سر ورق / افسانہ / بیت الفہیم۔۔ محمد عرفان رامے

بیت الفہیم۔۔ محمد عرفان رامے

مےں خلق خدا کے اس طبقے سے تعلق رکھتی ہوں جو ہر صبح اپنے خوابوں کا گلا گھونٹ کر خود کو دن بھر ملنے والی نت نئی اذےتوں کے لےے ذہنی طور پر تےار کر لےتا ہے شاےد ےہی وجہ تھی کہ مےں نے کم عمری مےں ہی اپنی محرومےوں سے دوستی کر کے خواہشات کے جزےرے پر جےنا سےکھ لےا تھا ۔
امی نے جب کبھی ابو کے سامنے اپنے بے گھر ہونے کا رونا روےا جواب ہمےشہ ےہی ملا :
” اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔تم بھی اس رب کائنات کی مصلحت مےں خوش رہنا سےکھ لو تو ذہنی اور قلبی سکون محسوس کرنے لگو گی۔ “
” ہاں بشرطےکہ مےری قلبی حرکت ذہنی پرےشانےوں کے سامنے ہتھےار نہ پھےنک دے۔ “
چند لمحے توقف کے بعدامی نہایت طریقے سے مجازی خدا سلےمان احمد کو اپنی بےماری کا احساس دلا جاتےں تو وہ گہری سانس لےتے ہوئے ناک پر ٹکی عےنک اُتار کر مےز پر رکھتے اور شفقت بھرے انداز مےں سمجھانے کی کوشش کرتے :
” دل چھوٹا نہےں کرتے تانےہ بےگم حالات کبھی اےک سے نہےں رہتے۔ وقت کا تو کام ہی گردش کرنا ہے ۔ تم دےکھنا اےک دن ہم اپنا گھر ضرور بنائےں گے جہاں ہر وہ قانون نافذ ہو گا جو تم چاہو گی۔ “
مےںابو کے ان دو چار جملوں مےں اک عجےب سا کرب اور بے بسی محسوس کےا کرتی تھی سچ بھی ےہی تھا کہ آخر کون چاہتا ہے وہ پےاروں کے ہمراہ ساری زندگی کرائے کے مکان مےں گزار دے اور اُس کی خزاں زدہ زندگی مےں بہار کبھی اپنے پنکھ نہ پھےلائے گھر سے محبت بھی ماں کی گود کی طرح ہوتی ہے ۔ انسان جہاں پےدا ہوا، جہاں اُس نے اپنے والدےن کی انگلی پکڑ کر چلنا سےکھا ،جہاں سنہرے مستقبل کے خواب بننا سےکھے ہوں اس جگہ کو وہ کےسے بھلا سکتا ہے ۔ لوگ تو سات سمندر پار سے بھی اپنا آخری وقت آبائی گھر وں مےں گزارنے کے لےے وطن واپس لوٹ آتے ہےں۔اےسے مےں کسی بے گھر شخص کی معاشرے مےں کےا شناخت ہو سکتی ہے۔
سب کچھ جانتے ہوئے بھی ابو سے مختصر بحث کے بعد امی بے بسی کے عالم مےں مےری جانب دےکھتےں تو مےں فوراََ نظرےں جھکا کر کسی کام کے بہانے پاس سے اُٹھ جاےا کرتی تھیاس کہ وجہ ڈھکی چھپی نہےں تھی۔ مےں نے دوسال قبل کالج کو خےر آباد کہا تھا۔ شکل وصورت بھی بری نہےں تھی شاےد اسی وجہ سے انہےں مےر ارشتہ کسی اچھی جگہ نہ ہونے کا دکھ بھی اندر ہی اندر کھائے چلا جا رہا تھا۔
اس لمحے مجھے اپنی بے قدری کا احساس کئی گنا بڑھ جاتا تھا جب لو گ مےری تعلےم و تربےت کو ےکسر نظر اندا زکر کے اس بنا پر واپس لوٹ جاتے تھے کہ باپ محکمہ انکم ٹےکس مےں ملازمت کرتاہے ، اکلوتی بےٹی ہے مگر پھر بھی اپنا گھر نہےں ہے جو لوگ زندگی بھر اپنا گھر نہ بنا سکے، وہ بےٹی کو جہےز مےں دعاﺅں کا علاو ہ کےا دے سکتے ہےں۔
مجھے ےاد ہے کہ ہر ماہ کی پہلی تارےخ کو جےسے ہی ابو تنخواہ لے کر گھر پہنچتے تھے، امی سب سے پہلے کراےہ کی رقم اُس مےںسے الگ کر لےا کرتی تھےں:
” سلےمان احمد!مےں ہر ماہ کراےہ کہ رقم الگ کرتے ہوئے ےہ ضرور سوچتی ہوں کہ ہم تو شاےد کماتے ہی مالک مکان کے لےے ہےں اس آزاد ملک مےں رہنے کے لےے ہمےں اپنے اےک اےک سانس کی قےمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ دو دن کراےہ دےنے مےں تاخےر ہو جائے تومالک مکان ماتھے پر آنکھےں رکھ کر دروازہ پےٹ ڈالتا ہے ۔ آخر ےہ گھروں کے مالک ہمےں خود سے کمتر کےوں سمجھتے ہےں؟“
” ےہ سب مےرے رب کا نظام ہے تانےہ بےگم ۔ وہ کسی کو دے کر آزماتا ہے تو کسی سے واپس لے کر ۔ “
ابو کے لہجے مےں وہی ازلی سکون محسوس کرتے ہی امی زےر لب جانے کےا کچھ بدبدا کر رہ جاتےں ۔جب کہ مےں ان کی جھنجھلاہٹ دےکھ کر مسکرا دےا کرتی تھی۔
-٭-
جن دنوں فہےم سے مےرے رشتے کی بات چل رہی تھی امی کچھ زےادہ خوش نہےں تھےں فہےم کی اےک پرائےوٹ فرم مےں اوسط درجے کے ملازمت تھی۔ خاندان شرےف تھا اور فےملی بھی زےادہ بڑی نہےں تھی۔اس کے باوجود امی کو ےہ رشتہ دل سے قبول نہےں تھا انہےں اس بات پر شدےد اختلاف تھا کہ فہےم کے پاس اپنا گھر نہےں ہے۔ ان کے نقطہ نظر سے ابو بھی متفق تھے لےکن اپنی قناعت پسندی نے اس بار بھی انہےں فہےم کے حق مےں دلائل کا سہارا لےنے پر مجبور کر دےا :
” تانےہ بےگم! رشتہ بہت معقول ہے ۔ بچہ او ر اس کے گھر والے بھی دےکھے بھالے ہےں اگر گھر نہےں ہے تو کےا ہوا۔ ساری دنےا اپنے گھروں مےں تو نہےں رہتی۔ اللہ نے چاہا تو اےک دن فہےم بھی اپنا گھر بنا لے گا۔ “
” ےہ سب اس قدر آسان ہوتا تو آج ہم لوگ بھی بے گھر نہ ہوتے ےہ بہت نفسانفسی کا دور ہے سلےمان احمد ۔ پےسہ ہمےشہ پےسے والے پر ہی مہربان ہوتا ہے ۔ جس کے پاس آج اےک مکان ہے کل اُس کے پاس دو ہونے کی اُمےد تو رکھی جا سکتی ہے مگر کرائے دار تو چھےد کےے ہوئے برتن کی طرح ہوتا ہے ۔ اُس کی کمائی مےں برکت نہےں ہوتی ۔ اُسے تو جےنے کے لےے اپنے ہر سانس کی قےمت چکانا ہوتی ہے ۔“
” تم وسوسوں مےں پڑ نے کے بجائے حقےقت پسند بنو بےٹےوں کو زےادہ عرصہ گھر بٹھائے رکھنا دانش مندی نہےں ۔ وہ اپنی تعلےم مکمل کر چکی ہے ۔ چند سال مزےد گزر گئے رشتوں کاکال پڑ جائے گا اور مےںنہےں چاہتا کہ مےری بےٹی پر کبھی اےسا وقت آئے۔ لہٰذا جلد بازی مےں انکار کرنے کی ضرورت نہےں ہمےں کوئی بھی فےصلہ کرنے سے قبل اس کے ہر پہلو کا جائزہ لےنا ہو گا۔ “
ابو جان کے اصرار پر امی نے فہےم کے سلسلے مےں نےم رضامندی کا اظہار تو کر دےا تھا لےکن دل سے خوش نہےں تھےں۔
فہےم کا رشتہ تاےا جان کی معرفت آےا تھا ۔ بات ابھی کسی نتےجے تک نہےں پہنچی تھی کہ مےری زندگی کا منحوس ترےن لمحہ آن پہنچا۔
ابو اور امی کسی عزےز کی عےادت کے لےے ہسپتال جا رہے تھے کہ موٹر بائےک پر اےک قاتل بس چڑھ دوڑی۔ عےنی شاہدو ںکے مطابق حادثہ اس قدر اچانک پےش آےا تھا کہ مےرے والدےن کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا امی ابو مجھے ہمےشہ کے لےے بے ےارو مدد گار چھوڑ کر فلک کے اُس پا ر جابسے تو مجھے بھی کرائے کا مکان چھوڑ کر تاےاجان کے ہاں منتقل ہونا پڑا۔
تاےا جان کو کبھی بھی مجھ سے انسےت نہےں رہی تھی اُن کے مالی حالات ہم سے بہت بہتر تھے ےہی وجہ تھی کہ وہ صرف عےد، شب برا ت پر ہی ہمارا حال احوال پوچھنے کی زحمت گوارا کرتے تھے۔ وہ مجھے اپنے ہاں صرف برادری کا منہ بند کرنے کے لےے لائے تھے رہی سہی کسر تائی جان نے پوری کر دی تھی ۔ وہ مجھے اپنے بےٹےوں کے لےے نحوست قرار دے کر جلد از جلد بےاہ دےنے پر تلی ہوئی تھےں۔ حالانکہ ےہ کےسے ممکن تھا کہ مےری موجود گی سے ان کی بےٹےوں کے حقوق غصب ہو جاتے۔
” سلےمان احمد تھا تو مےرا سگا بھائی مگر عقل سے بالکل پےد ل تھا “ تاتا جان ہر چوتھے روز ڈائنگ ٹےبل پر چائے کا کپ ہاتھ مےں آتے ہی اس موضوع پر زہر فشانی کرنے لگتے تھے۔ ”ساری عمر انکم ٹےکس جےسے محکمے مےں ملازمت کرنے کے باوجود اکلوتی بےٹی کو کرائے کے مکان مےں چھوڑ گےا۔لوگ صحےح کہتے تھے کہ جس روز شہر مےں سو احمق مرے تھے اُسی روز سلےمان احمد نے دنےا مےں آنکھ کھولی تھی ساری زندگی اےمانداری کا مےڈل سےنے پر سجائے خود بھی ذلےل ہوتا رہا اور اولاد کے لےے بھی کچھ نہ کر سکا۔“
تاےا جان کے الفاظ مےری روح تک کو چھلنی کر جاتے تھے۔ مگر مجھے نہاےت صبر سے کام لےنا تھا ۔ کےوں کہ زندگی نے کبھی مجھے دوسری آپشن دی ہی نہےں تھی بہت جلد مجھ پر ےہ عقد بھی کھل گےا کہ اس ساری سنگ زنی کا مقصد مجھے ذہنی طور پر فہےم سے شادی کے لےے تےار کرنا تھا۔ تائی جان کو مجھ سے مستقل جان چھڑانے کا ےہی اےک طرےقہ سوجھا تھا کہ فہےم سے شادی کر دی جائے۔
چنانچہ اےک روز تاتا جان نے اپنی مجبورےوں کا رونا روتے ہوئے مجھ سے اس رشتے کی بابت حتمی رائے طلب کی تو مےں نے ان کے فےصلے کو اپنا فےصلہ قرار دے کر مسئلے کو منتقی انجام تک پہنچا دےا۔ فےصلہ تو شاےد وہ پہلے ہی کےے بےٹھے تھے۔ بس کارروائی کے طور پر مےری ہاں سننا باقی تھا۔
-٭-
کچھ دنوں بعد سادگی سے مےرا نکاح فہےم رضا سے کر دےا گےا اور رخصتی بھی ہو گئی۔
فہےم متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد وفات پا چکے تھے جب کہ والدہ کا ساےہ سر پر موجود تھا ۔ وہ دو بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے ان کے گھرےلو مسائل بالکل وہی تھے جن سے مےں ساری زندگی نبرد آزما رہی تھی ۔ شاےد اسی لےے پےا گھر پہنچ کر مجھے اجنبےت کا احساس بالکل نہےں ہوا تھا ۔
فہےم مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔وہ اپنی بساط مےں رہتے ہوئے مےری ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش مےں رہتے تھے۔مےںخود بھی اپنی زندگی سے بہت خوش تھی لےکن ےہ کسک اکثر دل کو افسردہ کر دےا کرتی تھی کہ کاش مےرا بھی اےک گھر ہوتا جسے مےں بہت محبت اور چاہت سے سنوارتی۔ جس کی اےک اےک اےنٹ سے مےری جذباتی وابستگی ہوتی اور اس کے درو دےوار ہر پل مجھے تحفظ کا احساس دلاتے مگر افسوس کہ ےہ سب خواب و خےال کی باتےں تھےں شادی کے بعد مےرا صرف ٹھکانہ بدلا تھا حالات نہےں۔ ہر ماہ کی ےکم تارےخ کو فہےم اپنی خون پسےنے کی کمائی لے کر گھر مےں داخل ہوتے تو مےں اپنی ماں کی طرح سب سے پہلے اُس مےں سے مکان کا کراےہ نکال کر الگ کرتی پھر باقی مانندہ رقم اور اخراجات کی لسٹ سامنے رکھ کر سر پکڑ لےتی۔
گھر بھر کی کفالت فہےم کے ذمہ تھی اور وہ بہت جاں فشانی سے محنت کر رہے تھے ۔ےہ ان کی محنت کا نتےجہ تھا کہ صرف دو سال کے اندر انہوںنے اپنی دونوں بہنوں کو بےاہ کر اپنے اپنے گھر رخصت کر دےا۔ شادےوںکی تقرےب بہت سادگی سے منعقد ہوئی لےکن پھر بھی قرض کا سہارا لےنا ہی پڑا تھا ۔
وقت کا پہےہ اپنی مخصوص رفتار سے گھومتا رہا اور زندگی کے دس سال گزر گئےاس دوران اللہ تعالیٰ نے ہمےں اےک بےٹی نادےہ اور بےٹے قاسم کی انمول نعمت سے بھی نواز دےا۔جب کہ فہےم کی والدہ اور مےرے تاےا جان اس دنےا سے منہ موڑ گئے۔
ہم اپنی زندگی سے کافی حد تک مطمئن تھے۔ گو آمدن زےادہ نہےں تھی کہ ہر آسائش مےسر ہو لےکن اللہ کا شکر تھا کہ کبھی اُس نے بھوکا نہےں سونے دےا تھا
اب ہماری زندگی کا اہم ترےن مقصد اپنے گھر کا حصول تھا ہماری اپنی زندگےاں تو جےسے تےسے گزر ہی گئی تھےں مگر دل مےں ےہ خواہش ضرور تھی کہ اپنی اولاد کو اس ذلت سے بچاےا جا سکے۔
فہےم خود بھی اس سلسلے مےں پر عزم تھے۔ انہی دنوں فہےم کے اےک دفتری ساتھی نے اپنا پلاٹ فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کےا۔ ےہ پلاٹ شہر کے مضافات مےں نو تعمےر شدہ ہاوسنگ سوسائٹی مےں تھا۔ فہےم نے مجھ سے مشورے کے بعد وہ پلاٹ خرےدنے کا فےصلہ کر لےا اب مسئلہ ےہ تھا تمام تر جمع پونجی کا حساب لگانے کے باوجود ہمارے پاس اتنی رقم موجود نہےں تھی کہ پلاٹ کی قےمت ادا کی جا سکتی ۔ بہت سوچ بچارکے بعد مےں نے اپنا تمام زےور لا کر فہےم کی جھولی مےں ڈال دےا ۔
”ےہ تم کےا کر رہی ہوےہ زےور ہی تو ہمارا واحد اثاثہ ہے۔ اگر آج اسے سنبھال کر رکھ لےں گے تو کل نادےہ کی شادی مےںکام آ جائے گا۔ “
وہ تو شاےد اس زےور کے بارے بہت دور کی سوچے بےٹھے تھے۔ لےکن مےں نے مصمم ارادہ کرنے کے بعد ہی انہےں زےور فروخت کرنے کے لےے دےا تھا ۔مےں نے اُن کا موقف توجہ سے سنا اور پھر قرےب بےٹھ کر جواب دےا:
” سونا کبھی بھی غرےب کا نصےب نہےں ہوا کرتا۔ ےہ صرف ان جھولےوںمےں پھلتا پھولتا ہے جہاں ان پر نظر نہےں رکھی جاتی غرےب تو اس سلسلے مےں سدا کا عےبی ہے۔ جب بھی اس کے گھر کوئی قےامت ٹوٹتی ہے اُس کی نظر سب سے پہلے کانوں کے جھمکوں، گلے کے ہار اور ہاتھوں کے کنگن پر جاتی ہے آپ اللہ کا نام لےں اور اسے سنارکے حوالے کر آئےں۔ زندگی نے وفا کی اور اگر قسمت مےں ہوا تو اوپر والا پھر سے کوئی وسےلہ بنا دے گا وےسے بھی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ گھر کا نہ ہونا ہے۔ گھر بن گےا تو کرائے سے جان چھوٹ جائے گی اور بچت خود بخود ہونے لگے گی۔ جب ہاتھ مےں پےسے آنے لگے تو کوئی مسئلہ ،مسئلہ نہےں رہے گا۔ “
فہےم مےری تمہےد سر جھکائے سنتے رہے ۔ وہ بالکل خاموش تھے ۔ بظاہر ان کے پاس مےری تجوےز کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ نہےں تھی ۔مگر مےںجانتی تھی کے ان کی روح مےں اُس پل ٹوٹ پھوٹ کا عمل بہت تےز ہو گےا تھا۔ ان کی جھکی ہوئی پلکوں مےںہونے والی تھرتھراہٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ ان کی آنکھےں خشک ہےں مگر دل ضرور رورہا ہے شادی کے بعد انہوں نے اپنی بہنوںکی شادےاں کےںتو سر پر قرض بھی چڑھ گےا تھا۔لےکن انہوںنے ہمت نہ ہاری ۔ بلکہ شام کے وقت اےک پارٹ ٹائم ملازمت تلاش کر کے جےسے تےسے اپنے سر سے قرض کا بوجھ اُتار پھےنکا تھا ۔ان مشکل حالات مےں اگر وہ چاہتے تو مجھ سے زےور لے کر آسانی سے اپنا قرض اُتار سکتے تھے اورمےں ےہ قربانی دےنے مےں اےک پل کی دےر نہ کرتی مگر انہوںنے اپنے لےے مشکل راستہ چنا تھا، جو اُن کی خودداری اور فرض شناسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
-٭-
قصہ مختصر کافی بھاگ دوڑ کے بعد ہم لوگ زمےن کا وہ ٹکڑا خرےدنے مےںکامےاب ہو گئے جس پر ہمارے خوابوںکو مجسم حالت مےں ظہور پذےر ہونا تھا۔ تمام تر جمع پونجی اور زےور فروخت کرنے کے باوجود بھی ہمارے پاس رقم پوری نہےں ہوئی تھی۔ چنانچہ فہےم نے اپنے دوست کی منت سماجت کر کے اُسے قائل کر لےا تھا کہ باقی رقم دو سال کے اندر اقساط مےں ادا کر دی جائے گی۔
جس روز ےہ معاملات طے پائے ہمارے گھر مےںعےد کا سماں تھا۔ سب کے چہروں سے خوشی کی کرنےں پھوٹ رہی تھےں اور مےں سوچ رہی تھی کہ بہت سے لوگوں کے لےے ےہ چند مرلے کا پلاٹ کوئی اہمےت نہےںرکھتا ہو گابہت سے لوگ اےسے ہوں گے جنہےں اس کرب کا احساس ہی نہےںہو گا کہ اپنا گھر نہ ہونے پر انسان کو کن اذےتوں کا سامنا کرناپڑتا ہے جب کہ بے شمار لوگ اےسے بھی ہوں گے جنہےں وراثت مےں جائےدادےں ملتی ہےں اور وہ عمر بھر خود کو فرعون سمجھ کر بنا ہاتھ پاﺅں ہلائے ان کا کرائے کھاتے رہتے ہےںلےکن پھر سوچا کہ ابو صحےح کہا کرتے تھے ۔اس مےں بھی رب کائنات کی مصلحت ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے دے کر آزماتا ہے اور جسے چاہتا ہے چھےن کر ۔
وقت اےک مرتبہ پھر پر لگا کر اُڑنے لگا تھا ۔پلاٹ کی اقساط ختم ہو گئےں تو ہم نے ےہ اہم مرحلہ طے ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کےا۔ فہےم بہت پر عزم تھے کہ آےندہ چند برسوں مےں ہم ضرور اس قابل ہو جائےں گے کہ اپنا گھر تعمےر کر سکےں۔
اپنے خوابوںکو تعبےر دےنے کے لےے وہ اب بھی صبح شام دو جگہ ملازمت کر رہے تھے۔ لےکن ان کی صحت اب تےزی سے گرنے لگی تھی۔مےں جب بھی انہےں اپنا مکمل چےک اپ کروانے کا مشورہ دےتی ،جواب ےہی ملتا کہ کام کی زےادتی کی وجہ سے کچھ تھکاوٹ ہو جاتی ہے ۔ دےکھنا جب ہمارا گھر بن گےا تو مےں پھر سے ہشاش بشاش ہو جاﺅںگا۔ بچے اب بڑے ہو چکے تھے چنانچہ مےںنے فہےم کو اس بات پر قائل کر لےا کہ وہ مجھے بھی ملازمت کرنے کی اجازت دے دےں وہ اس بات کے لےے دل سے راضی تو نہےں تھے لےکن جب مےںنے انہےں سمجھاےا کہ اس طرح ہم جلدی رقم جمع کر کے گھر کی تعمےر کا آغاز کر سکتے ہےں تو وہ نےم رضامند ہو گئے اور ےوں مےںنے بھی اےک فرم مےں ملازمت کا آغاز کر دےا۔
اب ہم دونوںکو دنےا جہان کا کوئی ہوش نہےں رہا تھا۔ اپنے گھر کا حصول ہماری زندگی کا واحد نصب العےن بن کر رہ گےا تھا۔ بظاہر سب کچھ ٹھےک چل رہا تھا لےکن قدرت کو شاےد کچھ اور ہی منظور تھا۔
اےک روز چھٹی کے بعد مےں ابھی گھر واپس پہنچی ہی تھی کہ دروازے پر تےز دستک سنائی دی مےں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے دو لڑکے موٹر بائےک پر موجود پائے۔
” آپ فہےم صاحب کی اہلےہ ہےں؟ “
”جی ہاں فرمائےں؟ “ مےں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا تو ان مےں سے اےک بائےک سے اُتر کر مےرے قرےب چلا آےا اورمودبانہ لہجے مےں بولا:
” بھابی! ہم فہےم بھائی کے ساتھ دفتر مےں کام کرتے ہےں۔کچھ دےر قبل فہےم بھائی دفتر مےں بے ہوش ہو گئے تھے۔ ہمارے باقی ساتھی انہےں اےمبولےنس مےں ہسپتال لے گئے ہےں۔“
”کککےا ہوا فہےم کو؟ “ مجھے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا:” وہ ٹھےک تو ہےں؟ “
” ےہ تو معلوم نہےں البتہ انہےں ہوش بالکل نہےں تھا اور چہرہ زرد پڑ گےا تھا ۔ اس وقت وہ نےشنل ہسپتال مےں ہےں۔ پلےز آپ وہےں پہنچ جائےں ہمارے سےکشن انچارج نصےر بھائی اس وقت اُن کے پاس موجود ہے۔ بس آپ دےر مت کےجئے گا۔ “
”جی بہتر“
مےں نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دےا اور اپنے بےٹے قاسم کے ہمراہ گھر سے نکل پڑی ۔
نےشنل ہسپتال زےادہ دور نہےں تھا ۔ ہم دونوں ٹےکسی مےں وہاں پہنچنے تو گےٹ پر فہےم کے دوست اور سےکشن انچارج نصےر بھائی سے ملاقات ہو گئی۔ وہ ہمےں تسلےاں دےتے ہوئے اےمرجنسی مےںلے گئے جہاں فہےم اےک بستر پربے سدھ پڑے تھے۔
ڈاکٹر کے مطابق انہےں برےن ٹےومر تھا۔ جسے وہ ہمےشہ عام سردرد سمجھ کر محلے کے ڈاکٹر سے علاج کرواتے رہے تھے ۔مگراب اےک عفرےت کا روپ دھا ر چکا تھاڈاکٹر نے اُن کی حالت دےکھ کر فوری طورپر چند مہنگے ٹسٹ تجوےز کر دےے اور خدشہ ظاہر کےا کہ مرض بہت بڑ ھ چکا ہے۔
ےہ سنتے ہی مےری آنکھوں کے سامنے اندھےرا سا چھانے لگا تو مےں اٹھ کر واش روم مےں جا گھسی زندگی مجھ سے اےک نئے امتحان کا تقاضا کر رہی تھی ۔وقت اےک بار پھر مجھ سے قربانی کا متقاضی تھا۔ مےں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی شاےد اس لےے کہ مےں آ ج ہی رو لےنا چاہتی تھی ۔ےہ بات مجھے قطعاََ گوارہ نہےں تھی کہ مےری آنکھوںکی نمی فہےم کو مزےد کمزور بنا دے۔
چند روز ہسپتال مےں گزارنے کے بعد مےں فہےم کو گھر واپس لے آ ئی۔ زندگی پہلے سے بھی مشکل ہو گئی تھی۔ اب مجھے اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ فہےم کی دےکھ بھال بھی کرنا تھی۔ فہےم کی صحت روز بروز گرتی چلی جا رہی تھی ۔ پرائےوےٹ نوکری تو ہوائی روزی ہوا کرتی ہے وہاں قدر انسانوںکی نہےں کام کی ہوتی ہے ۔ ےہی وجہ تھی کہ بمشکل اےک ماہ بعد انہےں نوکری سے فارغ کر دےا گےا۔
فہےم جو کہ اپنی بےماری سے لا علم تھے اس صدمے نے انہےں مزےد نڈھال کر دےا مےںنہےں چاہتی تھی کہ وہ اس حالت مےں سڑکوں پر نوکری کے لےے مارے مارے پھرےں ۔ اب مےں انہےں کسی نہ کسی بہانے گھر سے باہر جانے سے روکنے لگی تھی۔ لےکن وہ بہت خوددار تھے۔ انہےںےہ قطعاََ اچھا نہےں لگتا تھا۔ اب وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگے تھے ۔
اےک صبح ناشتہ تےار کرنے کے بعد جب مےں فہےم کو جگانے کمرے مےں گئی تو وہ بے ہو ش پڑے تھے۔ انہےں اس حالت مےں دےکھ کر مےرے ہاتھ پاﺅںکانپنے لگے ۔ مےں نے فون کر کے فوراََ اےمبولنس منگوا لی۔
فہےم کودوبارہ ہسپتال لے جاےا گےا اور ان کے بہت سے ٹسٹ ہوئے مرض پوری طرح اپنے پنجے گاڑھ چکا تھا او ر اب اپرےشن کرنا بھی ممکن نہےں رہا تھا ڈاکٹرز کا کہنا تھااب اُن کے پاس زےادہ وقت نہےں ہے۔ مرض لا علاج ہو چکا ہے البتہ ادوےات کے متواتر استعمال سے ان کی تکلےف مےں کچھ کمی کی جا سکتی تھی۔
کےنسر اُن موذی امراض مےں سے ہے جو اگرکسی کا گھر تاک لےں تو کچن کے برتن تک بک جاتے ہےں ےہ صرف مرےض کے لیے اذےت ناک نہےں ہوتا بلکہ اس کے پےاروں کو بھی زندہ درگور کر دےتا ہے ۔ جب وہ اپنی عزےز ترےن ہستی کو ےوں قطرہ قطرہ مرتا دےکھتے ہےں تو خود بھی نفسےاتی مرےض بن کر رہ جاتے ہےں۔
ڈاکٹرنے علاج کے سلسلے مےںجن تفصےلات سے مجھے آگاہ کےا تھااس کے لےے خاصی رقم کی ضرورت تھی۔فہےم مےری زندگی کا واحد اثاثہ تھے ۔ ان کے بغےر جےنا مےرے لےے موت سے بھی بد تر تھا لہٰذا بہت سوچ بچار کے بعد مےںنے اپنا پلاٹ فروخت کرنے کا فےصلہ کر لےا۔
فہےم نے پلاٹ کی رجسٹری جانے کےا سوچ کر مےرے نام کروائی تھی۔ مےں نے ان کے علم مےں لائے بغےر اےک پراپرٹی ڈےلر سے رابطہ کےا اور پھر اسی کے توسط سے اےک ہفتے کے اندر اندر پلاٹ فروخت کر دےا۔
اس بات کا اندازہ مجھے بخوبی ہو چکا تھا کہ پراپرٹی ڈےلر اور خرےدار نے مےری مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت کم رقم کی پےش کش کی تھی مگر مرتی کےا نہ کرتی ۔ اس وقت مجھے رقم کی اشد ضرورت تھی۔ ادوےات پر اٹھنے والے بے پناہ خراجات نے گھر کا نظام درہم برہم کر دےا تھا ادھر فہےم کی حالت دن بدن بگڑتی چلی جا رہی تھی اس لےے رقم ہاتھ مےں آتے ہی مےںنے انہےں اےک اچھے ہسپتال مےںلے گئی۔
ہسپتال مےں فہےم اکثر مجھ سے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کی بابت استفسار کرتے رہتے تھے مگر مےں ادھر ادھر کی باتےں کر کے موضوع کو ٹال دےا کرتی تھی۔
اےک شام جب مےں ان کے قرےب بےٹھی باتےں کررہی تھی تو انہوں نے لمحہ بھر کے لےے آنکھوںمےں جھانکنے کے بعدمےرا ہاتھ تھام لےا اور پر سکون لہجے مےں بولے:
” تم بہت عظےم ہو عالےہاپنے دکھ کو فراموش کر کے مےرے درد کی شدت کم کرنے کی کوشش مےںلگی رہتی ہو۔ حالانکہ ےہ جانتی ہو کہ موت دھےرے دھےرے مےری روح پر قابض ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ُُ
”ےہ کےسی باتےںکر رہے ہےں آپ ہم دونوں تو ےک جان دو قالب ہےں۔ دونوں اےک دوسرے کے بغےر نا مکمل ہےں۔ بےماری تو جسم کا صدقہ ہوا کرتی ہے ڈاکٹرز کہتے ہےں کہ آپ بہت جلد صحت ےاب ہو جائےں گے۔ “ان کی بات سن کر مےرا دل تےزی سے دھڑکا تھا۔
”مجھے بہلاﺅ مت عالےہ مےں بچہ نہےں ہوں۔ ےہ بات مےں عرصے سے جانتا ہوںکہ مجھے برےن ٹےومر ہے۔ “
ان کی زبان سے ےہ انکشاف سن کر لمحہ بھر کے لےے تو مےں سکتے مےں آ گئی تھی۔
”اگر آپ جانتے تھے تو مجھ سے چھپاےا کےوں؟ “
جواباََ وہ بے دلی سے مسکرا کر بولے:
” ےہ سوال مےں بھی تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ تم نے مےری ہی بےماری کو مجھ سے کےوں چھپاےا مےں جانتا ہوں تم نہےں چاہتی تھےں کہ مجھے ےہ خبر سن کر تکلےف پہنچے۔کچھ اےسے ہی جذبات مےرے بھی تھے جب ڈاکٹر نے مجھے برےن ٹےومر کے بارے مےں بتاےا تھا تو مےں نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنی محنت کو دوگناکر دےا تھا مےری پہلی اور آخری خواہش ےہی تھی کہ مرنے سے قبل مےںتم لوگوںکو اےک چھت دے جاﺅںمےرا خاندان مےری آنکھےں بند ہوتے ہی بے سائباںنہ ہو جائے۔ مگر مےں اےسا نہ کر سکا مجھے معاف کر دو عالےہ۔ مےں بےچ راہ مےں تمہےں بے ےارو مدد گار چھوڑ کر رخت سفر باندھ بےٹھا ہوںبہت بدنصےب ہوں مےں جو اس کرب کو ساتھ لےے قبر مےں اتر جاﺅ ں گا کہ مےں اپنی بےوی اور بچوں کو بے ےارومدد گار چھوڑ آےا ہوں اپنی ذمہ دارےوں سے فرار حاصل کرنا ہے ےہ مےرے نزدےک ۔ مےں گناہ گار ہوں تمہارا اور اپنے بچوں کا “
فہےم کے الفاظ مجھے نشتر کی طرح چبھنے لگے تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ اس وقت ےقےنا مےں اپنے حواس مےں نہےں تھی اور فہےم سے لپٹ کر بچوں کی طرح دھاڑےں مار کر رونے لگی تھی۔
” مےں آپ کو کچھ نہےں ہونے دوں گی فہےم نہ تو مےں خود ہمت ہاروں گی اور نہ ہی آپ کو حوصلہ ہارنے دوں گی مےری دنےا تو صرف آپ سے ہےمےںاےک مرتبہ پھر لاوارث نہےں ہونا چاہتی ۔ “
”محبتےں کبھی مرتی نہےں ہےں عالےہ جسم خاک سے مل کر خاک ہو جاتے ہےں لےکن محبتےں اس وقت تک زندہ رہتی ہےں جب تک خستہ حال قبروں پر پھول دکھائی دےتے رہےں تمہےں بہت حوصلے سے کام لےنا ہو گا۔ “
وہ جانے مجھے کےا کچھ سمجھارہے تھے اور مےں ان کے سےنے پر سر رکھے مسلسل روئے چلی جا رہی تھی ےہ سلسلہ دےر تک جاری رہا ۔ پھر جےسے فہےم کے ذہن کے تارےک پردے پر بجلی سی کوندی :
” سنو !اتنے مہنگے ہسپتال مےں تو روز بہت خرچہ ہوتا ہو گااتنے پےسے کہاں سے آئے تمہارے پاس۔کہےں تم نے وہ پلاٹ تو نہےں بےچ دےا اےک روز قاسم بتارہا تھا کہ امی پراپرٹی ڈےلر کے پاس گئی ہےں۔“
” آپ بے فکر رہےں مےں وہ پلاٹ کےسے فروخت کر سکتی ہوں جسے آپ نے اتنی چاہت سے خرےدا تھا۔ آپ کے علاج کا سارا خرچہ وہ کمپنی برداشت کر رہی ہے جہاںمےںملازمت کرتی ہوں۔ پراپرٹی ڈےلر کے پاس تو مےں ےہ پوچھنے گئی تھی کہ وہ مجھے کسی اچھے کنسٹرکشن والے سے ملوا دے۔ مےں ہاﺅس بلڈنگ سے قرضہ لے کرفوراََ مکان بنوانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔“ ©©
وقت نے مجھے اپنے عزےز ترےن شوہر سے جھوٹ بولنا بھی سکھلا دےا تھا مےں نے اصل بات گول کرتے ہوئے فہےم کو اےک نئی آس دلائی تو ان کی وےران آنکھوںمےںچمک سی آ گئی :
” کےا تم سچ کہہ رہی ہو عالےہ۔ کےا ہمےں ہاﺅس بلڈنگ سے واقعی قرضہ مل جائے گا۔ “
” جی بالکل بہت جلد مےرے دفتر کی اےک سہےلی کے والد ملازمت کرتے ہےں وہاں۔ بہت اچھی پوسٹ پر ہےں۔ انہوں نے بہت مدد کی ہے مےری۔ مےں نے تو کےس تےار کر کے فائل بھی جمع کروا دی ہے ۔ “
”کےا واقعی مگر تم نے ےہ سب مجھ سے کےوں چھپاےا؟ “ فہےم نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کےا۔
”مےں آپ کو سرپرائز دےنا چاہتی تھی۔ آپ کے چہرے پر وہ طمانےت دےکھنا چاہتی تھی جس کے لےے برسوں آپ نے دن رات محنت کی ہے “مےں نے ان کے کاندھے پر سر رکھ دےا تو وہ دھےر ے سے مسکرا کر مےرے بالوںمےں انگلےاںپھےرنے لگے:
” خدا جانے وہ دن کبھی مےری زندگی مےں آئے گا بھی ےا نہےں۔ “
” کےوں نہےں آ ئے گا۔ اب تو ہم اپنی منزل کے بہت قرےب پہنچ چکے ہےں اللہ نے چاہا تو بہت جلد ہم اپنے نئے گھر مےںشفٹ ہو جائےں گے۔ اےسا گھر جسے ہم فخرسے اپنا کہہ سکےںگے۔ “
” انشاءاللہ۔“
فہےم نے مختصر جواب دےا اور پھر نقاہت محسوس کرتے ہوئے آنکھےں موند لےں۔
-٭-
چند ہفتے بعد فہےم کی حالت اچانک تشوےش ناک ہو گئی ۔ اب ان کا زےادہ وقت ہسپتال مےں گزر رہا تھا ۔ مےں انہےں ہر قسم کی اذےت سے بچانا چاہ رہی تھی اسی لےے آئے روز نےا جھوٹ بول کر انہےں خوش رکھنے کی کوشش کر رہی تھی بچوں کو بھی مےں نے سختی سے ہداےت کی تھی کہ اپنے بابا کو کسی صورت ےہ مت بتائےں کہ ہمارا پلاٹ فروخت ہو چکا ہے ۔ مےں نے فہےم سے ےہی کہا تھا کہ ہاﺅس بلڈنگ کی جانب سے قرضہ منظور ہو گےا ہے اور ٹھےکے دار کو پہلی قسط کی ادائےگی ہوتے ہی تعمےراتی کام شروع ہو جائے گا۔انہےں اپنی بات کا ےقےن دلانے کے لےے مےںنے کاغذ پر بنا ہو امکان کا اےک فرضی نقشہ بھی دکھا دےا تھا۔
جب مےں نے فہےم کو وہ نقشہ دکھاےا تو اُن کی خوشی قابل دےد تھی۔ وہ بار بار مجھ سے تعمےر سے متعلق مختلف پہلوﺅں پر گفتگو کر رہے :’ اگر مےں تندرست ہوتا تو خود سارے کام کی نگرانی کرتا ےہ ٹھےکےدار لوگ تو کوئی موقع ہاتھ سے نہےں جانے دےتے ۔ “
” آپ فکر مت کرےں ٹھےکےدار بھروسے کا آدمی ہے ۔ مےری سہےلی کے والد نے ہی اُسے ہمارا کام کرنے کے لےے رضامند کےا ہے۔ “
” جس روز ٹھےکےدار اپناکام شروع کرے تم مجھے وہاں لے جانا ۔مےں اپنے گھر کی تعمےر اپنی آنکھوں سے دےکھنا چاہتا ہوں۔“
ان کے لہجے مےں اس قدر حسرت تھی کہ مجھے اپنی روح تک گھائل ہوتی محسوس ہوئی ۔
”ضرور چلےں گے مگر ابھی نہےں فی الحال ڈاکٹرز آپ کووہاںجانے کی اجازت بالکل نہےں دےں گے۔ جےسے ہی حالت سنبھلے گی مےں خود آپ کو ساتھ لے جاﺅں گی۔“
” وعدہ کرو “
”وعدے تو ٹوٹ جاےا کرتے ہےں فہےم مےں آپ کو ےقےن دلاتی ہوںکہ آپ کی خواہش ضرور پوری ہو گی۔ “
مےں اپنی انہےں مطمئن رکھنے کی ہر دم کوشش کر رہی تھی۔ مجھے ےقےن تھا کہ مکان کی تعمےر کا سن کر ان کے اندر پھر سے زندہ رہنے کا جذبہ پےدا ہو جائے گا۔ اگر وہ خود جےنے کی کوشش کرےںگے تو موت کبھی اُن پر حاوی نہےں ہو پائے گی مگر ےہ سب مےری خام خےالی تھی۔ ہوتا وہی ہے جو کاتب تقدےر لکھ دےا کرتا ہے۔
اُسی رات فہےم کی حالت بہت خراب ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے اُنہےں بچانے کی سر توڑ کوششےں کےں مگر کون ہے جو وقت کو مٹھی مےں قےد کر پاےا ہے مےںکبھی نہےں بھول پاﺅں گی کہ وہ رات کا پچھلا پہر تھا جب فہےم مجھے اور بچوںکو بلکتا چھوڑ کر اپنے خالق حقےقی سے جا ملے۔
وقتی طور پر تو جےسے مےں اپنا ذہنی توازن ہی کھو بےٹھی تھی۔ مےں لاکھ جتن کرنے کے باوجود اپنی زندگی کا وہ مضبوط ترےن سہارا کھو بےٹھی تھی جس نے مجھے حقےقی معنوں مےں جےنا سکھاےا تھا ۔ جو مےری زندگی کا حاصل تھا۔
فہےم کی تدفےن قرےبی قبرستان مےں کر دی گئی ۔قبر کے لےے جگہ کےسے اور کس نے منتخب کی مےں نہےں جان پائی تھی البتہ اتنا معلوم تھا کہ اس نےک کام مےں حصہ لےنے والے فہےم کے قرےبی دوست ہی تھے قاسم ابھی خود بچہ تھا ۔ اُسے ان چےزوںکے بارے کچھ علم نہےں تھا بس غم سے نڈھال آنسوﺅں کے نذرانے پےش کرتاباپ کے جنازے کے ساتھ ہو لےا اور پھر سےنکڑوںلوگوںکی موجود گی مےں فہےم کو سپرد لحد کر دےا تھا۔
باپ کا ساےہ سر سے اُٹھ جانے کے بعد بچوں کا بھی کوئی پرسان حال نہےں رہا تھا۔فہےم کی بہنےں چند روز بھائی کی موت کا سوگ منا کر واپس لوٹ گئےں تو گھر کی حالت آسےب زدہ سی ہو گئی۔
نادےہ راتوں کو چےختی چلاتی نےند سے بےدار ہو جاتی تھی اور قاسم کو تو جےسے چپ سی لگ گئی تھی۔ وہ کتاب کھول کرہاتھ مےں پکڑ لےتا اور پھر اس کی آڑ مےں گھنٹوںکسی گہری سوچ مےں گم رہتا تھا وہ اکثر فہےم کی قبر پر چلا جاتا تھا لےکن جب واپس لوٹتا تواُس کی خوب صورت آنکھوں کی لالی اس بات کی چغلی کھاتی دکھائی دےتی کہ وہ باپ کے سرہانے بےٹھا روتا رہا ہے ۔
ان مشکل حالات مےں اگر کسی نے مےرا بھرپور ساتھ دےا تو وہ صرف مےرا ادارہ تھا ہمارے مالک بہت خدا ترس انسان تھے۔ انہوںنے عدت کے دنوںمےں نا صرف مےری طوےل رخصت منظور کی بلکہ تنخوا اور دےگر الاﺅنسس مےں بھی کسی قسم کی کمی نہ آنے دیےقےنا ےہ اےسا نےک عمل تھا جس کا اجر انہےں خدا کے علاوہ اور کوئی نہےں دے سکتا۔
عدت ختم ہونے کے بعدسب سے پہلے مےں نے اپنی رہائش تبدےل کرنے کا فےصلہ کےا۔ اس گھر مےں ہر سو فہےم کی ےادےں بکھری ہوئی تھےں۔ ہر چےز مےں ہمےں ان کے لمس کا احساس ہوتا تھا ۔ مےں جانتی تھی کہ بچوں کے لےے باپ کی ےادوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہےں ہے لےکن مےں ےہ بھی نہےں چاہتی تھی کہ مےرے بچے اپنے ماضی کی ےادوںمےں کھو کر مستقبل سے غافل ہو جائےں ۔
گھر کا انتظام ہو گےا تو اگلے روز مےں نے قاسم اور نادےہ کو ہمراہ لےا اور ہم فہےم کی قبر پر پھولوںکا نذرانہ پےش کرنے کے لےے قبرستان روانہ ہو گئے۔
عدت مکمل ہونے کے بعد مےں پہلی مرتبہ شوہر کی قبر پر جا رہی تھی۔مےرے ہاتھوں مےں سنگ مرمر سے بنا ہوا اےک چھوٹا ساکتبہ تھا جس پر ” بےت الفہےم“ لکھا ہوا تھا۔ مےں ےہ کتبہ اپنے ہاتھوں سے فہےم کی قبر پر لگانا چاہتی تھی۔ اس لمحے مےرے دل پر نا قابل بےان رقت طاری تھا اور ذہن مےں اچھے دنوں کی ےادےں فلم کی طرح مناظر بدل رہی تھےں جےسے ہی ہم تےنوں قبرستان کے قرےب پہنچے تو وہاں کا منظر دےکھتے ہی ہمارے ہوش اُڑ گئے۔ وہ جگہ جہاں فہےم کی قبر ہوا کرتی تھی اس مقام پر سڑک کو کشادہ کرنے کے لےے بہت سی قبروںکو مسمار کےا جا چکا تھا۔
”ےہاں تو قبر تھی مےرے شوہر کی کےا ہے ےہ سب کہاںہے مےرے شوہر کی روئے زمےن پر آخری نشانی؟ “
ےہ منظر دےکھ کر مےں قرےب کھڑے اس شخص پر برس پڑی جو مزدوروں کو کام جلدی نمٹانے کے لےے ڈانٹ ڈپٹ کر رہا تھا۔
مےرے لہجے کی لڑکھڑاہٹ اور زرد پڑتی رنگت دےکھتے ہوئے اُس نے لمحہ بھر کے لےے توقف اختےار کےا اور پھر نرم لہجے مےں بولا:
”مجھے آپ کے دکھ اور کرب کا احساس ہے بہن جیآپ ےقےن کرےں اس مےں ہمار ا کوئی قصور نہےں ۔ حکومت نے تو سال بھر پہلے ہی قبرستان انتظامےہ کو اس جانب مزےد قبرےں بنانے سے منع کر دےا تھا مگر بد بخت گورکن لوگوں سے پےسے بٹور کر ےہاں قبرےںکھودنے سے باز نہ آئے …. سڑک بنانا بھی ضروری تھا لہٰذا چند روز قبل ہم نے اےک خصوصی اجازت نامے کے تحت قبر کشائی کر کے ان تمام کچے گھروں کے مکےنوںکو قبرستان کی بائےں دےوار کے ساتھ منتقل کر دےا ہے اس موقع پر جن قبروں کے ورثا کا علم قبرستان انتظامےہ کے ذرےعے ہو سکا ان کو اطلاع بھی کر دی گئی تھی۔ آپ کے شوہر کی قبر ےقےنا ا ن لوگوں مےں شامل ہو گی جن کے بارے ہمےںکوئی سراغ نہ مل سکا۔“ پھر وہ آدمی قاسم کو منتقل کی جانے والی قبروںکی جگہ سمجھا کر وہاں سے رخصت ہو گےا۔
اس کے بعد تو جےسے مجھے کچھ ےاد ہی نہ رہا تھا۔ قاسم اور نادےہ مجھے سہارا دے کر اُن بے نام قبروں کے نزدےک لے گئے جو سب اےک سی دکھائی دے رہی تھےں۔اُس لمحے مےری حالت بہت عجےب تھی آنکھےں خشک تھےں پر دل رو رہا تھا ۔ سانس چل رہی تھی
پر اپنے زندہ ہونے کا احساس کہےں کھو سا گےا تھا ۔ مےں دےکھ سکتی تھی مگر ذہن کسی منظر کو قبول کرنے کے لےے تےار نہےں تھا۔
درجن بھر تازہ قبروں مےں سے ”بےت الفہےم“ کون سا تھاشہر خاموشا ں کے اَن گنت مکےنوںمےں سے کوئی اےک بھی اےسا نہےں تھا جو اُس کی چوکھٹ تک ہماری رہنمائی کر سکتا۔
”کےسی قسمت لے کر پےدا ہوئے تھے ہم دونوں فہےم احمد میں جےتے جی مر گئی اور تمہےںمرنے کے بعد بھی اےک گھر مےں رہنا نصےب نہ ہو سکا “
ےہ سوچ کر مےں نے اپنے گھٹتے ہوئے دم کو بحال رکھنے کے لےے گہری سانس لی اوراُن تمام قبروں پر تازہ پھول نچھاور کرنے لگی جن مےں سے کوئی اےک گھر ”بےت الفہےم“ بھی تھا۔
-٭-٭-٭-

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے