھ رہے تھے لےکن لگتاہے، ہمارا خےال غلط تھا۔“باس نے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا۔
”تمہاری اطلا ع کے لےے عرض کردوں، ہم واقعی عام نہیں،خاص ہیں، بہت ہی خاص۔اس با ت کا اندازہ تمہےں شروع مےںہوجاتالےکن ہم ذرا ٹھنڈے دماغ کے مالک ہےں۔ہرکام کوخوب اچھی طرح سوچ سمجھ کر کرنے کے عادی ۔“ مےںنے اسے بتاےا۔
”کچھ بھی ہے لےکن تم لوگ اس جنگل سے زندہ ہرگز نہےں لوٹو گے۔“باس نے کہا۔
”ےہ بعد کی بات ہے۔ فی الحال تو یہ بتاﺅ، تمہارا ارادہ کےاہے۔انکل ےوسف اورگلفام کوہمارے حوالے کررہے ہوےا؟“مےںنے سخت لہجے مےں کہا۔
”تھوڑا سا کام رہ گےا ہے، کام کرائے بغےر ہم ےوسف کو نہےںچھوڑےں گے۔“باس نے اٹل لہجے مےںجواب دےا۔
”اور اس کام کوتم لوگ ضرور ہماری سلامتی کے خلاف استعمال کروگے۔“
”ہاں…ےہ بات توہے۔“وہ ہنسا۔
”تم اس وقت ہمارے قبضے مےں ہواورہم تمہےں تمہارے مقصد مےں کامےاب نہےں ہونے دےںگے۔“
”ےہ تمہاری بھول ہے۔“
مےںجوبا ت اےک بارکہہ دےتاہوں…اس پر عمل ضرورکرتاہوں۔“
”لےکن تم اس بار عمل نہےں کرسکوںگے۔“
”کےسے نہےںکرسکوں گا…کےاتم پاگل ہوگئے ہو؟“
”پاگل توتم ہوگئے ہوجوہماری حراست مےں ہوتے ہوئے ہمےںدھمکا رہے ہو۔“باس نے کہا۔
”تمہاری حراست۔“مےںنے حےرت سے کہا۔
”ہاں!ذرا اپنے پےچھے والے درختوں پرنگاہ ڈالو…تمہارے ہوش اُڑجائےں گے۔“باس نے مےرے پےچھے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”کےا تم مجھے احمق سمجھتے ہو۔“مےںنے غراکرکہا۔
”سمجھتا نہےں ہوںبلکہ مجھے ےقےن ہے…ذرا اپنے پےچھے تو دےکھو۔“
مےں سوچ مےں پڑگےا۔کہےں ےہ درست تو نہےں کہہ رہاہے…پھرمعاًمےرے ذہن مےں اےک ترکےب آئی۔مےںمسکراےااوربولا:
”تمہارے ساتھی ان درختوں پر ہےںجوعےن مےر ے پےچھے ہےں۔“مےںنے عادل اوررخ زےب کوآئی کوڈ مےںہداےت دےتے ہوئے کہا۔
”ہاں!اب پےچھے دےکھ بھی چکو۔“باس نے کہا۔باس کی بات ختم ہوتے ہی مےںلٹو کی مانند گھومااور فائرکھول دےا۔تےن چےخےں بے ےک وقت اُبھرےںاور ساتھ ہی تےن لاشےں دھڑام سے درختوںسے نےچے گرےں۔فائر کرتے ہی مےںسےدھا ہوچکاتھا۔ےہ تمام کارروائی دےکھ کر باس کارنگ فق ہوگےا۔تھرتھراتی آواز مےں بولا:
”ت…ت…تم…تمہارانشانہ۔“
”مےںنے پہلے کہا تھا، ہم عام نہیں،خاص ہیںاورظاہرہے، ہمارانشانہ بھی خاص۔“بات اُدھوری چھوڑکر مےںمسکرانے لگا۔ ٹےڈی اور اس کے ساتھےوں کی حالت پتلی ہورہی تھی۔
”کہےں تمہاراتعلق ےہاں کی خفیہ ایجنسی سے تو نہےں؟“باس کی آواز کانپ رہی تھی۔
”نہےں…ہم اپنے طورپر، ملک کو تمہارے جےسے’ گند‘سے پاک کرتے ہےں…ہمارے گروپ کا نام فورفائٹرز ہے…اور اس کا ہر رکن شےر ہے …ابھی تم نے باقی لوگوںکے ہاتھ نہےں دےکھے ہےں۔“
”عمران !ہمےں وقت بربادنہےں کرنا چاہےے… جانے گلفام اور انکل ےوسف کس حال مےں ہوں۔“رخ زےب بولا۔
”باس کے بچے ! اگر تم نے ہمےں انکل ےوسف اور گلفام کے پاس بحفاظت پہنچادےا تو مےں وعدہ کرتاہوں، تم سے کچھ رعاےت کی جائے گی۔“عادل نے کہا۔
”ےاپھر اتنابتادوکہ تمہارے اڈے پر کتنے لوگ ہےں۔“مےںنے کہا۔
”ہم تمہاری کسی بات کا جواب نہےں دےں گے۔“باس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
”تمہاری مرضی …بہرحال ہم چاہتے تھے، تم سے تھوڑی رعاےت کی جاتی لےکن اگر ےہ پسند نہےں کرتے تو کوئی بات نہےں،ہم اپنے ساتھےوں تک کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی جائےں گے،تم توجاﺅ۔“ےہ کہہ کر مےںنے باس اور اس کے تےنوں آدمےوںکو جہنم واصل کردےا۔
اس کا م سے فارغ ہوکر ہم عمارت کے ساتھ ساتھ مشرقی سمت مےںبڑھنے لگے۔ہمےں تلاش تھی کسی اےسے راستے کی جس سے گزرکر ہم دشمن کے اڈے کے اندر پہنچ سکےں۔عمارت کافی بڑی تھی ۔آخر کار ہم عمارت کا گےٹ تلاش کرنے مےں کامےاب ہوگئے۔
”اےسامحسوس ہوتا ہے، جےسے ےہاں کوئی بھی نہےں۔“عادل نے اِدھر اُدھر دےکھتے ہوئے کہا۔
”حےرت کی بات ہے…حالانکہ ےہاںتو بہت سے لوگ ہونے چاہےےں ۔“رخ زےب بولا۔
”ےہ بھی ممکن ہے، ان کے زےادہ ساتھی ےہاںنہ ہوں۔سات افراد کو تو ہم نے ہلاک کردےاہے۔“مےںنے کہا۔
” ےہ بات توطے ہے کہ ہمےں اب براہ راست اےکشن لےناہے۔“
”باس بتارہا تھا ، وہ اڈے میں کچھ خاص تعمےر کروارہاہے…اس صورت مےں تو کافی لوگ ہونے چاہےےں۔“
”اورفائرنگ کی آواز سن کر تو انہےں باہر آنا ہی چاہےے تھا۔“
”اس بات پر تومجھے بھی حےرت ہے۔“
”مےراخےال ہے ،ہمےں مزےدوقت ضائع کےے بغےر اندرداخل ہونے کی کوشش کرنی چاہےے۔“عادل نے کہا۔
”گےٹ پر فائرنگ کرو…امےدہے، اندرداخل ہونے کا راستہ بن جائے گا۔“
اور پھر ہم نے اےسا ہی کےا۔دروازہ اےک طرف جاگراتھا۔گوکہ کافی مضبوط اور بھاری لکڑی سے بناےاگےا تھا لےکن ہم نے قبضوں والی جگہوں پر فائرنگ کرکے اسے گراےاتھا۔
دروازے کے ٹوٹتے ہی ہم تےزی سے اندرداخل ہوگئے۔برآمدے سے ہوتے ہوئے ہم بڑی احتےاط سے آگے بڑھنے لگے۔
ےہ کافی کھلی جگہ تھی اورےوں محسوس ہورہاتھا، کسی خاص مقصد کے لےے بنائی گئی ہے۔ہم کافی دےرتک عمارت مےں گھومتے رہے لےکن ہمارا کسی اےک بھی آدمی سے سامنانہ ہوا۔ہمےں بڑی حےرت ہورہی تھی اور ہم اس مےں حق بجانب بھی تھے۔صرف سات آدمی تو اس پوری عمارت مےں ہو نہےں سکتے تھے۔ہم نے پوری عمارت دےکھ ڈالی تھی لےکن سوائے خاموشی کے ہمیں کچھ نہ ملا۔ہم اےک چھوٹے سے کمرے مےںکھڑے تھے۔کمرے کی ساخت عجےب سی تھی۔
”حےرت ہے…ےہاں توکوئی بھی شخص نہےں ہے۔“رخ زےب کہا۔
”کم ازکم انکل اورگلفام کوتو ہونا چاہےے۔“عادل بولا۔
”مےراخےال ہے، ےہا ں کے لوگ ےاتوکہےں دوسری جگہ چلے گئے ہےںےا پھر اِدھر کوئی تہہ خانہ ہے۔“مےںنے اپنا خےال پےش کےا۔عادل نے چونک کر مےری طرف دےکھا۔
”تمہارا خےال درست معلوم ہوتاہے…ےہاں ضرور کوئی تہہ خانہ ہے۔“
”عمران !کےا ےہ چٹان والاعلاقہ ہے…مےرا مطلب ہے، جس جگہ وہ چاروں داخل ہوئے تھے اور جہاں پر ہمےں بے ہوش کےاگےا تھا۔“ رخ زےب نے کہا۔
”نہےں…ےہ وہ جگہ نہےں ہے…شاےد ان کا کوئی دوسرا اڈاہے۔“
”دوسرااڈا…ےہ کےا چکرہے؟کےا ہماری حکومت کواس بات کا علم نہےںہے۔“عادل نے کہا۔
”اگرمعلوم ہوتا تودشمن کے ےہ غنڈے یوں دندناتے پھرتے !اصل میں ان لوگوں کے حلےے ہم جیسے ہیں اور پھر زبان بھی قریباً ایک جیسی معلوم ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ لوگ نظروں سے اوجھل ہیں۔“
”پھر ےہ بھی تو ہوسکتا ہے، ہمارے کچھ لوگ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہوں۔“ عادل نے کہا۔ پھر اس کے منھ سے نکلا:
”ارے…ارے…ےہ کےاہورہاہے؟“
”کمرہ اُوپراُٹھ رہاہے۔“رخ زےب جلدی سے بولا۔
”ہاں…بالکل غےرمحسوس طورپر …ذراغور کرو۔“
اب ہم نے غورکےاتو واقعی کمرہ بالکل غےرمحسوس طورپر اُوپراُٹھ رہا تھا۔ہم نے اےک دوسرے کی طرف دےکھا۔
”اس کا مطلب ہے، ےہاں کچھ لوگ موجودہےں۔“عادل بولا۔
”کچھ نہےں…بہت سے لوگ موجودہےں…تم ذرااُوپرتوآﺅ۔“باس کی آواز سن کر ہمےں حےرت کا شدید جھٹکا لگا۔
”تم…تم…تم کون ہو؟“رخ زےب نے حےرت سے کہا۔
”باس !“ آواز میں طنز تھا۔
” کیا…نہےں…“ رخ زےب اور عادل چلااُٹھے۔
”مےں نہےںمان سکتا…تم کوئی اور ہواورباس کی آواز مےں بول رہے ہو…باس کوتو مےںنے بھون کررکھ دےاتھا۔“مےںنے کہا۔اس پر اےک قہقہہ پڑا…پھر باس کی آواز گونجی:
”جسے تم نے ہلاک کےا تھاوہ مےرا جڑواں تھا۔کےا تم نے ہمےں بے وقوف سمجھ رکھاہے…ہم اےک عرصے سے تمہارے ملک مےںفساد کررہے ہےںاورآج تک پکڑے نہےںگئے۔ بھلا اب تم کمزورسے نوجوانوں کے ہاتھوں کےوں کر ہلاک ہو جاتے۔“
”اوہ…تو ےہ بات ہے۔“عادل کے منہ سے بے ساختہ نکل گےا۔
”تھوڑی دےر بعد تم اُوپر آجاﺅ گے، مےرے جوان تمہار استقبال کلاشن کوفوں کی گولےوں سے کرےںگے۔“باس کی ہنستی ہوئی آواز آئی۔
مےںنے عادل اور رخ زےب کی طرف دےکھااورانہےں آئی کوڈ مےںہداےات دےنے لگا کہ آگے ہمےں کےاکرناہے۔مےںنے انہےں اس بات کا اشارہ بھی دےا کہ باقی بات چےت اشاروں مےں ہوگی کےونکہ باس ہماری باتےں سن رہاتھا۔
”پتا نہیںاُوپر ان کے کتنے آدمی ہوں گے…لہٰذا ہمےںخودکوان کے حوالے کردےنا ہے تا کہ ان لوگوں کی درست تعداد کے بارے مےں جان سکےں…لےکن اگر کوئی اےسی صورتِ حال ہوئی کہ ہمارا حرکت مےںآنا ضروری ہواتوکسی بات کی پرواہ نہےں کرنی ہے۔“مےںنے کہا۔
”جب کہ مےرا خےال ہے، ہمےں اُوپرجاتے ہی اےکشن لےنا چاہےے۔اب توہمارے پاس کلاشن کوفیں بھی موجود ہےں۔“عادل نے مشورہ دےا۔
”اور اُن کے پاس بھی تو ہیں۔“
”پروا نہ کرو۔“مےںنے رخ زےب کی طرف دےکھا۔
”ہاں… ہمےں اےکشن لینا ہی ہوگا۔“
”ٹھےک ہے، ہم فوری اےکشن لےںگے…تم تےار رہنا۔“
اشاروں ہی اشاروں مےں ہم نے مکمل پلاننگ کرلی۔کمرہ آہستہ آہستہ اُوپراُٹھ رہا تھااورپھر وہ رُک گےا۔ساتھ ہی باس کی آواز گونجی:
”وےسے تو ہم تمہےں اسی کمرے مےں ہلاک کرسکتے ہےں۔ لیکن تم بہادرہو، اس لےے بہادروں والی موت تو تمہےں ملنی ہی چاہےے… مےں درواز ہ کھول رہاہوں…آرام سے باہرآجاﺅ…اورہاں ےہ بات سن لو، تمہارے استقبال کے لےے پورے بےس آدمی جدےد اسلحے سے مسلح کھڑے ہےں۔تمہاری معمولی سی حرکت ان کے اسلحے کوحرکت مےں لاسکتی ہے۔“
”ہم کوئی حرکت نہےں کرےںگے لےکن اتنابتادو، ہمارے ساتھی کہاں ہےں؟“مےںنے کہا۔
”وہ اس وقت مےرے پاس موجود ہےں۔“باس کی آواز لہرائی اور ساتھ ہی کمرے کا دروازہ کھل گےا۔
O
جونہی ہماری نظر باہر کھڑے لوگوں پرپڑی…ہماری گنوںنے شعلے اُگلنے شروع کردےے…باہر موجود لوگوں کوشاےد اس با ت کی توقع نہےں تھی،لہٰذا وہ مارکھاگئے۔ ہم نے پہلے ہی ہلے مےں ان کے ساتھ آدمی ہلاک کردےے تھے۔باقی اِدھر اُدھرہوکر پوزےشنیں لےنے مےں کامےاب ہوگئے تھے۔ہم بڑے سے اس کمرے کی دیوار سے چپکے فائرنگ کر رہے تھے،اِدھر باس کے ساتھی بھی ہم پر فائرنگ کرنے لگے تھے۔مےںنے اپنے ساتھےوں کوشاروں مےں اےک ترکےب بتائی۔
اچانک عادل چےخ پڑا اور ساتھ ہی اُس نے فائرنگ روک دی… اس کے چند سیکنڈ بعد رُخ زیب نے بھی چیخ مار ی اور فائرنگ بند کر دی۔ انھوں نے دشمن کو تاثر دے دےا تھا کہ وہ گولےوں کاشکارہوگئے ہیں۔ادھر مےںمسلسل فائرکررہاتھا۔گولےاں اگرچہ ضائع جارہی تھیںمگر مےں فائرکرتارہا…اِدھر دشمن بھی مسلسل فائرنگ کررہے تھے۔تھوڑی دےربعد مےںنے بھی چےخ ماری اور الٹ کر گرا۔ مےںنے کلاشن کوف اپنے قرےب ہی رکھ دی تھی۔ ہماری طرف خاموشی دےکھ کر دشمن نے بھی فائرنگ بند کر دی۔ پھر وہ لوگ بڑے محتاط انداز سے چلتے ہوئے کمرے کے دروازے پرآئے…ہم بے سدھ پڑے تھے۔
”ارے…ےہ تو ہلاک ہوگئے ہےں۔“اےک آواز ہماری سماعت سے ٹکرائی۔
”ہاں…آجاﺅبھئی۔“ےہ دوسری آواز تھی۔اورپھر سب دروازے مےںآکرکھڑے ہوگئے۔
”ارے…ان مےںسے کسی کے بھی خون نہےںنکل رہاہے۔“
حےرت مےں ڈوبی تےسری آواز جےسے ہی ہمارے کانوں سے ٹکرائی،ہم نے پھرتی سے گنےںاُٹھا کر فائرنگ کردی۔کئی چےخےں اُبھرےں… فائر کرتے ہی ہم تےزی سے اُٹھے اوردروازے سے باہر چھلانگ لگادی اور لڑھکتے ہوئے اےک طرف ہوگئے۔اس دوران ہماری گنےں مسلسل آگ اُگل رہی تھیں…اورپھر تھوڑی ہی دےر میں بےس کے بےس آدمی جہنم واصل ہوچکے تھے۔
”ہمےں ہتھےار بدل لےنے چاہئےں۔“رخ زےب نے کہا۔
ہم نے ایسا ہی کیا۔
”ارے! وہ باس کہاں ہے۔“ عادل نے کہا۔
”پتا نہیںلیکن اب وہ ہمیں اےک لمحے کی بھی مہلت نہےںدے گا،لہٰذا ذرا ہوشےاری سے۔“مےںنے کہااور قرےبی کھلے ہوئے دروازے مےں داخل ہوگےا۔پھر اس سے پہلے کہ کلاشن کوف کی گولی میرے جسم کو چھوتی، میں نے لوٹ لگا لی۔ ساتھ ہی عادل کی گولیوں نے دروازے کی دوسری طرف موجود، باس کے ساتھی کو چاٹ لیا۔
”یہ پاگل یہاں رُک کر شاید ہمارا انتظار کر رہا تھا۔“ میں نے اُٹھتے ہوئے کہا۔ جواب میں رُخ زےب اور عادل مسکرا دےے۔پھر رُخ زےب نے کہا:
” لگتا ہے، باس ہم سے خوفزدہ ہوگےاہے…ورنہ ہمارے استقبال کے لےے اکٹھے بےس آدمی نہ بھےجتا۔“
”ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔“
ہم کمرے سے نکل کراےک بڑے ہال نماکمرے مےںآگئے۔اس کمرے کی مشرقی سمت اےک کےبن بناہواتھا۔ہم محتاط انداز سے اس کی طرف بڑھنے لگے۔ قرےب پہنچ کر کےبن کادروازہ کھولاتوحےران رہ گئے…اندرانکل ےوسف اورگلفام زنجےروں مےںجکڑے پڑے تھے۔ ہمےں دےکھتے ہی ان کے چہرے کھل اُٹھے۔
”کےا صورتِ حال ہے؟“گلفام نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
”ہم نے باس کے اکےس آدمی ےہاں ہلاک کےے اور سات نےچے ۔“مےںنے مسکراتے ہوئے کہا۔
”اسی لےے باس فرار ہوگےا ہے۔“
”کس لےے…؟“
”باس کے ےہاں کل اٹھائےس آدمی ہی تھے۔“
”اوہ اچھا…لےکن وہ فرارکہاں سے ہوا؟“مےںچونکا۔
”اس دروازے کے ذرےعے ۔“گلفام نے کےبن مےں بنے اےک دوسرے مگر چھوٹے سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس دوران ہم انہےں زنجےروں سے آزاد کرچکے تھے۔
”عادل ،رخ زےب !تم ےہاں رکو…مےں باس کے پےچھے جاتاہوں…وہ زےادہ دور نہےں گےاہوگا۔“ےہ کہہ کر مےں اس چھوٹے سے دروازے مےں داخل ہوگےا…جےسے ہی مےںدروازہ عبورکرکے ذرااندر گےاتواحساس ہوا، مےںکسی سرنگ مےں ہوں۔سرنگ کافی لمبی تھی لےکن روشنی کا انتظام خوب تھا۔مےں تےزی سے بھاگنے لگا…قرےباًدس منٹ تک بھاگنے کے بعد سرنگ کھلی ہوگئی۔ مےں بھاگتارہا،بالاخرسرنگ کے دوسرے دہانے پر پہنچ گےا…ےہ دہانہ جنگل مےں اےک بڑے سے درخت کے پاس تھا۔مےںنے اِدھراُدھر دےکھا.. دورمجھے اےک ہےولاسادکھائی دےا…مےںنے اﷲ کا نام لےااور اس کے پےچھے بھاگ کھڑاہوا…جلدہی مےں نے اس ہےولے کوجالےا…وہ باس تھا جو بے تحاشتہ بھاگے جارہاتھا۔
مےرے قدموں کی آواز سن کر اس نے پلٹ کر مےری طرف دےکھااور پھر آگ کا شعلہ سا مےری طرف لپکا…مےں تےزی سے لوٹ لگاگےا اور پھر مےری کلاشن کوف نے شعلے اُگلے…اگلے ہی لمحات مےںباس چےختا ہوازمےن پرگرا اورتڑپنے لگا…مےںاس کے قرےب گےااور بولا:
”تم نے انکل ےوسف کواغوا کرکے اپنے حق مےں بہت ہی براکےا،ورنہ شاےد تم ہمارے ہاتھ کبھی نہ لگتے۔“
باس نے کوئی جواب نہ دےا…اورپھر تھوڑی دےربعد اس کی روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑچکی تھی۔مےں واپس پلٹااوراپنے ساتھےوں کے پاس آگےا۔وہ سرنگ کے دہانے پر آگئے تھے۔
”مےںنے باس کو ختم کردےاہے۔“ ےہ سن کر انکل ےوسف کی آنکھوں مےںآنسوگئے…انہوںنے بے اختےارہوکر مجھے اپنے گلے سے لگالےا۔ پھر الگ کرتے ہوئے کہا:
”بےٹے !تم لوگوںنے اےک بہت عظےم کارنامہ سرانجام دےاہے…تم جانتے نہےں، انہوںنے اڈے میں جنگل سے کئی سرنگوں کی تعمےر کے سلسلے مےں مجھے اغوا کےا تھا،انہوں نے دو ایک سرنگےں تو مجھ سے پہلے ہی تعمیر کروالی ہےں، کچھ پر مجھ سے کام لیا جارہا تھا۔ باس کے تمام ساتھی میری مدد کر رہے تھے۔ان کا پروگرام بہت ہولناک تھا۔“
”کےا پروگرام تھا ان کا؟“عادل نے پوچھا۔
انکل ےوسف نے کہنا شروع کےا،ان کے لہجے مےں دُکھ تھا۔
” بچو!پڑوسی ملک ہمارے وطن میں مکڑی کی طرح جال بنے ہوئے ہے،وہ ہم پاکستانےوں مےںنفاق کے بےج بورہاہے۔اپنی بے ہودہ ثقافت سے نوجوان نسل کے اخلاق کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔کچھ ناعاقبت اندیش لوگ اور ٹی وی چینل اس کی ثقافت کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ بھائی کو بھائی سے لڑارہا ہے۔اس کی تمنا ہے، پاکستان ترقی نہ کرے،چناں چہ اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ ےہاں بدامنی کوہوادے رہا ہے۔ غداروں کی سرپرستی کرتا ہے۔اپنی خفیہ تنظےم کے غنڈوں کے ذرےعے، وہ اس پےارے وطن کوکھوکھلا کرنے کے در پے ہے۔غرض اس نے بے شمار پروگرام بنائے ہوئے ہےں، اس کا مقصد پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے رسواکرناہے۔اب اس نے اےک بڑا زبردست پلان بناےا ہے۔ تم جانتے ہو،ےہاں اےک اڈا تعمےر ہورہاہے اور جنگل سے کچھ سرنگےں بھی اس اڈے سے نکالی جارہی ہےں، بالکل غےر محسوس طور پر، درختوں، چھوٹے چھوٹے ٹےلوں کے نےچے سے…اس اڈے پرلوڈشیڈنگ، مہنگائی اور غربت کے ستائے ہوئے پاکستانیوںکی برین واشنگ کرکے، انہیں لوگوں کو وسیع پیمانے پر اغوا کرنے کی تربےت دی جانی تھی ، بنکوں میں ڈکیتےوں کی ٹرےننگ ، مسجدوں، امام بارگاہوں کے علاوہ عوامی اجتماعات کی جگہوں پر بم دھماکے کرنے کی تربےت دی جاتی۔ اس کام کے لیے انہوں نے بہت پیسہ خرچ کیا ہے، جدید مشینری یہاں خفیہ طور پر لائی گئی ہے۔میں تم لوگوں کو وہ بھی دکھاﺅں گا۔
بچو!جب تک اس پاک وطن مےںتم جےسے بہادراورجری نوجوان موجودہےں۔ اس کی سلامتی، بقااور آزادی کو کوئی خطرہ نہےںہے۔آج مجھ سے وعدہ کرو، جس طرح تم لوگوں نے دشمن کے اس منصوبے کو تہس نہس کیا ہے، آیندہ بھی پاکستان کی طرف اُٹھنے والی ہربری آنکھ کونکال لوگے۔اس کے دشمنوں کوکبھی معاف نہےں کرو گے،مجھ سے وعدہ کرو۔“
انکل ےوسف خاموش ہوئے تو ہم نے اُن کی آنکھوں مےں آنسو تےرتے دےکھے۔ گلفام نے آگے بڑھ کر ان کے آنسو صاف کرڈالے ،پھر بولا:
”ابوجان!ہم وعد ہ کرتے ہےں، ہمیشہ اپنے وطن کی نہ صرف سرحدوں کی بلکہ نظریاتی حفاظت بھی کریں گے۔“
”ان شاءاللہ۔“
انکل نے ہمیں جدید مشینری دکھائی تو ہم سب حےران رہ گئے۔
”اوہ…یہ…یہ…یہ اس قدر مشینری یہاں آ کیسے گئی انکل؟“ عادل نے حےرت کا اظہار کیا۔
”ہمارے ملک میں کچھ بھی ممکن ہے میرے بچو۔“
”اوہ…اب چلیں، ہمیں اپنی سوئی ہوئی حکومت کو اس اڈے اور اس سے جڑی ہولناک سازش سے آگاہ بھی تو کرنا ہے۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو میرے شیر دل دوست بھی مسکرانے لگے۔
روح کو گہرا اطمینان حاصل ہو تو چہروں پر مسکراہٹ آ ہی جاتی ہے…کیا خیال ہے آپ کا!!!
OOO

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے