سر ورق / ناول / عورت زاد۔ امجد جاوید قسط نمبر 3

عورت زاد۔ امجد جاوید قسط نمبر 3

قسط نمبر 3

وہ ایک الجھی ہوئی شام تھی ۔ وہ سارا دن عدالت میں ڈیوٹی کر کے تھانے پہنچی۔ وہ تھکی ہاری ہوئی ایک طرف کرسی پر بیٹھ گئی ۔ ساتھی کانسٹیبل نے چائے کا کہا تھا، وہ اسی انتظار میں تھی ۔ساتھ والے کمرے میں انسپکٹر کی باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ وہ چند دن پہلے ہی نیا آیا تھا۔ اس کے بارے میں گما ن یہی کیا جا رہاتھا کہ اسے سردار مٹھن خان نے ذاتی دلچسپی لے کر یہاں لگوایا ہے ۔ ظاہرہے اس انسپکٹر نے اسی کی جی حضوری کرنا تھی ۔ مگر اب تک کوئی ایسا کیس یا معاملہ سامنے نہیںآ یا تھا، جس سے یہ ظاہر ہو جائے کہ یہ سردار مٹھن خان کا بندہ ہے۔ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے سامنے چائے آ گئی ، اور اس کے ساتھ ہی ایک انتہائی کرب ناک خبر بھی سننے کو ملی ۔

” یہ جو بندہ صاحب کے پاس بیٹھا ہے ، پتہ ہے کون ہے ؟“ اس کے کولیگ کانسٹیبل نے بتایا

” کون ہے ؟“ اس نے کپ اٹھاتے لاپرواہی سے پوچھا

” یہ شہر کا مشہور جوئے باز ہے۔ سب سے زیادہ بھتہ یہیں سے آتا ہے۔“ پھر اس کے بعد جو اس نے بتایا وہ نینا کے لئے روح فرسا تھا۔ میڈم سمیرا کا گھر ، جو کبھی علم کی آ ماجگاہ تھا، وہ شہر کے سب سے بڑے جواری نے خرید کر اس میں کرکٹ جوئے کی ابتدا کر دی تھی ۔ خریدا کس سے ، کس نے بیچا؟ کچھ پتہ نہیں ؟ تھانے میںنئے آ نے والے انسپکٹر کو بھاری رقم پہچا دی گئی تھی ۔انسانیت ہار گئی اور ظلم جیت گیاتھا۔ نینا کو لگا کہ اُس دن وہ خود ہار گئی ہے ۔ اسے وہ چائے زہر لگنے لگی۔ وہ وہاں بیٹھ نہ سکی ۔وہ تیزی سے اٹھی اور بارک نمبر تین میں آگئی۔

خ….خ….خ

وہ مایوسی کی انتہاﺅںپر تھی ۔خود کشی کا خیال مزید پختہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔اس نے میڈم سمیرا اور سائرہ کا انتقام اوراپنی بے عزتی کا بدلہ تو کیا لینا تھا، اس کے دشمن زیادہ طاقت ور ہو کر اس کے سامنے آ گئے تھے۔ وہ سوچ کی جس راہ پر بھی چلتی، اسے کچھ بھی ایسا دکھائی نہیں دے رہا تھا، جس سے وہ اپنے دشمنوں کو نیچا دکھا سکتی۔ یہ سو چتے ہوئے آدھی رات سے زیادہ وقت کروٹیں بدلتے ہوئے گذر گیا تھا ۔ پھر نجانے کب وہ گہری نیند سو گئی تھی۔ اچانک اسے لگا جیسے وہ شکنجے میںآگئی ہے ۔ وہ چیخ مار کر اٹھ گئی ۔وہ ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ ایک دم سے روشنی ہوگئی ۔ آپی فوزیہ نے بلب روشن کر دیاتھا۔ نینا خواب میںڈر گئی تھی ۔

” کیا ہوا؟“ آپی فوزیہ نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے گھبراہٹ سے پوچھا۔ وہ چند لمحے ہونقوں کی طرح سب کو دیکھتی رہی ۔تب تک اسے خود ہی احساس ہو گیا کہ وہ خواب میںڈر گئی ہے ۔اور جو کچھ خواب میں اس نے دیکھا تھا، وہ انہیںبتانہیںسکتی تھی ۔ اس لئے وہ آپی فوزیہ کی طرف ممنونیت سے دیکھتے ہوئے بولی

” کچھ نہیں ۔“ یہ کہہ کر دوبارہ آنکھیںبند کر کے لیٹ توگئی مگر اندر سے لرز رہی تھی ۔ اسے یوں لیٹا ہوا دیکھ کر آپی فوزیہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی ، پھر وہ بھی پلٹ کر سو گئیں۔ وہ خواب کا ایک ایک لمحہ یاد کرنے لگی ۔

 اس کے خواب میں سائرہ تھی ۔ اس نے سفید براق لباس پہنا ہوا تھا، لیکن اس پر خون کے چھینٹے تھے۔ اس کے چہرے پر لہو بہہ رہا تھا۔وہ رو رہی تھی ۔ نینا بھاگ کر اس کے پاس گئی تو اس نے اسے دور ہی سے روکتے ہوئے تڑپ کر بولی ۔

” مت آنامیرے پاس، تم بھی گندی ہو جاﺅ گی ۔ نہ میرے قریب نہ آنا۔ “

” تم تو مظلوم تھی۔ تمہیں تو جنت میںجانا تھا، یہاں کیا کر رہی ہو؟“ اس نے پیار سے پوچھا

” جنت گندے لوگوں کے لئے نہیںہے، وہاں پاک صاف لوگ جاتے ہیں، میں نہیںجارہی ہوں ، میںگندی ہوں نا۔“ وہ حسرت آمیز لہجے میں بولی

” نہیںتم پاک ہو ، تم جاﺅ جنت میں۔“ نینا نے سمجھایا

” نہیں، میں گندی ہوں۔“ وہ بولی

” میں تمہیںصاف کر دیتی ہوں۔“ اس نے کہا

” جب تک مجھے گندہ کرنے والے اس دنیا میں موجود ہیں، میں پاک نہیںہو سکتی۔میںجنت میں نہیں جا سکتی۔ کیا تم ان کا گند دنیا سے صاف کر سکو گی ؟ “ سائرہ نے پوچھا تو ایک لمحہ کے وہ سوچ میںپڑ گئی پھر پوری ہمت سے کہا

” ہاں ان کے گند سے دنیا صاف کر دوں گی۔“

” تو پھر میں جنت میںہوں۔“ یہ کہہ کر وہ مڑی اور سامنے پھیلے ہوئے دھویں میں غائب ہو گئی ۔ وہ اس کے پیچھے لپکی تھی لیکن اسی لمحے ایک اژ دہا اس کے سامنے آگیا۔ جس کی لپلپاتی ہوئی زبان، اس کے بدن کو چھوئی۔ اسے لگا جیسے اس کے بدن پر دہکتے ہوئے کوئلے رکھ دئیے ہوں۔ وہ اژدہا اسے اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ تبھی اس کی آ نکھ کھل گئی۔

 اس رات اسے نیند نہیںآئی تھی ۔ وہ خواب کے زیر اثر رہی ۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھی کہ اسے ایسا خواب کیوں دکھائی دیا ہے ۔ وہ پوری طرح سمجھ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہے۔ اس نے اتنا اردو ، انگریزی ناول پڑھا تھا، اس لٹریچر نے اسے شعوری پختگی تو دی ہوئی تھی لیکن وہ صرف فکشن کی حد تک مزہ لینے کے لئے ۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیںتھا کہ ایسا عملی زندگی میںبھی کرنا پڑ جائے گا ، یا اسے ضرورت پڑ سکتی ہے۔اب اس کے سر پر پڑی تھی ، کوئی راستہ نہیںتھا ۔اسی کے شعور نے اسے جوراستہ سمجھایا ۔ اس نے سمجھ لیاتھا لیکن بے بس تھی ۔ اس کے پاس زندگی گزارنے کا مقصد نہیںتھا۔ یہ خواب اسے زندگی گزارنے کا مقصد تودے گیا۔ مگر یہ کیسے ہوگا؟ کس طرح ہوگا، اس بارے وہ نہیںجانتی تھی۔ یہ طے تھا کہ اب اسے اس دنیا سے گند صاف کرنا تھا۔

اس صبح وہ وقت پر تیار ہو کر تھانے چلی گئی ۔وہاں اس سے بیٹھا نہیںجا رہا تھا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ وہاں سے چلی جائے ۔نئے انسپکٹر کی موجودگی کا احساس ایسے ہی تھا کہ وہ بھی اس کا دشمن ہے ۔ دشمن کا دوست تو دشمن ہی ہوتا ہے نا۔نئے انسپکٹر کی آواز اور قہقہے اسے تیر کی مانند لگ رہے تھے۔وہ حد درجہ مضطرب تھی ۔ وہ تھانے کی عمارت سے نکل کر چار دیواری کے ساتھ آ کر ایک بینچ پربیٹھ گئی ۔ ابھی اسے وہاں بیٹھے ہوئے زیادہ دیر نہیںہوئی تھی کہ وہی لیڈی کانسٹیبل اسے سادہ لباس میں آتے ہوے دکھائی دی ۔ اس نے چلتے ہوئے اسے دیکھا، پھر مڑ کر اس کی جانب آ گئی ۔ نینا کا دل چاہا کہ وہ اس کے سامنے رو دے ، اپنی شکست کا اعتراف کر لے، اسے کہہ دے کہ وہ اب یہاں نہیں رہ سکتی۔وہ لیڈی کانسٹیبل اس کے قریب آ گئی ، وہ نینا کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولی

” پریشان ہو ؟“

” ہاں ۔! بہت زیادہ پریشان ہوں۔ “ نینا نے بھیگے ہوئے لہجے میں کہا تووہ چونک گئی ۔

” نہ نینا بیٹی نہ ، ایک آنسو بھی نہیں ضائع کرنا، اگر تمہارا ایک آ نسو بھی ضائع ہو گیا تو تمہارے اندر کی ساری قوت ختم ہو کر رہ جائے گی ۔“

” کیا کروں میںپھر؟“ اس نے تیزی سے کہا

” میں نے ایک کاغذ پر صاحب سے سائن کروانے ہیں، تم یہیںٹھہرنا، میں واپس آتی ہوں، پھر سکون سے بات کرتے ہیں۔“وہ لیڈی کانسٹیبل انتہائی سکون سے بولی

یہ کہہ کر وہ اسے وہیں چھوڑ کر اندر کی جانب بڑھ گئی اور وہیں دوبارہ بینچ پر بیٹھ گئی ۔ وہ لیڈی کانسٹیبل چند منٹ بعد ہی واپس آ گئی ۔ اس نے دور ہی سے اشارے کے ساتھ کہا

” آﺅ، میرے ساتھ۔“

وہ اٹھ کر اس کے ساتھ چل دی ۔ تھانے کے باہر ایک چھوٹی سفید رنگ کی کار کھڑی تھی۔ وہ اس میںجا کر بیٹھ گئی ۔ نینا بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔ ڈرائیور کار لے کر چل پڑا۔ کچھ دیر بعد وہ بالکل نئے علاقے میں ایک نئے تعمیر شدہ گھر میں جا پہنچے ۔ ڈرائنگ روم میںبیٹھنے کے بعد اس نے اپنی بہو سے ٍملواتے ہوئے کہا

” یہ میرے ڈاکٹر بیٹے کی بہو ہے ۔“ وہ مل کر پلٹ گئی تو لیڈی کانسٹیبل نے کہا،” میںکل پولیس کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکی ہوں۔اچھا ہوا تم آج مل گئی ہو۔ میںنے اس ملازمت میںکیا کھویا ، کیا پایا، یہ سب ایک طرف ،گھر اولاد کی تربیت ایک طرف ، مگر میں کچھ باتیں بتادوں، اسے غور سے سننا۔“

” جی میںسن رہی ہوں۔“ نینا نے کہا تو وہ لیڈی کانسٹیبل کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی

” اس وقت اگر کوئی تمہیں پسٹل تھما دے اور تمہارے سامنے کھڑے تمہارے دشمن کو مارنے کا اختیار بھی مل جائے تو کیا تم دشمن کو مار سکو گی؟ “

” شاید ہاں یا شاید نہیں۔“ اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا تو لیڈی کانسٹیبل بولی

” تمہارا جواب نفی میں ہے۔ سنو۔!کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پہلے مضبوط ہونا پڑتا ہے ۔پسٹل چلا تے وقت جس کا ہا تھ کانپ جائے ، وہ کبھی اپنا نشانہ پختہ نہیں کرسکتا۔ بہترین نشانہ لگانے کے لئے مضبوط ہاتھ کی ضرورت ہے۔تمہیں مضبوط ہوناہے۔ پسٹل پکڑنے والے ہاتھ کو طاقت ور ہونا چاہئے ، اور پختہ نشانہ لگانے کے لئے مہارت ، اور یہ بنا ریاضت کے نہیں ملتی۔ “

” یہی توبات ہے ، میںمجبور اور بے بس ہوں۔“ اس نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا

” یہ صرف تمہاری سوچ ہے۔سب سے پہلے اپنی سوچ کو پختہ کرو۔ فیصلہ کرو، تم نے اپنے دشمن سے انتقام لینا ہے ۔ یہی پہلاقدم ہے۔ اور اگر تم نے آنسوبہا دیا، اور ایک آنسو کے ساتھ تمہاری ذات بھی ضائع ہو جائے گی۔جب تک تمہاری آ نکھ میں سے آ نسو نہیںنکلتا ، تمہارے اندر کی درندگی قائم رہے گی۔جس نے انتقام کو زندہ رکھنا ہے ۔“

” یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟“ اس نے اپنی سوچ کی لگا میں تھامتے ہوئے کہا

” جب فیصلہ کر لوگی تو سب ممکن ہو جائے گا۔ اور ہاں، میں شاید ہی آج کے بعد تمہیں نہ ملوں، کیونکہ میں یہاں سے اپنے دوسرے بیٹے کے پاس جا رہی ہوں۔ میں تمہیں ایک نمبر دیتی ہوں، وہاں سے ایک خاتون بات کرے گی۔ میں آج انہیں تمہارے بارے میںبتا دوں گی ۔ اگر تم فیصلہ کر لو تو انہیں اپنے فیصلے سے آ گاہ کر دینا، پھر انہیں سے رابطہ رکھنا، یہ تجسس نہیں کرنا کہ وہ کون ہے ؟ جب تک وہ خود نہ کہیں، پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔“ لیڈی کانسٹیبل نے حتمی انداز میں کہا۔ اتنے میں اس کی بہو چائے لے کر آ گئی تو باتوں کا رخ ہی بدل گیا۔ بلاشبہ اس نے جان بوجھ کر اپنی بہو کے سامنے بات نہیں کی تھی۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور اسے واپس تھانے چھوڑ کر گیا تو اس کے اندر کی بے بسی کہیںگم ہو چکی تھی ۔ وہاں ایک نئی نینا کا وجود میں آگیا تھا ۔

اسی رات اس نے ریاضت سے گذرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ اور فیصلہ بھی اس پختگی کے ساتھ کیا کہ ابھی اور اسی وقت سے ۔ اس وقت ابھی اندھیرا ہی تھا ۔ مگر اس نے پروا نہیں تھی ۔ خود سے کی ہوئی کمٹمنٹ کو پورا کرنا تھا، اِس لئے اُس نے ٹریک سوٹ پہنا اپنے کوارٹر سے نکلی اور بارک نمبر تین کے سامنے وسیع و عریض میدان میں پہنچ گئی ، جہاں پریڈ ہوتی تھی۔

وہ جس وقت واپس کوارٹر آئی تو ہلکی خنکی والے دنوں میں بھی اس کا ٹریک سوٹ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ اس کے رخسار سرخ تھے ۔ آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی ۔ اس کا لہجہ بھی بدل گیا۔ اس نے اپنے اندر سے مظلوم عورت نکال باہر پھینکی تھی۔

 چند دن بعد ہی وہ پولیس کی لازمی ٹریننگ کے لئے اپنی دوسری بھرتی ہونے والی کانسٹیبل لڑکیوں کے ساتھ پولیس کے ٹریننگ سنٹرآ گئی۔ جہاں اس نے ٹریننگ کرنا تھی۔ پہلے ہی دن کے لیکچر نے اسے سکھا دیا کہ اس نے جو سوچا تھا ، وہ درست تھا۔ اسے ہر طرح سے مضبوط ہونا تھا۔ یہی مضبوطی اسے دشمن کو زیر کرنے کے لئے ایک بڑا ہتھیار تھی۔

چند ہفتوں بعد ہی اس کے انسٹرکٹر حیران رہ گئے ۔ دوسری لڑکیاں تو ڈرل مشکل سے کرتی تھیںاور نینا صبح منہ اندھیرے میدان میںہوتی، نومبر کی ٹھنڈ میںبھی اس کا ٹریک سوٹ پسینے میںبھیگا ہوا ہوتا ۔شام کو وہ جم چلی جاتی۔ وہاں لوگ حیران تھے کہ یہ ایک کھسکی ہو ئی جنونی ہے ، جسے کسی سے کوئی غرض نہیں سوائے اپنے بارے سوچنے کے ۔ نینا نے یہ راز افشا ہی نہیںکیا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ سبھی نے اس کا شوق سمجھا۔ اس کے انسٹرکٹر اسے گائیڈ کرنے لگے اسے بہترین مشورے ملے ۔ کئی رہنمائی کرنے والے مل گئے ۔ وہ اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی دھن میں سب کچھ بھلا چکی تھی ۔ اسے یاد تھا تو صرف یہ کہ اس نے سائرہ اور میڈم سمیرا کا انتقام لینا ہے۔ اور جس نے اسے منہ بھر کے ننگا کر دینے کی بات کی تھی ، اسے بتا نا کہ جب کمزور اپنے انتقام کی ٹھان لیتا ہے تو کس قدر خطرناک ہو جاتا ہے۔

اس کی دوسری توجہ سیل فون دوستوں پر تھی ۔ وہ ان سے رابطے میںرہتی تھی ۔ وہ لوگ کون تھے ، کیسے تھے ، اس بارے کبھی اس نے کسی سے کوئی بات نہیںکی تھی ۔ یہ ایک راز تھا، جسے وہ خود سے بھی چھپا کر رکھتی تھی۔

ایک برس یوں گزر گیا۔ ان کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ ہو گئی ۔ اس نے کئی انعام جیتے ۔ سب سے اہم نشانہ بازی کا انعام تھا۔ شوٹنگ کلب میں نشانہ بازی سے اس کا نشانہ اتنا پختہ ہو گیا تھا۔ وہ کوئی بھی شے اچھال کر اس کا نشانہ لگانے میںماہر ہو چکی تھی۔دوبدو فائٹنگ میں کوئی لڑکی اس کے سامنے نہیں آتی تھی ۔ جس حد تک جوڈو کراٹے کی تربیت سینٹر میں دی جاتی تھی وہ اس میںتاک ہو گئی۔ جب وہ ٹریننگ سے واپس آ ئی تو وہ پہلے والی نینا نہیں رہی تھی۔ وہ بالکل بدل چکی تھی۔اس کی سوچ یکسر تبدیل ہو گئی تھی ۔ وہ اپنی ٹریننگ کر کے واپس آ گئی تھی ۔

اس پورے دورانیے میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار، اس کا سیل فون تھا۔ اس نے بہت سارے لوگوں کی چھان پھٹک کے بعد محض چند لوگوں کے ساتھ دوستی بنائی تھی۔ جن میں دو لڑکیا ںاور کچھ مرد حضرات تھے۔وہ انہی سے بہت سارا کام لینے والی تھی ۔ وہ سبھی اپنی اپنی جگہ کوئی نہ کوئی ”شے “ تھے۔

خ….خ….خ

اس دوپہر وہ اپنے کوارٹر میں بیٹھی ہوئی اپنی آئندہ کی پلاننگ بارے سوچ رہی تھی کہ اس کا سیل فون بج اٹھا ۔وہ نمبر اس کے لئے اجنبی نہیںتھا۔ اسی لمحے اس کے اندر سے جو خوشی کا طوفان اٹھا، اس طوفان سے وہ یک لخت ٹھٹک گئی ۔ کیا وہ اس قدر شعیب کا انتظار کر رہی تھی ۔کیا وہ لاشعوری طور پر اس کی منتظر تھی؟ اس نے کال رسیو کی تو اسے اپنی آواز کی لرزش واضح محسوس ہوئی ۔ اس نے ہیلو کہا

” شکر ہے تمہارا نمبر نہیںبدلا، ورنہ شاید میں تمہیںکھو چکا ہوتا۔“ شعیب کی چہکتی آواز میںبولا

” مگر میں تمہارا انتظار کر رہی تھی ۔“ اس نے جب یہ لفظ کہے تو نجانے ان لفظوں کے ساتھ کیسے کیسے احساس گندھے ہوئے تھے کہ شعیب نے پوچھا

” تم ٹھیک تو ہو؟“

” ہاں میںٹھیک ہوں؟“ اس نے خود پر قابو پاکر کہا

” ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے واپس آئے ہوئے۔ تب سے سوچ رہاتھا کہ تمہیں فون کروں۔“ اس نے خوشی سے کہا

” تو پھر کیا نہیں؟“اس بار وہ خود پر قابو پا چکی تھی

”ڈر رہاتھا، کہیں تمہارا نمبر نہ بدل گیا ہو ، یا پھر تم مجھے پہچاننے سے انکار کردو ۔“ اس نے صاف گوئی سے کہا تو وہ ہنس دی پھر بولی

” نہیں ، ایسا تو نہیںہے۔“

” سناﺅ، سی ایس ایس کی تیاری کہاں تک پہنچی؟“ اس نے بڑے پیار سے پوچھا تو وہ خاموش رہی ۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ لمحوںتک اُسے کوئی جواب نہ دے پائی تو شعیب نے پوچھا،” خیریت ہے ، تم بول نہیںرہی ہو ؟“

” جب حالات ہی کسی دوسری راہ پر ڈال دیں تو پھر اپنی خواہشوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے ۔چھوڑو ، کوئی دوسری بات کرو۔“ اس نے حسرت آمیز لہجے میں کہا

”نینا۔! کیا بات ہے ، تیرا لہجہ کتناکرب ناک ہے ، کیا ہوا ، بتاﺅپلیز۔“اس نے تیزی سے پوچھا

” چھوڑو شعیب، کیوں زخم کریدتے ہو۔“ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھیگ گئی ۔ جس پر شعیب نے تڑپتے ہوئے انداز میں پوچھا

” بولو ، مجھے بتاﺅ ، کیاہوا ، میںجاننا چاہتا ہوں ۔ “

” جب ملے تو بتا دوں گی ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا تو شعیب غصے میںبولا

”تمہاری یہ عادت مجھے انتہائی گندی لگتی ہے جو تم پہیلیاں ڈالتی ہو۔ میں تو تم سے ابھی اور اسی وقت مل سکتا ہوں ، تو کیا مل لو گی ؟ تم تو کئی ….“

” بتاﺅ کہاں ملنا ہے ، میں ابھی آ جاتی ہو ں۔“اس نے شعیب کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” بولو کہاں سے پک کروں؟“ اس نے بھی کہہ دیا تو نینا نے ایک پوائنٹ بتایا ۔ اس پر شعیب نے کہا،” میں پندرہ منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔“ شعیب نے کہا اور فون بند کردیا۔

وہ دئیے گئے وقت پر وہاں پہنچ گئی ۔ اسے وہاں ایک کلین شو، سرخ و سپید رنگت والا، جوان نئے ماڈل کی کار میںبیٹھا دکھائی دیا۔ وہ بہت حد تک بدل گیا تھا۔یہاں تو وہ پتلا سا تھا، لیکن سامنے موجود شعیب اس قدر پر کشش ہوگا یہ اس نے تصور بھی نہیںتھا۔سیاہ ریبین لگائے وہ ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔وہ دھیرے سے مسکرا دی ۔ اس کے اندر کی عورت انگڑائی لے کر بیدار ہو گئی تھی۔اس کے اندر کی عورت نے آنکھ کھول لی ، نسوانیت نے زور سے ہلچل محسوس کی ۔ وہی کشش جو ایک عورت مرد میں محسوس کرتی ہے ۔

 شعیب نے اسے حجاب ہی میںدیکھا تھا۔اس نے صرف آ نکھیں دیکھی تھیں، وہ تو اسکے بدن کے نشیب و فراز سے بھی واقف نہیںتھا۔ وہ جو خود اسے پہچان نہیںپائی تھی ، تووہ اسے کیا پہچان سکتا تھا۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ چلتے ہوئے اس کی کار کے پاس گئی، پسنجر سیٹ والا دروازہ کھولا اور بیٹھتے ہوئے ہولے سے بولی

” چلو ، کہاں لے جاتے ہو ؟“

شعیب دیدے پھاڑے حیرت سے ا س کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس نے نینا کی طرف یوں دیکھا جیسے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ہو ۔اس نے سر سے پاﺅں تک دیکھتے رہنے کے بعد سرسراتی ہوئی آواز میںکہا

” امیزنگ۔! اگر تم نہ بولتی تو میں تمہیں کبھی نہ پہچان پاتا۔“یہ کہتے ہوئے اس نے گیئر لگا دیا۔

” نہ بولتی تب تم کیا کرتے ؟“ اس نے شوخی سے پوچھا تو اسی حیرت میںبولا

” فوراً اتر جانے کو کہتا۔“

” یار میں اتنی بھی ’ماٹھی ‘ نہیںہوں۔“ اس نے مصنوعی حیرت سے کہا

” ماٹھی ؟ تم خود کو ماٹھی کہتی ہو ، او یار تم نے تو میرا دماغ ہلا کر رکھ دیا ہے ۔کہاں وہ دیہاتی لڑکی اور کہاں یہ تراشیدہ بدن والا بت ، جو نگاہوں کو خیرہ کر رہا ہے، پاگل کر رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا تو پہلی بار اسے اپنی تعریف اچھی لگی تھی۔چند لمحے سرور میں رہنے کے بعد اس نے خود پر قابو پا لیا اور مصنوعی غصے میںبولی

” امریکہ جا کر تم کچھ زیادہ ہی سمارٹ نہیںہوگئے ، مطلب منہ پھٹ، بے حیا اور ….“

”حسن پرست۔“ یہ کہہ کر اس نے زور دار قہقہ لگا دیا، پھر بولا،” یقین جانو گولی کی طرح سینے پر لگی ہو۔“

” گولی ؟یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو ؟“ اس نے پوچھا تو شعیب ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا

 ” کیا تم مجھ پر اعتماد کرو گی ؟“

” بالکل ، کیوں نہیں ایک تم ہی تو ہو جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔“ اس نے یہ بات دل سے کہی تھی

” تو پھر سنو۔! میرے ذہن میں تمہارا جو تصور تھا، وہ بس ایویں سی ایک لڑکی کا تھا، جو ذہین تو ہے لیکن خود کو اس لئے چھپا کر رکھتی ہے کہ وہ اتنی زیادہ خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اس وقت تمہیںدیکھا تو یقین نہیں آ رہا ، میں تو اب بھی یہ گمان کر رہاہوں کہ تم وہ نہیںہو، جسے میںجانتا ہوں۔“ شعیب نے پورے جوش اورحیرت ملے انداز میں کہا

” یہی حسن تو مجھے برباد کر رہا ہے ۔کیا کروں ؟“وہ بجھے ہوئے لہجے میںبولی

” میں سمجھا نہیں؟“اس نے پوچھا

” نہ ہی سمجھو تو اچھا ہے ۔“ اس نے ہولے سے کہا اور سامنے سڑک کو دیکھنے لگی پھر ایک دم سے اسے خیال آ یا کہ وہ اسے لے جا کہاں رہا ہے؟ اسے یہ خیال تو آ یا لیکن اس نے یہ سوال نہیں کیا۔ چپ چاپ بیٹھی رہی ۔ تبھی شعیب نے یوں کہا جیسے اس کا ذہن پڑھ لیا ہو ۔

” تم نے پوچھا نہیں،ہم کہاں جا رہے ہیں؟“

” تم میرے بہت اچھے اور قابل اعتماد دوست ہو ، جہاں بھی لے جاﺅ ، چلی جاﺅں گی۔“اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ اس پر شعیب چند لمحے یوں خاموش رہا جیسے سوچ رہا ہو ، پھر بولا

” بہت بدل گئی ہو ۔“

” ہاں وقت اور حالات نے بدل دیا۔“ یہ کہہ کر اس نے لمبی سانس لی۔

ان کے سفر کا اختتام شہر سے باہر ایک فارم ہاﺅس پر ہوا ۔ایک طرف خوبصورت سارہائشی پورشن بنا ہوا تھا۔ جس کے پورچ میں اس نے کار روکی تو وہ دونوں باہر آ گئے

” یہ فارم ہاﺅس میرے بھائی کا شوق تھا۔ اب اس کی دلچسپی کم ہو گئی ہے ۔ یہاں وہ بہت کم آتا ہے ۔اب میں آ گیا ہوں تو میں نے یہاں اپنی ایک چھوٹی سی لیب بنائی ہے ۔“

” لیب ، وہ کس لئے ؟“ نینا نے پوچھا

” مختلف تجربات کے لئے ، یا ر میں الیکٹرونکس انجینئر ہوں ، دنیا کے ٹاپ کے ادارے سے پڑھ کر آ رہا ہوں ۔ کمال ہے۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس دی۔

دونوں ہولے ہولے چلتے ہوئے لاﺅنج میں آ گئے ۔ وہاں شعیب نے نینا کو بھرپور نگاہوں سے دیکھا ، پھرایک دم سے نگاہیں چرا لیں، جیسے وہ کوئی چوری کررہا ہو ۔ وہ اس کی ادا دیکھ کر ایک دم سے ہنس دی ، مگر نے احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ دیکھ چلی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیںتھی لیکن نینا کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ اس سے بے حد متاثر ہو چکا ہے۔ شاید اس سے ، اس کے حسن سے؟

” آﺅ ، تمہیں لیب دکھاﺅں ۔“ یہ کہہ کر وہ اندر کی جانب چلا گیا۔ دوسری طرف ایک چھوٹی سی عمارت تھی ۔ اس نے جا کر دروازے میںلگا تالا کھولا اور اندرچلا گیا۔وہ بھی اس کے پیچھے اندرپہنچ گئی ۔وہاں پر کافی ساری چھوٹی بڑی مشینیں، کمپیوٹر ، مختلف قسم کے برقی آلات اور بہت کچھ تھا، جس کی اُسے سمجھ نہ آ سکی ۔تبھی اس نے پوچھا

” یہ سب کیا ہیں، ان پر کیا تجربے کرتے ہو؟“

”کوئی بھی نئی چیز بنانے کے لئے۔جیسے دنیا میں نئی سے نئی چیزیں بن رہی ہیں، کیا تم نہیںجانتی کہ آئے دن کوئی نہ کوئی نئی چیز آ جاتی ہے یا پہلی میںکچھ نئی تبدیلی آ جاتی ہے۔“اس نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی سامنے بیٹھتے ہوئے بولی

” ہاں یہ تو ہے ۔ جیسے کوئی سیل فون سے واقف نہیںتھا، لیکن اب ہر کوئی اپنے پاس رکھتا ہے۔“

” بالکل ، ابھی جو کچھ سیل فون میں ہے، اس میں ایسی تبدیلی جو دنیا کو حیران کر دے، یہی تجربات کرتا ہوں ۔ “

” تو کچھ کیا؟“ اس نے ایک دم پوچھا

” ہاں ، کافی کچھ کیا۔ مطلب یہ سیل فون ہی لے لو ، میرے پاس ایسا فون ہے ،جسے کوئی چاہے بھی تو ٹریس نہیں کر سکتا ۔ یہ ہم نے وہاں بنایا تھا،میں اس پر مزید کام کر رہا ہوں ۔ ‘ ‘

” واﺅ ۔! یہ توکمال کی چیز ہے۔“ اس نے دلچسپی سے کہتے ہوئے تیزی سے پوچھا،” یہاں اس کا کوئی تجربہ کیا، مطلب کسی کو کال کی ۔“

” ہاں، میں کئی بار آزمایا۔ کسی کو پتہ نہیںچلتا۔“ وہ بولا

واہ ۔“ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی

” خیر تم سناﺅ، اتنی تبدیلی کیسے آ گئی ، ایک ایسی لڑکی جو کبھی حجاب میں رہتی تھی اور آج ایسے دکھائی دے رہی ہے جو بہت ماڈرن ہے۔“اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو نینا نے ایک لمبا سانس لیا اور پھر بڑے دکھ بھرے لہجے میںبولی

” یہ ایک لمبی کہانی ہے شعیب، کیا بتاﺅں اور کیا نہ بتاﺅں، چھوڑو، پھر کسی وقت سہی۔“

” اگر تم بتانا نہ چاہو تو الگ بات ہے لیکن میں سننا چاہتا ہوں ، جتنی بھی لمبی کہانی ہو ۔“ اس نے گہری سنجیدگی سے کہا تو نینا نے اس کی طرف دیکھا اور یاسیست پھرے لہجے میںبولی

” کیوں سننا چاہتے ہو؟ سن لینے سے کیاہوگا؟“

” تم شاید اسے جو بھی سمجھو لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنے بارے میں بتاﺅ۔ میں تمہارے بارے جاننا چاہتا ہوں۔ “ اس نے ضد کرنے والے انداز میںکہا تو وہ تیکھے لہجے میں بولی

” کیوں، کیوں جاننا چاہتے ہو ؟“

”اس لئے کہ میںتم سے قربت محسوس کرتا ہوں۔ دل سے چاہتا تھا کہ تم جیسی باصلاحیت لڑکی کسی اچھی پوسٹ پر ہو ، میں نے تمہیں مدد کی آفر بھی کی مگر تم نے نجانے کیوں قبول نہیںکی ، اور پھر اتنی بڑی تبدیلی یونہی نہیںآ سکتی ۔ کہیں جاب تونہیںکرلی یا تمہاری شادی تو نہیںہوگئی ، بتاﺅ نا یار۔“ اس نے اکتائے ہوئے انداز میں پوچھا تووہ ہنس دی ۔ اسے شعیب کا یہ انداز بہت اچھا لگاتھا۔ وہ چند لمحے سوچتی رہی ، پھر بولی

” میں نے پولیس کی نوکری کر لی ہوئی ہے۔ایک معمولی کانسٹیبل کی نوکری۔“ یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں حسرت بھری تلخی اُتر آئی تھی۔

” وہاٹ۔! کیا کہہ رہی ہو؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” سچ یہی ہے۔“وہ بولی

یہ سن کر شعیب چند لمحے خاموش رہا ، پھر بولا

” یہ پولیس کی نوکری ، یہ کیوں کی؟ ظاہر ہے کوئی مجبوری رہی ہو گی، دراصل میں وہ مجبوری جاننا چاہتا ہوں ۔ ‘ ‘ وہ ایک دم سے کہتا چلاگیا۔

”پھر کیا ہوگا؟“ اس نے عجیب لہجے میں پوچھا

” میں کوشش کروں گاکہ ….“ اس نے کہنا چاہا تو نینا نے اُ س کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” خدا کے لئے شعیب ، مجھے کوئی خواب مت دکھانا ، میں اب کوئی بھی خواب نہیںدیکھنا چاہتی ہوں ۔ مجھے میری مجبو ر یو ں کے ساتھ زندہ رہنے دو۔ تم نے واپس چلے جانا ہے ۔ میں جیسی ہوں ، مجھے ویسی ہی رہنے دو۔ میں ایسے ہی خوش ہو ں ۔ ‘

” بہت زہر ہے تمہارے لہجے میں ؟“ اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ جب وہ خاموش رہی تو اس نے کہا،” اوکے ، کچھ بھی مت بتاﺅ، لیکن ہم یہاں جتنی دیر تک ہیں،اتنی دیر تک تو ہم اپنی باتیںکر سکتے ہیں نا ، وہ سوال جو پرانی یادوں کے حوالے سے اب بھی ذہن میںہیں۔“

” جیسے تمہاری مرضی ۔“ نینا نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا تو ان کے درمیان کافی دیر تک خاموشی آ ن ٹھہری ۔ جیسے ان کے پاس بات کرنے کےلئے کوئی موضوع نہ رہا ہو۔ تبھی شعیب نے اٹھتے ہوئے کہا

” آﺅ باہر چلتے ہیں۔“

 وہ اٹھ گئی ۔ اور اس کے پیچھے پیچھے لیب سے نکلتی چلی گئی ۔ وہ دونوں کھلی فضا میں آ گئے ۔اچانک نینا کو خیال آیا تو وہ چند لمحے سوچتی رہی ، پھر اس نے پوچھا

” یہاں کوئی ملازم دکھائی نہیںدے رہا ہے ، جیسے ہمارے علاوہ یہاں کوئی بھی نہ ہو ۔“

”پہلے یہاں کافی ملازم ہوتے تھے، چونکہ بھائی کی دلچسپی کم ہوگئی ہے ، اور یہاں کام کرنے والے مزارعے ساتھ گاﺅں میںرہتے ہیں، اسلئے یہاںکی دیکھ بھال کے لئے ایک جوڑا رہتا ہے ، وہ بھی دو تین کے لئے اپنی کسی عزیز کی شادی میںگئے ہیں۔“

” مطلب ہمارے سوا کوئی نہیںہے ۔“ نینا نے شوخی سے پوچھا تو شعیب نے ہنستے ہوئے کہا

” فکر مت کرو ، میںکوئی ناجائز فائدہ نہیںاٹھاﺅں گا۔“

” پہلی بات تو یہ ہے کہ تم ایسا کرو گے نہیں، دوسری بات اگرفائدہ اٹھانے کی کوشش کروگے تو بہت پچھتاﺅ گے ، اور تیسرا یہ کہ ….“ وہ کہتے کہتے رُک گئی ۔

” تیسرا کیا؟“

” تیسرا یہ کہ جس دن میرا دل کیا ، میں خود تمہارا جائز فائدہ اٹھا لوں گی ۔“

” تم بھی نا۔“ شعیب نے ہنستے ہوئے کہا۔

وہ رہائشی عمارت کے لان میںبیٹھے یونہی باتیں کرتے رہے ۔ ان کے درمیان ماحول خوشگوار ہو گیا تھا۔ شعیب اپنے بارے میں بتاتا رہا کہ اس نے امریکہ میں رہتے ہوئے کیسے وقت گزرا ۔ کس طرح تعلیم حاصل کی ۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی ۔ اس نے اپنے بارے کچھ نہ بتایا۔

اس وقت سورج ڈوب رہا تھا، جب وہ دونوں کار میں بیٹھے اور واپس شہر کی جانب چل دئیے۔ ان کے درمیان خاموشی تھی ۔وہ فارم ہاﺅس سے نکل کر اندازاً دو کلو میٹر تک گئے ہوں گے کہ ایک سیاہ کار نے انہیںتیزی سے کراس کیا ۔وہ کار پہلے آہستہ ہوئی پھر کافی آ گے جا کر یوں رک گئی کہ اس کی وجہ سے شعیب کو زوردار بریک لگانا پڑے ۔ جیسے ہی اِن کی کار رُکی سامنے والی کار سے چار آدمی نکل کر باہر آگئے۔ پسنجر سیٹ سے جو بندہ نکلا اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا، اس نے نکلتے ہی ان کی کار پر فائرنگ کرنا شروع کردی ۔ شعیب کا رنگ ایک دم سے پیلا پڑ گیا ۔بلاشبہ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے ۔

نینا انہیںغور سے دیکھنے لگی ۔وہی شخص ڈرائیور سائیڈ پرآگیا۔ اس نے شعیب کی طرف والا دروازہ کھولنا چاہا۔ وہ بند تھا۔ اس نے اشارے سے باہر آ نے کا اشارہ کیا۔ شعیب نے ایک بار نینا کی جانب دیکھا اور پھر باہر نکل گیا۔ اس نووارد نے پہلے شعیب کو گردن سے پکڑا اور اسے قریب کھڑے بندے کے حوالے کیا،پھر کار کے اندر جھانک کر دیکھا تو بڑے گھٹیا سے انداز میں دوسروں کو سناتے ہوئے کہا

” اوئے واہ اوئے ۔! فل عیاشیاں ، اُوئے اندر نرم مال بھی ہے ، کمال ہے یار۔“

اس دوران وہ دوسرا بندہ شعیب کو گریبان سے پکڑکر ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں لے گیا۔ اسی لمحے پیچھے کھڑے تیسرے بندے نے کہا

” اوئے ٹھہر۔! رُک جا ۔“

” کیا ہوا ،؟‘ جس نے گریبان پکڑا تھا اس نے پوچھا تو پیچھے والا بولا

” یہ وہ نہیں جسے ہم نے مارنا ہے ، یہ اس کا چھوٹا بھائی ہے ، جو ابھی امریکہ سے آیا۔“

” یہ تو پھراطلاع دینے والے کی غلطی ہے نا، اب تو اسے مارنا پڑے گا۔“ یہ کہہ کر اس نے پسٹل کی نال اس کے سر پر رکھی تو پیچھے کھڑے بندے نے کہا

” ایک منٹ رک جا ، مجھے پوچھ لینے دے، جلدی نہ کر۔“ اس کے کہنے پر اس نے پسٹل کی نال ہٹا لی ۔ پیچھے والا شخص کار تک گیا اور ڈرئیونگ سیٹ پر بیٹھے بندے سے بات کی ۔ یہی وہ لمحہ تھا جب نینا کی نگاہ سامنے کار میںبیٹھے شخص پر پڑی ۔

 یہ وہی شخص تھا جسے اس نے مٹھن خان کے ڈیرے پر دیکھا تھا۔اسی نے بڑی بے دردی کے ساتھ سائرہ کو اٹھا کر پھینکا تھا اور اُس کے کپڑے پھاڑے تھے۔وہی تھا جو خود کو مٹھن خان کا سب سے بڑا وفادار ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہی کہہ رہا تھا کہ میں سب دیکھ لوں گا۔ اسی نے سب سے پہلے اس پر ہاتھ ڈالا تھا، جب فرحان خان نے اسے ننگا کرنے کو کہا تھا۔اسے پہچانتے ہی نینا کا دماغ ایک دم سے گھوم گیا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی اس کے دماغ میںآگ بھڑک اٹھی ۔ نجانے وہ کون سی قوت تھی جو اس کے بدن میںسرائیت کرنے لگی ۔اس نے ایک ہی لمحے میںفیصلہ کر لیا کہ اسے کیا کرنا ہے۔

نینا نے طویل سانس لے کر خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی کمر کی بائیں طرف لگے ہولسٹر میں سے پسٹل نکال کر اس کا سیفٹی کیچ ہٹایااور کار سے باہر نکلی آئی۔وہ ہولے ہولے چلتی ہوئی یوں آگے بڑھی جیسے ڈر رہی ہو ۔ اس نے دور ہی سے کہنا شروع کر دیا

” خدا کے لئے ہمیںمعاف کر دیں۔ ہم سے ایسا کیا قصور ہو گیا، ہمیں جانے دیں پلیز۔“

” اوئے پٹولے۔! تم سے کیا قصور ہونا ہے ۔ یہ تو اس امریکہ پلٹ کا بھائی ہے جو مٹھن خان کے خلاف بولتا ہے ۔ اسے بڑا معاف کیا، سمجھایا بھی بہت تھالیکن باز نہیںآتا۔ تم چلو ہمارے ساتھ عیش کروا دیں گے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے آ نکھ ماردی۔

 نینا نے دیکھا ۔ وہ سیل فون بات کرنے والے کی کال نہیں مل رہی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا، جس سے وہ فائدہ اٹھا سکتی تھی ۔ اس نے انتہائی سرعت سے اپنا پسٹل نکالا اور کوئی مہلت دئیے بغیراس کے سر پر فائر کر دیا ، جس نے شعیب کا گریبان پکڑا ہوا تھا۔اس کی چیخ بلند ہوئی ۔وہ یوں پیچھے گرا جیسے لکڑی کا لٹھ گرتا ہے ، نینا نے کوئی مہلت نہیں دی، اس نے سامنے کھڑے فون کال کرنے والے پر فائر کر دیا۔ اس کے ہاتھ سے فون دور جاگرا، اس کے ساتھ ہی تیسرا بھی سڑک پر تڑپنے لگا۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ کار میں بیٹھا ہوا بندہ تیزی سے کاربھگا لے جائے گا۔ اس نے ٹائروں پر فائرنگ کر دی۔ٹائر پھٹ گئے مگر پھر بھی اس نے کار سٹارٹ کر کے بھگا لی تھی ۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ سڑک سے نیچے اتر کر الٹ گئی۔وہ شخص اس میں پھنس گیا۔ کار الٹتے ہی پیٹرول کی بو پھیلنے لگی ۔ نینا کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے چند ثانئے انتظار کیا اور کار کی طرف فائر کر دیا۔ ایک دم سے شعلہ بھڑکا اور کار کو آ گ لگ گئی ۔ وہ لمحہ بھر جلتی ہوئی کار کو دیکھتی رہی پھر پلٹ آ ئی ۔ شعیب ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔

” اب کھڑے کیا دیکھ رہے ہو، چلو نکلو۔“ نینا نے تیزی سے کہا تو شعیب کوہوش آیا ۔ وہ کار کی طرف مڑ گیا۔ تبھی نینا کی نگاہ سڑک پر گرے سیل فون پر پڑی، وہ بجائے کار میںبیٹھنے کے اس فون کی جانب بڑھی جو چندقدم کے فاصلے پر پڑا تھا۔ اس نے وہ سیل فون اٹھا یا اور تیزی سے آ کر کار میں بیٹھ گئی

” چلو اب نکل چلو۔“

” اوکے۔“ شعیب نے کاندھے اُچکا کر گیئر لگایا اور کار بھگا دی۔ ذرا سا آگے جا کر اس نے پوچھا”اب بتاﺅ ، کیا کرنا ہے ، پولیس کو اطلاع ….“

” پاگل ہو گئے ہو ۔بھول جاﺅ کہ کچھ ہوا تھا۔تم نے وہ لوگ دیکھے ہی نہیں۔“ نینا نے تیزی سے کہا

 ” وہ لوگ…. “ وہ کہنا ہی چاہتا تھا کہ سڑک سے اٹھایا ہوا سیل فون بج اٹھا۔ نینا نے وہ فون اٹھایا ، اور کال رسیو کرکے اسپیکر آن کر دیا ۔ دوسری طرف سے کوئی بولا

” اوئے ہاں، کیابات ہے ۔ کام ہو گیا؟“

” ہاں ہو گیا۔“ اس نے گھمبیر لہجے میںآواز بدل کر کہا

” یہ تمہاری آواز کو کیا ہوا؟“ دوسری طرف سے حیرت بھری آواز میں پوچھا گیا۔

” وہ آواز ہمیشہ کے لئے بند کر دی ہے میںنے ، جسے تم سننا چاہتے ہو۔صرف وہی نہیں باقی تینوں بھی مار دئیے ہیں ، جیسے آوارہ کتے مار تے ہیں،بالکل ویسے ۔“ اس نے نفرت سے دانت پیستے ہوئے کہا

” کیا؟کون ہو تم؟“گھبراہٹ میںپوچھا گیاتو نینا نے کہا

” میں…. گُولی…. جو بہت جلدی مٹھن خان کے بھیجے میں اُتر جانے والی ہے۔ کہہ دینا اس بے غیرت سے ۔“

”گُولی….؟“ حیرت سے پوچھا گیا

” ہاں گُولی،بتادینا مٹھن خان کو آج کے بعد وہ سکون کی نیند نہ سوئے ، تم بھی اُس کے کتّے ہو، اور میںتم سب کی موت ہوں ۔“ اس نے نفرت سے کہااور فون بند کر دیا۔ وہ خود پر قابو پاتے ہوئے سڑک کو گھور رہی تھی جبکہ شعیب پاگلوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

”اب اس فون کا کیا کرنا ہے ؟ پتہ ہے ، اس فون سے ہم ٹریس بھی ہو سکتے ہیں۔“ شعیب نے اسے سمجھانے والے انداز میںکہا

” جانتی ہوں، تم نہیں ،جس کے پاس یہ فون ہوگا، ٹر یس وہ ہوگا، میں مٹھن خان سے رابطہ چاہتی ہوں ، وہ اسی پر کال کرے گا۔“وہ سرد سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تو شعیب کی آنکھوں میں خوف اتر آیا اس نے سر جھٹکتے ہوئے تیزی سے کہا

” یہ تو نری خود کشی ہے نینا، میں….“

باقی آئندہ ان شاءاللہ

 شعیب کہتے ہوئے رک گیا تھا۔ خوف کے سائے اس کی آنکھوں میںلرز رہے تھے۔

” اب مجھے کوئی ڈر نہیں، مجھے بس مٹھن خان کو قتل کرنا ہے ۔“ نینا کے لہجے میںقہر اُتر آیا تھا۔اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے شعیب کی طرف دیکھا ، اور پھر گہرے لہجے میں بولی،” ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟“

” تم وہ نینا نہیںہو ، جسے میںجانتا ہوں۔“ اس کے لہجے میںبلا کی حیرت اُتری ہوئی تھی۔

” تو پھر کون ہوں؟“ یہ کہتے ہوئے اُس نے گہری مسکان سے اسے دیکھا ۔ جس سے کار میںپھیلا ہوا خوف کافی حد تک ختم ہو کر رہ گیا۔

” کچھ ایسی جس کی مجھے سمجھ نہیںآ رہی ، یا پھر وہ پہلی والی تو کم از کم نہیںہو۔یہ سب کیسے ، تم….؟“ شعیب سے کوئی سوال بن نہیں پا رہا تھا۔

” شعیب ۔! میں نے خود کو مار لیا ہے ۔“

” مار لیا مطلب؟“ اس نے انتہائی تجسس سے پوچھا تو اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے بولی

”اور یہ سب کچھ ایک نئی زندگی ہے، جو بہرحال میری نہیں ہے۔“ اس نے یوں کہا جیسے خودکلامی کر رہی ہو ۔ ان کے درمیان خاموش چھا گئی تبھی شعیب یوںبولا جیسے اسے کوئی اہم بات یاد آ گئی ہو۔

” اس سیل فون کو پھینک دو ۔مٹھن کا نمبر ہے میرے پاس ، اسے پھینک دو ۔“

” یہ لو ۔“ یہ کہتے ہوئے نینا نے ایک بار فون کو دیکھا اور پھر باہر پھینک دیا۔

” یہ سب کیسے ؟ تم نے بتایا نہیں؟“ شعیب نے کہا تو نینا نے اپنا ہاتھ اس کی گردن میںحمائل کیا ، اپنا سر اس کے بائیں کاندھے پر رکھتے ہوئے اس کے قریب ہو کر بولی

” وقت اور حالات نے سکھا دیا پیارے، میری زندگی کا اب صرف ایک ہی مقصد ہے ، اس مٹھن خان کو ختم کرنا۔“

” وہ بہت طاقتور آ دمی ہے۔ ہماری اس سے خاندانی د شمنی چل رہی ہے، آج سے نہیںبہت پہلے سے ، یہ تو آج میں تمہاری وجہ سے بچ گیا ورنہ ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے جھرجھری لی اور کانپ گیا۔

” بچانے والا رَبّ ہے میری جان، میںکیا اور میری اوقات کیا۔ مٹھن خان کی طاقت ہی اس کی کمزوری بنا دو ڈئیر۔ اچھا ہوا کہ آج سے ہی یہ کام شروع ہوگیا۔“ اس نے انتہائی نفرت سے کہا

” لیکن ہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔اب یہی دیکھ لو ، یہ چار بندے یہاں قتل ہوگئے ہیں۔ مٹھن خان کو پتہ ہے کہ یہ بندے کسے مارنے کے لئے بھیجے گئے تھے ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ خود مرگئے۔اب مٹھن خان کا تمام تر فوکس ہمارے خاندان پر ہوگا۔ مجھ سے پوچھا جائے گا اور….“

” یہ تو ہو گا ۔“ نینا نے اس کی بات کاٹ کر کہا، پھر چند ثانئے بعد بولی ،” مگر تم نے یہی کہنا ہے کہ کسی کو نہیں دیکھا ، اور نہ کوئی تجھے قتل کرنے آیا ہے ۔“

” یہ کیا بات کر رہی ہو، قتل ہوگئے ہیں۔“ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو نینا نے اس کے چہرے پر دیکھا پھر چند ثانئے بعد طنزیہ لہجے میںپوچھا

” تو کیا تم ڈر گئے ہو؟“

” نہیں، میںڈرا نہیں، میںتمہیںبچانا چاہتا ہوں۔“ اس نے تیزی سے جواب دیا

” مجھے مت بچاﺅ۔ بھول جاﺅ سب ، اور یہ سوچو مٹھن خان کو صرف قتل نہیں ،ختم کیسے کرنا ہے۔“ اس نے نفرت سے کہا تو ان کے درمیان پھر سے خاموشی چھا گئی۔

کچھ دیر بعد شعیب نے یوں بولا جیسے بات کرنے کا محض بہانہ ہو ۔

” نینا ، یہ تم نے اسے اپنا نام گولی کیوں بتایا؟“

”بس ایسے ہی سامنے نام آیا تو میں نے کہہ دیا۔“ وہ دھیمے سے لہجے میںلاپرواہی سے بولی

” یہ جو تم اس قدر بدل گئی ہو ، یہ سب کیسے کیا؟“ شعیب ابھی تک وہیںاٹکا ہوا تھا۔ اس کا تجسس ختم نہیں ہوا تھا۔

” شہر پہنچنے میںکتنا وقت لگے گا؟“ نینا نے شعیب کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پوچھا

” زیادہ سے زیادہ دس منٹ۔“ اس نے جواب دیا

” بس تو پھر، اپنے گھر جاﺅ تم، کسی سے کچھ مت کہنا کہ کیا ہوا، اپنے والدین کو بھی نہیں بتانا۔ میں جا کر بات کرتی ہوں تم سے ۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

” مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی ، تم ….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹ کر بولی

” اب کسی کو بھی نہیںآئے گی، جو کہا ہے وہی کرو، باقی میںدیکھتی ہوں۔ ڈرائیونگ پر دھیان دو۔“

پھر ان دونوں میںکوئی بات نہ ہو ئی۔ یہاں تک کہ وہی سٹاپ آ گیا ، جہاںسے وہ اس کے ساتھ گئی تھی ۔ اس نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا، چادر اپنے گرد اچھی طرح لپیٹی اور کار رُکتے ہی اُتر کر چل دی۔ اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہیںدیکھا۔

٭….٭….٭

وہ بارک نمبر تین میں موجود اپنے کوراٹر پہنچی تو آپی فوزیہ برآمدے میںکھڑی تھی۔ دیگر لڑکیاںدروازوں میں سہمی ہوئی کھڑی تھیں ۔ نینا کو حالات معمول پر نہیںلگے ۔ اسے دیکھتے ہی آپی فوزیہ نے غصے میں تیزی سے پوچھا

” کہاں تھی تم؟“

اُسے یقین ہوگیا، صورت حال ٹھیک نہیں تھی۔آپی فوزیہ کے چہرے پر غصے کے ساتھ پریشانی بھری جھنجھٹ تھی۔ لگتا تھا جیسے زلزلہ آگیا ہو ۔دوسری نئی لڑکیاں گھبرائی ہوئی کچھ فاصلے پر کھڑی تھیں۔کوراٹر میںافراتفری کا عالم تھا۔ تبھی اس نے پوچھا

” آپی کیا ہوا ، اس قدر ….“ اس نے کہنا چاہا تھا کہ وہ بات کاٹتے ہوئے غصے میں بولی

” آﺅ میرے ساتھ، جلدی سے وردی پہنو۔“

” آپی،کیا ہوا؟“ اس نے پوچھا تو وہ پلٹ کر کمرے کے اندر جاتے ہوئے کہتی چلی گئی ۔

” یار کچھ بندے قتل ہوگئے ہیں۔ ان کی لاشیں اس وقت ہسپتال میںپڑی ہیں۔ انسپکٹر نے سارے تھانے کو الرٹ کیا ہے۔ظاہر ہے مجھے بھی جانا ہوگا، یہاں تو ساری نئی لڑکیا ں ہیں، کوئی بھی نہیں ساتھ لے جانے والی۔ تم پتہ نہیںکہاں دفعہ ہو گئی تھی ۔ اب چلو ، پتہ نہیںکتنا وقت لگے وہاں پر۔“ آ پی نے اپنی قمیص اُتارتے ہوئے کہا۔

” کوئی بھی نہیں تھی ؟“ اس نے پوچھا

” ہوتی بھی تو اس وقت کسی دوسری کو ساتھ نہ لے جاتی ، تیری بات ذرا کچھ اور ہے ، اسی لئے تیرے نخرے سہتی ہوں، چل اب جلدی سے وردی پہن۔“آپی نے قمیص کی سلوٹیں دور کرتے ہوئے کہا۔ وہ جلدی سے وردی پہن رہی تھی ۔ نینا نے ایک طویل سانس لیا اور اپنے کمرے میںآگئی ۔ اس نے بھی تیزی سے آ کر وردی پہنی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی تیار ہو کر آپی فوزیہ کے ساتھ ہسپتال کے لئے چل دیں۔ انسپکٹر نے اسے وہیں بلایا تھا۔

وہاں لوگوں کارش لگا ہوا تھا۔ ان میںکافی ساری عورتیں بھی تھیں۔ ایک مجمع لگا ہوا تھا۔کچھ لواحقین تھے اور بہت سارے لوگ تماش بین تھے۔اس وقت ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کر رہے تھے۔ انہیں وہاں اس لئے بلوایا گیاتھا کہ وہاں پر موجود عورتیںکوئی ہنگامہ نہ کر دیں۔ لیکن کچھ نہیںہو ا، وہاں پر موجود عورتیں روتی ، پیٹتی اور چلاتی رہیں۔ اُسے لگا، یہ سب اسے ہی سنا رہی ہیں۔ گالیاں ، گریہ زاری، بین ، بد دعائیں جو بھی جس کے منہ میںآتا تھا ، وہی کہتی چلی جا رہی تھیں۔جس طرح ان کا شور تھا، اسی قدر نینا کے اندر طوفان اٹھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی گن یا پسٹل نہیںتھا، ورنہ انہیں بتاتی یہ جنہیںیہ رو پیٹ رہی ہیں، اصل میں وہ کرنے کیا گئے تھے ۔ وہ اگر انہیں نہ مارتی تو اب تک اس کی لاش ان لوگوں کی جگہ پڑی ہوتی ۔ نینا کو اپنے آپ پر قابو پانے میں مشکل ہو رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی اسے یہ خیال آتا کہ اس نے یہ چھری مٹھن خان پر چلائی ہے تو اس کے اندر تسکین اتر جاتی ۔

 پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاءکے حوالے کر دی گئیں۔ لاشیں وصول کرنے کے بعد وہاں موجود عورتیں رونے پیٹنے اور چلانے لگیں۔ اس وقت نینا نے بڑے غور سے دیکھا۔ جنہیں اس نے گولیاں ماریںتھیں ، ان کی حالت کیسی ہوگئی تھی ۔یہی وہ لمحات تھے، جب نینانے اپنے اندر ایک سرمستی اُبھرتے ہوئے محسوس کی ۔ دشمن کو مارنے کے بعد کیسا سرور ملتا ہے، وہ اس کیفیت سے گذر رہی تھی۔ یہ درندگی تھی، ایک مظلوم کا انتقام تھا یا طاقت کا نشہ تھا۔ وہ خود نہ سمجھ سکی بلکہ اسے خود سے خوف آ نے لگا۔ وہ کیا تھی اور کیا بن گئی ہے۔ اس نے ایک جھر جھری لی اور خود پر قابو پا نے لگی۔

وہ لاشوں کے پاس سے ہٹ گئی تھی۔وہ ایک طرف کونے میں جا کر کھڑی ہوگئی۔وہ پوری توجہ سے آج کے اس واقعہ کے بارے میںسوچتی چلی جا رہی تھی۔ جو ہونا تھا ، وہ تو ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے دشمن مٹھن خان پر پہلا چرکا لگا دیا تھا۔ یہ ممکن ہی نہیںتھا کہ وہ اس کے درد کا احساس نہ کرتا۔ اس نے تو بلبلا اٹھناہے۔وہ کتوںکی طرح اُس ” گولی ‘ ‘ کو تلاش کر رہاہوگا، جس نے اس کے بندے مار دئیے ہیں۔ یہ صرف بندے نہیں مرے تھے، اس کی طاقت اور حاکمیت کو چیلنج کیاتھا۔ اس نے جوپیغام دیا تھا ، وہ مٹھن شاہ کے سینے میں چھری گھونپ دینے کے مترادف تھا۔ وہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں تھا ۔لیکن اگر مٹھن خان کو ختم کرے ، وہ پکڑی گئی تو یہ اس کی سب سے بڑی شکست ہو گی ۔ اس نے سوچ رکھاتھا ، ایسا کبھی ہو بھی گیا تھا تو موت کو ترجیح دے گی ۔ متھن خان کی موت سے پہلے وہ کسی صورت بھی قانون کی نگاہوں میں نہیںآنا چاہتی تھی ۔وہ یہی سوچ رہی تھی کہ شعیب کا فون آگیا۔

” کہاں ہو؟“ اس کے لہجے میںسر سراہٹ تھی۔

” میں ڈیوٹی پر ہوں۔“ اس نے پر سکون لہجے میں عام انداز میںکہا

” ڈیوٹی پر ؟کچھ ہوا تو نہیں ، میرا مطلب ….“ اس نے گھبرائے ہوئے انداز میںپوچھا

” یار تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو؟“ اس نے ایک دم سے سنجیدہ ہوتے ہوئے ہولے سے کہا

” نہیں، میں گھبرایا ہوا نہیںہوں، مجھے تمہاری فکر ہے۔ میں تو بڑے آرام سے اپنے گھر میں ہوں ۔ ‘ ‘ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا

” بالکل ، یوں ہی پر سکون رہو، صبح ملتے ہیں۔“ اس نے کہا ۔جس وقت وہ بات کرہی تھی ، اسی دوران آپی فوزیہ اس کے قریب آگئی تھی۔نینا نے اپنا فون بند کر دیا ۔ کچھ دیربعد آپی فوزیہ کو انسپکٹر نے جانے کے لئے کہہ دیا ۔

آدھی رات کے بعد کہیں جا کر انہیں تھانے سے کوارٹر آنے کی اجازت ملی ۔ انہوں نے آتے ہی کھانا کھایا اور سونے کےلئے لیٹ گئیں۔نینا کو باوجود کوشش کے نیند نہیںآئی ، وہ یہی سوچتی رہی تھی کہ اس نے چار بندے پھڑکا دئیے ہیں، ابھی تو اس نے مٹھن خان کو برباد کرنا ہے ، اگر اس سے پہلے وہ پکڑی گئی ، یا اس کے بارے میںپتہ چل گیا تو کیا ہوسکتا ہے؟یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے اسے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا۔اسے ایک بار پھر اپنے آپ پر غور کرنا تھا۔

پولیس ٹریننگ کا ایک سال اس نے ضائع نہیںکیا تھا۔ ایک ایک لمحہ اس نے خود کو مضبوط بنانے پر صرف کیا تھا ۔ جہاں اس نے اپنی جسمانی مضبوطی کی طرف توجہ دی ، وہاں اس نے سیل فون کو ایک ہتھیار کے طور استعمال کیاتھا۔اس نے اپنی آواز کو برتا، ایک ایسا نیٹ ورک بنا لیا، جس میں بہت محتاط رہ کر ایک فرضی نام سے وہ معلومات لیتی اور دیتی تھی ۔اس کی ساری توجہ مٹھن خان پر تھی لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا میں آگے سے آگے جاتی گئی ، نت نئے انکشافات اس کے سامنے کھلتے چلے گئے ۔لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے تھے؟ دنیا کس طرح بس رہی ہے ، چوری چھپے کیا کھیل کھیلے جارہے ہیں، بظاہر شرفاءاور معزز لوگ کیا کیا گُل کھلا رہے ہیں، کیسی کیسی واردتیں ہو رہی ہیں، انسان کب تک انسان رہتا اور کب وہ درندہ بن جاتا ہے ، اس پر سب کھلتا چلا گیا۔ عادی یا پیشہ ور مجرم تو بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ اس دنیا میں نئے لوگ کتنا آ گے بڑھ گئے تھے ، یہ کسی کی نگاہ ہی میںنہیںتھا۔اسے پہلی بار پتہ چلا کہ انفار مینشن کتنی بڑی قوت ہو تی ہے ۔

پولیس کی نوکری نے اسے بہت اچھی ٹریننگ تو دے دی تھی ، لیکن جو اس کے عزائم تھے ، اس میں کہیں بھی وہ پکڑی جا سکتی تھی ۔ یوں ناک کے نیچے کب تک چل سکتا تھا۔کوئی بھی ادارہ ہو ، اس کے اپنے اصول اور ضوابط ہوتے ہیں، اور خاص طور پر جب معاملہ فورسز کا ہو ، اس میں نگاہ رکھی جاتی ہے ۔ لیکن اگر انہی اصول و ضوابط کی پاس داری کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ہو تو اس میں کرپشن نہیں ہو سکتی ۔ کہیںنہ کہیں راستے کھلتے ہیں، چور دروازے بڑے بڑے راستوں میں تبدیل ہوتے ہیں تو معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ نینا نے یہ دیکھ لیا تھا کہ اس کے محکمے میںبھی بڑے چور دروازے ہیں۔ اسے انہیں استعمال کرنا آ گیا تھا۔اس نے آتے ہی آپی فوزیہ کو اس طرح سے اپنے ہاتھوں میںلیا کہ وہ من مانی کرنے لگی تھی ۔ جب چاہئے چھٹی لے لیتی اور جب چاہئے واپس کوارٹر پر آ جاتی ، دل چاہتا تو ڈیوٹی کر لیتی اور من نہ چاہتا تو موج کرتی ۔ مگر یہ کب تک چل سکتا تھا؟

وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ مجرم چاہئے جتنا مرضی چالاک ، شاطر اور طاقت ور ہو ، قانون کے شکنجے میں آ ہی جاتا ہے ۔ اگر بالفرض وہ بچ بھی جائے تو رب تعالی کاایک دوسرا نظام موجود ہے ، جسے مکافات عمل کہتے ہیں۔ مظلوم کی آہ رائیگاں نہیںجاتی اور ظالم کبھی بچ نہیںسکتا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ مٹھن خان کو ختم کرنا اس اکیلی کا بس نہیں لیکن وہ اس راہ پر چل پڑی تھی ۔ وہ تو پہلے ہی قانون کی آنکھوں میں دھول نہیں ڈال رہا تھا بلکہ کھلے عام قانون شکنی کر رہا تھا۔ اس پر سیدھا ہاتھ ڈالا ہی نہیںجا سکتا تھا۔اس نے طے کیا ہوا تھا کہ وہ مٹھن خان سے ٹیڑے ہاتھوں ہی سے نمٹے گی ، یہ کیسے ہوگا ، وہ خود نہیں جانتی تھی ۔ یہ طے تھا کہ اس کا مقصد اور پولیس کی نوکری دونوں نہیں چل سکتے تھے ۔

 یہی سوچتے ہوئے اُسے صبح ہو گئی مگر اس کی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہیںتھا۔وہ اپنے وقت پر اٹھی اور میدان میںچلی گئی ۔واپس آئی تو آپی فوزیہ سمیت سبھی ناشتہ کررہے تھے۔ وہ تھانے جا نے کو تیار تھی ۔تبھی اس سے کہا

”آپی چھٹی چاہئے ، گھر جانا ہے، کل آجاﺅں گی ۔“

” چلی جانا۔“ یہ کہہ کر اس نے خالی کپ بڑھایا اور باہر نکلتی چلی گئی ۔ نینا کچن میںگئی ، خوب ڈٹ کر ناشتہ کیا اورتیار ہونے لگی۔ اسے آج ہر حال میں شعیب سے ملنا تھا،وہ اسے فون کر کے سب طے کر چکی تھی۔

٭….٭….٭

 وہ شہر کی مشرقی سمت میں شعیب کے دوست کا فارم ہاﺅس تھا ۔وہ شہر میں نہیںتھا لیکن اس کے تمام ملازمین اسے جانتے تھے۔ نینا اور شعیب رہائشی عمارت کی دوسری منزل کے ایک کمرے میںبیٹھے ہوئے تھے جہاںسے لان میںکھلے پھول ، دور تک کھیت اور سڑک تک سب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کھلی کھڑکی سے آتی ہوئی ہلکی ہلکی ہوا نے ماحول کو معطر کر کے رکھ دیا ہوا تھا۔ وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ نینا نے اپنی پوری روداد شعیب کو سنا دی تھی ۔ اس نے کچھ بھی نہیںچھپایا تھا۔ یہاں تک کہ فواد کے ساتھ ہونے تمام باتیں کہہ ڈالیں ۔ سب کچھ سننے کے بعد شعیب نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے جذباتی لہجے میںکہا

” تو اس کا مطلب ہے تم انتقام کی راہ پر چل نکلی ہو ۔“

” کیا کروں پھر، مرجانا بھی آسان نہیںرہا میرے لئے ، اور میںذِلّت کے ساتھ نہیںجی سکتی۔“ اس نے بے بسی سے کہا

” کون کہتا ہے کہ تم ذلّت کے ساتھ جیو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم یوں بندے پھڑکاتی پھرو۔ چار بندے مار دئیے ہیںتم نے، میں تمہارا پاگل پن دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں، اس قدر وحشت….“ اس نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے جھر جھری لے کر کہا

” میںانہیں نہ مارتی تو وہ تمہیںمار دیتے ، مجھے اٹھا کر لے جاتے ۔ وحشی درندوں کی طرح مجھے بھنبھوڑ دیتے اور پھر قتل کرکے کہیںپھینک دیتے۔ یہ سوچا تم نے ؟ وہ رحم کھاتے ہم پر ، تصور کرو، میرے بدن سے لپٹے ہوئے مجھے بھنبھوڑ رہے ہوتے ، تم اپنی لاش کے بارے میں سوچو کہیں….“ نینا نے ایک دم سے کہا

” بس کرو….“ شعیب نے جھرجھری لے کر کہا

” جانتا ہوں ، تبھی تو تم پر اتنا اعتماد کیا ہے ۔ میں نے کسی کو بھی نہیںبتایا، مگر ایک سوال ہے تم سے ؟“ اس نے اس کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے پوچھا

” بولو۔“ وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولی

” تم جانتی ہو کہ مٹھن خان اب خاموش بیٹھنے والا نہیں، اس کے بندے اُس قاتل کو ضرور تلاش کریںگے ، جس نے اس کے بندے پھڑکا ئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ ہم تک پہنچ پاتے ہیںیا نہیں، لیکن سوال یہ ہے تم نے میرے لئے اتنا بڑا رسک کیوں لیا ؟ صرف مٹھن خان کی دشمنی میں یا….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا۔

 ” تم جو مرضی سمجھو، دشمنی تو میری مٹھن خان سے ہے وہ مرے گا یا میں۔“ نینا نے گہری سنجیدگی سے کہا

” بس تو پھر، یہ جان لو ،کل کے حملے کے بعد ، میںنے یہ سوچ لیا ہے ، میرا بھی اگر کوئی دشمن ہے تو وہ صرف مٹھن خان ہی ہے۔ مجھے قتل کرے یا میرے بھائی کو بات تو ایک ہی ہے۔“ اس نے نفرت بھرے لہجے میںکہا

”شاید قسمت نے ہم دونوں کو ایک ہی راہ کا مسافر بنانا تھا ۔ “ نینا نے دُکھ بھرے لہجے میںکہا

 ” نہیں، ہم ایک ہی راہ کے مسافر نہیں بن سکتے؟“ شعیب نے حتمی لہجے میں کہا تواس نے چونکتے ہوئے کہا

” کیوں ، وہ کیوں نہیںبن سکتے ؟“

” تم انتہائی جذباتی ہو ،لہر جتنی بھی طوفانی ہو، ساحل سے ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہے۔جذبات کا، طاقت سے کیا مقابلہ ؟ میں ایسا نہیں کر سکتا۔“ اس نے صاف لفظوں میںکہا

”تو پھر کیا تمہارے پاس اس جتنی طاقت ہے؟“ نینا نے طنزیہ لہجے میںپوچھا

” بلا شبہ نہیںہے، لیکن میرے پاس صبر ہے ، مناسب وقت کے لئے صبر،وحشی درندے کو طاقت سے زیر نہیں، بلکہ عقل سے کیا جاتا ہے ، دوسرے لفظوں میں انسان کے پاس شیر جتنی طاقت نہیںہے ، لیکن شیر کو انسان زیر کر لیتا ہے ، کیسے ، یہ تم سمجھ سکتی ہو؟“ شعیب نے سکون سے کہا

” یہ بھی دیکھو نا، ایک من وزن کی بوری اٹھانا ہے تو عقل اس بوری کا وزن کم نہیں کر سکتی،وزن اتنا ہی رہے گا۔ لیکن میں یہ بھی مانتی ہوں کہ عقل اس وزن کو اٹھانے میںسہولت دے دے گی ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی

” یہی میں تمہیں سمجھا رہاہوں، ناممکن کچھ بھی نہیںہے ، ہمارے پاس طاقت بھی نہیں جتنی اُس کے پاس ہے ، تو ہمیں کیا کرنا ، ہمیں صبر ، تحمل اور سکون سے سوچ سمجھ کر آ گے بڑھنا ہے ۔“ شعیب نے سنجیدگی سے کہا

” میںسمجھ گئی تم کیا کہنا چاہتے ہو، اگر تم وعدہ کرو کہ تم اس راستے پر میرے ہم سفر بن جاﺅ گے، توپھر تم جیسے چاہو گے ، ویسے ہی ہوگا۔“ نینا نے مسکراتے ہوئے کہا

”چلو ، ایسے ہی سہی ۔“ اس نے کہا تو ہنس دیاتو وہ بولی

” شکر ہے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ تو آ ئی ۔“

” آﺅ کھانا کھاتے ہیں، نیچے ملازم مجھے بلا رہا ہے۔“ شعیب نے اٹھتے ہوئے کہا۔

وہ نیچے لاﺅنج میں آ گئے ۔ جہاں ڈائنگ ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا۔ کھانے کے بعد وہ لان میںآ کر بیٹھ گئے ۔ ملازم وہیں چائے دے گیا۔ اِدھر ُادھر کی باتوں کے بعد اچانک شعیب نے گہرے لہجے میںکہا

” یار ۔! پتہ نہیں مٹھن خان کیا کر رہاہوگا۔وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کے بارے میںہمیں پتہ چلنا چاہئے ۔ خاص طور پر ان چار بندوں کے بارے میں۔“

”ان بندوں کے بارے میں مجھے پتہ ہے ، رات میری وہیں پر ڈیوٹی تھی ۔ مٹھن خان صرف’ گولی‘ کوتلاش کر رہا ہے۔“ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔

” ان چاروں کے بارے میں تمہیںپتہ ہے؟“ شعیب نے پوچھا

” کہا نا ، وہاں ہسپتال میںبہت ساری عورتیں تھیں، وہ کہاں کہاں رہتے تھے ، کون تھے ، سب جانتی ہوں۔ سبھی اس کے پروردہ پالتو تھے۔“ نینا نے نفرت سے کہا ۔ اس پر وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا

” میں نے رات ہی سوچ لیا تھا کہ کرنا کیاہے۔ میں تمہیں ایک فون دیتا ہوں۔ تم گولی بن کر اسے ذہنی طور پر ٹارچر کرو، اسے بھڑکاﺅ ، پھر دیکھتے ہیںکیا کرنا ہے۔ “ شعیب نے سمجھاتے ہوئے کہا تونینا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ پھر بولی

” اس فون سے ہم ٹریس نہیںہوں گے کیا؟“

” نہیں، وہ میں نے خود بنایا ہے اور اس پر بارہا دفعہ تجربہ کر چکا ہوں، وہ کہیںٹریس نہیںہوگا۔اب تمہیں پتہ ہے کہ کیا کرنا ہوگا تمہیں؟“ شعیب نے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ فوراً سمجھ گئی کہ اس نے کرنا کیا ہے ۔ یہی سوچ کر وہ ہولے سے مسکرا دی ۔ پھر سکون بھرے لہجے میںبولی

” اوئے کیا کہنے تیرے، چل دے مجھے کہاں ہے وہ سیل فون، میں کرتی ہوں بات ۔“

” دیتا ہوں ، ذرا صبر کرو۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور باہر کی جانب چلا گیا۔ وہ پورچ میںکھڑی گاڑی تک گیا تھا۔ اس میں سے بیگ نکالا اور واپس آ گیا۔ اس کے بیگ میںبہت ساری چیزیں تھی، وہ ایک ایک کرکے سب نکال کر رکھنے لگا۔ وہ ساری الیکٹرونکس کی چیزیں تھیں ۔ اس پرنینا نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا

” یہ کیا مینا بازار لگا رہے ہو؟“

اس نے کوئی جواب نہیںدیا ، اور احتیاط سے مختلف ڈبے نکالتا رہا، یہاں تک کہ ایک ڈبے سے سیل فون نکال کر بولا

” تجھے نہیں پتہ یہ کیا کچھ ہے ، ابھی تم یہ پکڑو، اسے آن کرو۔“ یہ کہہ کر اس نے وہ سیل فون اُسے تھما دیا ۔ وہ اسے دیکھنے لگی تو وہ چیزیں واپس بیگ میںرکھنے لگا۔سب چیزیں سنبھال چکا تو بیگ ایک طرف رکھ کر پوچھا،” آن ہو گیا؟“

” ہو گیا۔“ نینا نے بتایا

” تو بس ہو جاﺅ شروع ، اس میں مٹھن خان کا ہی نمبر محفوظ ہے ، کسی دوسری کی ضرورت ہو گی تو کر لینا۔“

نینا کے بدن میں ایک دم سے سنسنی پھیل گئی ۔ اس نے اسکرین پر نمبر دیکھا اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے نمبر پش کر دیا۔ اگلے ہی لمحے کال مل گئی ۔ اس نے اسپیکر آن کر دیا ۔

” کون ؟“دوسری طرف مٹھن خان بول رہا تھا، وہی کہر آلود سی کرخت آواز، جس میں زندگی کم اور درندگی زیادہ تھی ۔

” میں گولی….“ اس نے بھی سرد لہجے میں کہا تھا۔ چند ثانئے خاموشی رہی ، بلاشبہ مٹھن خان کو شاک لگا تھا۔پھر یوں کہا گیا جیسے کوئی خود کو روک رہا ہے۔

” کون ہو تم ؟ کس نے ….“

” بکواس بند کر مٹھن ، موت کے سامنے نہیںبولتے ، چپ چاپ اپنا آپ موت کے حوالے کر دیتے ہیں۔“

” تم اور موت …. تیرے جیسی موت کو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں، اتنی ہمت ہے تو سامنے آ ، پھر دیکھوں تو کتنی بھیانک ہے۔“ اس نے طنزیہ لہجے میںکہا

”میں وہ موت ہوں ، جو تمہیں ایک دم نہیں مارنے والی، ذرا ذرا کر کے ماروں گی ، تو خود موت مانگے گا لیکن تجھے موت نہیںملنی ، جب چاہئے تیری بھیجے میں اُتر سکتی ہوں۔“

” تو نہیں، میںتجھے اپنے پاس لا کر ماروں گا ، صرف چند گھنٹے ، زیادہ نہیں۔“ اس نے کہا

” میں انتظار کروں گی مٹھن خان ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ شعیب ایک دم سے ہنس دیا

” شاید اس نے فون اسکرین نہیں دیکھی تھی ۔ اس نے سوچا ہوگا کہ نمبر سے تجھ تک پہنچ جائے گا، ایسا نہیںہوگا، رات کو پھر فون کر دینا۔“ اس نے کہا اور صوفے پر پھیل گیا۔ ان کی جنگ شروع ہو چکی تھی ۔

وہ دونوں وہیں لاﺅنج میںبیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ شام اتر آ ئی ۔ ان کے درمیان اتنی باتیں ہوئیں تھیں کہ انہیںخود نہیںپتہ چلا کہ وہ اپنی زندگی کے کیسے کیسے گوشے بے نقاب کرتے گئے تھے ۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کچھ بھی نہیںچھپایا۔

شعیب ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے اسے انجینئربننے کا شوق تھا۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کے والدین حیات تھے ۔ اسے روپے پیسے کی کوئی فکر نہیںتھی ۔ اپنے شوق کی خاطر امریکہ پڑھنے گیا اور واپس آ کر بھی اس نے کوئی نوکری تلاش نہیںکی ۔

بہت عرصہ قبل اس کا والد قومی اسمبلی کے الیکشن پر کھڑا ہوا تھا۔ اس کے مقابل مٹھن خان تھا۔ شروع شروع میںمٹھن خان نے لالچ اور دھونس سے انہیںالیکشن سے دستبردار کرانا چاہا ، شعیب کے والد نے ایسا نہیںکیا۔ الیکشن سر پر آ گیا تو وہ اپنی روائتی کمینگی پر اُتر آ یا۔ اس نے لو گوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ دو قتل بھی کروا دئیے ۔ لوگ ڈر گئے ۔ انہوں نے ووٹ مٹھن خان کو دیا ۔ وہ جیت گیا۔ ووٹوں کا بہت کم فرق تھا۔ تب سے اس نے شعیب کے خاندان سے دشمنی کی ابتدا کر دی ۔ وہ ہر معاملے میں، ہر جگہ ان کی مخالفت کرتا چلا آ رہا تھا۔ شعیب کے والد نے بہت اچھا وقت گذار لیاتھا ، لیکن شعیب کا بھائی زوہیب گرم خون تھا۔ وہ برداشت نہیںکر پاتا تھا۔ سو مٹھن خان اس کا بھی دشمن ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس کے قتل کرنے کو قاتل بھیج دئیے تھے ۔ یہ ساری باتیں کرتے ہوئے انہیں پتہ ہی نہ چلا۔سورج غروب ہو رہا تھا جب وہ رہائشی حصے سے باہر آ گئے ۔ باہر کرسیاں پڑی تھیں، وہ اس پر آ کر بیٹھ گئے ۔ وہاں بیٹھ کر وہ یہی سوچتے رہے کہ اگر انہیں مٹھن خان کے گرد گھیرا کرنا ہے تو وہ کس طرح تنگ کرنا ہوگا۔ ان کی سمجھ میں میںبہت کچھ آیا لیکن وہ کسی ایک نکتے پر خود کو مرکوز نہیں کر پائے ۔

نیند ان کی آنکھوں سے غائب تھی ۔تبھی نینا کو خیال آیا کہ اس نے مٹھن خان کو فون کرنا ہے ۔ اس نے فوراً فون اٹھایا اور اسے کال ملا دی۔ ابھی دوسری بیل پوری طرح نہیں گئی تھی کہ فون رسیو کر لیا گیا۔

” کون ہو تم؟“ اس بار مٹھن خان کی آواز میں غصے کے ساتھ جھنجلاہٹ بھی تھی ۔

” یہ نہ پوچھ مٹھن خان، مجھے یہ بتا کہ مزید کتنے گھنٹے لوگے مجھ تک پہنچنے کے لئے، میں منتظر ہوں۔“ نینا نے طنز سے بھرے ہوئے لہجے میں کہا

” میں پوچھ رہا ہوں تم ہو کون ؟“ اس نے غصے کی انتہا کو چھوتے ہوئے پوچھا

” مطلب ، میں مان لوں کہ تم مجھ تک نہیںپہنچ سکتے، مان لو شکست، تاکہ تمہیںکوئی حسرت نہ رہے، تم ہار مان لو ، میں تم تک پہنچ جاتی ہوں، کیونکہ آج کے بعد ذلت تیرے مقدر میں ہے اور وہ بھی میرے ہاتھوں ، میں ….“ اس نے کہنا چاہا تومٹھن خان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” بکواس بند کر …. میں تمہیں نہیںچھوڑوں گا، جہاں مرضی چھپ جاﺅ ،تم جو بھی ہو، میں تم تک پہنچ جاﺅں گا ۔“

” مطلب چند گھنٹے والی تمہاری بات جھوٹی ہو گئی ۔“ اس نے طنزیہ انداز میںکہا اور قہقہ لگا دیا۔ جس نے بلاشبہ جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مٹھن خان گالیاں دینے لگا۔ وہ ہنستی رہی ، پھر ایک دم سے خاموش ہو کر ایک بھاری گالی دیتے ہوئے کہا

” اوئے ہیجڑے ۔! مرد اپنی بات کا پاس کرتے ہیں…. اب سن، ایک عورت کی بات سن…. میں تمہیں آسانی سے مار سکتی ہوں،لیکن میں تمہیں آ سانی سے ماروں گی نہیں ، اس وقت تک نہیں، جب تک تم ختم نہ ہو جاﺅ…. میرے سامنے میرے پاﺅں پر سر رکھ کر مرنے کی بھیک نہیں مانگوں گے ،تب تک ،یاد رکھ آ سانی سے نہیں، کتے کی موت ماروں گی۔“

یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ اس کے اندر کا غصہ ابل پڑا تھا۔ شعیب اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

” چل اب رکھ دے فون ، بہت ہو گئی ۔دودن بعد اسے ٹارچر کر لینا۔“

” اگر مجھے آج ہی موقعہ مل جائے تومیں اسے چیر پھاڑ دوں۔“ نینا نے نفرت سے کہا تو شعیب تحمل سے بولا

” میںتمہارے جذبات جانتا ہوں۔آﺅ اندر چلتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں۔ یہ طے ہوتا رہے گا کہ ہمیں کیا کرنا ہوگا۔“

وہ اندر چلے گئے ۔رات گہری ہو چکی تھی ۔اس رات انہوں نے بہت کچھ طے کر لیا تھا۔اگلی صبح وہ ڈیوٹی پر تھی ۔

 ایک ہفتے سے بھی زیادہ دن یونہی گذرگئے۔ان دونوں کی ملاقات تونہ ہو پائی لیکن ، ان کے درمیان فون پر لمبی لمبی باتیں ہوتی رہیں۔ تھانے میں اور اس کے ارد گر د انہی چار لوگوں کے قتل اور اس کے قاتلوں کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔ مٹھن خان کا ایک کارندہ صبح سویرے ہی تھانے میںآ کر بیٹھ جاتا۔کچھ خوشامد پسند صحافی دن میںکئی کئی چکر لگاتے اور اس تفتیشی آفیسر کا سر کھاتے ۔ اب اس کے پاس کوئی سرا ہوتا تو بتاتا۔ نینا پوری طرح اس کیس کے بارے میںخبر رکھ رہی تھی ۔ قتل کا کوئی سراغ تو نہ مل رہا تھا لیکن مٹھن خان کا غصہ اپنے عروج پر چلا گیا۔ اس نے کئی بار ڈی ایس پی کو اپنے ڈیرے پر بلایا تھا۔ شہر میں واویلاکرانے اور ہڑتال کی دھمکیاں دینے لگا تھا۔’اُوپر‘ سے آنے والی فون کالز سے دن بدن تھانے والوں پر سختی بڑھنے لگی تھی ۔لیکن کچھ پتہ نہیںچل رہا تھا۔

  ان کے درمیان ہونے والی فون کالز اور باتوںسے ہر طرح کا تکلف ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ ایک رات تو نینا نے بڑے رسان سے اسے یہ بھی بتا دیاکہ وہ اسے بہت اچھا لگتا ہے۔ اس نے اپنی ساری کیفیات اسے بتادیں ۔شعیب نے بس ایک ہی بات کہہ کر اپنی جان چھڑا لی۔

” چل ٹھرکی کہیںکی ۔“

اس پر وہ بہت دیر تک ہنستی رہی تھی ۔یوں بات مذاق میںاُڑ گئی۔ اس رات نینا نے اپنے آپ کو ٹٹول کر دیکھا، بہت دیر بعد اسے سمجھ میںآ گیا کہ یہ شعیب ہی ہے جس پر وہ خود فدا ہو گئی ہے ۔ اس نے دل سے یہ دعا کی کہ وہ اس کے ساتھ چل سکے کہیں وقت اور حالات کی تاب نہ لا کر وہ بچھڑ نہ جائے ۔نینا کو لگا کہ وہ اسے اپنا دل دے چکی ہے۔

کئی دن گذر گئے ۔ ایک شام شعیب نے فون کرکے پوچھا کہ وہ کیا کر رہی ہے ۔

” اُو ظالم ، میں تیرے لئے ہر وقت حاضر ہوں، بتا کیا بات ہے۔“

” آج ہمارے والے فارم ہاﺅس پر کوئی نہیںہے۔ کیا خیال ہے ، آتی ہو ؟“ شعیب نے نجانے کیوں اس طرح پوچھا ۔ نینا نے چند لمحے اس کی آفرپر غور کیا ، پھر بولی

” میںخود وہاں پہنچوں یا پھر تم مجھے پک کرو گے؟“

” اسی پوائنٹ پر آ جاﺅ ، پک کر لوں گا۔“

” ٹھیک ہے ، میںکرتی ہوں کوشش ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر کے آپی فوزیہ کو دیکھا۔ وہ ابھی تک تھانے سے نہیںآ ئی تھی ۔اس نے اپنے ساتھ والی کو بتایا کہ میںگاﺅںجا رہی ہو ں ، کل صبح تک آ جاﺅں گی۔ یہ کہہ کر وہ نکلی اور اس سٹاپ تک جا پہنچی ،جہاں اس کے انتظار میں شعیب کھڑا تھا۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی

” کار چلاتے ہوئے ذرا بچ بچا کے چلا کر ، اِدھر ُادھر دیکھ لیا کر کوئی پیچھا تو نہیںکر رہاہے ۔“

” پچھلے آدھے گھنٹے سے یہی کر رہا ہوں۔ یونہی شہر میں چکر لگایا ، کوئی میرے پیچھے تو نہیں۔“ یہ کہہ کر اس نے گیئر لگا دیا

” تو پھر…. سب کلیئر ہے نا؟“ نینا نے یونہی پوچھا تو وہ جلتے ہوئے لہجے میں بولا

 ” نہیںبندے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔“

یہ سن کر وہ ایک دم سے ہنس دی ۔ یوں لگا جیسے کار کے اندر گھنٹیاں بج اٹھی ہوں۔ شعیب نے اس کی طرف دیکھا ، پھر سامنے دیکھ کر بولا

” یار تم ایسی ہی ہو یا پھر جان بوجھ کر کرتی ہو؟“

” تم میرے بارے میں نہ سوچو، یہ بتاﺅ، یہ اچانک ملاقات کا خیال تیرے ذہن میںکیسے آ گیا۔“

” بتاتا ہوں تفصیل سے ۔“ اس نے کہا تو ان کے درمیان ادھر ادھر کی باتیںچل پڑیں ۔

سورج غروب ہو گیا تھا جب وہ فارم ہاﺅس پہنچے۔ کار پورچ میںکھڑی کرنے کے بعد اس نے اپنے ساتھ لایا ہوا سامان نکالا اور نینا کے ساتھ سیدھا کچن میںچلاگیا۔ اس نے وہ سامان فریج میںرکھا اور نینا کوبٹھانے کے بعد خود چائے بنانے لگا۔وہ اس دوران خاموش سے کپ نکالنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں اپنے سامنے مگ رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ پہلا سپ لے کر شعیب نے کہا

” مٹھن خان کے ڈیرے کا تفصیلی ویڈیو لے لیا ہے۔“

” کیسے؟“ نینا نے چونکتے ہوئے پوچھا

”وہاں بہت عرصے سے ہمارا ایک بندہ ہے ، بابا نے اسے وہاں چھوڑا ہوا ہے ۔ کوئی ایسی ویسی بات ہو تو پہلے بتا دیتا ہے ۔بڑے حساب سے وہاں جمایا ہوا ہے، اس کے ذریعے سے کوئی نہ کوئی خبر ملتی رہتی ہے ۔“ شعیب نے بتایا

” اس نے کیسے کر لیا۔ کسی کو ….“

” اس نے بذات خود نہیں کیا ، اس کا بیٹا گیا تھا وہاں پر، یہ کئی دونوں بعد چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میںبنائی ہے ۔ خیر بن گئی ہے ۔“ شعیب نے تفصیل سے بتایا

” وہ بندہ مزید یہ پتہ….“ نینا نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

” وہ بندہ جو کر سکتا ہے ، وہی کیا ہے ۔ تم نے جو تھانے کے حوالے سے بتایا، یاجو میں نے اب تک خبریں لی ہیں، اس کے مطابق ،مٹھن خان کا سارا فوکس اس گولی پر ہے۔ ویڈیو دکھانے کے علاوہ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آج رات تم اس سے بات کرو اور اس کا دماغ خراب کرو۔“

” اسکے علاوہ ۔“ نینا نے سنجیدگی سے پوچھا

”یہ بھی ڈسکس کرنا چاہتا ہوں کہ شہر میں اور گرد ونواح میں اس کے پرودہ لوگ کون ہیں اور کون اس کے دشمن ہیں۔میں نے کافی حد تک اس پر تحقیق کی ہے ۔“

” یہ تو خیر میںبھی تمہیں بتا سکتی ہوں ، اس کے علاوہ مزید …. “ نینا نے پھر سنجیدگی ہی سے پوچھا تو شعیب نے ایک دم سے اس کی طرف دیکھا پھر سمجھ کر مسکراتے ہوئے بولا

” مزید کچھ نہیں۔“

” کاش تم یہ کہتے کہ میں نے تم سے دل کی باتیں کہنا تھیں ، کچھ حال دل ، کچھ میٹھی پیار محبت کی باتیں کرنا تھیں، کچھ….“ وہ مزید کہنا چاہتی تھی کہ شعیب نے سر جھٹکتے ہوئے کہا

” چل اُوئے ٹھرکی کہیں کی ۔“

یہ کہہ کر اس نے چائے کا سپ لینے کے لئے مگ اٹھالیا مگر نینا قہقہ لگا کر ہنس دی ۔وہ چائے پینے کے بعد اوپری منزل کے ایک بیڈ روم میںآ گئے ۔کچھ دیر بعد نینا نے مٹھن خان کو فون کر دیا۔

” اب تک نہیںپہنچ پائے ہو مٹھن خان ؟“

” تم ایک بار میرے سامنے آ جاﺅ تو میںتمہیںبتاﺅں۔“ دوسری طرف سے انتہائی غصے میںکہا گیا

”میں آﺅں گی ، ضرور آﺅں گی ، لیکن اس وقت میں تمہاری موت بن کر آﺅں گی ، اور اس میںزیادہ وقت نہیںہے۔ “ نینا نے طنزیہ اور حقارت بھرے انداز میںکہا

” اس سے پہلے میں تم تک پہنچ جاﺅں گا۔“ اس نے کہا

” چلو دیکھتے ہیں، تمہیں اگر ذرا جلدی مرنے کا شوق ہے تو یہ شوق بھی پورا کر لو، مگر یہ مان لو کہ تم ہیجڑے ہو اور اپنی بات پوری نہیں کر پائے ہو۔“ اس نے اتنا کہاتھا کہ دوسری طرف سے ایک دم خاموشی چھا گئی۔ جیسے وہ سمجھ گیا ہو کہ ’گولی ‘ کیا چاہ رہی ہے ۔ اس نے فون بند کر دیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شعیب نے کہا

” نینا۔! سمجھ لو آج سے اس نے تمہارے فون کو سنجیدگی سے لے لیا ہے ۔ وہ اب تمہیں پکڑنے کے لئے بہت کچھ کرے گا۔“

” صرف مجھے ؟“ نینا نے ایک دم سے پوچھاتو اس پر شعیب نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر نینا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر انتہائی جذباتی انداز میںبولا

” نینا۔! تم نے مجھے لڑنے کا حوصلہ دیاہے، یہ وقت بتائے گا، کون پہلے پکڑا جاتا ہے اور کون پہلے جان دیتا ہے ۔“

اس پر نینا کے اندر تک حوصلہ اُتر گیا۔

وہ رات گئے تک انہی موضوعات پر بات کرتے رہے ۔ درمیان میں نینا محض شغل کی خاطر اسے چھیڑ بھی لیتی ۔ آدھی رات کے بعد انہوں نے کھانا کھایا اور پھر باتیں کرتے چلے گئے ۔ اصل میں وہ کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے کی فکر میںتھے ، جس سے مٹھن خان کو ختم کیا جا سکے ،شعیب کاخیال تھا، اسے قانونی طور پر گھیرا جائے ۔اس کے خلاف ثبوت اکھٹے کئے جائیں۔ ان ہی باتوں میں یونہی رات گذر گئی ، یہاں تک کہ صبح کا اُجالا پھیلنے لگا تو وہ فارم ہاﺅس سے نکل آئے ۔

/…./…./

 اس دن وہ تھانے میں موجود تھی ۔ ایک ادھیڑ عمرخاتون روتے ہوئی تھانے میںداخل ہوئی ۔ اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔اس نے تھانے میں آکر یہی واویلا کیا کہ کچھ بدمعاش اس کی بیٹی کو دن دہاڑے اٹھا کر لے گئے ہیں ۔ وہ کالج سے واپس آ رہی تھی کہ چند لوگ جیپ پر آ ئے ، انہوں نے اس کی بیٹی کو اٹھایا اور جیپ میں ڈال کر فرار ہوگئے ۔

” تمہیں کیسے پتہ چلا؟ منشی نے حسب روایت پوچھا

” محلے کی ان دوسری لڑکیوں سے بتایاجو اس کے ساتھ کالج سے واپس آ رہی تھیں۔“ اس عورت نے روتے ہوئے کہا تو منشی نے پوچھا

”کون لوگ تھے وہ ؟ کسی پر شک ہے؟“

” کئی دن سے ہمارے گھر میں فون آ رہے تھے ، میری بیٹی کو تنگ کیا جارہاتھا۔ مٹھن خان کا بیٹا فرحان فون کرتا تھا فون۔“ عورت نے دلدوز انداز میںکہا تو منشی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ اس نے تیزی سے کہا

” اے مائی ذرا ہوش کی دوا کر ، کس کا نام لے رہی ہے ، جا پہلے تصدیق کر ، پھر ایسا کوئی نام لینا۔“

 ” ہمارے فون میں اس کانمبر ہے، جو آئے دن اسے اٹھا لینے کی دھمکیاں دیتا تھا۔“ عورت نے چیختے ہوئے کہا

” تمہارے گھر میںکوئی مرد ہے؟“ منشی نے پوچھا

” میرا خاوند ہے جو دوسرے شہر میںکام کرتا ہے ، اسے میں نے بتادیا ہے ، وہ آتا ہی ہوگا۔“ عورت نے بتایا

” تو پھر جب وہ آئے تو اسے لے کر آ جانا۔ ابھی جاﺅ۔“ منشی دھتکارنے والے انداز میںکہا

” آپ میری رپورٹ تو لکھو۔“ اس نے حیرت سے کہا

” جاﺅ اپنے خاوند کو لے کر آﺅ ،اور جب اسے ساتھ لانا تو سوچ سمجھ کر آ نا، تمہاری بیٹی کس نے اٹھائی ہے ۔ ایویں ہی لوگوں کو بدنام کر رہی ہے، وہ چا ہے خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو ۔“ منشی نے حقارت سے کہا

” کیا بات کر رہے ہو تم ، میں بتارہی ہوں اور تم….“ اس نے کہنا چاہا تو منشی نے اکتاتے کہا

” اُوئے جا مائی ، پہلے اچھی طرح پتہ کرو ،پھر آ نا ، ہم تمہارے لئے ویہلے نہیںبیٹھے ہوئے ۔“

یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اندر انسپکٹر کے کمرے میںچلا گیا۔ بلا شبہ اس نے یہی بات کرنہ تھی کہ باہر جو عورت فریاد لے کر آ ئی ہے ، وہ کس کے خلاف ہے۔ نینا دوسرے کمرے میںچلی گئی جہاں سے ان کی گفتگو سن سکتی تھی۔ انسپکٹر غصے میںمنشی سے کہہ رہا تھا۔

” اوئے بے وقوف کے بچے ،پہلے مٹھن خان کے ڈیرے سے پتہ کر لے ، اگر وہ لڑکی وہاں ہے تو ٹھیک ورنہ کچھ کرتے ہیں، پہلے پتہ تو کر ۔“

انسپکٹر کا یہ حکم سن کر منشی نے کسی کا فون نمبر ملایا۔ کچھ لمحے بعد اس نے استفسار کرتے ہوئے یہی سول دہرایا ۔ بات ختم کرکے وہ انسپکٹر سے بولا

” سر جی لڑکی وہیں ہے ، وہ کہتا ہے کہ خان جی سے پوچھ کر بتاتا ہے کہ لڑکی کب چھوڑ دیں گے ۔“

” چل تو ایسے کر ، اس عورت کو یہاںسے نکال، میںرابطہ کرتا ہوں ڈیرے پر ، پھر دیکھتے ہیں۔“ انسپکٹر نے کہا تومنشی دفتر سے باہر نکل کر اس عورت کو طفل تسلیاں دینے لگا۔ کاروائی کے لئے اس نے درخواست بھی لے لی اور انہیں بھیج دیا۔

 نینا جس طرح یہ سب سنتی گئی، اسی طرح اس کے بدن میںآ گ لگتی چلی گئی ۔ اسے خود پر قابو پانا مشکل ہونے لگا ۔ اسے ایک دم سے ہی سائرہ یاد آ نے لگی ۔ اسے لگا جیسے سائرہ اسے پکار رہی ہے ۔ وہیںبیٹھے بیٹھے اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس لڑکی کو بچائے گی ، چاہے اس کے لئے اس کی اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔وہ تھانے سے باہر آ گئی ۔  اس نے باہر آتے ہی شعیب کو فون کیا، اس نے تیزی سے پوچھا

” مجھے بات بتاﺅ ، ہوا کیا ہے ؟“

” بس تم جتنی جلدی مجھے مل سکتے ہو ، ملو ،میں نہیںجانتی۔“ اس نے متحوش لہجے میں کہا تو اس نے ایک پوائنٹ بتایا جہاں وہ مل سکتے تھے۔ نینا پہلے اپنے کوارٹر میں گئی اور آپی فوزیہ کو بتایا کہ اس کی والدہ بہت بیمار ہے ، اس کے پاس جانا ضروری ہے ، وہ صبح تک واپس آ جائے گی ۔ آپی نے اسے جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ سادہ لباس میں وہاں سے رکشے میں نکلی اور سیدھی اس پوائنٹ پر گئی ۔ شعیب پہلے ہی وہاں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ اس کے ساتھ جا بیٹھی تو اس نے کار بڑھادی ۔ اپنے دوست کے فارم ہاﺅس تک پہنچتے ہوئے اس نے ساری تفصیل بتا ئی توشعیب نے ساری بات سن کر اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” یہ شاید اتنی جلدی ممکن نہ ہو سکے ، تم کیا سوچ رہی ہو ، یہ موت کے منہ میںجانے والی بات ہے ۔“

” مجھے اس لڑکی کو بچانا ہے بس ، چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔“ اس نے ضدی لہجے میں جواب دیا۔

” تم نہیںجانتی ہو کہ وہ ڈیرے پر ہی لڑکی کو لے کر گئے ہیں، یہ اندازہ ہی ہے ۔پھر تم ڈیرے کے اندر کیسے جاﺅ گی ، یہ اس سے بھی مشکل کام ہے ۔“

” وہ جو فرحان خان ہے نا بہت بے غیرت ہے ۔میں جانتی ہوں کہ وہ کیا کرتا ہے ۔ یہ میںکیسے کروں گی ، یہ تم مجھ پر چھوڑ دو، مجھے چاہئے جتنے بندے مارنے پڑے مار دوںگی ۔“ اس نے گہرے لہجے میںکہا۔

” یہ نرا پاگل پن ہے۔خودکشی ہے اور میںتمہیںایسا نہیں کرنے دوں گا۔“ اس نے سختی سے کہا

” مجھے اس لڑکی کو ہر حال میںبچانا ہے۔“ نینا نے حتمی لہجے میںکہاتو شعیب اپنے تئیں ہتھیار ڈالتے ہوئے بولا

” ٹھیک ہے ، کرتے ہیں کچھ لیکن یوںاندھا دھند نہیں۔“

” ایک برس ہو گیا ہے ، میںجھک نہیںمار رہی ہوں، صرف تم ہی ویڈیو نہیں سکتے ہو میں نے وہاں ڈیرے میںاپنا سورس بنا لیاہوا ہے۔“ نینا نے جذباتی لہجے میں جواب دیا

” وہ سورس تمہیں کبھی بھی پکڑوا سکتا ہے۔“ شعیب نے کہا تو نینا کو ایک دم سے ہوش آ گیا۔ وہ غصے اور جذبات میں اپنا راز کہہ بیٹھی تھی ،جسے اس نے شعیب سے چھپایا ہوا تھا۔بات ہونٹوں سے نکل گئی تھی تبھی اس نے کہا

” اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کسے خبر دیتا ہے، اسے اس رقم سے غرض ہے جو ہر ماہ اسے پہنچ رہی ہے۔“

”اوکے ، پہلے اس سے کنفرم کرو، پھر پلان بناتے ہیں ۔ اس کے بعد مجھے بتانا، میں تمہاری کیا مدد کر سکتاہوں۔“ شعیب نے ہار مانتے ہوئے پوچھا

” صرف یہ کہ تم مجھے کچھ چیزیں دے دو، باقی میںدیکھ لوں گی ۔میں نے دیکھا ہے کہ فارم ہاﺅس میںبہت کچھ پڑا ہے ۔ ‘ ‘ نینا نے کہاتو شعیب نے پوچھا

” تم جو چاہو لے سکتی ہو ۔ لیکن پہلے مجھے پلان بتاﺅ۔“

” فارم ہاﺅس چل کر بتاتی ہوں۔“ نینا نے کہا اور سکون سے سیٹ کے ساتھ اپنا سر لگا لیا۔

اس وقت سور ج غروب ہوئے کافی وقت ہو گیا ہو اتھا ۔ جب ڈیرے پر موجود نینا کے مخبر نے یہ تصدیق کر دی کہ ایک لڑکی یہاں موجود ہے ۔خان فرحان اور اس کے دوست ابھی نہیں پہنچے ۔ لیکن ان کے لئے کھانے پینے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ دریا کنارے آگ جلائی جا رہی ہے ۔

” تو اس کا مطلب ہے وہ جو بھی موج مستی کریں گے ، دریا کنارے ہی کریںگے۔“ نینا نے چمکتی ہوئی آنکھوں سے کہا تو شعیب نے سوچتے ہوئے کہا

”دریا کنارہ ، جس کے شمال میں ڈیرہ ہے ۔ مشرق کی طرف گاﺅں اور مغرب کی جانب شہر جانے والا راستہ، اگر تم لڑکی چھڑا بھی لو تو کدھر نکلو گی؟“

” ظاہر ہے ، پھر دریا ہی بچتا ہے ،میں دریا میں چھلانگ لگا دوں گی ۔“ نینا نے سکون سے کہا

” لیکن اتنے کم وقت میں کوئی ایسا بندو بست نہیں ہے کہ تمہیں دریا میںکوئی مدد دے سکوں؟“ شعیب نے کہا

” تو کوئی بات نہیں، دو ہی سورتیں ہیں، یا تو میںمر جاﺅں گی ، یا پھر دریا پار کر جاﺅں گی ، کچھ تو ہوگا، لیکن میں اس لڑکی کی عزت تار تار نہیں ہونے دوں گی ۔ آج اگر میںکچھ نہ کر سکی تو پھر کبھی کچھ نہ کر پاﺅں گی۔“ اس نے حتمی لہجے میں کہا تو شعیب چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر بولا

” اچھا کہو، کیا پلان ہے ۔“

یہی وہ سوال تھا ، جس کی بنیاد پر انہوںنے پلان بنا لیا۔ جو کچھ بھی لینا تھا، نینا نے وہاں سے لے لیا۔ شعیب نے نینا کو دریا کے پاس چھوڑا ، اور واپس چلا گیا۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔وہ دریا کنارے پیدل چلتی چلی گئی ۔ پھر کسی پھرتیلی بلی کی مانند ان سر کنڈ و ں ، جھاڑیوں اور پودوں میں سے سرکتی ہوئی، آہستہ آہستہ دریا کنا ر ے ڈیرے تک جا پہنچی اور پھر وہ خان فرحان پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی تھی۔

٭….٭….٭

اس وقت سورج نکل رہا تھاجب وہ کلینک سے نکل کر جا نے کے کئے تیار تھے ۔ اسی وقت ڈاکٹروسیم اس کے پاس آیا۔ وہ بستر سے اتر کر کھڑی تھی ۔ اس کے کاندھے کی مرہم پٹی ہوگئی تھی۔جسے اس نے کپڑوں کے نیچے یوں چھپا لیا تھا کہ احساس تک نہ ہو ۔

” ڈاکٹر ، آپ کا بہت شکریہ ۔“ نینا نے ممنونیت سے کہا

” مجھے شکریہ تو تمہارا ادا کرنا ہے ، تم زخم ذرا کم لگوا کر لائی ہو، ورنہ مجھے زخم کے مطابق تمہاری ٹریمنٹ کرنا پڑتی ۔“ ڈاکٹر وسیم کے یوں کہنے پر وہ ہنس دئیے

” پھر بھی ڈاکٹر….“ اس نے کہنا چاہا ت ووہ بولا

” دوستو میں شکریہ نہیں ہوتا، دوائیں ساتھ ہیں،وہ لیتے رہنا، مجھے امید ہے کہ سب ٹھیک رہے گا ۔“

”اوکے ۔“ شعیب نے کہا اور وہ وہاں سے نکل پڑے۔

 وہ دونوں فارم ہاﺅس جا پہنچے ۔ اس دوران اس نے گاﺅں فون کر کے خیریت پوچھ لی تھی ۔ وہاں سب ٹھیک تھا۔ اس نے اپنی ماں کو سمجھا دیا کہ اگر کوئی پوچھے تو اس نے کیا کہنا ہے۔ فارم ہاﺅس جا کر اس نے وہی لباس پہنا ، جسے پہن کر وہ کوارٹر سے نکلی تھی ۔ شعیب کے ساتھ ناشتہ کیا۔ وہ دونوں میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے ، تبھی شعیب نے کہا

” نینا۔! میرے خیال میں تم اب پولیس کی نوکری چھوڑ دو کیونکہ اب تم یہ نوکری نبھا نہیںپاﺅ گی۔“

” میرا بھی یہی خیال ہے ۔ لیکن میں اس نوکری کو فوراً تو نہیںچھوڑ سکتی۔“ اس نے جواب دیا

” وہ کیوں؟“ شعیب نے پوچھا

”میں ذرا سا بھی شک نہیں چاہتی ہوں۔یہ فرحان خان کے قتل کا شور اٹھا ہے، اسے ذرا کم ہو نے دو، یہ معاملہ بھی سامنے رہے گا۔خبر ملتی رہے گی۔“ اس نے آہستہ سے کہا تو شعیب سر ہلا کر رہ گیا۔

دوپہر ہونے سے قبل ہی نینا اپنے کوارٹر پہنچ گئی۔ وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ صرف ایک نئی لڑکی تھی۔ وہ اپنے بستر پر جا بیٹھی تو وہ اس کے پاس آگئی۔ اس نے پاس بیٹھ کر پوچھا

” باجی ۔! کیا بات ہے ، آپ بڑی پریشان لگ رہی ہو۔“

” کیا بتاﺅں ، اماں بڑی بیمار ہیں، ساری رات جاگتی رہی ہوں، اب ڈیوٹی پر ، تھک گئی ہوں۔“ اس نے جان بوجھ کر نقاہت بھرے لہجے میں کہا

” میں آپ کےلئے چائے بناتی ہوں ، پی کر سو جانا۔“

” نہیں، میں نے چائے نہیںپینی ، یہ سب کہاں ہیں، سب کی ڈیوٹی لگ گئی ہے؟“ اس نے جان بوجھ کر پوچھا

” پتہ نہیںکیا بات ہے ، تھانے سے ہنگامی کال آ گئی تھی ، سب ہی وہاں ہیں۔سنا ہے شہر سارا بند ہے ، وہ مٹھن خان کا بیٹا قتل ہو گیا ہے نا۔“

” اچھا ،تم ایسے کرو،اگر آپی فوزیہ کو فون آ جائے تو اسے میرا بتا دینا، میںتھوڑی دیر سو لوں ، پتہ نہیںپھر جانا پڑ جائے، اگر وہ کہیں تو مجھے جگا دینا۔“ یہ کہہ کر بستر پر لیٹ گئی ۔

شام تک اُسے کسی نے نہیںجگایا۔ یہاں تک کہ سب آ گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں کافی ہنگامے ہوئے ہیں۔ تھوڑ پھوڑ ہوئی ۔ کافی فساد مچا تھا ۔ مٹھن خان کے بیٹے کا قاتل تو کیا اس کا سراغ تک نہیںملا۔ کئی سارے تبصرے ہوتے رہے اور وہ خاموشی سے سنتی رہی ۔ اس کے اندر کہیں دور تک خلا تھا۔ وہ جب بھی فرحان خان کا خیال کرتی اس کا رعونت بھرا لہجے اس کے کانوں میںگونجنے لگتا۔

دو دن یونہی گذر گئے ۔ یہاں تک کہ مٹھن خان کے بیٹے کے قتل والا معاملہ عوام کے نزدیک ایک بہت بڑا سانحہ بنا دیا گیا۔ مٹھن خان جوش انتقام میں نہیںآیا۔ وہ سیاسی طور پر اپنے دشمنوں پر الزام لگاتا رہا۔ لیکن پولیس کے ساتھ وہ انتہائی سرگرم تھا۔ دو دن میں کئی آفیسر آنا شروع ہوگئے ۔ کئی بے گناہ پکڑے گئے ۔ مٹھن خان نے اپنی طاقت کا بھر پور اظہار کیا تھا۔ یہ سب دیکھ کر نینا کے من میں آگ مزید بھڑک اٹھی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ مٹھن خان کو ذہنی اذیت دے۔ لیکن وہ ابھی تک خاموش تھی ۔ اس کے کاندھے کا زخم کافی حد تک ٹھیک تھا۔ اتنا درد تھا کہ وہ سہہ سکتی تھی۔ نینا کا دل چاہتا کہ وہ مٹھن خان کو فون کرے اور اسے مزید بھڑکائے۔ لیکن ان دو دنوں میں وہ ایسا نہیںکر پائی تھی۔ اس کی ساری توجہ اس تفتیش کی طرف تھی جو فرحان خان کے حوالے سے ہو رہی تھی۔دودن گذارنے کے بعد اس نے شعیب سے رابطہ کیا۔ دونوں نے ملاقات طے کر لی ۔ایک شام وہ دونوں اپنے دوست والے فارم ہاﺅس پر تھے ۔ ان کے درمیان چائے دھری ہوئی تھی۔اور ان کی باتوں کا محور فرحان خان کا قتل اور اس کے بعد کی باتیں تھیں۔

” ہمارے کئی بندے بھی پولیس لے گئی ہے۔ بابا بھی بہت پریشان ہیں۔ مٹھن خان نے اخیر کی ہوئی ہے۔“ شعیب نے انتہائی پریشانی سے کہا

” یہ تو ہونا ہی ہے، اس نے اب اپنے سارے پرانے دشمنوں پر شک کرنا ہے۔“ نینا نے کہا

” یہ سمجھ لو کہ اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔اس کی نسل پر وار ہوا ہے ،وہ تو پاگل ہو گیا ہے۔“ شعیب نے نفرت سے کہا

”جنہیںوہ مارتا تھا، جنہیں وہ ذلیل کرتا تھا، وہ بھی تو کسی کی اولا د ہی ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ انسان بن کر اس سانحہ کے بعدتوبہ تائب ہو کر سکون سے بیٹھ جاتا۔ لیکن وہ اب بھی طاقت کے نشے میں لوگوں پر ظلم کر رہا ہے۔ یہی لوگ اس دھرتی کا بوجھ ہیں۔انہیںختم کرنا ہی ہوگا۔“ نینا نے سرد سے لہجے میںیوں کہا جیسے اس کا بس نہ چل رہا ہو۔

”کبھی تم نے آکٹوپس کے بارے میں سنا ہے نا، یہ بالکل ویسا ہے ، اس کی جڑیں نجانے کہاں تک پھیلی ہوئی ، یہ اگر اب سکون سے بیٹھنا بھی چاہئے تو نہیںبیٹھ سکتا، دوسرے نہیں بیٹھنے دیں گے، وہ اسے خود ختم کر دیں گے۔ وہ قوتیں بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئی ہیں، اس گولی کی تلاش میں ، جس نے اس کے بیٹے کو مارا ہے۔“ شعیب نے عجیب سے لہجے میں کہا ، جس میںخوف تو تھا لیکن وہ ظاہر نہیںکرنا چاہتا تھا۔

” کیا تم مجھے ڈرا رہے ہو؟“ نینا نے طنزیہ پوچھا

” نہیں، بلکہ بتا رہا ہوں۔ہم نے ایک آدمی درمیان میں ڈالا ہے ، مٹھن خان کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہماری طرف سے ایسا کچھ نہیںہوا ضمانت دیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ہم اپنے بندے چھڑوا سکیں۔“ اس نے وضاحت کی

 ” ٹھیک کیا ، اپنا بچاﺅ لازمی ہے، لیکن یہ جان لو شعیب کہ ہو خوف زدہ ہو گیا ہے ۔ جیسے جیسے اسے گولی نہ ملی ، اس کا خوف بڑھتا جائے گا۔ آج میں نے سوچا تھا کہ اس سے بات کرکے اسے ذہنی اذیت دوں گی ، لیکن نہیں، اب اس سے بات نہیںکروں گی۔اسے الجھن ہی میںرہنا چاہئے۔“

 اس یوں کہا توشعیب سوچ میںپڑ گیا۔ پھر کچھ دیر بعد سراٹھا کر بولا

”نینا۔! یہ نہ ہو کہ ہم انجانے میںمارے جائیں۔ کچھ کئے بغیر، ہمیں بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ پوری سنجیدگی کے ساتھ۔“

” تو سوچو، جو کہو گے وہی کروں گی۔“ اس نے شعیب کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا اور مسکرا دی ۔ اس کی یہ ذرا سی موہوم مسکراہٹ نے شعیب کو جیسے زندگی دے دی، وہ بھی مسکرا دیا، اس کی طرف دیکھ کر لاپرواہی سے بولا

” جو ہوگا دیکھا جائے ۔“

” ہاں۔! یہ وقت پیار اور محبت میں گزار دینا چاہئے، چلیں بیڈ روم میں۔“ نینا نے کہا تو شعیب نے اس کی طرف دیکھ کر قہقہ لگاتے ہوئے کہا

” چل ٹھرکی کہیں کی ۔“

” کیسے مرد ہو یار تم ، ایک لڑکی تمہیں کہہ رہی ہے اور تم ہو کہ چھوئی موئی لڑکیوںکی طرح….“ اس نے کہنا چاہا لیکن شعیب اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

” تم میری دوست ہو ،محبوبہ نہیں، اس فرق کو سمجھو۔“

” دوست ہی دوست کے کام آ تا ہے نا۔“ وہ ہنستے ہوئے بولی تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولا

” بکواس نہیں کرو۔ چلو نکلتے ہیں، رات ہو رہی ہے۔“

وہ ہنستے ہوئے اٹھ گئی ۔ کچھ دیر بعد وہ وہاں سے نکل پڑے ھے ، دونوں نے ایک دوسرے کو بہت ساری معلومات دے دی تھیں، جو ان کے بہت کام آ سکتی تھیں۔

کوارٹر میں وہی معمول تھا۔ کچھ لڑکیاں کھانے کے انتظار میںتھیںاور باقی کچن میں کھانابنا رہی تھیں ۔ آپی فوزیہ اپنے کمرے میںبیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ وہ بڑے سکون سے کمرے میںآ کر بیٹھ گئی ۔ آپی فوزیہ نے ایک نگاہ اسے دیکھا پھر ٹی وی کی جانب دیکھتے ہوئے بولی

” کہاں گئی تھی اتنی دیر سے ،خیر تو ہے نا؟“

”آج ایک پرانی سہیلی کے پاس گئی تھی ۔ اس سے گپ شپ ہوتی رہی ۔“

” کوئی خاص ہی گپ شپ لگتی ہے۔“ اس نے ہنوز ٹی وی دیکھتے ہوئے کہا

”ہاں، باقی توسب ایویں باتیںتھیں لیکن ایک بات اس نے بہت اچھی کی ۔ اس نے مجھے سوچ دی ہے کہ میںآگے پڑھوں۔“ اس نے یونہی کہہ دیا

” تو ٹھیک کہا نااس نے۔تم ویسے بھی ٹھیک ہو پڑھنے میں….“ یہ کہہ کر وہ ٹی وی پر کسی اداکارہ کو دیکھ کر اس کے بارے میںباتیںکرنے لگی ۔ سب کچھ معمول پر تھا۔ وہ اٹھی اور اپنی چار پائی پر جا پہنچی ۔ ابھی اسے وہاں بیٹھے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کا فون بج اٹھا۔

اس فون کال میں اس کے لئے اندوہناک خبر تھی ۔ اس کا بھائی بتا رہا تھا کہ اس کی ماں اس دار فانی سے کوچ کر گئی ہے۔ اس کے حواس ایک دم سے مختل ہو گئے ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس خبر کو کیسے برداشت کرے ۔ ساری دنیا میںایک ہی اس کا سہارا تھی ، اب وہ بھی نہیں رہی تھی۔ چند منٹ میں سب کو پتہ چل گیا۔اسے فوراًگاﺅںجانے کی باقاعدہ اجازت مل گئی ۔ وہ گاﺅں نکل گئی ۔

 اگلی صبح تک اس کی ماں منوں مٹی کے نیچے دفن ہو چکی تھی ۔ وہ قبر کے سرہانے بیٹھی سوچ رہی تھی کہ انسان کتنا طویل سفر کرتا ہے یہاں تک پہنچنے کے لئے۔ یہاں پہنچ کر عافیت میں ہوتا ہے ، ورنہ زندگی میںکہیںبھی سکون نہیںہے۔ خوشی کا حصول بھی دکھ کے بعد ہی ہے۔

دوپہر ہونے تک گھر میں آئے مہمان واپس پلٹ گئے ۔ وہ اور اس کے بھائی بہن رہ گئے ۔ ان کی کل جمع پونجی وہی مکان تھا۔ جس کے حصے داری کی باتیں ہونے لگیں۔ اس شدید دکھ ہوا ۔ ماںکی قبر کی مٹی بھی خشک نہیںہوئی اور یہاں حصے داری شروع ہو گئی ۔ وہ مکان کوئی بھی نہیںرکھ سکتا تھا۔ سو اس کے بیچنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ کسی نے بھی نہ سوچا کہ وہ کہاں رہے گی۔ نینا اس لئے بھی خاموش رہی کہ وہ اس وقت اتنے پیسے والی تھی کہ شہر میںکہیں بھی نیا مکان کھڑا کر سکتی تھی ۔ وہ خاموش رہی اور دکھ سے اپنے بھائیوں کی بندر بانٹ دیکھتی رہی ۔لیکن اس کے اندر دکھ پھیلتا رہا۔

ایک ہفتے بعد وہ شہر یوں پلٹی کہ اب اس کا گاﺅں میںبھی کوئی نہیںتھا۔سب ختم ہو گیا۔ وہ اس دنیا میںخود کو تنہا محسوس کرنے لگی تھی ۔ وہ سیدھی کوارر نہیںگئی ، بلکہ شعیب کے ساتھ اس کے دوست کے فارم ہاﺅ س چلی گئی ۔ شعیب کو اندازہ تھا کہ وہ غم زدہ ہے ۔ اس لئے اس کی والدہ کا افسوس کرنے بیٹھا تو وہ پھٹ پڑی ۔اپنوں کا دکھ آنسو بن کر بہنے لگا۔شعیب نے اسے رونے دیا۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا ، نینا اس کی طرف دیکھنے لگی ۔ شعیب نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے بڑے جذباتی لہجے میںکہا

”نہیںتم اکیلی نہیںہو ، میں ہوں تمہارے ساتھ۔جو غم بھی ہیں، انہیںبھلا دو آج کے بعد تمہاری آ نکھ میں آنسو نہیںہونا چاہئے ۔“

جب خوب رونے کو دل چاہئے اور آنسوﺅں کا بندھ بھی ٹوٹ جائے تو ایسے میں کسی اپنے کا کاندھا مل جائے تو دکھ کی شدت میں کمی آ ہی جاتی ہے ۔وہ کچھ دیر تک اس کے کاندھے سے لگی آنسو بہاتی رہی ۔ پھر الگ ہو گئی ۔ اس شام شعیب نے اسے یوں کھانا کھلایا ، جیسے بچوں کا ضد کر کے کھلاتے ہیں، رات گئے تک اس کی دل جوئی میںلگا رہا۔ پھر اسے سو جانے کا کہہ کر دوسرے کمرے میںچلا گیا۔ وہ رات گئے تک سوچتی رہی ، نجانے کیسی کیسی سوچیں گھیرے رہیں۔ پھر نجانے کب اس کی آ نکھ لگ گئی ۔اگلی صبح وہ اپنی ڈیوٹی پر تھی ۔

ایک ہفتے کے دوران کیا کچھ ہو گیا، یہ اسے معلوم نہیں تھا۔ عام حالات ہوتے اور وہ گاﺅں میں ہوتی تو ارد گرد سے باخبر رہتی ، لیکن وہ دن ہی ایسے تھے کہ نہ اپنی خبر اور نہ ہی کسی کی اطلاع۔وہ یوں تھی جیسے خلا میں ہو ۔ واپس کوارٹر میںآتے ہی اسے خوفناک خبروں سے واسطہ پڑا۔

فرحان خان کا قتل ہوئے دس دن سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا، لیکن قاتل تو کیا ، ان کا کہیں نام نشان تک نہیں ملا ۔ مقامی پولیس کو بھی کوئی سراغ نہیںملا تھا۔ شہر بھر کے ٹاﺅٹ، کھوجی ، مخبر،سب کو کھنگال مارا تھا۔ بات یہاں سے گم ہو جاتی تھی کہ قاتل کو ملجگے اندھیرے میں دریا میںچھلانگ لگاتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا کوئی پتہ نہیں۔ وہ اس لڑکی کو بھی ساتھ لے گیا۔ جس کتے نے پانی میںچھلانگ لگائی تھی ، وہ ابھی تک نہیںملا تھا۔ وہ اپنا کوئی سراغ وہاں چھوڑ کر نہیںآئی تھی ۔ صرف وہ لڑکی بچی تھی ، جسے اُس نے بچایا تھا، وہ کہاں تھی ، اس بارے اسے کچھ پتہ نہیںتھا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ خون ظالم کا ہو یا مظلوم کا ، وہ چھپتا نہیں، جرم جتنا بھی چھپ کر کیا جائے وہ ظاہر ہو جاتا ہے ۔ یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی ، اس کے لئے خوفناک بات یہ تھی کہ مٹھن خان نے مقامی پولیس اور خفیہ والوں سے مایوس ہو کر اپنے ذرائع سے ایک ٹیم بلوا لی تھی ۔ وہ ٹیم ایسے لوگوں پر مشتمل تھی ، جو سراغ رساں ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین فائیٹر اور کمانڈو تھے ۔ وہ لوگ مٹھن خان کے ڈیرے پر پہنچ چکی تھی اور انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ ایسا نہیںتھا کہ وہ فرحان خان کے قاتل کو تلاش نہ کر سکتے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے وہ ٹیم اس کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ اسے کسی دوسرے کا نہیں ان لوگوں کا ڈر تھا جو وہاں اس کے سورس تھے۔ بلا شبہ یہ ٹیم ان تک ضرور پہنچ جانے والی تھی ۔ یہ ایک نئی افتاد تھی ، جس کا اس نے سامنا کرنا تھا۔ وہ دماغی طور پر کافی حد تک پریشان ہو گئی ۔

اسی دوپہروہ ڈیوٹی پر چلی گئی ۔ وہ تھانے میں یونیفارم پہنے ہوئے بیٹھی تھی ۔ اس کے پاس فوزیہ آپی تھی ۔ دو مزید لڑکیاں تھیں۔ وہ سب باتیں کر رہی تھیں۔ انہیں لمحات میں اسے ایک ایسے نمبر سے فون کال آگئی، جس سے بات کرنے کے لئے وہ ترستی رہی تھی ۔ وہ بی بی صاحب کی کال تھی۔ وہ کال سننے کے لئے اٹھ گئی ۔ بی بی صاحب کایہ نمبر اس کی محسن لیڈی کانسٹیبل نے دیا تھا۔ انہی دنوں ایک بار کال آ ئی تھی ، پھر جیسے وہ بھول گئی تھی۔اس نے سختی سے خود کو اس وعدے پر کار بند رکھا تھا کہ وہ خود سے کبھی فون نہیںکرے گی ۔ بی بی صاحب سے نہ ملنے کی کو شش کرے گی اور نہ جاننے کی ۔ بی بی صاحب کی شفیق اور نرم آواز اُسے آج بھی یاد تھی ۔ اس نے کال رسیو کر لی ۔ دوسری طرف سے وہ نرم اور محبت میں بھیگی ہو ئی آواز ابھری ۔

” کیسی ہو؟“

” میںٹھیک ہوں۔“

” مجھے تمہاری والدہ کے جنت میں چلے جانے کا پتہ چلا، یہ رَبّ کی رضا ہے ، اسے اسی کی رضا سمجھ کر قبول کرو ۔“ بی بی صاحب نےک کہا تو اسے یوں لگا جیسے کسی نے زخم پر نرم پھاہا رکھ دیا ہو ۔

” جی ، اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیںہے۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میںجواب دیا

”گھبرانا نہیں، یہ زندگی ہے ، اس میں طوفان آتے ہی رہتے ہیں۔ایسے طوفانوں کا مقابلہ ہمت والے ہی کرتے ہیں ۔ تم تھانے میں ہو ؟“ انہوں نے حوصلہ دیتے ہوئے پوچھا

” جی میںتھانے ہی میں ہوں۔“ اس نے جواب دیا

” تو پھر ذرا آنکھیں کھلی رکھنا ، ابھی ایک لڑکی کے بارے میںیہاں ہلچل ہو گی ، اس کی ہر طرح سے مدد کرنا۔“ دوسری طرف سے انتہائی نرم لہجے میںکہا گیا۔

” لڑکی ۔! مطلب کیا ہوگا اس کے ساتھ؟“ اس نے سمجھنے کی خاطر پوچھا

” کہا نا آنکھیںکھلی رکھنا اور اس کی مدد کرنا۔ پھر ہوتا ہے رابطہ ، اللہ حافظ ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ نینا چند لمحے فون کو دیکھتی رہی ، پھر اسے جیب میں رکھ لیا۔

زیادہ وقت نہیں گذرا تھا۔ دفتر سے آپی فوزیہ کا بلاوا آ گیا ۔ وہ اندر گئی اور چند منٹ بعد ہی پلٹ آئی ۔

” کیا ہوا ، خیر تو ہے نا؟“اس نے آپی سے پوچھا

” ایک مشکوک لڑکی کو پکڑ کر لانا ہے، جاﺅ گی یا میںچلوں ساتھ؟ تیرے ساتھ دو جوانوں کو بھی بھیجتی ہوں۔“

” ہاں بھیج دو ۔ لے آتی ہوں۔“اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو آپی نے پھر پوچھا

” ان دونوں کو بھی لے جا ، لے آﺅ گی نا؟“

” کچھ نہ کچھ تو کروں گی۔“ اس نے پھرمسکراتے ہوئے کہا تو آپی ان جوانوں کی طرف دیکھنے لگی ، جو اس کے ساتھ جانے والے تھے ۔ اتنی دیر میں اس نے وہ جگہ بتا دی ، جہاں وہ لڑکی تھی ۔

وہ شہر کا مشہور دربار تھا۔ زائرین دن پھر زیارت کے لئے آتے رہتے تھے ۔ وہاں کا اپنا ایک نظام تھا۔ کچھ دیر پہلے اس دربار کے منتظمین کی طرف سے فون ملا تھا کہ ایک لڑکی سورج نکلنے سے بھی پہلے کی یہاں ایک جگہ آ کر بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ وہاں سے کہیںبھی نہیںگئی ۔ پوچھنے پر اس نے کچھ نہیںبتایا۔ وہ مشکوک ہے ، اس کے بارے پتہ کیا جائے ۔ نینا کے ساتھ ایک لیڈی کانسٹیبل اور دو جوان تھے۔ وہ دربار کے اندر چلے گئے۔ مین داخلی دروازے کے ساتھ ہی منتظم کا دفتر تھا۔ وہ سیدھی وہاں گئی ۔ وہ ادھیڑ عمر منتظم پولیس ہی کا منتظر تھا ۔ وہ ساتھ ہو لیا۔

 آستانے میں کافی بڑا صحن تھا۔ ایک طرف مزار تھا ۔ جس کے سامنے صحن تھا۔ باقی چاروں طرف برآمدہ تھا۔ مزار کے دائیں جانب والے برآمدے میں وہ لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ پہلی نگاہ میں یوں دکھائی دے رہا تھا کہ وہاں ایک گٹھڑی پڑی ہوئی ہے۔ اس نے کالی چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔ ہلکے سبز رنگ کا لباس پہنے ہوئے تھی۔ نینا اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی ۔اس نے لڑکی کے سر کو ہلاتے ہوئے پوچھا

” اے لڑکی کون ہو تم؟“

اس کے یوں پوچھنے پر لڑکی نے سر اٹھایا اور اجنبی نگاہوں سے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی نینا کو دیکھا۔ وہ اس کی طرف یوں دیکھ رہی تھی ، جیسے کوئی فاتر العقل کسی کو دیکھتا ہے۔ وہ لڑکی بلاشبہ خوبصورت تھی ۔سانولا رنگ ، تیکھے نین نقش ، آنکھوں میں بلا کی وحشت ، پتلے پتلے ہونٹوں پر دنداسہ، بھرے بھرے گال ، جس میں ڈمپل پڑتا تھا، لمبی گردن ، اور چوڑا ماتھا۔ نینا نے اسے غور سے دیکھا اور اپنا سوال پھر دہرایا

”میں تاجا ں ،تاج بی بی ۔“وہ لڑکی جانگلی لہجے میںبولی۔ اس سے نینا کو اندازہ ہوگیا کہ وہ کہاں کی ہو سکتی ہے۔

” یہاں کیا کر رہی ہو؟“ نینا نے پوچھا

” فلک شیر نوں اڈیکدی پئی آں ، اوہنئے ایتھائیں آوانا ہا۔ ہالی توڑی نئیں آیا۔“ اس نے ان سب کی طرف دیکھ کر کہا

’فلک شیر کا انتظار کر رہی ہوںاس نے مجھے یہیں آنے کا کہا تھا۔وہ اب تک نہیںآیا۔)

” لگتا ہے باجی عشق کی ماری ہوئی ہے ۔“ اس کے پیچھے کھڑی لیڈی کانسٹیبل نے طنزیہ لہجے میںکہا، جس پر نینا نے سنی ان سنی کرتے ہوئے تاجاں سے پوچھا

 ”اس فلک شیر کا کوئی اتہ پتہ ہے یا اس کے بارے کچھ جانتی ہو ؟“

” ناہی۔!اوہنئے ایتھائیں آون دا آکھا ہا۔ میں آ گئی آں پر اوہ نہئی اپڑا ہن توڑی۔“ اس نے لاپرواہی سے کہا

( نہیں، اس نے یہیں آنے کو کہا تھا۔ میںپہنچ گئی ، مگر وہ نہیںآیا ابھی تک۔)

” اگر وہ نہ آیا تو کیا کرو گی؟“ نینا نے بڑے تحمل سے پوچھا

” ایتھائیں پئی رھساں۔“(پڑی ہوں یہاں پر۔) اس نے بے چارگی سے جواب دیا تو نینا نے کہا

” یہاں تمہیں اب بیٹھنے نہیںدیا جائے گا ، چپ چاپ واپس اپنے گھر چلی جاﺅ، جہاں سے تم آ ئی ہو ۔ ورنہ تمہیں ہمارے ساتھ تھانے جانا پڑے گا۔“

” نہ میںواپس آدے گھر نئی جا سکنی آں، میرے گھر آلے مینوں مار دیسن۔“

( نہیں میں واپس اپنے گھر نہیں جا سکتی، میر ے گھر والے مجھے مار دیں گے ۔)

” تو چلو پھر تھانے ۔“ ایک دم سے نینا نے کہا تو تاجاں نے ذرا سی بھی مزاحمت نہیں کی ۔ ویسے ہی بیٹھی رہی ۔ ساتھ والی لیڈی کانسٹیبل نے اسے بازو سے پکڑکر اٹھا لیا۔وہ آرام سے اٹھ گئی ۔ انہوں نے اسے دربار سے باہر لاکروین میںڈالا اور تھانے چل دئیے ۔

” کہاں سے آئی ہو ؟“ وین چلتے ہی نینا نے اس سے پوچھا تو وہ خاموش رہی ، اگر نینا کو فون نہ ملاہوتا تو شاید وہ کوئی دوسرا ہی سلوک کرتی ۔ اس کے تحمل سے دوسری بار پوچھنے پر تاجاں نے سر اٹھایا اور بڑے جذباتی لہجے میںبولی

” ہن میرا اوتھے نال کوئی تلق نئی رہ گیآں، کی کرسیں پچھ تے ، میں واپس کوئی نئی جاوناں۔“

( اب میرا وہاں سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا، کیا کریں گی پوچھ کر ، مجھے واپس نہیںجانا ۔)

” چلو ٹھیک ہے۔“ نینا نے کہا اور خاموش ہو گئی ۔یہ خاموشی تھانے پہنچ جانے تک برقرا ررہی ۔

نینانے تاجاں کو انسپکٹر کے سامنے پیش کیا۔ اس نے تاجاں کو سر سے پیر تک دیکھا، حسن کہیں بھی اور کیسا بھی ہو ، اس کا اپنا جادو ہوتا ہے ، جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ وہ جیسی بھی دیہاتی تھی، جنگل میںکِھلا ہوا پھول بھی اپنی خوشبو رکھتا ہے۔ اس کے انگ انگ سے جوانی پھوٹ رہی تھی۔حسن پرستوں کا ایمان ڈول جائے ، ایسا بدن رکھتی تھی۔ انسپکٹر نے اس سے بھی وہی بنیادی سوال کئے ۔جس کے تاجاں نے وہی جواب دیئے جو وہ پہلے نینا کو دے چکی تھی۔ کچھ دیر سوچنے اور منشی سے مشورہ کرنے کے بعد اس نے کہا

” اس کی رپورٹ لکھو اور اسے دار الامان کے لئے مجسٹریٹ صاحب کے پاس لے جاﺅ، ابھی اجازت لے کر اسے وہیں چھوڑ آﺅ ۔“

” جی ٹھیک ہے ۔“ نینا نے کہا اور اسے لے کر دفتر سے باہر آ گئی۔ منشی کاغذی کاروائی میںلگ گیا تو نینا نے تاجاں سے پوچھا

” بھوک لگی ہے؟“

” ناہی، میں دربار توں لنگر کھادا ہا۔“ اس نے سکوان سے جواب دیا

( نہیں ، دربار سے لنگر کھایا تھا۔)

” اچھا جب کچھ بھی کھانے پینے کو دل چاہے ، مجھے بتا دینا۔“ نینا نے کہاتو اس نے احسان مندانہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ اس کے پاس سے اٹھ گئی ۔

مجسٹریٹ ، گھر پر نہیںتھا۔ اسے تاجاں کو دارالامان میں رکھنے کی اجازت نہیںملی ۔ یہ بات اس نے فون پر انسپکٹر کو بتائی تو اس نے اکتاتے ہوئے کہا

” میں دارالامان کی انچارج کو کہہ دیتا ہوں، وہ اسے ساتھ میں رکھ لے گی ، تم بھی ادھر ہی رہنا، صبح اسے پیش کرکے، دارالامان میں داخل کروا کے آنا۔“

اسے نوکری کرنا تھی ۔ نینا بھی تو ایک معمولی کانسٹیبل تھی۔ اس نے حکم کی تعمیل کی اور اسے لے کر دارالامان چلی گئی ۔ وہاں کاغذی کاروائی کے بعد ا نہیںایک کمرہ دے دیا گیا۔ جس کے فرش پر دو میٹرس لگے ہوئے تھے۔ تاجاں ایک میٹرس پر بیٹھ گئی تو نے دوسرے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

” بھوک لگی ہے؟“ اس کے پوچھنے پر تاجا ں نے انکار میں سر ہلا دیا۔تب نینا مسکراتے ہوئے بولی،” ابھی تو کچھ مل جائے گا، پھر رات گئے کچھ نہیںملنا۔“

” کجھ نئی ہوندا۔“(کچھ نہیںہوتا۔) اس نے سکون کہا اور کمرے کی دیوار سے ٹیک لگالی۔ پھر چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد پوچھا

” تو مینوں اتھائیں کیوں لہے آئی اے ۔“( تم مجھے یہاں کیوں لے آئی ہو؟)

” تاجاں ۔! تم جتنی بھولی نظر آ رہی ہو ، اتنی ہو نہیں، یار کے لئے گھر سے بھاگ آ ئی ہو، یہ کوئی….“ نینا نے طنزیہ لہجے میں اس کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا

” تینوں کیہہ پتہ پیار کی ہونداے، توں پیار کیتا ہوندا ،تاں پتہ ہوندا۔“( تجھے کیا پتہ پیار کیاہوتا ہے، تو نے پیار کیا ہوتا تو پتہ ہوتا۔) اس نے دکھ سے کہا

” وہی تو میںکہہ رہی ہوں، پیار محبت توکرنا آ تا ہے ، یار بھی پال لیتی ہو، پر تجھے یہ سمجھ نہیں کہ یہاں پر کیوں آئی ہو۔ خیر ، سن لو ، یہ وہ جگہ ہے ، جہاں تم اب رہو گی، یہاں کی جو ہیڈ ہے اس کی مرضی کے مطابق ۔ماں باپ بھی نہیںلے جاسکتے ہیں تمہیں۔پر ….“ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی ،جیسے وہ کہنا چاہتی ہو لیکن خاموش رہنا بہتر سمجھا ہو۔

” سوہنی سپہین آ،گل نہ لُکا ، آکھ چا۔“( خوبصورت سپاہی عورت بات نہ چھپا، کہہ دے۔ ) اس نے دھیمی سی مسکان سے کہا

” بات نہیں، مشورہ ہے ، واپس اپنے ماں باپ کے پاس چلی جا، گھر سے بہتر کوئی پناہ گاہ نہیں۔“

” گل تاں توں ٹھیک آہندی پئی اے ، پر کیہ آکھاں، میں اتھاں ریہہ نہئی سکدی۔“( بات تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو، مگر کیا کہوں، میں یہاں رہ نہیںسکتی۔) اس نے نینا کی طرف دیکھ کر کہا، وہ خاموش رہی تو تاجاں بولی ، ” چل مُڑ سُن،“ ( چل پھر سن۔)وہ چند لمحے خاموش رہی ، پھر کہتی چلی گئی ۔

٭….٭….٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے